فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی تو رسول اللہ ﷺ نے نہ تو انہیں نفقہ دلایا، اور نہ ہی رہائش دلائی۔
Abu Salamah reported on the authority of Fatimah daughter of Qais that Abu Amr bin Hafs Al Makhzumi divorced her three times. He then narrated the rest of the tradition. He then mentioned about Khalid bin Walid and said that the Prophet ﷺ said “There are no maintenance and dwelling for her. ” This version has “The Messenger of Allah ﷺ sent a message to her “Do not give her consent for marriage without my permission. ””
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس ؓ نے انہیں خبر دی کہ وہ ابوحفص بن مغیرہ ؓ کے عقد میں تھیں، اور ابوحفص نے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق بھی دے دی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے گھر نکلنے کے متعلق آپ ﷺ سے فتویٰ پوچھا تو آپ نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم ؓ کے گھر منتقل ہوجانے کا حکم دیا ١ ؎۔ مروان نے یہ حدیث سنی تو مطلقہ کے گھر سے نکلنے کے سلسلہ میں فاطمہ ؓ کی حدیث کی تصدیق کرنے سے انکار کیا، عروہ کہتے ہیں: ام المؤمنین عائشہ ؓ نے بھی فاطمہ بنت قیس ؓ کی بات کا انکار کیا۔
Fatimah daughter of Qais said “I was married to a man of Banu Makhzum. He divorced me absolutely. The narrator then transmitted the rest of the tradition like that of Malik. This version has “Do not marry yourself without my permission. ” Abu Dawud said Al Shabi, Al Bahiyy and ata from abd Al Rahman bin asim and Abu Bakr bin Abi Al Jahm all narrated on the authority of Fatimah daughter of Qais that her husband had divorced her three times.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلقہ کا عدت گزارنے کے لئے گھر سے نکل کر کسی اور جگہ رہنا درست نہیں ہے، الا یہ کہ کوئی سخت ضرورت لاحق ہوجائے مثلا کرائے کا مکان ہو، اور کرایہ دینے کی طاقت نہ ہو، یا مکان گرپڑے، یا مالک مکان جبرا نکال دے، یا علاج و معالجہ کی ضرورت ہو، یا کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٣٨) (صحیح )
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ مروان نے فاطمہ بنت قیس ؓ کو بلوایا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابوحفص ؓ کے عقد میں تھیں، اور نبی اکرم ﷺ نے علی ؓ کو یمن کا یعنی یمن کے بعض علاقے کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے شوہر بھی علی ؓ کے ساتھ گئے اور وہیں سے انہیں بقیہ ایک طلاق بھیج دی، اور عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن ہشام کو انہیں نفقہ دینے کے لیے کہہ دیا تو وہ دونوں کہنے لگے: اللہ کی قسم حاملہ ہونے کی صورت ہی میں وہ نفقہ کی حقدار ہوسکتی ہیں، چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں (اور آپ سے دریافت کیا) آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے نفقہ صرف اس صورت میں ہے کہ تم حاملہ ہو ، پھر فاطمہ نے گھر سے منتقل ہونے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی، پھر فاطمہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں کہاں جاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر رہو، وہ نابینا ہیں، سو وہ ان کے پاس کپڑے بھی اتارتی تھیں تو وہ اسے دیکھ نہیں پاتے تھے ، چناچہ وہ وہیں رہیں یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہوگئی پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کا نکاح اسامہ ؓ سے کردیا۔ تو قبیصہ ١ ؎ مروان کے پاس واپس آئے اور انہیں اس کی خبر دی تو مروان نے کہا: ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت کے منہ سے سنی ہے ہم تو اسی مضبوط اور صحیح بات کو اپنائیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے، فاطمہ ؓ کو اس کا علم ہوا تو کہنے لگیں: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، اللہ کا فرمان ہے فطلقوهن لعدتهن ، لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلک أمرا ٢ ؎ تک یعنی خاوند کا دل مائل ہوجائے اور رجوع کرلے فاطمہ ؓ نے کہا: تین طلاق کے بعد کیا نئی بات ہوگی؟ ٣ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے یونس نے زہری سے روایت کیا ہے، رہے زبیدی تو انہوں نے دونوں حدیثوں کو ملا کر ایک ساتھ روایت کیا ہے یعنی عبیداللہ کی حدیث کو معمر کی حدیث کے ہم معنی اور ابوسلمہ کی حدیث کو عقیل کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ اور اسے محمد بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ قبیصہ بن ذویب نے ان سے اس معنی کی حدیث بیان کی ہے جس میں عبیداللہ بن عبداللہ کی حدیث پر دلالت ہے جس وقت انہوں نے یہ کہا کہ قبیصہ مروان کے پاس لوٹے اور انہیں اس واقعہ کی خبر دی۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al Shabi through a different chain of narrators. This version has “The husband of Fathima daughter of Qais pronounced her triple divorce. The Prophet ﷺ did not allow her to have maintenance and dwelling. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسا کہ آگے اس کی تصریح آرہی ہے۔ ٢ ؎: انہیں ان کی عدت میں یعنی طہر کے شروع میں طلاق دو، اور مدت کا حساب رکھو، اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ خود نکلیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے، اس نے یقینا اپنے اوپر ظلم کیا، تم نہیں جانتے، شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے۔ ٣ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ گھر سے نہ نکلنا یا نہ نکالنا صرف پہلی اور دوسری طلاق کے بعد ہے۔
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں اسود کے ساتھ جامع مسجد میں تھا تو انہوں نے کہا: فاطمہ بنت قیس ؓ عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑ سکتے، پتا نہیں اسے یہ (اصل بات) یاد بھی ہے یا بھول گئی ١ ؎۔
Abu Salamah reported on the authority of Fatimah daughter of Qays who said to him that she was the wife of AbuHafs ibn al-Mughirah who divorced her by three pronouncements. She said that she came to the Messenger of Allah ﷺ and sought his opinion about her going out from her house. He commanded her to shift to (the house of )Ibn Umm Maktum who was blind. Marwan denied to confirm the tradition of Fatimah about the going out of a divorced woman from her house. Urwah said: Aisha (RA) objected to Fatimah daughter of Qays. Abu Dawud said: Salih bin Kaisan, Ibn Juraij, and Shuaib bin Abi Hamzah -- all of them narrated on the authority of al-Zuhru in a similar way. Abu Dawud said: Shuaibn bin Abi Hamzah the name of Abu Hamzah is Dinar. He is a client of Ziyad.
Notes · وضاحت
١ ؎: کتاب اللہ سے مراد سورة طلاق کی آیت لعل الله يحدث بعد ذلک أمرا، اور سنت سے مراد عمر ؓ والی روایت ہے جس میں ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے سنا کہ مطلقہ ثلاثہ کو نفقہ اور سکنی ملے گا، لیکن یہ روایت محفوظ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٨٨) (تحفة الأشراف: ١٠٤٠٥، ١٨٠٢٥) (صحیح موقوف )
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ فاطمہ بنت قیس ؓ کی حدیث پر سخت نکیر کرتی تھیں اور کہتی تھیں: چونکہ فاطمہ ایک ویران مکان میں رہتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں خدشہ لاحق ہوا اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انہیں (مکان بدلنے کی) رخصت دی تھی۔
Ubaid Allah said “Marwan sent someone (Qabisah) to Fatimah and asked her (about the case). She said that she was the wife of Abu Hafs. The Prophet ﷺ appointed Ali as governor in a certain part of Yemen. Her husband also proceeded with him. From there he sent a message to her pronouncing one divorce that had yet remained. He commanded Ayyash bin Abi Rabiah and Al Harith bin Hisham to provide maintenance to her. They said “By Allah there is no sustenance for her except in case she is pregnant. ” She came to the Prophet ﷺ who said “There is no sustenance for you except in case you are pregnant. She then asked permission to shift (from her house) and he gave her permission. ” She asked “Where should I shift. Messenger of Allah ﷺ ? The Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Umm Maktum. He was blind. She would undress herself and he could not see her. She lived there till her waiting period passed. The Prophet ﷺ married her to Usamah. Qabisah then returned to Marwan and narrated that to him. Marwan said “We did not hear this tradition except from a woman, so we shall follow the reliable practice on which we found the people”. When this reached Fatimah she said “between me and you is the Book of Allah”. Allaah the exalted said “Divorce them for their waiting period. . . ” Thou knowest not it may be that Allaah will afterward bring some new thing to pass. She said “What a new thing will emerge after triple divorce. ” Abu Dawud said “A similar tradition has been narrated by Yunus on the authority of Al Zuhri. As for Al Zubaidi he narrated both traditions, the tradition of Ubaid Allah in the version of Mamar and the tradition of Abu Salamah in the version of Aqil. ” Abu Dawud said “Muhammad bin Ishaq narrated on the authority of Al Zuhri that Qabisah bin Dhuwaib transmitted to him the version which was narrated by Ubaid Allah bin Abd Allaah which has Qabisah then returned to Marwan and informed him about that. ”
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ سے فاطمہ (فاطمہ بنت قیس) ؓ کے بیان پر اظہار خیال کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔
Abu Ishaq said “I was with Al Aswad in the congregational mosque. He said “Fathimah daughter of Qais came to Umar bin Al Khattab (may Allaah be pleased with him). (When she narrated the tradition about her divorce) he said “We are not to leave the Book of our Lord and the Sunnah of our Prophet ﷺ for the statement of a woman, we do not know whether she remembered it or not. ”
سلیمان بن یسار سے بھی فاطمہ ؓ کے گھر سے نکلنے کا قصہ مروی ہے وہ کہتے ہیں: یہ بد خلقی کی بنا پر ہوا تھا۔
Urwah said: Aisha (RA) (Allah be pleased with her) severely objected to the tradition of Fatimah daughter of Qays. She said: Fatimah lived in a desolate house and she feared for her loneliness there. Hence the Messenger of Allah ﷺ accorded permission to her (to leave the place).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٠٢٣) (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے، سلیمان بن یسار تابعی ہیں )
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتْ لَهُ: اتَّقِ اللَّهَ، وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا، فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي، وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ: أَوَ مَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ؟فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: إِنْ كَانَ بِكِ الشَّرُّ، فَحَسْبُكِ مَا كَانَ بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ.
یحییٰ بن سعید قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو ذکر کرتے ہوئے سنا ک
ہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو تین طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن نے انہیں اس گھر سے منتقل کرلیا تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے اس وقت مدینہ کے امیر مروان بن حکم کو کہلا بھیجا کہ اللہ کا خوف کھاؤ اور عورت کو اس کے گھر واپس بھیج دو، بروایت سلیمان: مروان نے کہا: عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آگئے یعنی انہوں نے میری بات نہیں مانی، اور بروایت قاسم: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس ؓ کا قصہ معلوم نہیں؟ تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: فاطمہ والی حدیث نہ بیان کرو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے، تو مروان نے کہا: اگر آپ نزدیک وہاں برائی کا اندیشہ تھا تو سمجھ لو یہاں ان دونوں (عمرہ اور ان کے شوہر یحییٰ ) کے درمیان بھی اسی برائی کا اندیشہ ہے۔
Urwah ibn az-Zubayr said: Aisha (RA) was asked: Did you not see (i. e. known) the statement of Fatimah? She replied: It is not good for her to mention it (to others).
میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو سعید بن مسیب کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ فاطمہ بنت قیس ؓ کو طلاق دی گئی تو وہ اپنے گھر سے چلی گئی (ایسا کیوں ہوا؟ ) تو سعید نے جواب دیا: اس عورت نے لوگوں کو فتنے میں مبتلا کردیا تھا کیونکہ وہ زبان دراز تھی لہٰذا اسے ابن ام مکتوم ؓ کے پاس رکھا گیا جو نابینا تھے۔
Sulaimah bin Yasar said about leaving the house by Fathimah “That was due to her bad manners. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٠٢١) (صحیح) (لیکن ابن المسیب کا یہ بیان خلاف واقعہ، یعنی، فاطمہ کی منتقلی تین طلاق کے سبب تھی )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں، وہ اپنی کھجوریں توڑنے نکلیں، راستے میں ایک شخص ملا تو اس نے انہیں نکلنے سے منع کیا چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اور اپنی کھجوریں توڑو، ہوسکتا ہے تم اس میں سے صدقہ کرو یا اور کوئی بھلائی کا کام کرو ۔
Al-Qasim ibn Muhammad and Sulayman ibn Yasar reported: Yahya ibn Saeed ibn al-As divorced the daughter of Abdur-Rahman ibn al-Hakam absolutely. Abdur-Rahman shifted her (from there). Aisha (RA) sent a message to Marwan ibn al-Hakam who was the governor of Madina, and said to him: Fear Allah, and return the woman to her home. Marwan said (according to Sulaymans version): Abdur-Rahman forced me. Marwan said (according to the version of al-Qasim): Did not the case of Fatimah daughter of Qays reach you? Aisha (RA) replied: There would be no harm to you if you did not make mention of the tradition of Fatimah. Marwan said: If you think that it was due to some evil (i. e. reason), then it is sufficient for you to see that there is also an evil between the two.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٧ (١٤٨١)، سنن النسائی/الطلاق ٧١ (٣٥٨٠)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٩ (٢٠٣٤)، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢١)، سنن الدارمی/الطلاق ١٤ (٢٣٣٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کا فرمان والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے (سورۃ البقرہ: ٢٤٠) میراث کی آیت نازل ہوجانے کے بعد منسوخ ہوگیا کیونکہ اس میں ان کے لیے چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کردیا گیا ہے اسی طرح ایک سال تک نہ نکلنے کا حکم چار مہینے دس دن کی عدت کا حکم آجانے کے بعد منسوخ ہوگیا۔
Maimun bin Mihram said “I came to Median and went to Saeed bin Al Musayyab”. I said (to him) Fathimah daughter of Qais was divorced and she shifted from her house. Saeed said “This woman has perverted people. She was arrogant so she was placed with Ibn Umm Makhtum, the blind. ”
حمید بن نافع کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ ؓ نے انہیں ان تینوں حدیثوں کی خبر دی کہ جب ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کے والد ابوسفیان ؓ کا انتقال ہوا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگا کر ایک لڑکی کو لگائی پھر اپنے دونوں رخساروں پر بھی مل لی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی قطعاً حاجت نہ تھی، میں نے تو ایسا صرف اس بنا پر کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ منانا ہے ۔ زینب ؓ کہتی ہیں: میں ام المؤمنین زینب بنت جحش ؓ کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے بھائی کا انتقال ہوگیا تھا، انہوں نے (بھی) خوشبو منگا کر لگائی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، میں نے ایسا صرف اس بنا پر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا: کسی بھی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ہاں شوہر کی وفات پر سوگ چار مہینے دس دن ہے ۔ زینب ؓ کہتی ہیں: میں نے اپنی والدہ ام سلمہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا: ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہوگئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا، آپ ﷺ نے ہر بار فرمایا: نہیں ، پھر فرمایا: تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کرسکتی، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مرجاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ۔ حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب ؓ سے پوچھا: مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو استعمال کرسکتی اور نہ ہی کوئی زینت و آرائش کرسکتی تھی، جب سال پورا ہوجاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں:حفش چھوٹے گھر (تنگ کوٹھری) کو کہتے ہیں۔
Jabir said “My maternal aunt was divorced by three pronouncements and she went out to cut down fruit from her palm trees. A man met her and forbade her (to go out). So she went to the Prophet ﷺ and mentioned it to him. He said “Go out, and cut down fruit from your palm trees for perhaps you may give alms (sadaqah) or do an act of kindness.
زینب ؓ کہتی ہیں: میں ام المؤمنین زینب بنت جحش ؓ کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے بھائی کا انتقال ہوگیا تھا، انہوں نے (بھی) خوشبو منگا کر لگائی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، میں نے ایسا صرف اس بنا پر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا: کسی بھی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ہاں شوہر کی وفات پر سوگ چار مہینے دس دن ہے ۔
The Quranic verse “Those of you who die and leave widows should bequeath for their widows a year’s maintenance and residence was abrogated by the verse containing the laws of succession, as one-fourth or one-eighth share was prescribed for them (i. e., the widows). The waiting period for one year was also repealed as a period of four months ten days was prescribed for them.
زینب ؓ کہتی ہیں: میں نے اپنی والدہ ام سلمہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا: ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہوگئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا، آپ ﷺ نے ہر بار فرمایا: نہیں ، پھر فرمایا: تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کرسکتی، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مرجاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ۔ حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب ؓ سے پوچھا: مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو استعمال کرسکتی اور نہ ہی کوئی زینت و آرائش کرسکتی تھی، جب سال پورا ہوجاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں:حفش چھوٹے گھر (تنگ کوٹھری) کو کہتے ہیں۔
Humaid ibn Nafi reported the following three traditions on the authority of Zaynab, daughter of Abu Salamah (RA) : Zainab said: I visited Umm Habibah when her father Abu Sufyan, died. She asked for some yellow perfume containing saffron (khaluq) or something else. Then she applied it to a girl and touched her cheeks. She said: I have no need of perfume, but I heard the Messenger of Allah ﷺ say: It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to observe mourning for one who has died, more than three nights, except for four months and ten days in the case of a husband. Zaynab said: I also visited Zaynab, daughter of Jahsh, when her brother died. She asked for some perfume and used it upon herself. She then said: I have no need of perfume, but I heard the Messenger of Allah ﷺ say when he was on the pulpit: It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to observe mourning for one who has died, more than three nights, except for four months and ten days in the case of a husband. Zaynab said: I heard my mother, Umm Salamah, say: A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, the husband of my daughter has died, and she is suffering from sore eyes; may we put antimony in her eyes? The Messenger of Allah ﷺ said: No. He said this twice or thrice. Each time he said: No. The Messenger of Allah ﷺ said: The waiting period is now four months and ten days. In pre-Islamic days one of you used to throw away a piece of dung at the end of a year. Humayd said: I asked Zaynab (RA) : What do you mean by throwing away a piece of dung at the end of a year. Zaynab replied: When the husband of a woman died, she entered a small cell and put on shabby clothes, not touching perfume or any other thing until a year passed. Then an animal such as donkey or sheep or bird was provided for her. She rubbed herself with it. The animal with which she rubbed herself rarely survived. She then came out and was given a piece of dung which she threw away. She then used perfume or something else which she desired. Abu Dawud said: The Arabic word hafsh means a small cell
زینب بنت کعب بن عجرۃ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان ؓ (ابو سعید خدری ؓ کی بہن) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں؟ کیونکہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہوجانے والے غلاموں کا پیچھا کرتے ہوئے طرف القدوم نامی مقام پر پہنچے اور ان سے جا ملے تو ان غلاموں نے انہیں قتل کردیا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں؟ کیونکہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں (وہاں چلی جاؤ) فریعہ ؓ کہتی ہیں: (یہ سن کر) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ ﷺ نے مجھے بلا لیا، یا بلانے کے لیے آپ ﷺ نے کسی سے کہا، (میں آئی) تو پوچھا: تم نے کیسے کہا؟ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت (عدت) پوری ہوجائے فریعہ ؓ کہتی ہیں: پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کئے، جب عثمان بن عفان ؓ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلہ سے متعلق مجھ سے دریافت کیا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔
Zaynab, daughter of Kab ibn Ujrah narrated that Furayah daughter of Malik ibn Sinan, told her that she came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him whether she could return to her people, Banu Khidrah, for her husband went out seeking his slaves who ran away. When they met him at al-Qudum, they murdered him. So I asked the Messenger of Allah ﷺ : Should I return to my people, for he did not leave any dwelling house of his own and maintenance for me? She said: The Messenger of Allah ﷺ replied: Yes. She said: I came out, and when I was in the apartment or in the mosque, he called for me, or he commanded (someone to call me) and, therefore, I was called. He said: what did you say? So I repeated my story which I had already mentioned about my husband. Thereupon he said: Stay in your house till the term lapses. She said: So I passed my waiting period in it (her house) for four months and ten days. When Uthman ibn Affan became caliph, he sent for me and asked me about that; so I informed him, and he followed it and decided cases accordingly.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٢٣ (١٢٠٤)، سنن النسائی/الطلاق ٦٠ (٣٥٥٨)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣١ (٢٠٣١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣١ (٨٧)، مسند احمد (٦/٣٧٠، ٤٢٠)، سنن الدارمی/الطلاق ١٤ (٢٣٣٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں غير إخراج (سورة البقرہ: ٢٤٠) والی آیت جس میں عورت کو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارنے کا حکم ہے منسوخ کردی گئی ہے، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے، عطاء کہتے ہیں: اگر چاہے تو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے اور شوہر کی وصیت سے فائدہ اٹھا کر وہیں سکونت اختیار کرے، اور اگر چاہے تو اللہ کے فرمان فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن اگر وہ خود نکل جائیں تو ان کے کئے ہوئے کا تم پر کوئی گناہ نہیں کے مطابق نکل جائے، عطاء کہتے ہیں کہ پھر جب میراث کا حکم آگیا، تو شوہر کے مکان میں رہائش کا حکم منسوخ ہوگیا اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔
Ibn Abbas said “The following verse abrogated the rule of passing her waiting period with her people. A year’s maintenance and residence. She may pass her waiting period now anywhere she wishes. Ata said “If she wishes she can pass her waiting period with the people of her husband and live in the house left by her husband by will. Or she may shift if she wishes according to the pronouncement of Allah the Exalted. But if they leave (the residence) there is no blame on you for what they do. Ata’ said “Then the verses regarding inheritance were revealed. The commandment for living in a house (for one year) was repealed. She may pass her waiting period wherever she wishes.
ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت کسی پر بھی تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے شوہر کے، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی (اس عرصہ میں) وہ سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا نہ پہنے، نہ سرمہ لگائے، اور نہ خوشبو استعمال کرے، ہاں حیض سے فارغ ہونے کے بعد تھوڑی سی قسط یا اظفار کی خوشبو (حیض کے مقام پر) استعمال کرے ۔ راوی یعقوب نے: سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے بجائے: دھلے ہوئے کپڑے کا ذکر کیا، انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا کہ اور نہ خضاب لگائے۔
Umm Athiyah reported the Prophet ﷺ as saying “A woman must not observe mourning for more than three (days) except for four months and ten days in the case of a husband and she must not wear a dyed garment except one of the types made of dyed yarn or apply collyrium or touch perfume except for a little costus or azfar when she has been purified after her menstrual courses. The narrator Ya’qub mentioned the words “except washed clothes” instead of the words “one of the types made of dyed yarn”. Ya’qub also added “She must not apply Henna”
ام عطیہ ؓ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے، لیکن ان دونوں راویوں کی حدیثوں میں پوری مشابہت نہیں ہے، مسمعی کا بیان ہے کہ یزید کہتے ہیں میں تو صرف یہی جانتا ہوں کہ اس میں ہے کہ خضاب نہ لگائے اور ہارون نے اس میں اتنا اور اضافہ کیا ہے کہ: رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے سوائے سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے ۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Al‘Umm Athiyah from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. The tradition narrated by Yazid bin Harun from Hisham does perfectly correspond to the tradition transmitted by Ibrahim bin Tahman and Abdullah Al Shami from Hisham. The narrator Al Misma’I reported Yazid as saying “I do not know but that he said “she should not dye herself. ” To this the narrator Harun added “She should not wear colored clothes except one of the types made of dyed yarn. ”
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس عورت کا شوہر انتقال کر جائے وہ نہ زرد اور گیروے رنگ کا کپڑا پہنے نہ زیور پہنے، نہ خضاب (مہندی وغیرہ) لگائے، اور نہ سرمہ لگائے ١ ؎۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: A woman whose husband has died must not wear clothes dyed with safflower (usfur) or with red ochre (mishq) and ornaments. She must not apply henna and collyrium.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تمام کام بناؤ سنگار کے ہیں، اس لئے عدت میں ان سے پرہیز ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٦٤ (٣٥٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠٢) (صحیح )
ام حکیم بنت اسید اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا، ان کی آنکھوں میں تکلیف رہتی تھی تو وہ جلاء (سرمہ) لگا لیتیں تو اپنی ایک لونڈی کو انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس بھیجا تاکہ وہ جلاء کے سرمہ کے متعلق ان سے پوچھے، انہوں نے کہا: اس کا سرمہ نہ لگاؤ جب تک ایسی سخت ضرورت پیش نہ آجائے جس کے بغیر چارہ نہ ہو اس صورت میں تم اسے رات میں لگاؤ، اور دن میں پونچھ لیا کرو، پھر ام سلمہ ؓ نے اسی وقت یہ بھی بتایا کہ ابوسلمہ ؓ کا جب انتقال ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اور میں نے اپنی آنکھ میں ایلوا لگا رکھا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! یہ ایلوا ہے اور اس میں خوشبو نہیں ہے، فرمایا: یہ چہرے میں حسن پیدا کرتا ہے لہٰذا اسے رات ہی میں لگاؤ، اور دن میں ہٹا دو، اور خوشبو لگا کر کنگھی نہ کرو، اور نہ مہندی لگا کر، کیونکہ وہ خضاب ہے میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کنگھی کس چیز سے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بیری کے پتوں کو اپنے سر پر لپیٹ کر ۔
Umm Hakim, daughter of Usayd, reported on the authority of her mother that her husband died and she was suffering from sore eyes. She therefore applied collyrium (jAla). Ahmad said: The correct version is glittering collyrium (kuhl al-jAla). She sent her slave-girl to Umm Salamah, and she asked her about the use of glittering collyrium (kuhl al-jAla). She said: Do not apply it except in the case of dire need which is troubling you. In that case you can use it at night, but you should remove it in the daytime. Then Umm Salamah said: The Messenger of Allah ﷺ came to visit me when Abu Salamah died, and I had put the juice of aloes in my eye. He asked: What is this, Umm Salamah? I replied: It is only the juice of aloes and contains no perfume. He said: It gives the face a glow, so apply it only at night and remove it in daytime, and do not comb yourself with scent or henna, for it is a dye. I asked: What should I use when I comb myself, Messenger of Allah? He said: Use lote-tree leaves and smear your head copiously with them.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٦٦ (٣٥٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی مغیرہ بن الضحاک لین الحدیث ہیں، اور ام حکیم اور ان کی ماں دونوں مجہول ہیں )