Sunan Abu Dawood 2263

طلاق کا بیان

2263Sunan Abu Dawood

بچہ کے نسب سے انکار کی مذمت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کردیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہوگا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ١ ؎۔

The tradition mentioned above has also been narrated by Al Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. This version adds “At that time he was hinting at disowning the child. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: حاصل یہ ہے کہ نہ عورت کو چاہیے کہ حرام کا بچہ کسی غیر سے جن کر اس کو اپنے خاوند کی طرف منسوب کرے اور نہ مرد کو چاہیے کہ دیدہ و دانستہ اپنے بچے کا انکار کرے اور عورت پر زنا کی تہمت لگائے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٤٧ (٣٥١١)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ١٣ (٢٧٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٧٢)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/ النکاح ٤٢ (٢٢٨٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن یونس مجہول ہیں )