Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 123 of 265

2447Sunan Abu Dawood

عاشورہ کے روزے کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ أَسْلَمَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَاقْضُوهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ.

عبدالرحمٰن بن مسلمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے اپنے اس دن کا روزہ رکھا ہے؟ جواب دیا: نہیں، فرمایا: دن کا بقیہ حصہ بغیر کھائے پئے پورا کرو اور روزے کی قضاء کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی عاشوراء کے دن۔

Narrated Abdur Rahman ibn Maslamah (RA) : Abdur Rahman reported on the authority of his uncle that the people of the tribe Aslam came to the Prophet ﷺ . He said (to them): Did you fast on this day? They replied: No. He said: Complete the rest of your day, and make atonement for it.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الصیام ٣٦ (٢٣٢٠) (تحفة الأشراف: ١٥٦٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩، ٣٦٧، ٤٠٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن لین الحدیث ہیں )
2448Sunan Abu Dawood

ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُعَمْرًا، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صِيَامُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يُفْطِرُ يَوْمًا وَيَصُومُ يَوْمًا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود (علیہ السلام) کے روزے ہیں، اور پسندیدہ نماز بھی داود کی نماز ہے: وہ آدھی رات تک سوتے، اور تہائی رات تک قیام کرتے (تہجد پڑھتے) ، پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے، اور ایک دن روزہ نہ رکھتے، ایک دن رکھتے ۔

Abdullah bin And (bin al-As) said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: The fast most liked by Allah is the one observed by Dawud (David), and the prayer dearer to Allah is the one offered by Dawud (David): he would sleep half the night, and stand (in prayer) one-third of it, and sleep one-sixth of it. He would go without fasting one day, and fast the other day.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/قیام اللیل ٧ (١١٣١)، صحیح مسلم/الصیام ٣٥ (١١٥٩)، سنن النسائی/الصیام ٤٠ (٢٣٤٦)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣١ (١٧١٢)، (تحفة الأشراف: ٨٨٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٠٦)، دی/ الصوم (٤٢ (١٧٩٣) (صحیح )
2449Sunan Abu Dawood

ہرمہینہ میں تین روزے رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَنَسٍ أَخِي مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ مِلْحَانَ الْقَيْسِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُنَا أَنْ نَصُومَ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ. قَالَ: وَقَالَ: هُنَّ كَهَيْئَةِ الدَّهْرِ.

قتادہ بن ملحان قیسی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ایام بیض یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے، اور فرماتے: یہ پورے سال روزے رکھنے کے مثل ہے ۔

Narrated Qatadah Ibn Malhan al-Qaysi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to command us to fast the days of the white (nights): thirteenth, fourteenth and fifteenth of the month. He said: This is like keeping perpetual fast.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٥١ (٢٤٣٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٩ (١٧٠٧)، (تحفة الأشراف: ١١٠٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٥، ٥/٢٧، ٢٨) (صحیح )
2450Sunan Abu Dawood

ہرمہینہ میں تین روزے رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ يَعْنِي مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے کے شروع میں تین دن روزے رکھتے۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to fast three days every month.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٤١ (٧٤٢)، سنن ابن ماجہ/ المناسک ٣٧ (١٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ٩٢٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٦) (حسن )
2451Sunan Abu Dawood

پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ: الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْجُمْعَةِ الْأُخْرَى.

ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مہینے میں تین دن روزے رکھتے تھے یعنی (پہلے ہفتہ کے) دوشنبہ، جمعرات اور دوسرے ہفتے کے دوشنبہ کو ۔

Narrated Hafsah, Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to fast three days every month: Monday, Thursday and Monday in the next week.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٤١ (٢٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٧، ٢٨٨)، وانظر ما تقدم برقم: (٢٤٣٧) (حسن )
2452Sunan Abu Dawood

پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.

ہنیدہ خزاعی اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس گئی اور ان سے روزے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کا حکم فرماتے تھے، ان میں سے پہلا دوشنبہ کا ہوتا اور جمعرات کا ١ ؎۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Hunaydah al-Khuzai reported on the authority of her mother who said: I entered upon Umm Salamah and asked her about fasting. She said: The Messenger of Allah ﷺ used to command me to fast three days every month beginning with Monday or Thursday.

Notes · وضاحت
١ ؎: نسائی میں اس روایت کے الفاظ ہیں، أَوَّلُ خَمِيْسٍ “ ” وَالاثْنَيْنِ وَالاثْنَيْنِ یعنی: مہینے کا پہلا جمعرات اور دوشنبہ، پھر دوسرا دوشنبہ، بعض روایتوں میں تیسرا دن جمعرات ہے (حدیث نمبر: ٢٤٣٧) بعض روایتوں میں درمیان ماہ کے تین دنوں کا تذکرہ ہے، اور اگلی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی خاص دن متعین نہیں تھا، بس تین دن کا روزہ مقصود تھا، سب مختلف اوقات و حالات کے لحاظ سے تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٥١ (٢٤٢١)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٩، ٣١٠) (منکر )
2453Sunan Abu Dawood

مہینہ میں جس دن چاہے روزہ رکھے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَهْرٍ كَانَ يَصُومُ ؟ قَالَتْ: مَا كَانَ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ.

معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے پوچھا: مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے تھے؟ جواب دیا کہ آپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں۔

Muadhah (al-Adawiyyah) said: I asked Aisha (RA) : Would the Messenger of Allah ﷺ fast three days every month ? She replied: Yes. I asked: Which days in the month he used to fast ? She replied: He did not care which days of the month he fasted.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٦ (١١٦٠)، سنن الترمذی/الصوم ٥٤ (٧٦٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٩ (١٧٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٥) (صحیح )
2454Sunan Abu Dawood

رات سے روزہ کی نیت کرناضروری ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَا صِيَامَ لَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ اللَّيْثُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ، أيضا جميعا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، مِثْلَهُ، وَوَقَفَهُ عَلَى حَفْصَةَ مَعْمَرٌوَالزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَيُونُسُ الْأَيْلِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ.

ام المؤمنین حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے فجر ہونے سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث اور اسحاق بن حازم نے عبداللہ بن ابی بکر سے اسی کے مثل (یعنی مرفوعاً ) روایت کیا ہے، اور اسے معمر، زبیدی، ابن عیینہ اور یونس ایلی نے ام المؤمنین حفصہ ؓ پر موقوف کیا ہے، یہ سارے لوگ زہری سے روایت کرتے ہیں۔

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٣٣ (٧٣٠)، سنن النسائی/الصیام ٣٩ (٢٣٣٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٦ (١٧٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٠٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام ٢ (٥)، مسند احمد (٦/٢٧٨)، سنن الدارمی/الصوم ١٠(١٧٤٠) (صحیح ) Narrated Hafsah, Ummul Muminin: The Messenger of Allah ﷺ said: He who does not determine to fast before dawn does not fast.
2455Sunan Abu Dawood

رات سے روزہ کی نیت کرناضروری نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ، قَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ ؟ فَإِذَا قُلْنَا: لَا. قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. زَادَ وَكِيعٌ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَحَبَسْنَاهُ لَكَ. فَقَالَ: أَدْنِيهِ. قَالَ طَلْحَةُ: فَأَصْبَحَ صَائِمًا وَأَفْطَرَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب میرے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ جب میں کہتی: نہیں، تو فرماتے: میں روزے سے ہوں ، ایک دن آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیے میں (کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا) ملیدہ آیا ہے، اور اسے ہم نے آپ کے لیے بچا رکھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: لاؤ اسے حاضر کرو ۔ طلحہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے روزے سے ہو کر صبح کی تھی لیکن روزہ توڑ دیا۔

Aishah said: When the Prophet ﷺ entered upon me, he would ask: Do you have food ? When we said: No, he would say: I am fasting. Waki added in his version: Another day when he entered upon us, we said: Messenger of Allah, some pudding (hair) has been presented to us and we have retained it for you. He said: Bring it to me. Talhah said: He fasted in the morning, but broke his fast (that day).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٢ (١١٥٤)، سنن الترمذی/الصوم ٣٥ (٧٣٤)، سنن النسائی/الصیام ٣٩ (٢٣٢٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٦ (١٧٠١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٩، ٢٠٧) (حسن صحیح )
2456Sunan Abu Dawood

رات سے روزہ کی نیت کرناضروری نہیں ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْأُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ، جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ. قَالَتْ: فَجَاءَتْ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْهُ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً. فَقَالَ لَهَا: أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ فتح مکہ کا دن تھا، فاطمہ ؓ آئیں اور رسول اللہ ﷺ کے بائیں جانب بیٹھ گئیں اور میں دائیں جانب بیٹھی، اس کے بعد لونڈی برتن میں کوئی پینے کی چیز لائی، اور آپ ﷺ کو پیش کیا، آپ نے اس میں سے نوش فرمایا، پھر مجھے دے دیا، میں نے بھی پیا، پھر میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی، میں نے روزہ توڑ دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم کسی روزے کی قضاء کر رہی تھیں؟ جواب دیا نہیں، فرمایا: اگر نفلی روزہ تھا تو تجھے کوئی نقصان نہیں ١ ؎۔

Narrated Umm Hani (RA) : On the days of the conquest of Makkah, when Makkah was captured, Fatimah came and sat on the left side of the Messenger of Allah ﷺ , and Umm Hani was on his right side. A slave-girl brought a vessel which contained some drink; she gave it to him and he drank of it. He then gave it to Umm Hani who drank of it. She said: Messenger of Allah, I have broken my fast; I was fasting. He said to her: Were you making atonement for something? She replied: No. He said: Then it does not harm you if it was voluntary (fast).

Notes · وضاحت
١ ؎: ام المومنین حفصہ ؓ کی پچھلی روایت سے فجر ہی سے نیت کا وجوب ثابت ہوتا ہے اور اس باب کی دونوں روایتوں سے عدم وجوب! دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ حفصہ کی روایت فرض روزے سے متعلق ہے، اور باب کی دونوں روایتیں نفلی روزے سے متعلق ہیں، سیاق سے یہ صاف ظاہر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٠٠٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ٣٤ (٧٣٢)، مسند احمد (٦/٣٤٢) (صحیح )
2457Sunan Abu Dawood

جن کے نزدیک نفل روزہ توڑنے سے قضا واجب ہوتی ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ زُمَيْلٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُهْدِيَ لِي وَلِحَفْصَةَ طَعَامٌ وَكُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ فَاشْتَهَيْنَاهَا فَأَفْطَرْنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَلَيْكُمَا صُومَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے اور ام المؤمنین حفصہ ؓ کے لیے کچھ کھانا ہدیے میں آیا، ہم دونوں روزے سے تھیں، ہم نے روزہ توڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو روزہ توڑ دیا (یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا: روزہ توڑ دیا تو کوئی بات نہیں، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Some food was presented to me and Hafsah. We were fasting, but broke our fast. Then the Messenger of Allah ﷺ entered upon us. We said to him: A gift was presented to us; we coveted it and we broke our fast. The Messenger of Allah ﷺ said: There is no harm to you; keep a fast another day in lieu of it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٣٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ٣٦ (٧٣٥)، موطا امام مالک/الصیام ١٨ (٥٠) (ضعیف) (اس کے راوی زُمَیل مجہول ہیں )
2458Sunan Abu Dawood

عورت شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت روزہ نہ رکھے سوائے رمضان کے، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: It is not allowable for a woman to keep (voluntary) fast when her husband is present without his permission, and she may not allow anyone to enter his house without his permission.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ البیوع ١٢ (٢٠٦٦)، النکاح ٨٤ (٥١٩٢)، النفقات ٥ ٥٣٦٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٦ (١٠٢٦)، سنن الترمذی/الصوم ٦٥ (٧٨٢)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٣ (١٧٦١)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٩٥، ١٤٧٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦١)، سنن الدارمی/الصوم ٢٠ (١٧٦١) (صحیح) دون ذکر رمضان
2459Sunan Abu Dawood

عورت شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ. قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ: قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا، قَالَ: فَقَالَ: لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ. وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي، فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ فَتَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَا أَصْبِرُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا. وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ، لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ. قَالَ: فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ أَوْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، ہم آپ کے پاس تھے، کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل ؓ جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، اور روزہ رکھتی ہوں تو روزہ تڑوا دیتے ہیں، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔ صفوان اس وقت آپ ﷺ کے پاس موجود تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا یہ الزام کہ نماز پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اسے (دو دو سورتیں پڑھنے سے) منع کر رکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے ۔ صفوان نے پھر کہا کہ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس سے روزہ افطار کرا دیتا ہوں تو یہ روزہ رکھتی چلی جاتی ہے، میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کر پاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس دن فرمایا: کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفل روزہ) نہ رکھے ۔ رہی اس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے نماز نہیں پڑھتا تو ہم اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اٹھ ہی نہیں پاتے، آپ ﷺ نے فرمایا: جب بھی جاگو نماز پڑھ لیا کرو ١ ؎۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : A woman came to the Prophet ﷺ while we were with him. She said: Messenger of Allah, my husband, Safwan ibn al-Muattal, beats me when I pray, and makes me break my fast when I keep a fast, and he does not offer the dawn prayer until the sun rises. He asked Safwan, who was present, about what she had said. He replied: Messenger of Allah, as for her statement he beats me when I pray, she recites two surahs (during prayer) and I have prohibited her (to do so). He (the Prophet) said: If one surah is recited (during prayer), that is sufficient for the people. (Safwan continued:) As regards her saying he makes me break my fast, she dotes on fasting; I am a young man, I cannot restrain myself. The Messenger of Allah ﷺ said on that day: A woman should not fast except with the permission of her husband. (Safwan said:) As for her statement that I do not pray until the sun rises, we are a people belonging to a class, and that (our profession of supplying water) is already known about us. We do not awake until the sun rises. He said: When you awake, offer your prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: صفوان بن معطل ؓ کے اس بیان سے یہ معلوم ہوا کہ گویا آپ شرعی طور پر اس بات میں معذور تھے، اور یہ واقعہ کبھی کبھار کا ہی ہوسکتا ہے، جس کو مسئلہ بنا کر ان کی بیوی نے عدالت نبوی میں پیش کیا۔ صحابی رسول کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ قصداً و عمداً وہ نماز میں تساہلی کرے گا، رات بھر کی محنت و مزدوری کے بعد آدمی تھک کر چور ہوجاتا ہے، اور فطری طور پر آخری رات کی نیند سے خود سے یا جلدی بیدار ہونا مشکل مسئلہ ہے، اگر کبھی ایسی معذوری ہوجائے تو بیداری کے بعد نماز ادا کرلی جائے، ایک بات یہ بھی واضح رہے کہ صفوان اور ان کے خاندان کے لوگ گہری نیند اور تاخیر سے اٹھنے کی عادت میں مشہور تھے، جیسا کہ زیر بحث حدیث میں صراحت ہے، نیز مسند احمد میں صفوان کا قول ہے کہ: میں گہری نیند والا ہوں، اور ایسے خاندان سے ہوں جو اپنی گہری نیند کے بارے میں مشہور ہیں ( ٣ ؍ ٨٤- ٨٥ )۔ نیز مسند احمد میں ہے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا کہ کن وقتوں میں نماز مکروہ ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فجر کے بعد نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج نکل آئے، جب سورج نکل آئے تو نماز پڑھو ... ( ٥ ؍ ٣١٢ )۔ چناچہ غزوات میں اپنی اسی عادت کی بنا پر قافلہء مجاہدین میں سب سے بعد میں لوگوں کے گرے پڑے سامان سمیٹ کر قافلہ سے مل جاتے ( ملاحظہ ہو واقعہ إفک جو کہ غزوہ بنی مصطلق میں ہوا )۔ یہ بھی واضح رہے کہ فجر میں مسلسل غیر حاضری کا معاملہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے مخفی نہیں رہ سکتا، بلکہ یہ حرکت تو منافقین سے سرزد ہوتی تھی، اور صحابہ کرام کے بارے میں یا صفوان ؓ کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٠١٢)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٣ (١٧٦٢)، مسند احمد (٣/٨٠، ٨٤)، سنن الدارمی/الصوم ٢٠ (١٧٦٠) (صحیح )
2460Sunan Abu Dawood

اگر کسی روزہ دار کی ولیمہ کی دعوت ہو

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ. قَالَ هِشَامٌ: وَالصَّلَاةُ الدُّعَاءُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، أَيْضًا عَنْ هِشَامٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، اگر روزے سے نہ ہو تو کھالے، اور اگر روزے سے ہو تو اس کے حق میں دعا کر دے ۔ ہشام کہتے ہیں: صلا ۃ سے مراد دعا ہے۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you receives an invitation (for a meal), he should accept it. If he isn to fasting, he should eat, and if he is fasten, he should pray. Hisham said: The word salat means to pray (for him to Allah). Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Hafs bin Ghiyath from Hisham.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٥٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٢)، سنن الدارمی/الصوم ٣١ (١٧٧٨) (صحیح )
2461Sunan Abu Dawood

اگر کسی روزہ دار کی ولیمہ کی دعوت ہو

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہنا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں ۔

Abu Hurairah reported Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you is invited (to a meal), and he is fasting, he should say that he is fasting.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الصیام ٢٨ (١١٥٠)، سنن الترمذی/الصوم ٦٤ (٧٨١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٧ (١٧٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٢)، دی/المناسک ٣١ (١٧٧٨) (صحیح )
2462Sunan Abu Dawood

اعتکاف کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، اور آپ ﷺ کا یہ معمول وفات تک رہا، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔

Aishah said: The Prophet ﷺ used to observe retirement (Itikaf) to the mosque during the last ten days of Ramadan till Allah took him, and then his wives observed retirement to the mosque after his death.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ١ (٢٠٢٦)، صحیح مسلم/الاعتکاف ١ (١١٧٢)، سنن الترمذی/الصوم ٧١ (٧٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٩، ٩٢، ٢٧٩) (صحیح )
2463Sunan Abu Dawood

اعتکاف کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ لَيْلَةً.

ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، ایک سال (کسی وجہ سے) اعتکاف نہیں کرسکے تو اگلے سال آپ ﷺ نے بیس رات کا اعتکاف کیا۔

Narrated Ubayy ibn Kab (RA) : The Prophet ﷺ used to observe Itikaf during the last ten days of Ramadan. One year he did not observe Itikaf. When the next year came, he observed Itikaf for twenty nights (i. e. Days).

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٨ (١٧٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤١) (صحیح )
2464Sunan Abu Dawood

اعتکاف کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَكَفَهُ. قَالَتْ: وَإِنَّهُ أَرَادَ مَرَّةً أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، قَالَتْ: فَأَمَرَ بِبِنَائِهِ فَضُرِبَ. فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ أَمَرْتُ بِبِنَائِي فَضُرِبَ، قَالَتْ: وَأَمَرَ غَيْرِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَائِهِ فَضُرِبَ. فَلَمَّا صَلَّى الْفَجْرَ نَظَرَ إِلَى الْأَبْنِيَةِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ آلْبِرَّ تُرِدْنَ ؟ قَالَتْ: فَأَمَرَ بِبِنَائِهِ فَقُوِّضَ، وَأَمَرَ أَزْوَاجُهُ بِأَبْنِيَتِهِنَّ فَقُوِّضَتْ، ثُمَّ أَخَّرَ الِاعْتِكَافَ إِلَى الْعَشْرِ الْأُوَلِ يَعْنِي مِنْ شَوَّالٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: اعْتَكَفَ عِشْرِينَ مِنْ شَوَّالٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ ﷺ نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ ﷺ نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟ ١ ؎، پھر آپ ﷺ نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لیے مؤخر کردیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا۔

Aishah said: When the Messenger of Allah ﷺ intended to observe Itikaf, he prayed the fajr prayer and then entered his place of seclusion. Once he intended to observe Itikaf during the last ten days of Ramadan. She said: He ordered to pitch a tent for him, and it was pitched. She said: The other wives of the Prophet ﷺ also ordered to pitch tents for them and they were pitched. When he offered the fajr prayer, he saw the tents, and said: What is this ? Did you intend to do an act of virtue ? She said: He then ordered to demolish his tent, and it was demolished. Then his wives also ordered to demolish their tents and they were demolished. He then postponed Itikaf till the first ten days, that is of Shawwal. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Ibn Ishaq and al-Auzai from Yahya bin Saeed in a similar manner, and Malik narrated it from Yahya bin Saeed, saying: He observed Itikaf during twenty days of Shawwal.

Notes · وضاحت
١ ؎: استفہام انکاری ہے یعنی اس کام سے تم سب کے پیش نظر نیکی نہیں ہے، غیرت کی وجہ سے یہ کام کر رہی ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ٦ (٢٠٣٣)، ٧ (٢٠٣٤)، ١٤ (٢٠٤١)، ١٨ (٢٠٤٥)، صحیح مسلم/الاعتکاف ٢ (١١٧٢)، سنن الترمذی/الصوم ٧١ (٧٩١)، سنن النسائی/المساجد ١٨ (٧١٠)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٥٩ (١٧٧١)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٣٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف ٤ (٧)، مسند احمد (٦/٨٤، ٢٢٦) (صحیح )
2465Sunan Abu Dawood

اعتکاف کہاں کرنا چاہئے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ. قَالَ نَافِعٌ: وَقَدْ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ الْمَكَانَ الَّذِي كَانَ يَعْتَكِفُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَسْجِدِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔ نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ ﷺ اعتکاف کیا کرتے تھے۔

Ibn Umar said: The Prophet ﷺ used to observe Itikaf during the last ten days of Ramadan. Nafi said: Abdullah (bin Umar) showed me the place in the mosque where Messenger of Allah ﷺ used to observe Itikaf.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ١ (٢٠٢٥) (دون قولہ: قال نافع ۔۔۔ )، صحیح مسلم/الاعتکاف ١ (١٧٧١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦١ (١٧٧٣)، (تحفة الأشراف: ٨٥٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٣٣) (صحیح )
2466Sunan Abu Dawood

اعتکاف کہاں کرنا چاہئے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَعْتَكِفُ كُلَّ رَمَضَانَ عَشَرَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔

Abu Hurairah said: The Prophet ﷺ used to observe Itikaf during ten days of Ramadan every year. But when the year in which he died, he observed Itikaf for twenty days.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ١٧ (٢٠٤٤)، فضائل القرآن ٧ (٤٩٩٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٨ (١٧٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٨١، ٣٣٦، ٣٥٥، ٤١٠)، سنن الدارمی/الصوم ٥٥ (١٨٢٠) (حسن صحیح )