‘Abdullah Ibn Khubaib (r.a) narrated, ‘We went out one rainy and intensely dark night to look for the Messenger of Allah (s.a.w), to lead us in prayer, and when we found him, he (s.a.w) said: ‘Say’, but I did not say anything. He (s.a.w) again said: ‘Say’, but I did not say anything. He (s.a.w) then said: ‘Say’. So I asked: ‘What am I to say?’ He (s.a.w) said, ‘Say:
Say: He is Allah, the One and Only. Allah, the Eternal Refuge. He neither begets nor is He born. Nor is there to Him any equivalent.
And say Mu‘awwidhatain i.e.
Say: I seek refuge in the Lord of the daybreak. From the evil of what He created. And from the evil of darkness when it settles. And from the evil of the blowers in knots. And from the evil of an envier when he envies.
And
Say: I seek refuge in the Lord of mankind, the Sovereign of mankind, the God of mankind, from the evil of the retreating whisperer, who whispers [evil] in the chests of mankind, amongst the Jinn and mankind.
Recite them three times each in the morning and in the evening; they will serve you for every purpose.’
[Sunan Abū Dawūd: 5082] Ḥasan
حضرت معاذ ؒ بن عبد الله بن خبیب رضی الله عنه اپنے والد سے روایت کرتے ہیں که ہم ایک بارش والی اور سخت اندھیری رات میں نکلے جب که ہم رسول الله صلی الله علیه وسلم کو ڈھونڈ رہے تھے تاکه وه ہمیں نماز پڑھائیں۔ چنانچه ہم نے آپ صلی الله علیه وسلم کو پالیا تو آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: ’’کہو‘‘ تو میں کچھ نه بولا۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے پھر فرمایا: ’’کہو‘‘ تو بھی میں کچھ نه بولا۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے پھر فرمایا: ’’کہو‘‘ تو میں نے عرض کیا۔ اے الله کے رسول صلی الله علیه وسلم! میں کیا کہوں؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا؛ کہو
(قُلْ ھُوَ اللهُ اَحَدٌ o اَللهُ الصَّمَدُ o لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ o وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ o)
کہہ دیجئے! که وه الله ایک ہے۔ الله بے نیاز ہے۔ نه اس سے کوئی پیدا ہوا اور نه ہی وه کسی سے پیدا ہوا، اور نه ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔
اور معوذتین یعنی
(قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ o مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ o وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ o وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ o وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ o)
کہہ دیجئے! میں صبح کے رب کی پناه چاہتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب وه پھیل جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وه حسد کرے۔ اور
(قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ o مَلِکِ النَّاسِ o اِلٰهِ النَّاسِ o مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ o الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ o مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ o)
کہہ دیجئے! میں لوگوں کے رب کی پناه چاہتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی۔ وسوسه ڈالنے والے، بار بار پلٹ کر آنے والے کے شر سے۔ وه جو لوگوں کے سینوں میں وسوسه ڈالتا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے۔
صبح اور شام تین تین بار یه کہہ لو تو یه ہر چیز سے تمہاری کفایت کریں گی۔ (صبح و شام تین بار)
(سنن أبی داؤد: 5082) حسن