Sunan Abu Dawood 2609

جہاد کا بیان

2609Sunan Abu Dawood

جب چند لوگ سفر کو نکلیں تو اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا امیر مقرر کرلیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ، قَالَ نَافِعٌ: فَقُلْنَا لِأَبِي سَلَمَةَ: فَأَنْتَ أَمِيرُنَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنالیں ١ ؎، نافع کہتے ہیں: تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When three are on a journey, they should appoint one of them as their commander. Nafi said: We said to Abu Salamah (RA) : You are our commander.

Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے یہ حکم اس لئے دیا تاکہ ان میں آپس میں اجتماعیت برقرار رہے اور اختلاف کی نوبت نہ آئے اور ایسا جبھی ممکن ہے جب وہ کسی امیر کے تابع ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٣٤٩) (حسن صحیح )