Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 122 of 265

2427Sunan Abu Dawood

ہمیشہ روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَقُولُ لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ ؟ قَالَ: أَحْسَبُهُ، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قُلْتُ ذَاكَ. قَالَ: قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَذَاكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ. قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ وَهُوَ صِيَامُ دَاوُدَ. قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا مجھ سے یہ نہیں بیان کیا گیا ہے کہ تم کہتے ہو: میں ضرور رات میں قیام کروں گا اور دن میں روزہ رکھوں گا؟ کہا: میرا خیال ہے اس پر انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: قیام اللیل کرو اور سوؤ بھی، روزہ رکھو اور کھاؤ پیو بھی، ہر مہینے تین دن روزے رکھو، یہ ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے ۔ عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو وہ کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: میرے اندر اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر ایک دن روزہ رکھو، اور ایک دن افطار کرو، یہ عمدہ روزہ ہے، اور داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے میں نے کہا: مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ۔

Narrated Adb Allah bin Amr bin al-As: The Messenger of Allah ﷺ met me and said: Have I not been informed that you told: I shall stand at prayer all the night, and I shall fast during the day ? He said: I think so. Yes, Messenger of Allah, I have said this. He said: Get up and pray at night and sleep ; fast and break your fast ; fast three days every month: that is equivalent to keeping perpetual fast. I said: Messenger of Allah, I have more power than that. He said: Then fast one day and break your fast one day. That is the most moderate fast ; that is the fast of Dawud (David). He said: I have more power than that. The Messenger of Allah ﷺ said: There is no fast more excellent that it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٥٦ (١٩٧٦)، وأحادیث الأنبیاء ٣٨ (٣٤١٨)، /النکاح ٩٠ (٥١٩٩)، صحیح مسلم/الصیام ٣٥ (١١٥٩)، (تحفة الأشراف: ٨٦٤٥، ٨٩٦٠ )، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ٥٧ (٧٧٠)، سنن النسائی/الصوم ٤٥ (٢٣٩٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣١ (١٧٢١)، مسند احمد (٢/١٦٠، ١٦٤)، سنن الدارمی/الصوم ٤٢ (١٧٩٣) (صحیح )
2428Sunan Abu Dawood

حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيَّةِ، عَنْ أَبِيهَا أَوْ عَمِّهَا، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْطَلَقَ. فَأَتَاهُ بَعْدَ سَنَةٍ وَقَدْ تَغَيَّرَتْ حَالُهُ وَهَيْئَتُهُ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ قَالَ: وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ: أَنَا الْبَاهِلِيُّ الَّذِي جِئْتُكَ عَامَ الْأَوَّلِ. قَالَ: فَمَا غَيَّرَكَ وَقَدْ كُنْتَ حَسَنَ الْهَيْئَةِ ؟ قَالَ: مَا أَكَلْتُ طَعَامًا إِلَّا بِلَيْلٍ مُنْذُ فَارَقْتُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِمَ عَذَّبْتَ نَفْسَكَ ؟ ثُمَّ قَالَ: صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَيَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ. قَالَ: زِدْنِي فَإِنَّ بِي قُوَّةً. قَالَ: صُمْ يَوْمَيْنِ. قَالَ: زِدْنِي. قَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ. قَالَ: زِدْنِي. قَالَ: صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ، صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ، صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ. وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ الثَّلَاثَةِ، فَضَمَّهَا ثُمَّ أَرْسَلَهَا.

مجیبہ باہلیہ اپنے والد یا چچا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر چلے گئے اور ایک سال بعد دوبارہ آئے اس مدت میں ان کی حالت و ہیئت بدل گئی تھی، کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: کون ہو؟ جواب دیا: میں باہلی ہوں جو کہ پہلے سال بھی حاضر ہوا تھا، آپ ﷺ نے کہا: تمہیں کیا ہوگیا؟ تمہاری تو اچھی خاصی حالت تھی؟ جواب دیا: جب سے آپ کے پاس سے گیا ہوں رات کے علاوہ کھایا ہی نہیں ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے آپ کو تم نے عذاب میں کیوں مبتلا کیا؟ پھر فرمایا: صبر کے مہینہ (رمضان) کے روزے رکھو، اور ہر مہینہ ایک روزہ رکھو انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے کیونکہ میرے اندر طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: دو دن روزہ رکھو ، انہوں نے کہا: اس سے زیادہ کی میرے اندر طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تین دن کے روزے رکھ لو ، انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا: حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو ، آپ ﷺ نے اپنی تین انگلیوں سے اشارہ کیا، پہلے بند کیا پھر چھوڑ دیا ٢ ؎۔

Narrated Abdullah ibn al-Harith ; or Uncle of Mujibah al-Bahiliyyah (RA) : The father or Uncle of Mujibah al-Bahiliyyah visited the Messenger of Allah ﷺ . He then went away and came to him (again) after one year when his condition and appearance had changed. He said: Messenger of Allah, do you not recognize me? He asked: Who are you? He replied: I am al-Bahili who came to you last year. He said: What has changed you? You were looking well, then you were good in appearance? He said: I have only food at night since I departed from you. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Why did you torment yourself? Fast during Ramadan (the month of patience) and fast for one day every month. He said: Increase it for me, for I have (more) strength. He said: Fast two days. He again said: Increase it for me. He said: Fast three days. He again said: Increase it for me. He said: Fast during the inviolable months and then stop; fast during the inviolable months and then stop; fast during the inviolable months and then stop. He indicated by his three fingers, and joined them and then opened them.

Notes · وضاحت
١ ؎: برابر روزے رکھ رہا ہوں۔ ٢ ؎: یعنی تین دن روزے رکھو پھر تین دن نہ رکھو، پورے مہینوں میں اسی طرح کرتے رہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/(١٧٤١)، (تحفة الأشراف: ٥٢٤٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الصیام (٢٧٤٣)، مسند احمد (٥/٢٨) (ضعیف) (مجیبة کے بارے میں سخت اختلاف ہے، یہ عورت ہیں یا مرد، صحابی ہیں یا تابعی اسی اضطراب کے سبب اس حدیث کو لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے )
2429Sunan Abu Dawood

محرم کے مہینہ میں روزے رکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ صَلَاةٌ مِنَ اللَّيْلِ. لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ: شَهْرٌ، قَالَ: رَمَضَانُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم کے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے، اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کی نماز (تہجد) ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: The most excellent fast after Ramadan is Allahs month al-Muharram, and the most excellent prayer after the prescribed prayer is the prayer during night.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٨ (١١٦٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٧ (٤٣٨)، الصوم ٤٠ (٧٤٠)، سنن النسائی/قیام اللیل ٦ (١٦١٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٣ (١٧٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٢، ٣٢٩، ٣٤٢، ٣٤٤، ٥٣٥) (صحیح )
2430Sunan Abu Dawood

رجب کے مہینہ میں روزے رکھنا

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ. فَقَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ.

عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ابن عباس ؓ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تو رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: افطار ہی نہیں کریں گے، اسی طرح جب روزے چھوڑتے تو چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: اب روزے رکھیں گے ہی نہیں۔

Narrated Uthman bin Hakim: I asked Saeed bin Jubair about fasting during Rajab. He said: Ibn Abbas told me that the Messenger of Allah ﷺ used to fast to such an extent that we thought that he would never break his fast ; and he would go without fasting to such and extent that he would never fast.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ باب کئی نسخوں میں نہیں ہے، جب کہ مولانا وحیدالزماں کے نسخہ میں موجود ہے، اور تبویب حدیث کے مطابق ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٧)، (تحفة الأشراف: ٥٥٥٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الصیام ٤١ (٢٣٤٨، ٢٣٤٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٠ (١٧١١)، مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٢٧، ٢٣١، ٣٢٦) (صحیح )
2431Sunan Abu Dawood

ماہ شعبان کے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، سَمِعَعَائِشَةَ تَقُولُ: كَانَأَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو مہینوں میں سب سے زیادہ محبوب یہ تھا کہ آپ شعبان میں روزے رکھیں، پھر اسے رمضان سے ملا دیں۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The month most liked by the Messenger of Allah ﷺ for fasting was Shaban. He then joined it with Ramadan.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٦٢٨٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الصیام (٢٦٥٩) (صحیح )
2432Sunan Abu Dawood

ماہ شعبان کے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، فَقَالَ: إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ، فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَافَقَهُ زَيْدٌ الْعُكْلِيُّ وَخَالَفَهُ أَبُو نُعَيْمٍ. قَالَ: مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.

مسلم قرشی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پورے سال کے روزوں کے متعلق پوچھا، یا آپ سے سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم پر تمہارے اہل کا بھی حق ہے، لہٰذا رمضان اور اس کے بعد (والے ماہ میں) روزے رکھو، اور ہر بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھو تو گویا تم نے پورے سال کا روزہ رکھا ۔

Narrated Muslim al-Qurashi (RA) : I asked or someone asked the Prophet ﷺ about perpetual fasting. He replied: You have a duty to your family. Fast during Ramadan and the following month, and every Wednesday and Thursday. You will then have observed a perpetual fast.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٤٥ (٧٤٨)، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٦، ٤/٧٨) (ضعیف) (صحیح مسلم بن عبیداللہ ہے اور یہ لین الحدیث ہیں، ان کے والد کا نام عبیداللہ بن مسلم اور یہ صحابی ہیں )
2433Sunan Abu Dawood

شوال کے مہینہ میں چھ دن کے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ.

ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے ۔

Narrated Abu Ayyub (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone fasts during Ramadan, then follows it with six days in Shawwal, it will be like a perpetual fast.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٢٩ (١١٦٤)، سنن الترمذی/الصوم ٥٣ (٧٥٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٣ (١٧١٦)، (تحفة الأشراف: ٣٤٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١٧، ٤١٩)، سنن الدارمی/الصوم ٤٤ (١٧٩٥) (صحیح )
2434Sunan Abu Dawood

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نفلی روزے کس طرح رکھتے تھے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ. وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ. وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ روزے رکھنا نہیں چھوڑیں گے، پھر چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ ﷺ روزے نہیں رکھیں گے، میں نے آپ ﷺ کو ماہ رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور جتنے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے اتنے روزے کسی اور ماہ میں رکھتے نہیں دیکھا۔

Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : The Messenger of Allah ﷺ used to fast to such an extent that we thought that he would never break his fast, and he would go without fasting to such an extent that we thought he would never fast. I never saw the Messenger of Allah ﷺ fast a complete month except in Ramadan, and I never saw his fast more in any month than in Shaban.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٥٢ (١٩٦٩)، صحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٦)، سنن الترمذی/الصوم ٣٧ (٧٣٦)، سنن النسائی/الصیام ١٩ (٢١٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٧١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٠ (١٧١٠)، موطا امام مالک/الصوم ٢٢ (٥٦)، مسند احمد (٦/٣٩، ٨٠، ٨٤، ٨٩، ١٠٧، ١٢٨، ١٤٣، ١٥٣، ١٦٥، ١٧٩، ٢٣٣، ٢٤٢، ٢٤٩، ٢٦٨) (صحیح )
2435Sunan Abu Dawood

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نفلی روزے کس طرح رکھتے تھے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ. زَادَ: كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ.

ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے شعبان میں روزے رکھتے تھے ۔

The tradition mentioned above has alos been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: He would fast all but a little of Shaban, rather he used to fast the whole of Shaban.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٠١٦) (حسن صحیح )
2436Sunan Abu Dawood

پیر اور جمعرات کاروزہ

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، عَنْ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ أُسَامَةَ إِلَى وَادِي الْقُرَى فِي طَلَبِ مَالٍ لَهُ، فَكَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. فَقَالَ لَهُ مَوْلَاهُ: لِمَ تَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ وَأَنْتَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ؟ فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. وَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ أَعْمَالَ الْعِبَادِ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا قَالَ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ: عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ.

اسامہ بن زید ؓ کے غلام کہتے ہیں کہ وہ اسامہ ؓ کے ہمراہ وادی قری کی طرف ان کے مال (اونٹ) کی تلاش میں گئے (اسامہ کا معمول یہ تھا کہ) دوشنبہ (سوموار، پیر) اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے، اس پر ان کے غلام نے ان سے پوچھا: آپ دوشنبہ (سوموار، پیر) اور جمعرات کا روزہ کیوں رکھتے ہیں حالانکہ آپ بہت بوڑھے ہیں؟ کہنے لگے: نبی اکرم ﷺ دوشنبہ اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے، اور جب آپ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: بندوں کے اعمال دوشنبہ اور جمعرات کو (بارگاہ الٰہی میں) پیش کئے جاتے ہیں ۔

Narrated Usamah ibn Zayd: The client of Usamah ibn Zayd said that he went along with Usamah to Wadi al-Qura in pursuit of his camels. He would fast on Monday and Thursday. His client said to him: Why do you fast on Monday and Thursday, while you are an old man? He said: The Prophet of Allah ﷺ used to fast on Monday and Thursday. When he was asked about it, he said: The works of the servants (of Allah) are presented (to Allah) on Monday and Thursday.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٤١ (٢٣٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٠٠، ٢٠١)، سنن الدارمی/الصوم ٤١ (١٧٩١) (صحیح )
2437Sunan Abu Dawood

ذی الحجہ کی دسویں تاریخ تک روزے رکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ امْرَأَتِهِ، عَن بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ.

ہنیدہ بن خالد کی بیوی سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی کسی بیوی سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی الحجہ کے (شروع) کے نو دنوں کا روزہ رکھتے، اور یوم عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ رکھتے نیز ہر ماہ تین دن یعنی مہینے کے پہلے پیر (سوموار، دوشنبہ) اور جمعرات کا روزہ رکھتے ١ ؎۔

Narrated One of the wives of the Prophet: Hunaydah ibn Khalid narrated from his wife on the authority of one of the wives of the Prophet ﷺ who said: The Messenger of Allah ﷺ used to fast the first nine days of Dhul-Hijjah, Ashura and three days of every month, that is, the first Monday (of the month) and Thursday.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداود کی اس روایت میں اسی طرح واحد کے لفظ کے ساتھ ہے مگر نسائی کی روایت (رقم ٢٣٧٤) میں تثنیہ الخميسين کے لفظ کے ساتھ ہے، اور سیاق وسباق سے یہی متبادر ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر تین دن کی تفصیل نہیں ہو پاتی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٤١ (٢٣٧١)، ٥١ (٢٤١٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧١)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٤٥٢) (صحیح )
2438Sunan Abu Dawood

ذی الحجہ کی دسویں تاریخ تک روزے رکھنا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد بھی (اسے نہیں پاسکتا) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: There is no virtue more to the liking of Allah in any day than in these days, that is, the first ten days of Dhu al-Hijjah. They (the Companions) asked: Messenger of Allah, not even the struggle in the path of Allah (Jihad) ? He said: (Yes), not even the struggle in the path of Allah, except a man who goes out (in the path of Allah) with his life and property, and does not return with any of them.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ١١ (٩٦٩)، سنن الترمذی/الصوم ٥٢ (٧٥٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٩ (١٧٢٧)، (تحفة الأشراف: ٥٦١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٤، ٣٣٨، ٣٤٦)، سنن الدارمی/الصیام ٥٢ (١٨١٤) (صحیح )
2439Sunan Abu Dawood

ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزے نہ رکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا الْعَشْرَ قَطُّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عشرہ ذی الحجہ ١ ؎ میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔

Aishah said: I never saw the Messenger of Allah ﷺ fasting during the first ten days of Dhu al-Hijjah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان نو دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے، خاص کر یوم عرفہ (حاجیوں کے میدان عرفات میں وقوف کے دن ) کے روزے کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے، ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے کبھی روزہ نہ رکھا ہو نیز عائشہ ؓ کے نہ دیکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ روزہ نہ رکھتے رہے ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الاعتکاف ٤ (١١٧٦)، سنن الترمذی/الصوم ٥١ (٧٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٤٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٩ (١٧٢٩)، مسند احمد (٦/٤٢، ١٢٤، ١٩٠) (صحیح )
2440Sunan Abu Dawood

عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عُقَيْلٍ، عَنْ مَهْدِيٍّ الْهَجَرِيِّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے روزے سے منع فرمایا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Ikrimah said: We were with Abu Hurairah in his house when he narrated to us: The Messenger of Allah ﷺ prohibited fasting on the day of Arafah at Arafah.

Notes · وضاحت
١ ؎: یوم عرفہ (عرفہ کے دن) کا روزہ یعنی (٩) ذی الحجہ کے دن کا روزہ، اور سعودی عرب کے ٹائم ٹیبل اور حج کے دن کے اعلان کے مطابق عرفات میں حجاج کے اجتماع کے دن کا روزہ ہے، اور یہ امیر حج کے اعلان کے مطابق مکہ مکرمہ میں اس دن ذی الحجۃ کی (٩) تاریخ ہوگی، اختلاف مطالع کی وجہ سے تاریخوں کے فرق میں عام مسلمان مکہ کی تاریخ کا خیال رکھیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٠ (١٧٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٤، ٤٤٦) (ضعیف) (اس کے راوی ” مہدیٰ الہجری “ لین الحدیث ہیں )
2441Sunan Abu Dawood

عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ. فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَ.

ام الفضل بنت حارث ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس لوگ رسول ﷺ کے یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے روزے سے متعلق جھگڑنے لگے، کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ آپ ﷺ روزے سے ہیں اور کچھ کہہ رہے تھے کہ روزے سے نہیں ہیں چناچہ میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا اس وقت آپ عرفہ میں اپنے اونٹ پر وقوف کئے ہوئے تھے تو آپ نے اسے نوش فرما لیا۔

Umm al-Fadl, daughter of al-Harith, said: On the day of Arafah some people near her argued whether the Messenger of Allah ﷺ was fasting, some saying that he was, and others saying that he was not. I, therefore, sent him a cup of milk while he was observing the halt at Arafah on his camel, and he drank it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٨٥ (١٦٥٨)، الصوم ٦٥ (١٩٨٨)، الأشربة ١٢ (٥٦٠٤)، صحیح مسلم/الصیام ١٨ (١١٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٥٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤٣ (١٣٢)، مسند احمد (٦/٣٣٨، ٣٤٠) (صحیح )
2442Sunan Abu Dawood

عاشورہ کے دن روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةُ، وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ بھی اس کا روزہ نبوت سے پہلے رکھتے تھے، پھر جب آپ ﷺ مدینہ آئے تو آپ نے اس کا روزہ رکھا، اور اس کے روزے کا حکم دیا، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو رمضان کے روزے ہی فرض رہے، اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا اب اسے جو چاہے رکھے جو چاہے چھوڑ دے۔

Aishah said: The Quraish used to fast on the day of Ashurah in pre Islamic days. The Messenger of Allah ﷺ would fast on it in pre-Islamic period. When the Messenger of Allah ﷺ came to Madina, he fasted on it and commanded to fast on it. When the fast of Ramadan was prescribed, that became obligatory, and (fasting on) Ashurah was abandoned. He who wishes may fast on it and he who wishes may leave it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٧١٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصیام ١٩ (١١٢٥)، سنن الترمذی/الصوم ٤٩ (٧٥٣)، موطا امام مالک/الصیام ١١(٣٣)، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٣) (صحیح )
2443Sunan Abu Dawood

عاشورہ کے دن روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا نَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کے روزوں فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ (یوم عاشوراء) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔

Ibn Umar said: Ashurah was a day on which we used to fast in pre-Islamic days. When (fasting of) Ramadan was prescribed, the Messenger of Allah ﷺ said: This is one of the days of Allah ; he who wishes may fast on it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٢)، والتفسیر ٢٤ (٤٥٠١)، صحیح مسلم/الصیام ٢٠ (١١٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨١٤٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٤١ (١٧٣٧)، مسند احمد (٢/٥٧)، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٣) (صحیح )
2444Sunan Abu Dawood

عاشورہ کے دن روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ، فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ، وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ.وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا، اس کے متعلق جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (وضاحت) کو فرعون پر فتح نصیب کی تھی، چناچہ تعظیم کے طور پر ہم اس دن کا روزہ رکھتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم موسیٰ (علیہ السلام) کے تم سے زیادہ حقدار ہیں ، اور آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔

Ibn Abbas said: When the Prophet ﷺ came to Madina, he found the Jews observing fast on the day of Ashurah; so they were asked about it (by the Prophet). They said: This is a day on which Allah gave Moses domination over Pharaoh. We fast on it out of reverence to him. The Messenger of Allah ﷺ said: We have a closer connection with Moses than you have. He then gave orders that it should be observed.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٤)، أحادیث الأنبیاء ٢٤ (٣٣٩٧)، المناقب ٥٢ (٣٩٤٣)، التفسیر ٢ (٤٧٣٧)، صحیح مسلم/الصیام ١٩ (١١٣٠)، (تحفة الأشراف: ٥٤٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ٤٩ (٧٥٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤١ (١٧٣٤)، مسند احمد (١/٢٣٦، ٣٤٠)، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٠) (صحیح )
2445Sunan Abu Dawood

اس بات کا بیان کہ عاشورہ نویں تاریخ کو ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ الْقُرَشِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: حِينَ صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَنَا بِصِيَامِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ صُمْنَا يَوْمَ التَّاسِعِ. فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا اور ہمیں بھی اس کے روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ یہود و نصاری اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگلے سال ہم نویں محرم کا بھی روزہ رکھیں گے ، لیکن آئندہ سال نہیں آیا کہ آپ وفات فرما گئے ١ ؎۔

Ibn Abbas said: When the Prophet ﷺ on the day of Ashurah and commanded us to fast on it, they (i. e. Companions) said: Messenger of Allah, this is a day which is considered great by Jews and Christians ? The Messenger of Allah ﷺ said: When the next year comes, we shall fast on the 9th of Muharram. But the next year the Messenger of Allah ﷺ breathed his last.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہود کی مخالفت میں اس کے ساتھ نو کو بھی روزہ رکھنے کا عزم کیا تھا اور قولا اس کا حکم بھی دیا تھا، ویسے ایک دن پہلے بھی روزہ رہنے سے شکرانہ ادا ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٢٠ (١١٣٤)، (تحفة الأشراف: ٦٥٦٦) (صحیح )
2446Sunan Abu Dawood

اس بات کا بیان کہ عاشورہ نویں تاریخ کو ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ غَلَّابٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِيحَاجِبُ بْنُ عُمَرَ، جَمِيعًا الْمَعْنَى عَنْ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ. فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ. فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ التَّاسِعِ فَأَصْبِحْ صَائِمًا. فَقُلْتُ: كَذَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ؟ فَقَالَ: كَذَلِكَ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ.

حکم بن الاعرج کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ مسجد الحرام میں اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے، میں نے عاشوراء کے روزے سے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: جب تم محرم کا چاند دیکھو تو گنتے رہو اور نویں تاریخ آنے پر روزہ رکھو، میں نے پوچھا: محمد ﷺ بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: (ہاں) محمد ﷺ بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے ١ ؎۔

Al-Hakam bin al-Araj said: I came to Ibn Abbas who was leaning against his sheet of cloth in the Sacred Mosque (al-Masjid al-Haram). I asked him about fasting on the day of Ashurah. He said: When you sight the moon of al-Muharram, count (the days). When the 9th of Muharram comes, fast from the morning. I said: Would Muhammad ﷺ observe this fast ? He replied: Thus Muhammad ﷺ used to fast.

Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلی حدیث میں ہے ” آئندہ سال آیا نہیں کہ آپ وفات پا گئے “ اور اس حدیث میں ہے، ” محمد ﷺ بھی اسی طرح (نو محرم کا) روزہ رکھتے تھے “ بات صحیح یہی ہے کہ نو کے روزہ رکھنے کا آپ ﷺ کو موقع نہیں ملا، لیکن ابن عباس ؓ نے اس بنا پر کہہ دیا کہ آپ ﷺ نے آئندہ سے روزہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا، نیز قولا اس کا حکم بھی دیا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٢٠ (١١٣٣)، سنن الترمذی/الصوم ٥٠ (٧٥٤)، (تحفة الأشراف: ٥٤١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٩، ٢٤٦، ٢٨٠، ٣٤٤، ٣٦٠) (صحیح )