ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے جانوروں کی پیٹھ کو منبر بنانے سے بچو، کیونکہ اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کردیا ہے تاکہ وہ تمہیں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچائیں جہاں تم بڑی تکلیف اور مشقت سے پہنچ سکتے ہو، اور اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی ہے، تو اسی پر اپنی ضروریات کی تکمیل کیا کرو ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying “Do not treat the backs of your beasts as pulpits, for Allaah has made them subject to you only to convey you to a town which you cannot reach without difficulty and He has appointed the earth (a floor to work) for you, so conduct your business on it.
Notes · وضاحت
١ ؎: سواری پر بلا ضرورت بیٹھنا اور بیٹھ کر اسے مارنا پیٹنا اور تکلیف پہنچانا صحیح نہیں ہے، البتہ اگر یہ بیٹھنا کسی مقصد کے حصول کے لئے ہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا حجۃ الوداع کے موقع پر سواری پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا ثابت ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کچھ اونٹ ١ ؎ شیطانوں کے ہوتے ہیں، اور کچھ گھر شیطانوں کے ہوتے ہیں، رہے شیطانوں کے اونٹ تو میں نے انہیں دیکھا ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنے کو تل اونٹ کے ساتھ نکلتا ہے جسے اس نے کھلا پلا کر موٹا کر رکھا ہے (خود) اس پر سواری نہیں کرتا، اور اپنے بھائی کے پاس سے گزرتا ہے، دیکھتا ہے کہ وہ چلنے سے عاجز ہوگیا ہے اس کو سوار نہیں کرتا، اور رہے شیطانوں کے گھر تو میں نے انہیں نہیں دیکھا ہے ٢ ؎۔ سعید کہتے تھے: میں تو شیطانوں کا گھر انہیں ہودجوں کو سمجھتا ہوں جنہیں لوگ ریشم سے ڈھانپتے ہیں۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “There are Camels which belong to devils and there are houses which belong to devils. As for the Camels of the devils, I have seen them. One of you goes out with his side Camels which he has fattened neither riding any of them nor giving a lift to a tired brother when he meets. As regard the houses of the devils, I have not seen them. The narrator Saeed says “I think they are those cages (Camel litters) which conceal people with brocade. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد ایسے اونٹ ہیں جو محض فخر و مباہات کے لئے رکھے گئے ہوں، ان سے کوئی دینی اور شرعی مصلحت نہ حاصل ہو رہی ہو۔ ٢ ؎: یعنی ایسے گھر جو بلاضرورت محض نام ونمود کے لئے بنائے گئے ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٣٧٨) (ضعیف) (اس حدیث کو البانی نے سلسلة الاحادیث سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی میں درج کیا تھا لیکن انقطاع کے سبب ضعیف ابی داود میں ڈال دیا، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود ٢ ؍٣١٨ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو ١ ؎ اور جب قحط والی زمین میں سفر کرو تو تیز چلو ٢ ؎، اور جب رات میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ ڈالو ٣ ؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “When you travel in fertile country, give the Camel their due (from the ground), and when you travel in time of drought make them go quickly. When you intend to encamp in the last hours of the night, keep away from the roads. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہیں کچھ دیر چرنے کے لئے چھوڑ دو۔ ٢ ؎: تاکہ قحط والی زمین جلدی سے طے کرلو اور سواری کو تکان لاحق ہونے سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جاؤ۔ ٣ ؎: کیونکہ رات میں راستوں پر زہریلے جانور چلتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٦٢٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة ٥٤ (١٩٢٦)، سنن الترمذی/الأدب ٧٥ (٢٨٥٨)، مسند احمد (٢/٣٣٧) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ نے بھی نبی اکرم ﷺ سے ایسی ہی روایت کی ہے، مگر اس میں آپ کے قول فأعطوا الإبل حقها کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو (تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو) ۔
A similar tradition has also been narrated by Jabir bin Abd Allaah from the Prophet ﷺ . But this version adds after the phrase “their due” And do not go beyond the destinations.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٧ (٣٧٧٢)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٩٥٥) (تحفة الأشراف: ٢٢١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣٨١) (صحیح )
بریدہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ چل رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا اور اس کے ساتھ ایک گدھا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول سوار ہوجائیے اور وہ پیچھے سرک گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہو، الا یہ کہ تم مجھے اس اگلے حصہ کا حقدار بنادو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اس کا حقدار بنادیا، پھر رسول اللہ ﷺ اس پر سوار ہوئے۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: While the Messenger of Allah ﷺ was walking a man who had an ass came to him and said: Messenger of Allah, ride; and the man moved to the back of the animal. The Messenger of Allah ﷺ said: No, you have more right to ride in front on your animal than me unless you grant that right to me. He said: I grant it to you. So he mounted.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٢٥ (٢٧٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٩٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٣) (حسن صحیح )
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میرے رضاعی والد نے جو بنی مرہ بن عوف میں سے تھے مجھ سے بیان کیا کہ وہ غزوہ موتہ کے غازیوں میں سے تھے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا کہ میں جعفر بن ابوطالب ؓ کو دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے سرخ گھوڑے سے کود پڑے اور اس کی کونچ کاٹ دی ١ ؎، پھر دشمنوں سے لڑے یہاں تک کہ قتل کردیئے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے ٢ ؎۔
Narrated Abbad ibn Abdullah ibn az-Zubayr: My foster-father said to me - he was one of Banu Murrah ibn Awf, and he was present in that battle, the battle of Mutah: By Allah, as if I am seeing Jafar who jumped from his reddish horse and hamstrung it; he then fought with the people until he was killed. Abu Dawud said: The tradition is not strong.
Notes · وضاحت
١ ؎: کونچ وہ موٹا پٹھا جو آدمی کے ایڑی کے اوپر اور چوپایوں کے ٹخنے کے نیچے ہوتا ہے، گھوڑے کی کونچ اس لئے کاٹ دی گئیں تاکہ دشمن اس گھوڑے کے ذریعہ مسلمانوں پر حملہ نہ کرسکے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لڑائی میں سامان کے سلسلہ میں یہ اندیشہ ہو کہ دشمن کے ہاتھ میں آ کر اس کی تقویت کا سبب بنے گا تو اسے تلف کر ڈالنا درست ہے۔ ٢ ؎: شاید مؤلف نے اس بنیاد پر اس حدیث کو غیر قوی قرار دیا ہے کہ عباد کے رضاعی باپ مبہم ہیں، لیکن یہ صحابی بھی ہوسکتے ہیں، اور یہی ظاہر ہے، اسی بنا پر البانی نے اس کو حسن قرار دیا ہے، (حسن اس لئے کہ ” ابن اسحاق “ درجہ حسن کے راوی ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مقابلہ میں بازی رکھنا جائز نہیں ١ ؎ سوائے اونٹ یا گھوڑے کی دوڑ میں یا تیر چلانے میں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Wagers are allowed only for racing camels, or horses or shooting arrows.
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں سبق کا لفظ آیا ہے سبق اس پیسہ کو کہتے ہیں، جو گھوڑ دوڑ وغیرہ میں شرط کے طور پر رکھا جاتا ہے، لیکن یہ رقم خود گھوڑ دوڑ میں شرکت کرنے والوں کی طرف سے جیتنے والے کے لئے نہ ہو، بلکہ کسی تیسرے فریق کی طرف سے ہو، اگر خود گھوڑوں کی ریس (دوڑ) میں شرکت کرنے والوں کی جانب سے ہوگا تو یہ مقابلہ جُوا میں داخل ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ٢٢ (١٧٠٠)، سنن النسائی/ الخیل ١٣(٣٦١٥) (تحفة الأشراف: ١٤٦٣ ٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٧٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کے درمیان ١ ؎ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مقابلہ کرایا، اور غیر چھریرے بدن والے گھوڑوں، کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقابلہ کرایا اور عبداللہ بن عمر ؓ بھی مقابلہ کرنے والوں میں سے تھے۔
Abdullah bin Umar (RA) said “The Messenger of Allah ﷺ held race between the horses which had been made lean by training from Al Hafya’. The goal was Thaniyyat Al Wada’ and he held a race between the horses Banu Zuraiq and Abd Allaah was one of the racers.
Notes · وضاحت
١ ؎: گھوڑوں کے بدن کو چھریرا بنانے کے عمل کو تضمیر کہتے ہیں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں خوب کھلا پلا کر موٹا اور تندرست کیا جائے، پھر آہستہ آہستہ ان کی خوراک کم کردی جائے یہاں تک کہ وہ اپنی اصل خوراک پر آجائیں، پھر ایک مکان میں بند کر کے ان پر گردنی ڈال دی جائے تاکہ انہیں گرمی اور پسینہ آجائے جب پسینہ خشک ہوجاتا ہے تو وہ سبک، طاقتور اور تیز رو ہوجاتے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا بدن بھاری ہوگیا تو میں نے آپ سے (دوبارہ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : while she was on a journey along with the Messenger of Allah ﷺ : I had a race with him (the Prophet) and I outstripped him on my feet. When I became fleshy, (again) I had a race with him (the Prophet) and he outstripped me. He said: This is for that outstripping.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٧٣٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٠ (١٩٧٩)، مسند احمد (٦/١٢٩، ٢٨٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دے اور گھوڑا ایسا ہو کہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین نہ ہو تو وہ جوا نہیں، اور جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور وہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین رکھتا ہو تو وہ جوا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If one enters a horse with two others when he is not certain that it cannot be beaten, it is not gambling; but when one enters a horse with two others when he is certain it cannot be beaten, it is gambling.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٤٤ (٢٨٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٠٥) (ضعیف) (” سفیان بن حسین “ زہری سے روایت میں ضعیف ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسے متصل بنادیا ہے جبکہ زہری کے ثقہ تلامذہ نے اس کو مرسلا روایت کیا ہے، جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے )
اس سند سے بھی زہری سے عباد والے طریق ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معمر، شعیب اور عقیل نے زہری سے اور زہری نے اہل علم کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al Zuhri with the chain of Abbad and to the same affect. Abu Dawud said “This tradition has also been narrated by Mamar, Shuaib and Aqil on the authority of Al Zuhri from a number of scholars and this is the soundest one in our opinion.
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جلب اور جنب نہیں ہے ۔ یحییٰ نے اپنی حدیث میں في الرهان (گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں) کا اضافہ کیا ہے۔
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ said: There must be no shouting or leading another horse at ones side. Yahya added in his tradition: When racing for a wager.
Takhrij · تخریج
حدیث یحییٰ بن خلف، قد تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٨٠٠) وحدیث مسدد، قد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ٢٩ (١١٢٣)، سنن النسائی/النکاح ٦٠ (٣٣٣٧)، الخیل ١٥ (٣٦٢٠)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣ (٣٩٣٧)، مقتصراً علی قولہ: من انتھب، (تحفة الأشراف: ١٠٧٩٣)، مسند احمد (٤/٤٣٨، ٤٣٩، ٤٤٣، ٤٤٥) (صحیح )
قتادہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا جلب اور جنب ١ ؎ گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔
Qatadah said “Taking another horse behind one’s horse to urge it on and taking another horse at one’s side are (done) in a horse race.
Notes · وضاحت
١ ؎: گھوڑ دوڑ میں جلب یہ ہے کہ کسی کو اپنے گھوڑے کے پیچھے لگالے کہ وہ گھوڑے کو ڈانٹتا رہے، تاکہ وہ آگے بڑھ جائے، اور جنب یہ ہے کہ اپنے گھوڑے کے پہلو میں ایک اور گھوڑا رکھے کہ جب سواری کا گھوڑا تھک جائے تو اس گھوڑے پر سوار ہوجائے، اور زکاۃ میں جلب یہ ہے کہ زکاۃ لینے والا دور اترے اور زکاۃ دینے والے سے کہے کہ وہ اپنے مویشی میرے پاس لے آئیں، اور جنب یہ ہے کہ دینے والے اپنی اصل جگہ سے مویشیوں کو دور لے کر چلے جائیں اور محصل سے یہ کہیں کہ وہ یہاں آ کر زکاۃ لے، یہ دونوں چیزیں منع ہیں۔
( حسن بصری کے بھائی) سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے دستہ کی خول چاندی کی تھی۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس پر ان کی متابعت کسی اور شخص نے کی ہے۔
Narrated Saeed ibn AbulHasan (RA) : The pommel of the sword of the Messenger of Allah ﷺ was of silver. Qatadah said: I do not know that anyone has supported him for that (for the tradition narrated by Saeed bin Abu al-Hasan).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٤٦، ١٨٦٨٨) ( پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ روایت مرسل ہے) (صحیح )
اس سند سے انس بن مالک ؓ سے سابقہ حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: ان احادیث میں سب سے زیادہ قوی سعید بن ابوالحسن کی حدیث ہے اور باقی ضعیف ہیں۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Anas bin Malik (RA) through a different chain of narrators. He mentioned similar words. Abu Dawud said “the strongest of these traditions is the one of Saeed bin Abu Al Hasan. The rest are weak.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨) (صحیح) بما قبلہ