اس سند سے بھی زہری نے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: آپ ﷺ میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے آپ کے چہرے کی لکیریں چمک رہی تھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: أسارير وجهه کے الفاظ کو ابن عیینہ یاد نہیں رکھ سکے، ابوداؤد کہتے ہیں: أسارير وجهه ابن عیینہ کی جانب سے تدلیس ہے انہوں نے اسے زہری سے نہیں سنا ہے انہوں نے أسارير وجهه کے بجائے لأسارير من غير کے الفاظ سنے ہیں اور أسارير کا ذکر لیث وغیرہ کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن صالح کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسامہ ؓ تارکول کی طرح بہت زیادہ کالے تھے ١ ؎ اور زید ؓ روئی کی طرح سفید۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Muhammad bin Rashid through a different chain of narrators to the same effect. This version adds “he is the child of fornication for the people of his mother whether she was free or a slave. This attribution of a child to the parents was practiced in the beginning of Islam. The property divided before Islam will not be taken into account.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ان کی والدہ جن کا نام برکۃ تھا اور کنیت ام ایمن تھی بہت کالی اور حبشی خاتون تھیں۔
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں یمن کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اہل یمن میں سے تین آدمی علی ؓ کے پاس ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے آئے، ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر (پاکی) میں جماع کیا تھا، تو علی ؓ نے ان میں سے دو سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے یہ لڑکا اسے (تیسرے کو) دے دو، یہ سن کر وہ دونوں بھڑک گئے، پھر دو سے یہی بات کہی، وہ بھی بھڑک اٹھے، پھر دو سے اسی طرح گفتگو کی لیکن وہ بھی بھڑک اٹھے، چناچہ علی ؓ نے کہا کہ: تم تو باہم ضد کرنے والے ساجھی دار ہو لہٰذا میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرتا ہوں، جس کے نام کا قرعہ نکلے گا، لڑکا اسی کو ملے گا اور وہ اپنے ساتھیوں کو ایک ایک تہائی دیت ادا کرے گا ، آپ نے قرعہ ڈالا اور جس کا نام نکلا اس کو لڑکا دے دیا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں یا کچلیاں نظر آنے لگیں۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ entered upon me. The version of Musaddad and Ibn as-Sarh has: one day looking pleased. The version of Uthman has: The lines of his forehead were realised. He said: O Aisha (RA) , are you not surprised to hear that Mujazziz al-Mudlaji saw that Zayd and Usamah had a rug over them concerning their heads and letting their feet appear. He said: These feet are related. Abu Dawud: Usamah was black and Zaid was white.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٥٠ (٣٥١٩)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٠ (٢٣٤٨)، (تحفة الأشراف: ٣٦٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٧٣) (صحیح )
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ علی ؓ کے پاس یمن میں تین آدمی (ایک لڑکے کے لیے جھگڑا لے کر) آئے جنہوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو آپ نے ان میں سے دو سے پوچھا: کیا تم دونوں یہ لڑکا اسے (تیسرے کو) دے سکتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس طرح آپ نے سب سے دریافت کیا، اور سب نے نفی میں جواب دیا، چناچہ ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اور جس کا نام نکلا اسی کو لڑکا دے دیا، نیز اس کے ذمہ (دونوں ساتھیوں کے لیے) دو تہائی دیت مقرر فرمائی، رسول اللہ ﷺ کے سامنے جب اس کا تذکرہ آیا تو آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہوگئیں۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by ibn Shihab through a different chain of narrators to the same effect. This version adds “She said “he entered upon me looking pleased with the lines of his face brightened. Abu Dawud said “Ibn ‘Uyainah did not remember the words “the lines of his face”. ” Abu Dawud said “The words “the lines of his face” have been narrated by Ibn ‘Uyainah himself. He did not hear Al Zuhri say (these words). He heard some person other than Al Zuhri say these words. The words “the lines of his face” occur in the tradition narrated by Al Laith and others. Abu Dawud said “ I heard Ahmad bin Salih say “Usamah was very black like tar and Zaid was white like cotton. ”
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٥٠ (٣٥١٨)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٠ (٢٣٤٨)، (تحفة الأشراف: ٣٦٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٣) (صحیح )
خلیل یا ابن خلیل کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب ؓ کے پاس ایک عورت کا مقدمہ لایا گیا جس نے تین آدمیوں سے صحبت کے بعد ایک لڑکا جنا تھا، آگے اسی طرح کی روایت ہے اس میں نہ تو انہوں نے یمن کا ذکر کیا ہے، نہ ہی نبی اکرم ﷺ کا، اور نہ (علی ؓ کے) اس قول کا کہ خوشی سے تم دونوں لڑکے کو اسے (تیسرے کو) دے دو۔
Narrated Zayd ibn Arqam (RA) : I was sitting with the Prophet ﷺ . A man came from the Yemen, and said: Three men from the people of the Yemen came to Ali, quarrelling about a child, asking him to give a decision. They had had sexual intercourse with a woman during a single state of purity. He said to two of them: Give this child to this man (the third person) with pleasure. But they (refused and) cried loudly. Again he said to two of them: Give the child to the man (the third person) willingly. But they (refused and) cried loudly. He then said: You are quarrelsome partners. I shall cast lots among you; he who receives the lot, will acquire the child, and he shall pay two-thirds of the blood-money to both his companions. He then cast lots among them, and gave the child to the one who received the lot. The Messenger of Allah ﷺ laughed so much that his canine or molar teeth appeared.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ٣٦٦٩) (ضعیف) (اس کے راوی الخلیل لین الحدیث ہیں، ان کے نام میں بھی اختلاف ہے، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، کما تقدم )
محمد بن مسلم بن شہاب کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں بتایا کہ زمانہ جاہلیت میں چار قسم کے نکاح ہوتے تھے: ایک تو ایسے ہی جیسے اس زمانے میں ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے پاس اس کی بہن یا بیٹی وغیرہ کے لیے نکاح کا پیغام دیتا ہے وہ مہر ادا کرتا ہے اور نکاح کرلیتا ہے۔ نکاح کی دوسری قسم یہ تھی کہ آدمی اپنی بیوی سے حیض سے پاک ہونے کے بعد کہہ دیتا کہ فلاں شخص کو بلوا لے، اور اس کا نطفہ حاصل کرلے پھر وہ شخص تب تک اپنی بیوی سے صحبت نہ کرتا جب تک کہ مطلوبہ شخص سے حمل نہ قرار پا جاتا، حمل ظاہر ہونے کے بعد ہی وہ چاہتا تو اس سے جماع کرتا، ایسا اس لیے کیا جاتا تھا تاکہ لڑکا نجیب (عمدہ نسب کا) ہو، اس نکاح کو نکاح استبضاع (نطفہ حاصل کرنے کا نکاح) کہا جاتا تھا۔ نکاح کی تیسری قسم یہ تھی کہ نو افراد تک کا ایک گروہ بن جاتا پھر وہ سب اس سے صحبت کرتے رہتے، جب وہ حاملہ ہوجاتی اور بچے کی ولادت ہوتی تو ولادت کے کچھ دن بعد وہ عورت ان سب لوگوں کو بلوا لیتی، کوئی آنے سے انکار نہ کرتا، جب سب جمع ہوجاتے تو کہتی: تمہیں اپنا حال معلوم ہی ہے، اور میں نے بچہ جنا ہے، پھر وہ جسے چاہتی اس کا نام لے کر کہتی کہ اے فلاں! یہ تیرا بچہ ہے، اور اس بچے کو اس کے ساتھ ملا دیا جاتا۔ نکاح کی چوتھی قسم یہ تھی کہ بہت سے لوگ جمع ہوجاتے اور ایک عورت سے صحبت کرتے، وہ کسی بھی آنے والے کو منع نہ کرتی، یہ بدکار عورتیں ہوتیں، ان کے دروازوں پر بطور نشانی جھنڈے لگے ہوتے، جو شخص بھی چاہتا ان سے صحبت کرتا، جب وہ حاملہ ہوجاتی اور بچہ جن دیتی تو سب جمع ہوجاتے، اور قیافہ شناس کو بلاتے، وہ جس کا بھی نام لیتا اس کے ساتھ ملا دیا جاتا، وہ بچہ اس کا ہوجاتا اور وہ کچھ نہ کہہ پاتا، تو جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو نبی بنا کر بھیجا تو زمانہ جاہلیت کے سارے نکاحوں کو باطل قرار دے دیا سوائے اہل اسلام کے نکاح کے جو آج رائج ہے۔
Narrated Zayd ibn Arqam (RA) : Three persons were brought to Ali (Allah be pleased with him) when he was in the Yemen. They and sexual intercourse with a woman during a single state of purity. He asked two of them: Do you acknowledge this child for this (man)? They replied: No. He then put this (question) to all of them. Whenever he asked two of them, they replied in the negative. He, therefore, cast a lot among them, and attributed the child to the one who received the lot. He imposed two-third of the blood-money (i. e. the price of the mother) on him. This was then mentioned to the Prophet ﷺ and he laughed so much that his molar teeth appeared.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ ؓ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کا جھگڑا لے آئے، سعد ؓ کہنے لگے: میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں تو اس کو لے لوں کیونکہ وہ انہیں کا بیٹا ہے، اور عبد بن زمعہ ؓ کہنے لگے: یہ میرا بھائی ہے کیونکہ میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے، اور میرے والد کے بستر پر اس کی ولادت ہوئی ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے عتبہ کے ساتھ کھلی مشابہت دیکھی (اس کے باوجود) آپ ﷺ نے فرمایا: بچہ بستر والے کا ہے، اور زانی کے لیے سنگساری ہے، اور سودہ! تم اس سے پردہ کرو ۔ مسدد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زیادہ کئے ہیں کہ آپ نے فرمایا: عبد! یہ تیرا بھائی ہے ۔
Khalil or Ibn Khalil said “A woman was brought to Ali bin Abi Talib (may Allaah be pleased with him). She bore a child from intercourse of three persons. The narrator transmitted the rest of the tradition similar to the previous one. But in this version he did not mention “Yemen” and the Prophet ﷺ and his words “give the child willingly. ”
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! فلاں میرا بیٹا ہے میں نے زمانہ جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام میں اس طرح کا مطالبہ صحیح نہیں، زمانہ جاہلیت کی بات ختم ہوئی، بچہ صاحب بستر کا ہے اور زانی کے لیے سنگساری ہے ۔
Aishah wife of the Prophet ﷺ said “Marriage in pre Islamic times was of four kinds. ” One of them was the marriage contracted by the people today. A man asked another man to marry his relative (sister or daughter) to him. He fixed the dower and married her to him. Another kind of marriage was that a man asked his wife when she became pure from menstruation to send fro so and so and have sexual intercourse with him. Her husband kept himself aloof and did not have intercourse with her till It became apparent that she was pregnant from the man who had intercourse with her. When it was manifest that she was pregnant, her husband approached her if he liked. This marriage was called istibda’ (to utilize man for intercourse for a noble birth). A third kind of marriage was that a group of people less than ten in number entered upon a woman and had intercourse with her. When she conceived gave birth to a child and a number of days passed after her delivery, she sent for them. No one of them could refuse to attend and they gathered before her. She said to them “You have realized your affair. I have now given birth to a child. And this is your son. O so and so. She called the name of anyone of them she liked and the child was attributed to him. A fourth kind of marriage was that many people gathered together and entered upon a woman who did not prevent anyone who came to her. They were prostitutes. They hoisted flags at their doors which served as a sign for the one who intended to enter upon them. When she became pregnant and delivered the child, they got together before her and called for the experts of tracing relationship from physical features. They attributed the child to whom they considered and it was given to him. The child was called his son and he could not deny. When Allah sent Muhammad ﷺ as a Prophet, he abolished all kinds of marriages prevalent among the people of the pre Islamic times except of the Muslims practiced today.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٨، ٢٠٧) (حسن صحیح )
رباح کہتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے اپنی ایک رومی لونڈی سے میرا نکاح کردیا، میں نے اس سے جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح کالا لڑکا جنا جس کا نام میں نے عبداللہ رکھا، میں نے پھر جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح ایک اور کالے لڑکے کو جنم دیا جس کا نام میں نے عبیداللہ رکھا، اس کے بعد میرے خاندان کے یوحنا نامی ایک رومی غلام نے اسے پھانس لیا اور اس نے اس سے اپنی زبان میں بات کی چناچہ گرگٹ جیسا (سرخ) رنگ کا بچہ اس سے پیدا ہوا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہنے لگی: یہ یوحنا کا بچہ ہے تو ہم نے یہ معاملہ عثمان ؓ کی عدالت میں پیش کیا، تو انہوں نے ان سے بازپرس کی تو دونوں نے اعتراف کرلیا، پھر انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم دونوں اس بات پر رضامند ہو کہ میں تمہارا فیصلہ اس طرح کر دوں جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا تھا؟ آپ نے فیصلہ فرمایا کہ بچہ بستر والے کا ہے ۔ راوی کا خیال ہے کہ پھر ان دونوں کو کوڑے لگائے، (سنگسار نہیں کیا) کیونکہ وہ دونوں لونڈی و غلام تھے۔
Aishah said “Saad bin Abi Waqqas and Abd bin Zamah disputed amongst themselves about the (relationship of the) son of the slave girl of Zam’ah and brought the case to the Messenger of Allah ﷺ . Saad said “My brother ‘Utbah enjoined me that when I came to Makkah I should see the son of the slave girl of Zam’ah and take his possession for that is his son”. Abd bin Zam’ah said “He is my brother, the son of my father’s slave girl having been born on my father’s bed”. The Messenger of Allah ﷺ saw his clear resemblance to ‘Utbah. So he said “The child is attributed to the one on whose bed it is born and the fornicator is deprived of any right (lit. the fornicator will have the stone). Veil yourself from him, Saudah. Musaddad added in his version “he is your brother Abd”.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٨٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٥٩، ٦٥، ٦٩) (ضعیف) (اس کے راوی رباح کوفی مجہول ہیں )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کا گھر رہا، میری چھاتی اس کے پینے کا برتن بنی، میری گود اس کا ٹھکانہ بنی، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تک تو (دوسرا) نکاح نہیں کرلیتی اس کی تو ہی زیادہ حقدار ہے ۔
Amr bin Shuaib on his fathers authority said that his grandfather reported: A man got up and said: Messenger of Allah, so-and-so is my son; I had illicit intercourse with his mother in the pre-Islamic period. The Messenger of Allah ﷺ said: There is no unlawful claiming of paternity in Islam. What was done in pre-Islamic times has been annulled. The child is attributed to the one on whose bed it is born, and the fornicator is deprived of any right.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٧٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٢، ٢٠٣) (حسن )
ہلال بن اسامہ سے روایت ہے کہ ابومیمونہ سلمی جو اہل مدینہ کے مولی اور ایک سچے آدمی ہیں کا بیان ہے کہ میں ایک بار ابوہریرہ ؓ کے پاس بیٹھا تھا کہ اسی دوران ان کے پاس ایک فارسی عورت آئی جس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا، اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی اور وہ دونوں ہی اس کے دعویدار تھے، عورت کہنے لگی: ابوہریرہ! (پھر اس نے فارسی زبان میں گفتگو کی) میرا شوہر مجھ سے میرے بیٹے کو لے لینا چاہتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا: تم دونوں اس کے لیے قرعہ اندازی کرو، ابوہریرہ ؓ نے بھی فارسی زبان ہی میں اس سے گفتگو کی، اتنے میں اس کا شوہر آیا اور کہنے لگا: میرے لڑکے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑا کرسکتا ہے؟ ابوہریرہ ؓ نے کہا: یا اللہ! میں نے تو یہ فیصلہ صرف اس وجہ سے کیا ہے کہ میں نے ایک عورت کو کہتے سنا تھا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی میں آپ کے پاس بیٹھا تھا، وہ کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرا شوہر میرے بیٹے کو مجھ سے لے لینا چاہتا ہے، حالانکہ وہ ابوعنبہ کے کنویں سے مجھے پانی لا کر پلاتا ہے اور وہ مجھے فائدہ پہنچاتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم دونوں اس کے لیے قرعہ اندازی کرو ، اس کا شوہر بولا: میرے لڑکے کے متعلق مجھ سے کون جھگڑا کرسکتا ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ تیرا باپ ہے، اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے تو جس کا بھی چاہے ہاتھ تھام لے ، چناچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا، اور وہ اسے لے کر چلی گئی ١ ؎۔
Rabah said: My people married me to a Roman slave-girl of theirs. I had intercourse with her, and she gave birth to a black (male) child like me. I named it Abdullah. I again had intercourse with her, and she gave birth to a black (male) child like me. I named it Ubaydullah. Then a Roman slave of my people, called Yuhannah, incited her, and spoke to her in his own unintelligible language. She gave birth to a son like a chameleon (red). I asked her: What is this? She replied: This belongs to Yuhannah. We then brought the case to Uthman (for a decision). I think Mahdi said these words. He inquired from both of them, and they acknowledged (the facts). He then said to them: Do you agree that I take the decision about you, which the Messenger of Allah ﷺ had taken? The Messenger of Allah ﷺ decided that the child was to attributed to the one on whose bed it was born. And I think he said: He flogged her and flogged him, for they were slaves.
Notes · وضاحت
١ ؎: امام شافعی کی یہی دلیل ہے، ان کے نزدیک لڑکے کو اختیار ہوگا کہ وہ جس کو چاہے اختیار کرلے، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک جب تک کم سن ہے ماں کے ساتھ رہے گا، اور جب خود کھانے، پینے، پہنے اور استنجا کرنے لگے تو باپ کے ساتھ ہوجائے گا، یہ قول زیادہ قوی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٢١ (١٣٥٧)، سنن النسائی/الطلاق ٥٢ (٣٥٢٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٢ (٢٣٥١)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٧)، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٩) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ زید بن حارثہ ؓ مکہ گئے تو حمزہ ؓ کی صاحبزادی کو لے آئے، جعفر ؓ کہنے لگے: اسے میں لوں گا، میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز اس کی خالہ میرے پاس ہے، اور خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے، اور علی ؓ کہنے لگے: اس کا زیادہ حقدار میں ہوں کیونکہ یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، وہ بھی اس کی زیادہ حقدار ہیں اور زید ؓ نے کہا: سب سے زیادہ اس کا حقدار میں ہوں کیونکہ میں اس کے پاس گیا، اور سفر کر کے اسے لے کر آیا ہوں، اتنے میں نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے تو علی ؓ نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: لڑکی کا فیصلہ میں جعفر کے حق میں کرتا ہوں وہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی اور خالہ ماں کے درجے میں ہے ۔
Amr bin Shuaib on his fathers authority said that his grandfather (Abdullah ibn Amr ibn al-As) reported: A woman said: Messenger of Allah, my womb is a vessel to this son of mine, my breasts, a water-skin for him, and my lap a guard for him, yet his father has divorced me, and wants to take him away from me. The Messenger of Allah ﷺ said: You have more right to him as long as you do not marry.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٢٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٨، ١١٥) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے یہی حدیث مروی ہے لیکن پوری نہیں ہے اس میں ہے کہ: آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ لڑکی جعفر ؓ کے پاس رہے گی، کیونکہ ان کے نکاح میں اس کی خالہ ہے ۔
Hilal ibn Usamah quoted Abu Maimunah Salma, client of the people of Madina, as saying: While I was sitting with Abu Hurairah, a Persian woman came to him along with a son of hers. She had been divorced by her husband and they both claimed him. She said: Abu Hurairah, speaking to him in Persian, my husband wishes to take my son away. Abu Hurairah said: Cast lots for him, saying it to her in a foreign language. Then her husband came and asked: Who is disputing with me about my son? Abu Hurairah said: O Allah, I do not say this, except that I heard a woman who came to the Messenger of Allah ﷺ while I was sitting with him, and she said: My husband wishes to take away my son, Messenger of Allah, and he draws water for me from the well of Abu Inabah, and he has been good to me. The Messenger of Allah ﷺ said: Cast lots for him. Her husband said: Who is disputing with me about my son? The Prophet ﷺ said: This is your father and this your mother, so take whichever of them you wish by the hand. So he took his mothers hand and she went away with him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٨٩٧٣، ١٠٢٢٣) (صحیح) (یہ روایت خود تو مرسل ہے، اس لئے پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح مانی گئی ہے )
علی ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو ہمارے پیچھے پیچھے حمزہ کی لڑکی چچا چچا پکارتی آگئی، علی ؓ ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے آئے اور (فاطمہ ؓ سے) کہا: اپنے چچا کی لڑکی کو لو، انہوں نے اسے اٹھا لیا، راوی نے پھر پورا قصہ بیان کیا اور کہا کہ: جعفر ؓ کہنے لگے: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے چناچہ رسول اللہ ﷺ نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا: خالہ ماں کے درجے میں ہے ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Zayd ibn Harithah went out to Makkah and brought the daughter of Hamzah with him. Then Jafar said: I shall take her; I have more right to her; she is my uncles daughter and her maternal aunt is my wife; the maternal aunt is like mother. Ali said: I am more entitled to take her. She is my uncles daughter. The daughter of the Messenger of Allah ﷺ is my wife, and she has more right to her. Zayd said: I have more right to her. I went out and journeyed to her, and brought her with me. The Prophet ﷺ came out. The narrator mentioned the rest of the tradition. He (i. e. the Prophet) said: As for the girl, I decided in favour of Jafar. She will live with her maternal aunt. The maternal aunt is like mother.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٣٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٨، ١٠٨، ١١٥) (صحیح )
اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں انہیں طلاق دے دی گئی، اس وقت مطلقہ کی کوئی عدت نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کی عدت کا حکم نازل فرمایا چناچہ یہی پہلی خاتون ہیں جن کے متعلق مطلقہ عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا۔
This tradition has been narrated by Abd Al Rahman bin Abi Laila through a different chain of narrators. This version has “He decided that she would be given to Jafar and said “Her maternal aunt is with him (i. e., his wife).
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو تین طہر تک روکے رکھیں (سورۃ البقرہ: ٢٢٨) اور فرمایا: واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر اور تمہاری وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہوگئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے (سورۃ الطلاق: ٤) تو یہ عورتیں پہلی آیت کے حکم سے نکال لی گئیں ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن اگر تم انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو انہیں کوئی عدت گزارنے کی ضرورت نہیں (سورۃ الاحزاب: ٤٩) اس آیت میں مذکور عورتوں کو بھی پہلی آیت کے حکم سے نکال دیا گیا ہے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: When we came out from Makkah, Hamzahs daughter pursued us crying: My uncle. Ali lifted her and took her by the hand. (Addressing Fatimah he said:) Take your uncles daughter. She then lifted her. The narrator then transmitted the rest of the tradition. Jafar said: She is my uncles daughter. Her maternal aunt is my wife. The Prophet ﷺ decided in favour of her maternal aunt, and said: The maternal aunt is like mother.
عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ام المؤمنین حفصہ ؓ کو طلاق دی پھر آپ نے ان سے رجعت کرلی۔
Amr ibn Muhajir reported on the authority of his father: Asma, daughter of Yazid ibn as-Sakan al-Ansariyyah, was divorced in the time of the Messenger of Allah ﷺ . No waiting period was prescribed for a divorced woman (at that time). When Asma was divorced, Allah, the Exalted, sent down the injunction of waiting period for divorce. She is the first of the divorced women about whom the verse relating to waiting period was sent down.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٧٦ (٣٥٩٠)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١ (٢٠١٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٩٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطلاق ٢ (٢٣١٠) (صحیح )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فاطمہ بنت قیس ؓ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص ؓ نے انہیں طلاق بتہ دے دی ١ ؎ ابوعمرو موجود نہیں تھے تو ان کے وکیل نے فاطمہ کے پاس کچھ جو بھیجے، اس پر وہ برہم ہوئیں، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں بنتا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ماجرا بیان کیا تو آپ ﷺ نے فاطمہ سے فرمایا: اس کے ذمہ تمہارا نفقہ نہیں ہے پھر آپ ﷺ نے انہیں ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایک ایسی عورت ہے کہ اس کے پاس میرے صحابہ کا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں، پردے کی دقت نہ ہوگی، تم اپنے کپڑے اتار سکو گی، اور جب عدت مکمل ہوجائے تو مجھے اطلاع دینا ۔ فاطمہ ؓ کا بیان ہے کہ جب عدت گزر گئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم ؓ کے پیغام کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: رہے ابوجہم تو وہ کندھے سے لاٹھی ہی نہیں اتارتے (یعنی بہت زدو کو ب کرنے والے شخص ہیں) اور جہاں تک معاویہ کا سوال ہے تو وہ کنگال ہیں، ان کے پاس مال نہیں ہے ٢ ؎، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو ، فاطمہ ؓ کا بیان ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں آئے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ اسامہ بن زید سے نکاح کرلو، چناچہ میں نے اسامہ سے نکاح کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اس قدر بھلائی رکھی کہ لوگ مجھ پر رشک کرنے لگے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Women who are divorced shall wait, keeping themselves apart, three monthly courses; and then said: And for such of your women as despair of menstruation, if ye doubt, their period (of waiting) shall be three months. This was abrogated from the former verse. Again he said: (O ye who believe, if ye wed believing women) and divorce them before ye have touched them, then there is no period that ye should reckon.
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض روایتوں میں ہے ” انہیں تین طلاق دی “ اور بعض میں ہے ” انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق دی “ اور بعض میں ہے ” انہیں ایک طلاق بھیجی جو باقی رہ گئی تھی “ ان روایات میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ وہ انہیں اس سے پہلے دو طلاق دے چکے تھے اور اس بار تیسری طلاق دی، تو جس نے یہ روایت کیا ہے کہ انہوں نے تین طلاق میں سے آخری طلاق دی یا وہ طلاق دی جو باقی رہ گئی تھی تو وہ اصل صورت حال کے مطابق ہے اور جس نے روایت کی ہے کہ طلاق بتہ دی تو اس کی مراد یہ ہے کہ ایسی طلاق دی جس سے وہ مبتوتہ ہوگی اور جس نے روایت کی ہے کہ تین طلاق دی تو اس کی مراد یہ ہے کہ تین میں جو کمی رہ گئی تھی اسے پورا کردیا۔ ٢ ؎: صلاح و مشورہ دینے میں کسی کا حقیقی اور واقعی عیب بیان کرنا درست ہے تاکہ مشورہ لینے والا دھوکہ نہ کھائے، یہ غیبت میں داخل نہیں۔
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ فاطمہ بنت قیس ؓ نے ان سے بیان کیا کہ ابو حفص بن مغیرہ ؓ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ خالد بن ولید ؓ اور بنی مخزوم کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ابو حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اور اسے معمولی نفقہ (خرچ) دیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے لیے نفقہ نہیں ہے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، یہ مالک کی روایت زیادہ کامل ہے ١ ؎۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : The Prophet ﷺ divorced Hafsah, but he took her back in marriage.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ تین طلاق دی ہوئی عورت کے لئے نہ نفقہ ہے، اور نہ سکنی (رہائش)، نفقہ و سکنی رجعی طلاق میں ہے، اس امید میں کہ شاید شوہر کے دل کے اندر رجوع کی بات پیدا ہوجائے، اور رجوع کرلے۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ بنت قیس ؓ نے بیان کیا کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی ؓ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور خالد بن ولید ؓ والا قصہ بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: نہ تو اس کے لیے نفقہ ہے اور نہ رہائش ، نیز نبی اکرم ﷺ نے اسے یہ خبر بھیجی کہ تو اپنے بارے میں مجھ سے سبقت نہ کرنا ١ ؎۔
Abu Salamah bin Abd Al Rahman reported on the authority of Fatimah daughter of Qais Abu Amr bin Hafs divorced her (Fathima daughter of Qais) absolutely when he was away from home and his agent sent her home barely. She was displeased with it. He said “I swear by Allaah, you have no claim on us. She then came to Messenger of Allah ﷺ and mentioned that to him. He said to her “No maintenance is due to you for from him. He ordered her to spend the waiting period in the house of Umm Sharik but he said afterwards “that is a woman whom my Companions visits spend the waiting period in the house of Ibn Umm Maktum for he is blind and you can undress. Then when you are in a position of being remarried, tell me. ” She said “When I was in a position to remarry, I mentioned to him that Muawiyah bin Abi Sufyan and Abu Jahm had asked me in marriage. The Messenger of Allah ﷺ said “As for Abu Jahm, he does not put down his stick from his shoulder, and as for Muawiyah he is a poor man who has no property; marry Usamah bin Zaid. I disliked him but he said “Maary Usamah bin Zaid. So, I married him. And Allaah prospered him very much and I was envied. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مجھ سے پوچھے بغیر شادی نہ کرلینا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٨٤، (تحفة الأشراف: ١٨٠٣٨) (صحیح )
فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ میں قبیلہ بنی مخروم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے مثل حدیث بیان کی اس میں ولا تفوتيني بنفسک ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے شعبی اور بہی نے اور عطاء نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن عاصم اور ابوبکر بن جہم اور سبھوں نے فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہیں ان کے شوہر نے تین طلاق دی (نہ کہ طلاق بتہ) ۔
Abu Salamah bin Abd Al Rahman said that Fatimah daughter of Qais told him that Abu Hafs Al Mughirah divorced her three times. He then narrated the rest of the tradition. The version has Khalid bin Walid and some people of Banu Makhzum came to the Prophet ﷺ and said Prophet of Allaah ﷺ Abu Hafs Al Mughirah divorced his wife three times and he has left a little for her. He said “No maintenance is necessary for her. He then transmitted the rest of the tradition. The tradition narrated by Malik is more perfect.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٣٨) (صحیح )