Sunan Abu Dawood 2607

جہاد کا بیان

2607Sunan Abu Dawood

تنہا سفر کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ said: A single rider is a devil, and a pair of riders are a pair of devils, but three are a company of riders.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک سوار کو شیطان کہا گیا کیونکہ اکیلا مسافر جماعت نہیں قائم کرسکتا، اور بوقت مصیبت اس کا کوئی معاون و مددگار نہیں ہوتا، اور دو سوار شیطان اس لئے ہیں کہ جب ان میں سے ایک کسی مصیبت و آفت سے دوچار ہوتا ہے تو دوسرا اس کی خاطر اس طرح مضطرب و پریشان ہوجاتا ہے کہ اس کی پریشانی کو دیکھ کر شیطان بےحد خوش ہوتا ہے، اور اگر مسافر تعداد میں تین ہیں تو مذکورہ پریشانیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ٤ (١٦٧٤)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ١٤ (٣٥)، مسند احمد (٢/١٨٦، ٢١٤) (حسن )