10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان لوگوں میں زیادہ تر ایسے ہی لوگ ہیں جو صرف وہم و گمان کی باتوں پر چلتے ہیں اور سچائی کی معرفت میں گمان کچھ کام نہیں دے سکتا ، یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس سے بیخبر نہیں

لوگ وہم و گمان ہی سے کام لیتے ہیں حالانکہ وہم و گمان حق کے مقابلہ میں کچھ نہیں ۔ 58 اس جگہ اس کی وضاحت فرما دی گئی کہ مشرکین و منکرین کے پاس نہ کوئی دلیل عقل محکم ہے اور نہ کوئی استدلال نقلی مستحکم۔ یہ لوگ اندھیرے میں پڑے محض اٹل کے تیرے چلا رہے ہیں۔ لفظ ” ظن “ جو اس جگہ استعمال ہوتا ہے صاحب تاج العروس نے اس لفظ کی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” قرآن کریم میں لفظ ” ظن “ چار معنوں میں استعمال ہوا ہے اور یہی بات امام زمحشری نے بھی تحریر کی ہے کہ الظن الوھم و الخیال یعنی اس جگہ ” ظن “ اپنے آخری معنوں یعنی ” وہم و گمان ‘ ذ کے ہیں اور قرآن کریم کی اس آیتنے فیصلہ فرما دیا کہ ظن و گمان ” حق “ سے کچھ بھی کفایت نہیں کرتا کیونکہ حق ، حق ہے اور وہم و گمان کبھی حق کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ذرا غو کرو کہ یہ جو مذاہب ہمارے ہاں رائج ہیں یہ کیا ہیں ؟ یعنی جنہوں نے مذاہب بنائے ہیں ، جنہوں نے فلسفے تصنیف کئے ہیں اور جنہوں نے قوانین حیات تجزیہ کئے ہیں انہوں نے یہ سب کچھ علم کی بنا پر نہیں بلکہ ” گمان و قیاس ہی کی بنا پر کیا ہے اور جنہوں نے ان مذہبی اور دنیوی رہنمائوں کی پیروی کی انہوں نے بھی جان کر اور سجھ کر نہیں بلکہ محض اس گمان کی بناء پر کی کہ ایسے بڑے بڑے لوگ جب یہ کہتے ہیں اور سارے باپ دادا ان کو مانتے چلے آ رہے ہیں اور ساری دنیا یا دنیا میں اکثریت ان کی پیروی کر رہی ہے تو ضرور وہ لوگ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ اس آیت پر جتنا غور کرتے جائو گے بہت کچھ حاصل ہوگا اور جو کچھ حاصل ہوگا یقینا وہ وہم و گمان سے پاک عین علم ہوگا۔ اس لئے قرآن کریم اور صرف حقائق کا قائل ہے اور حقائق ہر روز بدلتے نہیں رہتے اور نہ ہی ان کو مرضی کے ساتھ بدلایا جاسکتا ہے اور دوسری اور ثقہ بات یہ ہے کہ حقئاق اپنے ساتھ بہت سے دلائل رکھتے ہیں اور کوئی حقیقت ایسی نہیں جو اپنے ساتھ دلیل نہ رکھتی ہو۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ انسانی ظن وتخمین ، وہم و خیال جن کا شاندار نام ” حکمت وفلسفہ “ ” علوم عقلیہ “ ” علوم فطری “ ” اصول موضوعہ “ اور ” نظریات “ رکھا گیا ہے قرآن کریم ان سے مطلق مرعوب نہیں ہے بلکہ قرآن کریم حقائق کا قائل ہے جو ہر روز نہیں بدلتے اور انسانی تفہیم کا بدلتے رہنا ایک بدیہی امر ہے۔ ہاں ! اس جگہ چند باتیں یاد رکھنے کی ہیں جو اس اصول سے مستبط ہوتی ہیں مثلاً یہ کہ (1) یقینی شک سے زائل نہیں ہوتا۔ (2) نصوص کے مقابلہ میں کوئی قیاس معتبر نہیں۔ (3) اطلاق و عموم قرآنی کی تحدید و تقیید اخبار سے جائز نہیں۔ (4) دلائل جو ثبوت میں یا دلالت میں ظنی ہوں قطعی و یقینی کے معارض و مقابل نہیں ہو سکتے۔ (5) ایمانیات ، اعتقادات امرثابت و حق سے متعلق ہیں اس لئے ان میں دلائل ظنی کافی نہیں۔ (6) جب کوئی دلیل قطعی موجود نہ ہو تو دلائل ظنی پر عمل ممنوع نہیں۔ (7) مسائل فقہی میں اختلاف و اجتہاد جائز ہے کیونکہ ان کی اصل بنیاد ہی یہ ہے اور جس بنیاد پر کوئی چیز قائم ہو اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا ورنہ وہ چیز خود ختم ہوجاتی ہے۔ مختصر یہ کہ قرآن کریم نے جس ” ظن “ سے روکا ہے وہ ” ظن “ چوتھے معنی کا ” ظن “ ہے اور جس ” ظن “ کی پیروی ہم کرتے ہیں وہ پہلے تین معنوں کا ” ظن “ ہے اور ہر ” ظن “ کا ایک معنی مراد لینا قرآن کریم کے ساتھ بےانصافی ہے اور عربی لغت کے ساتھ ظلم عظیم ہے اور اس طرح اور بھی بہت سے الفاظ قرآن کریم میں موجود ہیں جن کے معنی ایک سے زائد ہیں اور ان سب کا لحاظ کرتے ہوئے جو معنی جس جگہ سیاق و سبقا کے مطابق ہوں وہی مراد لینے چاہئیں اور ہر جگہ ایک ہی معنی پر اکتفا جائز اور درست نہیں لیکن اس پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔
Ayah 10:37

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور اس قرآن کا معاملہ ایسا نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اپنے جی سے گھڑ لائے وہ تو ان تمام وحیوں کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں اور کتاب اللہ کی تفصیل ہے (گزشتہ کتب الٰہی کا نچوڑ ہے) اس میں کچھ شبہ نہیں کہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے

قرآن کریم ان تمام وحیوں کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئیں۔ ۔ 59 قرآن کریم لوگوں کے اختراعی اصول و ضوابط نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے پر مخالفین کو اعتراض کیا ہے ؟ فقط یہ کہ ہم اس کو اللہ کا کلام نہیں مانتے۔ وہ اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے ہرگز ہرگز تیار نہ تھے کیوں ؟ محض اس لئے کہ یہ بات ان کے فہم و ادراک سے بالاتر تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی انسان (بندے) پر کوئی کلام نازل ہوتا ہے۔ لیکن اس ہٹ دھرمی کے باوجود قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت سے انہیں انکار نہیں تھا بلکہ دل ہی دل میں وہ اس کی تعلیم سے حد درجہ متاثر اور مرعوب تھے۔ قرآن کریم کی اس حیرت انگیز تاثیر کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور نہ ہی آج کسی کے پاس ہے۔ وہ اس سوال کا جواب تو نہ دے سکے لیکن وہ کبھی اس کو جادو کہتے اور کبھی پیغمبر اسلام ﷺ پر الزام لگاتے کہ اس نے خود گھڑ لیا ہے اور اس کی نسبت خواہ مخواہ اللہ رب العزت کی طرف کردی ہے تاکہ لوگ اس کے معتقد ہوجائیں اور کبھی کہتے کہ نہیں اس نے خود تو نہیں گھڑا اور نہ ہی گھڑ سکتا ہے کیونکہ وہ تو خود ای ہے لیکن فلاں آدمی اس کو سکھاتا ہے۔ ایک مجرم کی طرح اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے ہر قسم کی بہتان تراشیاں اور حیلہ سازیاں وہ کرتے لیکن قرآن کریم کا دل ہلا دینے والا اسلوب انہیں کسی موقف پر جمنے نہیں دیتا اس لئے انہیں بار بار اپنا موقف بدلنا پڑتا اور یہ بھی کہ مختلف طرح کے لوگ مختلف طرح کے اعتراض اٹھاتے اور ان اعترضات کے جواب ان کو دونوں طرح کے دیئے جاتے۔ اس جگہ بھی ان کے ایک الزام کا جواب دیا جا رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس کو انسان نے گھڑ لیا ہے اور ناحق اس کی نسبت رب العزت ذوالجلال والا کرام کی طرف کی جا رہی ہے۔ انکو ان کے اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے دیا جا رہا ہے کہ ذرا سوچو اور انصاف سے بتائو کہ قرآن کریم ان پاکیزہ اور پیارے پیارے کلمات کے نازک آبگینوں میں حقائق و معارف کے جو جواہرات آویزاں ہیں ، اس کی آیات میں رشد و ہدایت کا جو نور چمک رہا ہے کیا یہ کسی انسا نکا کارنامہ ہو سکتا ہے اور یہ کتاب تو پہلی ساری کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان علوم الٰہی کا آئینہ ہے جو لوح محفوظ میں مرقوم ہیں کیا عقل اجازت دیتی ہے کہ ایسی کتاب کو افتراء و بہتان کہا جائے ؟ ” جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں یہ ان کی تصدیق ہے۔ “ یعنی ابتداء سے جو اصول تعلیمات انبیائے کرام کی معرفت انسانوں کی طرف بھیجی جاتی ہی ہیں یہ قرآن کریم بھی ان سے ہٹ کر کوئی نئی چیز نہیں پیش کر رہا ہے بلکہ انہی کی تصدیق و توثیق کر رہا ہے اگر یہ کسی نئے مذہب کے بانی کی ذہنی اختراع ہوتا تو اس میں ضروریہ کوشش پائی جاتی کہ پرانی صداقتوں کے ساتھ کچھ اپنا رنگ بھی ملا کر اپنی شان نمایاں کرتا حالانکہ اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ وہ تمام کتب آسمانی کا لب لباب ہے جو ان کی ساری تحریفات کو بھی بتاتا چلا جا رہا ہے۔
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ کے نام پر افتراء کیا ہے ؟ تم کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو قرآن کی مانند ایک سورة بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جن جن ہستیوں کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہو بلا لو

کتاب اللہ کو افتراء کہنے والوں سے خطاب کہ اگر سچے ہو تو تم بھی کچھ پیش کرو ۔ 60 قرآن کریم نے کس طرح عقلی دعوت ان کو دے دی اور کس طرح ان پر واضح کردیا کہ حق کبھی چھپ کر بات نہیں کرتا فرمایا اور دو ٹوک فرمایا کہ اچھا قرآن کریم اگر ایک انسانی دماغ تیار کرسکتا ہے تو کئی اور انسانی دماغ مل کر تو اس سے کہیں چھوٹی یعنی اس کی صرف ایک ہی سورت بہرحال تیار کر ہی سکتے ہیں پھر ہمت کرو اور بسم اللہ پڑھو اور یہی کر دکھائو تاکہ ثابت ہوجائے کہ یہ جو کچھ کہا گیا ہے محض ایک ذہن کی اختراع ہے اور ناحق اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کردی گئی ہے تم بھی بڑے زبان آور ہو اور تمہارے اندر بڑے بڑے قادرالکلام شعراء اور خطباء ہیں تم بھی اس قسم کی ایک سورة بنا کر پیش کرو اور محمد رسول اللہ ﷺ نے تو بقول تمہارے اکیلے یہ سب کچھ گھڑ لیا ہے اور تم سارے مل کر بھی آخر کیوں اس جیسی ایک سورة گھڑ کر لاسکتے ؟ اب تم کو اذن عام ہے کہ تم جس جس کو چاہو بلا لو اور سر جوڑ کر بیٹھو اور پورے غور و فکر کے ساتھ اور باہمی صلاح و مشورہ سے ایک سورة ہی اس جیسی بنا دو نور یہ چیلنج ان کو قرآن کریم میں بار بار دیا گیا سورة ہود میں دس سورتوں کا مقابلہ تھا سورة البقرہ (2 : 23) میں اور اس سورة یونس میں صرف ایک سورة کا مطالعہ کا مطالبہ ہے اور قرآن کریم کے اس بار بار مطالبہ کا انہوں نے کوئی جواب دیا ؟ تاریخ گواہ ہے کہ کسی ایک نے بھی اس کی ہمت نہیں کی اور نہ ہی آج تک کوئی اس کا جواب دے سکا بلکہ سب کے سب کو سانپ سونگھ گای اور انہیں ہمت نہ ہوئی کہ اس طرح کا کوئی جواب وہ دیں اور قرآن کریم کی یہ للکار آج بھی موجود ہے اور وہ اس طرح پورے زور سے للکار کر کہتا ہے کہ اگر میں کلام الٰہی نہیں بلکہ تمہارے خیال میں کسی انسان کا کلام ہوں تو تم اس کے مقابل ہمیں ایک سورة ہی بنا کر لا دکھائو لیکن نہ پہلے کسی کو ہمت ہوئی اور نہ ہی آج اور نہ رہتی دنیاتک کسی کو اس کی ہمت ہوگی۔
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

نہیں ، یہ بات نہیں ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ جس بات پر یہ اپنے علم سے احاطہ نہ کرسکے اور جس بات کا نتیجہ ابھی پیش نہیں آیا اس کے جھٹلانے پر آمادہ ہوگئے ٹھیک اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں تو دیکھو ظلم کرنے والوں کا کیسا کچھ انجام ہوچکا ہے

انہوں نے کس سچ کو جھٹلانے کی ہمت کرلی کیا وہ ایسا کرسکیں گے ؟ ۔ 61 مثل ہے کہ سورج پر تھوکنے والا دراصل اپنے ہی منہ پر تھوکتا ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس کا تھوک سورج تک کیسے پہنچے گا ؟ انہوں نے یہ تکذیب کس نسبت سے شروع کردی غور کرو کہت کذیب یا تو اس بنیاد پر کی جاسکتی تھی کہ ان لوگوں کو اس کتاب کا ایک جعلی کتاب ہونا تحقیقی طور پر معلوم ہوتا ہے یا پھر وہ اس بناء پر معقول ہو سکتی تھی کہ جو حقیقتیں اس میں بیان کی گئی ہیں اور جو خبریں اس میں دی گئی ہیں وہ غلط ثابت ہوجائیں لیکن ان دونوں وجود تکذیب میں سے کوئی وجہ بھی یہاں موجود نہیں۔ نہ کوئی شخص آجتک یہ کہہ سکا کہ وہ ازروئے علم جانتا یہ کہ یہ کتاب گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کی گئی ہے اور نہ ہی کسی نے پردہ غیب کے پیچھے جھانک کر یہ دیکھ لیا ہے کہ واقعی بہت سے رب موجود ہیں اور یہ کتاب خواہ مخواہ ایک وحدت الٰہی کی خبر سنا رہی ہے یا فی الواقع اللہ ، فرشتوں اور وحی وغیرہ کی کوئی حقیقت نہیں اور اس کتاب میں خواہ مخواہ یہ افسانہ بنا لیا گیا ہے نہ کسی نے مر کر یہ دیکھ لیا ہے کہ دوسری زندگی اور اس کے حساب کتاب اور جزاء و سزا کی ساری خبریں جو اس کتاب میں دی گئی ہیں غلط ہیں لیکن اس کے باوجود نرے شک و گمان کی بنیاد پر اس شان سے اس تکذیب کی جا رہی ہے کہ گویا علمی طور پر اس کے جعلی اور غلط ہونے کی تحقیق کرلی گئی ہے۔ آج یہ جھٹلا رہے ہیں تو کل پہلے بھی جھٹلا چکے ہیں جو انجام ان کا ہوا وہی ان کا بھی ہو گا ۔ 62 آج یہ جھٹلانے والے کوئی نئے نہیں ان سے پہلے بھی جھٹلانے والوں نے انبیائے کرام کی لائی ہوئی ہدایت کو جھٹلایا اور فرصت کے ان لمحوں کو پہلی قوموں نے بھی ضائع کردیا ، انہوں نے بھی اپنے انبیائے کرام کی دعوتوں کو قبول نہ کیا ، ان کے روشن اور معجز نما کلام کو دیکھا اور دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں وہ نادانی سے تباہ کن نزول کو ہی نہیں کی صداقت کی کسوٹی سمجھتے رہے اور فرصت کے لمحوں کو برباد کردیا اور پھر جب وہ عذاب آیا اور اس نے انہیں پیس کر رکھ دیا اس وقت ان کا اشک ندامت بہانا اور فریاد کرنا ان کے کسی کام نہ آسکا ۔ اب اگر مشرکین عرب بھی نزول عذاب ہی کے انتظار میں ہیں تو اللہ کے سامنے کوئی مشکل بات ہے کہ جو آج تک ہوتی آئی ہے اب نہیں ہو سکے گی۔ کیوں نہیں ان کا انجام بی یقینا عبرتناک ہوگا اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی۔ ہاں ! ابھی موقع ہے اگر وہ توبہ کرلیں اور ہمارے رسول محمد ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو دل و جان سے قبول کرلیں تو یہی ایک راستہ ہے کہ وہ عذاب الٰہی سے محفوظ رہ سکیں۔ زیرنظر پر ایک بار دوبارہ بغور نظر ڈال لو اور یہ جو فرمایا گیا کہ بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ ولما یانھم تاویلہ ” نہیں یہ بات نہیں ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ جس بات پر یہ اپنے علم سے احاطہ نہ کرسکے اور جس بات کا نتیجہ ابھی پیش نہیں آیا اس کے جھٹلانے پر آمادہ ہوگئے۔ “ اس میں دو باتوں کی مزیدتشریح کردینا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ قرآن کریم نے بیک وقت دو باتوں کی مذمت کی ہے اس کی بھی کہ بغیر علم و بصیرت کے کوئی بات مان لی جائے اور اس کی بھی کہ محض عدم ادراک کی بناء پر کوئی بات جھٹلا دی جائے جیسا کہ پیچھے آیت 26 میں گزر چکا کہ منکرین حق علم و یقین کی روشنی سے محروم ہیں۔ ان کا سرمایہ اعتقاد محض ظن و گمان ہے اور پھر اس آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ ہو جس بات کا اپنے علم سے احاطہ نہ کرسکے اس کے جھٹلانے پر آمادہ ہوگئے۔ اگرچہ بہ ظاہر وہ باتیں الگ الگ معلوم ہوتی ہیں لیکن فی الحقیبقت ایک ہی بات ہے اور دونوں کی بنیاد اس ایک اصل عظیم پر ہے کہ نہ تو ظن و گمان کی بنائ پر تصدیق کرنی چاہئے نہ ظنہ و گمان کی بنا پر تکذیب کرنی چاہئے اور پھر جو کچھ کرنا چاہئے علم و بصیرت کی بناء پر کرنا چاہئے۔ منکرین قرآن نے کونسی بات جھٹلائی تھی ؟ یہ کہ انہی میں سے ایک آدمی پر اللہ کی وحی نازل ہوئی ہو یہ بات انہیں عجیب معلوم ہوئی اس لئے فوراً تکذیب پر آمادہ ہوگئے۔ قرآن کریم کہتا ہے تمہارے ماننے اور تمہارے جھٹلانے دونوں کا مدار ظن و گمان پر ہے تم جو باتیں من رہے ہو ان کے لئے تمہارے پاس کوئی علم نہیں اور جس بات کے جھٹلانے میں اس قدر جلدی کی اس کے لئے بھی تمہارے پاس کوئی یقین نہیں۔ حالانکہ سچائی کی راہ یہ ہے کہ جو کچھ کرو علم و بصیرت کے ساتھ کرو محض اٹکل پر انہ چلو۔ اگر ایک شخص علم و یقین کے ساتھ ایک بات پیش کر رہا ہے اور جتنی باتیں کسی بات کی درستگی اور معقولیت کی ہو سکتی ہیں سب اس کے ساتھ ہیں اور تمہارے پاس ہی اس کے خلاف ظن و گمان کے سوا کچھ بھی نہیں تو تمہارے لئے کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ جھٹ جھٹلانے پر آمادہ ہو جائو ؟ اور یہ وہی بات ہے جو آیت 26 میں کہی جا چکی ہے کہ تم ’ دظن “ کی بنا پر ” یقین ‘ ذ کی دعوت جھٹلاتے ہو حالانکہ ’ دظن “ کا بھروسہ انسان کو ” یقین ‘ ذ سے مستغنی نہیں کرسکتا۔ اگر تم غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ انسان کی ساری فکری گمراہیوں کا اصل سرچشمہ یہی بات ہے کہ یا تو وہ عقل و بینش سے اس قدر کورا و جاتا ہے کہ ہر بات بےسمجھے مان لیتا ہے اور ہر روز میں آنکھیں بند کئے چلتا رہتا ہے یا پھر سمجھ بوجھ کا اس طرح غلط اسعتمال کرتا ہے کہ جہاں کوئی حقیقت اس کی شخصی سمجھ سے بالاتر ہوئی اس نے نور جھٹلا دی گویا حقیقت کے اثبات و وجود کا سارا دار وم دار صرف اس بات پر ہے کہ ایک خاص فرد کی سمجھ ادراک کرسکتی ہے یا نہیں ؟ دونوں ہی حالتیں علم و بصیرت کے خلاف ہیں اور دونوں کا نتیجہ عقل و بنشر سے محرومی اور عقلی ترقی کا فقدان ہے۔ جس عقل و بصیرت کا تقاضا یہ ہوا کہ حقیقت اور وہم میں امتیاز کریں وہی متقاضی ہوئی کہ کوئی بات محض اس لئے نہ جھٹلائیں کہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے ۔ عقل کا پہلا تقاضا ہمیں وہم پرستی اور جہل سے روکتا ہے اور دوسرا شک و الحاد سے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ دونوں حالتیں یکساں طور پر جہل و کو ری کی حالتیں ہیں اور اہل علم عرفان و ہیں جو نہ تو جہل و وہم کی راہ چلتے ہیں نہ شک و الحاد کی۔ یہاں سے یہ بات معلم ہوگئی کہ وہ صورتیں ہیں اور دونوں کا حکم ایک نہیں۔ ایک یہ کہ کوئی بات عقل کے خلاف ہو اور ایک یہ کہ تمہاری عقل سے بالاتر ہو۔ بہت سی باتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن کا تمہاری سمجھ احاطہ نہ کرسکتی ہو لیکن تم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ دو سرے سے خلاف عقل ہیں ہ۔ اول تو تمام افراد کی عقلی قوت یکساں نہیں ایک آدمی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتا دوسرا باریک سے باریک نکتے حل کرلیتا ہے ۔ دوسرا یہ کہ عقل انسانی برابر نشو و نما کی حالت میں ہے ایک عہد کی عقل جن باتوں کا ادراک نہیں کرسکتی دوسرے عہد کے لئے وہ عقلی مسلمات بن جاتی ہیں تیسرا انسان عقل کا ادراک ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور عقل ہی کا فیصلہ ہے کہ حقیقت اس حد پر ختم نہیں ہوجاتی۔ اچھا ! اب مذہب کے میدان سے باہر قدم نکالو اور غور کرو کہ قرآن کریم نے ان چند لفظوں کے اندر جو بات کہہ دی ہے وہ انسانی علسم عقل کی تمام ترقیوں کے لئے کس طرح اصل و اساس ثابت ہو رہی ہے ؟ کونسی بات ہے جس نے علمی ترقی کے غیر محدود اور لانہایت امکانات کا دروازہ نوع انسانی کے سامنے کھول دیا اور علم و ادراک کی سینکڑوں ناممکن باتوں کو نہ صرف ممکن بلکہ واقعہ بنا دیا ؟ کیا یہی بات نہیں ہے کہ کسی بات کے احاطہ نہ کرسکنے سے اس کا انکار لازم نہیں آجاتا ؟ اگر اصحاب علم و انکشاف نے اس بات سے انکار کردیا ہوتا تو کیا ممکن تھا کہ عقلی ترقیات کے قدم یہاں تک پہنچ سکتے اور آئندہ کے لئے اس قدر مکنات سامنے آجاتے ؟ بلاشبہ علم و انکشاف کے ہر عہد میں ایسی جلد باز طبیعتیں بھی ہوئیں جنہوں نے محض عدم ادراک کی بناء پر انکار کردیا لیکن علم نے کچھ پروا نہ کی اور اس کا نتیجہ ہے کہ اس کا سفر برابر جاری رہا اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کب تک اور کہاں تک جاری رہے گا ؟ زیر نظر آیت میں جو ” تاویل “ آیا ہے اس کے متعلق اتنا عرض کردینا مناسب سمجھا جاتا ہے کہ اس کے معنی تو کسی بات کے نتیجہ اور مال کے ہیں اور چونکہ الفاظ کے معانی بھی ان کی دلالت کا مال و مصداق ہوتے ہیں اس لئے مطالب و معانی پر بھی اس کا اطلاق ہونے لگا لیکن قرآن کریم نے یہ لفظ ہر جگہ لغوی معنی میں استعمال کیا ہے اور وہ بالکل صحیح اور درست ہے لیکن بعد کو جب تفسیر و کلام کے مختلف مذاہب پیدا ہوئے تو ” تاویل “ کا لفظ بھی ایک خاص مصلح معنی میں بولا جانے لگا یعنی کسی لفظ کا ایسا مطلب ٹھہرانا جو اس کے ظاہری مدلول سے ہٹا ہوا ہو جیسے قرآن کریم میں لفظ ید اللہ آیا ہے یعنی اللہ کا ہاتھ اور یہ تنزیہہ کے خلاف ہے کہ اللہ کا ہاتھ ہو اس لئے ہاتھ کی جگہ اس کا کوئی دوسرا مطلب لینا اور پھر اس کے مختلف مراتب و اقسام ٹھہرائے گئے لیکن ہمارے موضوع سے یہ تفصیل متعلق نہیں کیونکہ ہم نے مقدمہ تفسیر میں بیان کردیا ہے کہ ہمارے نزدیک ” تاویل “ کے یہ معنی و مفہوم جو بیان کئے گئے ہیں صحیح نہیں ہیں اور ہم قرآن کریم میں ان معنوں میں ” تاویل “ کو مطلق تسلیم نہیں کرتے اس لئے کہ قول قائل کے مافی الضمیر میں جو ہوتا ہے اس کو مراد لینا کبھی ” تاویل “ نہیں کہلاتا بلکہ وہ اصل حیقتا ہوتا ہے پھر اس کو ” تاویل “ کیوں کہیں گے اور تاویل کے پہلے معنی اپنی جگہ درست اور صحیح ہیں۔
Ayah 10:40

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں کچھ تو ایسے ہیں جو قرآن پر ایمان لانے والے ہیں کچھ ایسے ہیں جو ایمان لانے والے نہیں اور تیرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون لوگ مفسد ہیں

مان لینے والے اور نہ ماننے والے سب ان میں موجود ہیں اور علم الٰہی میں موجود ہیں ۔ 63 ان میں ایسے بھی موجود ہیں جو قرآن کریم پر ایمان لائیں گے اور کچھ ایسے ہیں جو ایمانلانے والے نہیں۔ “ اور پھر نہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ ” اللہ ان مفسدوں کو خوب جانتا ہے “ مطلب یہ ہے کہ وہ باتونی ہونے کی وجہ سے دنیا کا منہ تو باتیں بنا کر بند کرسکتے ہیں کہ یار ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی اس لئے نیک نیتی کے ساتھ ہم اسے نہیں مانتے لیکنرب العزت ذوالجلال والا کرام جو قلب میں حق کی شہادت کو ابھرنے سے روکا ، اپنے ذہن سے قبول حق کی صلاحیت کو مٹایا ، سن کر نہ سنا اور جانتے ہوئے نہ جاننے کی پوری کوشش کی اور حق کے مقابلہ میں اپنے تعصبات کو ، اپنے دنیوی مفاد کو اپنی باطل سے الجھی ہوئی اغراض کو اور اپنے نفس کی خواہشوں اور رغبتوں کو ترجیح دی اس لئے وہ صرف گمراہی ہی نہیں بلکہ حقیقت میں مفسد ہیں اور ان کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ مفسد ہیں تو ہوا کریں ادھر ہم بھی ان مفسدوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ہم سے وہ بھولے ہوئے نہیں بلکہ وہ ہمارے قانون امہال کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں۔
Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا عمل ہے تمہارے لیے تمہارا ! میں جو کچھ کرتا ہوں اس کی ذمہ داری تم پر نہیں تم جو کچھ کرتے ہو اس کے لیے میں ذمہ دار نہیں

۔ 64 اس آیت میں ان کو آخری انقطاعی جواب دیا جا رہا ہے کہ جب ہر طرح کے دلائل ان کو دیئے جا چکے اور طرح طرح کی مثالیں بیان کر کے ان کی تفہیم کرائی جا چکی اور انہوں نے ” میں نہ مانوں “ کی قسم کھا رکھی ہے تو معلوم ہوگیا کہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے نیچے دبے ہوئے ہیں تو اے پیغمبر اسلام ! آپ نے بھی اپنا فرض پوری طرح ادا کردیا اگر وہ ان روشن دلائل وبراہین کے باوجود حق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تو ان کی مرضی یا ان کی شامت اعمال آپ فقط اتنا اعلان کردیجیے اور ان کے کانوں میں یہ بات ڈال دیجیے کہ اچھی طرح سن لو اور خوب یاد رکھو کہ میں اپنے اعمال کے لئے جواب دہ ہوں اور تم سے تمہارے اعمال کے متعلق سوال ہوگا اس لئے ظاہر ہے کہ نہ میں تمہارے اعمال کا جواب دہ ہوں اور نہ ہی تم میرے اعمال کے ذمہ دار ہوں اور کسی کا بوجھ بھی یقینا کسی پر نہیں لادا جائے گا۔ اس لئے خواہ مخواہ کی کج بحثیاں اور الجھائو پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اگر میں افتراء پردازی کر رہا ہوں جیسا کہ تم کہتے ہو تو اپنے اعمال کا میں خود ذمہ دار ہوں تم پر میرے اعمال کی کوئی ذمہ داری نہیں اور اگر تم سچی بات کو جھٹلا رہے ہو تو میرا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہو عنقریب جب نتیجہ کھلے گا تو بات واضح ہوجائے گی اگرچہ اس وضاحت کا تم کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔
Ayah 10:42

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو تیری باتوں کی طرف کان لگاتے ہیں پھر کیا تو بہروں کو بات سنائے گا اگرچہ وہ بات نہ پا سکتے ہوں ؟

کیا آپ ایسوں کو سمجھا لو گے جنہوں نے نہ سمجھنے کا دل سے عہد کیا ہے ؟ ۔ 65 جیسا کہ قبل ازیں کئی بار عرض کر کیا جا چکا ہے کہ سامعین میں کئی طرح کے سننے والے ہوتے ہیں اور وہ کان لگا کر سننے کی کوشش بھی کرتے ہیں لیکن ان کا سارا سننا محض اس لئے ہوتا ہے کہ اس کی بات اچھی طرح سن سمجھ کر اس کی ادھیڑ بن جائے اور باتوں ہی باتوں میں اس کو سب کچھ باور کرا دیا جائے تاکہ عمل کا وقت آئے تو اس کی کمی ہوئی باتیں اس کے نام آئیں۔ وہ اس سن کو اس طرح ان سنی بنائیں کہ کوئی سمجھ بھی نہ سکے اور بعض اس لئے سنتے ہیں کہ اس کی باتیں سن کر ان کا کوئی توڑ تلاش کیا جائے اور بعض کی نیت میں صرف یہ ہوتا ہے کہ وہاں سے لے کر اپنی خاص مجلسوں میں کچھ بیان کرنے کا موقع میسر آئے اور بعض کا سننا بالکل اس طرح ہوتا ہے جیسا کہ جانور سنتے ہیں لیکن سن کر وہ کچھ بھی یاد نہیں رکھ سکتے اس طرح کفار بھی نبی کریم ﷺ کے بیان کو خوب کان لگا کر سنتے لیکن ان کے دل کے کانوں میں تعصب اور نفرت کو اس طرح بھر لیا تھا کہ وہ صدائے حق کے سننے سے بالکل قاصر تھے۔ ان کی مثال ایسی تھی جیسے کوئی شخص کانوں سے بہرہ اور عقل سے کورا ہو کہ وہ نہ تو کچھ سن سکتا ہے اور نہ ہی اشارہ کنایہ سے کچھ سمجھ سکتا ہو فرمایا اے پیغمبر اسلام ! جو سمجھنا نہیں چاہتے کیا آپ ایسوں کو سمجھا لیں گے ؟ مطلب صاف ہے کہ نہیں سمجھا سکتے ! آج اگر اپنی قوم مسلم کا مجموعی طور پر تجزیہ کر کے دیکھیں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ اس وقت ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ یہ گروہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ نہ سننے والوں کی کوئی کمی ہے اور نہ ہی سننانے والوں کی لیکن حقیقت سے دن بدن دور سے دورتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے سننے والے فقط سن لینے کو اپنا فرض مانتے ہیں اور سنانے والے اپنا فرض فقط سنانا تسلیم کرتے ہیں عمل دونوں ہی گروہوں میں مفقود ہے۔ شاید اس لئے کہ دونوں ہی فریقوں کو اس کی کوئی ضرورت نہیں اور یہی بات اس جگہ بیان کی جا رہی ہے۔
Ayah 10:43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور ان میں کچھ ایسے ہیں جو تیری طرف تکتے ہیں پھر کیا تو اندھے کو راہ دکھا دے گا اگرچہ اسے کچھ سوجھ نہ پڑتا ہو ؟

کیا آپ ایسے لوگوں کو راہ دکھائیں گے جنہوں نے نہ دیکھنے کی قسم کھائی ہے ؟ ۔ 66 مشرکین کے اس رویہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو وہ نبی اعظم و آخر ﷺ سے روا رکھے ہوئے تھے کہ وہ آپ کی طرف خوب ٹکٹی لگا کر دیکھتے لیکن نور حق انہیں دکھائی کہاں دیتا تھا کیونکہ ان کے دل کی آنکھیں تو اندھی ہوچکی تھیں اور نور حق دیکھنا ان ظاہری آنکھوں کا کام ہی کب ہے ؟ وہ تو دیدئہ دل ہی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس طرح اوپر کی بات کی مزید وضاحت فرما دی گئی کہ سر کی آنکھیں کھلی ہونے سے کچھ فائدہ نہیں ان سے تو جانور بھی دیکھتے ہیں ، دل کا دیکھنا نصیب نہ ہو تو وہ سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتا۔ ان دونوں آیتوں میں خطاب تو نبی کریم ﷺ سے ہے مگر طنز کا تیز و نشتر کن لوگوں کا چبھویا جا رہا ہے انہی کو جن کی اصلاح کے آپ درپے تھے۔ پھر اس طنز کا مطلب بھی صرف طنز کرنا نہیں بلکہ ان کے عمل کی طنز کو سمجھنا ہے کہ شاید وہ چبھن سے بیدار ہوجائیں اور ان کے چشم گوش سے ان کے دل تک جانے والا راستہ کھل جائے تاکہ عقول بات اور درد مندانہ نصیحت وہاں تک شاید پہنچ سکے۔ یہ اندازبیان بھی بعض اوقات مفید ثابت ہوتا ہے اس لئے اس کو اختیار کیا گیا اور یہ بھی کہ اگر مفیدثابت نہ ہوا تو اتمام حجت کا کام دے گا او یہ بھی حاصل ہوجائے تو ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ کا فرض تو ادا ہوگیا اور یہ بات روز روشن کی طرح عیا ہوگئی کہ سنی ان سنی اور دیکھی ان دیکھی کرنے والوں کا اپنا نقصان ہے جو خود انموں نے اپنے ہاتھوں کیا ہے اب کسی دوسرے پر افسوس آخر کیوں ؟ اور پھر ان کو یہ بھی بتا دیا کہ حق کو دل کے کانوں سے نہ سن کر اور نہ دیکھ کر انہوں نے خود اپنی انوں ہی پر ظلم کار ہے ان کی یہ زیادتی کسی دوسرے پر نہیں بلکہ براہ راست اپنی ہی ذات کے ساتھ ہے کہ شاید اس طرح ان کی سمجھ میں کچھ آجائے۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

یقینا اللہ انسانوں پر ذرہ ربرابر بھی ظلم نہیں کرتا مگر خود انسان ہی ہے جو اپنے اوپر ظلم کرتا ہے

ان ظالموں نے اس طرح کا ظلم کر کے کسی کا کوئی نقصان نہیں کیا خود اپنا ہی کیا ۔ 67 کتنے نادان ہیں کہ خود اپنی جانوں پر ظلم کئے جا رہے ہیں اور خوش ہیں کہ ہم نے کار ہائے نمایاں کئے۔ اچھا اگر اس طرح کوئی ساری عمر ضلالت میں سرگرداں رہتا ہے تو اس محرومی کا اثر کس پر ہوگا ؟ خود اس پر ورنہ اللہ نے تو سارے سامان اس کو مہیا کردیئے تھے۔ انہیں کان بھی دیئے اور آنکھیں بھی دیں اور دل بھی اس نے اپنی طرف سے کسی چیز میں کوئی بخل نہیں کیا بلکہ نہایت وسعت سے کام لیتے ہوئے ساری چیزیں بڑی بہتات سے ان کو دیں مگر انہوں نے اپنی خواہشات کی کی بندگی کی اور دنیا کے عشق میں مبتلا ہو کر آپ ہی اپنی آنکھیں پھوڑ لیں اور اپنے کانوں میں سیسہ ڈال لیا اور اس طرح اپنے دلوں کو اس قدر مسخ کیا کہ ان میں بھلے برے کی کوئی تمیز باقی نہ رہی پھر اس ظلم سے نقصان کس کا ہوا ؟ ظاہر ہے کہ خود انہیں کا اپنا ہوا پھر تان تو آخر یہیں ٹوٹتی ہے کہ ع تو میرا نہیں بنتا نہ بن اپناتو بن
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن ایسا ہوگا کہ اللہ ان سب کو اپنے حضور جمع کرے گا اس دن انہیں ایسا معلوم ہوگا گویا اس سے زیادہ نہیں ٹھہرے جیسے گھڑی بھر کو لوگ ٹھہر جائیں اور آپس میں صاحب سلامت کرلیں ، بلاشبہ وہ لوگ بڑے ہی گھاٹے میں رہے جنہوں نے اللہ کی ملاقات کا اعتقاد جھٹلایا اور وہ کبھی راہ پانے والے نہ تھے

جمع ہونے کے دن وہ دنیا کی زنگدی کو خود ہی ” پل بھر “ زندگی قرار دیں گے ۔ 68 آخرت کی زندگی تو وہ زندگی ہے جس کے بعد موت نہیں ہے۔ وہ زندگی جب ان کے سامنے ہوگی تو ان کو دنیا کی زندگی آخری کتنی نظر آئے گی ؟ باوجود اس کے کہ انہوں نے دنیا میں بڑی بڑی طویل عمریں پائیں جب وہ حشر میں اٹھائے جائیں گے اور خواب برزخ اور خوب ناسوت دونوں سے بیدار ہوں گے تو اب انہیں اپنے انداز میں جو زبان حشر کے مطابق و ماتحت ہوگا ایسا معلوم ہوگا جیسے وہ دنیا میں کچھ رہے ہی نہیں ، بت رہے تو بس ایک گھڑی بھر اور ان کا یہ بیان عین فطرت انسانی کے مطابق بیان ہوا اس لئے کہ یوم حشر مدید بھی ہوگا اور شدید بھی اس لئے دنیا اور برزخ کی موت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گزر گیا تھا اور علاج ازیں آج بھی ہماری زبان میں جب گزشتہ زمانہ کی مدت کا بیان آتا ہے تو ہر انسان یہی کہتا ہے کہ یار ابھی کل کی بات ہے کہ فلاں کام ہوا تھا اور جب گن کر اس کا حساب کیا جاتا ہے تو اس کام کا بیسیویں سال گزر چکے ہوتے ہیں اس طرح جب بڑھاپے کے قریب انسان جاتا ہے تو اکثریوں بولتا ہے کہ اب تو میری عمر کے دن کی عصر ہو رہی ہے اور اس طرح پوری عمر کا ایک دن میں شمار کرنے لگتا ہے اور کبھی کبھی یوں بھی کہا جاتا ہے کہ بھائی ہماری جوانی تو بس آنکھ جھپکتے ہی گزر گئی ہے۔ ان ساری باتوں کو اگر پیش نظر رکھیں تو ان کا یہبیان کان لم یلبتوا الا ساعۃ من الھار ” گویا اس سے زیادہ نہیں ٹھہرے جیسے گھڑی بھر کو لوگ ٹھہر جائیں “ عین فطرت کی مطابق ہے کہ جب ایک طرف آخرت کی بےپایاں زندگی ان کے سامنے ہوگی اور دوسری طرف یہ پلٹ کر اپنی دنیا کی زندگی پر نگاہ ڈالیں گے تو انہیں مستقبل کے مقابلے میں اپنا یہ ماضی نہایت حقیر محسوس ہوگا اس وقت ان کو اندازہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی سابقہ زندگی میں تھوڑی ہی میں اپنا یہ ماضی نہایت حقیر محسوس ہوگا اس وقت ان کو اندازہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی سابقہ زندگی میں تھوڑی ہی لذتوں اور منعفتوں کی خاطر اپنے اس ابدی مستقل کو خراب کر کے کتنی بڑی حماقت کا ارتکاب کیا ہے۔ اس طرح یہ بات صرف ان لوگوں کی ترجمانی کرتی ہے جو دنیا کی زندگی میں بد اعمالیاں کرتے رہے اور انہوں نے آخرت کی زندگی کو اپنی نظروں میں نہیں رکھا۔ وہ لوگ بلاشبہ گھاٹے میں رہے جنہوں نے لقاء الٰہی کو جھٹلایا ۔ 69 قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ اس نے آخرت کے معاملہ کو ہر جگہ ” لقائے الٰہی “ سے تعبیر کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے دیدار سے۔ چناچہ تم جا بجا اس طرح کی تعبیرات پائو گے ” جو لوگ لقاء الٰہی کی توقع رکھتے ہیں “ یعنی آخرت کی توقع رکھتے ہیں یا ” جن لوگوں نے لقائے الٰہی سے انکار کیا “ یعنی آخرت سے انکار کیا۔ وہ ہتا ہے کہ مومن وہ ہے جو لقائے الٰہی کی طلب رکھتا ہے کافروہ ہے جو دنیوی زندگی ہی پر قانع ہے اور لقائے الٰہی کی اس میں کوئی طلب نہیں جیسا کہ اس سورت کے شروع ہی میں یعنی آیت میں فرمایا کہ ان کی نگاہیں جمال الٰہی کا نظارہ کریں گی (القیامہ 75 : 23) اور کافروں کی نسبت فرمیا کہ ” وہ اس نعمت عظمیٰ سے محروم رہیں گے۔ “ (التطفیف 83 : 15) پس ان تمام تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے آخرت کی زندگی اور اس کے نعائم کی جو حقیقت قرار دی ہے وہ کوئی ایسی بات ہے جس کا ماحصل لقاء الٰہی ہے اور عذاب آخرت کا معاملہ کوئی ایسا معاملہ ہے جسے وہ محجوب رہنے سے تعبیر کرتا ہے۔ بعض تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں میں ایک نعمت تو وہ ہے جسے وہ جنتی کی زندگی سے تعبیر کرتا ہے اور ایک اس کے علاوہ بھی ہے اور اس دوسری نعمت کو اس نے جا بجا ” رضوان “ سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جتنی زندگی کی نعمت سے بڑی نعمت ہوگی جیسا کہ ” ورضوان اللہ اکبر “ (التوبہ 9 : 72) اور اس ’ رضون “ سے مقصود اللہ کی خوشنودی کا اعلیٰ مرتبہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایسی نعمت ہے ۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں سے جن جن باتوں کا وعدہ کیا ہے ان میں سے بعض باتیں تجھے دکھا دیں یا تیرا وقت پورا کردیں لیکن بہرحال انہیں ہماری ہی طرف لوٹنا ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس پر شاہد ہے

۔ 70 اس دنیا کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ انسان کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ یہ زندگی انسان کو ایک دوسری زندگی کی طرف منتقل کرتی ہے فرق ہے تو صرف یہ کہ اس زندگی سے ہم متعارف نہیں تھا اور اس ندگی کا تعارف بھی ہم کو یہاں آنے سے پہلے نہیں تھا بلالک اسی طرح اس زندگی کی طرف منتقل ہونے سے قبل ہمیں اس کا تعارف حاصل نہیں اور یہی بات قرآن کریم نے ہم کو بتائی اور سمجھائی ہے فرمایا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم آپ کے ذریعہ سے جو جو وعدہ ان کو دے رہے ہیں وہ یقینا پورا ہوگا اس لئے کہ ہمارے وعدہ کا پورا ہونا لازم ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ آپ کی زندگی میں پورا کردیں گے یا آپ کی زندگی کے بعد یعنی آپ کی اس دنیوی زندگی کے اندر آپ کی آنکھوں کے سامنے یا آپ کو اس زندگی سے اس آخرت کی زندگی کی طرف منقتل ہو چکنے کے بعد۔ یہ بات اس لئے فرما دی گئی کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک وعدہ ہے کہ وہ انسان کو اس کی دنیوی زندگی کے مکمل پروگرام سے بیک وقت آ گاہ نہیں فرمایا کہ اگر ایسا ہوتا تو اس زندگی کی ساری رعنائیاں یک قلم ختم ہوجاتیں اور پھر جب یہ بھی وعدہ الٰہی ہے تو اس کو ممکنات سے نکال کر حتمی طور پر کیوں بیان کیا جائے گا کہ یہ کام تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ مختصر یہ کہ اس عذاب کے کتنے حصے آپ کی زندگی ہی میں ان کو دکھا دیئے گئے اور کتنے تھے جو بعد میں دکھائے گئے مثلاً معرکہ بدر ایک عذاب ہی تو تھا جو مکہ والوں پر مسلط کیا گیا اور اس طرح فتح کہ اور متعدد دوسرے واقعات جو آپ کی زندگی میں انہوں نے مشاہدہ کر لئے اور ان میں مکذبین و منکرین کو ہر طرح سے ذلت رسوائی کا سامنا ہوا اور اس طرح کتنے ہی معرکہ تھے جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے یہاں سے منتقل ہونے یک بعد خلفائے راشدین کی زندگیوں میں پورے ہوئے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح دنیوی زندگی کے عذاب کی کیفیت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اسی طرح اخری زندگی کے عذاب کی حالت بھی ہوگی جو اس کی زندگی کے عذاب پر رکھ کر ہی دیکھی جاسکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کا تعلق فقط ایمانیات و اعتقادت کے ساتھ ہے کیونکہ ایمان اعتقادی سے اس کی تیاری ممکن ہو سکتی ہے علاوہ ازیں اس کی تفہیم اس زندگی میں ممکن نہیں۔ اگر یہ بات ذہن نشین ہوجائے کہ ایک دن ہم کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس کے لئے نتیجہ سے ہم کو دوچار ہونا ہے تو ایہی ایمان و اعتقاد ہم کو سنبھلا دے سکتا ہے اور پھر جتنا یہ ایمان و اعتقاد ہوگا اتنا ہی محتاط ہوں گے اور یہی مقصود ہے۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر امت کے لیے ایک رسول ہے پھر جب کسی امت میں اس کا رسول ظاہر ہوگیا تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ ناانصافی ہو

ہر امت کے لئے رسول اور رسول کے بعد انصاف کے ساتھ فیصلہ لازم ہے ۔ 71 صفحہ ہستی پر جہاں جہاں انسان آباد ہے اور آباد تھا رہے گا وہاں وحی الٰہی کا نو پہنچنا لازم اور ضروری تھا ، اور ہوگا۔ جب تک وحی کا سلسلہ جاری وساری تھا ہر رسول کی آمد کے ساتھ اس کی امت لازم تھی اور وہ ایک ہی امت کہلائی خواہ اس نبی کا دورہ مختصر دور تھا یا کوئی لمبا دور جو ہزاروں سالوں پر محیط ہو۔ مختصر ایک رسول کا دور بحساب علاقہ اور حدودجتنا بھی تھا اس حدود کے اندر رہنے والے انسان ایک امت کے انسان تھے اس رسول کی دعوت جن جن لوگوں تک پہیچف وہ سب مل کر اس کی امت کہلائے خواہ ان کے درمیان رسول زندہ موجود تھا یا اللہ تعالیٰ کے نظام کے مطابق اس کی دنیوی زندگی کو ختم کردیا گیا تھا اور اب وہی الٰہی کا سلسلہ منقطع ہونے کے بعد جس نبی رسول پر یہ سلسلہ ختم ہوا اس رسول کی رسالت تا قیامت ضروری ہوئی اور اس طرح وہ ساری امت خواہ اس کے لوگ اس دنیا میں آ کر چلے گئے اور خواہ وہ جو اس وقت موجود ہیں اور خواہ وہ جو بعد میں قیامت تک باری باری آتے رہیں گے سب مل کر ایک امت کہلاتے ہیں اور کہلائیں گے نہ کوئی نیا رسول آئے گا اور نہ امت کبھی ختم ہوگی۔ اب چاہے اس نبی و رسول یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو کوئی مانے اور تسلیم کرے اور چاہے نہ مانے کیونکہ امت میں دونوں طح کے لوگ موجود رہے ہیں اور رہیں گے اور اس طرح قرآن کریم جو آپ کے سینہ اقدس میں وحی الٰہی کے طور پر نازل ہوا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی رہے گا۔ اس لئے فرمایا کہ ” ہر قوم میں ایک رسول ہے یعنی ہر امت میں ایک رسول ہے۔ “
Ayah 10:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتلاؤ یہ بات کب ظہور میں آئے گی ؟

وہ کہتے ہیں کہ تم سچے ہو تو وہ عذاب آ کیوں نہیں جاتا ؟ ۔ 72 بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر بیشمار دلیلیں ان کے سامنے پیش کی گئیں لیکن ان کی بگڑی ہوئی طبیعتیں اور مسخ شدہ ذہنیتیں ان سے متاثر نہ ہوئیں اور انہوں نے ایک ہی رٹ لگائی تھی کہ جس عذاب کی آپ ہمیں دھمکیاں دیا کرتے ہیں وہ آ کیوں نہیں جاتا گویا انہوں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک عذاب الٰہی کی بجلی ان کے خرمن زندگی کو جلا کر راکھ نہ کر دے وہ دعوت حق کو قبول نہیں کریں گے۔ کتنے نادان ہیں اور ان کی بدبختی کا کون اندازہ لگا سکتا ہے اور کون سمجھائے کہ جب تمہاری زندگی ہی باقی نہ رہی تو پھر مانے گا آخر کون ؟ اور مانے گا تو کیا ؟ اور پھر ان سے کوئی پوچھے گا تو کیسے ؟ ان کو ان کے ہولناک انجام سے بار بار آگاہ کیا گیا لیکن ان کے چشم حوشی وانہ ہوئی وہ کھلی تو فقط اس وقت جب موت کے فرشتہ نے ان کی رگ حیات کاٹ ڈالی اور رحمت الٰہی کا دروازہ ان کے لئے بند ہوگیا اور اس طرح دنیوی زندگی کے خاتمہ کے بعد کھلنے والی آنکھ آخر ان کے کیا کام آئی ؟ ہوا تو صرف یہ کہ رسول کی سچائی اب ان پر ظاہر ہوگئی اور وہ اس کو واضح طور پر جان گئے اور اب کتنا واویلا بھی کیا کہ ایک بار پھر ہماریی مراجعت ہو جیسا کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کی وضاحت فرما دی لیکن وعدئہ الٰہی پورا ہوجانے کے بعد دوبارہ زندگی کو دنیوی زندگی یا دارالعمل کی زندگی کی زندگی کیوں کر کہا جاسکتا ہے ؟ چناچہ قرآن کریم کہتا ہے کہ ” جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ اے میرے رب ! مجھے اس دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ کر آیا ہوں ، امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا …… فرمایا ہرگز نہیں ، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے ان سب مرنے والوں کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک ۔ “ (المومنوں 23 : 97 تا 99) اور یہ مضمون قرآن کریم نے متعدد بار بیان کیا ہے اور ان کی اس آہ و بکا کو کوئی طرح سے بیان کیا گیا ہے لیکن کسی کی دنیا میں واپسی ؟ نہ ممکن تھی ، نہ ہے اور نہ ہی ہوگی۔ بلاشبہ یہ مسلمات میں سے ہے لیکن افسوس کے کچھ لوگوں کو یہ بات بالکل بھول جاتی ہے اور وہ کسی کے دوبارہ دنیا میں لا کھڑے کرنے کے قصے بیان کرتے رہتے ہیں اور پھر بار بار لانا اور لے جانا بیان کرتے رہتے ہیں اور کبھی غور نہیں کرتے کہ کسی مسلمہ یک خلاف اگر ممکن ہے تو وہ مسلمہ آخر مسلمہ کیوں کر ہوا ؟ وہ جب بیان کرتے ہیں تو اس وقت ان کا ذہن اس مسلمہ کی طرف سے خلای ہوتا ہے اور جب اس مسلمہ اصول کو بیان کرتے ہیں تو اس وقت ان کو ایسے قصوں کا حضر نہیں ہوتا اور اس طرح وہ مسلمات کے خلاف بیان کر کے خوش ہوتے ہیں اور ان کو طرح طرح کے نام دیتے رہتے ہیں پھر کبھی ان واقعات کو قدرت کر پردے میں چھپاتے ہیں کھبی فعال لما یرید کے اختیار میں اس کو ڈال دیتے ہیں اور اس وقت حقیقت کی طرف سے وہ بالکل غافل ہوجاتے ہیں۔
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

تم کہہ دو کہ میں تو خود اپنی جان کا بھی نفع نقصان اپنے قبضہ میں نہیں رکھتا ، وہی ہوتا ہے جو اللہ نے چاہا ہے ، ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور جب وہ وقت آ پہنچتا ہے تو پھر نہ تو ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہیں نہ ایک گھڑی آگے

اے پیغمبر اسلام ! آپ اعلان کردیں کہ میرے اختیار میں کیا ہے ، وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے ۔ 73 مخالفین و معاندین بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ وعدہ جس کا بار بار ہم کو آپ وعدہ دے رہے ہیں اس کو لے کیوں نہیں آتے ؟ ان کے اس مطالبہ کا جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلامچ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم پر عذاب لے آنا میرے اختیار میں کہاں ہے اور میں تم کو جو عذاب الٰہی کی خبر سنا رہا ہوں تو وہ میں نے اپنی طرف سے کب سنائی ہے۔ میں نے تم کو پیغام الٰہی سنایا ہے۔ مجھ سے مطالبہ کیوں کرتے ہو میں تو اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں سوائے اس کے کہ جتنا نفع و نقصان اللہ مجھے پہنچانا چاہے۔ اس بےاختیاری کا اعلان کیوں کرایا گیا ؟ محض اس لئے کہ وہ سمجھ جائیں کہ یہ بےاختیارعین شان عبدیت ہے اور جب افضل البشرنبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق یہ اعلان ہے تو دوسرے مشائخ و اولیاء امت کو اپنے اعتقاد میں مرتبہ خدائی پر کیسے پہنچایا جاسکتا ہے ؟ اور وہ لوگ جو اس طرح کا اعتقاد رکھتے ہیں ذرا اس بات پر غور کریں کہ ارشاد خداوندی کیا ہے ؟ کہ اے میرے رسول ! ﷺ آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ میں نے یہ کب کہا تھا کہ یہ فیصلہ میں چکائوں گا اور نہ ماننے والوں کو میں عذاب دوں گا اس لئے مجھ سے کیا پوچھتے ہو کہ فیصلہ چکائے جانے کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ دھمکی تو اللہ نے دی ہے اور وہی فیصلہ چکائے گا اور اس کے اختیار میں ہے کہ فیصلہ کب کرے اور کس صورت میں اس کو تمہارے سامنے لائے ؟ ہاں ! ہر امت کیلئے ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر تاخیر نہیں ہوتی 74 ؎ تمہارے مطالبہ کا انحصار اس وقت مقرر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر جماعت کیلئے مقرر کیا ہوا ہے اور پھر جب وہ وقت مقرر آ پہنچتا ہے تو اس میں تاخیر نہیں ہوتی اور اس طرح تمہارے بار بار مطالبہ سے اس کے وقت معین سے پہلے بھی وہ کام نہیں ہو سکتا۔ اللہ موم کی ناک نہیں ہے کہ جب چاہا اور جیسے چاہا موڑ لیا اس کے فیصلے اٹل ہیں اس لئے کان کھول کر سن لو کہ وقت معین آجانے پر اس کا عذاب فوراً ہی واقع ہوجائے گا۔ اس لئے کہ ہر نافرمان اور سرکش امت کے مٹنے کا اور برباد ہونے کا معین و مقرر وقت علم الٰہی میں ہے اور جس امت کیلئے جو وقت مقرر ہے اس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں۔ یاد رہے کہ زیر نظر آیت سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انسان محض مجبور اور بےاختیار ہے اور نہ اس بحث کا کوئی یہ مقام ہے۔ جہاں تک انسان کے اختیار و بےاختیار ہونے کا تعلق ہے وہ بات پہلے سے طے شدہ ہے کہ انسان مختار کل نہیں اور بالکل بےاختیار بھی نہیں۔ جتنا اختیار انسان کو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے یعنی اس کی فطرت میں ودیعت کردیا ہے بلاشبہ اتنا اختیار ہر انسان کو ہے تب ہی انسان مکلف قرار پایا ہے اور جو اختیار اس کی فطرت میں داخل نہیں اس قدر انسان مجبور ہے اور یہ بحث ہر انسان کی ہے جب کہ انسانوں میں سے افضل ترین انسان افضل المرسل محمد رسول اللہ ﷺ ہیں تو پھر آپ ﷺ کو محض بےاختیار کہنا یا محض بےاختیار سمجھنا کہاں کی دیانت ہے۔ زیر نظر آیت کے اندر بھی یہ استثناہ موجود ہے کہ جتنا اختیار اللہ نے دیا ہے اس سے زیادہ کا میں اختیار نہیں رکھتا اس لئے آپ ﷺ کو مختار کل سمجھنے والوں کو غور کرنا چاہئے کہ مختار کل اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے اس لئے کوئی انسان بھی مختار کل نہیں ہو سکتا اس لئے نبی اعظم و آخر ﷺ بھی فی الواقع مختار کل نہیں ہیں کیونکہ آپ ﷺ نہ اللہ ہیں اور نہ اللہ کا کوئی حصہ و جزء بلکہ آپ ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ کا کام عذاب مسلط کرنا یا عذاب ٹالنا نہیں یہ اختیار اللہ وحدہ لا شریک لہٗ ہی کو ہے آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور یہ جو عذاب کا پیغام لوگوں کو سنایا گیا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور وہ آپ ﷺ نے پہنچا دیا اور فی نفسہ عذاب کا مسلط کردینا یہ کسی انسان کے اپنے اختیار کی بات نہیں اور اس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کا کام بھی نہیں اس لئے آپ ﷺ سے اس کے لانے کا مطالبہ بےمعنی ہے اور پھر آپ ﷺ تو رحمت للعالمین ہیں۔ آپ ﷺ کے اختیار میں ہو تو وہ کسی پر عذاب آنے ہی کیوں دیں گے لہٰذا عذاب کا آنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ آپ ﷺ کے
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کیا تم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ تم کیا کرو گے اگر اس کا عذاب راتوں رات نازل ہو یا دن دہاڑے تم پر مسلط ہوجائے ؟ پھر کیا بات ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچا رہے ہیں ؟

اچھا اگر اس کا حکم عذاب آ ہی جائے تو آخر تم اس وقت کیا کرو گے ؟ 75 ؎ غور کرو کہ عذاب الٰہی تو بڑی سخت اور پناہ مانگنے کی چیز ہے۔ یہ لوگ اس کے لئے جلدی مچا رہے ہیں ؟ یہ اور اس جیسی دوسری آیات میں فکر انسانی کی جس گمراہی کو ” استعجال بال عذاب “ سے تعبیر کیا گیا ہے وہ صرف انہی منکرین حق کی گمراہی نہ تھی جو ظہور اسلام کے وقت اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے تھے بلکہ ہر زمانہ میں انسان کی ایک عالم گیر کج اندیشی رہی ہے۔ وہ بسا اوقات فطرت کی اس مہلت بخشی سے فائدہ اٹھانے کی جگہ شر و فساد میں اور زیادہ نڈر اور جری ہوجاتا ہے اور کہتا ہے اگر فی الحقیقت حق و باطل کیلئے ان کے نتائج و عواقب ہیں تو وہ نتائج کہاں ہیں ؟ اور کیوں فوراً ظاہر نہیں ہوجاتے ؟ قرآن کریم جا بجا منکرین حق کا یہ خیال نقل کرتا ہے اور یہی بات زیر نظر آیت میں بھی بیان کی گئی ہے اس لئے قرآن کریم کہتا ہے اگر کائنات ہستی میں اس حقیقت اعلیٰ کا ظہور نہ ہوتا جسے ” رحمت “ کہتے ہیں تو یقیناً یہ نتائج یکایک اور بیک دفعہ ظاہر ہوجاتے اور انسان اپنی بدعملیوں کے ساتھ کبھی زندگی کا سانس نہ لے سکتا لیکن یہاں سارے قانونوں اور حکموں سے بھی بالاتر ” رحمت “ کا قانون ہے اور اس کا مقتضی یہی ہے کہ حق کی طرح باطل کو بھی زندگی و معیشت کی مہلتیں دے اور توبہ و رجوع اور عفو و درگزر کا دروازہ ہر حال میں باز رکھے۔ فطرت کائنات میں اگر یہ ” رحمت “ نہ ہوتی تو یقیناً وہ جزاء عمل میں جلد باز ہوتی لیکن اس میں رحمت ہے اس لئے نہ تو اس کی مہلت بخشیوں کی کوئی حد ہے ، نہ اس کے عفو و درگزر کیلئے کوئی کنارہ۔ چناچہ وہ ایک جگہ اس طرح کہتا ہے کہ : ” اے پیغمبر اسلام ! یہ کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو وہ بات کب ہونے والی ہے ؟ ان سے کہہ دو ، جس بات کیلئے تم جلدی مچا رہے ہو عجب نہیں کہ اس کا ایک حصہ بالکل قریب آگیا ہو اور تمہارا پروردگار انسان کیلئے بڑا ہی فضل رکھنے والا ہے لیکن بیشتر ایسے ہیں کہ اس کے فضل اور رحمت سے فائدہ اٹھانے کی جگہ اس کی ناشکری کرتے ہیں۔ “ (النمل 27 : 71 ، 73) یہی مضمون سورة الحج آیت 47 ، 48 اور سورة العنکبوت آیت 53 میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 10:51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ واقعہ ہوجائے گا اس وقت تم یقین کرو گے ؟ ہاں ! اب تم نے یقین کیا اور تم ہی تھے کہ اس کی طلب میں جلدی مچایا کرتے تھے !

عذاب واقع ہونے کے بعد یقین کرو گے تو ایسے یقین کا فائدہ ؟ 76 ؎ عذاب واقع ہونے کے بعد اگر تم تصدیق کرو گے تو وہ تصدیق اضطراری ہوگی اور اضطراری تصدیق سے کچھ نفع حاصل نہیں ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ماننا اور تسلیم کرنا بھی کبھی ماننا اور تسلیم کرنا ہوتا ہے جو مجبوری کے تحت مانا جائے لہٰذا اس وقت اگر تم ایمان لے بھی آئو تو وہ ایمان تمہارا کبھی مقبول نہیں ہوگا اور ان سے کہا جائے گا کہ اس وقت تم اتنا کیوں گھبرائے ہوئے ہو تم تو خود اس عذاب کی طنزاً فرمائش کیا کرتے تھے ، شریعت کا یہ مسلمہ مسئلہ ہے کہ جب ملائکہ موت نظر آنے لگیں اور عالم برزخ کا انکشاف شروع ہوجائے اس وقت کا ایمان مقبول نہیں ہوتا۔ اس چیز کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے۔
Ayah 10:52

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظلم کرنے والوں سے کہا جائے گا اب ہمیشگی کا عذاب چکھو تمہیں جو کچھ بدلہ مل رہا ہے یہ خود تمہارے ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے جو دنیا میں کماتے رہے ہو

اس وقت تو ان کو کہا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ کیلئے عذاب میں رہو 77 ؎ جن لوگوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ دنیا میں جو کفر و شرکت اور تکذیب حق کی کمائی کرتے رہے ہو اس کی پاداش میں اس عذاب جہنم کا مزہ چکھو۔ اس کے سوا تمہارا اور بدلہ ہو بھی کیا سکتا ہے ؟ ” ان ظالموں سے کہا جائے گا “ اور یہ کہنے والے کون ہوں گے ؟ یہ کہنے والے وہی عذاب الٰہی کے فرشتے ہوں گے اور جن سے کہا جائے گا وہ مشرکین ہوں گے اور ان کو یہ کہا جائے گا کہ یہ عذاب تمہارے کفر و بےدینی کا بدلہ ہے۔ و
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ بات واقعی سچ ہے ؟ تم کہو ہاں میرا پروردگار اس پر شاہد ہے کہ یہ سچائی کے سوا کچھ نہیں اور تم کبھی ایسا نہیں کرسکتے کہ اسے عاجز کر دو

ہ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی یہ سچ ہے ؟ کیوں نہیں اللہ کی باتوں میں کبھی شک ہوتا ہے 78 ؎ اے پغیمبر اسلام ! ﷺ یہ لوگ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ کیا قرآن کریم ، تمہارا دعوئے نبوت ، بعثت بعد الموت اور عذاب قبر واقعی سچ ہیں۔ آپ ﷺ انہیں کہہ دیں کہ میرے پروردگار کی قسم وہ بالکل سچ ہے تم اتنا بھی بل بوتا نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ کو قیامت کے روز سے عاجز کرسکو۔ ظاہر ہے کہ ان کے اس سوال اور اظہار حیرت واستعجاب سے مقصود دریافت حال نہیں بلکہ تکذیب و تعریض ہے۔ اس طرح عذاب کے بارے میں جو وہ بار بار پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی وہ آئے گا یا یہ محض خالی دھمکیاں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں اللہ کی قسم کھا کر تم کو بتاتا ہوں کہ یہ خالی دھمکیاں نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں اور گنجائش ہو بھی کیسے سکتی ہے کہ اللہ رب العزت کی باتیں تو لوہے پر لکیر ہیں۔ نہ ماننے والوں کی بھی کتنی قسمیں ہوتی ہیں عین ممکن ہے کہ اس آیت میں ان لوگوں کا قول نقل کیا گیا ہو جو منکر و جامد تو نہ تھے لیکن تصدیق میں متامل تھے وہ جب پیغمبر اسلام کی صداقت و دیانت پر غور کرتے تو تمام قوم میں وہ اول روز ہی سے مسلم تھی تو ان کا دل کہتا کہ سچے آدمی کی زبان سے جھوٹی بات نہیں نکل سکتی لیکن پھر جب دیکھتے کہ ان کی دعوت ایسی باتوں کا یقین دلاتی ہے جن سے وہ اور ان کے آباء و اجداد یکسر نا آشنا رہے ہیں تو طبیعت کھلتی نہیں اس لئے شک و حیرت کی حالت میں مبتلا ہوجاتے اور پوچھنے لگتے کیا جو کچھ تم کہہ رہے ہو فی الحقیقت ایسا ہی ہے ؟ فرمایا تم کہو جب تمہیں آج تک میری سچائی میں شبہ نہیں ہوا تو آج کیوں ہو رہا ہے ؟ میں جو کچھ کہتا ہوں یہ حق ہے اور اس پر میرا پروردگار شاہد ہے۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ظالم انسان کے قبضے میں وہ سب کچھ آجائے جو روئے زمین میں ہے تو وہ ضرور اسے اپنے فدیہ میں دے دے اور دیکھو جب انہوں نے عذاب اپنے سامنے دیکھا تو دل ہی دل میں پچھتانے لگے پھر ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور ایسا کبھی نہ ہوگا کہ ان پر کسی طرح کی زیادتی واقع ہو

ظالم ! آج ہرچیز کو فدیہ میں دینے کو تیار ہیں کہ کوئی صورت ان کے بچائو کی نکل آئے 79 ؎ اگر آج یعنی میدان حشر میں ہر اس شخص کے پاس جس نے کفر و شرک سے اپنے اوپر آپ ظلم کیا روئے زمین کی دولت بھی ہو تو عذاب دوزخ سے بچنے کیلئے سے بھی تاوان کے طور پر دینے کیلئے آمادہ ہوجائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین آج تو مال و دولت پر پروانہ وار نثار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اپنی عزت ، اپنی سلامتی اور اپنے عیش و آرام کو اس سے وابستہ سمجھ رہے ہیں لیکن کل جب یہ بارگاہ رب ذوالجلال میں حاضر کئے جائیں گے اور ان کے گناہوں کا بوجھ ان کی گردن پر لاد دیا جائے گا تو دوزخ کے شعلے ان کی طرف لپک رہے ہوں گے اس وقت ان کی دلی خواہش ہوگی کہ کامل ان سے یہ سب کچھ لے لیا جائے اور ان کی جان بخشی کردی جائے لیکن اس وقت ان کی یہ خواہش پوری نہیں کی جائے گی تو کیا یہ بہتر نہیں کہ آج جب کہ در رحمت باز ہے اور تھوڑی سی کوشش سے اللہ تعالیٰ کو راضی کیا جاسکتا ہے تو کیوں نہ اس موقع کو غنیمت سمجھا جائے اور اپنے رب کریم کو راضی کرلیا جائے ، دنیا کی متاع قلیل کی خاطر جو ضرورت اور مشکل کے وقت کھوٹا سکہ ثابت ہوگی اپنے رب کریم کو ناراض کرلینا آخر کہاں کی دانش مندی ہے ؟ اور اس وقت کے رونے ، کھونے اور جزع و فزع کرنے سے بہتر نہیں کہ آج ہی اپنی حالت پر غور کرلیا جائے۔ ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ ہوگا اور کسی پر ظلم نہیں ہو گا 80 ؎ اس وقت بھی کافروں اور مشرکوں اور ان کے چیلے چانٹوں کے درمیان جب فیصلہ الٰہی صادر ہوگا تو عین عدل و انصاف سے ہوگا اور کسی پر ظلم و زیادتی نہیں ہوگی۔ عدالت الٰہی میں اس بات کا لحاظ نہیں رکھا گیا کہ کون اپنا ہے اور کون بیگانہ اور نہ ہی محض اس سبب سے کہ وہ نافرمان ہیں ان کا فیصلہ خواہ کسی طرح بھی کیا جائے ہمیں کیا ؟ فرمایا نہیں بلکہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ ہوگا اور جو ندامت ان کو ہوگی وہ اپنے ہی کرتوتوں کے باعث ہوگی اور جس چیز کو وہ عمر بھر جھٹلاتے رہے ، جسے جھوٹ سمجھ کر وہ ساری زندگی غلط کاموں میں کھپا گئے اور جس کی خبر دینے والے رسولوں کو طرح طرح کے الزام دیتے رہے وہی چیز جب ان کی توقعات کے بالکل خلاف اچانک سامنے آ کھڑی ہوگی تو ان کے پائوں تلے سے زمین نکل جائے گی۔ ان کا ضمیر انہیں خود بتا دے گا کہ جب حقیقت یہ تھی تو جو کچھ وہ دنیا میں کر کے آئے ہیں اس کا انجام اب کیا ہونا ہے ؟ اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ : ” خود کردہ را علاجے نیست “ اب زبانیں بند ہوں گی اور ندامت و حسرت سے دل اندر ہی اندر بیٹھے جا رہے ہوں گے جس شخص نے قیاس و گمان کے سودے پر اپنی ساری پونجی لگا دی اور کسی بھی خیر خواہ کی بات پر بھی کان نہ دھرے ہوں وہ دیوالیہ نکلنے کے بعد خود اپنے سوا کسی کی شکایت کرسکتا ہے اور اس ظلم کا باعث کون ہوا جو اس وقت اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم پھر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ظلم کا باعث وہی ہے اس پر ظلم کسی نے باہر سے آ کر نہیں کیا۔
Ayah 10:55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کے لیے ہے اور یہ بات بھی نہ بھولو کہ اللہ کا وعدہ حق ہے مگر ان میں زیادہ تر ایسے ہیں جو یہ بات نہیں جانتے

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے اور وعدہ الٰہی کبھی خطا نہیں ہوتا 81 ؎ یہ بات خاص توجہ کے ساتھ تم کو سن لینی چاہئے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کی ملکیت ہے اور وہی اس میں تصرف کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ثواب و عذاب بالکل سچا ہے مگر اکثر انسان اس حقیقت سے یکسر غافل ہیں اس لئے وہ سمجھتے اور جانتے نہیں۔ لیکن جب حقیقت حال کھلے گی تو ان کو سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جب آسمانوں اور زمین کی ہرچیز اس کی ہے تو اس نے انعامات و احسانات کے جو وعدے اپنے نیک اور فرمانبردار بندوں سے کئے ہیں وہ ان کو پورا کرے گا اور بدکاروں اور نابکاروں کو عذاب کی جو وعید دی ہے وہ ضرور ہو کر رہے گی کوئی ایسا وعدہ نہیں جس کا پورا کرنا اس کے بس اور اختیار میں نہ ہو اور کوئی ایسی طاقت بھی نہیں جو اسے عذاب دینے سے دور کر دے اس لئے جو کچھ ہوگا عین اس کے وعدہ کے مطابق ہوگا۔