Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 124 of 265

2467Sunan Abu Dawood

معتکف حوائج ضروریہ سے فراغت کے لئے گھر میں جاسکتا ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف میں ہوتے تو (مسجد ہی سے) اپنا سر میرے قریب کردیتے اور میں اس میں کنگھی کردیتی اور آپ ﷺ گھر میں کسی انسانی ضرورت ہی کے پیش نظر داخل ہوتے تھے۔

Aishah said: When the Messenger of Allah ﷺ observed Itikaf, he would put his head near me, and I would comb it. and he entered the house only to fulfill human needs (i. e. to urinate or to relieve himself).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٣ (٢٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٠٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٢٨ (١٠٢)، الاعتکاف ١ (١)، ٧ (٧)، مسند احمد (٦/١٠٤، ٢٠٤، ٢٣١، ٢٤٧، ٢٦٢، ٢٧٢، ٢٨١)، سنن الدارمی/الطھارة ١٠٧ (١٠٨٥) (صحیح )
2468Sunan Abu Dawood

معتکف حوائج ضروریہ سے فراغت کے لئے گھر میں جاسکتا ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يُتَابِعْ أَحَدٌ مَالِكًا عَلَى عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرَةَ. وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ وَزِيَادُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرِهِمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔

A similar tradition has been transmitted by Aisha (RA) from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. Abu Dawud said: And Yunus also narrated in a similar way from al-Zuhri, and no one supported Malik in his narration from Urwah from Umrah ; and Mamar, Ziyad bin Sad and others have also narrated it from al-Zuhri from Urwah on the authority of Aisha (RA) .

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الاعتکاف ٣ (٢٠٢٩)، صحیح مسلم/الحیض ٣ (٢٩٧)، سنن الترمذی/الصیام ٨٠ (٨٠٥)، سنن النسائی/ الکبری/ الاعتکاف (٣٣٧٥)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٦٣ (١٧٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨) (صحیح )
2469Sunan Abu Dawood

معتکف حوائج ضروریہ سے فراغت کے لئے گھر میں جاسکتا ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَكُونُ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ، فَيُنَاوِلُنِي رَأْسَهُ مِنْ خَلَلِ الْحُجْرَةِ فَأَغْسِلُ رَأْسَهُ. وَقَالَ مُسَدَّدٌ: فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کردیتے میں آپ ﷺ کا سر دھو دیتی، کنگھی کردیتی، اور میں حیض سے ہوتی تھی۔

Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ used to observe Itikaf in the mosque and put his head near me through the opening of the apartment, and I would wash his head. Musaddad said: And I would comb it while I was menstruating.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٨٧٠) (صحیح )
2470Sunan Abu Dawood

معتکف حوائج ضروریہ سے فراغت کے لئے گھر میں جاسکتا ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ. قَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا، أَوْ قَالَ: شَرًّا.

ام المؤمنین صفیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ ﷺ سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ ﷺ بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے، (اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید ؓ کے مکان میں تھی) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی (میری بیوی) ہے (ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوجائے) ، وہ بولے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! (آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی) آپ ﷺ نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ (یا کہا: کوئی شر) نہ ڈال دے ۔

Safiyyah said: When the Messenger of Allah ﷺ was observing Itikaf (in the mosque), I would come to him to visit him. I had a talk with him and then stood up. I then returned and he (the Prophet) also stood up to accompany me (to my house). Her dwelling place was in the house of Usamah bin Zaid. Two men from the Ansar (helpers) passed (by him at the moment). When they saw the Prophet ﷺ , they walked quickly. The Prophet ﷺ said: Be at ease, she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Be glory to Allah, Messenger of Allah! He said: Satan runs in man like blood. I feared he might inspire something in your mind, or he said: evil (the narrator doubted).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ١١ (٢٠٣٨)، ١٢ (٢٠٣٩)، بدء الخلق ١١ (٣٢٨١)، الأحکام ٢١ (٧١٧١)، صحیح مسلم/السلام ٩ (٢١٧٥)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦٥ (١٧٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥٦، ٢٨٥، ٣٠٩، ٦/٣٣٧)، سنن الدارمی/الصوم ٥٥ (١٨٢١)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (٤٩٩٤) (صحیح )
2471Sunan Abu Dawood

معتکف حوائج ضروریہ سے فراغت کے لئے گھر میں جاسکتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَتْ: حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ، مَرَّ بِهِمَا رَجُلَانِ، وَسَاقَ مَعْنَاهُ.

زہری سے اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں ام المؤمنین صفیہ ؓ کا بیان ہے کہ جب آپ ﷺ مسجد کے اس دروازے پر پہنچے جو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے دروازے کے پاس ہے تو ان کے قریب سے دو شخص گزرے، اور پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. In this version she said “When he was at the gate of the mosque which was near the gate of Umm Salamah, two men passed them. The narrator then transmitted the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٥٩٠١) (صحیح )
2472Sunan Abu Dawood

معتکف کے لئے مریض کے عیادت

حَدَّثَنَا عبد الله بن محمد النفيلي، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ وَلَا يُعَرِّجُ يَسْأَلُ عَنْهُ، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى: قَالَتْ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے۔

According to the version of Al Nufaili, Aisha (RA) said “The Prophet ﷺ used to pass by a patient while he was observing I’tikaf (in the mosque) but he passed as usual and did not stay asking about him. ” According to the version of Ibn Isa she said “The Prophet ﷺ would visit a patient while he was observing I’tikaf. ”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٥١٥) (ضعیف) (اس کے راوی لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں )
2473Sunan Abu Dawood

معتکف کے لئے مریض کے عیادت

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: غَيْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، لَا يَقُولُ فِيهِ: قَالَتْ: السُّنَّةُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: جَعَلَهُ قَوْلَ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں قالت السنة کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسے ام المؤمنین عائشہ ؓ کا قول قرار دیا ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The sunnah for one who is observing Itikaf (in a mosque) is not to visit a patient, or to attend a funeral, or touch or embrace ones wife, or go out for anything but necessary purposes. There is no Itikaf without fasting, and there is no Itikaf except in a congregational mosque.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٣٥٤) (حسن صحیح )
2474Sunan Abu Dawood

معتکف کے لئے مریض کے عیادت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً أَوْ يَوْمًا عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اعْتَكِفْ وَصُمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اعتکاف کرو اور روزہ رکھو ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Umar (may Allah be pleased with him) took a vow in the pre-Islamic days to spend a night or a day in devotion near the Kabah (in the sacred mosque). He asked the Prophet ﷺ about it. He said: Observe Itikaf (i. e. spend a night or a day near the Kabah) and fast.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٣٥٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاعتکاف ١٦ (٢٠٤٣)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور ٧ (١٦٥٦)، سنن الترمذی/الأیمان والنذور ١١ (١٥٣٩)، سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (٣٣٥٥)، كلهم رو وا هذا الحديث بلفظ: ” أوف بنذرک “۔ (صحیح) دون قوله: ” أو يومًا “ وقوله: ” وصم “ (سب کے یہاں صرف ” اپنی نذر پوری کر “ کا لفظ ہے اور بس )
2475Sunan Abu Dawood

معتکف کے لئے مریض کے عیادت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ إِذْ كَبَّرَ النَّاسُ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ قَالَ: سَبْيُ هَوَازِنَ، أَعْتَقَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَتِلْكَ الْجَارِيَةُ فَأَرْسَلَهَا مَعَهُمْ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے اسی دوران کہ وہ (عمر ؓ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے الله أكبر کہا، تو پوچھا: عبداللہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ ﷺ نے آزاد کردیا ہے، کہا: یہ لونڈی بھی (تو انہیں میں سے ہے) ١ ؎ چناچہ انہوں نے اسے بھی ان کے ساتھ آزاد کردیا۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The tradition mentioned above (No. 2468) has also been transmitted by Abdullah ibn Budayl through a different chain of narrators in a similar way. This version adds: While he (Umar) was observing Itikaf (in the sacred mosque), the people uttered (loudly): Allah is most great. He said: What is this, Abdullah? He said: These are the captives of the Hawazin whom the Messenger of Allah ﷺ has set free. He said: This slave-girl too? He sent her along with them.

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ عمر ؓ سے جب یہ سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کردیا ہے تو اپنے بیٹے عبداللہ ؓ سے کہا کہ یہ لونڈی جو میرے پاس ہے وہ بھی تو انہیں قیدیوں میں سے ہے پھر تم اسے کیسے روکے ہوئے ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٥٤) (صحیح )
2476Sunan Abu Dawood

مستحاضہ اعتکاف کرسکتی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اعْتَكَفَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ، فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا وہ (خون میں) پیلا پن اور سرخی دیکھتیں (یعنی انہیں استحاضہ کا خون جاری رہتا) تو بسا اوقات ہم ان کے نیچے (خون کے لیے) بڑا برتن رکھ دیتے اور وہ حالت نماز میں ہوتیں۔

Aishah (may Allaah be pleased with her) said “One of the wives of the Messenger of Allah ﷺ observed I’tikaf along with him (in the mosque). She would see yellowness and redness. Sometimes we would place a washbasin while she prayed. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ١٠ (٣٠٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦٦ (١٧٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣١)، سنن الدارمی/الطھارة ٩٣ (٩٠٦) (صحیح )
2477Sunan Abu Dawood

ہجرت کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا.

ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم ﷺ سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے اوپر افسوس ہے! ١ ؎ ہجرت کا معاملہ سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ان کی زکاۃ دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں (دیتے ہیں) ، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا ٢ ؎۔

Abu Saeed Al Khudri said “A Bedouin asked the Prophet ﷺ about emigration. He replied “Woe to you! The matter of emigration is severe. Have you a Camel? He said, Yes. He asked “Do you pay its zakat? He said, Yes. He said, Then work (anywhere) beyond the seas. Allaah will not reduce anything from (the reward of) your work.

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں ویحک ( تمہارے اوپر افسوس ہے! ) کا لفظ کلمہ ترحم و توجع ہے اور اس شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو کسی ایسی تباہی میں پھنس گیا ہو جس کا وہ مستحق نہ ہو۔ ٢ ؎: مفہوم یہ ہے کہ تمہاری جیسی نیت ہے اس کے مطابق تمہیں ہجرت کا ثواب ملے گا تم خواہ کہیں بھی رہو، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت ان لوگوں پر واجب ہے جو اس کی طاقت رکھتے ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٣٦ (١٤٥٢)، والھبة ٣٥ (٢٦٣٣)، ومناقب الأنصار ٤٥ (٣٩٢٣)، والأدب ٩٥ (٦١٦٥)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٠ (١٨٦٥)، سنن النسائی/البیعة ١١ (٤١٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٣، ١٥٥٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٤، ٦٤) (صحیح)
2478Sunan Abu Dawood

ہجرت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عنها عَنِ الْبَدَاوَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِي: يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ وَلَا نُزِعَ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ.

شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے صحراء و بیابان (میں زندگی گزارنے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: عائشہ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اسے عیب دار کردیتی ہے ۔

Miqdan bin Shuraih reported on the authority of his father. I asked Aisha (RA) about settling in the desert (to worship Allaah in loneliness). She said “The Messenger of Allah ﷺ would go out (from Madina) to these torrential streams. Once he intended to go out to the desert (for worshipping Allaah). He sent me a She-Camel from the Camels of sadaqah that was not used as a mount. He said to me “Aishah be lenient, for leniency makes a thing decorated and when it is removed from a thing it makes it defective.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ویأتی ہذا الحدیث في الأدب (٤٨٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٦١٥٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة ٢٣ (٢٥٩٤)، مسند احمد (٦/٥٨، ٢٢٢) (صحیح) (اس میں سے صرف قول رسول ﷺ صحیح ہے اور اتنا ہی صحیح مسلم میں ہے، ٹیلوں پر جانے کا واقعہ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کا تفرد ہے )
2479Sunan Abu Dawood

کیا اب ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوگیا

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا.

معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ہجرت ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہوجائے، اور توبہ ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے ١ ؎۔

Narrated Muawiyah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Migration will not end until repentance ends, and repentance will not end until the sun rises in the west.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے اگر ممکن ہو تو دارلکفر سے دارالاسلام کی طرف، اور دارالمعاصی سے دارالصلاح کی طرف ہجرت ہمیشہ بہتر ہے، ورنہ فی زمانہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک کے شہری کو اپنے یہاں منتقل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٤٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٩)، دي / السیر ٧٠ (٢٥٥٥) (صحیح )
2480Sunan Abu Dawood

کیا اب ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوگیا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح (مکہ) کے دن فرمایا: اب (مکہ فتح ہوجانے کے بعد مکہ سے) ہجرت نہیں (کیونکہ مکہ خود دارالاسلام ہوگیا) لیکن جہاد اور (ہجرت کی) نیت باقی ہے، جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑو ۔

Ibn Abbas reported that Messenger of Allah ﷺ as saying on the day of the conquest of Makkah: There is no emigration (after the conquest of Makkah, but only Jihad (striving in the path of Allah) and some intention. So when you are summoned to go forth (for Jihad), go forth.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٠١٨)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٨) (صحیح )
2481Sunan Abu Dawood

کیا اب ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوگیا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَعِنْدَهُ الْقَوْمُ حَتَّى جَلَسَ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ.

عامر شعبی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس آیا، ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے یہاں تک کہ وہ بھی آ کر آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے ۔

Amir said “A man came to Abd Allaah bin Amr while the people were with him. He sat with him and said “Tell me anything that you heard from the Messenger of Allah ﷺ ”. He said “I hears the Messenger of Allah ﷺ say “A Muslim is he from whose tongue and hand the Muslims remain safe and an emigrant is he who abandons what Allaah has prohibited. ””

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٤ (١٠)، (تحفة الأشراف: ٨٨٣٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٩ (٤٠)، مسند احمد (٢/١٦٠، ١٦٣، ١٩٢، ١٩٣، ٢٠٥، ٢١٢، ٢٢٤)، سنن الدارمی/الرقاق ٨ (٢٧٨٥) (صحیح )
2482Sunan Abu Dawood

ملک شام میں اقامت اختیار کرنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِيَارُ أَهْلِ الأَرْضِ أَلْزَمُهُمْ مُهَاجَرَ إِبْرَاهِيمَ وَيَبْقَى فِي الأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا تَلْفِظُهُمْ أَرْضُوهُمْ تَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللَّهِ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی تو زمین والوں میں بہتر وہ لوگ ہوں گے جو ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت گاہ (شام) کو لازم پکڑیں گے، اور زمین میں ان کے بدترین لوگ رہ جائیں گے، ان کی سر زمین انہیں باہر پھینک دے گی ١ ؎ اور اللہ کی ذات ان سے گھن کرے گی اور آگ انہیں بندروں اور سوروں کے ساتھ اکٹھا کرے گی ٢ ؎۔

Abd Allaah bin Amr said “ I heard the Messenger of Allah ﷺ say “There will be emigration after emigration and the people who are best will be those who cleave most closely to places which Abraham migrated. The worst of its people will remain in the earth cast out by their lands, abhorred by Allaah, collected along with apes and swine by fire. ””

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگتے پھریں گے۔ ٢ ؎: اس سے قیامت کے دن والا حشر مراد نہیں ہے نیز یہاں آگ سے مراد فتنے کی آگ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٨٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٠٩، ١٩٨) (حسن) (لیکن دوسرے طریق اور شاہد سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: ٣٢٠٣، وتراجع الالبانی: ٤ )
2483Sunan Abu Dawood

ملک شام میں اقامت اختیار کرنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي قُتَيْلَةَ، عَنْ ابْنِ حَوَالَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَى أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ، قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالشَّامِ فَإِنَّهَا خِيرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ فَأَمَّا إِنْ أَبَيْتُمْ فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ وَاسْقُوا مِنْ غُدُرِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ.

عبداللہ بن حوالہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ جاؤ گے، ایک ٹکڑی شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں ۔ ابن حوالہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو کس ٹکڑی میں رہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے اوپر شام کو لازم کرلو، کیونکہ شام کا ملک اللہ کی بہترین سر زمین ہے، اللہ اس ملک میں اپنے نیک بندوں کو جمع کرے گا، اگر شام میں نہ رہنا چاہو تو اپنے یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے تالابوں سے پانی پلانا، کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے ١ ؎۔

Narrated Ibn Hawalah (RA) : The Prophet ﷺ said: It will turn out that you will be armed troops, one is Syria, one in the Yemen and one in Iraq. Ibn Hawalah said: Choose for me, Messenger of Allah, if I reach that time. He replied: Go to Syria, for it is Allahs chosen land, to which his best servants will be gathered, but if you are unwilling, go to your Yemen, and draw water from your tanks, for Allah has on my account taken special charge of Syria and its people.

Notes · وضاحت
١ ؎: شام فتنوں سے محفوظ رہے گا اور وہاں کے رہنے والوں کو اللہ فتنہ کے ذریعہ ہلاک نہیں کرے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، ( تحفة الأشراف: ١٠٨٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٠) (صحیح )
2484Sunan Abu Dawood

جہاد ہمیشہ رہے گا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ١ ؎ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور ان لوگوں پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی کریں گے یہاں تک کہ ان کے آخری لوگ مسیح الدجال سے قتال کریں گے ٢ ؎۔

Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ said: A section of my community will continue to fight for the right and overcome their opponents till the last of them fights with the Antichrist.

Notes · وضاحت
١ ؎: امام بخاری کہتے ہیں: اس سے مراد اہل علم ہیں، اور امام احمد بن حنبل کہتے ہیں: اس سے مراد اگر ” اہل الحدیث “ نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ کون لوگ ہیں۔ ٢ ؎: اس سے مراد امام مہدی اور عیسیٰ ہیں، اور ان دونوں کے متبعین ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے اترنے کے بعد دجال کو قتل کریں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٨٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٣٣، ٤٣٧) (صحیح )
2485Sunan Abu Dawood

جہاد کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا، قَالَ: رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، وَرَجُلٌ يَعْبُدُ اللَّهَ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ قَدْ كُفِيَ النَّاسُ شَرَّهُ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا مومن سب سے زیادہ کامل ایمان والا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے، نیز وہ شخص جو کسی پہاڑ کی گھاٹی ١ ؎ میں اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں ۔

Abu Saeed (Al Khudri) reported The Prophet ﷺ was asked “Which believers are most perfect in respect of faith? He replied “A man who strives in the path of Allaah with his life and property and a man who worships Allaah in a mountain valley where he protects the people from his evil. ””

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ شرط نہیں ہے، اسے بطور مثال ذکر کیا گیا ہے کیونکہ عموماً گھاٹیوں میں تنہائی ہوتی ہے، اس سے گوشہ نشینی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ آدمی بےکار باتوں اور لغو چیزوں سے محفوظ رہتا ہے لیکن یہ فتنہ کے زمانہ کے ساتھ خاص ہے، اور فتنہ نہ ہونے کی صورت میں جمہور کے نزدیک عام لوگوں سے اختلاط اور میل جول ہی زیادہ بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٢ (٢٧٨٦)، والرقاق ٣٤ (٦٤٩٤)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٤ (١٨٨٨)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد ٢٤ (١٦٦٠)، سنن النسائی/الجھاد ٧ (٣١٠٧)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦، ٣٧، ٥٦، ٨٨) (صحیح )
2486Sunan Abu Dawood

سیاحت کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي السِّيَاحَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئیے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت کی سیاحت اللہ کے راہ میں جہاد کرنا ہے ۔

Narrated Abu Umamah (RA) : A man said: Messenger of Allah, allow tourism for me. The Prophet ﷺ said: The tourism of my people is striving in the path of Allah, the Exalted.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٩٠١) (حسن )