Sunan Abu Dawood 2257

طلاق کا بیان

2257Sunan Abu Dawood

لعان کا طریقہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي ؟ قَالَ: لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عمر ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں لعان کرنے والوں سے فرمایا: تم دونوں کا حساب اللہ پر ہے، تم میں سے ایک تو جھوٹا ہے ہی (مرد سے فرمایا) اب تجھے اس پر کچھ اختیار نہیں ، اس پر اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں، اگر تم اس پر تہمت لگانے میں سچے ہو تو مال کے بدلے اس کی شرمگاہ حلال کرچکے ہو اور اگر تم نے اس پر جھوٹ بولا ہے تب تو کسی طرح بھی تم مال کے مستحق نہیں ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : When the Prophet ﷺ ordered a man and his wife to invoke curses on each other, he ordered a man to put his hand on his mouth when he came to the fifth utterance, saying that it would be the deciding one.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣٢ (٥٣١٢)، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣)، سنن النسائی/الطلاق ٤٤ (٣٥٠٦)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطلاق ٢٢ (١٢٠٢)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٦)، مسند احمد (٢/١٢)، (٤٥٨٧)، سنن الدارمی/النکاح ٣٩ (٢٢٧٧) (صحیح )