آگے بڑھنے کی شرط کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا سَبْقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ فِي حَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مقابلہ میں بازی رکھنا جائز نہیں ١ ؎ سوائے اونٹ یا گھوڑے کی دوڑ میں یا تیر چلانے میں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Wagers are allowed only for racing camels, or horses or shooting arrows.
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں سبق کا لفظ آیا ہے سبق اس پیسہ کو کہتے ہیں، جو گھوڑ دوڑ وغیرہ میں شرط کے طور پر رکھا جاتا ہے، لیکن یہ رقم خود گھوڑ دوڑ میں شرکت کرنے والوں کی طرف سے جیتنے والے کے لئے نہ ہو، بلکہ کسی تیسرے فریق کی طرف سے ہو، اگر خود گھوڑوں کی ریس (دوڑ) میں شرکت کرنے والوں کی جانب سے ہوگا تو یہ مقابلہ جُوا میں داخل ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ٢٢ (١٧٠٠)، سنن النسائی/ الخیل ١٣(٣٦١٥) (تحفة الأشراف: ١٤٦٣ ٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٧٤) (صحیح )