عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تاکہ تم میں قیام کرنے (تہجد پڑھنے) والا تہجد پڑھنا بند کر دے، اور سونے والا جاگ جائے، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے ۔ مسدد کہتے ہیں: راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے، یہاں تک اس طرح ہوجائے (یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے) ۔
Narrated Abdullah bin Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: The summons (adhan) of Bilal should not restrain one of you from taking a meal shortly before dawn, for he utters adhan or calls (for prayer) so that the man at prayer may return, and the man asleep may get up. Dawn is not (the whiteness) which indicates thus (in perpendicular) - the narrator Musaddad said: Yahya joined his palms (indicating the spread of whiteness vertically - until it indicates thus - and Yahya spread out two ring-fingers of his (demonstrating the spread of whiteness horizontally)l
طلق ؓ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہوجائے ۔
Narrated Talq ibn Ali al-Yamami (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Eat and drink; let not the white and ascending light prevent you from (eating and drinking); so eat and drink until the red light spreads horizontally.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ١٥ (٧٠٥)، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣) (حسن صحیح )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ حتى يتبين لکم الخيط الأبيض من الخيط الأسود یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے (سورۃ البقرہ: ١٨٧) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے (صبح صادق جاننے کی غرض سے) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے ۔ عثمان کی روایت میں ہے: اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ۔
Narrated Adi bin Hatim: When the verse Until the white thread of dawn appear to you distinct from its black thread was revealed, I took a white rope and a black rope, and placed them beneath my pillow ; and then I looked at them, byt they were not clear to me. So I mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ . He laughed and said: Your pillow is so broad and lengthy ; that is (i. e. means) night and day. The version of the narrator Uthman has: That is the blackness of night and whiteness of day.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور (کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When any of you hears the summons to prayer while he has a vessel in his hand, he should not lay it down till he fulfils his need.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٣، ٥١٠) (حسن صحیح )
عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب ادھر سے رات آجائے اور ادھر سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہوگیا ۔
Narrated Umar (RA) : The Prophet ﷺ as saying: When the night approaches from this side and the day retreats on that side, and the sun sets - according to the version of Musaddad - he who fasts has reached the time to break it.
سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کو کہتے سنا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے آپ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلال! (سواری سے) اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، بلال ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر اور شام ہوجانے دیں تو بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، بلال ؓ نے پھر کہا: اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، چناچہ وہ اترے اور ستو گھولا، آپ ﷺ نے اسے نوش فرمایا پھر فرمایا: جب تم دیکھ لو کہ رات ادھر سے آگئی تو روزے کے افطار کا وقت ہوگیا ، اور آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔
Narrated Abdullah bin Abi Awfa (RA) : We went along with the Messenger of Allah ﷺ while he was fasting. When the sun set, he said to Bilal (RA) : Bilal, come down and prepare barley beverage for us. He said: Messenger of Allah, would that you waited for the evening. He said: Come down and prepare barley beverage for us. He said: Messenger of Allah, the say still remains on you (i. e. there remains the brightness of the day). He said: Come down and prepare barley drink for us. So he came down and prepared barley drink. The Messenger of Allah ﷺ drank it and said: When you see that the night approaches from this side, he who fasts has reached the time to break it ; and he pointed to the east with his finger.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دین برابر غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاری اس میں تاخیر کرتے ہیں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Religion will continue to prevail as long as people hasten to break the fast, because the Jews and the Christians delay doing so.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٤ (١٦٩٨)، حم (٢/٤٥٠) (حسن )
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے کہا: ام المؤمنین! محمد ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ان میں ایک افطار بھی جلدی کرتا ہے اور نماز بھی جلدی پڑھتا ہے، اور دوسرا ان دونوں چیزوں میں تاخیر کرتا ہے، (بتائیے ان میں کون درستگی پر ہے؟ ) ام المؤمنین عائشہ ؓ نے پوچھا: ان دونوں میں افطار اور نماز میں جلدی کون کرتا ہے؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔
Narrated Abu Atiyyah (RA) : I and Masruq entered upon Aisha (RA) and we said: Mother of believers, there are two persons from the Companions of the Muhammad ﷺ . One of them hastens to break the fast and hastens to pray while the other delays to break the fast and delays praying. She asked: Which of them hastens to break the fast and hasten to pray ? We replied: Abdullah (bin Masud). She said: Thus did the Messenger of Allah ﷺ do.
سلمان بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے کھجور ١ ؎ سے روزہ افطار کرنا چاہیئے اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے کرلے اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے ۔
Narrated Salman ibn Amir: The Prophet ﷺ said: When one of you is fasting, he should break his fast with dates; but if he cannot get any, then (he should break his fast) with water, for water is purifying.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے نگاہ کو طاقت ملتی ہے اور روزے سے پیدا ہونے والی نقاہت دور ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢٦ (٦٥٨)، الصوم ١٠ (٦٩٥)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٥ (١٦٩٩)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨، ٢١٤)، سنن الدارمی/الصوم ١٢ (١٧٤٣) (ضعیف) (کیونکہ رباب لین الحدیث ہیں) اس حدیث کی تصحیح ترمذی، ابن خزیمة، ابن حبان نے کی ہے، البانی نے پہلے اس کی تصحیح کی تھی، بعد میں اسے ضعیف الجامع الصغیر میں رکھ دیا (٣٦٩) تراجع الالبانی (١٣٢)۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز (مغرب) پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجوروں سے افطار کرلیتے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ مل پاتیں تو چند گھونٹ پانی نوش فرما لیتے۔
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ used to break his fast before praying with some fresh dates; but if there were no fresh dates, he had a few dry dates, and if there were no dry dates, he took some mouthfuls of water.
مروان بن سالم مقفع کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ کو دیکھا، وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے، اور کہتے کہ رسول اللہ ﷺ جب افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے: ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله پیاس ختم ہوگئی، رگیں تر ہوگئیں، اور اگر اللہ نے چاہا تو ثواب مل گیا ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Marwan ibn Salim al-Muqaffa said: I saw Ibn Umar holding his bread with his hand and cutting what exceeded the handful of it. He (Ibn Umar) told that the Prophet ﷺ said when he broke his fast: Thirst has gone, the arteries are moist, and the reward is sure, if Allah wills.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٤٤٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٦٤ (٥٨٩٢) (الشق الأول بسند آخر)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٢٩٩) (حسن )
معاذ بن زہرہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب روزہ افطار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: اللهم لک صمت وعلى رزقک أفطرت اے اللہ! میں نے تیری ہی خاطر روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا ۔
Narrated Muadh ibn Zuhrah (RA) : The Prophet of Allah ﷺ used to say when he broke his fast: O Allah, for Thee I have fasted, and with Thy provision I have broken my fast.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٤٤) (ضعيف) (اس کے راوی معاذ ایک تو لین الحدیث ہیں، دوسرے ارسال کئے ہوئے ہیں )
اسماء بنت ابوبکر ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ماہ رمضان میں ایک دن ہم نے بدلی میں روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نمودار ہوگیا۔ راوی ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن عروہ سے سوال کیا کہ پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہوگا؟ کہنے لگے: کیا اس کے بغیر بھی چارہ ہے؟۔
Narrated Asma daughter of Abu Bakr (RA) : We broke the fast one during Ramadan when it was cloudy in the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ ; then the sun rose. Abu Usamah said: I said to Hisham: Were they commanded to atone for it ? He replied: That was inevitable.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٤٦ (١٩٥٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال (مسلسل روزے رکھنے) سے منع فرمایا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو مسلسل روزے رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا پلایا جاتا ہے ۔
Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prohibited perpetual fasting. They (the people) said: You keep perpetual fasting, Messenger of Allah. He said: My position is not like that you yours. I am provided with food and drink.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٢٠ (١٩٢٢)، ٤٨ (١٩٦٢)، صحیح مسلم/الصیام ١١ (١١٠٢)، (تحفة الأشراف: ٨٣٥٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام ١٣ (٣٨)، مسند احمد (٢/١١٢، ١٢٨) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم صوم وصال نہ رکھو، اگر تم میں سے کوئی صوم وصال رکھنا چاہے تو سحری کے وقت تک رکھے ۔ لوگوں نے کہا: آپ تو رکھتے ہیں؟ فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، کیونکہ مجھے کھلانے پلانے والا کھلاتا پلاتا رہتا ہے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not observe perpetual fasting. If any of you wants to observe perpetual fast, he should observe it until the dawn. They (the people) asked: You observe perpetual fast ? He replied: My position is not like that of yours. There is One Who gives me to eat, and there is One who gives me to drink.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٤٨ (١٩٦٢)، ٥٠(١٩٦٧)، (تحفة الأشراف: ٤٠٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٨، ٨٧)، سنن الدارمی/الصوم ١٤ (١٧٤٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا، اور برے عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone does not abandon falsehood and action is accordance with it, Allah has no need that he should abandon his food and drink. The narrator Ahmad (b. Yunus) said: I learnt the chain of narrators from Ibn Abi Dhib, and a man by his side made me understand the tradition. I think he was his cousin.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٨ (١٩٠٣)، سنن الترمذی/الصوم ١٦ (٧٠٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢١ (١٦٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٢١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الصوم (٣٢٤٦)، مسند احمد (٢/٤٥٢، ٥٠٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: روزہ (برائیوں سے بچنے کے لیے) ڈھال ہے، جب تم میں کوئی صائم (روزے سے ہو) تو فحش باتیں نہ کرے، اور نہ نادانی کرے، اگر کوئی آدمی اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: Fast is a shield ; when one of you is fasting, he should neither behave in an obscene manner nor foolishly. If a man fights or abuses him, he should say: I am fasting, I am fasting.
عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا، جسے میں نہ گن سکتا ہوں، نہ شمار کرسکتا ہوں۔
Narrated Amir ibn Rabiah (RA) : I have seen the Messenger of Allah ﷺ using a tooth-stick while he was fasting. Musaddad added in his version: more often than I could count.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٢٨ (٧٢٥)، (تحفة الأشراف: ٥٠٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٥، ٤٤٦) (ضعیف) (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں )
ابوبکر بن عبدالرحمٰن ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے فتح مکہ کے سال اپنے سفر میں لوگوں کو روزہ توڑ دینے کا حکم دیا، اور فرمایا: اپنے دشمن (سے لڑنے) کے لیے طاقت حاصل کرو اور رسول اللہ ﷺ نے خود روزہ رکھا۔ ابوبکر کہتے ہیں: مجھ سے بیان کرنے والے نے کہا کہ میں نے مقام عرج میں رسول اللہ ﷺ کو اپنے سر پر پیاس سے یا گرمی کی وجہ سے پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور آپ ﷺ روزے سے تھے۔
Narrated A Companion of the Prophet: Abu Bakr ibn Abdur Rahman reported on the authority of a Companion of the Prophet ﷺ : I saw the Prophet ﷺ commanding the people while he was travelling on the occasion of the conquest of Makkah not to observe fast. He said: Be strong for your enemy. The Messenger of Allah ﷺ fasted himself. Narrated Abu Bakr (RA) : A man who narrated his tradition to me said: I have seen the Messenger of Allah ﷺ in al-Arj pouring water over his head while he was fasting, either because of thirst or because of heat.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٨٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢)، مسند احمد (٣/٤٧٥، ٤/٦٣، ٥/٣٧٦، ٣٨٠، ٤٠٨، ٤٣٠) (صحیح )