ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ ؓ کے پاس جا کر ان کی حدیث معلوم کریں، نیز معلوم کریں کہ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے کیا ارشاد فرمایا؟ چناچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھا، وہ انہیں بتا رہے تھے کہ انہیں سبیعہ نے بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ ؓ کے نکاح میں تھیں (وہ بنی عامر بن لوی کے ایک فرد، اور بدری صحابی ہیں) حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب وہ حاملہ تھیں تو ان کا انتقال ہوگیا، انتقال کے بعد انہوں نے بچہ جنا، جب نفاس سے پاک ہوگئیں تو نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگار کیا تو بنی عبدالدار کا ایک شخص ابوسنابل بن بعکک ؓ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: میں تمہیں بنی سنوری ہوئی دیکھ رہا ہوں، شاید نکاح کرنا چاہتی ہو، اللہ کی قسم! تم چار مہینے دس دن (کی عدت) گزارے بغیر نکاح نہیں کرسکتی۔ سبیعہ ؓ کا بیان ہے: جب انہوں نے مجھ سے اس طرح کی گفتگو کی تو میں شام کے وقت پہن اوڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ ﷺ نے مجھے مسئلہ بتایا اور فرمایا کہ بچہ جننے کے بعد ہی میں حلال ہوگئی اور آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ اگر میں چاہوں تو شادی کرسکتی ہوں۔ ابن شہاب کہتے ہیں: میرے خیال میں بچہ جننے کے بعد عورت کے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں گرچہ وہ حالت نفاس ہی میں ہو البتہ پاک ہونے تک شوہر صحبت نہیں کرے گا ١ ؎۔
Ubaid Allah bin Abdullah bin ‘Utbah said that his father wrote (a letter) to Abd Allaah bin Al Arqam Al Zuhri asking him to visit Subai’ah daughter of Al Harith Al Aslamiyyah and ask her about her story and what the Messenger of Allah ﷺ said to her when she asked his opinion (about her). So, Umar bin Abdullah wrote in reply to Abdullah bin ‘Utbah informing him what she told him. She told that she was under (i. e., the wife of) Saad bin Khawlah who belonged to Banu Amir bin Luwayy. He was one of those who participated in the battle of Badr. He died at the Farwell Pilgrimage while she was pregnant. Soon after his death she gave birth to a child. When she was purified from her bleeding after child birth she adorned herself for seekers in marriage. Then Abu Al Sanabil bin Ba’kah a man from Banu Abd Al Dar entered upon her and said to her “What is the matter seeing you adorned, perhaps you are seeking marriage? I swear by Allah you cannot marry until four months and ten days pass away. Saubai’ah said “When she said this to me, I gathered my clothes on me when the evening came and I came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him about that. He told me that I became lawful when I had delivered a child. He suggested me to marry if I wished. Ibn Shihab said “I do not see any harm if she marries when she gives birth to the child, even though she had the bleeding after the child birth, but her husband should not have sexual intercourse till she is purified.
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے یہ آیت اتری تھی: والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا یہ آیت سورة بقرہ (آیت: ٢٣٤) کی ہے، اس میں حاملہ اور غیر حاملہ دونوں داخل تھیں، پھر سورة طلاق والی آیت نمبر (٤) وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن نازل ہوئی تو حاملہ کی عدت وضع حمل (بچہ کی پیدائش) قرار پائی اور غیر حاملہ کی چار مہینہ دس دن پہلی آیت کے موافق برقرار رہی اکثر علماء کا یہی مذہب ہے اور بعض علماء کے نزدیک چونکہ دونوں آیتیں متعارض ہیں اس لئے دونوں میں سے جو مدت لمبی أبعد الأجلين ہو اسے اختیار کرے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جو بھی چاہے مجھ سے اس بات پر لعان ١ ؎ کرلے کہ چھوٹی سورة نساء (سورۃ الطلاق) چار مہینے دس دن والے حکم کے بعد نازل ہوئی ٢ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : I can invoke the curse of Allah on anyone who wishes: The smaller surat an-Nisa (i. e. Surat at-Talaq) was revealed after the verse regarding the waiting period of four months and ten days had been revealed.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد مباہلہ ہے۔ ٢ ؎: جو کہ سورة البقرہ میں ہے ابن مسعود ؓ کا مطلب یہ کہ ” عام متوفی عنہا زوجہا کے چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم سورة بقرہ میں ہے “، اور ” حاملہ متوفی عنہا زوجہا کی عدت صرف وضع حمل تک ہے “ کا تذکرہ سورة طلاق کے اندر ہے جو کہ سورة بقرہ کے بعد اتری ہے اس لئے یہ حکم خاص اس حکم عام کو خاص کرنے والا ہے۔
عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ (ہمارے نبی کریم ﷺ کی) سنت کو ہم پر گڈمڈ نہ کرو، (سنت یہ ہے کہ) جس کا شوہر فوت ہوجائے اس کی یعنی ام ولد ١ ؎ کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔
Narrated Amr ibn al-As: Do not confuse us about his Sunnah. Ibn al-Muthanna said: The Sunnah of our Prophet ﷺ is that the waiting period of a slave-mother whose husband has died is four months and ten days.
Notes · وضاحت
١ ؎: ام ولد: ایسی لونڈی جس نے اپنے مالک سے بچہ جنا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٣ (٢٠٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٠٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا اور وہ شخص اس کے پاس گیا لیکن جماع سے پہلے ہی اس نے اسے طلاق دے دی تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی؟۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ عورت دوسرے شوہر کی مٹھاس نہ چکھ لے اور وہ شوہر اس عورت کی مٹھاس نہ چکھ لے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was asked about a man who divorced his wife three times, and she married another who entered upon her, but divorced her before having intercourse with her, whether she was lawful for the former husband. She said: The Prophet ﷺ replied: She is not lawful for the first (husband) until she tastes the honey of the other husband and he tastes her honey.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہم بستری اور صحبت کے بعد طلاق واقع ہونے کی صورت میں نکاح جدید سے وہ پہلے شوہر کی بیوی بن سکتی ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ) تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے ، میں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے بچے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ، میں نے کہا پھر اس کے بعد؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ، نیز کہا: نبی اکرم ﷺ کے قول کی تصدیق کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون الخ (سورۃ الفرقان: ٦٨) جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پکارتے اور ناحق اس نفس کو قتل نہیں کرتے جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور نہ زنا کرتے ہیں ۔
Abd Allaah (bin Masud) said “I asked Messenger of Allah ﷺ which sin is the gravest?” He replied “That you associate someone with Allaah, while He has created you”. I again asked “Which then?” He replied “That you commit adultery with the wife of your neighbor. ” Allaah then revealed the following Quranic verse in support of the statement of the Prophet ﷺ “Those who invoke not with Allaah any other god nor slay such life as Allaah has made sacred except for just cause nor commit fornication. ”
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو کہتے سنا کہ ایک انصاری شخص کی مسکینہ لونڈی آ کر کہنے لگی کہ میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی ولا تكرهوا فتياتکم على البغاء (سورۃ النور: ٣٣) تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : Musaykah, a slave-girl of some Ansari, came and said: My master forces me to commit fornication. Thereupon the following verse was revealed: But force not your maids to prostitution (when they desire chastity).
سیلمان تیمی سے روایت ہے کہ آیت کریمہ: ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم (النور: ٣٣) اور جو انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ مجبور کرنے کی صورت میں بخشنے ولا رحم کرنے والا ہے کے متعلق سعید بن ابوالحسن نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں زنا کے لیے مجبور کیا گیا، اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔
Mu’tamir reported on the authority of his father Saeed bin Al Hassan explain the Quranic verse “But if anyone compels them, yet after such compulsion is Allaah oft-forgiving most merciful (to them), said Allaah is oft-forgiving to those (slave girls) who were compelled (to prostitution)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ يا أيها الذين آمنوا کتب عليكم الصيام کما كتب على الذين من قبلکم اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دئیے گئے تھے (سورۃ البقرہ: ١٨٣) نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں عشاء پڑھتے ہی لوگوں پر کھانا، پینا اور عورتوں سے جماع کرنا حرام ہوجاتا، اور وہ آئندہ رات تک روزے سے رہتے، ایک شخص نے اپنے نفس سے خیانت کی، اس نے اپنی بیوی سے صحبت کرلی حالانکہ وہ عشاء پڑھ چکا تھا، اور اس نے روزہ نہیں توڑا تو اللہ تعالیٰ نے باقی لوگوں کو آسانی اور رخصت دینی اور انہیں فائدہ پہنچانا چاہا تو فرمایا: علم الله أنكم کنتم تختانون أنفسکم اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت کرتے تھے (سورۃ البقرہ: ١٨٧) یہی وہ چیز تھی جس کا فائدہ اللہ نے لوگوں کو دیا اور جس کی انہیں رخصت اور آسانی دی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ibn Abbas explained the following Quranic verse: O ye who believe! fasting is prescribed for you as it was prescribed for those before you During the lifetime of the Prophet ﷺ , when the people offered night prayer, they were asked to abstain from food and drink and (intercourse with) women, they kept fast till the next night. A man betrayed himself and had intercourse with his wife after he had offered the night prayer, and he did not break his fast. So Allah, the Exalted, intended to make it (fasting) easy for those who survived, thus providing a concession and utility. Allah, the Glorified, said: Allah knoweth what ye used to do secretly among yourselves. By this Allah benefited the people and provided concession and ease to them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٢٥٤) (حسن صحیح )
براء ؓ کہتے ہیں کہ (ابتداء اسلام میں) آدمی جب روزہ رکھتا تھا تو سونے کے بعد آئندہ رات تک کھانا نہیں کھاتا تھا، صرمۃ بن قیس انصاری ؓ کے ساتھ ایک بار ایسا ہوا کہ وہ روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا: کیا تیرے پاس کچھ (کھانا) ہے؟ وہ بولی: کچھ نہیں ہے لیکن جاتی ہوں ہوسکتا ہے ڈھونڈنے سے کچھ مل جائے، تو وہ چلی گئی لیکن حرمہ کو نیند آگئی وہ آئی تو (دیکھ کر) کہنے لگی کہ اب تو تم (کھانے سے) محروم رہ گئے دوپہر کا وقت ہوا بھی نہیں کہ (بھوک کے مارے) ان پر غشی طاری ہوگئی اور وہ دن بھر اپنے زمین میں کام کرتے تھے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو یہ آیت أحل لکم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم روزے کی رات میں تمہارے لیے اپنی عورتوں سے جماع حلال کردیا گیا ہے (سورۃ البقرہ: ١٨٣) نازل ہوئی، اور آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول من الفجر تک پوری آیت پڑھی ۔
Al Bara (bin Azib) said “When a man fasted and slept, he could not eat till (another nigh) like it. ” Sarmah bin Qais Al Ansari came to his wife while he was fasting and asked her Do you have something (to eat)? She replied “No”. Let me go and seek something for you. So, she went out and sleep overcame him. She came (back) and said (to him). You are deprived (of food). He fainted before noon. He used to work all day long at his land. This was mentioned to the Prophet ﷺ . So the following verse was revealed. “Permitted to you on the nights of the fasts, is the approach to your wives. They are your garments and ye are their garments. Allah knoweth what yes used to do secretly amongst yourselves. But he turned to you and forgave you. So now associate with them and seek what Allaah hath ordained for you. And eat and drink until the white thread of dawn appears to you. He recited up to the words “of dawn”.
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتی ہیں کہ جب یہ آیت وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے دیں (سورۃ البقرہ: ١٨٣) نازل ہوئی تو جو شخص ہم میں سے روزے نہیں رکھنا چاہتا وہ فدیہ ادا کردیتا پھر اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔
Salamah bin Al Akwa said “After the revelation of the verse “For those who can do it (with hardship) is a ransom, the feeding of one, that is indigent, is one of us intended to leave fast and pay ransom, he could do so. ” until the verse following it was revealed and abrogated the (previous) verse. ”
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص ایک مسکین کا کھانا فدیہ دینا چاہتا دے دیتا اور اس کا روزہ مکمل ہوجاتا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فمن تطوع خيرا فهو خير له وأن تصوموا خير لكم (سورۃ البقرہ: ١٨٤) پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وہ اسی کے لیے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزہ رکھنا ہی ہے ، پھر فرمایا: فمن شهد منکم الشهر فليصمه ومن کان مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر (سورۃ البقرہ: ١٨٥) تم میں سے جو شخص رمضان کے مہینے کو پائے تو وہ اس کے روزے رکھے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو وہ دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرے ۔
Ibn Abbas explain the Quranic verse “For those who can do it (with hardship) is a ransom, the feeding of one, that is indigent” said “If one of them wished to pay ransom by providing food to an indigent person he could pay ransom. . Thus, his fast was complete. Allaah, the Exalted pronounced “But he that will give more of his own free will, it is better for him”. Again he pronounced “So every one of you who is present (at his home) during that month should spend it in fasting. ” But, if anyone is ill or on a journey the prescribed period (should be made up) by days later.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين زیادہ بوڑھے مرد و عورت (جو کہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں) کے لیے رخصت ہے کہ روزے نہ رکھیں، بلکہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، اور حاملہ نیز دودھ پلانے والی عورت بچے کے نقصان کا خوف کریں تو روزے نہ رکھیں، فدیہ دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مرضعہ اور حاملہ کو اپنے بچوں کے نقصان کا خوف ہو تو وہ بھی روزے نہ رکھیں اور ہر روزے کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Explaining the verse; For those who can do it (with hard-ship) is a ransom, the feeding of one, that is indigent, he said: This was a concession granted to the aged man and woman who were able to keep fast; they were allowed to leave the fast and instead feed an indigent person for each fast; (and a concession) to pregnant and suckling woman when they apprehended harm (to themselves).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٥٦٥) (شاذ) (اس لئے کہ زیادہ بوڑھوں کے لئے اب بھی فدیہ جائز ہے، اور حاملہ و مرضعہ کا حکم فدیہ کا نہیں ہے بلکہ بعد میں روزے رکھ لینے کا ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ہم ان پڑھ لوگ ہیں نہ ہم لکھنا جانتے ہیں اور نہ حساب و کتاب، مہینہ ایسا، ایسا اور ایسا ہوتا ہے، (آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے بتایا) ، راوی حدیث سلیمان نے تیسری بار میں اپنی انگلی بند کرلی، یعنی مہینہ انتیس اور تیس دن کا ہوتا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: The month consists of twenty-nine days, but do not fast till you sight it (the moon) and do not break your fast till you sight it. If the weather is cloudy, calculate it thirty days. When the twenty-ninth of Shaban came, Ibn Umar would send someone (who tried) to sight the moon for him. If it was sighted, then well and good; in case it was not sighted, and there was no cloud and dust before him (on the horizon), he would not keep fast the next day. If there appeared (on the horizon) before him cloud or dust, he would fast the following day. Ibn Umar would end his fasting alone with the people, and did not follow this calculation.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ١٣(١٩١٣)، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠)، سنن النسائی/الصیام ٨ (٢١٤٢)، (تحفة الأشراف: ٧٠٧٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٤)، مسند احمد (٢/١٢٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے لہٰذا چاند دیکھے بغیر نہ روزہ رکھو، اور نہ ہی دیکھے بغیر روزے چھوڑو، اگر آسمان پر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو ۔ راوی کا بیان ہے کہ جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو ابن عمر ؓ چاند دیکھتے اگر نظر آجاتا تو ٹھیک اور اگر نظر نہ آتا اور بادل اور کوئی سیاہ ٹکڑا اس کے دیکھنے کی جگہ میں حائل نہ ہوتا تو دوسرے دن روزہ نہ رکھتے اور اگر بادل یا کوئی سیاہ ٹکڑا دیکھنے کی جگہ میں حائل ہوجاتا تو صائم ہو کر صبح کرتے۔ راوی کا یہ بھی بیان ہے کہ ابن عمر ؓ لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنا چھوڑتے تھے، اور اپنے حساب کا خیال نہیں کرتے تھے۔
Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “The month consists of twenty nine days, but do not fast till you sight it (the moon) and do not break your fast till you sight it. If the weather is cloudy, calculate it thirty days. When the twenty-ninth of Sha’ban came, Ibn Umar would send someone (who tried) to sight the moon for him. If it was sighted then well and good, in case it was not sighted and there was no cloud and dust before him (on the horizon) he would not keep fast the next day. If there appeared (on the horizon) before him cloud or dust, he would fast the following day. Ibn Umar would end his fasting alone with the people and did not follow this calculation. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٢(١٠٨٠)،(تحفة الأشراف: ٧٥٣٦، ١٩١٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥) (صحیح )
ایوب کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز نے بصرہ والوں کو لکھا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے متعلق معلوم ہوا ہے۔۔۔، آگے اسی طرح ہے جیسے ابن عمر ؓ کی اوپر والی مرفوع حدیث میں ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: اچھا اندازہ یہ ہے کہ جب ہم شعبان کا چاند فلاں فلاں روز دیکھیں تو روزہ انشاء اللہ فلاں فلاں دن کا ہوگا، ہاں اگر چاند اس سے پہلے ہی دیکھ لیں (تو چاند دیکھنے ہی سے روزہ رکھیں) ۔
Narrated Ayyub (RA) : Umar bin Abd al-Aziz wrote (a letter) to the people of Basrah: It has reached us from the Messenger of Allah ﷺ , like the tradition narrated by Ibn Umar from the Prophet ﷺ . This version adds: The best calculation is that when we sight the moon of Shaban on such-and-such date, fasting will being on such-and-such dates, Allah willing, except they they sight the moon before that (date).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٥٣٦ و ١٩١٤٦) (صحیح )
ابوبکرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے ١ ؎۔
Narrated Abu Bakrah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: The two months of Eid (festival), Ramadan and Dhu al-Hijjah, are not defective.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں ایک ہی سال میں انتیس انتیس دن کے نہیں ہوتے، ایک اگر انتیس ہے تو دوسرا تیس کا ہوگا، ایک مفہوم یہ بتایا جاتا ہے کہ ثواب کے اعتبار سے کم نہیں ہوتے اگر انتیس دن کے ہوں تب بھی پورے مہینے کا ثواب ملے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ١٢(١٩١٢)، صحیح مسلم/الصوم ٧ (١٠٨٩)، سنن الترمذی/الصوم ٨ (٦٩٢)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٩ (١٦٥٩)، (تحفة الأشراف: ١١٦٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨، ٤٧، ٥٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حدیث بیان کی، اس میں ہے: تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم افطار کرتے ہو ١ ؎ اور عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرتے ہو، پورا کا پورا میدان عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا میدان منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے نیز مکہ کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں، اور سارا مزدلفہ وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The end of Ramadan is on the day when you end it, and the Eid (festival) of sacrifice is on the day when you sacrifice. The whole of Arafah is the place of staying, and the whole of Mina is the place of sacrifice, and all the roads of Makkah are the place of sacrifice, and the whole of Muzdalifah is the place of staying.
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی جملے کی باب سے مطابقت ہے، مطلب یہ ہے کہ: جب سارے کے سارے لوگ تلاش و جستجو اور اجتہاد کے بعد کسی دن چاند کا فیصلہ کرلیں اور اسی حساب سے روزہ اور افطار اور قربانی کرلیں اور بعد میں چاند دوسرے دن کا ثابت ہوجائے تو یہ اجتماعی غلطی معاف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٦٠٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ١١ (٦٩٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٩ (١٦٦٠) (صحیح )
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول ﷺ ماہ شعبان کی تاریخوں کا جتنا خیال رکھتے کسی اور مہینے کی تاریخوں کا اتنا خیال نہ فرماتے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے، اگر وہ آپ پر مشتبہ ہوجاتا تو تیس دن پورے کرتے، پھر روزے رکھتے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to count the days in Shaban in a manner he did not count any other month; then he fasted when he sighted the new moon of Ramadan; but if the weather was cloudy he counted thirty days and then fasted.