تنہا سفر کرنے کی ممانعت
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ said: A single rider is a devil, and a pair of riders are a pair of devils, but three are a company of riders.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک سوار کو شیطان کہا گیا کیونکہ اکیلا مسافر جماعت نہیں قائم کرسکتا، اور بوقت مصیبت اس کا کوئی معاون و مددگار نہیں ہوتا، اور دو سوار شیطان اس لئے ہیں کہ جب ان میں سے ایک کسی مصیبت و آفت سے دوچار ہوتا ہے تو دوسرا اس کی خاطر اس طرح مضطرب و پریشان ہوجاتا ہے کہ اس کی پریشانی کو دیکھ کر شیطان بےحد خوش ہوتا ہے، اور اگر مسافر تعداد میں تین ہیں تو مذکورہ پریشانیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ٤ (١٦٧٤)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ١٤ (٣٥)، مسند احمد (٢/١٨٦، ٢١٤) (حسن )