یعلیٰ بن منیہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے غزوہ کا اعلان کیا اور میں بہت بوڑھا تھا میرے پاس کوئی خادم نہ تھا، تو میں نے ایک مزدور تلاش کیا جو میری خدمت کرے اور میں اس کے لیے اس کا حصہ جاری کروں، آخر میں نے ایک مزدور پا لیا، تو جب روانگی کا وقت ہوا تو وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نہیں جانتا کہ کتنے حصے ہوں گے اور میرے حصہ میں کیا آئے گا؟ لہٰذا میرے لیے کچھ مقرر کر دیجئیے خواہ حصہ ملے یا نہ ملے، لہٰذا میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کر دئیے، جب مال غنیمت آیا تو میں نے اس کا حصہ دینا چاہا، پھر خیال آیا کہ اس کے تو تین دینار مقرر ہوئے تھے، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا معاملہ بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس کے لیے اس کے اس غزوہ میں دنیا و آخرت میں کچھ نہیں پاتا سوائے ان تین دیناروں کے جو متعین ہوئے ۔
Narrated Yala ibn Munyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ announced an expedition, and I was a very old man and I had no servant. I, therefore, sought a hireling who would serve instead of me, and I would give him his portion. So I found a man. When the time of departure arrived, he came to me and said: I do not know what would be the portions, and how much would be my portion. So offer something (as wages) to me, whether there would be any portion or not. I offered three dinars (as his wages) for him. When some booty arrived, I wanted to offer him his portion. But I remembered the dinars, so I went to the Prophet ﷺ and mentioned the matter to him. He said: All I can find for him regarding this expedition of his in this world and the next is three dinars which were offered him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٨٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ، اور انہیں ہنساؤ جیسا کہ رلایا ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I came to you to take the oath of allegiance to you on emigration, and I left my parents weeping. He (the Prophet) said: Return to them and make them laugh as you made them weep.
Notes · وضاحت
١ ؎: علامہ خطابی کہتے ہیں کہ مجاہد اگر رضاکارانہ طور پر جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں ماں باپ کی اجازت ضروری ہے، البتہ اگر جہاد میں شرکت اس کے لئے فرض ہے تو ماں باپ کی مرضی اور اجازت کی ضرورت نہیں، مذکورہ دونوں صورتوں میں ان کی اجازت یا عدم اجازت کا مسئلہ اس وقت اٹھتا ہے جب ماں باپ مسلم ہوں، اگر وہ دونوں کافر ہیں تو اجازت کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجہاد ٥ (٣١٠٥)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٢(٢٧٨٢)، (تحفة الأشراف: ٨٦٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٠، ١٩٤، ١٩٧، ١٩٨، ٢٠٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں جہاد کروں؟ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں دونوں میں جہاد کرو ١ ؎ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابو العباس شاعر ہیں جن کا نام سائب بن فروخ ہے۔
Abdullah bin Amr said “A man came to the Prophet ﷺ and said “Messenger of Allah ﷺ , May I take part in jihad?” He asked “Do you have parents?” He replied “Yes”. So, strive for them. ” Abu Dawud said: The name of the narrator Abu al-Abbas, a poet, is al-Saib bin Farrukh.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس یمن سے ہجرت کر کے آیا، آپ نے اس سے فرمایا: کیا یمن میں تمہارا کوئی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میرے ماں باپ ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: انہوں نے تمہیں اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ اور اجازت لو، اگر وہ اجازت دیں تو جہاد کرو ورنہ ان دونوں کی خدمت کرو ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : A man emigrated to the Messenger of Allah ﷺ from the Yemen. He asked (him): Have you anyone (of your relatives) in the Yemen? He replied: My parents. He asked: Did they permit you? He replied: No. He said: Go back to them and ask for their permission. If they permit you, then fight (in the path of Allah), otherwise be devoted to them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٠٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٧٦) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام سلیم ؓ کو اور انصار کی کچھ عورتوں کو جہاد میں لے جاتے تھے تاکہ وہ مجاہدین کو پانی پلائیں اور زخمیوں کا علاج کریں ١ ؎۔
Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah ﷺ went on an expedition, he took Umm Sulaym, and he had some women of the Ansar who supplied water and tended the wounded.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کا جہاد میں شریک ہونا جائز ہے، حالانکہ بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جہاد پر نکلنے والی عورتوں کو آپ ﷺ نے واپس لوٹ جانے کا حکم دیا، اس کے دو اسباب بیان کئے جاتے ہیں: ١۔ آپ کو دشمنوں کی قوت و ضعف کا صحیح اندازہ نہ ہوسکا اور خطرہ تھا کہ مسلمان دشمن سے مغلوب ہوجائیں گے اس لئے آپ نے انہیں واپس کردیا۔ ٢۔ ممکن ہے یہ عورتیں نوجوان اور نئی عمر کی رہی ہوں جن سے میدان جہاد میں فتنہ کا خوف رہا ہو اس لئے آپ نے انہیں واپس کردیا ہو، واللہ اعلم۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین باتیں ایمان کی اصل ہیں: ١۔ جو لا الہٰ الا اللہ کہے اس (کے قتل اور ایذاء) سے رک جانا، اور کسی گناہ کے سبب اس کی تکفیر نہ کرنا، نہ اس کے کسی عمل سے اسلام سے اسے خارج کرنا۔ ٢۔ جہاد جاری رہے گا جس دن سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا، کسی بھی ظالم کا ظلم، یا عادل کا عدل اسے باطل نہیں کرسکتا۔ ٣۔ تقدیر پر ایمان لانا ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: Three things are the roots of faith: to refrain from (killing) a person who utters, There is no god but Allah and not to declare him unbeliever whatever sin he commits, and not to excommunicate him from Islam for his any action; and jihad will be performed continuously since the day Allah sent me as a prophet until the day the last member of my community will fight with the Dajjal (Antichrist). The tyranny of any tyrant and the justice of any just (ruler) will not invalidate it. One must have faith in Divine decree.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٠٤) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن ابی نشبہ مجہول ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرئے، اور نماز (جنازہ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Striving in the path of Allah (jihad) is incumbent on you along with every ruler, whether he is pious or impious; the prayer is obligatory on you behind every believer, pious or impious, even if he commits grave sins; the (funeral) prayer is incumbent upon every Muslim, pious and impious, even if he commits major sins.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٩) (ضعیف) (مکحول کا ابوہریرہ ؓ سے سماع نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا: اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کرلے، تو ہم میں سے بعض کے پاس سواری نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ باری باری سوار ہوں ، تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو لے لیا، میں بھی صرف باری سے اپنے اونٹ پر سوار ہوتا تھا، جیسے وہ ہوتے تھے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : Once the Messenger of Allah ﷺ intended to go on an expedition. He said: O group of the emigrants (Muhajirun) and the helpers (Ansar), among your brethren there are people who have neither property nor family. So one of you should take with him two or three persons; with me. I also rode on my camel by turns like one of them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣١١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٨) (صحیح )
ضمرہ کا بیان ہے کہ ابن زغب ایادی نے ان سے بیان کیا کہ عبداللہ بن حوالہ ازدی ؓ میرے پاس اترے، اور مجھ سے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم پیدل چل کر مال غنیمت حاصل کریں، تو ہم واپس لوٹے اور ہمیں کچھ بھی مال غنیمت نہ ملا، اور آپ ﷺ نے ہمارے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے تو ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ! انہیں میرے سپرد نہ فرما کہ میں ان کی خبرگیری سے عاجز رہ جاؤں، اور انہیں ان کی ذات کے حوالہ (بھی) نہ کر کہ وہ اپنی خبرگیری خود کرنے سے عاجز آجائیں، اور ان کو دوسروں کے حوالہ نہ کر کہ وہ خود کو ان پر ترجیح دیں ، پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سر پر یا میری گدی پر رکھا اور فرمایا: اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت شام میں اتر چکی ہے، تو سمجھ لو کہ زلزلے، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات (کے ظہور کا وقت) قریب آگیا ہے، اور قیامت اس وقت لوگوں سے اتنی قریب ہوگی جتنا کہ میرا یہ ہاتھ تمہارے سر سے قریب ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Hawalah al-Azdi: The Messenger of Allah ﷺ sent us on foot to get spoil, but we returned without getting any. When he saw the signs of distress on our faces, he stood up on our faces and said: O Allah, do not put them under my care, for I would be too weak to care for them; do not put them in care of themselves, for they would be incapable of that, and do not put them in the care of men, for they would choose the best things for themselves. He then placed his hand on my head and said: Ibn Hawalah, when you see the caliphate has settled in the holy land, earthquakes, sorrows and serious matters will have drawn near and on that day the Last Hour will be nearer to mankind than this hand of mine is to your head. Abu Dawud said: Abdullah bin Hawalah belongs to Hims.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٢٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٨) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب اس شخص سے خوش ہوتا ہے ١ ؎ جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، پھر اس کے ساتھی شکست کھا کر (میدان سے) بھاگ گئے اور وہ گناہ کے ڈر سے واپس آگیا (اور لڑا) یہاں تک کہ وہ قتل کردیا گیا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے بندے کو دیکھو میرے ثواب کی رغبت اور میرے عذاب کے ڈر سے لوٹ آیا یہاں تک کہ اس کا خون بہا گیا ۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: Our Lord Most High is pleased with a man who fights in the path of Allah, the Exalted; then his companions fled away (i. e. retreated). But he knew that it was a sin (to flee away from the battlefield), so he returned, and his blood was shed. Thereupon Allah, the Exalted, says to His angels: Look at My servant; he returned seeking what I have for him (i. e. the reward), and fearing (the punishment) I have, until his blood was shed.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لئے صفت تعجب کی صراحت ہے، دوسری حدیث میں ضحک (ہنسنے) کی صفت کا تذکرہ ہے، یہ صفات اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں، ذات باری تعالیٰ اور اس کی صفات کی کنہ و کیفیت کی جستجو میں پڑے بغیر تمام ثابت صفات باری تعالیٰ پر ایمان لانا چاہیے، اور کسی مخلوق کی ذات وصفات سے اس کی تشبیہ و تمثیل وتکییف جائز نہیں ہے۔ ليس کمثله شيء وهو السميع البصير ” اللہ کے ہم مثل کوئی چیز نہیں اور وہ ذات باری سمیع (سننے والا) اور بصیر (دیکھنے والا ہے) “۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٥٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤١٦) (حسن )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ عمرو بن اقیش ؓ کا جاہلیت میں کچھ سود (وصول کرنا) رہ گیا تھا انہوں نے اسے بغیر وصول کئے اسلام قبول کرنا اچھا نہ سمجھا، چناچہ (جب وصول کرچکے تو) وہ احد کے دن آئے اور پوچھا: میرے چچازاد بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: احد میں ہیں، کہا: فلاں کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: احد میں، کہا: فلاں کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: احد میں، پھر انہوں نے اپنی زرہ پہنی اور گھوڑے پر سوار ہوئے، پھر ان کی جانب چلے، جب مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو کہا: عمرو ہم سے دور رہو، انہوں نے کہا: میں ایمان لا چکا ہوں، پھر وہ لڑے یہاں تک کہ زخمی ہوگئے اور اپنے خاندان میں زخم خوردہ اٹھا کر لائے گئے، ان کے پاس سعد بن معاذ ؓ آئے اور ان کی بہن سے کہا: اپنے بھائی سے پوچھو: اپنی قوم کی غیرت یا ان کی خاطر غصہ سے لڑے یا اللہ کے واسطہ غضب ناک ہو کر، انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کے واسطہ غضب ناک ہو کر لڑا، پھر ان کا انتقال ہوگیا اور وہ جنت میں داخل ہوگئے، حالانکہ انہوں نے اللہ کے لیے ایک نماز بھی نہیں پڑھی۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Amr ibn Uqaysh had given usurious loans in pre-Islamic period; so he disliked to embrace Islam until he took them. He came on the day of Uhud and asked: Where are my cousins? They (the people) replied: At Uhud. He asked: Where is so-and-so? They said: At Uhud. He asked: Where is so-and-so? They said: At Uhud. He then put on his coat of mail and rode his horse; he then proceeded towards them. When the Muslims saw him, they said: Keep away, Amir. He said: I have become a believer. He fought until he was wounded. He was then taken to his family wounded. Saad ibn Muadh came to his sister: Ask him (whether he fought) out of partisanship, out of anger for them, or out of anger for Allah. He said: Out of anger of Allah and His Messenger. He then died and entered Paradise. He did not offer any prayer for Allah.
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ جب جنگ خیبر ہوئی تو میرے بھائی بڑی شدت سے لڑے، ان کی تلوار اچٹ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کا خاتمہ کردیا، صحابہ کرام ؓ نے ان کے سلسلے میں باتیں کی اور ان کی شہادت کے بارے میں انہیں شک ہوا تو کہا کہ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے مرگیا ہو (وہ کیسے شہید ہوسکتا ہے؟ ) ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ اللہ کے راستہ میں کوشش کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: پھر میں نے سلمہ بن الاکوع ؓ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے اسی کے مثل بیان کیا، مگر اتنا کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں نے جھوٹ کہا، وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے، اسے دوہرا اجر ملے گا ۔
Salamah bin Al Akwa said “On the day of the battle of the Khaibar, my brother fought desperately. But his sword fell back on him and killed him. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ talked about him and doubted it (his martyrdom) saying “A man who died with his own weapon”. The Messenger of Allah ﷺ said “he died as a warrior striving in the path of Allaah. Ibn Shihab said “I asked the son of Salamah bin Al Akwa. ” He narrated to me on the authority of his father similar to that except that he said “The Messenger of Allah ﷺ said “They told a lie, he died as a warrior striving in the path of Allaah. There is a double reward for him. ””
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ٤٣ (١٨٠٢)، سنن النسائی/الجھاد ٢٩ (٣١٥٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٧، ٥٢) (صحیح )
ابو سلام ایک صحابی سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلہ پر شب خون مارا تو ایک مسلمان نے ایک آدمی کو مارنے کا قصد کیا، اس نے اسے تلوار سے مارا لیکن تلوار نے خطا کی اور اچٹ کر اسی کو لگ گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! اپنے مسلمان بھائی کی خبر لو ، لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑے، تو اسے مردہ پایا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی کے کپڑوں اور زخموں میں لپیٹا، اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کردیا، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ شہید ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اور میں اس کا گواہ ہوں ۔
Narrated Abu Salam (RA) : Abu Salam reported on the authority of a man from the companion of the Prophet ﷺ . He said: We attacked a tribe of Juhaynah. A man from the Muslims pursued a man of them, and struck him but missed him. He struck himself with the sword. The Messenger of Allah ﷺ said: Your brother, O group of Muslims. The people hastened towards him, but found him dead. The Messenger of Allah ﷺ wrapped him with his clothes and his blood, and offered (funeral) prayer for him and buried him. They said: Messenger of Allah, is he a martyr? He said: Yes, and I am witness to him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٧٧) (ضعیف) (اس کے راوی سلام ابی سلام مجہول ہیں )
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو (وقت کی) دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا کم ہی رد کی جاتی ہیں: ایک اذان کے بعد کی دعا، دوسرے لڑائی کے وقت کی، جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں ۔ موسیٰ کہتے ہیں: مجھ سے رزق بن سعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا وہ ابوحازم سے روایت کرتے ہیں وہ سہل بن سعد ؓ سے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے آپ نے فرمایا: اور بارش کے وقت کی ۔
Narrated Sahl ibn Saad (RA) : The Prophet ﷺ said: Two (prayers) are not rejected, or seldom rejected: Prayer at the time of the call to prayer, and (the prayer) at the time of fighting, when the people grapple with each other. Musa said: Rizq ibn Saeed ibn Abdur Rahman reported from Abu Hazim on the authority of Sahl ibn Saad from the Prophet ﷺ as saying: And while it is raining.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٧٦٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١ (٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٩ (١٢٣٦) (صحیح) (لیکن ” وقت المطر “ (بارش کے وقت کا) ٹکڑاحسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٧/٢٩٤، والصحیحة: ١٤٧٩ )
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی دوہنے والے کے دو بار چھاتی پکڑنے کے درمیان کے مختصر عرصہ کے بقدر بھی جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور جس شخص نے اللہ سے سچے دل کے ساتھ شہادت مانگی پھر اس کا انتقال ہوگیا، یا قتل کردیا گیا تو اس کے لیے شہید کا اجر ہے، اور جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا کوئی چوٹ پہنچایا ١ ؎ گیا تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ کامل شکل میں ہو کر آئے گا جتنا وہ تھا، اس کا رنگ زعفران کا اور بو مشک کی ہوگی اور جسے اللہ کے راستے میں پھنسیاں (دانے) نکل آئیں تو اس پر شہداء کی مہر لگی ہوگی ۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone fights in Allahs path as long as the time between two milkings of a she-camel, Paradise will be assured for him. If anyone sincerely asks Allah for being killed and then dies or is killed, there will be a reward of a martyr for him. Ibn al-Musaffa added from here: If anyone is wounded in Allahs path, or suffers a misfortune, it will come on the Day of resurrection as copious as possible, its colour saffron, and its odour musk; and if anyone suffers from ulcers while in Allahs path, he will have on him the stamp of the martyrs.
Notes · وضاحت
١ ؎: جرح اور نکب ۃ دونوں ایک معنیٰ میں ہیں اور ایک قول کے مطابق جرح وہ زخم جو کافروں سے پہنچے، اور نکب ۃ وہ ہے جو سواری سے گرنے اور اپنے ہی ہتھیار کے اچٹ کر لگنے کی وجہ سے ہو۔
عتبہ بن عبدسلمی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: گھوڑوں کی پیشانی کے بال نہ کاٹو، اور نہ ایال یعنی گردن کے بال کاٹو، اور نہ دم کے بال کاٹو، اس لیے کہ ان کے دم ان کے لیے مورچھل ہیں، اور ان کے ایال (گردن کے بال) گرمی حاصل کرنے کے لیے ہیں اور ان کی پیشانی میں خیر بندھا ہوا ہے ١ ؎۔
Narrated Utbah ibn AbdusSulami (RA) : Utbah heard the Messenger of Allah ﷺ say: Do not cut the forelocks, manes, or tails of horse, for their tails are their means of driving flies, their manes provide them with warmth, and blessing is tide to their forelocks.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے رہنے میں برکت ہے، بہتری ہے اور زینت بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٧٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٤) (صحیح) (اس کی سند میں نصر کنانی مجہول راوی ہیں، اور رجل مبہم سے مراد عتبة میں عبید سلمی ہی، مسند احمد (٤ ؍ ١٨٤) دوسرے طریق سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے، اسے ابو عوانة نے اپنی صحیح میں تخریج کیا ہے، (٥ ؍ ١٩) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٧ ؍ ٢٩٧۔ ٢٩٨ )
ابو وہب جشمی سے روایت ہے اور انہیں اللہ کے رسول ﷺ کی صحبت حاصل تھی، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے اوپر ہر چتکبرے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا کالے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے کو لازم پکڑو ۔
Narrated Abu Wahb al-Jushami,: The Messenger of Allah ﷺ said: Keep to every dark bay horse with a white blaze and white on the legs, or sorrel with a white blaze and white on the legs, or black with a white blaze and white on the legs.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الخیل ٢ (٣٥٩٥)، و یأتي برقم (٢٥٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٥١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٥) (حسن) ( اس میں عقیل مجہول راوی ہیں صرف ابن حبان نے توثیق کی ہے اور حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، لیکن جابر کی حدیث سے جو مسند احمد (٣ ؍ ٣٥٢) میں ہے یہ حدیث حسن کے درجہ میں ہے) ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود (٧ ؍٣٠٦ )
ابو وہب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے اوپر ہر سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا ہر چتکبرے سفید پیشانی کے گھوڑے لازم پکڑو ١ ؎، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا۔ محمد یعنی ابن مہاجر کہتے ہیں: میں نے عقیل سے پوچھا: سرخ رنگ کے گھوڑے کی فضیلت کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: اس وجہ سے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک سریہ بھیجا تو سب سے پہلے جو شخص فتح کی بشارت لے کر آیا وہ سرخ گھوڑے پر سوار تھا۔
Narrated Abu Wahb (RA) : The Prophet ﷺ said: Keep to every sorrel horse with a white blaze and white on the legs, or dark bay with a white blaze. He then mentioned something similar. Muhammad ibn al-Muhajir said: I asked him: Why was a sorrel horse preferred? He replied: Because the Prophet ﷺ had sent a contingent, and the man who first brought the news of victory was the rider of a sorrel horse.
Notes · وضاحت
١ ؎: أشقر سرخ گھوڑے کو کہتے ہیں، اور اس کی دم بھی سرخ ہوتی ہے، اور كميت کی دم اور بال سیاہ ہوتے ہیں۔