Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 113 of 265

2248Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي خَبَرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ.

لعان والی حدیث میں سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس عورت پر نظر رکھو اگر بچہ سیاہ آنکھوں والا، بڑی سرینوں والا ہو تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس (شوہر) نے سچ کہا ہے، اور اگر سرخ رنگ گیرو کی طرح ہو تو میں سمجھتا ہوں کی وہ جھوٹا ہے ، چناچہ اس کا بچہ ناپسندیدہ صفت پر پیدا ہوا۔

Abbas bin Sahl reported on the authority of his father “The Prophet ﷺ said to Asim bin ‘Adl. Keep the woman with you till she begets the child.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )
2249Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَكَانَ يُدْعَى يَعْنِي الْوَلَدَ لِأُمِّهِ.

اس سند سے بھی سہل بن سعد ساعدی ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اسے یعنی لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا۔

Sahl bin Saad Al Saeedi said “I attended the invoking of the curses with the Messenger of Allah ﷺ when I was fifteen. He then narrated the rest of the tradition. In this version he said “She then came out pregnant and the child was ascribed to its mother.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )
2250Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ، وَغَيْرِهِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَا صُنِعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةٌ، قَالَ سَهْلٌ: حَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا.

اس سند سے بھی سہل بن سعد ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: انہوں (عاصم بن عدی) نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں اسے تین طلاق دے دی تو رسول ﷺ نے اسے نافذ فرما دیا، اور جو کام آپ کی موجودگی میں کیا گیا ہو وہ سنت ہے۔ سہل ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت میں موجود تھا، اس کے بعد لعان کرنے والے مرد اور عورت کے سلسلہ میں طریقہ ہی یہ ہوگیا کہ انہیں جدا کردیا جائے، اور وہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہ ہوں۔

Sahl bin Saad reported the Messenger of Allah ﷺ as saying - in the tradition of spouses who invoked curses to each other “Look if she bears a child which has very black eyes, large buttocks, I cannot but imagine that he (i. e., ‘Uwaimir) has spoken the truth. But, if she bears a reddish child like the lizard with red spots (waharah), I cannot imagine that ‘Uwaimir has lied against her. She gave birth to a child (like that described the Prophet ﷺ ) in a detestable manner.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )
2251Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَلَاعَنَا، وَتَمَّ حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، وَقَالَ الْآخَرُونَ: إِنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا، لَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ: عَلَيْهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يُتَابِعْ ابْنَ عُيَيْنَةَ أَحَدٌ عَلَى أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دونوں لعان کرنے والوں کے پاس موجود تھا، اور میں پندرہ سال کا تھا، آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کے بعد جدائی کرا دی، یہاں مسدد کی روایت پوری ہوگئی، دیگر لوگوں کی روایت میں ہے کہ: وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے آپ نے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کرا دی تو مرد کہنے لگا: اللہ کے رسول! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر بہتان لگایا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ سفیان ابن عیینہ کی کسی نے اس بات پر متابعت نہیں کی کہ: آپ ﷺ نے دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Saad Al Saeedi through a different chain of narrators. This version adds the child was attributed to its mother.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )
2252Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَكَانَتْ حَامِلًا، فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ، أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثَ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا.

اس سند سے سہل بن سعد ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ: وہ عورت حاملہ تھی اور اس نے اس کے حمل کا انکار کیا، چناچہ اس عورت کا بیٹا اسی طرف منسوب کر کے پکارا جاتا تھا، اس کے بعد میراث میں بھی یہی طریقہ رہا کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصہ میں ماں لڑکے کی وارث ہوتی اور لڑکا ماں کا وارث ہوتا ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Saad Al Saeedi through a different chain of narrators. This version has “He divorced her three times before the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ implemented it and what is done before the Prophet ﷺ is sunnah (model behavior of the Prophet). Sahl said “I attended this before the Messenger of Allah ﷺ . Afterwards the sunnah about those who invoked curses on each other was established that they (the spouses) were separated from each other and they would never be united. ”

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )
2253Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِنَّا لَلَيْلَةُ جُمْعَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ بِهِ، جَلَدْتُمُوهُ ؟ أَوْ قَتَلَ، قَتَلْتُمُوهُ ؟ فَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، وَاللَّهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ بِهِ، جَلَدْتُمُوهُ ؟ أَوْ قَتَلَ، قَتَلْتُمُوهُ ؟ أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ؟ فَقَالَ: اللَّهُمَّ افْتَحْ، وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ سورة النور آية 6 هَذِهِ الْآيَةَ، فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ، فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، قَالَ: فَذَهَبَتْ لِتَلْتَعِنَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ، فَأَبَتْ، فَفَعَلَتْ، فَلَمَّا أَدْبَرَا، قَالَ: لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں (ایک دفعہ) جمعہ کی رات مسجد میں تھا کہ اچانک انصار کا ایک شخص مسجد میں آیا، اور کہنے لگا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی (اجنبی) آدمی کو پالے اور (حقیقت حال) بیان کرے تو تم لوگ اسے کوڑے لگاؤ گے، یا وہ قتل کر دے تو اس کے بدلے میں تم لوگ اسے قتل کر دو گے، اور اگر وہ چپ رہے تو اندر ہی اندر غصہ میں جلے بھنے، اللہ کی قسم، میں اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے ضرور دریافت کروں گا، چناچہ جب دوسرا دن ہوا تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی (اجنبی) آدمی کو پالے اور حقیقت حال بیان کرے تو (تہمت کی حد کے طور پر) آپ اسے کوڑے لگائیں گے، یا وہ قتل کر دے تو اسے قتل کردیں گے، یا وہ خاموشی اختیار کر کے اندر ہی غصہ سے جلے بھنے، یہ سن کر آپ ﷺ دعا کرنے لگے: اے اللہ! معاملے کی وضاحت فرما دے ، چناچہ لعان کی آیت والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس گواہ نہ ہوں (سورۃ النور: ٦) آخر تک نازل ہوئی تو لوگوں میں یہی شخص اس مصیبت میں مبتلا ہوا چناچہ وہ دونوں میاں بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان دونوں نے لعان کیا، اس آدمی نے چار بار اللہ کا نام لے کر اپنے سچے ہونے کی گواہی دی، اور پانچویں بار کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر عورت لعان کرنے چلی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھہرو ، لیکن وہ نہیں مانی اور لعان کر ہی لیا، تو جب وہ دونوں جانے لگے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: شاید یہ عورت کالا گھنگرالے بالوں والا بچہ جنم دے چناچہ اس نے وہ کالا اور گھنگرالے بالوں والا بچہ ہی جنم دیا۔

Sahl bin Saad said “The version of Musaddad has “I witnessed the invoking of curses by the two spouses during the life time of the Messenger of Allah ﷺ when I was fifteen years old. When they finished invoking curses, the Messenger of Allah ﷺ separated them from each other. Here ends the version of Musaddad. Others said “He was present when the Prophet ﷺ separated the spouses who invoked curses on each other. The man (Sahl) said “I shall have lied against her, Messenger of Allah ﷺ if I keep her. Abu Dawud said “Some narrators did not mention the word ‘alaiha (against her). ” Abu Dawud said “No one supported Ibn ‘Uyainah that he separated the spouses who invoked curses. ”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١٠ (١٤٩٥)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٨)، (تحفة الأشراف: ٩٤٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٢١، ٤٤٨) (صحیح )
2254Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَيِّنَةُ، أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلًا عَلَى امْرَأَتِهِ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْبَيِّنَةُ، وَإِلَّا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ، فَقَالَ هِلَالٌ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، إِنِّي لَصَادِقٌ، وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبْرِئُ بِهِ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَتْ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ لَمِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 6، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، فَجَاءَا، فَقَامَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا مِنْ تَائِبٍ ؟ثُمَّ قَامَتْ، فَشَهِدَتْ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، وَقَالُوا لَهَا: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ، فَقَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، فَمَضَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ، فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، حَدِيثُ ابْنِ بَشَّارٍ، حَدِيثُ هِلَالٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ (زنا کی) تہمت لگائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ پیٹھ پر کوڑے لگیں گے ، تو ہلال نے کہا کہ: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈنے جائے؟ اس پر بھی نبی اکرم ﷺ یہی فرمائے جا رہے تھے کہ: گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے پڑیں گے ، تو ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں وحی نازل کر کے میری پیٹھ کو حد سے بری کرے گا، چناچہ والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم کی آیت نازل ہوئی، آپ ﷺ نے اسے پڑھا یہاں تک کہ آپ پڑھتے پڑھتے من الصادقين ١ ؎ تک پہنچے، پھر آپ ﷺ پلٹے اور آپ نے ان دونوں کو بلوایا، وہ دونوں آئے، پہلے ہلال بن امیہ کھڑے ہوئے اور گواہی دینے لگے، نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے: اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ پھر عورت کھڑی ہوئی اور گواہی دینے لگی، پانچویں بار میں جب ان الفاظ کے کہنے کی باری آئی کہ اگر وہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو تو لوگ اس سے کہنے لگے: یہ عذاب کو واجب کردینے والا ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے: تو وہ ہچکچائی اور ہٹ گئی اور ہمیں یہ گمان ہوا کہ وہ باز آجائے گی، لیکن پھر کہنے لگی: ہمیشہ کے لیے میں اپنی قوم پر رسوائی کا داغ نہ لگاؤں گی (یہ کہہ کر) اس نے آخری جملہ کو بھی ادا کردیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دیکھو اس کا ہونے والا بچہ اگر سرمگیں آنکھوں، بڑی سرینوں اور موٹی پنڈلیوں والا ہوا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے ، چناچہ انہیں صفات کا بچہ پیدا ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ نہ آگیا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا ، یعنی میں اس پر حد جاری کرتا۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Saad through a different chain of narrators. This version has “She was pregnant, he denied pregnancy from him. So her son was attributed to her. In the law of succession the practice (sunnah) was established that the son gets a share in the inheritance of his mother and the mother gets the share in the inheritance of her son according to the shares prescribed by Allaah the Exalted.

Notes · وضاحت
وضاحت ١ ؎: سورة النور: (٩-٦ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر سورة النور (٣١٧٩)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٧)، مسند احمد (١/٢٧٣)، (تحفة الأشراف: ٦٢٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة النور ٢ (٤٧٤٦)، الطلاق ٢٩ (٥٣٠٨) (صحیح )
2255Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشُّعَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا حِينَ أَمَرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَتَلَاعَنَا أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ عِنْدَ الْخَامِسَةِ، يَقُولُ: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جس وقت دونوں کو لعان کا حکم فرمایا تو ایک شخص کو حکم دیا کہ پانچویں بار میں اپنا ہاتھ مرد کے منہ پر رکھ دے اور کہے: یہ (عذاب کو) واجب کرنے والا ہے۔

Abdullah (bin Masud) said “We were in the mosque on the night of a Friday, suddenly a man from the Ansar entered the mosque”. And said “If a man finds a man along with wife and declares (about her adultery) you will flog him. Or if he kills you, you will kill him or if keeps silence he will keep silence in anger. I swear by Allaah, I shall ask the Messenger of Allah ﷺ about it”. On the next day he came to the Messenger of Allah ﷺ and said “If a man finds a man along with wife and declares (about her adultery) you will flog him. Or if he kills you, you will kill him or if keeps silence he will keep silence in anger. ” He said “O Allaah, disclose”. He kept on praying until the verses regarding invoking curses (li’an) came down “As for those who accuse their wives but have no witnesses except themselves. ” So, the man was first involved in this trial among the people. He and his wife came to the Messenger of Allah ﷺ . They invoked curses on each other. The man bore witness before Allaah four times that the thing he said was indeed true. He then invoked curse of Allaah on him for the fifth time if he was a liar. She then wanted to invoke curses of Allaah on him. The Prophet ﷺ said “Do not do that. Bust she refused and did so (i. e., invoked curses). When they returned he said “Perhaps she will give birth to a black child with curly hair.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٤٠ (٣٥٠٣) (تحفة الأشراف: ٦٣٧٢) (صحیح )
2256Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عَشِيًّا، فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلًا فَرَأَى بِعَيْنِهِ وَسَمِعَ بِأُذُنِهِ، فَلَمْ يَهِجْهُ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً فَوَجَدْتُ عِنْدَهُمْ رَجُلًا، فَرَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ وَسَمِعْتُ بِأُذُنَيَّ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، فَنَزَلَتْ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ سورة النور آية 6، الْآيَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبْشِرْ يَا هِلَالُ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا، قَالَ هِلَالٌ: قَدْ كُنْتُ أَرْجُو ذَلِكَ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْسِلُوا إِلَيْهَا، فَجَاءَتْ، فَتَلَاهَا عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَّرَهُمَا وَأَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَذَابَ الْآخِرَةِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الدُّنْيَا، فَقَالَ هِلَالٌ: وَاللَّهِ لَقَدْ صَدَقْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: قَدْ كَذَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَاعِنُوا بَيْنَهُمَا، فَقِيلَ لِهِلَالٍ: اشْهَدْ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ، قِيلَ لَهُ: يَا هِلَالُ اتَّقِ اللَّهَ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَيْهَا كَمَا لَمْ يُجَلِّدْنِي عَلَيْهَا، فَشَهِدَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ قِيلَ لَهَا: اشْهَدِي، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ، قِيلَ لَهَا: اتَّقِي اللَّهَ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ، فَتَلَكَّأَتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي، فَشَهِدَتِ الْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَقَضَى أَنْ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لِأَبٍ وَلَا تُرْمَى وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا، وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ، وَقَضَى أَنْ لَا بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ، وَلَا قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفَّى عَنْهَا، وَقَالَ: إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُصَيْهِبَ أُرَيْصِحَ أُثُيْبِجَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِهِلَالٍ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ، فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جَمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا الْأَيْمَانُ، لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ. قَالَ عِكْرِمَةُ: فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَمِيرًا عَلَى مُضَرَ، وَمَا يُدْعَى لِأَبٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ ؓ (جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے (ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد) توبہ قبول فرمائی تھی، وہ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا، صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا، اپنی آنکھوں سے (سب کچھ) دیکھا، اور کانوں سے (سب) سنا، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم فشهادة أحدهم اور جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس کوئی گواہ بجز ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو (سورۃ النور: ٧، ٦) پھر رسول اللہ ﷺ سے جب وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ نے فرمایا: ہلال! خوش ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کا راستہ نکال دیا ہے ، ہلال ؓ نے کہا: مجھے اپنے پروردگار سے اسی کی امید تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے بلواؤ ، تو وہ آئی تو آپ نے دونوں پر یہ آیتیں تلاوت فرمائیں، اور نصیحت کی نیز بتایا کہ: آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بہت سخت ہے ۔ ہلال ؓ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس کے متعلق جو کہا ہے سچ کہا ہے، وہ کہنے لگی: یہ جھوٹے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کے درمیان لعان کراؤ ، چناچہ ہلال ؓ سے کہا گیا کہ وہ گواہی دیں تو انہوں نے چار بار اللہ کا نام لے کر گواہی دی کہ وہ سچے ہیں، پانچویں کے وقت کہا گیا: ہلال! اللہ سے ڈرو کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس بار کی گواہی تمہارے لیے عذاب کو واجب کر دے گی، وہ بولے: اللہ کی قسم! جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے کوڑوں سے بچایا ہے اسی طرح عذاب سے بھی بچائے گا، چناچہ پانچویں گواہی بھی دے دی کہ اگر وہ جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر عورت سے گواہی دینے کے لیے کہا گیا، تو اس نے بھی چار بار گواہی دی کہ وہ جھوٹے ہیں، پانچویں بار اس سے بھی کہا گیا کہ اللہ سے ڈر جا کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس دفعہ کی گواہی عذاب کو واجب کر دے گی، یہ سن کر وہ ایک لمحہ کے لیے ہچکچائی پھر بولی: اللہ کی قسم میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی، چناچہ پانچویں بار بھی گواہی دے دی کہ اگر وہ سچے ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان تفریق کرا دی، اور فیصلہ فرمایا کہ اس کا لڑکا باپ کی طرف نہ منسوب کیا جائے، اور لڑکے اور عورت کو تہمت نہ لگائی جائے جو اس پر یا اس کے لڑکے پر اب تہمت لگائے گا تو اس پر تہمت کی حد جاری کی جائے گی، نیز آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ اسے نان نفقہ اور رہائش نہیں ملے گی، کیونکہ ان کی جدائی نہ تو طلاق کی بنا پر ہوئی ہے اور نہ شوہر کے انتقال کی وجہ سے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ بھورے بالوں والا، پتلی سرین والا، چوڑی پیٹھ والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ ہلال کا (نطفہ) ہے، اور اگر مٹیالے رنگ والا، گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا، اور بھاری سرین والا جنے تو اس کا جس کے نام کی تہمت لگائی گئی ہے ، چناچہ اس عورت کا بچہ مٹیالے رنگ کا گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا اور بھاری سرین والا پیدا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر قسمیں نہ ہوتیں تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا ۔ عکرمہ کہتے ہیں: یہی بچہ آگے چل کر مضر کا امیر بنا، اسے باپ کی جانب منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔

Ibn Abbas said “Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of Prophet ﷺ of having committed adultery with Sharik bin Sahma’”. The Prophet ﷺ said “Produce evidence or you must receive punishment on your back. ” He said “Messenger of Allah ﷺ when one of us sees a man having intercourse with his wife should he go and seek evidence?” But the Prophet ﷺ merely said “You must produce evidence or you must receive punishment on your back. ” Hilal then said “By Him Who sent you with the Truth, I am speaking Truly. May Allaah send down something which will free my back from punishment. Then the following Quranic verses were revealed “And those who make charges against their spouses but have no witnesses except themselves” reciting till he reached “one of those who speak the truth”. The Prophet ﷺ then returned and sent for them and they came (to him). Hilal bin Umayyah stood up and testified and the Prophet ﷺ was saying “Allaah knows that one of you is lying. Will one of you repent?” Then the woman got up and testified, but when she was about to do it a fifth time saying that Allaah’s anger be upon her if he was one of those who spoke the truth, they said to her “this is the deciding one”. Ibn Abbas said “She then hesitated and drew back so that we thought the she would withdraw (what she said) “Look and see whether she gives birth to a child with eyes looking as if they have antimony in them, wide buttocks and fat legs, if she did. Sharik bin Sahma’ will be its father. She then gave birth to a child of a similar description. The Prophet ﷺ thereupon said “If it were not for what has already been stated in Allaah’s book I would have dealt severely with her. ” Abu Dawud said “This tradition has been transmitted by the people of Madina alone. They narrated the tradition of Hilal on the authority of Ibn Bashshar. ”

Takhrij · تخریج
وانظر حدیث رقم (٢٢٥٤)، (تحفة الأشراف: ٦١٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٨، ٢٤٥) (ضعیف) (اس کے راوی عباد بن منصور کی اکثر ائمہ نے تضعیف کی ہے اس لئے ان کی اس روایت کے جن بیانات کی متابعت سابقہ حدیث سے ہوجاتی ہے انہیں کو لیا جائیگا اور باقی منفرد بیانات سے قطع نظر کیا جائے گا )
2257Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي ؟ قَالَ: لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عمر ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں لعان کرنے والوں سے فرمایا: تم دونوں کا حساب اللہ پر ہے، تم میں سے ایک تو جھوٹا ہے ہی (مرد سے فرمایا) اب تجھے اس پر کچھ اختیار نہیں ، اس پر اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں، اگر تم اس پر تہمت لگانے میں سچے ہو تو مال کے بدلے اس کی شرمگاہ حلال کرچکے ہو اور اگر تم نے اس پر جھوٹ بولا ہے تب تو کسی طرح بھی تم مال کے مستحق نہیں ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : When the Prophet ﷺ ordered a man and his wife to invoke curses on each other, he ordered a man to put his hand on his mouth when he came to the fifth utterance, saying that it would be the deciding one.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣٢ (٥٣١٢)، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣)، سنن النسائی/الطلاق ٤٤ (٣٥٠٦)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطلاق ٢٢ (١٢٠٢)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٦)، مسند احمد (٢/١٢)، (٤٥٨٧)، سنن الدارمی/النکاح ٣٩ (٢٢٧٧) (صحیح )
2258Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، قَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ: اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟يُرَدِّدُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے جو کہا کہ ایک شخص اپنی عورت کو تہمت لگائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بنو عجلان کے دونوں بھائی بہنوں ١ ؎ کو (اس صورت میں) جدا کرا دیا تھا اور فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں ایک ضرور جھوٹا ہے، تو کیا تم دونوں میں کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ آپ ﷺ نے ان الفاظ کو تین بار دہرایا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو آپ نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی۔

Ibn Abbas said “Hilal bin Umayyah was one of the three persons whose repentance was accepted by Allaah. One night he returned from his land and found a man along with his wife. He witnessed with his eyes and heard with his ears. He did not threaten him till the morning. ” Next day he went to the Messenger of Allah ﷺ in the morning and said Messenger of Allah ﷺ “I came to my wife in the night and found a man along with her. I saw with my own eyes and heard with my own ears. The Messenger of Allah ﷺ disliked what he described and he took it seriously. There upon the following Quranic verse came down “And those who make charges against their spouses but have no witnesses except themselves, let the testimony of one of them. . . . ” When the Messenger of Allah ﷺ came to himself (after the revelation ended) he said “Glad tidings to you Hilal, Allaah the exalted has made ease and a way out for you. ” Hilal said “I expected that from my Lord. The Messenger of Allah ﷺ said “Send for her. She then came. ” The Messenger of Allah ﷺ recited the verses to them and he reminded them and told them that the punishment in the next world was more severe than that in n this world. Hilal said “I swear by Allah I spoke the truth against her. ” She said “He told a lie. ” The Messenger of Allah ﷺ said “Apply the method of invoking curses on one another. Hilal was told “Bear witness. So he bore witness before Allaah four times that he spoke the truth. ” When he was about to utter the fifth time he was told “Hilal fear Allah, for the punishment in this world is easier than that in the next world and this is the deciding one, that will surely cause punishment to you. ” He said “I swear by Allaah. Allah will not punish me for this (act), as He did not cause me to be flogged for this (act). ” So he bore witness a fifth time invoking the curse of Allah on him if he was of those who tell a lie. Then the people said to her, Testify. So she gave testimony before Allaah that he was a liar. When she was going to testify the fifth time she was told “Fear Allah, for the punishment in this world is easier than that in the next world. This is the deciding one that will surely cause punishment to you. ” She hesitated for a moment. And then said “By Allah, I will not disgrace my people. ” So she testified a fifth time invoking the curse of Allah on her if he spoke the truth. Messenger of Allah ﷺ separated them from each other and decided that the child will not be attributed to its father. Neither she nor her child will be accused of adultery. He who accuses her or her child will be liable to punishment. He also decided that there will be no dwelling and maintenance for her (from the husband) as they were separated without divorce and death. He then said “If she gives birth to a child with reddish hair, light buttocks, wide belly and light shins he will be the child of Hilal. If she bears a dusky child with curly hair, fat limbs, fat shins and fat buttocks he will be the child of the one who was accused of adultery. She gave birth to a child with curly hair, fat limbs, fat shins and fat buttocks. The Messenger of Allah ﷺ said “Had there been no oaths, I would have dealt with her severely. ” Ikrimah said “Later on he became the chief of the tribe of Mudar. He was not attributed to his father. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: مراد عویمر اور ان کی بیوی ہیں، اور دونوں کو تغلیبا اخوین کہا گیا ہے، اور ان دونوں پر اخوة کا اطلاق إنما المؤمنون اخوة کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣٢ (٥٣٢١)، ٥٢ (٥٣٤٩)، صحیح مسلم/اللعان ١(١٤٩٣)، سنن النسائی/الطلاق ٤٣ (٣٥٠٥)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٥٧، ٢/٤، ٣٧) (صحیح )
2259Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مَالِكٌ، قَوْلُهُ: وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ. وقَالَ يُونُسُ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي حَدِيثِ اللِّعَانِ، وَأَنْكَرَ حَمْلَهَا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی عورت سے لعان کیا اور اس کے بچے کا باپ ہونے سے انکار کردیا چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی، اور بچے کو عورت سے ملا دیا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جس کی روایت میں مالک منفرد ہیں وہ وألحق الولد بالمرأة کا جملہ ہے، اور یونس نے زہری سے انہوں نے سہل بن سعد ؓ سے لعان کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: اس نے اس کے حمل کا انکار کیا تو اس (عورت) کا بیٹا اسی (عورت) کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔

Ibn Umar said “The Messenger of Allah ﷺ said to the spouses who invoked curses on each other. Your reckoning is in Allaah’s hands for one of you is liar there is no way for you to (remarry) her. He then asked Messenger of Allah ﷺ what about my property? He replied “There is no property for you. If you have spoken the truth, it is the price for your having had the right to intercourse with her and if you have lied against her it is still more remote for you.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے نسب اور وراثت میں ماں سے ملا دیا لہٰذا وہ ماں ہی کی طرف منسوب کیا جائے گا اور ماں اور بیٹا دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے برخلاف باپ کے نہ تو اس کی طرف وہ منسوب ہوگا اور نہ وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوسکتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣٥ (٥٣٥١)، الفرائض ١٧ (٦٧٤٨)، صحیح مسلم/اللعان ١(١٤٩٤)، سنن الترمذی/الطلاق ٢٢ (١٢٠٣)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٢ ٢٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ١٣ (٣٥)، مسند احمد (٢/٧، ٣٨، ٦٤، ٧١)، دی/ النکاح ٣٩ (٢٢٧٨) (صحیح )
2260Sunan Abu Dawood

جب بچہ کے بارے میں شک پیدا ہوجائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي جَاءَتْ بِوَلَدٍ أَسْوَدَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا أَلْوَانُهَا ؟قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى تُرَاهُ ؟قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس بنی فزارہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا بچہ جنا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پوچھا: کون سے رنگ کے ہیں؟ جواب دیا: سرخ ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا کوئی خاکستری بھی ہے؟ جواب دیا: ہاں، خاکی رنگ کا بھی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: پھر یہ کہاں سے آگیا؟ ، بولا: شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: یہاں بھی ہوسکتا ہے (تمہارے لڑکے میں بھی) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو ١ ؎۔

Saad bin Jubair said I asked Ibn Umar A man accused his wife of adultery? He said “The Messenger of Allah ﷺ separated the brother and the sister of Banu Al ‘Ajilan (i. e., husband and wife). He said Allaah knows that one of you is a liar, will one of you repent? He repeated these words three times, but they refused. So he separated them from each other.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس وقت کسی رگ میں سے جس میں کالا پن زیادہ تھا نطفہ میں سواد (کالا رنگ) زیادہ مل گیا ہو، اور اس کی وجہ سے لڑکا کالا اور سیاہ رنگ ہو تو اس قسم کے اختلاف سے اس کے نسب سے متعلق دل میں شبہ کرنا صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٥٠٠)، سنن الترمذی/الولاء ٤ (٢١٢٩)، سنن النسائی/الطلاق ٤٦ (٣٥٨٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٨ (٢٢٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق ٢٦ (٥٣٠٥)، الحدود ٤١ (٦٨٤٧)، الاعتصام ١٢ (٧٣١٤)، مسند احمد (٢/٢٣٤، ٢٣٩، ٤٠٩) (صحیح )
2261Sunan Abu Dawood

جب بچہ کے بارے میں شک پیدا ہوجائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ.

اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ یہ کہہ کر اس کا مقصد اپنے سے بچہ کی نفی کرنی تھی۔

Ibn Umar said A man invoked curses on his wife (charging her of adultery) during the time of Messenger of Allah ﷺ and disowned the child. The Messenger of Allah ﷺ therefore separated them and attributed the child to the woman. Abu Dawud said “The words narrated by Malik alone are “and he attributed the child to the woman. ” Abu Dawud said: The words narrated by Malik alone are: and he attributed the child to the woman. Yunus narrated from Al Zuhri on the authority of Sahl bin Saad in the tradition regarding li’an (invoking curses). He disowned her conception hence her child was attributed to her.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٥٠٠)، سنن النسائی/الطلاق ٤٦ (٣٥٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٣، ٢٧٩) (صحیح )
2262Sunan Abu Dawood

جب بچہ کے بارے میں شک پیدا ہوجائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ،أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أُنْكِرُهُ. فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا لڑکا جنا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔

Abu Hurairah said A man from Banu Fazarah came to the Prophet ﷺ and said “My wife has given birth to a black son”. He said “Have you any camels?” He said “They are red”. He asked “Is there a dusky one among them?” He replied “Some of them are dusky”. He asked “How do you think they have come about?” He replied “This may be a strain to which they reverted”. He said “And this is perhaps a strain to which the child has reverted. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتصام ١٢ (٧٣١٤)، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٥٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٣١١) (صحیح )
2263Sunan Abu Dawood

بچہ کے نسب سے انکار کی مذمت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کردیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہوگا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ١ ؎۔

The tradition mentioned above has also been narrated by Al Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. This version adds “At that time he was hinting at disowning the child. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: حاصل یہ ہے کہ نہ عورت کو چاہیے کہ حرام کا بچہ کسی غیر سے جن کر اس کو اپنے خاوند کی طرف منسوب کرے اور نہ مرد کو چاہیے کہ دیدہ و دانستہ اپنے بچے کا انکار کرے اور عورت پر زنا کی تہمت لگائے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٤٧ (٣٥١١)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ١٣ (٢٧٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٧٢)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/ النکاح ٤٢ (٢٢٨٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن یونس مجہول ہیں )
2264Sunan Abu Dawood

ولد الزنا کا مدعی ہونا

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ سَلْمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزَّيَّادِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ، مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ لَحِقَ بِعَصَبَتِهِ، وَمَنِ ادَّعَى وَلَدًا مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام میں اجرت پر بدکاری اور زنا نہیں ہے، جس نے زمانہ جاہلیت میں بدکاری اور زنا سے کمائی کی، تو زنا سے پیدا ہونے والا بچہ اپنے عصبہ (مالک) سے مل جائے گا اور جس نے بغیر نکاح یا ملک کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو نہ تو (بچہ) اس کا وارث ہوگا اور نہ وہ بچے کا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : A bedouin came to the Prophet ﷺ , and said: My wife has given birth to a black son, and I disown him. He then narrated the rest of the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٦٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٢) (ضعیف) (اس کے سند میں ایک مبہم راوی ہے )
2265Sunan Abu Dawood

ولد الزنا کا مدعی ہونا

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ وَهُوَ أَشْبَعُ،عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ، فَقَضَى أَنَّ كُلَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ مِمَّا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ، وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَمْ يَمْلِكْهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ بِهِ وَلَا يَرِثُ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنْيَةٍ مِنْ حُرَّةٍ كَانَ أَوْ أَمَةٍ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ جس لڑکے کو اس کے باپ کے مرنے کے بعد اس باپ سے ملایا جائے جس کے نام سے اسے پکارا جاتا ہے اور باپ کے وارث اسے اپنے سے ملانے کا دعویٰ کریں تو اگر اس کی پیدائش ایسی لونڈی سے ہوئی ہے جو صحبت کے دن اس کے ملکیت میں رہی ہو تو ملانے والے سے اس کا نسب مل جائے گا اور جو ترکہ اس کے ملائے جانے سے پہلے تقسیم ہوگیا ہے اس میں اس کو حصہ نہ ملے گا، البتہ جو ترکہ تقسیم نہیں ہوا ہے اس میں اسے حصہ دیا جائے گا، لیکن جس باپ سے اس کا نسب ملایا جاتا ہے اس نے (اپنی زندگی میں اس کے بیٹا ہونے سے) انکار کیا ہو تو وارثوں کے ملانے سے وہ نہیں ملے گا، اگر وہ لڑکا ایسی لونڈی سے ہو جس کا مالک اس کا باپ نہ تھا یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس کے باپ نے زنا کیا تو اس کا نسب نہ ملے گا اور نہ اس کا وارث ہوگا گرچہ جس کے نام سے اسے پکارا جاتا ہے اسی نے (اپنی زندگی میں) اس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا ہو کیونکہ وہ زنا کی اولاد ہے آزاد عورت سے ہو یا لونڈی سے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Abu Hurairah heard the Messenger of Allah ﷺ say when the verse about invoking curses came down: Any woman who brings to her family one who does not belong to it has nothing to do with Allah (i. e. expects no mercy from Allah), and Allah will not bring her into His Paradise. Allah, the Exalted, will veil Himself from any man who disowns his child when he looks at him, and disgrace him in the presence of all creatures, first and last.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفرائض ١٤ (٢٧٤٦)، (تحفة الأشراف: ٨٧١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ١٨١، ٢١٩)، سنن الدارمی/الفرائض ٤٥ (٣١٥٤) (حسن )
2266Sunan Abu Dawood

ولد الزنا کا مدعی ہونا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: وَهُوَ وَلَدُ زِنَا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً، وَذَلِكَ فِيمَا اسْتُلْحِقَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، فَمَا اقْتُسِمَ مِنْ مَالٍ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فَقَدْ مَضَى.

اس سند سے بھی محمد بن راشد سے اسی مفہوم کی روایت منقول ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وہ ولد الزنا ہے اور اپنی ماں کے خاندان سے ملے گا چاہے وہ آزاد ہوں یا غلام، یہ شروع اسلام میں پیش آمدہ معاملہ کا حکم ہے، رہا جو مال قبل از اسلام تقسیم ہوچکا اس سے کچھ سروکار نہیں۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: There is no prostitution in Islam. If anyone practised prostitution in pre-Islamic times, the child will be attributed to the master (of the slave-woman). He who claims his child without a valid marriage or ownership will neither inherit nor be inherited.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٨٧١٢) (حسن )
2267Sunan Abu Dawood

قیافہ شناسی کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُسَدَّدٌ وَ ابْنُ السَّرْحِ: يَوْمًا مَسْرُورًا، وَقَالَ عُثْمَانُ: يُعْرَفُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَيْ عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ رَأَى زَيْدًا وَ أُسَامَةَ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا بِقَطِيفَةٍ وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا ؟فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس (مسدد اور ابن سرح کی روایت میں ہے) ایک دن خوش و خرم تشریف لائے (اور عثمان کی روایت میں ہے آپ کے چہرے پر خوشی کی لکیریں ١ ؎ محسوس کی جا رہی تھیں) تو آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! کیا تو نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو اس حال میں دیکھا کہ وہ دونوں اپنے سر چادر سے ڈھانکے ہوئے تھے اور پیر کھلے ہوئے تھے تو کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسامہ کالے تھے اور زید گورے تھے۔

Amr bin Shuaib on his fathers authority said that his grandfather reported: The Prophet ﷺ decided regarding one who was treated as a member of a family after the death of his father, to whom he was attributed when the heirs said he was one of them, that if he was the child of a slave-woman whom the father owned when he had intercourse with her, he was included among those who sought his inclusion, but received none of the inheritance which was previously divided; he, however, received his portion of the inheritance which had not already been divided; but if the father to whom he was attributed had disowned him, he was not joined to the heirs. If he was a child of a slave-woman whom the father did not possess or of a free woman with whom he had illicit intercourse, he was not joined to the heirs and did not inherit even if the one to whom he was attributed is the one who claimed paternity, since he was a child of fornication whether his mother was free or a slave.

Notes · وضاحت
١ ؎: خوشی کی وجہ یہ تھی کہ لوگ زید بن حارثہ ؓ اور ان کے بیٹے اسامہ ؓ کے سلسلہ میں ایسی باتیں کہتے تھے جنہیں سن کر رسول اللہ ﷺ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی، زید گورے چٹے آدمی تھے اور اسامہ کا رنگ کالا تھا اس لئے لوگ شک کرتے تھے کہ اسامہ زید کے بیٹے ہیں یا کسی اور کے جب اس قیافہ شناس مجزز مدلجی نے اس بات کی تصدیق کردی کہ ان دونوں کے پیر ملتے جلتے ہیں تو آپ کو اس سے بےحد خوشی ہوئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٥)، و فضائل الصحابة ١٧ (٣٧٣١)، والفرائض ٣١ (٦٧٧٠)، صحیح مسلم/الرضاع ١١ (١٤٥٩)، سنن الترمذی/الولاء ٥ (٢١٢٩)، سنن النسائی/الطلاق ٥١ (٣٥٢٣، ٣٥٢٤)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢١ (٢٣٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٢، ٢٢٦) (صحیح )