لعان کا طریقہ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مَالِكٌ، قَوْلُهُ: وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ. وقَالَ يُونُسُ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي حَدِيثِ اللِّعَانِ، وَأَنْكَرَ حَمْلَهَا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی عورت سے لعان کیا اور اس کے بچے کا باپ ہونے سے انکار کردیا چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی، اور بچے کو عورت سے ملا دیا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جس کی روایت میں مالک منفرد ہیں وہ وألحق الولد بالمرأة کا جملہ ہے، اور یونس نے زہری سے انہوں نے سہل بن سعد ؓ سے لعان کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: اس نے اس کے حمل کا انکار کیا تو اس (عورت) کا بیٹا اسی (عورت) کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔
Ibn Umar said “The Messenger of Allah ﷺ said to the spouses who invoked curses on each other. Your reckoning is in Allaah’s hands for one of you is liar there is no way for you to (remarry) her. He then asked Messenger of Allah ﷺ what about my property? He replied “There is no property for you. If you have spoken the truth, it is the price for your having had the right to intercourse with her and if you have lied against her it is still more remote for you.