Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 125 of 265

2487Sunan Abu Dawood

جہاد سے فارغ ہو کر لوٹنا اور اس کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ عَنِ ابْنِ شُفَيٍّ، عَنْ شُفَيِّ بْنِ مَاتِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہاد سے لوٹنا (ثواب میں) جہاد ہی کی طرح ہے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Returning home is like going on an expedition.

Notes · وضاحت
١ ؎: جہاد سے لوٹنا ثواب میں جہاد ہی کی طرح اس لئے ہے کہ مجاہد جس وقت جہاد کے لئے نکلا تھا اس وقت اس کے لئے جو تیاری کی اس تیاری سے اسے اور اس کے اہل و عیال کو جو پریشانی لاحق ہوئی اب مجاہد کے لوٹنے سے وہ پریشانی ختم ہوجائے گی اور اپنے اہل و عیال میں واپس آجانے سے اسے جو طاقت و قوت حاصل ہوگی اس سے وہ اس لائق ہوجائے گا کہ دوبارہ جہاد کے لئے نکل سکے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٨٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٤) (صحیح )
2488Sunan Abu Dawood

رومیوں سے جنگ بہ نسبت دوسری قوموں کے افضل ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ الْخَبِيرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ خَلَّادٍ وَهِيَ مُنْتَقِبَةٌ تَسْأَلُ عَنِ ابْنِهَا وَهُوَ مَقْتُولٌ، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جِئْتِ تَسْأَلِينَ عَنِ ابْنِكِ وَأَنْتِ مُنْتَقِبَةٌ، فَقَالَتْ: إِنْ أُرْزَأَ ابْنِي فَلَنْ أُرْزَأَ حَيَائِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنُكِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِقَالَتْ: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ قَتَلَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ.

قیس بن شماس کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک عورت آئی جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا وہ نقاب پوش تھی، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی، ایک صحابی نے اس سے کہا: تو اپنے بیٹے کو پوچھنے چلی ہے اور نقاب پہنے ہوئی ہے؟ اس نے کہا: اگر میں اپنے لڑکے کی جانب سے مصیبت زدہ ہوں تو میری حیاء کو مصیبت نہیں لاحق ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تیرے بیٹے کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے ، وہ کہنے لگی: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اس وجہ سے کہ اس کو اہل کتاب نے مارا ہے ۔

Narrated Thabit ibn Qays: A woman called Umm Khallad came to the Prophet ﷺ while she was veiled. She was searching for her son who had been killed (in the battle) Some of the Companions of the Prophet ﷺ said to her: You have come here asking for your son while veiling your face? She said: If I am afflicted with the loss of my son, I shall not suffer the loss of my modesty. The Messenger of Allah ﷺ said: You will get the reward of two martyrs for your son. She asked: Why is that so, Messenger of Allah? He replied: Because the people of the Book have killed him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٨) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الخبیر مجہول ہیں )
2489Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ بِشْرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرْكَبُ الْبَحْرَ إِلَّا حَاجٌّ أَوْ مُعْتَمِرٌ أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا.

عبداللہ بن عمر و ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سمندر کا سفر نہ کرے مگر حج کرنے والا، یا عمرہ کرنے والا، یا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور اس آگ کے نیچے سمندر ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: No one should sail on the sea except the one who is going to perform hajj or Umrah, or the one who is fighting in Allahs path for under the sea there is a fire, and under the fire there is a sea.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٠٩) (ضعیف) (اس کے راوی بشر اور بشیر دونوں مجہول ہیں )
2490Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ أُخْتُ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عِنْدَهُمْ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ ؟ قَالَ: رَأَيْتُ قَوْمًا مِمَّنْ يَرْكَبُ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ: فَإِنَّكِ مِنْهُمْ، قَالَتْ: ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَقَالَ: فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَغَزَا فِي الْبَحْرِ فَحَمَلَهَا مَعَهُ فَلَمَّا رَجَعَ قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ لِتَرْكَبَهَا فَصَرَعَتْهَا فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا فَمَاتَتْ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ام سلیم ؓ کی بہن ام حرام بنت ملحان ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے یہاں قیلولہ کیا، پھر بیدار ہوئے، آپ ﷺ ہنس رہے تھے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ فرمایا: میں نے اپنی امت میں سے چند لوگوں کو دیکھا جو اس سمندر کی پشت پر سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا کیجئے، اللہ مجھ کو ان لوگوں میں سے کر دے، فرمایا: تو انہیں میں سے ہے ۔ پھر آپ ﷺ سو گئے اور ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کے ہنسنے کا سبب کیا ہے؟ آپ ﷺ نے وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا کیجئے، اللہ مجھ کو ان لوگوں میں سے کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پہلے لوگوں میں سے ہے ۔ انس ؓ کہتے ہیں: تو ان سے عبادہ بن صامت ؓ نے شادی کی، پھر انہوں نے سمندر میں جہاد کیا توا نہیں بھی اپنے ساتھ لے گئے، جب لوٹے تو ایک خچر ان کی سواری کے لیے ان کے قریب لایا گیا، تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ انتقال کر گئیں۔

Anas bin Malik (RA) (may Allaah be pleased with him) said “Umm Haram, daughter of Milhan, sister of Umm Sulaim, narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ took a mid day nap with them. He then awoke laughing. She said “I asked the Messenger of Allah ﷺ , what made you laugh?” He replied “I saw some people who ere sailing in the midst of the sea like kings on thrones. She said “I said the Messenger of Allah ﷺ beseech Allaah that He may put me among them. He replied “You will be among them. ” She said “He then slept and awoke laughing. She said “I asked the Messenger of Allah ﷺ , what made you laugh? He replied as he said in the first reply. She said “I said the Messenger of Allah ﷺ beseech Allaah that HE may put me amongst them. He replied “You will be among the first. Then Ubadah bin Al Samit married her and sailed on the sea on an expedition and took her with him. When he returned, a riding beast was brought near her to ride, but it threw her down. Her neck was broken and she died.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٣ (٢٧٨٨)، ٨ (٢٧٩٩)، ٦٣ (٢٨٧٧)، ٧٥ (٢٨٩٤)، ٩٣ (٢٩٢٤)، الاستئذان ٤١ (٦٢٨٢)، والتعبیر ١٢ (٧٠٠١)، صحیح مسلم/الجہاد ٤٩ (١٩١٢)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد ١٥ (١٦٤٥)، سنن النسائی/الجھاد ٤٠ (٣١٧٤)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٠ (٢٧٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد ١٨(٣٩)، مسند احمد (٣/٢٦٤، ٦/٣٦١، ٤٢٣، ٤٣٥)، دی/ الجہاد ٢٩ (٢٤٦٥) (صحیح )
2491Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ وَجَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمَاتَتْ بِنْتُ مِلْحَانَ بِقُبْرُصَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان ؓ کے پاس جاتے، یہ عبادہ بن صامت ؓ کی زوجیت میں تھیں، ایک روز آپ ﷺ ان کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ ﷺ کے سر کی جوئیں نکالنے لگیں ١ ؎، اور آگے راوی نے یہی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بنت ملحان کا انتقال قبرص میں ہوا۔

Anas bin Malik (RA) said “Whenever the Messenger of Allah ﷺ went to Quba, he used to visit Umm Haram daughter of Milhan who was married to Ubadah bin Al Samit. One day when he visited her she gave him food an sat clearing his head of lice. The narrator narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said “Daughter of Milhan died in Cyprus”.

Notes · وضاحت
١ ؎: ام حرام بنت ملحان ؓ یا تو آپ ﷺ کی رضاعی خالہ تھیں یا آپ کے والد یا دادا کی خالہ تھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٣ (٢٧٨٨)، الاستئذان ٤١ (٦٢٨٢)، التعبیر ١٢ (٧٠٠١)، صحیح مسلم/الجہاد ٤٩ (١٩١٢)، سنن الترمذی/الجھاد ١٥ (١٦٤٥)، سنن النسائی/الجھاد ٤٠ (٣١٧٣)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٨ (٣٩)، ( تحفة الأشراف: ١٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٤٠) (صحیح )
2492Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُخْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ الرُّمَيْصَاءِ، قَالَتْ: نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ وَكَانَتْ تَغْسِلُ رَأْسَهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَضْحَكُ مِنْ رَأْسِي ؟ قَالَ: لَا، وَسَاقَ هَذَا الْخَبَرَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الرُّمَيْصَاءُ أُخْتُ أُمِّ سُلَيْمٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ.

ام حرام رمیصاء ١ ؎ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سوئے پھر بیدار ہوئے، اور وہ اپنا سر دھو رہی تھیں تو آپ ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ میرے بال دیکھ کر ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی بیشی کے ساتھ بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رمیصاء ام سلیم کی رضاعی بہن تھیں ٢ ؎۔

Umm Sulaim Al Rumaisa said “The Prophet ﷺ slept and awoke while she was washing her head. ” He awoke laughing. She asked “Messenger of Allah ﷺ are you laughing at my head?” He replied, No. She then narrated the rest of the tradition enlarging and reducing. Abu Dawud said: Al-Rumaisa was the foster sister of Umm Sulaim.

Notes · وضاحت
١ ؎: ام سلیم ؓ ام حرام بنت ملحان ؓ کی بہن ہیں، سند میں اخت ام سلیم سے مراد ام حرام بنت ملحان ؓ ہی ہیں، ام حرام ؓ کو رمیصاء کہا جاتا تھا، اور امّ سلیم ؓ کو غمیصاء۔ ٢ ؎: ابوداود کا یہ قول صحیح نہیں ہے، وہ رضاعی نہیں بلکہ نسبی اور حقیقی بہن تھیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٤٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٧) (صحیح )
2493Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْجَوْبَرِيُّ الدِّمَشْقِيُّ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ،أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ الَّذِي يُصِيبُهُ الْقَيْءُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ وَالْغَرِقُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ.

ام حرام ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (جہاد یا حج کے لیے) سمندر میں سوار ہونے سے جس کا سر گھومے اور اسے قے آئے تو اس کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے، اور جو ڈوب جائے تو اس کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے ۔

Umm Haram reported the Prophet ﷺ as saying “He who becomes sick on a stormy sea and vomits will have the reward of a martyr. And he who is drowned will have a reward of two martyrs.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٩) (حسن )
2494Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سَمَاعَةَ، حَدَّثَنَاالْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلٌ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ، فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَرَجُلٌ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ، فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَرَجُلٌ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلَامٍ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے افراد ایسے ہیں جن کا ضامن اللہ تعالیٰ ہے: ایک وہ جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا، دوسرا وہ شخص جو مسجد کی طرف چلا، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا، تیسرا وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام کر کے داخل ہوا، اللہ اس کا بھی ضامن ہے ۔

Abu Umamat Al Bahili reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “There are three persons who are in the security of Allaah, the Exalted. ” “A man who goes out on an expedition to fight in the path of Allaah, the Exalted, is in the security of Allaah, until He takes him unto Him (i. e., he dies) and brings him into Paradise or brings him (alive) with reward and booty he obtains and a man who goes to the mosque is in the security of Allaah, until he takes him unto Him (i. e., he dies), and he brings him into Paradise or brings him with reward and spoils he obtains; and a man who enters his house after giving salutation is in the security of Allaah, the Exalted. ”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٨٧٥) (صحیح )
2495Sunan Abu Dawood

جنگ میں کافر کو قتل کرنے کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ أَبَدًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کافر اور اس کو قتل کرنے والا مسلمان دونوں جہنم میں کبھی بھی اکٹھا نہ ہوں گے ١ ؎۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “An infidel and the one who killed him will never be brought together in Hell. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا یہ قتل کرنا اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور وہ سزا سے بچ جائے گا اور اگر اسے سزا ہوئی بھی تو وہ جہنم کے علاوہ کوئی اور سزا ہوگی مثلاً وہ اعراف میں قید کردیا جائے گا اور جنت میں دخول اولی سے محروم کردیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٦ (١٨٩١)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٣، ٣٦٨، ٣٧٨) (صحیح )
2496Sunan Abu Dawood

جہاد کرنے والوں کی عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے؟

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَعْنَبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ إِلَّا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقِيلَ لَهُ: هَذَا قَدْ خَلَفَكَ فِي أَهْلِكَ، فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا ظَنُّكُمْ ؟، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ قَعْنَبٌ رَجُلًا صَالِحًا وَكَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى أَرَادَ قَعْنَبًا عَلَى الْقَضَاءِ فَأَبَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَنَا أُرِيدُ الْحَاجَةَ بِدِرْهَمٍ فَأَسْتَعِينُ عَلَيْهَا بِرَجُلٍ قَالَ: وَأَيُّنَا لَا يَسْتَعِينُ فِي حَاجَتِهِ قَالَ: أَخْرِجُونِي حَتَّى أَنْظُرَ فَأُخْرِجَ، فَتَوَارَى قَالَ سُفْيَانُ: بَيْنَمَا هُوَ مُتَوَارٍ إِذْ وَقَعَ عَلَيْهِ الْبَيْتُ فَمَاتَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی بیویوں کی حرمت جہاد سے بیٹھے رہنے والے لوگوں پر ایسی ہے جیسے ان کی ماؤں کی حرمت ہے، اور جو خانہ نشین مرد مجاہدین کے گھربار کی خدمت میں رہے، پھر ان کے اہل میں خیانت کرے تو قیامت کے دن ایسا شخص کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا: اس شخص نے تیرے اہل و عیال میں تیری خیانت کی اب تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے ، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: پھر تم کیا سمجھتے ہو ١ ؎؟ ابوداؤد کہتے ہیں: قعنب ایک نیک آدمی تھے، ابن ابی لیلیٰ نے قعنب کو قاضی بنانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس سے انکار کیا، اور کہا کہ میں ایک درہم میں اپنی ضرورت پوری کرنا چاہتا ہوں کہ میں اس میں کسی آدمی کی مدد لے سکوں، پھر کہا: کون ہے جو اپنی ضرورت کے لیے کسی سے مدد نہیں لیتا، پھر عرض کیا: تم لوگ مجھے نکال دو یہاں تک کہ میں دیکھوں (کہ کیسے میری ضرورت پوری ہوتی ہے) تو انہیں نکال دیا گیا، پھر وہ (ایک مکان میں) چھپ گئے، سفیان کہتے ہیں: اسی دوران کہ وہ چھپے ہوئے تھے وہ مکان ان پر گرپڑا اور وہ مرگئے۔

Buraidah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Respect to be shown by those who stay at home to the women of those who are engaged in jihad is t be like that shown to their mothers. If any man among those who stay at home is entrusted with the oversight of one’s family who is engaged in jihad and betrays him, he will be setup for him on the Day of Resurrection and he (the mujahid) will be told “This (man) was entrusted with the oversight of your family, so take what you want from his good deeds. The Messenger of Allah ﷺ turned towards us and said “So what do you think. ” Abu Dawud said “Qa’nab (a narrator of this tradition) was a pious man. Ibn Abi Laila intended to appoint him a judge, but he refused and said “If I intend to fulfill my need of a dirham, I seek the help of a person for it. He said “Which of us does not seek the help in his need? He said “Bring me out so that I may see. So he was brought out, and he concealed himself. Sufyan said “While he was concealing himself. ” Sufyan said “While he was concealing himself the house suddenly fell on him and he died. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نیکیاں لینے والے کی رغبت اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹ لینے کی اس کی چاہت کا تم کیا اندازہ کرسکتے ہو؟ مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے پاس کوئی نیکی باقی ہی نہیں رہ جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٩ (١٨٩٧)، سنن النسائی/الجھاد ٤٧ (٣١٩١)، (تحفة الأشراف: ١٩٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٢، ٣٥٥) (صحیح )
2497Sunan Abu Dawood

غنیمت حاصل کئے بغیر مجاہدین کی واپسی

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحُبُلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی کوئی جماعت ایسی نہیں جو اللہ کی راہ میں لڑتی ہو پھر مال غنیمت حاصل کرتی ہو، مگر آخرت کا دو تہائی ثواب اسے پہلے ہی دنیا میں حاصل ہوجاتا ہے، اور ایک تہائی (آخرت کے لیے) باقی رہتا ہے، اور اگر اسے مال غنیمت نہیں ملا تو آخرت میں ان کے لیے مکمل ثواب ہوگا ۔

Abdullah bin Amr reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “No warlike party will go out to fight in Allaah’s path and gain booty without getting beforehand two-thirds of their rewards in the next world and one-third (of their reward) will remain. And if they do not gain booty, they will get their rewards in full.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٤ (١٩٠٦)، سنن النسائی/الجھاد ١٥ (٣١٢٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٣ (٢٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ٨٨٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٩) (صحیح )
2498Sunan Abu Dawood

جہاد میں نماز روزے اور ذکر الہی کا ثواب سات سو گنا ہوجاتا ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالذِّكْرَ تُضَاعَفُ عَلَى النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ.

معاذ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دوران جہاد) نماز، روزہ اور ذکر الٰہی (کا ثواب) جہاد میں خرچ کے ثواب پر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے ۔

Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: (The reward of) prayer, fasting and remembrance of Allah is enhanced seven hundred times over (the reward of) spending in Allahs path.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٨، ٤٤٠) (ضعیف) (اس کے راوی زبان ضعیف ہیں )
2499Sunan Abu Dawood

جو شخص جہاد کو نکلے اور مرجائے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ يَرُدُّ إِلَى مَكْحُولٍ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ فَصَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَاتَ أَوْ قُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ أَوْ وَقَصَهُ فَرَسُهُ أَوْ بَعِيرُهُ أَوْ لَدَغَتْهُ هَامَّةٌ أَوْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَوْ بِأَيِّ حَتْفٍ شَاءَ اللَّهُ فَإِنَّهُ شَهِيدٌ وَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ.

ابو مالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا پھر وہ مرگیا، یا مار ڈالا گیا تو وہ شہید ہے، یا اس کے گھوڑے یا اونٹ نے اسے روند دیا، یا کسی سانپ اور بچھو نے ڈنک مار دیا، یا اپنے بستر پہ، یا موت کے کسی بھی سبب سے جسے اللہ نے چاہا مرگیا، تو وہ شہید ہے، اور اس کے لیے جنت ہے ۔

Narrated Abu Malik al-Ashari (RA) : Abu Malik heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who goes forth in Allahs path and dies or is killed is a martyr, or has his neck broken through being thrown by his horse or by his camel, or is stung by a poisonous creature, or dies on his bed by any kind of death Allah wishes is a martyr and will go to Paradise.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١٦٥) (ضعیف) (اس کے رواة بقیہ اور ابن ثوبان دونوں ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الضعيفة 5361، وأحكام الجنائز 51، وتراجع الألباني 182 )
2500Sunan Abu Dawood

دشمن کے مقابلہ میں مورچہ بندی کا ثواب

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ الْمَيِّتِ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فَإِنَّهُ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ.

فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کردیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کردیا جائے گا ۔

Narrated Fadalah ibn Ubayd: The Prophet ﷺ said: Everyone who dies will have fully complete his action, except one who is on the frontier (in Allahs path), for his deeds will be made to go on increasing till the Day of Resurrection, and he will be safe from the trial in the grave.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجھاد ٢ (١٦٢١)، (تحفة الأشراف: ١١٠٣٢)، وقد أخرجہ: (حم ٦/٢٠، ٢٢) (صحیح )
2501Sunan Abu Dawood

راہ اللہ میں (جہاد میں) پہرہ دینے کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ أَبُو كَبْشَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَتْ عَشِيَّةً، فَحَضَرْتُ الصَّلَاةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَارِسٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي انْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ حَتَّى طَلَعْتُ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ آبَائِهِمْ بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَشَائِهِمُ اجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: تِلْكَ غَنِيمَةُ الْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ، قَالَ: أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: فَارْكَبْ، فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبَ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ وَلَا نُغَرَّنَّ مِنْ قِبَلِكَ اللَّيْلَةَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ أَحْسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ ؟، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحْسَسْنَاهُ فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَكُمْ فَارِسُكُمْ، فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى هَذَا الشِّعْبِ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اطَّلَعْتُ الشِّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ ؟، قَالَ: لَا، إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيًا حَاجَةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَوْجَبْتَ فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَعْمَلَ بَعْدَهَا.

سہل بن حنظلیہ ؓ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کے دن چلے اور بہت ہی تیزی کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ شام ہوگئی، میں نماز میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اتنے میں ایک سوار نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں آپ لوگوں کے آگے گیا، یہاں تک کہ فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ سب کے سب اپنی عورتوں، چوپایوں اور بکریوں کے ساتھ بھاری تعداد میں مقام حنین میں جمع ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ان شاء اللہ یہ سب کل ہم مسلمانوں کا مال غنیمت ہوں گے ، پھر فرمایا: رات میں ہماری پہرہ داری کون کرے گا؟ انس بن ابومرثد غنوی ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میں کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: تو سوار ہوجاؤ ، چناچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس گھاٹی میں جاؤ یہاں تک کہ اس کی بلندی پہ پہنچ جاؤ اور ایسا نہ ہو کہ ہم تمہاری وجہ سے آج کی رات دھوکہ کھا جائیں ، جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ ﷺ اپنے مصلے پر آئے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر فرمایا: تم نے اپنے سوار کو دیکھا؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اسے نہیں دیکھا، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے لگے لیکن دوران نماز کنکھیوں سے گھاٹی کی طرف دیکھ رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے اور سلام پھیرا تو فرمایا: خوش ہوجاؤ! تمہارا سوار آگیا ، ہم درختوں کے درمیان سے گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے، یکایک وہی سوار رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کھڑا ہوگیا اور سلام کیا اور کہنے لگا: میں گھاٹی کے بالائی حصہ پہ چلا گیا تھا جہاں رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا تو جب صبح کی تو میں نے دونوں گھاٹیوں پر چڑھ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں دکھائی پڑا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم آج رات گھوڑے سے اترے تھے؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، البتہ نماز پڑھنے کے لیے یا قضائے حاجت کے لیے اترا تھا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم نے اپنے لیے جنت کو واجب کرلیا، اب اگر اس کے بعد تم عمل نہ کرو تو تمہیں کچھ نقصان نہ ہوگا ١ ؎۔

Narrated Sahl ibn al-Hanzaliyyah (RA) : On the day of Hunayn we travelled with the Messenger of Allah ﷺ and we journeyed for a long time until the evening came. I attended the prayer along with the Messenger of Allah ﷺ . A horseman came and said: Messenger of Allah, I went before you and climbed a certain mountain where saw Hawazin all together with their women, cattle, and sheep, having gathered at Hunayn. The Messenger of Allah ﷺ smiled and said: That will be the booty of the Muslims tomorrow if Allah wills. He then asked: Who will be on guard tonight? Anas ibn Abu Marthad al-Ghanawi said: I shall, Messenger of Allah. He said: Then mount your horse. He then mounted his horse, and came to the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah said to him: Go forward to this ravine till you get to the top of it. We should not be exposed to danger from your side. In the morning the Messenger of of Allah ﷺ came out to his place of prayer, and offered two rakahs. He then said: Have you seen any sign of your horseman? They said: We have not, Messenger of Allah. The announcement of the time for prayer was then made, and while the Messenger of Allah ﷺ was saying the prayer, he began to glance towards the ravine. When he finished his prayer and uttered salutation, he said: Cheer up, for your horseman has come. We therefore began to look between the trees in the ravine, and sure enough he had come. He stood beside the Messenger of Allah ﷺ , saluted him and said: I continued till I reached the top of this ravine where the Messenger of Allah ﷺ commanded me, and in the morning I looked down into both ravines but saw no one. The Messenger of Allah ﷺ asked him: Did you dismount during the night? He replied: No, except to pray or to relieve myself. The Messenger of Allah ﷺ said: You have ensured your entry to (Paradise). No blame will be attached to you supposing you do not work after it.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تمہارے لئے تمہارا یہی عمل جنت میں داخل ہونے کے لئے کافی ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ السیر (٨٨٧٠) (صحیح )
2502Sunan Abu Dawood

جہاد چھوڑ دینے کی مذمت

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ الْوَرْدِ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ،عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِالْغَزْوِ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مرگیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا ۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying “He who dies without having fought or having felt fighting (against the infidels) to be his duty will die guilty of a kind of hypocrisy. ”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٧ (١٩١٠)، سنن النسائی/الجھاد ٢ (٣٠٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧٤) (صحیح )
2503Sunan Abu Dawood

جہاد چھوڑ دینے کی مذمت

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَقَرَأْتُهُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْجُرْجُسِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ بِقَارِعَةٍ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ فِي حَدِيثِهِ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبرگیری نہ کی تو اللہ اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا ، یزید بن عبداللہ کی روایت میں قبل يوم القيامة قیامت سے پہلے کا اضافہ ہے۔

Narrated Abu Umamah (RA) : The Prophet ﷺ said: He who does not join the warlike expedition (jihad), or equip, or looks well after a warriors family when he is away, will be smitten by Allah with a sudden calamity. Yazid ibn Abdu Rabbihi said in his tradition: before the Day of Resurrection.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٥ (٢٧٦٢)، (تحفة الأشراف: ٤٨٩٧)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجھاد ٢٦ (٢٤٦٢) (حسن )
2504Sunan Abu Dawood

جہاد چھوڑ دینے کی مذمت

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مشرکوں سے اپنے اموال، اپنی جانوں اور زبانوں سے جہاد کرو ۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: Use your property, your persons any your tongues in striving against the polytheists.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجھاد ١ (٣٠٩٦)، (تحفة الأشراف: ٦١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٤، ١٥٣، ٢٥١)، سنن الدارمی/الجھاد ٣٨ (٢٤٧٥) (صحیح )
2505Sunan Abu Dawood

جہاد میں ہر شخص کی شرکت کا حکم منسوخ ہوگیا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا سورة التوبة آية 39، وَ مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ إِلَى قَوْلِهِ يَعْمَلُونَ سورة التوبة آية 120 ـ 121 نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الَّتِي تَلِيهَا وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً سورة التوبة آية 122.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں إلا تنفروا يعذبکم عذابا أليما اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا (سورۃ التوبہ: ٣٩) اور ما کان لأهل المدينة سے يعملون مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں (سورۃ التوبہ: ١٠) کو بعد والی آیت وما کان المؤمنون لينفروا کافة مناسب نہیں کہ مسلمان سب کے سب جہاد کے لیے نکل پڑیں (سورۃ التوبہ: ١٢٢) نے منسوخ کردیا ہے۔

Ibn Abbas said “The Quranic verse “Unless you go forth, He will punish you with a grievous penalty, and the verse “It is not fitting for the people of Madina”. . . up to “that Allaah might required their deed with the best (possible reward) have been repealed by the verse. Nor should the believers all go forth together. ”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٥٨) (حسن )
2506Sunan Abu Dawood

جہاد میں ہر شخص کی شرکت کا حکم منسوخ ہوگیا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ، حَدَّثَنِي نَجْدَةُ بْنُ نُفَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا سورة التوبة آية 39، قَالَ: فَأُمْسِكَ عَنْهُمُ الْمَطَرُ وَكَانَ عَذَابَهُمْ.

نجدہ بن نفیع کہتے ہیں کہ میں نے آیت کریمہ إلا تنفروا يعذبکم عذابا أليما اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا (سورۃ التوبہ: ٣٩) کے سلسلہ میں ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عذاب یہی تھا کہ بارش ان سے روک لی گئی (اور وہ مبتلائے قحط ہوگئے) ۔

Najdah bin Nufai said “I asked Ibn Abbas about the verse. “Unless you go forth, He will punish you with a grievous penalty. ” He replied “The rain stopped from them. This was their punishment. ”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٥٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی نجدة مجہول ہیں )