Ayah 10:70ان کو مزے اڑا لینے دو انجام کار ان سب کو لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے
101 ؎ اس دنیائے بےثبات کی چند روز زندگی کے مزے اڑا لیں اور عیش و عشرت کرلیں ۔ آخر قیامت کے دن ہمارے حضور جوابدہی کیلئے ان کو حاضر ہونا ہے اس دن ہم انہیں ان کے کفر کے بدلے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے ۔ غور کرو کہ ” متاع فی الدنیا “ کہہ کر قرآن کریم نے منکر و مکذب قوموں کی بالکل صحیح تصویر کھینچ دی ہے۔ آج پوری دنیا کے حالات و واقعات سب آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں ان کا مطالعہ کرو اور امریکہ ، برطانیہ ، روس ، فرانس ، جرمنی اور اسی طرح کی دوسری بڑی بڑی ” مہذب “ ” ترقی یافتہ “ ” اقبال مند ‘ ‘ کا حال دیکھو ان کے آپس کے رشک و حسد کا حال ، ان کی حرام کاریوں کا حال ، ان کے ہاں کثرت طلاق اور کثرت فواحش کا حال ، ان کے ہاں کی معاشی ابتری اور بیروزگاری کا حال ، ان کے بےحیائی اور ’ ’ بےغیرتی “ کا حال اور ان کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا حال ، ان کے مال کے امراض خبیثہ کا حال اور ان کے ہاں ہڑتالوں " Striks" کا حال ان سب چیزوں کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرو کہ ” متاع دنیا “ کا زیادہ سے زیادہ ذخیرہ رکھنے کے بعد بھی ان منکرین حق کو باوجود اپنی انتہائی ” ترقیوں “ کے ” فلاح “ کسی معنی میں بھی حاصل ہے ؟ اور جو کج فہم ” ہمدردان قوم “ اپنی قوم و ملت کو بھی انہی ” ترقی یافتہ قوموں “ کی روش پر چلا رہے ہیں وہ ایسا کر کے قوم مسلم کو فوز و فلاح کی جنت کی طرف لئے جا رہے ہیں یا دنیا میں دوزخ کے عذاب کی طرف ؟ ہر وہ بیماری جو پہلے ان ” ترقی یافتہ “ قوموں میں موجود تھی آج ان ” ترقی پذیر “ قوموں میں بھی دکھائی دے رہی ہے اور اس کے کہ ہم اس قوم کو ” قوم مسلم “ کے نام سے منسوب کرتے ہیں کیا کوئی اسلام کی خو اور اسلام کی بو بھی اس میں موجود ہے۔ پہلے صرف سیاسی رہنمائوں کی ریشہ دوانیوں سے اس حالت کی طرف منتقل ہوتے تھے اور آج ماشاء اللہ سارے مذہبی رہنما بھی انہی کے ہم پیالہ و ہم نوالہ ہیں اور حالت اتنی نازک ہے کہ ہم فقط دعا ہی کرسکتے ہیں کہ اے اللہ ! ہماری قوم کے سیاسی اور مذہبی لیڈروں کو ہدایت فرما کر ہدایت تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔
Ayah 10:71آخرت کی کامیابی ہی کو کامیابی قرار دینے والا انسان کیا عزم و جزم رکھتا ہے
102 ؎ زیر نظر آیت انبیائے کرام (علیہ السلام) کی صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل واضح کرتی ہے یعنی وہ کامل یقین جو وہ اپنے مرسل من اللہ اور صادق ہونے کا ان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر تم پر میری دعوت و تذکیر گراں گزرتی ہے اور مجھے اپنے بیان میں جھوٹا سمجھتے ہو تو جو کچھ بی تم میرے خلاف کرسکتے ہو زیادہ سے زیادہ کوشش اور زیادہ سے زیادہ اہتمام کے ساتھ کر گزرو ، تم سب جمع ہو جائو اور باہم وگر مشورے کرو ، وہ سب کی سب تدبریں جو میرے مٹانے کیلئے سوچی جاسکتی ہیں سوچ لو ۔ معاملہ کا کوئی پہلو ایسا نہ رہ جائے جس کا پہلے سے بندوبست نہ کیا ہو پھر پورے عزم و ہمت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہو اور اپنے جانتے بھر ذرا بھی مجھے مہلت نہ دو ، پھر یہ سب کچھ نہ کیا ہو پھر پورے عزم و ہمت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہو اور اپنے جانتے بھر ذرا بھی مجھے مہلت نہ دو ، پھر یہ سب کچھ کر کے دیکھ لو تم مجھے اور میری دعوت کو مٹا سکتے ہو یا نہیں ؟ کیا ممکن ہے کہ محض بناوٹ اور افتراء پردازی کی زندگی سے ایسا یقین اہل سکے ؟ کیا ممکن ہے کہ ایک فرد واحد پوری کو اس طرح کے مقابلہ کی دعوت دے اور اس کے دل میں ذرا بھی کھٹک موجود ہو کہ وہ اپنے بیان میں سچا نہیں ؟
ادھر نبی اعظم و آخر ﷺ ایک عرصہ دراز سے اہل مکہ کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے لیکن ہو اپنے کفر و شرک کے ساتھ ایسے چمٹے ہوئے تھے کہ حق کے اجالا کو دیکھنا بھی گوارا نہ تھا پہلے ان کو عقل اور وجدانی دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس ہٹ دھرمی کا انجام اچھا نہ ہوگا ۔ اس مہلت کے لمحے اگر تم نے ضائع کردیئے تو غضب الٰہی کی آگ تمہیں جلا کر راکھ کا ڈھیر کر دے گی ۔ اب انہیں انسانی تاریخ کے چند واقعات سنائے جا رہے ہیں کہ شاید ان کا دل پسیجے اور وہ قبول حق کی طرف راغب ہوں نیز اس میں اپنے رسول نبی اعظم و آخر محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی تسلی دی کہ آپ ﷺ بالکل رنجیدہ خاطر نہ ہوں ۔ آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کے ساتھ ہے اور آپ ﷺ ہی کامیاب و کامران ہوں گے ۔ ان عورتوں میں سب سے پہلی دعوت کو اولیت دی گئی اور بتایا گیا کہ دیکھو اے میرے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کس طرح للکارا اور ان کی للکار اور ان کی للکار میں جو تمکنت اور جلال ہے وہ بتا رہا ہے کہ اس مرد حق کا سینہ نور یقین سے کس قدر لبریز ہے اور اسے اپنے رب کریم کی تائید و نصرت پر کس قدر اعتماد ہے اور اپنی کامیابی کے متعلق اسے ذرا بھی تردد نہیں ۔ کفار کی تعداد کثیر سہی ، ان کی قوت بےپناہ سہی ، ان کی عقل فتنہ اندیش کے بھڑکائے ہوئے الائو تند و تنز سہی لیکن پیغمبر کی نگاہ میں آخر ان کی کوئی وقعت نہیں۔
دیکھو آپ ﷺ نے صاف صاف کہہ دیا کہ میری دعوت توحید اگر تمہیں ناپسند ہے تو ہوا کرے میں تو اس سے باز نہیں آئوں گا ۔ جب تک دم میں دم ہے پس دما دم اپنے مالک و خالق کی عظمت وکبریائی کے گیت گاتا ہی رہوں گا اور حق و صداقت کا پرچم لہراتا ہی رہوں گا ۔ تم ایسا کرو کہ سب اکٹھے ہو جائو اور اپنے معبودوں کو بلا لو جن کے بت بنا کر تم نے بطور یادگار رکھے ہیں اور پھر سب کے سب سر جوڑ کر بیٹھو ، سوچو اور بار بار سوچ اور پھر خوب سوچ بچار کر میرے خلاف کارروائی کرنے کا مصمم ارادہ کرلو ، تمہاری سکیم کا کوئی گوشہ ایسا نہ رہے جس پر تم نے اچھی طرح غور و فکر نہ کرلیا ہو اور اس کی کامیابی کے بارے میں پوری طرح مطمئن نہ ہوگئے ہو ۔ دیکھو جلد کی ضرورت نہیں میں کہیں بھاگ کر چلا نہیں جائوں گا اور پھر دیکھو کہ اس کا ایک نعرہ ” اللہ اکبر “ تمہارے مکرو فریب کے سارے قلعوں کو پیوند خاک کر دے گا اور تم اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکو گے۔ ایک بار پھر غور کرو کہ اس کے پاس کونسی قوت تھی جس نے تمہاری طاقت و جبروت کو سرنگوں کردیا ؟ یقینا وہ تائید الٰہی تھی تو پھر جس انسان کو اپنے رب کی تائید و نصرت حاصل ہو اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے میں ہی انسان کی فلاح و نجات ہے جو اس سے ٹکرائے گا پاش پاش ہوجائے گا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جب تک کسی داعی کو اپنی دعوت کی صداقت پر محکم یقین اور اپنے رب کی تائید و نصرت پر مکمل اعتمادک نہ ہو وہ کفر و باطل کی بپھری ہوئی اندھی قوت سے نبرد آزما نہیں ہو سکتا۔ ایک مبلغ کی قوت اور کامیابی کا راز اس یقین اور اعتماد میں مضمر ہے۔ اس آیت کو بار بار پڑھو اور جوں جوں پڑھو گے انشاء اللہ اس کا مطلب اتنا ہی کھلتا جائے گا ۔ پوری آیت کو ایک ایک فقرہ کر کے پڑھو اور پھر ایک فقرہ پر رک جائو تو جلدی نہ کرو اس آیت کا ایک ایک جملہ اپنے اندر بہت بڑی طاقت رکھتا ہے۔ حاشاء اللہ ! اس کے مقابلہ میں دنیا کا کوئی ایٹم بم اتنی طاقت و قوت اپنے اندر نہیں رکھتا۔
Ayah 10:72تم میری دعوت سے کیوں روگرداں ہو میں تم تو سے کسی مزدوری کا خواہاں نہیں
103 ؎ فرمایا اے میری قوم کے لوگو ! ذرا اپنے اعراض کی وجہ تو بتا دو کہ آخر تم کو کونسی چیز مانع ہے۔ کیا میں نے اس دعوت پر تم سے کوئی اجرت طلب کی جس کے بوجھ کے نیچے تم دبتے چلے جا رہے ہو ؟ میری مزدوری تو میرے رب کے ذمہ ہے۔ میں نے تو تم سے کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ کچھ فکر کرو گے تو بات معلوم ہوجائے گی ، کوئی پیغمبر بھی قانون الٰہی کی پابندیوں سے مافوق اور ماوراء نہیں ہوتا بلکہ ساری امت کی طرح وہ خود بھی اس کا پوری طرح پابند ہوتا ہے ۔ اس میں ان جاہلی قوموں کے اس نظریہ کی تردید خود بخود ہوگئی جو اپنی دیوی ، دیاتائوں ، پیروں ، مرشدوں ، گدی شنیوں اور سجادہ نشینوں کو ہر اخلاقی قانون سے ماوراء سمجھتے ہیں اور ان کو شیرنیاں اور منتیں پیش کرتے ہیں اور ان کے طے شدہ حصے بڑی پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اس ادائیگی میں ذرا سستی اختیار کی تو سمجھئے کہ ہم پر کوئی نہ کوئی عذاب نازل ہوگیا ۔
فرمایا لوگو ! اگر تم میری دعوت کو قبول نہیں کرو گے تو اپناہی زیاں کرو گے ، میرا تو کچھ نہیں بگڑے گا میں تم سے کسی چیز کا طلبگار نہیں مجھے اجر دینے والا میرا رب ہے وہ دے رہا ہے اور دیتا رہے گا ۔ اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں اور اس در کا سوالی اتنا غیور ہوتا ہے کہ وہ کسی انسان کے سامنے ہاتھ پھیلانا کبھی گوارا نہیں کرتا وہ مر سکتا ہے لیکن کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتا۔
Ayah 10:73نوح (علیہ السلام) کی اتنی زوردار دعوت کو بھی جھٹلا دیا گیا ، ہم نے بھی اس کی مدد کر کے دکھا دیا
104 ؎ اس آیت میں نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا انجام ذکر کردیا گیا کہ جب قوم نوح نے نوح (علیہ السلام) کو مکمل طور پر جھٹلا دیا تو ہم نوح (علیہ السلام) اور اس پر ایمان لانے والوں کو جو ایک کشتی میں سوار کرا دیئے گئے تھے سب کو اپنے عذاب طوفان سے بچالیا اور پھر انہیں اس زمین پر آباد کیا جن سے ان کی قوم سے مزید قومیں پیدا ہوئیں اور جن لوگوں نے ہمارے نبی نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا ان سب کو طوفان میں غرق کر کے رکھ دیا اسے دیدہ بینا رکھنے والے عبرت کی نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں اور اس سے سبق حاصل کرسکتے ہیں کہ دعوت الٰہی کے تسلیم نہ کرنے والوں کا انجام کیسا بھیانک ہوتا ہے۔ نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا مکمل اختصار اور انجام اور اس سے نکلنے والے اسباق کا ذکرہم انشاء اللہ العزیز سورة ہود میں نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے اختتام پر کریں گے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔ سورة ہود کی آیت 49 کے اختتام پر ملاحظہ ہو۔
Ayah 10:74نوح (علیہ السلام) کے بعد دوسرے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوتوں کا مختصر ذکر
105 ؎ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد فرمایا ان کے بعد سب سے رسول مختلف قوموں میں مبعوث ہوئے اور ایسا ہی معاملہ پیش آیا کہ ان سب نے اپنی اپنی قوم کو پیغام حق سنایا اور اپنے پیغام کی صداقت کو دلائل و معجزات سے ثابت کیا لیکن قوم نے ایک مرتبہ جس بات کو ماننے سے انکار کیا پھر اس کے ماننے سے انکار ہی کرتی رہی ۔ کوئی قوی سے قوی دلیل بھی انہیں اپنی روش بدلنے سے آمادہ نہ کرسکی ۔ ان کی اس پیہم سر کشی کے باعث حق پیری کی جو صلاحیت ان میں رکھی گئی تھی وہ ضائع ہوگئی اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ۔ دوسرے لوگوں کی طرح ان میں بھی نور حق کو دیکھنے ، آواز حق کو سننے اور دعوت حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیتیں تھیں لیکن انہوں نے اپنی بد اعمالیوں سے خود ہی انہیں ضائع کردیا۔
حد سے گزر جانے والے لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے
106 ؎” معتدین “ معند اسے کہتے ہیں جو اپنے نفس کی خواہش کی تعمیل کرتے ہوئے حق و انصاف کی حدود سے تجاوز کر جائے۔ ( راغب ) سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بعد سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کی تفصیل کی کیونکہ اہل عرب ان کے نام سے نا آشنانہ تھے اور یہ بھی عرب کے اندر بسنے والے یہود بھی تھے اور ان کو موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر پورا پورا اعتقاد تھا اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت سے وہ کافی حد تک نکل چکے تھے تا ہم نام انہی کی نبوت کا لیتے تھے اور جو کچھ انہوں نے بتایا وہ اسی شریعت موسیٰ کی طرف نسبت کرتے تھے اور تقریباً ان کی حالت اسی طرح تھی جس طرح آج کل قوم مسلم کی حالت ہو رہی ہے اور اس مہر لگائے جانے کا مطلب ہم پیچھے کئی ایک مقامات پر بڑی تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔
Ayah 10:75کتنے ہی رسولوں کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھیجا
107 ؎ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق قوم بنی اسرائیل سے تھا اور آپ (علیہ السلام) کی پرورش معجزانہ طور پر اللہ رب العزت ولا اکرام نے فرعون وقت کے گھر رکھ کر کرائی اور بعض حالات کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر چھوڑنا پڑا اور ابھی اس وقت نبوت کا اعلان آپ (علیہ السلام) سے نہیں کروایا گیا تھا۔ مصر سے نکل کر آپ (علیہ السلام) مدین پہنچے اور وہاں آٹھ دس سال رہنے کے بعد واپس مصر کی طرف آرہے تھے کہ راستہ میں اللہ تعالیٰ کا پیغام نبوت مل گاد۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) نے مصر پہنچ کر فرعون وقت کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا لیکن پوری بائبل میں اس کی تصریح نہیں ملتی کہ ان دونوں پیغمبروں نے اپنے پیغام توحید کی تبلیغ میں کبھی مصریوں کو بھی مخاطب کیا تھا حالانکہ یہ کیونکر ممکن تھا کہ جو اللہ کی توحید کا مفاد ہو وہ اصلاح عقائد کی کوشش سب سے پہلی ہی مرتبہ پر نہ کرے اور کفر و ضلالت کو اس حال پر چھوڑ دے اور سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی وہ خاموش رہے یہ منصب نبوت کے خلاف ہے اور نبوت اور عام داعی کا سب سے پہلا فرق اس جگہ سے نظر آتا ہے کہ داعی الی اللہ برائی کو دیکھ کر کبھی خاموش رہ سکتا اور یہ کہ داعی اسلام کا سب سے پہلا فرض ہی یہ کہ وہ دعوت توحید دے کر اور یہی کام موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کیا اور قوم بنی اسرائیل مصر سے لے نکلنے کی حیثیت ثانوی تھی اور اگرچہ وہ بنی اسرائیل کے حق میں اولیت رکھتی ہو اور فرعون سے بنی اسرائیل کا مصر سے کہیں لے جانے کا سوال فرعون کی دعوت توحید کے ٹھکرانے کے نتیجہ میں پیدا ہوا تھا جس کا اصل مقصد ہی یہ تھا کہ فرعونیوں اور بنی اسرائیلیوں کے عقائد میں بعد المشرقین تھا اس لئے وہ ایک قانون کے ساتھ وابستہ نہیں رہ سکتے تھے اور یہی اس سارے قصے کا ماحصل بھی ہے۔
مصریوں نے سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیلوں کا ناک میں دم کر رکھا تھا اور ان سے طرح طرح
کی زیادتیاں انہوں نے روا رکھی تھیں اور ملک میں ایسے قانون رائج تھے جن کی وجہ سے بنی اسرائیل زندگی کے دن کاٹنے کیلئے زندہ رہ رہے تھے اور ان کی زندگی وہی زندگی تھی جس سے موت بدر جا بہتر ہوتی ہے اور مرنے سے پہلے ہی و میں مر جاتی ہیں ۔ اس کی تفصیل ہم سورة البقرہ 2 : 70 اور 71 میں کر آئے ہیں ، وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔
سیدنا نوح (علیہ السلام) کے ذکر میں بھی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات میں صرف انہی پہلوئوں پر زور دیا ہے جو سورت کی موعظت سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً یہ کہ :
1۔ مفتر علیہ اللہ فلاح نہیں پا سکتا۔
2۔ نہ وہ جو صادق کا مقابلہ کرے یعنی اللہ کے کسی بھی رسول کا مقابلہ کرنے والا ۔
3۔ ہدایت ایسی چیز نہیں ہے کہ زبردست کسی کو پلا دو ، جو ماننے والا نہیں وہ کبھی نہیں مانے گا خواہ کتنی ہی نشانیاں دکھلائو ایسا ہی ہمیشہ ہوا اور اب بھی ایسا ہی ہوگا ۔
Ayah 10:76لیکن ہر قوم نے جب ہماری سچائی نمودار ہوء تو اس کو جادو کہہ کر ٹھکرا دیا
108 ؎ بلا شبہ دلائل وبراہین کی روشنی نے حق کی حقانیت تو ان پر واضح کردی تھی لیکن از راہ نخوت وہ اسے قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے وہ عادی مجرم تھے اور جرم و گناہ کی محبت میں وہ مگن تھے۔ سچائی اور نیکی سے انہیں خدا واسطے کا بیر تھا۔ وہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزانہ کلام کو بھی ساحرانہ شعبدہ بازی ہی سمجھتے رہے اور اس فن میں انہیں پہلے ہی کمال تھا اس لئے وہ کسی ساحر کی غلامی پر کسی طرح رضا مند ہونے کیلئے تیار نہ ہوئے۔ ” فلما جاء ھم الحق “ میں ” الحق “ ح ق ق ہے اور عربی زبان میں ’ ’ حقق “ کا لغوی خاصہ ثبوت اور قیام ہے یعنی وہ بات جو ثابت ہو ، دلائل رکھتی ہو ، اٹل ہو ، ان مٹ ہوا سے ” حق “ کہتے ہیں اور باطل ٹھیک ٹھیک اس کی نقیض کا نام ہے یعنی اسی بات جس کیلئے کوئی دلیل موجود نہ ہو ، جو مٹ جانے والی اور باقی نہ رہنے والی ہو پس قرآن کریم نے سچائی کو ” حق “ سے انکار کو ” باطل “ سے تعبیر کر کے یہ بات واضح کردی ہے کہ سچائی کا خاصہ ثبوت و قیام ہے اور انکار و سر کشی کیلئے نہ ٹک سکنا اور مٹ جانا ہے یہی وجہ ہے کہ جا بجا اس طرح کی تعبیرات ہمیں ملتی ہیں کہ ” اللہ حق کو حق کردے گا اور باطل کو باطل “ یعنی حق ثابت و قائم رہ کر اپنی حقانیت ثابت کر دے گا اور باطل نابود ہو کر اپنے بطلان کا ثبوت دے دے گا ۔ تفصیل اس کی سورة الانفال کی آیت 8 میں گزر چکی ۔ وہاں سے ملاحظہ کرلیں اور مزید بیان آگے آیت میں 82 میں آ رہا ہے۔