Ayah 10:99اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سارے لوگ ایمان پر مجبور کردیئے جاتے
135 ؎ قرآن کریم نے جا بجا یہ حقیقت واضح کی ہے کہ انسانی طبیعت و استعداد کا اختلاف فطری ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی ہوئی کہ یہ اختلاف ظہور میں آئے اگر وہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک طرح طبیعت ، ایک ہی طرح کی استعداد ، ایک طرح کی فکری و عملی حالت پر مجبور کردیتا مگر اس نے ایسا نہیں چاہا ۔ اس کی حکمت کا یہی فیصلہ ہوا کہ انسان میں ہر طرح کی حالت پیدا کرنے کی استعداد ہو اور ہر طرح کی راہ اس کے آگے کھول دی جائے وہ اگر اونچا ہونا چاہے تو زیادہ سے زیادہ اونچا ہو سکے ، پست ہونا چاہے تو زیادہ سے زیادہ پستی میں گر سکے۔ اس تنوع و استعداد کا نتیجہ ہے کہ فکر و عمل کے ہر گوشے میں مختلف حالتیں پیدا ہوگئیں ۔ ایک فرد جماعت کا ذوق ایک طرح کا ہوا دوسرے کا دوسری طرح کا ۔ ایک کی سمجھ ایک طرف گئی دوسرے کی دوسری طرف ایک نے ایک راہ پسند کی ، کہ حق ہے دوسرے نے اس سے انکار کیا کہ حق نہیں ! اور پھر اس اختلاف فکر و عمل نے ہدایت وسعادت اور ضلالت و شقاوت کی وہ کشمکش پیدا کردی جسے قرآن کریم ” آزمائش حیات “ سے تعبیر کرتا ہے کہ ” لیبلو کم ایکم احسن عملاً “ ( الملک 67 : 2) وہ تمہیں کشمکش حیات میں ڈالتا ہے تاکہ واضح ہوجائے کہ تم میں کون ہے جس کے اعمال سب سے زیادہ بہتر ہوتے ہیں کیونکہ اس کشمکش میں کامیاب وہی ہوگا جو اپنے عمل میں احسن و انفع ہوگا ۔
زیر نظر آیت میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے پھر غور کرو کہ کتنے مختصر لفظوں میں کتنی عظیم الشان بات کہ دی ہے ؟ فرمایا فکر و استعداد کا اختلاف یہاں نا گزیر ہے اور ایمان کوئی ایسی چیز نہیں کہ زور و زبردستی سے کسی کے اندر ٹھونس دیا جائے۔ یہ تو اس کے اندر پیدا ہوگا جس میں فہم و قبول کی استعداد ہے پھر اگر تم پر یہ بات شاق گزر رہی ہے کہ کیوں لوگ مان نہیں لیتے تو کیا تم لوگوں پر جبر کرو گے کہ نہیں تمہیں ضرور مان ہی لینا چاہئے ؟ اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ قرآن کریم کے نزدیک دین و ایمان کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں جبر واکراہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جبر واکراہ کی صورت کا ذکر ایک ان ہونی اور نا کردنی بات کی طرح کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن کریم کا مقررہ قانون ہے کہ لا اکرہ فی الدین ( سورة البقرہ 2 : 256)
” کیا تو ان پر جبر کرے گا کہ جب تک وہ ایمان نہ لائیں میں چھوڑنے والا نہیں “ ۔ آیت کے اس حصہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ لوگوں کو زبردستی مومن بنانا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا کرنے سے روک رہا تھا۔ دراصل اس فقرے میں وہی اندز بیان اختیار کیا گیا ہے جو قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر ہمیں ملتا ہے اور ابھی پیچھے 94 میں بھی گزرا ہے کہ خطاب بظاہر تو نبی کریم ﷺ سے ہوتا ہے مگر اصل میں لوگوں کو وہ بات سنانی مقصود ہوتی ہے جو نبی کو خطاب کر کے فرمائی جاتی ہے یہاں جو کچھ کہنا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ لوگ ! حجت اور دلیل سے ہدایت و ضلالت کا فرق کھول کر رکھ دینے اور راہ راست صاف صاف دکھا دینے کا جو حق تھا وہ تو ہمارے نبی ﷺ نے پورا پورا ادا کردیا اب اگر تم خود راست رد بننا نہیں چاہتے اور تمہارا سیدھی راہ پر آناصرف اس پر مو وف ہے کہ کوئی تمہیں زبردست راہ راست پر لائے تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے نبی کے سپرد یہ کام نہیں کیا ۔ ایسا جبری ایمان اگر اللہ کو منظور ہوتا تو اس کیلئے اسے نبی بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ یہ کام تو وہ خود جب چاہتا کرسکتا تھا۔
Ayah 10:100عقل سے کام نہ لینے والوں کو اللہ تعالیٰ گندگی ہی میں چھوڑ دیتا ہے
136 ؎ مشیت الٰہی صرف انہی لوگوں کے ایمان لانے سے غیر متعلق رہتی ہے جو اپنی خداداد عقل و فہم سے کام نہیں لیتے اور حق کے قبول و اتباع کا قصد ہی نہیں کرتے اس قسم کی آیتوں نے بار بار اس حقیقت کو صاف کیا ہے کہ کسی کے ایمان و ہدایت کی راہ میں اضلا ً رکاوٹ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں ہوتی صرف انسان کی اپنی ہی کج نظری اور بد نفسی کی طرف سے ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شرف ایمان سے فقط وہی مشرف ہو سکتا ہے جس کی یاوری توفیق الٰہی کرے اور بلا وجہ لوگوں کو نعمت ایمان سے محروم نہیں کردیا جاتا اور بلا سبب ان پر کرو خذلان کی ذلت تھوپ نہیں دی جاتی فقط انہی لوگوں کو توفیق سے محروم کیا جاتا ہے جو عقل و فہم کی خداداد قوتوں کو ناکارہ بنا دیتے ہیں اور حق و باطل میں تمیز کرنے کیلئے انہیں استعمال نہیں کرتے۔
الرجس یعنی کفر و بد عقیدگی کی گندگی ” رجس “ اس جگہ ” ایمان “ کے مقابلہ میں آیا ہے اس لئے اس کے معنی کفر کے ہیں ۔ جو شخص حقیقت کی تلاش میں بےلاگ طریقے سے اپنی عقل کو ٹھیک ٹھیک استعمال کرتا ہے اس لئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حقیقت ، اس کے اسباب و ذرائع ، اس کی سعی و طلب کے تناسب سے مہیا کردیئے جاتے ہیں اور اس کو صحیح علم پانے اور ایمان لانے کی توفیق بخشی جاتی ہے۔ رہے وہ لوگ جو طالب حق ہی نہیں ہیں اور جو اپنی عقل کو تعصبات کے پھندوں میں پھانسے رکھتے ہیں یا سرے سے تلاش حقیقت میں اسے استعمال ہی نہیں کرتے تو ان کیلئے اللہ کے خزانہ قسمت میں جہالت اور گمراہی اور غلط بینی و غلط کاری کی نجاستوں کے سوا اور کچھ نہیں ہے وہ اپنے آپ کو انہی نجاستوں کا اہل بناتے ہیں اور یہی ان کے نصیب میں لکھی جاتی ہیں۔
Ayah 10:101یقین نہ رکھنے والوں کیلئے ساری نشانیاں ہی بےسود ہیں
137 ؎ سوچو اور غور کرو یعنی چشم بصیرت سے دیکھو ، دوسرے مذاہب کے برعکس جہاں ایمان اور عقل کو ایک دوسرے کے منافی سمجھا گیا ہے قرآن کریم تو خود تکوینیات میں غور و فکر کرتے رہنے کی دعوت دیتا ہے کہ صحیفہ کائنات کو ذرا غور سے دیکھو وہ تمہیں قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے انفسی اور آفاقی دلائل پیش کرتا ہے اور ہر جگہ تم کو ہدایت کے چراغ جگمگاتے ہوئے نظر آئیں گے لیکن اگر تم آنکھیں بند رکھنے ہی پر مصر ہو تو تمہاری قسمت ! یعنی دوپہر کے وقت تم اندھوں کی طرح گھپ اندھیروں میں گھرے ہوئے دکھائی دو گے اور ان آیات اور شواہد سے فقط وہی لوگ مستفیدہو سکتے ہیں جن کے دلوں میں طلب حق کا جذبہ ہو لیکن جو حق کو حق سمجھتے ہوئے اس سے روگردانی ہوئے ہوں اور واضح دلائل کے باوجود ایمان لانے کیلئے تیار نہ ہوں ان کیلئے نہ کوئی آیت مفید ہو سکتی ہے اور نہ ہی کوئی ڈرانے والا ان کو ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے باز رکھ سکتا ہے۔
Ayah 10:102یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ یہی کہ ان کے پاس بھی ہلاک کردینے والا عذاب بھیج دیا جائے
138 ؎ ان موجودہ منکرین و معاندین کے طور طریقوں سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بھی گزشتہ ہلاک شدہ قوموں کے وقت کا انتظار کر رہے ہیں اس لئے کہ ان پر حجت پوری ہوچکی اور حق واضح ہوچکا لیکن اس کے باوجودوہ اب بھی ایمان نہیں لا رہے شاید وہ اس عذاب کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے گمراہ قوموں پر نازل ہوا تھا اور انہیں میان میٹ کر گیا تھا۔ اگر ان کی یہی منشاء ہے تو ان کی یہ حسرت بھی پوری کردی جائے گی انہیں کہئے کہ کچھ وقت انتظار کریں یہاں تک کہ وہ متعین گھڑی آجائے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت و بربادی کیلئے مقرر رکھی ہے اور مطلب یہ نہیں ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ لوگوں کو زبردستی مومن بنانا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا کرنے سے روک رہا تھا۔ دراصل اس فقرے میں وہی انداز بیان اختیار کیا گیا جو قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر ہمیں ملتا ہے اور پیچھے آیت 94 میں بھی گزرا ہے کہ خطاب بظاہر تو نبی کریم ﷺ سے ہوتا ہے مگر اصل میں لوگوں کو وہ بات سنانی مقصود ہوتی ہے جو نبی کو خطاب کر کے فرمائی جاتی ہے یہاں جو کچھ کہنا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ لوگو ! حجت اور دلیل سے ہدایت و ضالت کا فرق کھول کر رکھ دینے اور راہ راست صاف صاف دکھا دینے کا جو حق تھا وہ تو ہمارے نبی ﷺ نے پورا پورا ادا کردیا اب اگر تم خود راست رو بننا نہیں چاہتے اور تمہارا سیدھی راہ پر آنا صرف اس پر موقوف ہے کہ کوئی تمہیں زبردستی راہ راست پر لائے تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے نبی کے سپرد یہ کام نہیں کیا ۔ ایسا جبری ایمان اگر اللہ کو منظور ہوتا تو اس کیلئے اسے نبی بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ یہ کام تو وہ خود جب چاہتا کرسکتا تھا۔
Ayah 10:103جس طرح ہم نے پہلوں کو بچایا تم کو بھی بچائیں گے کیونکہ ایسا کرنا ہم پر لازم ہے
139 ؎ گزشتہ اقوام کا ذکر پڑھو اور دیکھو کہ ہم نے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفوں اور موافقوں کے ساتھ کیا کیا ؟ تم کو یقینا معلوم ہوگا کہ ہم نے اپنے رسولوں اور ان کے ماننے والوں کو نجات دی اور ان کے مخالفین کو تباہ کن عذاب میں مبتلا کیا اور یہی کچھ اب بھی ہوگا ۔ تم کو معلوم ہے کہ بحر احمر کی چنگھاڑتی ہوئی موجیں جو فرعون اور اس کے لائو لشکر کو تنکوں کی طرح بہا لے گئیں وہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کیلئے خدمت گاروں کی طرح راستہ بناتی گئیں ۔ آندھی کے زور دار جھٹکے جو قوم عاد کی بستی کو زیر و زبر کر کے رکھ گئے لیکن جب ان کا گزر لوط اور اس کے تابعداروں کے پاس سے ہوا تو ان کی تندی و تیزی نرمی میں بدل گئی اور ان کو ایسے معلوم ہوا کہ گویا وہ نسیم صبح کے جھونکے ہیں جو خفیہ غنچوں کو بیدار کرنے کیلئے چمن کی سمت کو رواں دواں ہیں ۔ اس ساری کائنات کے اندر جو کچھ ہے وہ ہمارے تابع فرمان ہے اور جس سے جو کام لینا چاہتے ہیں ہمارا حکم ہوتا ہے کہ ہو پس وہ ہوجاتا ہے اور آج بھی وہی کچھ ہوگا جو پہلے ہوتا آیا ہے کہ اگر تم باز آگئے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت ترک کردی تو خیر ورنہ تمہارے منہ پر ایسا قدرت کا دھپڑ پڑے گا کہ تمہارے اوسان خطا ہوجائیں گے۔
یاد رکھو کہ ہمارا اپنے بندوں سے وعدہ ہے کہ ہم ان پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور ہمارا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے اس میں خلف ممکن ہی نہیں ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “ اللہ تعالیٰ نہ ہی اپنے وعدے کا خلاف کرتا ہے اور نہ ہی ہونے دیتا ہے۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو بار بار مختلف پیرایوں میں واضح کیا ہے کہ موعود عذاب الٰہی جب آتا ہے تو صرف کافروں اور منکروں پر آتا ہے اور مومنین اس سے بچا لئے جاتے ہیں ۔۔۔ اور یہیں سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ تکوینی حادثے جن میں مومن و کافر سب بلا امتیاز و تفریق یکساں مبتلاقحط ، سیلاب ، وباء وغیرہ یہ ہرگز صحیح معنوں میں ” عذاب الٰہی “ نہیں بلکہ یہ نمونہ عذاب الٰہی کہلا سکتا ہے اور پھر یہ بھی کہ اس سے وہی عذاب مراد ہے جو انبیائے کرام علہیم السلام کے ساتھ کئے گئے وعدے کے مطابق ہوتا تھا اس لئے ہم نے اس کو ” موعود عذاب “ سے تعبیر کیا ہے وہ وقت اور تاریخ معین کر کے باقاعدہ اعلان کے بعد ہوا کرتا تھا ۔ اب اس کی صورت وہ نہیں رہی کیونکہ اب نبوت و رسالت کو ختم کردیا گیا ہے لیکن اب بھی مومن اگر وہ صحیح معنوں میں مومن ہے تو ان کی نجات ہم پر لازم ہے اور ہم ان کو نجات دیتے ہیں اور کفر کے مقابلہ میں وہ کبھی ناکام نہیں ہو سکتے الایہ کہ وہ خود ہی مومن نہ رہے ہوں۔
Ayah 10:104پیغمبر اسلام سے اس بات کا اعلان کرایا گیا کہ کان کھول کر میرے دین کے بارے میں سن لو
140 ؎ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! اگر تم میرے دین کے متعلق ابھی تک اشتباہ میں ہو اور تم پر یہ واضح نہیں ہوا کہ جس دین کی دعوت میں دے رہا ہوں اور اصلا ً اور اپنی روح و مغز کے اعتبار سے کیا ہے ؟ تو کان کھول کر سن لو کہ میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن جن کی تم عبادت کرتے ہو ۔ اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جن کی عبادت دنیا بھر کے کفار اور مشرکین کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں خواہ وہ ملا مکہ ہوں ، جن ہوں ، انبیاء کرام اور اولیاء عظام ہوں ، زندہ یامردہ انسانوں کی ارواح ہوں یا سورج ، چاند ، ستارے ، جانور ، درخت ، دریا ، بت ، شبیہیں اور خیالی دیویاں اور دیوتا ہوں ۔ اس پر چونکہ یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کو بھی تو معبود مانتے تھے اور دنیا کے دوسرے مشرکین نے بھی قدیم زمانے سے آج تک اللہ کے معبود ہونے کا انکار نہیں کیا ہے اس لئے یہاں داعئی اسلام کی زبان سے اصل و اساس فرق دین اسلام اور دین جاہلیت کے درمیان بیان کردیا اور واضح طور پر اشارہ کرایا جا رہا ہے کہ اگر اب بھی ابہام و اشتباہ باقی ہے تو اچھی طرح سن لو کہ بنیادی فرق میری دعوت اور تمہارے دین جاہلیت کے درمیان یہ ہے کہ میری دعوت اور تمہارے دین جاہلیت کے درمیان یہ ہے کہ میری دعوت خالصتا ً توحید کی ہے میں اس رب العزت ، احد و صمدلم یلد ولم یولد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوں جو مطلق الاختیار ہے اور تمہاری موت و زندگی پر حاکم ہے اور خصوصاً ” جو تمہیں موت دیتا ہے “۔ صرف اور صرف اس کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے سوا کسی بھی دوسرے کی عبادت نہیں کرتا ۔
’ ’ جو تمہیں موت دیتا ہے “ کے الفاظ پر غور کرو کہ کس زور کے ساتھ اور کس چیلنج کے ساتھ بات کی جا رہی ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ دنیا میں جن جن لوگوں نے غیر اللہ کی پرستش کی خواہ وہ پرستش کئے جانے والے ملا مکہ ہوں ، جن ہوں یا انبیائے کرام (علیہ السلام) اور اولیائے عظام (رح) ہوں آج تک کسی نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ فلاں فرشتہ ، جن ، نبی ، رسول یا ولی کو پکارو گے یا اس کی عبادت کرو گے تو وہ تمہیں موت سے بچا لے گا اور مرنے نہیں دے گا اس کے علاوہ زندگی کی ساری باتیں لوگوں نے مختلف شخصیتوں کی طرف منسوب کیں اور کی جا رہی ہیں لیکن موت کے بچائو کا اشارہ کسی نے بھی کسی کی طرف نہیں دیا اس طرح جن جن لوگوں نے اپنی پرستش کروائی یا اس وقت کروا رہے ہیں جو اپنے اپنے وقت میں زندہ تھے یا اب زندہ ہیں آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ جب موت آنے لگے تو مجھے پکارو ، میری عبادت کرو ، میرے نام کو نذر و نیاز دینا ، تو میں تمہیں موت نہیں آنے دوں گا ۔ نہ کوئی ایسا تھا ، نہ ہے اور نہ ہوگا اس لئے پیغمبر اسلام ﷺ سے جو اعلان کروایا گیا اس میں اس کی طرف اشارہ کرا دیا گیا کہ ” آپ ﷺ اعلان کر دیجئے میں بھی اس کی اور صرف اس کی عبادت کرتا ہوں جو تم سب کو وفات دیتا ہے۔ وہ جس کے قبضے میں تمہاری جان ہے جو تم پر ایسا مکمل حاکمانہ اقتدار رکھتا ہے کہ جب تک اس کی مرضی ہو اس وقت تک تم جی سکتے ہو اور جس وقت اس کا اشارہ ہوجائے اسی آن تمہیں اپنی جان اس جان آفرین کے حوالے کر دینی پڑتی ہے۔
میں صرف اس کی عبادت کرتا ہوں جو تم کو اور تمہارے معبودوں کو موت دیتا ہے
141 ؎ یہاں اتنا مزید سمجھ لینا چاہئے کہ مشرکین مکہ یہ جانتے تھے اور آج بھی ہر قسم کے مشرک یہ تسلیم کرتے ہیں کہ موت صرف اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے جیسا کہ اوپر ابھی ذکر کیا گیا اور یہ بھی سب مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ اس پر کسی دوسرے کو قابو نہیں حتیٰ کہ جن بزرگوں کو یہ مشرکین خدائی صفات و اختیارات میں شریک ٹھہراتے ہیں ان کے متعلق بھی وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی خود اپنی موت کا وقت نہیں ٹال سکتا پس بیان مدعا کیلئے اللہ تعالیٰ کی بیشمار صفات میں سے کسی دوسری صفت کا ذکر کرنے کی بجائے یہ خاص صفت کہ ” وہ جو تمہیں موت دیتا ہے “ یہاں اس لئے انتخاب کی گئی ہے کہ اپنا مسلک بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے صحیح ہونے کی دلیل بھی دے دی جائے یعنی سب کو چھوڑ کر میں اس کی بندگی اس لئے کرتا ہوں کہ زندگی و موت پر تنہا اس کا اقتدار ہے اور اس کے سوا دوسروں کی بندگی کیوں کروں جب کہ وہ خود بھی اپنی زندگی و موت پر مختار نہیں ہیں ۔ پھر کمال بلاغت کے ساتھ یہ فرمایا گا کہ ” وہ تمہیں موت دیتا ہے “ یہ نہیں فرمایا کہ وہ جو مجھے موت دیتا ہے کیونکہ اس طرح میں مدعا ، دلیل مدعا اور دعوت الی المدعا تینوں فائدے جمع کردیئے ۔ اس فقرہ پر جوں جوں غور کرتے جائو گے مزید معانی پر روشنی پڑتی جائے گی ۔ ذرا غور کر کے دیکھو کہ کیا لطف آتا ہے اس جملہ میں اور یہ کہ اس ایک جملہ میں وہ سب کچھ کہ دیا جس کے بیان کرنے کیلئے دفتر درکار ہیں اور پھر آخر میں مزید وضاحت فرما دی کہ میں یہ جو کچھ کہہ رہا ہوں اس کے کہنے کا میں حکم دیا گیا ہوں اور مومن کا کام ہی کیا ہے ؟ یہی کہ جس کا اس کو حکم دیا گیا ہے وہ بلا کسی چون و چرا کے کر گزرے اور اس میں کسی مصلحت اندیشی سے کام نہ لے اس لئے کہ مصلحت اندیشی ماننے تک تو صحیح ہے لیکن ماننے کے بعد جس کو لوگ مصلحت اندیشی کا نام دیتے ہیں وہ منافقت کے سوا کچھ نہیں ہوتی ۔ فان عزمت فتوکل علی اللہ۔
Ayah 10:105مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ہر طرف سے کٹ کر صرف اللہ کا ہوجائوں ، سو میں اس کا ہوگیا
142 ؎ نبی کریم ﷺ سے جو اعلان کرایا گیا ہے اس کی دوسری شق یہ قرار پائی کہ آپ یہ بھی اعلان کریں گے کہ لوگو ! میری حیثیت واضح قانون کی نہیں کہ غلط فہمی میں نہ مبتلا ہونا بلکہ میں تو عامل قانون ہوں ، جو قانون حیات لے کر آیا ہوں خود بھی اس کے دا ائرہ نفاذ سے مستثنیٰ ہوں اور مافوق نہیں ہوں ۔ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس دین بر حق کی طرف اپنا رخ سیدھا کرلو اور قاعدہ ہے کہ جب کسی چیز کی طرف رخ کیا جاتا ہے تو اس کے علاوہ تمام دوسری چیزوں سے منہ مڑ جاتا ہے۔ اگرچہ ” اقم وجھک “ کے حکم میں جو جلال ہے وہ کسی مزید توضیح کا محتاج نہیں لیکن اس مضمون کی اہمیت کے پیش نظر ” حنیفا “ کا اضافہ بھی فرما دیا جس کے معنی مزید واضح ہوگئے کہ ہر باطل سے منہ موڑ کر ہمہ تین حق کی طرف متوجہ ہوگیا ہوں اور یہی حکم الٰہی تھا کہ ہادئی عالم ! ہر باطل سے خواہ وہ کسی رنگ میں ، کسی روپ میں ہو اپنا منہ موڑ لو اور کمال یکسوئی کے ساتھ صرف اس دین حق کی طرف رخ کرلو ۔ سچ تو یہ ہے کہ دین اسلام قبول کرلینے کے بعد کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اپنی انفرادی یا اجتماعی ، معاشی یا سیاسی رہنمائی کیلئے کسی اور نظام حیات کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھئے۔ غور کرو اور پھر غور کرو کہ جب تک کتاب و سنت کا دمن ہم نے مضبوطی سے پکڑے رکھا ہمارے منہ سے نکلی ہوئی بات وزن رکھتی تھی ۔ ہماری سیرت پر کشش تھی اور ہمارے کردار میں ایک رعب تھا ؎ تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے۔۔۔۔ کھویا گیا تیرا جذب قلندرانہ
اس وقت جو ہماری حالت ہے وہ آپ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اس لئے آپ خود ہی فیصلہ فرما لیں ، میری آہ وزاری اور چیخ و پکار تمہارے ساتھ ہے بشرطیکہ تم اس زمانہ کے ” مولانا “ یا ” سیاسی اور مذہبی “ رہنما نہ ہو۔
” اور ایسا ہرگز نہ کیجئو کہ شرک کرنے والوں سے ہو جائو “ ۔ صرف یہی تو شرک نہیں کہ غیر اللہ کو خدا مان لیا جائے۔ کسی بت کے سامنے ، زندہ یا مردہ انسانوں کے سامنے ، قبر ، شجر ، حجر اور اپنی خواہش نفس کے سامنے سجدہ ریزہ ہوا جائے بلکہ اگر مدعی اسلام قرآن کریم کے واضح احکام کو نظر انداز کر کے اپنی معاشی حالت کو سدھارنے کیلئے کسی غیر اسلامی نظام کی قیادت قبول کرنے کیلئے بےتاب نظر آتا ہے یا اپنے سیاسی نظام کو کسی دوسرے سانچہ میں ڈھالنا چاہتا ہے یا اسے اسلام کا لایا ہوا تمدن پسند نہیں اور وہ اجنبی طرز تمدن پر فریفتہ ہوچکا ہے تو آپ اسے شرک کا مرتکب نہیں کہیں گے تو کیا مومن کہیں گے ؟ وہ ارباب اختیار جنہیں قوم کی رہنمائی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے خواہ وہ سیاسی ہے یا مذہبی انہیں قرآن کریم کے اس پر جلال ارشاد کو ایک لمحہ کیلئے بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے اور اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ شرک کی سمجھ لینا چاہئے کہ شرک کی ایک قسم سے نکل کر دس قسموں کو اختیار کرلینا شرک سے بیزاری کا نام نہیں بلکہ دھوکا اور فریب کا نام ہے۔
Ayah 10:106نفع حاصل کرنے اور ضرر سے بچنے کیلئے غیر اللہ کی پکار بھی ظلم عین شرک ہے
143 ؎” ولا تدع من دون اللہ “ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکار ۔ علامہ ابن عطیہ (رح) فرماتے ہیں کہ : اس آیت کریمہ میں ” ولا تدع “ کا عطف لفظ ” اقم “ سے متعلق ہے اور اس جگہ نبی اعظم و آخر ﷺ سے خطاب کیا گیا ہے لہٰذا ان افراد امت کو تو بالاولیٰ اس سے دامن کشاں رہنا چاہئے یعنی اس جگہ اگرچہ خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن عمومی طور پر پوری امت اس خطاب میں شامل ہے “۔ اور علامہ ابن جریر (رح) اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ :
” اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے محمد رسول ﷺ ! اپنے خالق ، مالک اور معبود حقیقی کے علاوہ کسی صنم اور الٰہ کو نہ پکارنا کیونکہ وہ دنیا اور آخرت میں نہ آپ ﷺ کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے اور نہ آپ ﷺ کا کچھ بگاڑ سکیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے کسی نفع کی توقع رکھ کر یا کسی تکلیف سے ڈر کر ان کی عبادت نہ کرنا ۔ ان کے اختیار میں نفع ہے اور نہ ضرر ۔ اگر آپ سے ایسا فعل سر زد ہوگیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ ﷺ نے غیر اللہ کو پکارا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ ﷺ اس مشرک گروہ میں سے ہوجائیں گے جو ذات پر ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں “۔
یاد رہے کہ اس آیت میں ” ظلم “ سے مراد شرک ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ :
یا بنی لا تشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم (لقمان 31 : 13) ” اے بیٹے ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیغ دوسرے کو اس کی ذات ، صفات اور حقوق و اختیارات میں شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ یہ بڑا گھنائونا ظلم اور بڑی بےانصافی ہے “۔
اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق اس کو ” اظلم الظلم “ کہا گیا ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ :
اظلم الظلم ان تجعل للہ نذا اوھو خلقک ۔۔۔۔ ” اظلم الظلم یہ ہے کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھ کو پیدا کیا “ ۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہم پلہ بنانے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ مختلف قسم کے عبادات جیسے ، دعا ، نڈر و نیاز ، استغاثہ اور استعانت وغیرہ کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بندے کی طرف پھیرنا جس کا وہ ہرگز مستحق نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی قدرت و طاقت ہے۔
زیر نظر آیت کی ہم معنی اور ہم مطلب قرآن کریم میں بہت سی آیات ہیں ۔ مثلاً :
” اے پیغمبر اسلام ! اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں سے ہو جائو گے ۔ “ ( الشعراء 26 : 213)
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا ” اے پیغمبر اسلام ! اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے “۔ ( القصص 28 : 88)
ان دونوں آیات میں اس بات کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ جس کو پکارا جائے گا وہ ” الٰہ “ قرار دیا جائے گا اور الوہیت صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اس میں غیر اللہ کا قطعا ً کوئی حصہ نہیں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” لا الہ الا اللہ “ اور ایک مقام پر ارشاد الٰہی ہے کہ :
” یہ اس لئے ہے کہ اللہ ہی ” حق “ ہے اور وہ سب ” باطل “ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی بالا دست اور بزرگ و برتر ہے “ ( الحج 22 : 62)
یہی وہ توحید ہے جس کو واضح کرنے کیلئے اور لوگوں کے ذہنوں میں مرقسم کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا سلسلہ شروع فرمایا اور کتابیں نازل فرمائیں ، چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں ، اپنے دین کو اس کیلئے خالص کر کے “۔
(البینہ 90 : 5)
ظاہری اور باطنی تمام عبادات کا نام ’ ’ دین “ ہے۔
علامہ ابن جریر (رح) نے بھی دعا ہی کو عبادت بتایا ہے اور کہا ہے کہ عبادات میں سے ایک عبادت دعا ہے ۔ بعض مفسرین کی یہ عادت ہے کہ وہ آیت کی تفسیر کے سلسلہ میں اس کے بعض افراد اور متصمنات کو مراد لیتے ہیں جیسے اس جگہ مثلاً دعا کا ذکر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس شخص نے کسی ایک عبادت کو قبر یا صنم یا وثن وغیرہ کی طرف منسوب کیا تو گویا اس نے اسے معبود سمجھا اور اس کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک ٹھہرایا جس کا استحقاق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کو تھا جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ :۔
” اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود پکارے جس کیلئے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے ایسے کافر کبھی فلاح نہیں پا سکتے “۔ ( المومنون 23 : 117) اس سے معلوم ہوگیا کہ غیر اللہ کو پکارنا کفر و شرک اور ضلالت ہے۔
اس لئے جب نفع و ضرر کا کل اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے دست قدرت میں ہے تو پھر اس کو چھوڑ کر کسی غیر کو پکارنا کتنی بڑی نادانی ہے۔
Ayah 10:107اگر تجھ کو دکھ پہنچے تو اس کے سوا اس کو دور کرنے والا نہیں کوئی نہیں
144 ؎ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو اللہ تعالیٰ سے استغاثہ اور فریاد کرے ۔ اس ارشاد الٰہی میں بتایا گیا ہے کہ جس خوش نصیب پر رب کریم احسانات کرنا چاہے تو ان احسانات کو کوئی شخص روک نہیں سکتا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود پکارے جس کے لئے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے ، ایسے کافر کبھی فلاح نہیں پا سکتے “۔ ( المومنون 23 : 117)
اللہ تعالیٰ تنہا بادشاہ اور قہار ہے وہی بخشش اعلیٰ کا مالک اور وہی اس کا روک دینے والا ہے۔ وہی نفع و نقصان پر قدرت رکھتا ہے اور جب یہ سب کچھ اس کے قبضہ وقدرت میں ہے تو اسی کو پکارنا چاہئے اور اسی کی عبادت کرنا چاہئے کیونکہ عبادت اسی کی ہوتی ہے جو مالک وقہار بھی ہو اور نفع و نقصان پہنچانے والا بھی ہو اور یہ صفات اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی میں نہیں پائی جاتیں سو ثابت ہوا کہ وہی ایک اللہ ہے جو عبادت کا سزا وار ہے وہ نہیں جو سرے سے نفع و نقصان ہی نہیں پہنچا سکتا ۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
” ان سے کہو جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں ( قبریں اور اللہ کی بنائی ہوئی بیٹیاں) جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی ؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کی روک سکیں گی ، پس ان سے کہہ دو کہ میرے لئے اللہ ہی کافی ہے بھروسہ کرنے والے اس پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ ( الزمر 39 : 38)
اور ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
” اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کیلئے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے اسے اللہ کے بعد پھر کوئی دوسرا کھولنے والا نہیں اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ ( الفاطر 35 : 2)
یہ ہیں وہ دلائل وبراہین جو اللہ تعالیٰ نے الوہیت اور ربوبیت کے بارے میں فقط اپنی ہی خصوصیت کیلئے بیان کئے ہیں لیکن عباد قبور و مشاہدہ قرآن کریم کے ان دلائل کے بالکل برعکس عقیدہ رکھتے ہیں انہوں نے جب منفعت اور رفع سکارہ کے سلسلہ میں اصحاب القبور کو اللہ کا ساجھی اور شریک بنا رکھا ہے وہ ان سے امیدیں لگائے ہوئے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ اصحاب القبور ہی ہماری مشکلات کو رفع کریں گے۔ وہ پوری توجہ ، اعتناء و التفات ، رغبت ورھبت اور تضرع وزاری سے ان سے سوال کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت میں ان کو شریک گردانتے ہیں ۔ یاد رہے کہ ان کا یہ شرک کفار عرب کے شرک سے بھی زیادہ سنگین اور زیادہ بڑھ کر ہے وہ تو صرف یہ کہتے تھے کہ :
” ہم ان کو صرف تقرب الی اللہ کا وسیلہ سمجھ کر پوجتے تھے “ (الزمر 39 : 3) اور وہ کہتے تھے کہ ھولاء شف آ ونا عند اللہ ” یہ صرف اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں “ ۔ مشرکین عرب تو ان کو صرف اس لئے پکارتے تھے کہ وہ تقرب الی اللہ کا ذریعہ ثابت ہوں گے اور ان کے سفارشی بنیں گے وہ اپنے تلبیہ میں بھی یوں کہا کرتے تھے کہ لبیک اللھم لبک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملیکہ وما ملک ” اے اللہ میں حاضر ہوں ۔ میں حاضر ہوں ۔ اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں سوا ان کے جو تیری ہی ملک ہے اور وہ خود کسی چیز کا مالک نہیں “۔ لیکن آج کل مشرکین یعنی اہل قبور اور اہل مشاہدہ کے بارے میں جو عقیدہ رکھتے ہیں وہ تو مشرکین عرب سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ انہوں نے تو تصرفات اور تدبیر امور میں بھی اہل قبو کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیا ہے اور انہی کو اپنی امیدوں ، تمنائوں کا مرکز قرار دے رکھا ہے اور انہی کو ملجا و مادی سمجھتے ہیں ۔ سبحان اللہ عما یشرکون۔
Ayah 10:108اے لوگو ! سچائی تمہارے پاس آگئی ہے بھلائی پانے والا فائدہ میں اور بھٹکنے والانقصان میں ہوگا
145 ؎ ” الحق “ کیا ہے ؟ اس کے متعلق اس سورت کی آیت 76 میں وضاحت کردی گئی ہے۔ قرآن کریم میں تم جا بجا اس طرح کا اعلان پائو گے جیسا کہ زیر نظر آیت میں کیا گیا ۔ قرآن کریم نے گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو مواعظ نقل کئے ہیں ان میں ہر جگہ ایسی ہی بات پائی جاتی ہے یعنی مذہبی صداقت کی دعوت کا معاملہ سر تا سر سمجھنے بوجھنے اور سمجھ بوجھ کر اختیار کرلینے کا معاملہ ہے۔ اس میں نہ تو کسی قسم کی زبردستی ہے ، نہ کسی طرح کا لڑائی جھگڑا ۔ تمہاری بھلائی کیلئے ایک بات کہی گئی ہے اگر سمجھ میں آجائے تو مان لو ، نہ آئے تو نہ مانو ، تمہاری راہ تمہارے لئے ہماری راہ ہمارے لئے ، اگر مان لو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے ، نہ مانو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔ ہر شخص اپنے نفس کا مختار ہے چاہے بھلائی کی راہ چلے اور بھلائی کمائے اور چاہے برائی کی چال چلے اور برائی کی چال چلے گا تو کسی دوسرے کا نقصان نہیں کرے گا وہ اس سے بگڑنے لگے ، اپنی اپنی راہ اور اپنی اپنی کمائیمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖج وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْہَاط وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (41 : 46) ” جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لئے اچھا کرے گا ، جو بدی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہوگا اور تیرا رب اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے “۔ یعنی تیرا رب کبھی یہ ظلم نہیں کرسکتا کہ نیک انسان کی نیکی ضائع کردے اور ابدی کرنے والوں کو ان کی بدی کا بدلہ نہ دے۔
پھر ساتھ ہی واضح کردیا کہ داعی حق کی حیثیت کیا ہے وما انا علیکم بوکیل ” میں تم پر نگہبان نہیں ہوں “ یعنی میں داعی اور مذکر ہوں کچھ تم پر وکیل نہیں بنا دیا گیا ہوں یعنی میرا کام یہ ہے کہ نصیحت کی بات سمجھا دوں یہ نہیں ہے کہ نگہبان بن کر تم پر مسلط ہو جائوں اور سمجھوں کے مجھے تمہاری ہدایت کی ٹھیکہ داری مل گئی ہے۔ دوسری جگہ پیغمبر اسلام ﷺ کی مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا وما انت علیھم بجبار (50 : 45) ” اور تمہارا کام ان سے جبرا ً بات منوان انہیں ہے “ ۔ اور ایک جگہ فرمایا لست علیھم بمسطیر (88 : 23) ” تجھے ان لوگوں پر داروغہ بنا کر نہیں بٹھا دیا “۔ کہ وہ مانیں یا نہ مانیں لیکن تو انہیں راہ حق پر چلا دینے کا ذمہ دار ہو نیز جا بجا مختلف پیرایوں میں یہ حقیقتواضح کردی ہے کہ پیغمبر کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ سچائی کی پکا بلند کرنے والا ہے ، پیام حق پہنچا دینے والا ہے ، نصیحت کی بات سمجھا دینے والا ہے ، ایمان و ایمان کے نتائج کی خوش خبری دیتا اور انکار و بد عملی کے نتائج سے خبردار کردیتا ہے اس سے زیادہ اس کے سر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
Ayah 10:109اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ وحی کے مطابق چلتے رہیں یہاں تک کہ فیصلے کا دن آ جائے
146 ؎ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! آپ ﷺ ان لوگوں کی مطلق پروا نہ کریں اور جو وحی آپ ﷺ کی طرف بھیجی جاتی ہے بےخوف و خطر اس پر عمل پیرا رہیں ۔ ان کی اذیت رسانیوں اور دل آزاریوں پر صبر کرتے رہیں بس فیصلہ کی گھڑی آرہی ہے اور گھڑی کی ٹک ٹک سے وہ کٹتا چلا جا رہا ہے اور عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ فیصلہ کرنے والا اپنے فیصلے کا اعلان کردے اور وہی سب سے بہتر اور صحیح فیصلہ کرنے والا ہے۔ والحمد للہ العالمین ۔