Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 131 of 265

2607Sunan Abu Dawood

تنہا سفر کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ said: A single rider is a devil, and a pair of riders are a pair of devils, but three are a company of riders.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک سوار کو شیطان کہا گیا کیونکہ اکیلا مسافر جماعت نہیں قائم کرسکتا، اور بوقت مصیبت اس کا کوئی معاون و مددگار نہیں ہوتا، اور دو سوار شیطان اس لئے ہیں کہ جب ان میں سے ایک کسی مصیبت و آفت سے دوچار ہوتا ہے تو دوسرا اس کی خاطر اس طرح مضطرب و پریشان ہوجاتا ہے کہ اس کی پریشانی کو دیکھ کر شیطان بےحد خوش ہوتا ہے، اور اگر مسافر تعداد میں تین ہیں تو مذکورہ پریشانیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ٤ (١٦٧٤)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ١٤ (٣٥)، مسند احمد (٢/١٨٦، ٢١٤) (حسن )
2608Sunan Abu Dawood

جب چند لوگ سفر کو نکلیں تو اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا امیر مقرر کرلیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ہوئے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنالیں ۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: When three are on a journey, they should appoint one of them as their commander.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٤٢٩) (حسن صحیح )
2609Sunan Abu Dawood

جب چند لوگ سفر کو نکلیں تو اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا امیر مقرر کرلیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ، قَالَ نَافِعٌ: فَقُلْنَا لِأَبِي سَلَمَةَ: فَأَنْتَ أَمِيرُنَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنالیں ١ ؎، نافع کہتے ہیں: تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When three are on a journey, they should appoint one of them as their commander. Nafi said: We said to Abu Salamah (RA) : You are our commander.

Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے یہ حکم اس لئے دیا تاکہ ان میں آپس میں اجتماعیت برقرار رہے اور اختلاف کی نوبت نہ آئے اور ایسا جبھی ممکن ہے جب وہ کسی امیر کے تابع ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٣٤٩) (حسن صحیح )
2610Sunan Abu Dawood

قرآن پاک کو دارالحرب میں لے جانا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، قَالَ مَالِكٌ: أُرَاهُ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ.

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے قرآن کو دشمن کی سر زمین میں لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے، مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے اس واسطے منع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے پالے ١ ؎۔

Abd Allaah bin Umar said “The Messenger of Allah ﷺ prohibited to travel with a copy of the Quran to the enemy territory. The narrator Malik said “ (It is) I think lest the enemy should take it.

Notes · وضاحت
١ ؎: اور اس کی بےحرمتی کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٢٩ (٢٩٩٠)، (ولیس عندہ قول مالک)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٤ (١٨٦٩)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٤٥ (٢٨٧٩)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد ٢ (٧)، مسند احمد (٢/٦، ٧، ١٠، ٥٥، ٦٣، ٧٦، ١٢٨) (صحیح) (صحیح مسلم میں آخری ٹکڑا اصل حدیث میں سے ہے نہ کہ قول مالک سے )
2611Sunan Abu Dawood

لشکر کے رفقاء اور سرایا کی تعداد کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بہتر ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو ١ ؎، اور چھوٹی فوج میں بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور بڑی فوجوں میں بہتر وہ فوج ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو، اور بارہ ہزار کی فوج قلت تعداد کی وجہ سے ہرگز مغلوب نہیں ہوگی ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: The best number of companions is four, the best number in expeditions four hundred, and the best number in armies four thousand; and twelve thousand will not be overcome through smallness of numbers. Abu Dawud said: What is correct is that this tradition is mursal (i. e. the link of the Companion is missing).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کم سے کم چار ہو کیونکہ ان میں سے اگر کبھی کوئی بیمار ہو اور وہ اپنے کسی ساتھی کو وصیت کرنا چاہے تو گواہی کے لئے ان میں سے دو باقی رہ جائیں، اس حدیث میں (بشرط صحت) مرتبہ أقل کا بیان ہے علماء نے لکھا ہے: چار سے پانچ بہتر ہیں بلکہ جس قدر زیادہ ہوں گے اتنا ہی خیر ہوگا۔ ٢ ؎: بارہ ہزار کا لشکر اپنی قلت کے سبب ہرگز نہیں ہارے گا، اب اگر دوسری قومیں اس پر غالب آگئیں تو اس ہار کا سبب قلت نہیں بلکہ لشکر کا عجب و غرور میں مبتلا ہونا یا اسی طرح کا کوئی اور دوسرا سبب ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٧ (١٥٥٥)، (تحفة الأشراف: ٥٨٤٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/السرایا (٢٧٢٨)، سنن الدارمی/السیر ٤ (٢٤٨٢)، مسند احمد (١/٢٩٤، ٢٩٩) (ضعیف) (الصحيحة: 986، وتراجع الألباني: 152 )
2612Sunan Abu Dawood

مشرکین کو اسلام کی دعوت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَقَالَ: إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمُ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِين، وَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ، أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يُجْرَى عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَادْعُهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ، فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ تَعَالَى وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ تَعَالَى فَلَا تُنْزِلْهُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَحْكُمُ اللَّهُ فِيهِمْ وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ بَعْدُ مَا شِئْتُمْ، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: قَالَ عَلْقَمَةُ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ ابْنُ هَيْصَمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر یا سریہ کا کسی کو امیر بنا کر بھیجتے تو اسے اپنے نفس کے بارے میں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتے، اور فرماتے: جب تم اپنے مشرک دشمنوں کا سامنا کرنا تو انہیں تین چیزوں کی دعوت دینا، ان تینوں میں سے جس چیز کو وہ مان لیں تم ان سے اسے مان لینا اور ان سے رک جانا، (سب سے پہلے) انہیں اسلام کی جانب بلانا، اگر تمہاری اس دعوت کو وہ لوگ تسلیم کرلیں تو تم اسے قبول کرلینا اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جانا، پھر انہیں اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا، اور انہیں یہ بتانا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی چیز ہوگی جو مہاجرین کے لیے ہوگی، اور ان کے وہی فرائض ہوں گے، جو مہاجرین کے ہیں، اور اگر وہ انکار کریں اور اپنے وطن ہی میں رہنا چاہیں تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان پر اللہ کا وہی حکم چلے گا جو عام مسلمانوں پر چلتا ہے، اور فے اور مال غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اور اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انہیں جزیہ کی ادائیگی کی دعوت دینا، اگر وہ لوگ جزیہ کی ادائیگی قبول کرلیں تو ان سے اسے قبول کرلینا اور جہاد کرنے سے رک جانا، اور اگر وہ جزیہ بھی دینے سے انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرنا، اور ان سے جہاد کرنا، اور اگر تم کسی قلعہ والے کا محاصرہ کرنا اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے حکم پر اتارو، تو تم انہیں اللہ کے حکم پر مت اتارنا، اس لیے کہ تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ ان کے سلسلے میں کیا فیصلہ کرے گا، لیکن ان کو اپنے حکم پر اتارنا، پھر اس کے بعد ان کے سلسلے میں تم جو چاہو فیصلہ کرنا ۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: علقمہ کا کہنا ہے کہ میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم نے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابن ہیصم ہیں، بیان کیا انہوں نے نعمان بن مقرن ؓ سے اور نعمان ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے سلیمان بن بریدہ کی حدیث کے مثل روایت کیا۔

Sulaiman bin Buraidah reported on the authority of his father. When the Messenger of Allah ﷺ appointed a Commander over an Army or a detachment, he instructed him to fear Allaah himself and consider the welfare of the Muslims who were with him. He then said “When you meet the polytheists who are your enemy, summon them tone of three things and accept whichever of them they are willing to agree to, and refrain from them. Summon them to Islam and if they agree, accept it from them and refrain from them. Then summon them to leave their territory and transfer to the abode of the Emigrants and tell them that if they do so, they will have the same rights and responsibilities as the Emigrants, but if they refuse and choose their own abode, tell them that they will be like the desert Arabs who are Muslims subject to Allaah’s jurisdiction which applies to the believers, but will have no spoil or booty unless they strive with the Muslims. If they refuse demand jizyah (poll tax) from them, if they agree accept it from them and refrain from them. But if they refuse, seek Alaah’s help and fight with them. When you invade the fortress and they (its people) offer to capitulate and have the matter referred to Allaah’s jurisdiction, do not grant this, for you do not know whether or not you will hit on Allaah’s jurisdiction regarding them. But let them capitulate and have the matter refereed to your jurisdiction and make a decision about them later on as you wish. Sufyan (bin ‘Uyainah) said thah Alqamah said “I mentioned this tradition to Muqatil bin Habban, He said “Muslim narrated it to me. ” Abu Dawud said “He is Ibn Haidam narrated from Al Numan in Muqqarin from the Prophet ﷺ like the tradition of Sulaiman bin Buraidah.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ٢ (١٧٣١)، سنن الترمذی/السیر ٤٨ (١٦١٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٨ (٢٨٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٢، ٣٥٨)، سنن الدارمی/السیر ٥ (٢٤٨٣) (صحیح )
2613Sunan Abu Dawood

مشرکین کو اسلام کی دعوت

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَنْطَاكِيُّ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا.

بریدہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نام سے اور اللہ کے راستے میں غزوہ کرو اور اس شخص سے جہاد کرو جو اللہ کا انکار کرے، غزوہ کرو، بدعہدی نہ کرو، خیانت نہ کرو، مثلہ نہ کرو، اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو ۔

Sulaiman bin Buraidah reported on his father’s authority The Prophet ﷺ said “Fight in the name of Allaah and in the path of Allaah and with him who disbelieves in Allaah fight and do not be treacherous and do not be dishonest about boot yand do not deface (in killing) and do not kill a child. ”

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٩٢٩) (صحیح )
2614Sunan Abu Dawood

مشرکین کو اسلام کی دعوت

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفِزْرِ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، وَلَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا وَلَا طِفْلًا وَلَا صَغِيرًا وَلَا امْرَأَةً وَلَا تَغُلُّوا وَضُمُّوا غَنَائِمَكُمْ وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ.

انس بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مجاہدین کو رخصت کرتے وقت) فرمایا: تم لوگ اللہ کے نام سے، اللہ کی تائید اور توفیق کے ساتھ، اللہ کے رسول کے دین پر جاؤ، اور بوڑھوں کو جو مرنے والے ہوں نہ مارنا، نہ بچوں کو، نہ چھوٹے لڑکوں کو، اور نہ ہی عورتوں کو، اور غنیمت میں خیانت نہ کرنا، اور غنیمت کے مال کو اکٹھا کرلینا، صلح کرنا اور نیکی کرنا، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: Go in Allahs name, trusting in Allah, and adhering to the religion of Allahs Messenger. Do not kill a decrepit old man, o a young infant, or a child, or a woman; do not be dishonest about booty, but collect your spoils, do right and act well, for Allah loves those who do well.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٢٤) (ضعیف) (اس کے راوی خالد بن فزر لین الحدیث ہیں )
2615Sunan Abu Dawood

دشمن کے علاقہ میں آتش زنی کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ البُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا سورة الحشر آية 5.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کے کھجوروں کے باغات جلا دیے اور درختوں کو کاٹ ڈالا (یہ مقام بویرہ میں تھا) تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ما قطعتم من لينة أو ترکتموها کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے، یا اپنی جڑوں پر انہیں قائم رہنے دیا، یہ سب اللہ کے حکم سے تھا (سورۃ الحشر: ٥) ۔

IbnUmar said “The Messenger of Allah ﷺ burned the palm tree of Banu Al Nadr and cut (them) down at Al Buwairah. So, Allaah the exalted sent down “the palm trees you cut down or left. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المزارعة ٤ (٢٣٥٦)، الجھاد ١٥٤ (٣٠٢٠)، المغازي ١٤ (٤٠٣١)، صحیح مسلم/الجھاد ١٠ (١٧٤٦)، سنن الترمذی/التفسیر ٥٩ (٣٣٠٢)، والسیر ٤ (١٥٥٢)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣١ (٢٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ٨٢٦٧)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/السیر ٢٣ (٢٥٠٣)، مسند احمد (٢/١٢٣، ١٤٠) (صحیح )
2616Sunan Abu Dawood

دشمن کے علاقہ میں آتش زنی کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ، فَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَغِرْ عَلَى أُبْنَى صَبَاحًا وَحَرِّقْ.

عروہ کہتے ہیں کہ اسامہ ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں وصیت کی تھی اور فرمایا تھا: ابنی ١ ؎ پر صبح سویرے حملہ کرو اور اسے جلا دو ۔

Narrated Usamah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ enjoined upon him to attack Ubna in the morning and burn the place.

Notes · وضاحت
١ ؎: فلسطین میں رملہ اور عسقلان کے مابین ایک مقام کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣١ (٢٨٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٠٥، ٢٠٩) (ضعیف) (اس کے راوی صالح ضعیف ہیں )
2617Sunan Abu Dawood

دشمن کے علاقہ میں آتش زنی کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ، سَمِعْتُ أَبَا مُسْهِرٍ قِيلَ لَهُ: أُبْنَى، قَالَ: نَحْنُ أَعْلَمُ هِيَ يُبْنَى فِلَسْطِينَ.

عبداللہ بن عمرو غزی کہتے ہیں کہ ابومسہر کے سامنے ابنیٰ کا تذکرہ آیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا: ہم جانتے ہیں یہ یبنی ہے جو فلسطین میں ہے۔

Abu Mishar was told about Ubna. He said “We know it better. This is Yubna of Palestine.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٩٤٩) (مقطوع )
2618Sunan Abu Dawood

جاسوس بھیجنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَعَثَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسْبَسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے۔

Anas said “the Prophet ﷺ sent Busaisah as a spy to see what the caravan of Abu Sufyan was doing. ”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤١ (١٩٠١)، مسند احمد (٣/١٣٦، (تحفة الأشراف: ٤٠٨) (صحیح )
2619Sunan Abu Dawood

جب مسافر کھجور کے درختوں یا دودھ والے جانوروں پر گذرے تو کھجور کھالے اور دودھ پی لے اگرچہ مالک کی اجازت نہ ہو

حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا، فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِلَّا فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ.

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آواز دے، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے، لیکن ساتھ نہ لے جائے ١ ؎۔

Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you comes to the cattle, he should seek permission of their master if he is there; if he permits, he should milk (the animals) and drink. If he is not there, he should call three times. If he responds, he should seek his permission; otherwise, he may milk (the animals) and drink, but should not carry (with him).

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم اس پریشان حال اور مضطر و مجبور مسافر کے لئے ہے جسے کھانا نہ ملنے کی صورت میں اپنی جان کے ہلاک ہونے کا خطرہ لاحق ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٦٠ (١٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩١) (صحیح )
2620Sunan Abu Dawood

جب مسافر کھجور کے درختوں یا دودھ والے جانوروں پر گذرے تو کھجور کھالے اور دودھ پی لے اگرچہ مالک کی اجازت نہ ہو

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَصَابَتْنِي سَنَةٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَفَرَكْتُ سُنْبُلًا فَأَكَلْتُ، وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي، فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: مَا عَلَّمْتَ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، وَلَا أَطْعَمْتَ إِذْ كَانَ جَائِعًا، أَوْ قَالَ: سَاغِبًا وَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي وَأَعْطَانِي وَسْقًا أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ.

عباد بن شرحبیل ؓ کہتے ہیں کہ مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں، انہیں مل کر کھایا، اور (باقی) اپنے کپڑے میں باندھ لیا، اتنے میں اس کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا (اور آپ سے سارا ماجرا بتایا) ، آپ ﷺ نے مالک سے فرمایا: تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ جاہل تھا اور نہ کھلایا ہی جب کہ وہ بھوکا تھا ، اور آپ ﷺ نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کردیا اور ایک وسق (ساٹھ صاع) یا نصف وسق (تیس صاع) غلہ مجھے دیا۔

Narrated Abbad ibn Shurahbil: I suffered from drought; so I entered a garden of Madina, and rubbed an ear-corn. I ate and carried in my garment. Then its master came, he beat me and took my garment. He came to the Messenger of Allah ﷺ who said to him: You did not teach him if he was ignorant; and you did not feed him if he was hungry. He ordered him, so he returned my garment to me, and gave me one or half a wasq (sixty or thirty sas) of corn.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/آداب القضاة ٢٠ (٥٤١١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٧ (٢٢٩٨)، (تحفة الأشراف: ٥٠٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٦) (صحیح )
2621Sunan Abu Dawood

جب مسافر کھجور کے درختوں یا دودھ والے جانوروں پر گذرے تو کھجور کھالے اور دودھ پی لے اگرچہ مالک کی اجازت نہ ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ رَجُلًا مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ بِمَعْنَاهُ.

ابوبشر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عباد بن شرحبیل سے جو ہمیں میں سے قبیلہ بنو غبر کے ایک فرد تھے اسی مفہوم کی حدیث سنی۔

Abu Bishr said “I heard Abbad bin ‘Shurahbil a man of us from Banu Ghubar. He narrated the reast of the tradition to the same effect. ”

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٦١) (صحیح )
2622Sunan Abu Dawood

جب مسافر کھجور کے درختوں یا دودھ والے جانوروں پر گذرے تو کھجور کھالے اور دودھ پی لے اگرچہ مالک کی اجازت نہ ہو

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَهَذَا لَفْظُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي حَكَمٍ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ، فَأُتِيَ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ ؟ قَالَ: آكُلُ، قَالَ: فَلَا تَرْمِ النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسْفَلِهَا ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ.

ابورافع بن عمرو غفاری کے چچا کہتے ہیں کہ میں کم سن تھا اور انصار کے کھجور کے درختوں پر ڈھیلے مارا کرتا تھا، لوگ مجھے (پکڑ کر) نبی اکرم ﷺ کے پاس لائے، آپ نے فرمایا: بچے! تم کھجور کے درختوں پر کیوں پتھر مارتے ہو؟ میں نے عرض کیا: (کھجوریں) کھانے کی غرض سے، آپ ﷺ نے فرمایا: پتھر نہ مارا کرو، جو نیچے گرا ہو اسے کھالیا کرو ، پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، اور میرے لیے دعا کی کہ اے اللہ اس کے پیٹ کو آسودہ کر دے۔

Narrated The uncle of Abu Rafi ibn Amr al-Ghifari (RA) : I was a boy. I used to throw stones at the palm-trees of the Ansar. So I was brought to the Prophet ﷺ who said: O boy, why do you throw stones at the palm-trees? I said: eat (dates). He said: Do not throw stones at the palm trees, but eat what falls beneath them. He then wiped his head and said: O Allah, fill his belly.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٥٤ (١٢٨٨)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٧ (٢٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٥) (ضعیف) (اس سند میں ابن أبی الحکم مجہول ہیں، اور ان کی دادی مبہم )
2623Sunan Abu Dawood

بعض لوگوں کے نزدیک مالک کی اجازت کے بغیر جانوروں کا دودھ نہ پینا چاہئے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحْلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرَبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَثَلَ طَعَامُهُ، فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ، فَلَا يَحْلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ میں آ کر اس کا گودام توڑ کر غلہ نکال لیا جائے؟ اسی طرح ان جانوروں کے تھن ان کے مالکوں کے گودام ہیں تو کوئی کسی کا جانور اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ۔

Abdullah bin Umar (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “One should not milk the cattle of anyone without his permission. Does anyone of you like that any one approaches his corn cell and its storage is broken and then the corn scatters away? Likewise, the teats of their Cattle store their food. Therefore none of you should milk the cattle of anyone without his permission. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللقطة ٨ (٢٤٣٥)، صحیح مسلم/اللقطة ٢ (١٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٣٠٠، ٨٣٥٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٨ (٢٣٠٢)، موطا امام مالک/الاستئذان ٦ (١٧)، مسند احمد (٢/٤، ٦، ٥٧) (صحیح )
2624Sunan Abu Dawood

فرمانبرداری کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: يَأَ ايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59، فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ أَخْبَرَنِيه ِ يَعْلَى، عَن سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ َعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں آیت يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منکم اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ( ﷺ ) کی اور اپنے میں سے اختیار والوں کی (سورۃ النساء: ٥٩) عبداللہ (عبداللہ بن حذافہ) قیس بن عدی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں نبی اکرم ﷺ نے ایک سریہ میں بھیجا تھا۔

Ibn Juraij said “O ye who believe, Obey Allaah and obey the Messenger and those charged with authority amongst you. ” This verse was revealed about Abd Allaah bin Qais bin Adi whom the Prophet ﷺ sent along with a detachment. Yala narrated it to me from Saeed bin Jubair on the authority of Ibn Abbas.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیرسورة النساء ١١ (٤٥٨٤)، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٣٤)، سنن الترمذی/الجھاد ٣ (١٦٧٢)، سنن النسائی/البیعة ٢٨ (٤١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٦٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٣٧) (صحیح )
2625Sunan Abu Dawood

فرمانبرداری کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا فَأَجَّجَ نَارًا، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَقْتَحِمُوا فِيهَا فَأَبَى قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالُوا: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنَ النَّارِ وَأَرَادَ قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَوْ دَخَلُوهَا أَوْ دَخَلُوا فِيهَا لَمْ يَزَالُوا فِيهَا، وَقَالَ: لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا، اور ایک آدمی ١ ؎ کو اس کا امیر بنایا اور لشکر کو حکم دیا کہ اس کی بات سنیں، اور اس کی اطاعت کریں، اس آدمی نے آگ جلائی، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود پڑیں، لوگوں نے اس میں کودنے سے انکار کیا اور کہا: ہم تو آگ ہی سے بھاگے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس میں کود جانا چاہا، نبی اکرم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ اس میں داخل ہوگئے ہوتے تو ہمیشہ اسی میں رہتے ، اور فرمایا: اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو بس نیکی کے کام میں ہے ٢ ؎۔

Ali (Allaah be pleased with him) said “The Messenger of Allah ﷺ sent an army and appointed a man as a commander for them and he commanded them to listen to him and obey. He kindled fire and ordered them to jump into it. A group refused to enter into it and said “We escaped from the fire; a group intended to enter into it. When the Prophet ﷺ was informed about it, he said “Had they entered into it, they would have remained into it. There is no obedience in matters involving disobedience to Allaah. Obedience is in matters which are good and universally recognized.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس آدمی کا نام عبداللہ بن حذافہ سہمی تھا جن کا تذکرہ پچھلی حدیث میں ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: ان کا نام ” علقمہ بن مجزر تھا “۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر امیر شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کی جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٥٩ (٤٣٤٠)، والأحکام ٤ (٧١٤٥)، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٥٧)، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٤٠)، سنن النسائی/البیعة ٣٤ (٤٢١٠)، (تحفة الأشراف: ١٠١٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٢، ٩٤، ١٢٤) (صحیح )
2626Sunan Abu Dawood

فرمانبرداری کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان آدمی پر امیر کی بات ماننا اور سننا لازم ہے چاہے وہ پسند کرے یا ناپسند، جب تک کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، لیکن جب اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ ماننا ہے ۔

Abd Allaah bin Masud reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Listening and Obedience are binding on a Muslim whether he likes or dislikes, so long as he is not commanded for disobedience (to Allaah). If he is commanded to disobedience (to Allaah), no listening and disobedience are binding (on him).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٠٨ (٢٩٥٥)، والأحکام ٤ (٧١٤٤)، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٣٩)، (تحفة الأشراف: ٨١٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجھاد ٢٩ (١٧٠٧)، سنن النسائی/البیعة ٣٤ (٤٢١٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٤٠ (٢٨٦٤)، مسند احمد (٢/١٧، ٤٢) (صحیح )