Sunan Abu Dawood 2615

جہاد کا بیان

2615Sunan Abu Dawood

دشمن کے علاقہ میں آتش زنی کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ البُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا سورة الحشر آية 5.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کے کھجوروں کے باغات جلا دیے اور درختوں کو کاٹ ڈالا (یہ مقام بویرہ میں تھا) تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ما قطعتم من لينة أو ترکتموها کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے، یا اپنی جڑوں پر انہیں قائم رہنے دیا، یہ سب اللہ کے حکم سے تھا (سورۃ الحشر: ٥) ۔

IbnUmar said “The Messenger of Allah ﷺ burned the palm tree of Banu Al Nadr and cut (them) down at Al Buwairah. So, Allaah the exalted sent down “the palm trees you cut down or left. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المزارعة ٤ (٢٣٥٦)، الجھاد ١٥٤ (٣٠٢٠)، المغازي ١٤ (٤٠٣١)، صحیح مسلم/الجھاد ١٠ (١٧٤٦)، سنن الترمذی/التفسیر ٥٩ (٣٣٠٢)، والسیر ٤ (١٥٥٢)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣١ (٢٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ٨٢٦٧)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/السیر ٢٣ (٢٥٠٣)، مسند احمد (٢/١٢٣، ١٤٠) (صحیح )