زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں تھا تو آپ کو سکینت نے ڈھانپ لیا (یعنی وحی اترنے لگی) (اسی دوران) رسول اللہ ﷺ کی ران میری ران پر پڑگئی تو کوئی بھی چیز مجھے آپ کی ران سے زیادہ بوجھل محسوس نہیں ہوئی، پھر آپ ﷺ سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: لکھو ، میں نے شانہ (کی ایک ہڈی) پر لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں (سورۃ النساء: ٩٥) آخر آیت تک لکھ لیا، عبداللہ بن ام مکتوم ؓ (ایک نابینا شخص تھے) نے جب مجاہدین کی فضیلت سنی تو کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا حال ہے؟ جب انہوں نے اپنی بات پوری کرلی تو رسول اللہ ﷺ کو پھر سکینت نے ڈھانپ لیا (وحی اترنے لگی) ، آپ ﷺ کی ران میری ران پر پڑی تو میں نے اس کا بھاری پن پھر دوسری بار محسوس کیا جس طرح پہلی بار محسوس کیا تھا، آپ ﷺ سے وحی کی جب کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: زید! پڑھو ، تو میں نے لا يستوي القاعدون من المؤمنين پوری آیت پڑھی، تو رسول اللہ ﷺ نے: غير أولي الضرر کا اضافہ فرمایا، زید کہتے ہیں: تو غير أولي الضرر کو اللہ نے الگ سے نازل کیا، میں نے اس کو اس کے ساتھ شامل کردیا، اللہ کی قسم! گویا میں شانہ کے دراز کو دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے اسے شامل کیا تھا۔
Zaid bin Thabit said “I was beside the Messenger of Allah ﷺ when the divinely-inspired calmness overtook him and the thigh of the Messenger of Allah ﷺ fell on my thigh. I did not find any weightier than the thigh of the Messenger of Allah ﷺ . He then regained his composure and said “Write down. I wrote on a shoulder. Not equal are thise believers who sit (at home), other than those who have a (disabling) hurt, and those who strive in the way of Allaah. When Ibn Umm Makhtum who was blind heard the excellence of the warriors. He stood up and said “Messenger of Allah ﷺ how is it for those believers who are unable to fight (in the path of Allaah)? When he finished his question his divinely-inspired calmness overtook him, and his thigh fell on my thigh and I found its weight the second time as I found the first time. ” When the Messenger of Allah ﷺ regained his composure, he said “Messenger of Allah ﷺ said “Other than those who have a (disabling hurt). Zaid said “Allaah, the exalted, revealed it alone and I appended it. ” By Him in Whose hands is my life, I am seeing, as it were the place where I put it (i. e., the verse) at the crack in the shoulder. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٧٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٤، ١٩٠، ١٩١) (حسن صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم مدینہ میں کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر آئے کہ تم کوئی قدم نہیں چلے یا کچھ خرچ نہیں کیا یا کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ تمہارے ساتھ رہے ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ ہمارے ہمراہ کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں عذر نے روک رکھا ہے ۔
Anas bin Malik (RA) reported on the authority of his father, The Messenger of Allah ﷺ said “ You left behind some people in Madeenah who did not fail to be with you wherever you went and whatever you spent (of your goods) and whatever valley you crossed. They asked Messenger of Allah ﷺ how can they be with us when they are still in Madeenah? He replied “They were declined by a valid excuse. ”
زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم کیا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھی طرح خبرگیری کی اس نے جہاد کیا ۔
Zaid bin Khalid al Juhani reported that Messenger of Allah ﷺ as saying “He who equips a fighter in Allaah’s path has taken part in the fighting. And he looks after a fighter’s family when he is away has taken part in the fighting. ”
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو ، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا: تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا ۔
Abu Saeed Al Khudri said “The Messenger of Allah ﷺ sent an expedition towards Banu Lihyan and said “One of the two persons should go forth. He then said to those who sat (at home), If any one of you looks after the family and property of a warrior, he will receive half the reward of the one who goes forth (in jihad). ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٨ (١٨٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٤١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥، ٤٩، ٥٥) (صحیح )
اسلم ابوعمران کہتے ہیں کہ ہم مدینہ سے جہاد کے لیے چلے، ہم قسطنطنیہ کا ارادہ کر رہے تھے، اور جماعت (اسلامی لشکر) کے سردار عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید تھے، اور رومی شہر (قسطنطنیہ) کی دیواروں سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے تھے ١ ؎، تو ہم میں سے ایک دشمن پر چڑھ دوڑا تو لوگوں نے کہا: رکو، رکو، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، یہ تو اپنی جان ہلاکت میں ڈال رہا ہے، ابوایوب ؓ نے کہا: یہ آیت تو ہم انصار کی جماعت کے بارے میں اتری، جب اللہ نے اپنے نبی کی مدد کی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا تو ہم نے اپنے دلوں میں کہا (اب جہاد کی کیا ضرورت ہے) آؤ اپنے مالوں میں رہیں اور اس کی دیکھ بھال کریں، تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو (سورۃ البقرہ: ١٩٥) اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں میں مصروف رہیں، ان کی فکر کریں اور جہاد چھوڑ دیں۔ ابوعمران کہتے ہیں: ابوایوب انصاری ؓ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ قسطنطنیہ میں دفن ہوئے۔
Narrated Abu Ayyub (RA) : Abu Imran said: We went out on an expedition from Madina with the intention of (attacking) Constantinople. Abdur Rahman ibn Khalid ibn al-Walid was the leader of the company. The Romans were just keeping their backs to the walls of the city. A man (suddenly) attacked the enemy. Thereupon the people said: Stop! Stop! There is no god but Allah. He is putting himself into danger. Abu Ayyub said: This verse was revealed about us, the group of the Ansar (the Helpers). When Allah helped His Prophet ﷺ and gave Islam dominance, we said (i. e. thought): Come on! Let us stay in our property and improve it. Thereupon Allah, the Exalted, revealed, And spend of your substance in the cause of Allah, and make not your hands contribute to (your destruction). To put oneself into danger means that we stay in our property and commit ourselves to its improvement, and abandon fighting (i. e. jihad). Abu Imran said: Abu Ayyub continued to strive in the cause of Allah until he (died and) was buried in Constantinople.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ جنگ کے لئے پوری طرح سے تیار تھے اور مسلمانوں کے نکلنے کے انتظار میں تھے۔
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ ایک تیر سے تین افراد کو جنت میں داخل کرتا ہے: ایک اس کے بنانے والے کو جو ثواب کے ارادہ سے بنائے، دوسرے اس کے چلانے والے کو، اور تیسرے اٹھا کردینے والے کو، تم تیر اندازی کرو اور سواری کرو، اور تمہارا تیر اندازی کرنا، مجھے سواری کرنے سے زیادہ پسند ہے، لہو و لعب میں سے صرف تین طرح کا لہو و لعب جائز ہے: ایک آدمی کا اپنے گھوڑے کو ادب سکھانا، دوسرے اپنی بیوی کے ساتھ کھیل کود کرنا، تیسرے اپنے تیر کمان سے تیر اندازی کرنا اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دیا، تو یہ ایک نعمت ہے جسے اس نے چھوڑ دیا ، یا راوی نے کہا: جس کی اس نے ناشکری کی ١ ؎۔
Narrated Uqbah ibn Amir: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah, Most High, will cause three persons to enter Paradise for one arrow: the maker when he has a good motive in making it, the one who shoots it, and the one who hands it; so shoot and ride, but your shooting is dearer to me than your riding. Everything with which a man amuses himself is vain except three (things): a mans training of his horse, his playing with his wife, and his shooting with his bow and arrow. If anyone abandons archery after becoming an adept through distaste for it, it is a blessing he has abandoned; or he said: for which he has been ungrateful.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت سنداً تو ضعیف ہے مگر عقبہ ہی سے صحیح مسلم (امارۃ: ٥٢) میں ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ” جس نے تیر اندازی جاننے کے بعد اسے چھوڑ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے “، یا فرمایا: ” اس نے نافرمانی کی “، نیز اس حدیث سے تیراندازی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس طرح زمانے کے جتنے سامان جنگ ہیں ان کا سیکھنا اور حاصل کرنا اور اس کے لئے سفر کرنا جہاد میں داخل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجھاد ٢٦ (٣١٤٨)، والخیل ٨ (٣٦٠٨)، (تحفة الأشراف: ٩٩٢٢) (ضعیف) (اس کے راوی خالد لین الحدیث ہیں) (حدیث کے بعض الفاظ ثابت ہیں یعنی یہ ٹکڑا: لَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلا ثَلاثٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلاعَبَتُهُ أَهْلَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ اس لیے کہ اس کی روایت میں عبداللہ بن الأزرق نے خالد کی متابعت کی ہے، ملاحظہ ہو: سنن الترمذی/فضائل الجھاد ١١ (١٦٣٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٩ (٢٨١١)، مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٦، ١٤٨، ١٥٤)، سنن الدارمی/الجھاد ١٤ (٢٤٤٩) (نیز اس ٹکڑے کے مزید شواہد کے لیے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی: ٣١٥ )
عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: آپ آیت کریمہ وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة تم ان کے مقابلہ کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو (سورۃ الأنفال: ٦٠) پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے: سن لو، قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے ۔
Uqabah bin Amir Al Juhani said “I heard the Messenger of Allah ﷺ recite when he was on the pulpit “Against them make ready your strength to the utmost of your power. Beware, strength is shooting, beware strength is shooting, beware strength is shooting. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٥٢ (١٩١٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٩ (٢٨١٣)، (تحفة الأشراف: ٩٩١١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٩ (٣٠٨٣)، مسند احمد (٤/١٥٧)، سنن الدارمی/الجھاد ١٤ (٢٤٤٨) (صحیح )
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد دو طرح کے ہیں: رہا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا مندی چاہی، امام کی اطاعت کی، اچھے سے اچھا مال خرچ کیا، ساتھی کے ساتھ نرمی اور محبت کی، اور جھگڑے فساد سے دور رہا تو اس کا سونا اور اس کا جاگنا سب باعث اجر ہے، اور جس نے اپنی بڑائی کے اظہار، دکھاوے اور شہرت طلبی کے لیے جہاد کیا، امام کی نافرمانی کی، اور زمین میں فساد مچایا تو (اسے ثواب کیا ملنا) وہ تو برابر برابر بھی نہیں لوٹا ١ ؎۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Prophet ﷺ said: Fighting is of two kinds: The one who seeks Allahs favour, obeys the leader, gives the property he values, treats his associates gently and avoids doing mischief, will have the reward for all the time whether he is asleep or awake; but the one who fights in a boasting spirit, for the sake of display and to gain a reputation, who disobeys the leader and does mischief in the earth will not return credit or without blame.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسے جہاد میں اگر گناہ سے بچ جائے تو یہی غنیمت ہے، ثواب کا کیا ذکر۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجھاد ٤٦ (٣١٠)، والبیعة ٢٩ (٤٢٠٠)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد ١٨ (٤٣) موقوفاً، مسند احمد (٥/٢٣٤)، سنن الدارمی/ الجھاد ٢٥ (٢٤٦١) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و منال چاہتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ، لوگوں نے اسے بڑی بات سمجھی اور اس شخص سے کہا: رسول اللہ ﷺ سے پھر پوچھو، شاید تم انہیں نہ سمجھا سکے ہو، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و اسباب چاہتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ، لوگوں نے اس شخص سے کہا: رسول اللہ ﷺ سے پھر پوچھو، اس نے آپ سے تیسری بار پوچھا، تو آپ ﷺ نے پھر اس سے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man said: Messenger of Allah, a man wishes to take part in jihad in Allahs path desiring some worldly advantage? The Prophet ﷺ said: He will have not reward. The people thought it terrible, and they said to the man: Go back to the Messenger of Allah ﷺ , for you might not have made him understand well. He, therefore, (went and again) asked: Messenger of Allah, a man wishes to take part in jihad in Allahs path desiring some worldly advantage? He replied: There is no reward for him. They again said to the man: Return to the Messenger of Allah. He, therefore, said to him third time. He replied: There is no reward for him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩٠، ٣٦٦) (حسن )
ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: کوئی شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے کوئی جہاد کرتا ہے تاکہ اس کی تعریف کی جائے، کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ مال غنیمت پائے اور کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ اس مرتبہ کا اظہار ہو سکے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے صرف اس لیے جہاد کیا تاکہ اللہ کا کلمہ سربلند رہے تو وہی اصل مجاہد ہے ۔
Abu Musa said “A beduoin came to the Messenger of Allah ﷺ and said “One man fights for reputation, one fights for being praised, one fights for booty and one for his place to be seen. (Which of them is in Allaah’s path?)”. The Messenger of Allah ﷺ replied “The one who fights that Allaah’s word may have pre-eminence is in Allaah’s path. ”
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں صابر اور محتسب (ثواب کی نیت رکھنے والا) بنا کر اٹھائے گا، اور اگر تم ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لیے جہاد کرو گے تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! تم جس حال میں بھی لڑو یا شہید ہو اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: Messenger of Allah, tell me about jihad and fighting. He replied: Abdullah ibn Amr, if you fight with endurance seeking from Allah your reward, Allah will resurrect you showing endurance and seeking your reward from Him, but, if you fight for vain show seeking to acquire much, Allah will resurrect you making a vain show and seeking to acquire much. In whatever you fight or are killed, Abdullah ibn Amr, in that state Allah will resurrect you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦١٩) (ضعیف) (اس کے راوة العلا اور حنان دونوں لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کئے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پیٹ میں رکھ دیا، جو جنت کی نہروں پر پھرتی ہیں، اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، جب ان روحوں نے اپنے کھانے، پینے اور سونے کی خوشی حاصل کرلی، تو وہ کہنے لگیں: کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہمارے بارے میں یہ خبر پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بےرغبتی نہ کریں اور لڑائی کے وقت سستی نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تمہاری جانب سے انہیں یہ خبر پہنچائوں گا ، راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا جو اللہ کے راستے میں شہید کر دئیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو (سورۃ آل عمران: ١٦٩) اخیر آیت تک نازل فرمائی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: When your brethren were smitten at the battle of Uhud, Allah put their spirits in the crops of green birds which go down to the rivers of Paradise, eat its fruit and nestle in lamps of gold in the shade of the Throne. Then when they experienced the sweetness of their food, drink and rest, they asked: Who will tell our brethren about us that we are alive in Paradise provided with provision, in order that they might not be disinterested in jihad and recoil in war? Allah Most High said: I shall tell them about you; so Allah sent down; And do not consider those who have been killed in Allahs path. till the end of the verse.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٦١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٦) (حسن )
حسناء بنت معاویہ کے چچا ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: جنت میں کون ہوگا؟ آپ نے فرمایا: نبی جنت میں ہوں گے، شہید جنت میں ہوں گے، (نابالغ) بچے اور زندہ درگور کئے گئے بچے جنت میں ہوں گے ۔
Narrated Hasana daughter of Muawiyah (RA) : She reported on the authority of her paternal uncle: I asked the Prophet ﷺ : Who are in Paradise? He replied: Prophets are in Paradise, martyrs are in Paradise, infants are in Paradise and children buried alive are in Paradise.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥٨، ٤٠٩) (صحیح )
نمران بن عتبہ ذماری کہتے ہیں: ہم ام الدرداء ؓ کے پاس گئے اور ہم یتیم تھے، انہوں نے کہا: خوش ہوجاؤ کیونکہ میں نے ابو الدرداء ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہید کی شفاعت اس کے کنبے کے ستر افراد کے لیے قبول کی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: (ولید بن رباح کے بجائے) صحیح رباح بن ولید ہے۔
Narrated Abud Darda: The Prophet ﷺ said: The intercession of a martyr will be accepted for seventy members of his family. Abu Dawud said: The correct name if the narrator is Rabah bin al-Walid (and not al-walid bin Rabah as occurred in the chain of narrators in the text of the tradition)
عبید بن خالد سلمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ کرایا، ان میں سے ایک شہید کردیا گیا اور دوسرے کا اس کے ایک ہفتہ کے بعد، یا اس کے لگ بھگ انتقال ہوا، ہم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ ہم نے جواب دیا: ہم نے اس کے حق میں دعا کی کہ: اللہ اسے بخش دے اور اس کو اس کے ساتھی سے ملا دے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کی نمازیں کہاں گئیں، جو اس نے اپنے ساتھی کے (قتل ہونے کے) بعد پڑھیں، اس کے روزے کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد رکھے، اس کے اعمال کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد کئے؟ ان دونوں کے درجوں میں ایسے ہی فرق ہے جیسے آسمان و زمین میں فرق ہے ١ ؎ شعبہ کو صومه بعد صومه اور عمله بعد عمله میں شک ہوا ہے۔
Narrated Ubaydullah ibn Khalid as-Sulami (RA) : The Messenger of Allah ﷺ made a brotherhood between two men, one of whom was killed (in Allahs path), and a week or thereabouts later the other died, and we prayed at his funeral). The Messenger of Allah ﷺ asked: What did you say? We replied: We prayed for him and said: O Allah, forgive him, and join him to his companion. The Messenger of Allah ﷺ said: What about his prayers since the time the other died, and his fasting since the time the other died--the narrator Shubah doubted the words, his fasting--and his deeds since the time the other died. The distance between them is just like the distance between heaven and earth.
Notes · وضاحت
١ ؎: ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو یہ بات معلوم ہوگئی ہو کہ بغیر شہادت کے ہی اس کا عمل اس کے اخلاص اور خشوع و خضوع کی زیادتی کے سبب شہید کے عمل کے برابر ہے، پھر اسے جو مزید عمل کا موقع ملا تو اس کی وجہ سے اس کا ثواب اس شہید کے ثواب سے فزوں ہوگیا کتنے شہداء ایسے ہیں جو صدیقین کے مقام و مرتبہ کو نہیں پاتے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٧٧ (١٩٨٧)، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٠٠، ٤/٢١٩) (صحیح )
ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب تم پر شہر کے شہر فتح کئے جائیں گے اور عنقریب ایک بھاری لشکر ہوگا اور اسی میں سے تم پر ٹکڑیاں متعین کی جائیں گی، تو تم میں سے جو شخص اس میں بغیر اجرت کے بھیجے جانے کو ناپسند کرے اور (جہاد میں جانے سے بچنے کے لیے) اپنی قوم سے علیحدہ ہوجائے، پھر قبیلوں کو تلاش کرتا پھرے اور اپنے آپ کو ان پر پیش کرے اور کہے کہ: کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ خبردار وہ اپنے خون کے آخری قطرہ تک مزدور ہی رہے گا ۔
Narrated Abu Ayyub al-Ansari (RA) : Abu Ayyub heard the Messenger of Allah ﷺ say: Capitals will be conquered at your hands, and you will have to raise companies in large armies. A man will be unwilling to join a company, so he will escape from his people and go round the tribes offering himself to them, saying: Whose place may I take in such and such expedition? Whose place may I take in such and such expedition? Beware: That man is a hireling to the last drop of his blood.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٤٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١٣) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اخی ایوب أبوسورہ الضلالی ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد کرنے والے کو اس کے جہاد کا اجر ملے گا اور مجاہد کو تیار کرنے والے کو تیار کرنے اور غزوہ کرنے دونوں کا اجر ملے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: The warrior gets his reward, and the one who equips him gets his own reward and that of the warrior.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٨٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٤) (صحیح )