Sunan Abu Dawood 2604

جہاد کا بیان

2604Sunan Abu Dawood

شروع رات میں چلنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَعِيثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْفَوَاشِي مَا يَفْشُو مِنْ كُلِّ شَيْءٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد فساد مچاتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فواشی ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جو پھیل جائے۔

Jabir bin Abd Allaah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Do not send out your beasts when the sun has set till the darkness of the night prevails, for the devils grope about in the dark when the sun has set till the darkness of the night prevails. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلے پیدل یا جانوروں کی سورای والے سفر میں مغرب کے وقت ٹھہر جانا چاہیے، پھر اندھیرا ہونے پر چلنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الأشربة ١٢ (٢٠١٣)، مسند احمد (٣/٣٠١، ٣١٢، ٣٦٢، ٣٧٤، ٣٨٦، ٣٩٥)، (تحفة الأشراف: ٢٧٢٣) (صحیح )