جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ saw a man who had been put in the shade and saw a crowd of people around him (in the course of a journey). He said: Fasting while on journey is not part of righteousness.
انس بن مالک ١ ؎ ؓ سے روایت ہے (جو بنی قشیر کے برادران بنی عبداللہ بن کعب کے ایک فرد ہیں) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے گھوڑ سوار دستے نے ہم پر حملہ کیا، میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس پہنچا، یا یوں کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف چلا، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: بیٹھو، اور ہمارے کھانے میں سے کچھ کھاؤ ، میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا بیٹھو، میں تمہیں نماز اور روزے کے بارے میں بتاتا ہوں: اللہ نے (سفر میں) نماز آدھی کردی ہے، اور مسافر، دودھ پلانے والی، اور حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے ، قسم اللہ کی! آپ ﷺ نے دونوں کا ذکر کیا یا ان دونوں میں سے کسی ایک کا، مجھے رسول اللہ ﷺ کے کھانے میں سے نہ کھا پانے کا افسوس رہا۔
Narrated Anas ibn Malik: A man from Banu Abdullah ibn Kab brethren of Banu Qushayr (not Anas ibn Malik, the well-known Companion), said: A contingent from the cavalry of the Messenger of Allah ﷺ raided us. I reached (for he said went) to the Messenger of Allah ﷺ who was taking his meals. He said: Sit down, and take some from this meal of ours. I said: I am fasting, he said: Sit down, I shall tell you about prayer and fasting. Allah has remitted half the prayer to a traveller, and fasting to the traveller, the woman who is suckling an infant and the woman who is pregnant, I swear by Allah, he mentioned both (i. e. suckling and pregnant women) or one of them. I was grieved for not taking the food of the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ انس بن مالک ؓ رسول اللہ ﷺ کے خادم خاص کے علاوہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٢١ (٧١٥)، سنن النسائی/الصیام ٢٨ (٢٢٧٦)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٢ (١٦٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٧، ٥/٢٩) (حسن صحیح )
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کسی غزوے میں نکلے، گرمی اس قدر شدید تھی کہ شدت کی وجہ سے ہم میں سے ہر شخص اپنا ہاتھ یا اپنی ہتھیلی اپنے سر پر رکھ لیتا، اس موقعے پر رسول اللہ ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔
Narrated Abu al-Darda: We went out along with the Messenger of Allah ﷺ for some battle in intense heat, so much so that one of us placed his hand on his head, or placed his palm on his head, due to intense heat, No one of us fasted except the Messenger of Allah ﷺ and Abdullah bin Rawahah.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٥(١٩٤٥)، صحیح مسلم/الصیام ١٧(١١٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٧٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ١٠ (١٦٦٣)، مسند احمد (٥/١٩٤، ٦/١٤٤) (صحیح )
سلمہ بن محبق ہذلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس منزل پر ایسی سواری ہو جو اسے ایسی جگہ پہنچا سکے جہاں اسے راحت و آسودگی ملے تو وہ جہاں بھی رمضان کا مہینہ پالے روزے رکھے ۔
Narrated Salamah ibn al-Muhabbaq al-Hudhali (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone has a riding beast which carries him to where he can get sufficient food, he should keep the fast of Ramadan wherever he is when it comes.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٥٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٤، ٤٧٦، ٥/٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الصمد ضعیف ہیں )
سلمہ بن محبق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حالت سفر میں رمضان جسے پالے …، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Narrated Salamah bin al-Muhabbaq (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone is on a journey and Ramadan comes. . . He then narrated the rest of the tradition to the same effect.
عبید بن جبر کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے صحابی ابو بصرہ غفاری ؓ کے ہمراہ رمضان میں ایک کشتی میں تھا جو فسطاط شہر کی تھی، کشتی پر بیٹھے ہی تھے کہ صبح کا کھانا آگیا، (جعفر کی روایت میں ہے کہ) شہر کے گھروں سے ابھی آگے نہیں بڑھے تھے کہ انہوں نے دستر خوان منگوایا اور کہنے لگے: نزدیک آجاؤ، میں نے کہا: کیا آپ (شہر کے) گھروں کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ (ابھی تو شہر بھی نہیں نکلا اور آپ کھانا کھا رہے ہیں) کہنے لگے: کیا تم رسول اللہ ﷺ کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ (جعفر کی روایت میں ہے) تو انہوں نے کھانا کھایا۔
Narrated Abu Busrah al-Ghifari,: Jafar ibn Jubayr said: I accompanied Abu Busrah al-Ghifari, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ , in a boat proceeding from al-Fustat (Cairo) during Ramadan. He was lifted (to the boat), then his meal was brought to him. The narrator Jafar said in his version: He did not go beyond the houses (of the city) but he called for the dining sheet. He said (to me): Come near. I said: Do you not see the houses? Abu Busrah said: Do you detest the sunnah (practice) of the Messenger of Allah ﷺ ? The narrator Jafar said in his version: He then ate (it).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٤٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧، ٣٩٨) سنن الدارمی/الصوم ١٧(١٧٥٤) (صحیح )
منصور کلبی سے روایت ہے کہ دحیہ بن خلیفہ کلبی ؓ ایک بار رمضان میں دمشق کی کسی بستی سے اتنی دور نکلے جتنی دور فسطاط سے عقبہ بستی ہے اور وہ تین میل ہے، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھ کے کچھ لوگوں نے تو روزہ توڑ دیا لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے روزہ توڑنے کو ناپسند کیا، جب وہ اپنی بستی میں لوٹ کر آئے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! آج میں نے ایسا منظر دیکھا جس کا میں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا، لوگوں نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے طریقے سے اعراض کیا، یہ بات وہ ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے، جنہوں نے سفر میں روزہ رکھا تھا، پھر انہوں نے اسی وقت دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے (ی عنی اس پر آشوب دور میں زندہ رہنے سے موت اچھی ہے) ۔
Narrated Dihyah (RA) : Mansur al-Kalbi said: Dihyah ibn Khalifah once went out from a village of Damascus at as much distance as it measures between Aqabah and al-Fustat during Ramadan; and that is three miles. He then broke his fast and the people broke their fast along with him. But some of them disliked to break their fast. When he came back to his village, he said: I swear by Allah, today I witnessed a thing of which I could not even think to see. The people detested the way of the Messenger of Allah ﷺ and his Companions. He said this to those who fasted. At this moment he said: O Allah, make me die.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٥٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٩٨) (ضعیف) (اس کے راوی منصور کلبی مجہول ہیں )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور پورے رمضان کا قیام کیا ۔ راوی حدیث کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺ کی یہ ممانعت خود اپنے آپ کو پاکباز و عبادت گزار ظاہر کرنے کی ممانعت کی بنا پر تھی، یا اس وجہ سے تھی کہ وہ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ سویا ضرور ہوگا (اس طرح یہ غلط بیانی ہوجائے گی) ۔
Narrated Abu Bakrah (RA) : The Prophet ﷺ said: One of you should not say: I fasted the whole of Ramadan, and I prayed during the night in the whole of Ramadan. I do not know whether he disliked the purification; or he (the narrator) said: He must have slept a little and taken rest.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٤ (٢١١١)، (تحفة الأشراف: ١١٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٠، ٤١، ٤٨، ٥٢) (ضعیف) (اس کے راوی حسن بصری مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں عمر ؓ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے: عید الاضحی کے روزے سے تو اس لیے کہ تم اس میں اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو، اور عید الفطر کے روزے سے اس لیے کہ تم اپنے روزوں سے فارغ ہوتے ہو۔
Narrated Abu Ubaid: I attended the Eid (prayer) along with Umar. He offered prayer before the sermon. He then said: The Messenger of Allah ﷺ prohibited fasting on these two days. As regards Id al-Adha, you eat the meat of your sacrificial animals. As for Eid al-Fitr, you break (i. e. end) your fast.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٦ (١٩٩٠)، الأضاحی ١٦ (٥٥٧١)، صحیح مسلم/الصیام ٢٢ (١١٣٧)، سنن الترمذی/الصوم ٥٨ (٧٧١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٦ (١٧٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٦٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العیدین ٢ (٥)، مسند احمد (١/٢٤، ٣٤، ٤٠) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا: ایک عید الفطر کے دوسرے عید الاضحی کے، اسی طرح دو لباسوں سے منع فرمایا ایک صمّاء ١ ؎ دوسرے ایک کپڑے میں احتباء ٢ ؎ کرنے سے (جس سے ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے) نیز دو وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: ایک فجر کے بعد، دوسرے عصر کے بعد۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade fasting on two days, al-Fitr (breaking the fast of Ramadan) and al-Adha (the day of sacrifice), and wearing a tight single garment the raising of which discloses private parts, and sitting with ones legs drawn up and wrapped in ones garment, and forbade praying at two hours, after the Fajr prayer and after the Asr prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: صماء کی صورت یہ ہے کہ آدمی پورے جسم پر کپڑا لپیٹ لے جس میں کوئی ایسا شگاف نہ ہو کہ ہاتھ باہر نکال سکے اور اپنے ہاتھ سے کوئی موذی چیز دفع کرسکے۔ ٢ ؎: احتباء کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ دے لے۔
ام ہانی ؓ کے غلام ابو مرہ سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو ؓ کے ہمراہ ان کے والد عمرو بن العاص ؓ کے پاس گئے تو انہوں نے دونوں کے لیے کھانا پیش کیا اور کہا کہ کھاؤ، تو عبداللہ بن عمرو ؓ نے کہا: میں تو روزے سے ہوں ، اس پر عمرو ؓ نے کہا: کھاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ان دنوں میں روزہ توڑ دینے کا حکم فرماتے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ مالک کا بیان ہے کہ یہ ایام تشریق کی بات ہے۔
Abu Murrah, the client of Umm Hani, entered along with Abdullah bin Amr upon his father Amr bin As and he brought food for him. He said: Eat. He said: I am fasting. Amr said: Eat, these are the days on which the Messenger of Allah ﷺ used to command us to break fast, and forbid us to keep fast. The narrator Malik said: These are the day of al-tashriq (i. e. 11th, 12th, and 13th of Dhu al-Hijjah).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤٤(١٣٧)، مسند احمد (٤/١٩٧)، سنن الدارمی/الصوم ٤٨ (١٨٠٨) (صحیح )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یوم عرفہ یوم النحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہے، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔
Narrated Uqbah ibn Amir: The Prophet ﷺ said: The day of Arafah, the day of sacrifice, the days of tashriq are (the days of) our festival, O people of Islam. These are the days of eating and drinking.
عبداللہ بن بسر سلمی مازنی ؓ اپنی بہن مّاء ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرض روزے کے علاوہ کوئی روزہ سنیچر (ہفتے) کے دن نہ رکھو اگر تم میں سے کسی کو (اس دن کا نفلی روزہ توڑنے کے لیے) کچھ نہ ملے تو انگور کا چھل کہ یا درخت کی لکڑی ہی چبا لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ منسوخ حدیث ہے ١ ؎۔
Narrated As-Samma sister of Abdullah ibn Busr (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not fast on Saturday except what has been made obligatory on you; and if one of you can get nothing but a grape skin or a piece of wood from a tree, he should chew it.
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اس میں کراہت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی سنیچر کو روزہ کے لئے مخصوص کر دے، کیونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، اس تأویل کی صورت میں امام ابوداود کا اسے منسوخ کہنا درست نہیں ہے، اور کسی صورت میں اس حدیث میں اور اگلے باب کی حدیث ( اور اس دن کے صیام نبوی کی احادیث) میں کوئی تعارض نہیں باقی رہ جاتا، کہ روزہ رکھنے کی صورت میں اس دن کو مخصوص نہیں کیا گیا، ( ملاحظہ ہو: تہذیب السنن لابن القیم ٣ ؍ ٢٩٧- ٣٠١، و زاد المعاد ١ ؍ ٢٣٧- ٢٣٨، و صحیح ابی داود ٧ ؍ ١٨٠)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٤٣ (٧٤٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٨ (١٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٠، ١٨٩٦٤، ١٩٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٨)، سنن الدارمی/الصوم ٤٠ (١٧٩٠) (صحیح )
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لائے اور وہ روزے سے تھیں تو آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا؟ کہا: نہیں، فرمایا: کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ بولیں: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر روزہ توڑ دو ۔
Narrated Juwairiyah, daughter of al-Harith (RA) : That the Prophet ﷺ entered upon her on Friday while she was fasting. He asked: Did you fast yesterday ? She said: No. He again asked: Do you intend to fast tomorrow ? She said: No. He said: So break your fast.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٣ (١٩٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ (٢٧٥٤)، مسند احمد (٦/٣٢٤، ٤٣٠) (صحیح )
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ ان کے سامنے جب سنیچر (ہفتے) کے دن روزے کی ممانعت کا تذکرہ آتا تو کہتے کہ یہ حمص والوں کی حدیث ہے ١ ؎۔
Narrated Al-Laith (RA) : When it was mentioned to Ibn Shihab (al-Zuhri) that fasting on Saturday had been prohibited, he would say: This is a Himsi tradition.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس جملہ سے حدیث نمبر (٢٤٢١) کی تضعیف مقصود ہے لیکن، صحیح حدیث کی تضعیف کا یہ انداز بڑا عجیب و غریب ہے، بالخصوص امام زہری جیسے جلیل القدر امام سے، ائمۃ حدیث نے حدیث کی تصحیح فرمائی ہے ( ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٧ ؍ ١٧٩ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث (٢٤٢١)، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٠) (صحیح )
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں برابر عبداللہ بن بسر ؓ کی حدیث (یعنی سنیچر (ہفتے) کے روزے کی ممانعت والی حدیث) کو چھپاتا رہا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں میں مشہور ہوگئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: یہ روایت جھوٹی ہے ١ ؎۔
Al-Auzai said: I always concealed it, but I found that it became known widely, that is, the tradition on Ibn Busr about fasting on Saturday. Abu Dawud said: Malik said: This is a false (tradition).
Notes · وضاحت
١ ؎: امام مالک کا یہ قول مرفوض ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث (٢٤٢١)، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٠) (صحیح )
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزہ کس طرح رکھتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ کو اس کے اس سوال پر غصہ آگیا، عمر ؓ نے جب یہ منظر دیکھا تو کہا: رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا نعوذ بالله من غضب الله ومن غضب رسوله ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی و مطمئن ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں عمر ؓ یہ کلمات برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا، پھر (عمر ؓ نے) پوچھا: اللہ کے رسول! جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: نہ اس نے روزہ ہی رکھا اور نہ افطار ہی کیا ۔ پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص دو دن روزہ رکھتا ہے، اور ایک دن افطار کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی کسی کے اندر طاقت ہے بھی؟ ۔ (پھر) انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص ایک دن روزہ رکھتا ہے، اور ایک دن افطار کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے ۔ پوچھا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے، اور دو دن افطار کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ مجھے بھی اس کی طاقت ملے پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ہر ماہ کے تین روزے اور رمضان کے روزے ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہیں، یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا، اور اللہ سے یہ بھی امید کرتا ہوں کہ یوم عاشورہ (دس محرم الحرام) کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوگا ۔
Narrated Abu Qatadah (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said: How do you fast, Messenger of Allah? The Messenger of Allah ﷺ became angry at what he said. When Umar observed this (his anger), he said: We are satisfied with Allah as Lord, with Islam as religion, and with Muhammad as Prophet. We seek refuge in Allah from the anger of Allah, and from the anger of His Messenger. Umar continued to repeat these words till his anger cooled down. He then asked: Messenger of Allah, what is the position of one who observes a perpetual fast? He replied: May he not fast or break his fast. Musaddad said in his version: He has neither fasted nor broken his fast. The narrator, Ghaylan, doubted the actual wordings. He asked: What is the position of one who fasts two days and does not fast one day? He said: Is anyone able to do that? He asked: What is the position of one who fasts every second day (i. e. fasts one day and does not fasts the next day)? He (the Prophet) said: This is the fast that David observed. He asked: Messenger of Allah, what is the position of one who fasts one day and breaks it for two days? He replied: I wish I were given the power to observe that. Then the Messenger of Allah ﷺ said: The observance of three days fast every month and of one Ramadan to the other (i. e. the fast of Ramadan every year) is (equivalent to) a perpetual fast. I seek from Allah that fasting on the day of Arafah may atone for the sins of the preceding and the coming year, and I seek from Allah that fasting on the day of Ashura may atone for the sins of the preceding year.
اس سند سے بھی ابوقتادہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: کہا: اللہ کے رسول! دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کے متعلق بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا ۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢١١٧) (صحیح )
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Qatadah through a different chain of narrators. This version add: He said: Messenger of Allah, tell me about keeping fast on Monday and Thursday. He said: On it I was born, and on it the Quran was first revealed to me.