ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کردیا، جس کو آپ ﷺ نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man asked the Prophet ﷺ whether one who was fasting could embrace (his wife) and he gave him permission; but when another man came to him, and asked him, he forbade him. The one to whom he gave permission was an old man and the one whom he forbade was a youth.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١٩٨) (حسن صحیح )
ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حالت جنابت میں صبح کرتے۔ عبداللہ اذرمی کی روایت میں ہے: ایسا رمضان میں احتلام سے نہیں بلکہ جماع سے ہوتا تھا، پھر آپ روزہ سے رہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کتنی کم تر ہے اس شخص کی بات جو یہ یعنی يصبح جنبا في رمضان کہتا ہے، حدیث تو (جو کہ بہت سے طرق سے مروی ہے) یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ جنبی ہو کر صبح کرتے تھے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) and Umm Salamah, wives of the Prophet ﷺ : The Messenger of Allah ﷺ would be overtaken by the dawn when he was in a state of sexual defilement. The narrator Abdullah al-Adhrami said in his version: During Ramadan, due to sexual intercourse and no owing to a dream (i. e. nocturnal emission), and would fast. Abu Dawud said: How brief is this sentence uttered by the narrator, this is, he was overtaken by daw when he was in the state of sexual defilement? The tradition says: The Prophet ﷺ was overtaken by dawn in the state of sexual defilement when he was fasting.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میں جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنا چاہتا ہوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں پھر غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھ لیتا ہوں ، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو ہماری طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر رکھے ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ غصہ ہوگئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، اور مجھے کیا کرنا ہے اس بات کو بھی تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔
Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : A man said to Messenger of Allah ﷺ : Messenger of Allah, I was overtaken by dawn while I was sexually defiled, and I want to keep fast. The Messenger of Allah ﷺ said: I am also overtaken by dawn while I am in the state of sexual defilement ; I also want to keep fast. I take a bath and I keep fast. The man said: Messenger of Allah, you are not like us ; Allah has forgiven you your past and future sins. The Messenger of Allah ﷺ became angry and said: I swear by Allah, I hope I shall be the most fearful of you of Allah, and most familiar of you with what I follow.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ١٣ (١١١٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام ٤ (٩)، مسند احمد (٦/٦٧، ١٥٦، ٢٤٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہوگیا آپ ﷺ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرلیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کرسکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت ہے؟ کہا: نہیں، فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ ، کہا: نہیں، فرمایا: بیٹھو ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا آگیا، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، کہنے لگا: اللہ کے رسول! مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ ہے ہی نہیں، اس پر رسول ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہوگئے اور فرمایا: اچھا تو انہیں ہی کھلا دو ۔ مسدد کی روایت میں ایک دوسری جگہ ثناياه کی جگہ أنيابه ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said: I am undone. He asked him: What has happened to you ? He said: I had intercourse with my wife in Ramadan (while I was fasting). He asked: Can you set a slave free ? He said: No. He again asked: Can you fast for two consecutive months ? He said: No. He asked: Can you provide food for sixty poor people ? He said: No. He said: Sit down. Then a huge basket containing dates (araq) was brought to the Prophet ﷺ . He then said to him: Give it as sadaqah (i. e. alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer family than mine between the two lave plains of it (Madina). The Messenger of Allah ﷺ laughed so that his eye-teeth became visible, and said: Give it to your family to eat. Musaddad said in another place: his canine teeth.
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں زہری نے یہ الفاظ زائد کہے کہ یہ (کھجوریں اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دینے کا حکم) اسی شخص کے ساتھ خاص تھا اگر اب کوئی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اسے کفارہ ادا کئے بغیر چارہ نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، اوزاعی، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے ابن عیینہ کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے اور اوزاعی نے اس میں واستغفر الله اور اللہ سے بخشش طلب کر کا اضافہ کیا ہے۔
This tradition has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. Al-Zuhri added in his version: This was a special concession for him. If a man commits this act today, the expiation is necessary for him. Abu Dawud said: Al-Laith bin Saad, al-Awzai, Mansur bin al-Mutamir and Irak bin Malik have narrated this tradition like the one narrated by Ibn Uyainah. Al-Awzai narrated in his version the words: Beg pardon of Allah.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٥) (صحیح) (لیکن زہری کے بات خلاف اصل ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک غلام آزاد کرنے، یا دو مہینے کا مسلسل روزے رکھنے، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا، وہ شخص کہنے لگا کہ میں تو (ان میں سے) کچھ نہیں پاتا، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا آگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں لے لو اور صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ ضرورت مند تو کوئی ہے ہی نہیں، اس پر آپ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت نظر آنے لگے اور اس سے فرمایا: تم ہی اسے کھا جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے زہری سے مالک کی روایت کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ دیا، اس میں ہے أو تعتق رقبة أو تصوم شهرين أو تطعم ستين مسكينا ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : (A man broke his fast intentionally) during Ramadan. The Messenger of Allah ﷺ commanded him to emancipate a slave, or fast for two months, or feed sixty poor men. He said: I cannot provide. The Messenger of Allah ﷺ said: Sit down. Thereafter a huge basket of dates (araq) was brought to the Messenger of Allah ﷺ . He said: Take this and give it as sadaqah (alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer than I. The Messenger of Allah ﷺ thereupon laughed so that his canine teeth became visible and said: Eat it yourself. Abu Dawud said: Ibn Juraij narrated it from al-Zuhri in the wordings of the narrator Malik that a man broke his fast. This version says: You should either free a slave, or fast for two months, or provide food for sixty poor men.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی غائب کے بجائے حاضر کے صیغے کے ساتھ اور بغیر متتابعين کے ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٣٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اس نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آگے اوپر والی حدیث کا ذکر ہے اس میں ہے: پھر آپ ﷺ کے پاس ایک بڑا تھیلا آیا جس میں پندرہ صاع کے بقدر کھجوریں تھیں، اور اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے تم اور تمہارے گھر والے کھاؤ، اور ایک دن کا روزہ رکھ لو، اور اللہ سے بخشش طلب کرو ۔
Abu Hurairah said: A man came to the Prophet ﷺ . He broke his fast during Ramadan. He then narrated the rest of this tradition adding: Then a huge basket containing fifteen sas of dates was brought to him. He said: Eat it yourself and your family and keep one fast and beg pardon of Allah.
عباد بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص رمضان میں مسجد کے اندر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں تو بھسم ہوگیا، آپ ﷺ نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی سے صحبت کرلی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اور نہ میرے اندر استطاعت ہے، فرمایا: بیٹھ جاؤ ، وہ بیٹھ گیا، اتنے میں ایک شخص غلے سے لدا ہوا گدھا ہانک کر لایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ابھی بھسم ہونے والا کہاں ہے؟ وہ شخص کھڑا ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے صدقہ کر دو ، بولا: اللہ کے رسول! کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم! ہم بھوکے ہیں، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، فرمایا: اسے تم ہی کھالو ۔
Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : A man came to the Prophet ﷺ during Ramadan in the mosque. He said: Messenger of Allah, I am burnt. The Prophet ﷺ asked him what happened to him. He said: I had sexual intercourse with my wife. He said: Give sadaqah (alms). He said: I swear by Allah, I possess nothing with me, and I cannot do this. He said: Sit down. He sat down. While he was waiting, a man came forward driving his donkey loaded with food. The Messenger of Allah ﷺ said: Where is the man who was burnt just now ? Thereupon the man stood up. The Messenger of Allah ﷺ said: Give it as sadaqah (alms). He asked: Messenger of Allah, to others than us ? By Allah. we are hungry, we have nothing (to eat). He said: Eat it yourselves.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہی قصہ مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک ایسا تھیلا لایا گیا جس میں بیس صاع کھجوریں تھیں۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators. This version adds: A huge basket containing twenty sas (of dates) was brought.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٧٦) (منكر) (مقدار کی بات منکر ہے جو مؤلف کے سوا کسی کے یہاں نہیں ہے) نوٹ: سند ایک ہے، لیکن اگلی حدیث کے حکم میں اختلاف ہے
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن کا روزہ توڑ دیا تو اس کی قضاء زمانہ بھر کے روزے بھی نہیں کرسکیں گے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone breaks his fast one day in Ramadan without a concession granted to him by Allah, a perpetual fast will not atone for it.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٢٧ (٧٢٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨٦، ٤٤٢، ٤٥٨، ٤٧٠)، سنن الدارمی/الصوم ١٨ (١٧٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالمطوس لین الحدیث اور اس کے والد مجہول ہیں )
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے ابن کثیر اور سلیمان کی حدیث نمبر (٢٣٩٦) کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators similar to the tradition narrated by Ibn Kathir and Sulaiman. Abu Dawud said: Sufyan and Shubah differed among themselves on the name of the narrator Ibn al-Mutawwas and Abu al-Mutawwas.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھول کر کھا پی لیا، اور میں روزے سے تھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, I ate and drank in forgetfulness when I was fasting. Hie said: Allah had fed you and given you drink.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٤٣٠، ١٤٤٦٠، ١٤٤٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢٦(١٩٣٣)، صحیح مسلم/الصیام ٣٣ (١١٥٥)، سنن الترمذی/الصوم ٢٦ (٧٢١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٣)، مسند احمد (٢/٣٩٥، ٥١٣، ٤١٥، ٤٩١)، سنن الدارمی/الصوم ٢٣ (١٧٦٧) (صحیح )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے سنا: مجھ پر ماہ رمضان کی قضاء ہوتی تھی اور میں انہیں رکھ نہیں پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آجاتا۔
Narrated Aisha (RA) : If I had some part of the fast of Ramadan to make up, I would not be able to atone for it except in Shaban.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٤٠ (١٩٥٠)، صحیح مسلم/الصیام ٢٦ (١١٤٦)، ن الصیام ٣٦ (٢٣٢١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٣ (١٦٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصیام ٦٦ (٧٨٣)، موطا امام مالک/الصیام ٢٠ (٥٤)، مسند احمد (٦/١٢٤، ١٧٩) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص فوت ہوجائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔
Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone dies when some fast is due from him (i. e. which he could not keep) his heir must fast on his behalf. Abu Dawud said: This applies to the fast which a man vows ; and this is the opinion of Ahmad bin Hanbal.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب آدمی رمضان میں بیمار ہوجائے پھر مرجائے اور روزے نہ رکھ سکے تو اس کی جانب سے کھانا کھلایا جائے گا اور اس پر قضاء نہیں ہوگی اور اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا ولی اس کی جانب سے پورا کرے گا۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : If a man falls ill during Ramadan and he dies, while he could not keep the fast, food will be provided (for the poor men) on his behalf ; there is no atonement (for his fasts) due from him. If there is some vow which he could not fulfill, his heir must atone on his behalf.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزے رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو ۔
Narrated Aisha (RA) : Hamzat al-Aslami asked the Prophet ﷺ : Messenger of Allah, I am a man who keeps perpetual fast, may I fast while on a journey? He replied: Fast if you like, or break your fast if you like.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ١٧ (١١٢١)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٣٣ (١٩٤٢)، سنن الترمذی/الصوم ١٩ (٧١١)، سنن النسائی/الصیام ٣١ (٢٣٠٨)، ٤٣ (٢٣٨٦)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٠ (١٦٦٢)، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٣٤)، مسند احمد (٦/٤٦، ٩٣، ٢٠٢، ٢٠٧)، سنن الدارمی/الصوم ١٥(١٧٤٨) (صحیح )
Narrated Aishah: Hamzat al-Aslami asked the Prophet ﷺ: Messenger of Allah, I am a man who keeps perpetual fast, may I fast while on a journey? He replied: Fast if you like, or break your fast if you like.
حمزہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں سواریوں والا ہوں، انہیں لے جایا کرتا ہوں، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرایہ پر بھی دیتا ہوں، اور بسا اوقات مجھے یہی مہینہ یعنی رمضان مل جاتا ہے اور میں جوان ہوں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ روزہ مؤخر کرنے سے آسان یہ ہے کہ اسے رکھ لیا جائے، تاکہ بلاوجہ قرض نہ بنا رہے، اللہ کے رسول! میرے لیے روزہ رکھنے میں زیادہ ثواب ہے یا چھوڑ دینے میں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حمزہ! جیسا بھی تم چاہو ۔
Narrated Hamzat al-Aslami (RA) : I said: Messenger of Allah. I am a master of mounts and I use them! I myself travel on them and I rent them. This month, that is, Ramadan, happend to come to me (while I am on a journey), and I find myself strong enough (to fast) as I am young, and I find that it is easier for me to fast than to postpone it, and i becomes debt due from me. Does it bring me more reward, Messenger of Allah, if I fast, or if I break ? He replied: Whichever you like, Hamzah.
Takhrij · تخریج
تفرد المؤلف بہذا السیاق، وانظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٤٠) (ضعیف) (اس کے رواة محمد بن حمزة اور محمد بن عبد المجید لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے یہاں تک کہ مقام عسفان پر پہنچے، پھر آپ ﷺ نے (پانی وغیرہ کا) برتن منگایا اور اسے اپنے منہ سے لگایا تاکہ آپ اسے لوگوں کو دکھا دیں (کہ میں روزے سے نہیں ہوں) اور یہ رمضان میں ہوا، اسی لیے ابن عباس ؓ کہتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ left Madina for Makkah till he reached Usfan, He then called for a vessel (of water). It was raised to his mouth to show it to the people, and that was in Ramadan. Ibn Abbas used to say: The Prophet ﷺ fasted and he broke his fast. He who likes may fast and he who likes may break.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٨ (١٩٤٨)، صحیح مسلم/الصیام ١٥ (١١١٣)، سنن النسائی/الصیام ٣١ (٢٢٩٣)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ١٠(١٦٦١)، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢١)، مسند احمد (١/٢٤٤، ٣٥٠)، سنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧٤٩) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا تو ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا تو نہ تو روزہ توڑنے والوں نے، روزہ رکھنے والوں پر عیب لگایا، اور نہ روزہ رکھنے والوں نے روزہ توڑنے والوں پر عیب لگایا۔
Narrated Anas (RA) : We travelled along with the Prophet ﷺ during Ramadan. Some of us were fasting and other broke their fast. Those who fasted did not find fault with those who broke, and those who broke their fast did not find fault with those who fasted.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٧ (١٩٤٧)، صحیح مسلم/الصیام ١٥ (١١١٨)، (تحفة الأشراف: ٦٦٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢٣) (صحیح )
قزعہ کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری ؓ کے پاس آیا اور وہ لوگوں کو فتوی دے رہے تھے، اور لوگ ان پر جھکے جا رہے تھے تو میں تنہائی میں ملاقات کی غرض سے انتظار کرتا رہا، جب وہ اکیلے رہ گئے تو میں نے سفر میں رمضان کے مہینے کے روزے کا حکم دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم فتح مکہ کے سال رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر پر نکلے، سفر میں اللہ کے رسول بھی روزے رکھتے تھے اور ہم بھی، یہاں تک کہ جب منزلیں طے کرتے ہوئے ایک پڑاؤ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اب تم دشمن کے بالکل قریب آگئے ہو، روزہ چھوڑ دینا تمہیں زیادہ توانائی بخشے گا ، چناچہ دوسرے دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہیں رکھا، پھر ہمارا سفر جاری رہا پھر ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: صبح تم دشمن کے پاس ہو گے اور روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ قوت بخش ہے، لہٰذا روزہ چھوڑ دو ، یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے تاکید تھی۔ ابوسعید کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس سے پہلے بھی روزے رکھے اور اس کے بعد بھی۔
Narrated Qazaah (RA) : I came to Abu Saeed al-Khudri while he was giving his legal opinion to the people who bent down on him. So I waited to see hi when he was alone. When he became alone, I asked him about keeping fast while travelling. He said: we went out along with the Prophet ﷺ in Ramadan in the year of conquest of Makkah. The Messenger of Allah ﷺ fasted and we fasted until he reached a certain stage. He said: You have come near your enemy; the breaking of fast will bring you more strength. Then morning came when some of us fasted and other broke their fast. He (Abu Saeed al-Khudri) said: We then proceeded and alighted at a stage. He said: You are going to attack your enemy tomorrow morning ; breaking the fast will bring you more strength ; so break your fast (i. e. do not keep fast). This resolution (of breaking the fast) took place (due to the announcement) from the Messenger of Allah ﷺ . Abu Saeed said: Then I found myself keeping fast along with the Prophet ﷺ before and after that.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ١٦ (١١٢٠)، (تحفة الأشراف: ٤٢٨٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصیام ٣١ (٢٣١١)، مسند احمد (٣/٣٥) (صحیح )