ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ گھوڑے میں شکال کو ناپسند فرماتے تھے، اور شکال یہ ہے کہ گھوڑے کے دائیں پیر اور بائیں ہاتھ میں، یا دائیں ہاتھ اور بائیں پیر میں سفیدی ہو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی دائیں اور بائیں ایک دوسرے کے مخالف ہوں۔
Abu Hurairah said “The Prophet ﷺ disapproved the shikal horses. Shikal are the horses that are white on their right hind leg and white on their left foreleg or white on their right foreleg and left hind leg. Abu Dawud said “This means alternate legs”.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روای نے شکال کی تفسیر کی ہے، اہل لغت کے نزدیک گھوڑوں میں شکال یہ ہے کہ اس کے تین پاؤں سفید ہوں، اور ایک باقی بدن کے ہم رنگ ہو یا اس کے برعکس ہو، یعنی ایک پاؤں سفید اور باقی تین پاؤں باقی بدن کے ہم رنگ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٧ (١٨٧٥)، سنن الترمذی/الجھاد ٢١ (١٦٩٨)، سنن النسائی/الخیل ٤ (٣٥٩٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٤(٢٧٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦، ٤٦١، ٤٧٦) (صحیح )
سہل بن حنظلیہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ اس کی پشت سے مل گیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان بےزبان چوپایوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو، ان پر سواری بھلے طریقے سے کرو اور ان کو بھلے طریقے سے کھاؤ ١ ؎۔
Narrated Sahl ibn al-Hanzaliyyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came upon an emaciated camel and said: Fear Allah regarding these dumb animals. Ride them when they are in good condition and feed them when they are in good condition.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہیں اس وقت کھاؤ جب وہ کھانے کے لائق موٹے اور تندرست ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح )
عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک دن اپنے پیچھے سوار کیا پھر مجھ سے چپکے سے ایک بات کہی جسے میں کسی سے بیان نہیں کروں گا، رسول اللہ ﷺ کو بشری ضرورت کے تحت چھپنے کے لیے دو جگہیں بہت ہی پسند تھیں، یا تو کوئی اونچا مقام، یا درختوں کا جھنڈ، ایک بار آپ ﷺ کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے تو سامنے ایک اونٹ نظر آیا جب اس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو رونے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہوگیا، اس کے بعد پوچھا: یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری جوان آیا، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں جن کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے اللہ سے نہیں ڈرتے، اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تو اس کو بھوکا مارتا اور تھکاتا ہے ۔
Abd Allaah bin Jafar said “The Messenger of Allah ﷺ seated me behind him (on his ride) one day, and told me secretly a thing asking me not to tell it to anyone. The place for easing dearer to the Messenger of Allah ﷺ was a mound or host of palm trees by which he could conceal himself. He entered the garden of a man from the Ansar (Helpers). All of a sudden when a Camel saw the Prophet ﷺ it wept tenderly producing yearning sound and it eyes flowed. The Prophet ﷺ came to it and wiped the temple of its head. So it kept silence. He then said “Who is the master of this Camel? Whose Camel is this? A young man from the Ansar came and said “This is mine, Messenger of Allah ﷺ . ” He said “Don’t you fear Allaah about this beast which Allaah has given in your possession. It has complained to me that you keep it hungry and load it heavily which fatigues it. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٠ (٣٤٢)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٣ (٣٤٠)، (لیس عندہما قصة الجمل) (تحفة الأشراف: ٥٢١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٤، ٢٠٥)، سنن الدارمی/الطھارة ٥ (٦٩٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی کسی راستہ پہ جا رہا تھا کہ اسی دوران اسے سخت پیاس لگی، (راستے میں) ایک کنواں ملا اس میں اتر کر اس نے پانی پیا، پھر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس شخص نے دل میں کہا: اس کتے کا پیاس سے وہی حال ہے جو میرا حال تھا، چناچہ وہ (پھر) کنویں میں اترا اور اپنے موزوں کو پانی سے بھرا، پھر منہ میں دبا کر اوپر چڑھا اور (کنویں سے نکل کر باہر آ کر) کتے کو پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول فرما لیا اور اسے بخش دیا ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے لیے چوپایوں میں بھی ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر تر کلیجہ والے (جاندار) میں ثواب ہے ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ While a man was going on his way, he felt himself thirsty severely. He found a well and e went down in it. He drank water and came out. Suddenly he saw a dog panting and eating soil due to thirst. The man said (to himself) “This dog must have reached the same condition due to thirst as I had reached. So he went down into the well, filled his sock with water, held it with his mouth and came up. He supplied water to the dog. Allaah appreciated this and forgave him. ” They asked “Messenger of Allah ﷺ , Is there any reward for us for these beasts? He replied, For every cool liver there is a reward. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٣)، والمساقاة ٩ (٢٣٦٣)، والمظالم ٢٣ (٢٤٦٦)، والأدب ٢٧ (٦٠٠٩)، صحیح مسلم/السلام ٤١ (٢٢٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٧٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٢ (٦)، مسند احمد (٢/٣٧٥، ٥١٧) (صحیح )
ابوبشیر انصاری ؓ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا، لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے: کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ باقی نہ رہے، اور نہ ہی کوئی اور قلادہ ہو مگر اسے کاٹ دیا جائے ۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے لوگ یہ گنڈا نظر بد سے بچنے کے لیے باندھتے تھے۔
Abu Bashir Al Ansari said that he was with the Messenger of Allah ﷺ on one of his journeys. The Messenger of Allah ﷺ sent a messenger. The narrator Abdullah bin Abu Bakr said “I think he said while the people were sleeping. No necklace of bowstring or anything else must be left on a Camels’ neck, must be cut off. The narrator Malik said “I think this was due to evil eye. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٣٩ (٣٠٠٥)، صحیح مسلم/اللباس ٢٨ (٢١١٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٦٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ١٣ (٣٩)، مسند احمد (٥/٢١٦) (صحیح )
ابو وہب جشمی ؓ سے روایت ہے انہیں (اللہ کے رسول ﷺ کی) صحبت حاصل تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کو سرحد کی حفاظت کے لیے تیار کرو، اور ان کی پیشانیوں اور پٹھوں پر ہاتھ پھیرا کرو، اور ان کی گردنوں میں قلادہ (پٹہ) پہناؤ، اور انہیں (نظر بد سے بچنے کے لیے) تانت کا قلادہ نہ پہنانا ۔
Narrated Abu Wahb al-Jushami,: The Messenger of Allah ﷺ said: Tie the horses, rub down their forelocks and their buttocks (or he said: Their rumps), and put things on their necks, but do not put bowstrings.
Notes · وضاحت
١ ؎: گھوڑے کو تیار کرنے سے یہ کنایہ ہے کہ ان کو جہاد کے لئے فربہ کرنا، اور ہاتھ پھیرنے سے مقصود ان کے جسم کو گردوغبار سے صاف کرنا اور ان کی فربہی معلوم کرنا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں گھوڑے کی گردنوں میں کمان کے چلے باندھتے تھے تاکہ نظر بد نہ لگے، آپ ﷺ نے تنبیہ کے لئے اس سے منع فرمایا کہ اس سے گھوڑے کا گلا نہ گھٹ جائے، نیز یہ عمل تقدیر کو رد نہیں کرسکتا۔
معاذ ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا جس کو عفیر کہا جاتا تھا ١ ؎۔
Muadh said “I was seated behind the Prophet ﷺ on a donkey that was called Ufair”.
Notes · وضاحت
١ ؎: پیچھے سواری پر کسی کو بٹھایا جاسکتا ہے بشرطیکہ جانور اس دوسرے سوار کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل ہو، اسی طرح جانوروں کا نام بھی رکھا جاسکتا ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کے خچر کا نام دلدل اور گھوڑوں میں سے ایک کا نام سکب اور ایک کا بحر تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٤٦ (٢٨٥٦)، صحیح مسلم/الإیمان ١٠(٣٠)، سنن الترمذی/الایمان ١٨ (٢٦٤٣)، (تحفة الأشراف: ١١٣٥١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ العلم (٥٨٧٧)، مسند احمد (٥/٢٢٨) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے ، وہ حمد و صلاۃ کے بعد کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے سواروں کو جب ہمیں دشمن سے گھبراہٹ ہوتی (تسلی دیتے ہوئے) خیل اللہ کہتے، اور ہمیں جماعت کو لازم پکڑنے اور صبر و سکون سے رہنے کا حکم دیتے، اور جب ہم قتال کر رہے ہوتے (تو بھی انہیں کلمات کے ذریعہ ہمارا حوصلہ بڑھاتے) ۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ named our cavalry the Cavalry of Allah, when we were struck with panic, and when panic overtook us, the Messenger of Allah ﷺ commanded us to be united, to have patience and perseverance; and to be so when we fought.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦١٩) (ضعیف) (اس سند میں جعفر ضعیف ہیں، خبیب مجہول، اس لئے حدیث ضعیف ہے، اور سلیمان بن سمرہ مقبول یعنی بشرط متابعت )
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک سفر میں تھے، آپ نے لعنت کی آواز سنی تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں عورت ہے جو اپنی سواری پر لعنت کر رہی ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس اونٹنی سے کجاوہ اتار لو کیونکہ وہ ملعون ہے ١ ؎، لوگوں نے اس پر سے (کجاوہ) اتار لیا۔ عمران ؓ کہتے ہیں: گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سیاہی مائل اونٹنی تھی۔
Imran bin Hussain said “The Prophet ﷺ was on a journey. He heard a curse. He asked “What is this? They (the people) said “This is so and so (a woman) who cursed her riding beast. The Prophet ﷺ said “Remove the saddle from it, for it is accursed. So, they removed (the saddle) from it. Imran said “As if I am looking at it a grey she Camel. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا اس لئے کیا تاکہ جانور کا مالک آئندہ کسی جانور پر لعنت نہ بھیجے، گویا آپ ﷺ کا یہ فرمان اس مالک کے لئے بطور سرزنش تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر ٢٤ (٢٥٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٣١)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٥ (٢٧١٩) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی کی پیدائش پر اس کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آیا تاکہ آپ اس کی تحنیک (گھٹی) ١ ؎ فرما دیں، تو دیکھا کہ آپ ﷺ جانوروں کے ایک باڑہ میں بکریوں کو نشان (داغ) لگا رہے تھے۔ ہشام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انس ؓ نے کہا: ان کے کانوں پر داغ لگا رہے تھے۔
Anas bin Malik (RA) said “I brought my brother when he was born to Prophet ﷺ to chew something for him and rub his palate with it and found him in a sheep pen branding the sheep, I think, on their ears. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: ” تحنيك “ یہ ہے کہ کھجور یا اسی جیسی کوئی میٹھی چیز منہ میں چبا کر بچے کے منہ میں رکھ دیا جائے تاکہ اس کی مٹھاس کا اثر بچے کے پیٹ میں پہنچ جائے، رسول اکرم ﷺ سے تحنیک کا مقصد برکت کا حصول تھا، اور چیز غیر نبی میں متحقق نہیں ہے اس لئے دوسروں سے تحنیک کرانے کا کوئی فائدہ نہیں نیز بزرگ شخصیات سے تحنیک کا تحنیک نبوی پر قیاس صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦٩ (١٥٠٢)، والذبائح ٣٥ (٥٥٤٢)، صحیح مسلم/اللباس ٣٠ (٢١١٩)، الآداب ٥ (٢١٤٥)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤ (٣٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٩، ١٧١، ٢٥٤، ٢٥٩) (صحیح )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے ، پھر آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔
Jabir reported the Prophet ﷺ as saying when an ass which had been branded on its face passed him. Did it not reach you that I cursed him who branded the animals on their faces or struck them on their faces. So he prohibited it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٧٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ٢٩ (٢١١٧)، سنن الترمذی/الجھاد ٣٠ (١٧١٠)، مسند احمد (٣/٣٢٣) (صحیح )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوئے، علی ؓ نے کہا: اگر ہم ان گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کرائیں تو اسی طرح کے خچر پیدا ہوں گے (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو (شریعت کے احکام سے) واقف نہیں ہیں ١ ؎۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ was present with a she-mule which he rode, so Ali said: If we made asses cover mares we would have animals of this type. The Messenger of Allah ﷺ said: Only those who do not know do that.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جو لوگ گھوڑوں کی منفعت سے واقف نہیں ہیں وہی ایسا کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الخیل ٨ (٣٦١٠)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٨، ١٠٠، ١٥٨) (صحیح )
عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، جو ہم میں سے پہلے پہنچتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے، چناچہ (ایک بار) آپ ﷺ نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح (سواری پر) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے۔
Abdullah bin Jafar said “When the Prophet ﷺ arrived after a journey, we were taken for his reception. Any of us who met him first he lifted him in front of him. As I was the first to meet him, he lifted me in front of him. Then Hasan or Hussain was brought to him and he set him behind him. We the entered Madeenah and we (were) riding so (three on one beast). ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٥ (٢٤٢٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٣ (٣٧٧٣)، (تحفة الأشراف: ٥٢٣٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان ٣٦ (٢٧٠٧)، مسند احمد (١/٢٠٣) (صحیح )