Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 112 of 265

2228Sunan Abu Dawood

خلع کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو السَّدُوسِيُّ الْمَدِينِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ كَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، فَضَرَبَهَا فَكَسَرَ بَعْضَهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الصُّبْحِ فَاشْتَكَتْهُ إِلَيْهِ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتًا، فَقَالَ: خُذْ بَعْضَ مَالِهَا وَفَارِقْهَا، فَقَالَ: وَيَصْلُحُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَصْدَقْتُهَا حَدِيقَتَيْنِ، وَهُمَا بِيَدِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْهُمَا فَفَارِقْهَا، فَفَعَلَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حبیبہ بنت سہل ؓ ثابت بن قیس بن شماس ؓ کے نکاح میں تھیں تو ان کو ان کے شوہر نے اتنا مارا کہ کوئی عضو ٹوٹ گیا، وہ فجر کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے ان کی شکایت کی تو نبی اکرم ﷺ نے ثابت کو بلوایا، اور کہا کہ تم اس سے کچھ مال لے کر اس سے الگ ہوجاؤ، ثابت نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسا کرنا درست ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، وہ بولے، میں نے اسے دو باغ مہر میں دیئے ہیں یہ ابھی بھی اس کے پاس موجود ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں لے لو اور اس سے جدا ہوجاؤ ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔

Narrated Thawban (RA) : The Prophet ﷺ said: If any woman asks her husband for divorce without some strong reason, the odour of Paradise will be forbidden to her.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٩٠٣) (صحیح )
2229Sunan Abu Dawood

خلع کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّتَهَا حَيْضَةً. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس ؓ کی بیوی نے ان سے خلع کرلیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی عدت ایک حیض مقرر فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے عمرو بن مسلم سے عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا۔

Amrah, daughter of Abdur-Rahman ibn Saad ibn Zurarah, reported on the authority of Habibah, daughter of Sahl al-Ansariyyah: She (Habibah) was the wife of Thabit ibn Qays ibn Shimmas. The Messenger of Allah ﷺ came out one morning and found Habibah by his door. The Messenger of Allah ﷺ said: Who is this? She replied: I am Habibah, daughter of Sahl. He asked: What is your case? She replied: I and Thabit ibn Qays, referring to her husband, cannot live together. When Thabit ibn Qays came, the Messenger of Allah ﷺ said to him: This is Habibah, daughter of Sahl, and she has mentioned (about you) what Allah wished to mention. Habibah said: Messenger of Allah, all that he gave me is with me. The Messenger of Allah ﷺ said to Thabit ibn Qays: Take it from her. So he took it from her, and she lived among her people (relatives).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ١٠ (١١٨٥)، (تحفة الأشراف: ٦١٨٢) (صحیح )
2230Sunan Abu Dawood

خلع کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ حَيْضَةٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ خلع کرانے والی عورت کی عدت ایک حیض ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Habibah daughter of Sahl was the wife of Thabit ibn Qays Shimmas He beat her and broke some of her part. So she came to the Prophet ﷺ after morning, and complained to him against her husband. The Prophet ﷺ called on Thabit ibn Qays and said (to him): Take a part of her property and separate yourself from her. He asked: Is that right, Messenger of Allah? He said: Yes. He said: I have given her two gardens of mine as a dower, and they are already in her possession. The Prophet ﷺ said: Take them and separate yourself from her.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٣٩٥) (صحیح )
2231Sunan Abu Dawood

جو باندی کسی آزاد مرد یا غلام کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کردی جائے تو کیا اس کو فسخ نکاح کا اختیار ہے؟

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُغِيثًا كَانَ عَبْدًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْفَعْ لِي إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بَرِيرَةُ، اتَّقِي اللَّهَ، فَإِنَّهُ زَوْجُكِ وَأَبُو وَلَدِكِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْمُرُنِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ، فَكَانَ دُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى خَدِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَبُغْضِهَا إِيَّاهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مغیث ؓ ایک غلام تھے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! اس سے میری سفارش کر دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: بریرہ! اللہ سے ڈرو، وہ تمہارا شوہر ہے اور تمہارے لڑکے کا باپ ہے کہنے لگیں: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے ایسا کرنے کا حکم فرما رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ میں تو سفارشی ہوں مغیث کے آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے عباس ؓ سے کہا: کیا آپ کو مغیث کی بریرہ کے تئیں محبت اور بریرہ کی مغیث کے تئیں نفرت سے تعجب نہیں ہو رہا ہے؟ ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The wife of Thabit ibn Qays separated herself from him for a compensation. The Prophet ﷺ made her waiting period a menstrual course. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Abd al-Razzaq from Mamar from Amr bin Muslim from Ikrimah from the Prophet ﷺ in a mursal form (i. e. missing the link of the Companion).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ١٥ (٥٢٨٢)، ١٦ (٥٢٨٣)، سنن النسائی/ آداب القضاء ٢٧ (٥٤١٩) سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٩ (٢٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ٦٠٤٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الرضاع ٧ (١١٥٤)، مسند احمد (١/٢١٥)، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٨) (صحیح )
2232Sunan Abu Dawood

جو باندی کسی آزاد مرد یا غلام کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کردی جائے تو کیا اس کو فسخ نکاح کا اختیار ہے؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا، فَخَيَّرَهَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ کے شوہر ایک کالے کلوٹے غلام تھے جن کا نام مغیث ؓ تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں (مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا اور (نہ رہنے کی صورت میں) انہیں عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔

Ibn Umar said “The waiting period of a woman who separates herself from her husband for compensation is a menstrual period. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ١٥ (٥٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ٦١٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٨١، ٣٦١) (صحیح )
2233Sunan Abu Dawood

جو باندی کسی آزاد مرد یا غلام کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کردی جائے تو کیا اس کو فسخ نکاح کا اختیار ہے؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ، قَالَتْ: كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے بریرہ کے قصہ میں روایت ہے کہ اس کا شوہر غلام تھا، رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو (آزاد ہونے کے بعد) اختیار دے دیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کیا، اگر وہ آزاد ہوتا تو آپ اسے (بریرہ کو) اختیار نہ دیتے۔

Ibn Abbas said “Mughith was a slave. ” He said “Messenger of Allah ﷺ make intercession for me to her (Barirah)”. The Messenger of Allah ﷺ said “O Barirah fear Allaah. He is your husband and father of your child”. She said “Messenger of Allah ﷺ do you command me for that? He said No, I am only interceding. Then tears were falling down on his (her husband’s) cheeks. The Messenger of Allah ﷺ said to Abbas “Are you not surprised with the love of Mughith for Barirah and her hatred for him. ”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٢ (١٥٠٤)، سنن الترمذی/الرضاع ٧ (١١٥٤)، والبیوع ٣٣ (١٢٥٦)، والوصایا ا ٧ (٢١٢٤)، والولاء ١ (٢١٢٥)، سنن النسائی/الزکاة ٩٩ (٢٦١٥)، والطلاق ٢٩ (٣٤٧٧)، ٣٠ (٣٤٨٠)، ٣١ (٣٤٨٣، ٣٤٨٤)، والبیوع ٧٨ (٤٦٤٦، ٧٤٦٤)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٩ (٢٠٧٤)، والأحکام ٣ (٢٣٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٧٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق ١٠ (٢٥٣٦)، والھبة ٧ (٢٥٨٧)، والنکاح ١٨ (٥٠٩٧)، والطلاق ١٤ (٥٢٧٩)، ١٧ (٥٢٨٤)، والأطعمة ٣١ (٥٠٣٠)، والأیمان ٨ (٦٧١٧)، والفرائض ٢٢ (٦٧٥١)، ٢٣ (٦٧٥٤)، موطا امام مالک/الطلاق ١٠(٢٥)، مسند احمد (٦/٤٦، ١١٥، ١٢٣، ١٧٢، ١٧٥، ١٧٨، ١٩١، ٢٠٧)، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٧) (صحیح) (لیکن ” اگر وہ آزاد ہوتا تو… “ کا جملہ عروة کا اپنا قول ہے )
2234Sunan Abu Dawood

جو باندی کسی آزاد مرد یا غلام کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کردی جائے تو کیا اس کو فسخ نکاح کا اختیار ہے؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَالْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بَرِيرَةَ خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو اختیار دیا اس کا شوہر غلام تھا۔

Ibn Abbas said “The husband of Barirah was a black slave called Mughith. The Prophet ﷺ gave her choice and commanded her to observe the waiting period. ”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ العتق ٢ (١٥٠٤)، الزکاة ٥٢ (١٠٧٥)، سنن النسائی/الکبری/ الفرائض (٦٤٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٩٠) (صحیح )
2235Sunan Abu Dawood

جس نے کہا کہ بریرہ کا شوہر آزاد تھا

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ حُرًّا حِينَ أُعْتِقَتْ، وَأَنَّهَا خُيِّرَتْ، فَقَالَتْ: مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَهُ وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جس وقت بریرہ ؓ آزاد ہوئی اس وقت اس کا شوہر آزاد ١ ؎ تھا، اسے اختیار دیا گیا، تو اس نے کہا کہ اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی مل جائے تب بھی میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کروں گی۔

While relating the tradition about Barirah Aisha (RA) said “her husband was a slave, so the Prophet ﷺ gave her choice. She chose herself. Had he been a free man, he would not given her choice. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح یہ ہے کہ وہ اس وقت غلام تھے جیسا کہ متعدد صحیح روایتیں اوپر گزریں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٩٩٧) (صحیح )
2236Sunan Abu Dawood

عورت کے لئے اختیار کی مدت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَعَنْأَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بَرِيرَةَ أُعْتِقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ عَبْدٍ لِآلِ أَبِي أَحْمَدَ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهَا: إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ آزاد کی گئی اس وقت وہ آل ابواحمد کے غلام مغیث ؓ کے نکاح میں تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اختیار دیا اور اس سے کہا: اگر اس نے تجھ سے صحبت کرلی تو پھر تجھے اختیار حاصل نہیں رہے گا ۔

Aishah said “The Prophet ﷺ gave her choice. Her husband was a slave. ”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧١٨٤، ١٩٢٦٠) (حسن )
2237Sunan Abu Dawood

اگر شوہروبیوی دونوں ایک ساتھ آزاد ہوں تو کیا بیوی کو اختیار ملے گا

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مَمْلُوكَيْنِ لَهَا زَوْجٌ، قَالَ: فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَبْدَأَ بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ. قَالَ نَصْرٌ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے لونڈی غلام کے ایک جوڑے کو آزاد کرنا چاہا تو نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ عورت سے پہلے مرد کو آزاد کریں۔

Aishah said “Barirah’s husband was a free man when she was emancipated. She was given choice. She said “I do not like to remain with him. I have such and such (grievances)”

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٢٨ (٣٤٧٦)، سنن ابن ماجہ/العتق ١٠ (٢٥٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبید اللہ بن عبد الرحمن “ ضعیف ہیں )
2238Sunan Abu Dawood

جب میاں بیوی ایک ساتھ مسلمان ہوں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَتِ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً بَعْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَسْلَمَتْ مَعِي فَرُدَّهَا عَلَيَّ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آگئی، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے تو آپ اسے میرے پاس لوٹا دیجئیے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Barirah was emancipated, and she was the wife of Mughith, a slave of Aal Abu Ahmad. The Messenger of Allah ﷺ gave her choice, and said to her: If he has intercourse with you, then there is no choice for you.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٤٢ (١١٤٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦٠ (٢٠٠٨)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢، ٣٢٣) (ضعیف) (سماک کی عکرمہ سے روایت میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، اور یہاں بھی دونوں روایتوں میں اضطراب ظاہر ہے )
2239Sunan Abu Dawood

جب میاں بیوی ایک ساتھ مسلمان ہوں

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي، فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت مسلمان ہوگئی اور اس نے نکاح بھی کرلیا، اس کے بعد اس کا شوہر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اسلام لے آیا تھا اور اسے میرے اسلام لانے کا علم تھا چناچہ رسول اللہ ﷺ نے دوسرے شوہر سے اسے چھین کر اس کے پہلے شوہر کو لوٹا دیا۔

Al-Qasim said: Aisha (RA) intended to set free two slaves of her who were spouses. She, therefore, asked the Prophet ﷺ about this matter. He commanded to begin with the man before the woman. The narrator Nasr said: Abu Ali al-Hanafi reported it to me on the authority of Ubaydullah.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٦١٠٧) (ضعیف) (سابقہ حدیث دیکھئے )
2240Sunan Abu Dawood

جب عورت مرد کے بعد مسلمان ہو تو وہ اس کو کب تک مل سکتی ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْمَعْنَى، كُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ لَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فِي حَدِيثِهِ: بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ، وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ: بَعْدَ سَنَتَيْنِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی زینب ؓ کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح پر واپس بھیج دیا اور نئے سرے سے کوئی نکاح نہیں پڑھایا۔ محمد بن عمرو کی روایت میں ہے چھ سال کے بعد ایسا کیا اور حسن بن علی نے کہا: دو سال کے بعد۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man came after embracing Islam during the time of the Messenger of Allah ﷺ . Afterwards his wife came after embracing Islam. He said: Messenger of Allah, she embraced Islam along with me; so restore her to me.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٤٢ (١١٤٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦٠ (٢٠٠٩)، (تحفة الأشراف: ٦٠٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٧، ٢٦١، ٣٥١) (صحیح )
2241Sunan Abu Dawood

جو شخص مسلمان ہو اور اس کے پاس چار سے زائد بیویاں موجود ہوں تو وہ کیا کرے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ. ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ، ابْنِ عُمَيْرَةَ: وَقَالَ وَهْبٌ، الْأَسَدِيِّ: قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي ثَمَانُ نِسْوَةٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وحَدَّثَنَا بِهِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: قَيْسُ بْنُ الْحَارِثِ مَكَانَ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: هَذَا هُوَ الصَّوَابُ يَعْنِي قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ.

حارث بن قیس اسدی ؓ کہتے ہیں میں نے اسلام قبول کیا، میرے پاس آٹھ بیویاں تھیں تو میں نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں سے چار کا انتخاب کرلو (اور باقی کو طلاق دے دو ) ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A woman embraced Islam during the time of the Messenger of Allah ﷺ ; she then married. Her (former) husband then came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, I have already embraced Islam, and she had the knowledge about my Islam. The Messenger of Allah ﷺ took her away from her latter husband and restored her to her former husband.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٠ (١٩٥٢)، (تحفة الأشراف: ١١٠٨٩) (صحیح )
2242Sunan Abu Dawood

جو شخص مسلمان ہو اور اس کے پاس چار سے زائد بیویاں موجود ہوں تو وہ کیا کرے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَاضِي الْكُوفَةِ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ، بِمَعْنَاهُ.

اس سند سے بھی قیس بن حارث ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ restored his daughter Zaynab to Abul As on the basis of the previous marriage, and he did not do anything afresh. Muhammad bin Amr said in his version: After six years. Al-Hasan bin Ali said: After two years.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٨٩) (صحیح )
2243Sunan Abu Dawood

جو شخص مسلمان ہو اور اس کے پاس چار سے زائد بیویاں موجود ہوں تو وہ کیا کرے؟

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، قَالَ: طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ.

فیروز ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو ۔

Narrated Al-Harith ibn Qays al-Asadi: I embraced Islam while I had eight wives. So I mentioned it to the Prophet ﷺ . The Prophet (said) said: Select four of them. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated to us by Ahmad bin Ibrahim from Hushaim. He said: Qais bin al-Harith instead of al-Harith bin Qais. Ahmad bin Ibrahim said: This is correct, i. e. Qais bin al-Harith.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٣٣ (١١٢٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٩ (١٩٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٠٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣٢) (حسن )
2244Sunan Abu Dawood

جب ماں باپ میں سے کوئی ایک مسلمان ہو تو اولاد کس کے پاس رہے گی

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شَبَهُهُ، وَقَالَ رَافِعٌ: ابْنَتِي، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْعُدْ نَاحِيَةً، وَقَالَ لَهَا: اقْعُدِي نَاحِيَةً، قَالَ: وَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: ادْعُوَاهَا، فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أُمِّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ اهْدِهَا، فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا.

رافع بن سنان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا، لیکن ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا، اور آپ کے پاس آ کر کہنے لگی: بیٹی میری ہے (اسے میں اپنے پاس رکھوں گی) اس کا دودھ چھوٹ چکا تھا، یا چھوٹنے والا تھا، اور رافع نے کہا کہ بیٹی میری ہے (اسے میں اپنے پاس رکھوں گا) تو رسول اللہ ﷺ نے رافع کو ایک طرف اور عورت کو دوسری طرف بیٹھنے کے لیے فرمایا، اور بچی کو درمیان میں بٹھا دیا، پھر دونوں کو اپنی اپنی جانب بلانے کے لیے کہا بچی ماں کی طرف مائل ہوئی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ اسے ہدایت دے ، چناچہ بچی اپنے باپ کی طرف مائل ہوگئی تو انہوں نے اسے لے لیا ١ ؎۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Qais bin Al Harith through a different chain of narrators to the same effect.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ باشعور بچے کو اختیار دیا جائیگا کہ ماں باپ میں سے جس کو چاہے اختیار کرلے، اور دودھ پیتا بچہ ماں کے تابع ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٥٢ (٣٤٩٥)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٢ (٢٣٥٢)، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٤٦، ٤٤٧) (صحیح )
2245Sunan Abu Dawood

لعان کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ؟ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ؟ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ قُرْآنٌ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا، قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا عُوَيْمِرٌ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی، عاصم بن عدی ؓ سے آ کر کہنے لگے: عاصم! ذرا بتاؤ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی (اجنبی) شخص کو پالے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھو، چناچہ عاصم ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے (بغیر ضرورت) اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس کی اس قدر برائی کی کہ عاصم ؓ پر رسول اللہ ﷺ کی بات گراں گزری، جب عاصم ؓ گھر لوٹے تو عویمر ؓ نے ان کے پاس آ کر پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا فرمایا؟ تو عاصم ؓ نے کہا: مجھے تم سے کوئی بھلائی نہیں ملی جس مسئلہ کے بارے میں، میں نے سوال کیا اسے رسول ﷺ نے ناپسند فرمایا۔ عویمر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم میں نبی اکرم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھ کر رہوں گا، وہ سیدھے آپ کے پاس پہنچ گئے اس وقت آپ لوگوں کے بیچ تشریف فرما تھے، عویمر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ (اجنبی) آدمی کو پالے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر آپ لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کردیں گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق قرآن نازل ہوا ہے لہٰذا اسے لے کر آؤ ، سہل کا بیان ہے کہ ان دونوں نے لعان ١ ؎ کیا، اس وقت میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، جب وہ (لعان سے) فارغ ہوگئے تو عویمر ؓ نے کہا: اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (گویا) میں نے جھوٹ کہا ہے چناچہ عویمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے پہلے ہی اسے تین طلاق دے دی۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: تو یہی (ان دونوں) لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔

Al-Dahhak bin Firuz reported on the authority of his father: I said: Messenger of Allah, I have embraced Islam and two sisters are my wives. He said: Divorce any one of them you wish.

Notes · وضاحت
١ ؎: لعان کا مطلب کسی عدالت میں یا کسی حاکم مجاز کے سامنے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہنا ہے کہ وہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے میں سچا ہے یا یہ بچہ یا حمل اس کا نہیں ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اللہ کی اس پر لعنت ہو، اب خاوند کے جواب میں بیوی بھی چار مرتبہ قسم کھا کر یہ کہے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے اور میں جھوٹی ہوں تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو، ایسا کہنے سے خاوند حد قذف سے بچ جائے گا اور بیوی زنا کی سزا سے بچ جائے گی اور دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے جدائی ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤٤ (٤٢٣)، تفسیر سورة النور ١ (٤٧٤٥)، ٢ (٤٧٤٦)، الطلاق ٤ (٥٢٥٩)، ٢٩ (٥٣٠٨)، ٣٠ (٥٣٠٩)، الحدود ٤٣ (٦٨٥٤)، الأحکام ١٨ (٧١٦٦)، الاعتصام ٥ (٧٣٠٤)، صحیح مسلم/اللعان ١(١٤٩٢)، سنن النسائی/الطلاق ٣٥ (٣٤٩٦)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ١٣(٣٤)، مسند احمد (٥/٣٣٠، ٣٣٤، ٣٣٦، ٣٣٧) (صحیح )
2246Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ: أَمْسِكِ الْمَرْأَةَ عِنْدَكَ حَتَّى تَلِدَ.

سہل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عاصم بن عدی ؓ سے فرمایا: بچے کی ولادت تک عورت کو اپنے پاس روکے رکھو ۔

Abd al-Hamid ibn Jafar reported from his father on the authority of his grandfather Rafi ibn Sinan that he (Rafi ibn Sinan) embraced Islam and his wife refused to embrace Islam. She came to the Prophet ﷺ and said: My daughter; she is weaned or about to wean. Rafi said: My daughter. The Prophet ﷺ said to him: Be seated on a side. And he said to her: Be seated on a side. He then seated the girl between them, and said to them: Call her. The girl inclined to her mother. The Prophet ﷺ said: O Allah! guide her. The daughter then inclined to her father, and he took her.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٧٩٦)، وقد أخرجہ: (حم ٥/٣٣٥) (حسن )
2247Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: حَضَرْتُ لِعَانَهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: ثُمَّ خَرَجَتْ حَامِلًا، فَكَانَ الْوَلَدُ يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ میں ان دونوں کے لعان میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود رہا اور میں پندرہ سال کا تھا، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی لیکن اس میں اتنا اضافہ کیا کہ پھر وہ عورت حاملہ نکلی چناچہ لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا ۔

Sahl bin Saad Al Saeedi said that ‘Uwaimir bin Ashqar Al Ajilani came to Asim bin Adl and said to him “Asim tell me about a man who finds a man along with his wife. Should he kill him and then be killed by you, or how should he act? Ask the Messenger of Allah ﷺ Asim, for me about it. Asim then asked the Messenger of Allah ﷺ about it. The Messenger of Allah ﷺ disliked the question and denounced it. What Asim heard from the Messenger of Allah ﷺ fell heavy on him. When Asim returned to his family ‘Uwaimr came to him and asked Asim “What did the Messenger of Allah ﷺ say to you”? Asim replied “You did not do good to me”. The Messenger of Allah ﷺ disliked the question that I asked him. Thereupon ‘Uwaimir said “I swear by Allaah, I shall not leave until I ask him about it. So, ‘Uwaimir came to the Messenger of Allah ﷺ while he was sitting in the midst of the people. ” He said “Messenger of Allah ﷺ tell me about a man who finds a man along with his wife. Should he kill him and then be killed by you, or how should he act?” The Messenger of Allah ﷺ said “A revelation has been sent down about you and your wife so go away and bring her. Sahl said “So we cursed one another while I was along with the people who were with the Messenger of Allah ﷺ . Then when they finished, ‘Umamir said “I shall have lied against her, Messenger of Allah ﷺ if I keep her. He pronounced her divorce three times before the Messenger of Allah ﷺ commanded him (to do so). Ibn Shihab said “Then this became the method of invoking curses. ”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )