قرآن پاک کو دارالحرب میں لے جانا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، قَالَ مَالِكٌ: أُرَاهُ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ.
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے قرآن کو دشمن کی سر زمین میں لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے، مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے اس واسطے منع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے پالے ١ ؎۔
Abd Allaah bin Umar said “The Messenger of Allah ﷺ prohibited to travel with a copy of the Quran to the enemy territory. The narrator Malik said “ (It is) I think lest the enemy should take it.
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اس کی بےحرمتی کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٢٩ (٢٩٩٠)، (ولیس عندہ قول مالک)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٤ (١٨٦٩)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٤٥ (٢٨٧٩)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد ٢ (٧)، مسند احمد (٢/٦، ٧، ١٠، ٥٥، ٦٣، ٧٦، ١٢٨) (صحیح) (صحیح مسلم میں آخری ٹکڑا اصل حدیث میں سے ہے نہ کہ قول مالک سے )