ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پچھنا لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
Narrated Thawban (RA) : The Prophet ﷺ said: A man who cupped and a man who has himself cupped broke their fast. The narrator Shayban said in his version: Abu Qilabah told me that Abu Asma ar-Rahbi told him that Thawban, the client of the Messenger of Allah ﷺ , told him that he heard the Prophet ﷺ say this.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ١٨ (١٦٨٠)، (تحفة الأشراف: ٢١٠٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٣١٣٥)، مسند احمد (٥/٢٧٦، ٢٧٧، ٢٨٠، ٢٨٢، ٢٨٣)، سنن الدارمی/الصوم ٣٦ (١٧٧٤) (صحیح )
ابوقلابہ جرمی نے خبر دی ہے کہ شداد بن اوس ؓ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے کہ اسی دوران (آپ نے فرمایا) ، آگے راوی نے اس سے پہلی والی حدیث کی طرح بیان کیا۔
Narrated Shaddad ibn Aws (RA) : The tradition mentioned above (No. 2361) has also been transmitted by Shaddad ibn Aws through a different chain of narrators. This version adds: While Shaddad ibn Aws was walking along with the Prophet ﷺ . . . . The narrator then transmitted the rest of the tradition to the same effect.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ١٨ (١٦٨١)، (تحفة الأشراف: ٤٨٢٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٣١٤٤)، مسند احمد (٤/١٢٣، ١٢٤، ١٢٥)، سنن الدارمی/الصوم ٢٦ (١٧٧١) (صحیح )
شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بقیع میں ایک شخص کے پاس آئے جو کہ سینگی لگا رہا تھا، آپ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، یہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کا واقعہ ہے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: سینگی (پچھنا) لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خالد الحذاء نے ابوقلابہ سے ایوب کی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Shaddad bin Aws (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came to a man at al-Baqi while he was cupping on the 18th of Ramadan ; he (the Prophet) was holding my hand. Thereupon he said: A man who cups and a man who gets himself cupped break their fast. Abu Dawud said: The narrator Khalid al-Hadhdha transmitted a similar tradition from Abu Qilabah through a different chain of narrators mentioned by the narrator Ayyub.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٨١٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری (٣١٤١)، مسند احمد (٤/١٢٢، ١٢٢٤) (صحیح )
ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سینگی (پچھنا) لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن ثوبان نے اپنے والد سے اور انہوں نے مکحول سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Thawban (RA) : The Prophet ﷺ as saying: A man who cups and a man who gets himself cupped break their fast. Abu Dawud said: Ibn Thawban transmitted a similar tradition from his father on the authority of Makhul through an chain of narrators mentioned by him.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ٢١٠٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگی (پچھنا) لگوایا اور آپ روزے سے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہیب بن خالد نے ایوب سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، اور جعفر بن ربیعہ اور ہشام بن حسان نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس ؓ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ had himself cupped when he was fasting. Abu Dawud said: Wuhaib bin Khalid narrated a similar tradition from Ayyub through a different chain of narrators. Jafar bin Rabiah and Hisham, that is, Ibn Hassan, narrated a similar tradition from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٢ (١٩٣٨)، الطب ١٢ (٥٦٩٤)، سنن الترمذی/الصوم ٦١ (٧٧٥)، (تحفة الأشراف: ٥٩٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٥١) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگی (پچھنا) لگوایا، آپ روزے سے تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ had himself cupped when he was fasting and wearing ihram (pilgrim garb).
Notes · وضاحت
١ ؎: حالت احرام میں آپ ﷺ روزے سے ہوں، یہ بات بعید از قیاس ہے، یہی یزید بن ابی زیاد کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے، ہاں کبھی روزے کی حالت میں، اور کبھی احرام کی حالت میں بچھنا لگوانا آپ ﷺ سے ثابت ہے، صحیح بخاری کے الفاظ ہیں احتجم وهو صائم، واحتجم وهو محرم (آپ ﷺ نے سینگی (پچھنا) لگوائی جبکہ آپ روزے سے تھے، آپ ﷺ نے سینگی لگوائی جبکہ آپ محرم تھے )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصیام ٦١ (٧٧٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٨ (١٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ٦٤٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢٢، ٢٨٦) (ضعیف) (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں )
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول ﷺ نے (حالت روزے میں) سینگی لگوانے اور مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا، لیکن اپنے اصحاب کی رعایت کرتے ہوئے اسے حرام قرار نہیں دیا، آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! آپ تو بغیر کھائے پیئے سحر تک روزہ رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں سحر تک روزے کو جاری رکھتا ہوں اور مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے ۔
Narrated Abdur-Rahman bin Abi Laila (RA) : A man from the Companions of the Prophet ﷺ told me that the Messenger of Allah ﷺ prohibited cupping and perpetual fasting, but he had not made them unlawful showing mercy on his Companions. Thereupon he was asked: Messenger of Allah, you observe perpetual fast till dawn. He replied: I observe perpetual fast till dawn (for) my Lord gives me food and drink.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٤، ٣١٥، ٥/٣٦٣، ٣٦٤) (صحیح )
نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہوگیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا ۔
Narrated A man from the Companions: The Messenger of Allah ﷺ said: Neither vomiting, nor emission, nor cupping breaks the fast of the one who is fasting.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٠١) (ضعیف) (اس کے ایک راوی رجل مبہم ہے )
معبد بن ہوذہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مشک ملا ہوا سرمہ سوتے وقت لگانے کا حکم دیا اور فرمایا: روزہ دار اس سے پرہیز کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا کہ یہ یعنی سرمہ والی حدیث منکر ہے۔
Narrated Mabad bin Hudhah (RA) : The Prophet ﷺ commanded to apply collyrium mixed with musk at the time of sleep. He said: A man who is fasting should abstain from it. Abu Dawud said: Yahya bin Main said to me: This tradition about the use of collyrium is munkar (i. e. contradicts the sound traditions on the subject).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٤٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٦، ٤٩٩، ٥٠٠)، سنن الدارمی/الصوم ٢٨ (١٧٧٤) (ضعیف) (اس کے راوی نعمان بن معبد مجہول ہیں )
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی روزے دار کے سرمہ لگانے کو ناپسند کرتے نہیں دیکھا اور ابراہیم نخعی روزے دار کو صبر (ایک قسم کا سرمہ ہے) کے سرمے کی اجازت دیتے تھے۔
Al-Amash said: I did not see any of our companions who abominated the use of collyrium by a man who fasting. Ibrahim would permit the man who was fasting to apply collyrium with aloes.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٤٠٠، ١٨٧٨٦) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو قے ہوجائے اور وہ روزے سے ہو تو اس پر قضاء نہیں، ہاں اگر اس نے قصداً قے کی تو قضاء کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حفص بن غیاث نے بھی ہشام سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: if one has a sudden attack of vomiting while one is fasting, no atonement is required of him, but if he vomits intentionally he must make atonement.
معدان بن طلحہ کا بیان ہے کہ ابوالدرداء ؓ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو قے ہوئی تو آپ نے روزہ توڑ ڈالا، اس کے بعد دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان ؓ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ ابوالدرداء نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو قے ہوگئی تو آپ نے روزہ توڑ دیا اس پر ثوبان نے کہا: ابوالدرداء نے سچ کہا اور میں نے ہی (اس وقت) رسول اللہ ﷺ کے لیے وضو کا پانی ڈالا تھا۔
Narrated Madan bin Talhah (RA) : That Abu ad-Darda narrated to him: The Messenger of Allah ﷺ vomited and broke his fast. Then I met Thawban, the client of the Messenger of Allah ﷺ , in the mosque in Damascus, I said (to him): Abu al-Darda has told me that the Messenger of Allah ﷺ vomited and broke his fast. He said: He spoke the truth ; and I poured out water for his ablution ﷺ .
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور چمٹ کر سوتے، لیکن آپ ﷺ اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to kiss and embrace while he was fasting, but he was the one of you who had most control over his desire.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٢ (١١٠٦)، سنن الترمذی/الصوم ٣٢ (٧٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٠، ١٥٩٣٢، ١٧٤٠٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢٤ (١٩٢٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٩ (١٦٨٤)، موطا امام مالک/الصیام ٦(١٨)، مسند احمد (٦/٢٣٠)، سنن الدارمی/المقدمة ٥٣ (٦٩٨) والصوم ٢١ (١٧٦٣) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے کہا: میں خوش ہوا تو میں نے بوسہ لیا اور میں روزے سے تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو آج بہت بڑی حرکت کر ڈالی، روزے کی حالت میں بوسہ لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: بھلا بتاؤ اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرلو (تو کیا ہوا) ، میں نے کہا: اس میں تو کچھ حرج نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو بس کوئی بات نہیں ۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : I got excited, so I kissed while I was fasting, I then said: Messenger of Allah, I have done a big deed; I kissed while I was fasting. He said: What do you think if you rinse your mouth with water while you are fasting. The narrator Isa ibn Hammad said in his version: I said to him: There is no harm in it. Then both of them agreed on the version: He said: Then what?