عقبہ بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک سریہ (دستہ) بھیجا، میں نے ان میں سے ایک شخص کو تلوار دی، جب وہ لوٹ کر آیا تو کہنے لگا: کاش آپ وہ دیکھتے جو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ملامت کی ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ جب میں نے ایک شخص کو بھیجا اور وہ میرا حکم بجا نہیں لایا تو تم اس کے بدلے کسی ایسے شخص کو مقرر کردیتے جو میرا حکم بجا لاتا ۔
Narrated Uqbah ibn Malik: The Prophet ﷺ sent a detachment. I gave a sword to a man from among them. When he came back, he said: Would that you saw us how the Messenger of Allah ﷺ rebuked us, saying: When I sent out a man who does not fulfil my command, are you unable to appoint in his place one who will fulfil my command.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٠) (حسن )
ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ لوگ جب کسی جگہ اترتے، عمرو کی روایت میں ہے: رسول اللہ ﷺ جب کسی جگہ اترتے تو لوگ گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاتے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی جانب سے ہے ١ ؎، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کسی جگہ نہیں اترے مگر بعض بعض سے اس طرح سمٹ جاتا کہ یہ کہا جاتا کہ اگر ان پر کوئی کپڑا پھیلا دیا جاتا تو سب کو ڈھانپ لیتا۔
Narrated Abu Thalabah al-Khushani (RA) : When the people encamped, (the narrator Amr ibn Uthman al-Himsi) said: When the Messenger of Allah ﷺ encamped, the people scattered in the glens and wadis. The Messenger of Allah ﷺ said: Your scattering in these glens and wadis is only of the devil. They afterwards kept close together when they encamped to such an extent that it used to be said that if a cloth were spread over them, it would cover them all.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ شیطان کا مقصد یہ ہے کہ تم ایک دوسرے سے جدا رہو تاکہ تمہارا دشمن تم پر بہ آسانی حملہ کرسکے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٨٧١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ السیر (٨٨٥٦)، مسند احمد (٤/١٩٣) (صحیح )
معاذ بن انس جھنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی کریم ﷺ کے ساتھ فلاں اور فلاں غزوہ کیا تو لوگوں نے پڑاؤ کی جگہ کو تنگ کردیا اور راستے مسدود کردیئے ١ ؎ تو اللہ کے نبی کریم ﷺ نے ایک منادی کو بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے پڑاؤ کی جگہیں تنگ کردیں، یا راستہ مسدود کردیا تو اس کا جہاد نہیں ہے۔
Narrated Muadh ibn Anas al-Juhani (RA) : I fought along with the Prophet ﷺ in such and such battles. The people occupied much space and encroached on the road. The Prophet ﷺ sent an announcer to announce among the people: Those who occupy much space or encroach on the road will not be credited with jihad.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بلا ضرورت زیادہ جگہیں گھیر کر بیٹھ گئے اور دوسروں پر راستہ تنگ کردیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٣٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤١) (حسن )
معاذ بن انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ کیا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
Sahl bin Muadh reported on the authority of his father “We fought along with the Prophet of Allaah ﷺ . The rest of the tradition is to the same effect. ”
عمر بن عبیداللہ بن معمر کے غلام اور ان کے کاتب (سکریٹری) سالم ابونضر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی اوفی ؓ نے ان کو جب وہ خارجیوں کی طرف سے نکلے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑائی میں جس میں دشمن سے سامنا تھا فرمایا: لوگو! دشمنوں سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو، لیکن جب ان سے مڈبھیڑ ہوجائے تو صبر سے کام لو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ، پھر فرمایا: اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے، اور جتھوں کو شکست دینے والے، انہیں شکست دے، اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما ۔
Salim Abu Al Nadr, client of Umar bin Ubaid Allaah that is Ibn Mamar who Salim was his (Umar’s) secretary reported “When Abdullah bin Abi Afwa went out to the Haruriyyah (Khawarij), he wrote to him (Umar bin Ubaid Allaah), The Messenger of Allah ﷺ said on a ceratin day when he was fighting with the enemy. O people do not desire to meet the enemy, ask Allaah, Most High, for health and security. When you meet them (the enemy) have patience and endurance, you should know that paradise is under the shade of swords. He then said “O Allaah, Who sends down the Book, makes the cloud to travel and rotes the confederates, tout them and give us victory over them. ”
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ کرتے تو فرماتے: اللهم أنت عضدي ونصيري بك أحول وبک أصول وبک أقاتل اے اللہ! تو ہی میرا بازو اور مددگار ہے، تیری ہی مدد سے میں چلتا پھرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں حملہ کرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں قتال کرتا ہوں ۔
Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah ﷺ went on an expedition, he said: O Allah, Thou art my aider and helper; by Thee I move, by Thee I attack, and by Thee I fight.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٢٢ (٣٥٨٤)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٦٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (/٣/١٨٤) (صحیح )
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع کے پاس لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کے بارے میں پوچھنے کے لیے خط لکھا، تو انہوں نے مجھے لکھا: یہ شروع اسلام میں تھا (اس کے بعد) اللہ کے نبی کریم ﷺ نے قبیلہ بنو مصطلق پر حملہ کیا، وہ غفلت میں تھے، اور ان کے چوپائے پانی پی رہے تھے، آپ ﷺ نے ان میں سے جو لڑنے والے تھے انہیں قتل کیا، اور باقی کو گرفتار کرلیا ١ ؎، اور جویریہ بنت الحارث ٢ ؎ کو آپ ﷺ نے اسی دن پایا، یہ بات مجھ سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کی جو خود اس لشکر میں تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک عمدہ حدیث ہے، اسے ابن عون نے نافع سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔
Ibn Awn said “I wrote to Nafi asking him about summoning the polytheists (to Islam) at the time of fighting. So, he wrote to me “This was in the early days of Islam. The Prophet of Allaah ﷺ attacked Banu Al Mustaliq while they were inattentive and their cattle were drinking water. So their fighters were killed and the survivors (i. e., women and children) were taken prisoners. On that day Juwairiyyah daughter of Al Harith was obtained. Abd Allaah narrated this to me, he was in that army. ” Abu Dawud said “This is a good tradition narrtted by Ibn Awn from Nafi and no one shared him in narrating it. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ جن کافروں اور مشرکوں تک اسلام کی دعوت ان پر حملہ سے پہلے پہنچ چکی ہو تو انہیں اسلام کی دعوت پیش کرنے سے پہلے ان سے قتال جائز ہے۔ ٢ ؎: یہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے ہیں، ان کا انتقال ٥٠ ہجری میں ہوا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ١٣(٢٥٤١)، صحیح مسلم/الجھاد ١ (١٧٣٠)، (تحفة الأشراف: ٧٧٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١، ٣٢، ٥١) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور غور سے (اذان) سننے کی کوشش کرتے تھے جب اذان سن لیتے تو رک جاتے، ورنہ حملہ کردیتے ١ ؎۔
Anas said “The Prophet ﷺ used to attack at the time of the dawn prayer and hear. If he heard a call to prayer, he would refrain from them, otherwise would attack (them).
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جب اذان کی آواز آتی تو معلوم ہوجاتا کہ یہ لوگ مسلمان ہیں، اور اگر اذان کی آواز نہیں آتی تو ان کا کافر ہوجانا یقینی ہوجاتا اس لئے آپ ﷺ ان پر حملہ کردیتے، اور چونکہ ان تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی تھی اس لئے بغیر دعوت دیئے حملہ کردیتے تھے۔
عصام مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک سریہ میں بھیجا اور فرمایا: جب تم کوئی مسجد دیکھنا، یا کسی مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سننا تو کسی کو قتل نہ کرنا ۔
Narrated Isam al-Muzani (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent us in a detachment and said (to us): If you see a mosque or hear a muadhdhin (calling to prayer), do not kill anyone.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٢ (١٥٤٩)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٨) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الملک لین الحدیث، اور ابن عصام مجہول ہیں )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑائی دھوکہ و فریب کا نام ہے ١ ؎۔
Jabir reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “War is deception. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنگ کے دوران کفار کو جہاں تک ممکن ہو دھوکہ دینا جائز ہے بشرطیکہ یہ دھوکہ ان سے کئے گئے کسی عہد و پیمان کے توڑنے کا سبب نہ بنے، تین مقامات جہاں کذب کا سہارا لیا جاسکتا ہے ان میں سے ایک جنگ کا مقام بھی ہے جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو جس سمت جانا ہوتا اس کے علاوہ کا توریہ ١ ؎ کرتے اور فرماتے: جنگ دھوکہ کا نام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معمر کے سوا کسی اور نے اس سند سے نہیں روایت کیا ہے، وہ اس سے آپ ﷺ کے قول الحرب خدعة کو مراد لے رہے ہیں، یہ لفظ صرف عمرو بن دینار کے واسطے سے جابر ؓ سے مروی ہے یا معمر کے واسطے سے ہمام بن منبہ سے مروی ہے جسے وہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں۔
Narrated Kab ibn Malik: When the Prophet ﷺ intended to go on an expedition, he always pretended to be going somewhere else, and he would say: War is deception. Abu Dawud said: Only Mamar has transmitted this tradition. By this he refers to his statement War is deception through this chain of narrators. He narrated it from the tradition of Amr bin Dinar from Jabir, and from the tradition of Mamar from Hammam bin Munabbih on the authority of Abu Hurairah.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مشرق کی طرف نکلنا ہوتا تو مغرب کا اشارہ کرتے، اور شمال کی طرف نکلنا ہوتا تو جنوب کا اشارہ کرتے، اصل بات چھپا کر دوسری بات ظاہر کرنا، یہی توریہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١١٥١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٠٣ (٢٩٤٧)، والمغازي ٧٩ (٤٤١٨)، سنن الدارمی/السیر ١٤ (٢٤٨٤) (صحیح) دون الشطر الثاني
سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم پر ابوبکر صدیق ؓ کو امیر بنا کر بھیجا، ہم نے مشرکین کے کچھ لوگوں سے جہاد کیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا، ہم انہیں قتل کر رہے تھے، اور اس رات ہمارا شعار (کوڈ) أمت أمت ١ ؎ تھا، اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھروں کے مشرکوں کو قتل کیا ٢ ؎۔
Narrated Salamah ibn al-Akwa (RA) : The Messenger of Allah ﷺ appointed Abu Bakr our commander and we fought with some people who were polytheists, and we attacked them at night, killing them. Our war-cry that night was put to death; put to death. Salamah said: I killed that night with my hand polytheists belonging to seven houses.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اے مدد کرنے والے دشمن کو فنا کر۔ ٢ ؎: اس حدیث سے کافروں پر شب خون مارنے کا جواز ثابت ہوا اگر اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٠ (٢٨٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٦)، سنن الدارمی/السیر ١٥ (٢٤٩٥) (حسن )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں ساقہ (لشکر کے پچھلے دستہ) کے ساتھ رہا کرتے تھے، آپ ﷺ کمزوروں کو ساتھ لیتے، انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to keep to the rear when travelling and urge on the weak. He would take someone up behind him and make supplication for them all.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ لا إله إلا الله کی گواہی نہ دینے لگ جائیں، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہوگئے، سوائے اس کے حق کے (یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا) اور ان کا حساب اللہ پر ہوگا ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ I am commanded to fight with men till they testify that there is no god but Allaah, when they do that they will keep their life and property safe from me, except what is due to them. (i. e., life and property) and their reckoning will be at Allaah’s hands. ”
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں کی گواہی دینے، ہمارے قبلہ کا استقبال کرنے، ہمارا ذبیحہ کھانے، اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے نہ لگ جائیں، تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کے خون اور مال ہمارے اوپر حرام ہوگئے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور ان کے وہ سارے حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ سارے حقوق عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: I am commanded to fight with men till they testify that there is no god but Allah, and that Muhammad is His servant and His Messenger, face our qiblah (direction of prayer), eat what we slaughter, and pray like us. When they do that, their life and property are unlawful for us except what is due to them. They will have the same rights as the Muslims have, and have the same responsibilities as the Muslims have.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٨ (٣٩٢)، سنن الترمذی/الایمان ٢ (٢٦٠٨)، سنن النسائی/تحریم الدم ١ (٣٩٧٢)، والإیمان ١٥ (٥٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ٧٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩٩، ٢٢٤) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں سے قتال کروں ، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ I am commanded to fight with the polytheists. The rest of the tradition is to the same effect as mentioned above. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٨٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصلاة ٢٨ (٣٩٣ تعلیقًا) (صحیح )
اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حرقات ١ ؎ کی طرف ایک سریہ میں بھیجا، تو ان کافروں کو ہمارے آنے کا علم ہوگیا، چناچہ وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے، لیکن ہم نے ایک آدمی کو پکڑ لیا، جب ہم نے اسے گھیرے میں لے لیا تو لا إله إلا الله کہنے لگا (اس کے باوجود) ہم نے اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کردیا، پھر میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لا إله إلا الله کے سامنے تیری مدد کون کرے گا؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے یہ بات تلوار کے ڈر سے کہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ کیوں نہیں لیا کہ ٢ ؎ اس نے کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا ہے یا (تلوار کے ڈر سے) نہیں (بلکہ اسلام کے لیے) ؟ قیامت کے دن لا إله إلا الله کے سامنے تیری مدد کون کرے گا؟ آپ ﷺ برابر یہی بات فرماتے رہے، یہاں تک کہ میں نے سوچا کاش کہ میں آج ہی اسلام لایا ہوتا۔
Usamah bin Zaid said “The Messenger of Allah ﷺ sent us with a detachment to Al Huruqat. They learnt about us and fled away. But we found a man, when we attacked him he uttered “There is no god but Allaah, still we struck him till we killed him. ” When I mentioned it to the Prophet ﷺ he said “Who will save you from “There is no god but Allaah” on the Day of Judgment? I said “Messenger of Allah ﷺ , he uttered it for the fear of the weapon. ” He said “Did you tear his heart so that you learnt whether he actually uttered it for this or not. Who will support you against “There is no god but Allaah”? He kept on repeating this till I wished I would have embraced Islam on that day.
Notes · وضاحت
١ ؎: جہینہ کے چند قبائل کا نام ہے۔ ٢ ؎: زبان سے کلمہ شہادت پڑھنے والے کا شمار مسلمانوں میں ہوگا، اس کے ساتھ دنیا میں وہی سلوک ہوگا جو کسی مسلم مومن کے ساتھ ہوتا ہے اس کے کلمہ پڑھنے کا سبب خواہ کچھ بھی ہو، کیونکہ کلمہ کا تعلق ظاہر سے ہے نہ کہ باطن سے اور باطن کا علم صرف اللہ کو ہے نبی اکرم ﷺ کے فرمان أفلا شققت عن قلبه کا یہی مفہوم ہے۔
مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر کافروں میں کسی شخص سے میری مڈبھیڑ ہوجائے اور وہ مجھ سے قتال کرے اور میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اس کے بعد درخت کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کرلیا، تو کیا میں اسے اس کلمہ کے کہنے کے بعد قتل کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں تم اسے قتل نہ کرو ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کردیا تو قتل کرنے سے پہلے تمہارا جو مقام تھا وہ اس مقام میں آجائے گا اور تم اس مقام میں پہنچ جاؤ گے جو اس کلمہ کے کہنے سے پہلے اس کا تھا ١ ؎۔
Al Miqdad bin Al Aswad reported that he said “Messenger of Allah ﷺ tell me if I meet a man who is a disbeliever and he fights with me and cuts off one hand of mine with the sword and then takes refuge by a tree and says “I embraced Islam for Allah’s sake. Should I kill him, Messenger of Allah ﷺ after he uttered it (the credo of Islam)? The Messenger of Allah ﷺ said “Do not kill him”. I said “Messenger of Allah ﷺ , he cut off my hand. The Messenger of Allah ﷺ said, Do not kill him. I f you kill him, he will become like you before you kill him and you will become like him before he uttered his credo which he has uttered now.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ معصوم الدم قرار پائے گا اور تمہیں بطور قصاص قتل کیا جائے گا۔
جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ خثعم کی جانب ایک سریہ بھیجا تو ان کے کچھ لوگوں نے سجدہ کر کے بچنا چاہا پھر بھی لوگوں نے انہیں قتل کرنے میں جلد بازی کی، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے ان کے لیے نصف دیت ١ ؎ کا حکم دیا اور فرمایا: میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دونوں کی (یعنی اسلام اور کفر کی) آگ ایک ساتھ نہیں رہ سکتی ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشیم، معمر، خالد واسطی اور ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے جریر کا ذکر نہیں کیا ہے ٣ ؎۔
Narrated Jarir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent an expedition to Khatham. Some people sought protection by having recourse to prostration, and were hastily killed. When the Prophet ﷺ heard that, he ordered half the blood-wit to be paid for them, saying: I am not responsible for any Muslim who stays among polytheists. They asked: Why, Messenger of Allah? He said: Their fires should not be visible to one another. Abu Dawud said: Hushaim, Mamar, Khalid bin al-Wasiti and a group of narrators have also narrated it, but did not mention Jarir.
Notes · وضاحت
١ ؎: نصف دیت کا حکم دیا اور باقی نصف کفار کے ساتھ رہنے سے ساقط ہوگئی کیونکہ کافروں کے ساتھ رہ کر اپنی ذات کو انہوں نے جو فائدہ پہنچایا درحقیقت یہ ایک جرم تھا اور اسی جرم کی پاداش میں نصف دیت ساقط ہوگئی۔ ٢ ؎: اس جملہ کی توجیہ میں تین اقوال وارد ہیں: ایک مفہوم یہ ہے کہ دونوں کا حکم یکساں نہیں ہوسکتا، دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دارالاسلام کو دارالکفر سے علیحدہ کردیا ہے لہٰذا مسلمانوں کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہے، تیسرا یہ کہ مسلمان مشرک کی خصوصیات اور علامتوں کو نہ اپنائے اور نہ ہی چال ڈھال اور شکل و صورت میں ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرے۔ ٣ ؎: یعنی: ان لوگوں نے اس حدیث کو عن قیس عن النبی ﷺ مرسلاً روایت کیا ہے، بخاری نے بھی مرسل ہی کو صحیح قرار دیا ہے مگر موصول کی متابعات صحیحہ موجود ہیں جیسا کہ البانی نے (ارواء الغلیل، حدیث نمبر: ١٢٠٧ میں) ذکر کیا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آیت کریمہ إن يكن منکم عشرون صابرون يغلبوا مائتين اگر تم میں سے بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے (سورۃ الانفال: ٦٥) نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ فرض کردیا کہ ان میں کا ایک آدمی دس کافروں کے مقابلہ میں نہ بھاگے، تو یہ چیز ان پر شاق گزری، پھر تخفیف ہوئی اور اللہ نے فرمایا: الآن خفف الله عنكم اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے تو اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے (سورۃ الانفال: ٦٦) ۔ ابوتوبہ نے پوری آیت يغلبوا مائتين تک پڑھ کر سنایا اور کہا: جب اللہ نے ان سے تعداد میں تخفیف کردی تو اس تخفیف کی مقدار میں صبر میں بھی کمی کردی۔
Ibn Abbas said “When the verse “If there are twenty amongst you patient and persevering, they will vanquish two hundred” was revealed. It was heavy and troublesome for Muslims when Allaah prescribed for them that one (fighting Muslim) should not fly from ten (fighting Non-Muslims). Then a light commandment was revealed saying “For the present Allaah hath lightened your (task). ” The narrator Abu Tawbah recited the verse to “they will vanquish two hundred. ” When Allaah lightened the number, patient and perseverance also decreased according to the number lightened from them. ”