حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاند دیکھے بغیر یا مہینے کی گنتی پوری کئے بغیر پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو، بلکہ چاند دیکھ کر یا گنتی پوری کر کے روزے رکھو ۔
Narrated Hudhayfah (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not fast (for Ramadan) before the coming of the month until you sight the moon or complete the number (of thirty days); then fast until you sight the moon or complete the number (of thirty days).
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے ہی روزے رکھنے شروع نہ کر دو، ہاں اگر کسی کا کوئی معمول ہو تو رکھ سکتا ہے، اور بغیر چاند دیکھے روزے نہ رکھو، پھر روزے رکھتے جاؤ، (جب تک کہ شوال کا) چاند نہ دیکھ لو، اگر اس کے درمیان بدلی حائل ہوجائے تو تیس کی گنتی پوری کرو اس کے بعد ہی روزے رکھنا چھوڑو، اور مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حاتم بن ابی صغیرہ، شعبہ اور حسن بن صالح نے سماک سے پہلی حدیث کے مفہوم کے ہم معنی روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے فأتموا العدة ثلاثين کے بعد ثم أفطروا نہیں کہا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not fast one day or two days just before Ramadan except in the case of a man who has been in the habit or observing a fast (on that day); and do not fast until you sight it (the moon). Then fast until you sight it. If a cloud appears on that day (i. e. 29th of Ramadan) then complete the number thirty (days) and then end the fasting: a month consists of twenty-nine days.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٥ (٦٨٨)، سنن النسائی/الصیام ٧ (٢١٣١)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام ١(٣)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٦، ٢٥٨)، سنن الدارمی/الصوم ١ (١٧٢٥) (صحیح )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا: کیا تم نے شعبان کے کچھ روزے رکھے ہیں ١ ؎؟ ، جواب دیا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جب (رمضان کے) روزے رکھ چکو تو ایک روزہ اور رکھ لیا کرو ، ان دونوں میں کسی ایک راوی کی روایت میں ہے: دو روزے رکھ لیا کرو ۔
Narrated Imran bin Husain: The Messenger of Allah ﷺ asked a man: Did you fast the last day of Shaban ? He replied: No. He said: If you did not observe a fast, you must fast for a day. One of the two narrators said: For two days.
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کے سوا ہر ایک کے یہاں شهر (مہینہ) کی بجائے سرر (آخر ماہ) کا لفظ ہے، بلکہ خود مؤلف کے بعض نسخوں میں بھی یہی لفظ ہے، اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ: ” اس آدمی کی عادت تھی کہ ہر مہینہ کے اخیر میں روزہ رکھا کرتا تھا، مگر رمضان سے ایک دو دن برائے استقبال رمضان روزہ کی ممانعت “ سن کر اس نے اپنے معمول والا یہ روزہ نہیں رکھا، تو آپ ﷺ نے اس کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے ایسا فرمایا، یعنی: رمضان سے ایک دو دن قبل روزہ رکھنے کا اگر کسی کا معمول ہو تو وہ رکھ سکتا ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معمول کی عبادت اگر کسی سبب سے چھوٹ جائے تو اس کی قضا کر لینی چاہیے۔
ابوازہر مغیرہ بن فروہ کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ نے دیر مسحل پر (جو کہ حمص کے دروازے پر واقع ہے) ، کھڑے ہو کر لوگوں سے کہا: لوگو! ہم نے چاند فلاں فلاں دن دیکھ لیا ہے اور میں سب سے پہلے روزہ رکھ رہا ہوں، جو شخص روزہ رکھنا چاہے رکھ لے، مالک بن ہبیرہ سبئی نے کھڑے ہو کر ان سے کہا: معاویہ! یہ بات آپ نے رسول ﷺ سے سن کر کہی ہے، یا آپ کی اپنی رائے ہے؟ جواب دیا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: رمضان کے مہینے کے روزے رکھو اور آخر شعبان کے ۔
Narrated Muawiyah (RA) : Abul Azhar al-Mughirah ibn Farwah said: Muawiyah stood among the people at Dayr Mustahill lying at the gate of Hims. He said: O people, we sighted the moon on such-and-such day. We shall fast in advance. Anyone who likes to do so may do it. Malik ibn Hubayrah as-Sabai stood up and asked: Muawiyah, did you hear the Messenger of Allah ﷺ say something (about this matter), or is this something on the basis of your opinion? He replied: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: Fast the month (in the beginning) and in the last.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٤٤٤) (ضعيف) (اس کے راوی مغیرہ بن فروہ لین الحدیث ہیں )
سلیمان بن عبدالرحمٰن نے اس حدیث کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ ولید کہتے ہیں: میں نے ابوعمرو یعنی اوزاعی کو کہتے سنا ہے کہ سرہ کے معنی اوائل ماہ کے ہیں۔
Sulaiman bin Abdur-Rahman al-Dimashqi said about this tradition that al-Walid said: I heard Abu Amr al-Auzai say: The word sirrahu means beginning of the month.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٩٦٦) (شاذ مقطوع) (کیونکہ صحیح معنی : اواخرماہ ہے )
ابومسہر کہتے ہیں سعید یعنی ابن عبدالعزیز کہتے ہیں سره کے معنی أوله کے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سره کے معنی کچھ لوگ وسطه کے بتاتے ہیں اور کچھ لوگ آخره کے۔
Narrated Ahmad bin Abd al-Wahid: On the authority of Abu Mushir. He said: Saeed, that is, Ibn Abd al-Aziz said: The meaning of the word sirraha is in the beginning of it (the month)
کریب کہتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث نے انہیں معاویہ ؓ کے پاس شام بھیجا، میں نے (وہاں پہنچ کر) ان کی ضرورت پوری کی، میں ابھی شام ہی میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، ہم نے جمعہ کی رات میں چاند دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں مدینہ آگیا تو ابن عباس ؓ نے مجھ سے چاند کے متعلق پوچھا کہ تم نے چاند کب دیکھا؟ میں نے جواب دیا کہ جمعہ کی رات میں، فرمایا: تم نے خود دیکھا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے، اور روزہ رکھا ہے، معاویہ نے بھی روزہ رکھا، ابن عباس ؓ نے کہا: لیکن ہم نے سنیچر کی رات میں چاند دیکھا ہے لہٰذا ہم چاند نظر آنے تک روزہ رکھتے رہیں گے، یا تیس روزے پورے کریں گے، تو میں نے کہا کہ کیا معاویہ کی رؤیت اور ان کا روزہ کافی نہیں ہے؟ کہنے لگے: نہیں، اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے۔
Narrated Kuraib: That Umm al-Fadl, daughter of al-Harith, sent him to Muaqiyah in Syria. He said: I came to syria and performed her work. The moon of Ramadan appeared while I was in Syria. We sighted the moon on the night of Friday. When I came to Median towards the end of the month (of Ramadan), Ibn Abbas asked me about the moon. He said: When did you sight the moon ? I said: I sighted it on the night of Friday. He asked: Did you sight it yourself ? I said: Yes, and the people sighted it. They fasted and Muawiyah also fasted. He said: But we sighted it on the night of saturday. Since then we have been fasting until we complete thirty days or we sight it. Then I said: Are the sighting of the moon by Muawiyah and his fasts not sufficient for us? He replied: No. The Messenger of Allah ﷺ commanded us to do so. Al-Hasan said about a person who was in a certain city. He fasted on Monday, and twp persons bore witness that they had sighted the moon on the night of sunday. He said: That man and the people of his city should not fast as an atonement except that they know (for certain) that the people of a certain city of Muslims had fasted on Sunday. In that case they should keep fast as an atonement.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ فتوی اس حدیث کے خلاف ہے جس میں ہے کہ: اللہ کے رسول ﷺ نے ایک آدمی کی گواہی پر ایک روزہ رکھنے کا حکم صادر فرمایا اور دو آمیوں کی گواہی پر عید کرنے کا حکم دیا، یعنی: بات سچی گواہی پر منحصر ہے نہ کہ جم غفیر کے عمل پر۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٥ (١٠٨٧)، سنن الترمذی/الصیام ٩ (٦٩٣)، سنن النسائی/الصیام ٥ (٢١١٣)، (تحفة الأشراف: ٦٣٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠٦) (صحیح )
حسن بصری سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی شہر میں ہو اور اس نے دوشنبہ (پیر) کے دن کا روزہ رکھ لیا ہو اور دو آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے اتوار کی رات چاند دیکھا ہے (اور اتوار کو روزہ رکھا ہے) تو انہوں نے کہا: وہ شخص اور اس شہر کے باشندے اس دن کا روزہ قضاء نہیں کریں گے، ہاں اگر معلوم ہوجائے کہ مسلم آبادی والے کسی شہر کے باشندوں نے سنیچر کا روزہ رکھا ہے تو انہیں بھی ایک روزے کی قضاء کرنی پڑے گی ١ ؎۔
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٤٩٢) (صحیح )
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم اس دن میں جس دن کا روزہ مشکوک ہے عمار ؓ کے پاس تھے، ان کے پاس ایک (بھنی ہوئی) بکری لائی گئی، تو لوگوں میں سے ایک آدمی (کھانے سے احتراز کرتے ہوئے) الگ ہٹ گیا اس پر عمار ؓ نے کہا: جس نے ایسے (شک والے) دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔
Narrated Ammar (RA) : Abu Ishaq reported on the authority of Silah: We were with Ammar on the day when the appearance of the moon was doubtful. (The meat of) goat was brought to him. Some people kept aloof from (eating) it. Ammar said: He who keeps fast on this day disobeys Abul Qasim (i. e. the Prophet) ﷺ .
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی پہلے سے روزہ رکھتا آ رہا ہے تو وہ ان دنوں کا روزہ رکھے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not fast one day or two days just before Ramadan, except in the case of a man who has been in the habit of observing the particular fast, for he may fast on that day.
عبدالعزیز بن محمد کہتے ہیں کہ عباد بن کثیر مدینہ آئے تو علاء کی مجلس کی طرف مڑے اور (جا کر) ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا پھر کہنے لگے: اے اللہ! یہ شخص اپنے والد سے اور وہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نصف شعبان ہوجائے تو روزے نہ رکھو ، علاء نے کہا: اے اللہ! میرے والد نے یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے مجھ سے بیان کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری، شبل بن علاء، ابو عمیس اور زہیر بن محمد نے علاء سے روایت کیا، نیز ابوداؤد نے کہا: عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن ابن مہدی) اس حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے، میں نے احمد سے کہا: ایسا کیوں ہے؟ وہ بولے: کیونکہ انہیں یہ معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ شعبان کو (روزہ رکھ کر) رمضان سے ملا دیتے تھے، نیز انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ سے اس کے برخلاف مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے نزدیک یہ اس کے خلاف نہیں ہے ١ ؎ اسے علاء کے علاوہ کسی اور نے ان کے والد سے روایت نہیں کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Abdul Aziz ibn Muhammad said: Abbad ibn Kathir came to Madina and went to the assembly of al-Ala. He caught hold of his hand and made him stand and said: O Allah, he narrates a tradition from his father on the authority of Abu Hurairah who reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When the middle of Shaban comes, do not fast. Al-Ala said: O Allah, my father narrated this tradition on the authority of Abu Hurairah from the Prophet ﷺ
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ وہ بات آپ ﷺ کے لئے خاص تھی، اور یہ بات عام امت کے لئے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٣٨ (٧٣٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٥ (١٦٥١)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٥١)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم ٣٤ (١٧٨١) (صحیح )
ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم سے حسین بن حارث جدلی نے (جو جدیلہ قیس سے تعلق رکھتے ہیں) بیان کیا کہ امیر مکہ نے خطبہ دیا پھر کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم چاند دیکھ کر حج ادا کریں، اگر ہم خود نہ دیکھ سکیں اور دو معتبر گواہ اس کی رویت کی گواہی دیں تو ان کی گواہی پر حج ادا کریں، میں نے حسین بن حارث سے پوچھا کہ امیر مکہ کون تھے؟ کہا کہ میں نہیں جانتا، اس کے بعد وہ پھر مجھ سے ملے اور کہنے لگے: وہ محمد بن حاطب کے بھائی حارث بن حاطب تھے پھر امیر نے کہا: تمہارے اندر ایک ایسے شخص موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو جانتے ہیں اور وہ اس حدیث کے گواہ ہیں، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کا بیان ہے کہ میں نے اپنے پاس بیٹھے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں جن کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے؟ کہنے لگے: یہ عبداللہ بن عمر ؓ ہیں اور امیر نے سچ ہی کہا ہے کہ وہ اللہ کو ان سے زیادہ جانتے ہیں، اس پر انہوں نے (ابن عمر ؓ نے) کہا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اسی کا حکم فرمایا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Husayn ibn al-Harith al-Jadli from the tribe of Jadilah Qays said: The governor of Makkah delivered a speech and said: The Messenger of Allah ﷺ took a pledge from us that we should perform the rites of hajj after sighting the moon. If we do not sight it and two reliable persons bear witness, we should perform the rites of hajj on the basis of their witness. I then asked al-Husayn ibn al-Harith (RA) : Who was the governor of Makkah? He replied: I do not know. He then met me later on and told me: He was al-Harith ibn Hatib, brother of Muhammad ibn Hatib. The governor then said: There is among you a man who is more acquainted with Allah and His Messenger than I. He witnessed this from the Messenger of Allah ﷺ . He then pointed with his hand to a man. Al-Husayn said: I asked an old man beside me: Who is that man to whom the governor has alluded? He said: This is Abdullah ibn Umar, and he spoke the truth. He was more acquainted with Allah than he. He (Abdullah ibn Umar) said: For this is what the Messenger of Allah ﷺ commanded us (to do).
نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رمضان کے آخری دن لوگوں میں (چاند کی رویت پر) اختلاف ہوگیا، تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے کل شام میں چاند دیکھا ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو افطار کرنے اور عید گاہ چلنے کا حکم دایا۔
Narrated Ribi bin Hirash (RA) : On the authority of a man from the Companions of the Prophet ﷺ : People differed among themselves on the last day of Ramadan (about the appearance of the moon of Shawwal). Then two bedouins came and witnessed before the Prophet ﷺ swearing by Allah that they had sighted moon the previous evening. So the Messenger of Allah ﷺ commanded the people to break the fast. The narrator Khalaf has added in his version: and that they should proceed to the place of prayer (forEid).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٤، ٥/٣٦٢) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے، (راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا) تو آپ ﷺ نے اس اعرابی سے پوچھا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر آپ ﷺ نے پوچھا: کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A bedouin came to the Prophet ﷺ and said: I have sighted the moon. Al-Hasan added in his version: that is, of Ramadan. He asked: Do you testify that there is no god but Allah? He replied: Yes. He again asked: Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah? He replied: Yes. and he testified that he had sighted the moon. He said: Bilal, announce to the people that they must fast tomorrow.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٧ (٦٩١)، سنن النسائی/الصوم ٦ (٢١١٥)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٢)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٤، ١٩١١٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم ٦ (١٧٣٤) (ضعیف) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے، نیز سماک کے اکثر تلامذ نے اسے عن عکرمہ عن النبی ﷺ … مرسلاً روایت کیا ہے )
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک بار لوگوں کو رمضان کے چاند (کی روئیت) سے متعلق شک ہوا اور انہوں نے یہ ارادہ کرلیا کہ نہ تو تراویح پڑھیں گے اور نہ روزے رکھیں گے، اتنے میں مقام حرہ سے ایک اعرابی آگیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی چناچہ اسے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لے جایا گیا، آپ نے اس سے سوال کیا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، اور چاند دیکھنے کی گواہی بھی دی چناچہ آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں منادی کردیں کہ لوگ تراویح پڑھیں اور روزہ رکھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے تراویح پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Ikrimah (RA) : Once the people doubted the appearance of the moon of Ramadan, and intended neither to offer the tarawih prayer nor to keep fast. A bedouin came from al-Harrah and testified that he had sighted the moon. He was brought to the Prophet ﷺ . He asked: Do you testify that there is no god but Allah, and that I am the Messenger of Allah? He said: Yes; and he testified that he had sighted the moon. He commanded Bilal who announced to the people to offer the tarawih prayer and to keep fast.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی (لیکن انہیں نظر نہ آیا) اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چناچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The people looked for the moon, so I informed the Messenger of Allah ﷺ that I had sighted it. He fasted and commanded the people to fast.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٥٤٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم ٦ (١٧٣٣) (صحیح )
عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے ۔
Narrated Amr bin al-As: The Messenger of Allah ﷺ as saying: The difference between our fasting and that of the people of the Book is eating shortly before dawn.
عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں کہا: بابرکت غداء پر آؤ ۔
Narrated Al-Irbad ibn Sariyyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ invited me to a meal shortly before dawn in Ramadan saying: Come to the blessed morning meal.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ١٣ (٢١٦٥)،(تحفة الأشراف: ٩٨٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٦، ١٢٧) (حسن لغیرہ) (ابو رہم مجہول ہیں، حدیث کے شواہد سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحيحة للألباني: 3408، وتراجع الألباني: 192 )
سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب ؓ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی (صبح کاذب) ہی باز رکھے، جو اس طرح (لمبائی میں) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے ۔
Addressing (the people) Samurah bin Jundub reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The adhan (call to prayer) of Bilal should not prevent you from taking a meal shortly before dawn, not does the whiteness of horizon (before dawn) in this way (vertically) until it spreads out horizontally.