10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا کیا تم اس لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ جس راہ پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو چلتے دیکھا ہے اس سے ہمیں ہٹا دو اور ملک میں تم دونوں بھائیوں کے لیے سرداری ہوجائے ہم تو تمہیں ماننے والے نہیں

فرعون اور فرعون کی قوم کا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا جواب 110 ؎ فرعونیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں کہا کہ ” کیا تو اس لئے آیا ہے کہ ہیں و اس طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں دونوں بھائیوں کی بڑائی ختم ہوجائے “ ۔ آپ کے معجزانہ کلام اور آپ کی بےدھڑک صاف گوئی کے باعث ان پر سکتہ کا عالم طاری ہوگیا اور جب کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو الزام تراشی پر اتر آئے کہ تم چاہتے ہو کہ ہم اپنے آبائو اجداد کے عقائد سے برگشتہ ہوجائیں ۔ ہم اس کیلئے ہرگز تیار نہیں دوسرا یہ کہ تم مذہب کی آڑ لے کر سیاسی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہو تمہارے پیش نظر عقائد کی اصلاح اور اخلاق کی تربیت ہرگز نہیں ۔ تم محض اقتدار کے بھوکے ہو اور تم چاہتے ہو کہ مصر میں تمہاری حکومت قائم ہوجائے اور ہم اس انقلاب کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتے کہ بنی اسرائیل جو صدیوں سے ہمارے غلام ہیں ہمارے حکمران بن جائیں ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ علم حق بلند کرنے والوں پر حکمران طبقہ کی طرف سے یہی الزام لگایا جاتا ہے۔ ان کے اخلاص اور للہیت کو اسی قسم کی بہتان تراشیوں سے داغدار کرنے کی سعی کی جاتی ہے اور فرعونیوں نے بھی یہی کچھ کہا اور یہی کچھ کیا اور کیوں نہ کہتے کہ مصری مذہب کے ” دو ہزار دیوتا “ مشہور تھے اس کے علاوہ ہندی مشرکوں کی طرح مصریوں میں بھی حیوان پرستی جاری وساری تھی ۔ گائے ، بندر ، کتا ، بلی وغیرہ ان کے مقدس جانور تھے ۔ اپنے بادشاہ کو خدا کا اوتار مانتے تھے اور اس طرح تناسخ ارواح کے بھی قائل تھے۔ اس لئے تبلیغ موسوی سے ان سارے عقائد پر ضرب کاری لگ رہی تھی ۔ غور کرو کہ اگر حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا اصل مطالبہ رہائی بنی اسرائیل کا ہوتا تو فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ اندیشہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ ان دونوں بزرگوں کی دعوت پھیلنے سے سر زمین مصر کا دین بدل جائے گا اور ملک میں ہماری جگہ ان دونوں کی بڑائی قائم ہوجائے گی ان کے اس اندیشے کی اصل وجہ تو یہی تھی کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اہل مصر کو بندگی حق کی طرف دعوت دے رہے تھے اور اس سے وہ مشرکانہ نظام خطرے میں تھا جس پر فرعون کی بادشاہی اور اس کے سرداروں کی سرداری اور سارے مذہبی پیشوائوں کی پیشوائی قائم تھی اور اس طرح اگر فی الواقع لاٹھی کا سانپ اور ہاتھ کا سفید ہونا ہی مراد ہوتا تو ان باتوں کا دلائل توحید اور نظام ربوبیت کے ساتھ کوئی تعلق ؟ ظاہر ہے کہ یہ وہ دلائل ہی تھے جو ان کے سارے نظام پر اثر انداز ہو رہے تھے اور ان کو ان استعارات میں بیان کر کے گویا دریا کو زہ میں بند کیا گیا تھا تاکہ ہر جگہ اور ہر موقع پر اس لمبی داستان اور اس کے دلائل کو مختصر سے مختصر الفاظ میں بیان کردیا جائے اور وہی استعارات جب ضرورت پیش آئے تو دہرا دیئے جائیں جن سے حق ثابت ہوا اور باطل مٹ گیا تھا اور قرآن کریم نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل اتنے وزنی تھے کہ فرعونیوں کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ ان دلائل وبراہین کے سامنے ہمارے باپ دادا کے ڈھکوسلے نہیں ٹھہر سکیں گے اور لگ جن وائل کو دیکھیں ، پڑھیں اور سنیں گے تو ان پر یہ بات بھی روشن ہوجائے گی کہ اس ملک مصر پر حکومت کا کس کو حق ہے ؟ فرعونیوں کو یا بنی اسرائیلوں کو اور اس طرح یہ تحریک ہمارے لئے اور ہمارے نظام کیلئے موت کا پیغام نظر آرہی ہے جس تحریک کے عقائد بھی پختہ اور دلائل بھی وزنی اور نظریات بھی معقول ۔ اس کے سامنے اگر کوئی بات سہارا بن سکتی ہے تو صرف اور صرف یہ ہے کہ قوم کے لوگوں میں حمیت جاہلیت کا پیام پھیلایا جائے اور ان کو یہ باور کرایا جائے کہ اس سے ہماری تو کیا تمہارے سب لوگوں کے آبائواجداد کی سبکی ہوتی ہے اور کیا تم اتنے ہی گئے گزرے ہو کہ تمہارے اندر اپنے بزرگوں کے دین اور مذہب کی مخالفت سن لینے کی کمزوری جنم لے چکی ہے ؟ اور کسی قوم کی کمزوری کو اس سے زیادہ بھی کوئی دلیل ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے ہی آبائو اجداد کی توہین برداشت کرلے اور مر مٹنے کیلئے تیار نہ ہو اور یہی حربہ فرعونیوں نے اختیار کیا ۔
Ayah 10:79

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ جتنے ماہر جادوگر ہیں سب کو میرے حضور حاضر کرو

فرعون نے اب اپنے ملک کے سارے جادوگروں کو دعوت دے دی 111 ؎ فرعون اور اس کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ ” یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے اور تمہیں تمہاری زمین سے بےدخل کرنا چاہتا ہے اس لئے تم ملک کے سارے ماہر جادوگر جو ماہر فن ہوں ان سب کو میرے پاس لائو “ ۔ فرعونی درباریوں کے اس قول سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انکے ذہن میں بھی خدائی نشان اور جادو کے امتیازی فرق کا تصور بالکل واضح طور پر موجود تھا ، وہ جانتے اور سمجھتے تھے کہ خدائی نشان سے حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے اور جادو محض نظر اور نفس کو متاثر کر کے اشیاء میں ایک خاص طرح کا تغیر محسوس کرایا جانا ہے اور عوام کی نظروں میں وہ اصل چیز نظر آتی ہے جو فی الواقع نہیں ہوتی ۔ اس بناء پر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دعوائے رسالت کو رد کرنے کیلئے کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے اور اس کے پیش کردہ عصا کی حقیقت کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ہومارے پاس اس کا کوئی توڑ موجود نہیں کیونکہ ہمارے مشاہدہ میں اس طرح نظر آ رہا ہے اس لئے جب ماہر فن حاضر ہوں گے اور وہ بھی اپنے لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینک کر لوگوں کو دکھائیں گے تاکہ عامۃ الناس کے دلوں میں اس پیغمبرانہ کلام سے جو ہیبت طاری ہوگئی ہے وہ اگر با لکیہ دور نہ بھی ہوئی تو کم از کم معاملہ کو شک ہی میں ڈال دے گی اور ہمارے لئے اتنی بات ہی کافی ہے ۔ چناچہ یہی کچھ ہوا ۔ تفصیل اس کی سورة الاعراف آیت 112 میں درج کردی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمالیں۔
Ayah 10:80

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

جب جادوگر آموجود ہوئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تمہیں جو کچھ میدان میں ڈالنا ہے ڈال دو

جادوگر میدان میں آ جمع ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ڈالو جو تم ڈالنا چاہتے ہو 112 ؎ جیسا کہ آپ پیچھے سورة الاعراف میں پڑھ چکے ہیں کہ میدان مقابلہ طے پا گیا تھا اور جادوگر وہاں جمع ہوئے۔ امام رازی ؓ فرماتے ہیں کہ پہلے تو فرعون اور اس کے لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ رہے تھے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے شعبدباز اپنی شعبدہ بازی کے ذریعے ایک ایسی چیز کو جس کی حقیقت تو کچھ نہ ہوتی لیکن دیکھنے والے یہ سمجھتے کہ کچھ ہوا ہے جس کو ہماری زبان بیان نہیں کرسکتی اور فی الواقع اس کے ہونے پر کوئی دلیل بھی نہیں ہے لیکن اب موسیٰ (علیہ السلام) پورے ایقان کے ساتھ ان سے مطالبہ فرما رہے ہیں کہ ہاں ! بھائی لائو جو کچھ نہ ہونے کے باوجود کچھ لگتا ہے۔ مختصر یہ ہے کہ جب جادوگروقت معین میں جگہ معین پر آموجود ہوئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ ہاں ! بھائی جو کچھ تم ڈالنا چاہتے ہو ڈالو اور ان کے اس ڈالنے کی پوری تفصیل سورة الاعراف آیت 116 ، 117 میں ھ گزر چکی ہے ، وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 10:81

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

جب انہوں نے (اپنی لاٹھیاں اور رسیاں) ڈال دیں تو موسیٰ نے کہا تم جو کچھ بنا کر لائے ہو یہ جادو ہے اور یقینا اللہ اسے ملیامیٹ کر دے گا اللہ کا یہ قانون ہے کہ وہ مفسدوں کا کام نہیں سنوارتا

جب انہوں نے اپنا افسوس لوگوں کے سامنے پیش کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں ! یہ جادو ہے 113 ؎ جب انہوں نے وہ سب کچھ پیش کردیا جو افسوں گری وہ بنا کر لائے تھے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم میری آیات بینات کو سحر کہتے تھے وہ سحر نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت تھی لیکن سحر تو یہ تمہاری شعبدہ بازیاں ہیں جن کا تم مظاہرہ کر رہے ہو ! ابھی تم کو میرے اس قول کی صداقت کا علم ہوجاتا ہے کیونکہ سحر کیا ہے ؟ باطل ہی تو ہے اور باطل کا کام ہی کیا ہے ؟ مٹ جانا اور ابھی تم کو مٹا مٹایا نظر آئے گا ۔ اس لئے کہ حق ہمیشہ زندہ و پائندہ ہوتا ہے ۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس مقابلہ کو کون جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے ؟ بلا شبہ اللہ اسے توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا ، اس لئے کہ اس کی حققتے کچھ نہیں ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ فسادیوں کا کام کبھی بننے نہیں دیتا ۔ اس طرح گویا موسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ سحر میری وہ دعوت حق تو نہ تھی اس لئے کہ اس کے ساتھ دلائل تھے لیکن اس کے باوجود فرعون اور فرعون کے لوگوں نے اس کو سحر سے موسوم کیا البتہ سحر تو یہ ہے جسے تم لے کر آئے ہو لہٰذا اس سحر کو جس کو فرعون نے سحر کہا تھا اب موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے اس کو ” السحر “ بنا کر بیان فرما دیا اور ان کو بتادیا کہ وہی حقیقت جس کو تم سحر کہہ رہے تھے حالانکہ وہ سحر نہیں تھا اب سن لو کہ وہ جو تمہارے لوگوں نے پیش کیا فی الواقع ” السحر “ ہے ۔ لیکن اب یاد رکھنے کی چیز یہ ہے کہ فسادیوں کا عمل کبھی اصلاح والا نہیں ہو سکتا ۔ جب یہ حقیقت ہے کہ فرعون اور فرعون کے سارے لوگ فسادی ہیں تو ان کا عمل کیسے درست ہو سکتا ہے ؟
Ayah 10:82

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

وہ حق کو اپنے احکام کے مطابق ضرور ثابت کر دکھائے گا اگرچہ ان لوگوں کو جو مجرم ہیں ایسا ہونا پسند نہ آئے

وہ حق کو اپنے احکام کے مطابق ثابت کر دکھائے گا اگرچہ مجرم پسند نہ کریں 114 ؎ حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی کو جو کچھ مد نظر ہے وہ بہر حال و صورت واقع ہو کر رہے گا منکرین خواہ کچھ بھی کہیں اور کفارلوگ کتنا بھی ناک بھوں چڑھائیں اور جرائم پیشہ لوگوں کی پیشانیوں پر بل پڑتے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پرواہ نہیں وہ تو اپنے ارشادات طیبات سے حق کو سر بلند کر کے چھوڑے گا اس لئے کہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔ ’ ’ وہ حق کو اپنے احکام کے مطابق ضرور ثابت کر دکھائے گا “۔ اس لئے کہ وہ جب بھی علامت تعریف کے ساتھ کس بات کو ” الحق “ کہتا ہے تو اس سے بھی مقصود یہی حقیقت ہوتی ہے اور اس لئے وہ اکثر حالتوں میں صرف ” الحق “ کہہ کر خاموش ہوجاتا ہے اور اس سے زیادہ کچھ کہنا ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ اگر فطرت کائنات کا یہ قانون ہے کہ وہ حق و باطل کی نزاع میں ” حق “ ہی کو باقی رکھتی ہے تو کسی بات کے امر حق ہونے کیلئے صرف اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ وہ ” حق “ ہے یعنی باقی و قائم رہنے والی حقیقت ہے اس کا بقاء و قیام خود ہی اپنی حقیقت کا اعلان کر دے گا اور اس کو قانون ” قضاء بالحق “ کے نام سے قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو دیکھو اس پر بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر کوئی ایمان نہیں لایا مگر صرف ایک گروہ جو اس کی قوم کے نوجوانوں کا گروہ تھا وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتا ہوا کہ کہیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں اور اس میں شک نہیں کہ فرعون ملک میں بڑا ہی سرکش تھا اور اس میں بھی شک نہیں کہ بالکل چھوٹ تھا

موسیٰ (علیہ السلام) پر آپ کی قوم کو صرف ایک نوجوان گروہ ہی ایمان لایا تھا 115 ؎ وہ لوگ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنی قوم یعنی قوم بنی اسرائیل سے ایمان لائے تھے وہ وہی تھے جن کو ” ذریۃ من قومہ “ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ” ذریۃ “ کے اصلی معنی تو کم سن اولاد کے ہوتے ہیں لیکن نسل و اولاد کے معنوں میں مطلقاً بھی بولا جاتا ہے اس جگہ چونکہ قوم کے ساتھ ذریت کا لفظ آیا ہے اس لئے کہ لغوی معنوں ہی میں آیا ہو یعنی قوم بنی اسرائیل کے کم سن افراد اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جب کبھی مقاصد و عزائم کی راہ میں شوائد و محن کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو قوم کے بڑے بوڑھوں سے بہت کم امید کی جاسکتی ہے۔ زیادہ تر نئی نسل کے نوجوان ہی آگے بڑھتے ہیں کیونکہ بڑے بوڑھوں کی ساری زندگیاں ظلم و فساد کی آب و ہوا میں بسر ہو چکتی ہیں اور محکومی کی حالت میں رہتے ہوئے عاقبت کو شی کے عادی ہوجاتے ہیں ۔ البتہ نوجوانوں میں نیا دماغ ہوتا ہے ، نیا خون ہوتا ہے ، نئی امنگیں ہوتی ہیں ، انہیں شدائد و محن کا خوف مرعوب نہیں کرتا یا بہت کم کرتا ہے اس لئے وہی پہلے قدم اٹھاتے ہیں پھر تمام قوم ان کے پیچھے چلنے لگتی ہے۔ یہ بات قرآن کریم نے خاص طور پر نمایاں کر کے اس لئے پیش کی ہے کہ مکہ کی آبادی میں سے بھی رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دینے کیلئے جو لوگ آگے بڑھے تھے وہ قوم کے بڑے بوڑھے اور سن رسیدہ لوگ نہ تھے بلکہ چند باہمت نوجوان ہی تھے وہ ابتدائی مسلمان جو ان آیات کے نزول کے وقت ساری قوم کی شدید مخالفت کے مقابلے میں صداقت اسلامی کی حمایت کر رہے تھے اور ظلم و ستم کے اس طوفان میں ہیں جن کے سینے اسلام کیلئے سپر بنے ہوئے تھے ان میں یقینا مصلحت کوش بوڑھا کوئی نہ تھا سب کے سب جوان لوگ ہی تھے ۔ علی ؓ بن ابی طالب ، جعفر طیار ؓ ، زبیر ؓ ، طلحہ ؓ ، سعید ؓ بن ابی وقاص ، مصعب بن عمیر ؓ ، عبد اللہ ؓ بن مسعود ، عبد اللہ بن عباس ؓ ، عبد الرحمن بن عوف ؓ ، بلال ؓ اور صہیب ؓ سب کی عمریں بیس تیس سال کے درمیان ہی تھیں اور کچھ ان میں دس سے بیس سال تک کے صحابہ ؓ بھی تھے اور بلا شبہ ان میں 30 تا 50 سال کی عمر کے لوگ بھی تھے لیکن یہ عمر بھی یقینا جوانی ہی کی عمر سمجھی جاتی ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ جو آنکھیں بند کر کے کہی جاسکتی ہے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والے آپ ﷺ کی عمر سے کم ہی کے لوگ تھے ، زیادہ کے نہیں تھے اور جو ایک دو بڑے تھے وہ فی الواقع ایک دو ہی کی تعداد میں تھے جن میں سے ایک یعنی عبیدہ بن الحارث المطلبی بیان کئے جاتے ہیں اور خیال یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ بہر حال مصر میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی یہی صورت پیش آئی اور فرعون کے قہر و استبدادنے بنی اسرائیل کے بڑے بوڑھوں کی ہمتیں سلب کردی تھیں وہ شکر گزار ہونے کی جگہ الٹی شکایتیں کرتے لیکن نوجوانوں کا حال یہ نہ تھا ۔ ان میں ایک گروہ ایسا نکل آیا جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے احکام کے سچے دل سے تعمیل کی ۔
Ayah 10:84

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا لوگو ! اگر تم فی الحقیقت اللہ پر ایمان لائے ہو اور اس کی فرمانبرداری کرنی چاہتے ہو تو چاہیے کہ صرف اس پر بھروسہ رکھو

موسیٰ (علیہ السلام) کا فرمان کہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ پر بھروسہ کرو 116 ؎ فرعونیوں نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی ماننے سے انکار کیا اور سوائے چند معدودے آیتوں کے جو گنتی کے آٹھ دس آدمی ہوتے تھے سب نے منہ پھیر دیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو بھی نہایت بری طرح سے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تو کثرت سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو مان چکے تھے اگرچہ ان میں سے بعض آپ کا کھلا ساتھ دینے کیلئے تیار نہ تھے اور ایسے مصلحت اندیش لوگ ہر نبی کی قوم میں تھے جن کی پوزیشن درمیان ہی میں لٹکے ہوئوں کی ہوتی ہے اور وہ وہی لوگ تھے جو قوم کے بوڑھے تھے جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے اس لئے اس جگہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کی تربیت فرماتے ہوئے ان کو ارشاد فرما رہے ہیں کہ اگر تم اللہ تعالیٰ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو تو تم کو حالات کی تمام ناسازگاریوں کے باوجود گھبرانا نہیں ہوگا بلکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر مکمل بھروسہ کرنا ہو گا اس لئے کہ راہ حق کے مسافر کیلئے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہی اصل میں ایمان ہے اور زیر نظر آیت نے اس غلط فہمی کا ازالہ بھی کردیا جو بعض مفسرین کو گزشتہ آیت سے لگی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی اکثریت ایمان نہیں لائی بلکہ چند معدودے آدمی ایسے تھے جو ایمان نہیں لائے تھے۔ اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو مخاطب کر کے فرمایا اور جن کو فرمایا وہ وہی تھے جو صحیح معنوں میں موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے کیونکہ کسی کافر قوم کو اس طرح خطاب نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کا یہ ارشاد صاف بتا رہا ہے کہ بنی اسرائیل کی پوری قوم یا قوم کی اکثریت مسلمان تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) ان کو تلقین کر رہے تھے کہ اگر تم واقعی مسلمان ہو تو جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو فرعون کی طاقت سے خوفزدہ نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طاقت پر بھروسہ رکھو کیونکہ اللہ پر بھروسہ رکھنا ہی دراصل ایمان ہے۔
Ayahs 10:85–86

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا اے پروردگار ! ہمیں اس ظالم گروہ کے لیے آزمائشوں کا موجب نہ بنائیو

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے ایسا کیجیو کہ اس کافر گروہ کے پنجہ سے ہم نجات پائیں

بنی اسرائیل کے نوجوانوں نے کہا کہ ہمارا بھروسہ تو یقینا اللہ ہی پر ہے 117 ؎ اوپر کی آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) نے جو تلقین اپنی قوم کو کی تھی اس کا جواب آپ کی قوم کی طرف سے دیا جا رہا ہے اور ان جان بازوں نے اپنے رسول ﷺ کے اس سبق کو یاد رکھنے اور اس کے مطابق عمل کرتے رہنے کا جو وعدہ کیا اور پھر اپنے پروردگار کی بارگاہ عزت و جلال میں دامن طلب پھیلا کر التجا کرنی شروع کردی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس ظلم قوم یعنی قوم فرعون کیلئے فتنہ نہ بنا اور یہ جواب ظاہر ہے کہ ان نوجوانوں ہی کا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دینے کیلئے واضح طور پر کھڑے ہوچکے تھے اور ان کے دلوں میں کسی طرح کا کوئی خوف موجود نہ تھا اس لئے ان صادق ال ایمان نوجوانوں کی یہ دعا کہ ” اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ہمیں اس ظالم گروہ کیلئے آزمائش کا موجب نہ بنا “ ۔ بہت ہی وسیع مفہوم پر حاوی ہے۔ آزمائش و فتنہ کے دو مفہوم بیان کئے گئے ہیں یعنی ہمیں ان کے ظلم و ستم کا ہدف نہ بنا ۔ مبادیٰ ہماری قوت برداشت جواب دے دے اور ہمارے پائوں ڈگمگا جائیں اور صبر و اسقامت کا دامن ہمارے ساتھ سے چھوٹ جائے۔ دوسرا مفہوم جو زیادہ پسندیدہ ہے وہ یہ ہے کہ اگر ان کے ظلم و تشدد کے مقابلہ میں ہماری بےبسی کا یہی عالم رہا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی برتری کے باعث اپنے بر حق ہونے کی غلط فہمی میں مبتلا ہوجائیں ۔ وہ جب دیکھیں گے کہ انہوں نے تو ہم پر مظالم کی انتہا کردی ہے اور مار مار کر ہمیں لہولہان کردیا ہے اور ان میں سے تو کسی کی نکسیر تک نہیں پھوٹی تو وہ یقین کرلیں گے کہ ہمارا کوئی خدا نہیں ورنہ اس کی غیرت اپنے بندوں کی اس رسوائی کو برداشت نہ کرسکتی اور یہی غلط فہمی ان کو اپنے کفر پر پکا نہ کرے۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی پر وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں مکان بناؤ اور اپنے مکانوں کو قبلہ رخ تعمیر کرو نیز نماز قائم کرو اور جو ایمان لائے ہیں انہیں بشارت دو

موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کیلئے ہدایت الٰہی کہ قوم کیلئے قبلہ رخ مکان تعمیر کرو 119 ؎ عبادت سارے مذاہب کی جان ہے اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنی قوم کے لوگوں کو کہا کہ ” اپنے مکان قبلہ رخ بنائو اور نماز قائم کرو “ ۔ کیا اس سے پہلے بنی اسرائیل عبادت نہیں کیا کرتے تھے ؟ اس کا جواب ایک تو یہ دیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے تو بنی اسرائیل نے عبادت کیلئے عبادت گاہیں تعمیر کی ہوئی تھیں اور ان میں اجتماعی عبادت کیا کرتے تھے لیکن جب موسیٰ (علیہ السلام) نے نبوت کا اعلان کیا اور فرعون کو اللہ کا حکم سنایا تو فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کی عبادت گاہیں مسمار کردیں جائیں چناچہ اس کے حکم سے وہ مسمار کردی گئیں اور ان کی مذہبی عبادت اور اجتماعات پر بھی پابندی لگا دی گئی اور اہل استبداد ہمیشہ سے ایسی حرکتیں کرتے آئے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں ۔ ان حالات میں جب کہ ان کی عبادت گاہیں کھنڈرات بنا دی گئیں اور بعد میں موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے حکم دیا کہ تم اپنی قوم کو کہو کہ وہ اپنے مکان قبلہ رخ تعمیر کریں اور وہیں نمازیں ادا کیا کریں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے مکان کے اندر مخصوص جگہ تعمیر کرلینے کا حکم دیا گیا ہوتا کہ عبادت ان مخصوص جگہوں میں ادا کی جائے تاکہ انتشار بھی نہ رہے اور عبادت کا سلسلہ جو ہر مذہب و ملت کی جان ہے وہ بھی برابر چلتا رہے ۔ دوسرا سوال اس جگہ یہ اٹھایا گیا کہ قبلہ رخ کا مفہوم کیا ہے یعنی قبلہ کونسا قبلہ تھا جس کی سمت ضروری قرار دی گئی ۔ یعنی وہ بیت اللہ خانہ کعبہ تھا بیت المقدس یا کوئی دوسرا قبلہ اور پھر اس کے مختلف جواب بھی دیئے گئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ بیت اللہ جس کی طرف بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا گیا وہ کعبہ ہی تھا چناچہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس قبلہ سے مراد کعبہ ہے اور کعبہ ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کا قبلہ تھا۔ ( قرطبی) بلکہ بعض علمائے تحقیق نے لکھا ہے کہ سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا قبلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کعبہ ہی قرار دیا گیا تھا تبدیلی قبلہ قوموں کی گمراہی کا نتیجہ تھا اور جس حدیث میں ارشاد ہے کہ یہود اپنی نمازوں میں مخرہ بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد دوبارہ یہود میں اس گمراہی کے باعث ہوا جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے ۔ ہاں ! اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ استقبال قبلہ کی شرط انبیاء (علیہ السلام) سابقین کے زمانہ میں بھی تھی اور اس طرح نماز کے دوسرے فرائض کا حال ہے اس لئے حکم الٰہی میں کبھی تبدیلی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کا کوئی امکان تھا لیکن قومی گمراہی کا باعث ہر زمانہ کچھ نہ کچھ اوپر نیچے کیا جاتا رہا اور آج بھی بہت کچھ کیا گیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگ کرنا شروع کردیتے ہیں اور پھر جب قوم میں رواج عام ہوجاتا ہے تو وہ کام دین کا ایک حصہ سمجھ لیا جاتا جس پر عمل کرنا بہت ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ غور کرو کہ جب تک اس ملک عزیز میں سپیکر نہیں آیا تھا اس وقت اذان موقت سے قبل یہ صلوٰۃ جو بناوٹی اور خود ساختہ ہے اور نہایت اہتمام کے ساتھ اذان موقت سے پہلے پڑھی جاتی ہے کہاں پڑھی جاتی تھی لیکن اس وقت مسلمانوں ہی کے ایک گروہ نے اس کو فرض سے بھی زیادہ اہمیت دے دی ہے اور بعینہٖ اس طریقہ سے یہ ہی مسجد کے اندر رسم قل کا ادا کرنا ہے آج جب 1996 ء جا رہا ہے چند سال قبل اس کا نام و نشان بھی مساجد میں نہ تھا جو گروہ اس کا اہتمام کرتا تھا وہ بھی گھروں میں انفرادی طور پر ملاں جی سے کروا لیا کرتے تھے لیکن اس وقت دیکھتے ہی دیکھتے کیا شہر اور کیا گائوں سب جگہ پر اس کا اہتمام مساجد میں ہوتا ہے اور اس قدر پابندی سے ہوتا ہے کہ اس قدر پابندی نمازوں کی بھی نہیں کی جاتی کیوں ؟ اس لئے کہ یہ ملاں جی کے پیٹ کا دھندا ہے اور ایک طرح کا کاروبار اور دکانداری ہے جس کو دین کی رسم کے طور پر ادا کیا جاتا ہے۔ بہر حال وہ گھروں میں علیحدہ قبلہ رخ عبادت گاہیں بنا نے کا حکم تھا یا سارے گھروں کو قبلہ رخ تیار کرنے کا حکم ؟ اس کی تعمیل کی گئی اور بنی اسرائیل میں قیام صلوٰہ کا پابندی کے ساتھ ادا کرنا ضروری قرار پایا کیونکہ قوم کی اجتماعی زندگی کیلئے اس کا اہتمام لازم و ضروری تھا اور ہے لیکن افسوس کہ آج قوم مسلم نے بھی اس حکم میں بہت تساہل سے کام لینا شروع کردیا اور اس وقت جو قوم مسلم میں صلوٰۃ ادا کی جاتی ہے وہ بھی صرف ایک رسم کی حد تک ہے اس کی اصل روح کہیں بھی نظر نہیں آتی ۔ بہر حال بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ اگر فرعون تم کو عبادت گاہوں سے روکتا ہے تو اس کے روکنے سے صلوٰۃ ساقط نہیں ہوجاتی تم اپنے اپنے گھروں میں صلوٰۃ ادا کرلیا کرو اور گھروں میں بھی قبلہ کا اہتمام لازم و ضروری ہے جو صلوٰۃ کیلئے شرط اول قرار دی گئی ہے اور نماز کی اصل روح یہ ہے کہ اس کے اہتمام سے دشمنوں پر غلبہ نصیب ہوگا اور آخرت کی زندگی بھی سنور جائے گی۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا مانگی کہ اے اللہ ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو اس دنیا کی زندگی میں زیب وزینت کی چیزیں اور مال و دولت کی شوکتیں بخشی ہیں تو خدایا کیا یہ اس لیے ہے کہ تیری راہ سے یہ لوگوں کو بھٹکائیں ، اے ہمارے رب ! ان کی دولت زائل کر دے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دے کہ اس وقت تک یقین نہ کریں گے جب تک عذاب دردناک اپنے سامنے نہ دیکھ لیں گے

موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کہ اے اللہ ! فرعون اور اس کے سرداروں کو اتنی شان و شوکت کیوں ؟ 120 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعا کا ذکر جو انہوں نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی شان و شوکت اور ان کی بد اعمالیوں کو دیکھ کر کی اور واضح طور پر فرمایا کہ اے پروردگار ! تو نے فرعون اور قوم فرعون کو زینت دنیا کا سازو سامان اور مال و دولت وافر عطا فرمایا کہ مصر سے لے کر ارض حبشہ تک سونے ، چاندی اور زبر جد و زمرد اور یاقوت وغیرہ جواہرات کی کانیں عطا فرمائیں جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ تیرے لوگوں کو تیرے راستہ سے گمراہ کرتے ہیں کیونکہ عام لوگ ان کے اس ظاہری سازو سامان اور عیش و راحت کو دیکھ کر اس شک میں پڑجاتے ہیں کہ اگر یہ گمرہی پر ہوتے تو ان کو اللہ تعالیٰ کی یہ نعمتیں کیوں ملتیں کیونکہ عام لوگوں کی نظریں اس حقیقت تک نہیں پہنچتیں کہ دنیا کا فروغ بغیر نیک عمل کے کسی انسان کے حق پر ہونے کی علامت نہیں ہو سکتی لیکن عوام تو کالانعام ہیں وہ تو بہت جلد اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ رب ذوالجلال میں عرض کی کہ اے ہمارے پروردگار یہ آرائش و تجمیل کے ان گنت سامان ، یہ دولت و ثروت کی ریل پیل کیا انہیں اس لئے دی گئی کہ یہ رنگ رلیاں مناتے رہیں اور دا اد عیش دیتے رہیں ۔ نہ تجھے یاد کریں اور نہ تیرے انعامات پر تیرا شکریہ ادا کریں ۔ ان کے عشرت کدوں کے سایہ میں مجبور و مقہور انسانیت سسکتی رہے ، کر اہتی رہے اور انہیں کبھی اس کا خیال تک نہ آئے ۔ یہ نشہ دولت میں اتنے سر مست رہیں اور ان تاریک جھونپڑی کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں جہاں غربت اور فاقہ کشی نے اپنے ظالم پنجے گاڑرکھے ہیں ۔ اب تو ان بےرحم ہاتھوں سے ظلم کی تلوار چھین لے اور اے منتقم حقیقی ! یہ زر و سیم کے انبار جنہوں نے انہیں بد دماغ بنا دیا ہے اب ان کو بھسم کر دے یعنی ان سے چھین لے اور یہ معنی ہیں واشدد علی قلوبھم کے کہ اے اللہ ! ان کے دلوں پر حملہ کر اور دلوں کی محبوب چیزیں چھین لینا دلوں پر حملہ کرنا ہے۔ خدایا ان کی دولت کو زائل کر دے اور ان پر تباہ کن عذاب نازل فرما 121 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا ابھی جاری ہے اور ہاتھ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں اٹھے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ” خدایا ان کی دولت زائل کر دے اور ان کے دلوں پر مہرلگا دے کہ یہ اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک عذاب درد ناک اپنے سامنے نہ دیکھ لیں “۔ ایسے بد بختوں کی ہلاکت پر بربادی کی تمنا کرنا ایسا ہی ہے جیسے موذی جانوروں سانپ اور بچھو وغیرہ کے ہلاک ہونے کی تمنا کرنا ہے اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا اس وقت نہ کی جب تک ان پر ان کا حال مکشوف نہ ہوا اور آپ الٰہی ارادہ کی اطلاع نہ دی گئی ۔ یہ دعا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے زمانہ قیام مصر کے آخری حصہ میں کی تھی اور اس وقت کی تھی جب پے در پے نشانات دیکھ لئے اور دین کی حجت پوری ہوگئی فرعون اور اس کے اعیان سلطنت حق کی دشمنی پر انتہائی ہٹ دھرمی کے ساتھ جمے رہے ایسے موقع پر پیغمبر جو بد دعا کرتا ہے وہ ٹھیک ٹھیک وہی ہوتی ہے جو کفر پر اصرار کرنے والوں کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو یعنی یہ کہ اس کے بعد انہیں ایمان کی توفیق نہ بخشی جائے گی اور یہ کہ ان کی ہلاکت کا وقت قریب آگیا ہے بلکہ فیصلہ الٰہی کی ترجمانی پیغمبر کے ذریعے سے قوم کو سنا دی جاتی ہے اور یہی صورت یہاں ہوئی کہ یہ خبر سنانے کے بعد جو دعا کے رنگ میں فرعون اور اس کی قوم کو سنائی گئی موسیٰ (علیہ السلام) مع اپنی قوم بنی اسرائیل کے مصر سے ہجرت کر گئے ۔ مشیت ایزدی پر غور کیجئے کہ بنی اسرائیل کی اکثریت اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نکل گئی تا ہم تھوڑے ہی لیکن ابھی کچھ بنی اسرائیل مصر میں بھی رہ گئے تھے خواہ مصلحت کے تحت یا پروگرام کے مطابق جو موسیٰ (علیہ السلام) نے ترتیب دیا تھا۔ اس لئے فیصلہ الٰہی یہ ہوا کہ مصر اور اس علاقہ کو بربادی حکم ابھی نہیں دیا گیا ہاں ! یہ حکم فرعون اور اس کی قوم کے ان لوگوں کیلئے ہے جو مخالفت میں ڈٹے ہوئے تھے اور فرعون کی اپنی قوم سے بھی کچھ لوگ موجود تھے اگرچہ وہ چند معدودے آدمی ہوں اس لئے بنی اسرائیل کا تعاقب کرنے کیلئے ان سارے لوگوں کو اس علاقہ سے باہر لے جایا گیا تاکہ سرزمین مصر اس عذاب کی زد میں نہ آئے اور باہر لے جا کر اس جگہ جس جگہ سے سمندر پایاب پا کر موسیٰ (علیہ السلام) بحکم الٰہی سمندر پار ہوئے تھے فرعون اور اس کے سارے لشکر کو غرق کر کے رکھ دیا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

فرمایا میں نے تم دونوں کی دعا قبول کی تو اب تم جم کر کھڑے ہوجاؤ اور ان لوگوں کی پیروی نہ کرو جو نہیں جانتے

موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کی دعا قبول کرتے ہوئے ان کو اطلاع کردی گئی 122 ؎ اب اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو خبر دی جا رہی ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوچکی ہے اور مشیت ایزدی میں ان کی ہلاکت کا وقت طے ہوچکا ہے اور تم دونوں یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اپنے موقف پر جمے رہو اور حکم الٰہی کا انتظار کرو اور جونہی حکم تم کو دیا جائے اس کی پیرو اختیار کرو اور ان مفسدین کی پیروی مت کرو۔ چناچہ حدیث میں آتا کہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا کرتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے اس لئے یہ مسئلہ اسلام میں طے ہے کہ دعا کرنے والا آمین کہنے والا سب دعا میں برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ دعا پر آمین کہنا بھی دعا ہے اور یہ بھی کہ دعا مانگنے والا اگر دعا آہستہ مانگ رہا ہے تو آمین بھی آہستہ کہو اور اگر دل میں وہ مانگ رہا ہے تو آمین بھی دل میں کہنا درست ہے اور یہ بھی ساتھ بتا دیا کہ دعا کی قبولیت کا وقت عند اللہ مقرر ہوچکا ہے تم دونوں جلد بازی سے کام نہ لینا بلکہ آنے والے وقت کے منتظر رہنا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ حقیقت کا علم نہیں رکھتے اور اللہ کی مصلحتوں کو نہیں سمجھتے وہ باطل کے مقابلہ میں حق کی کمزوری اور اقامت حق کیلئے سعی کرنے والوں کی مسلسل ناکامیاں اور ائمہ باطل کے ٹھاٹھ باٹھ اور ان کی دنیوی سرفرازیاں دیکھ کر یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے کہ اس کے باغی دنیا میں چھائے ہیں اور پھر وہ حقیقت سے بیخبر لوگ اپنی بد گمانیوں کی بناء پر خود ہی نتیجہ نکال بیٹھتے ہیں کہ اقامت حق کی سعی لا حاصل ہے اور اب مناسب یہی ہے کہ اس ذرا سی دینداری پر راضی ہو کر بیٹھ رہا جائے جس کی اجازت کفر و فسق کی سلطانی میں مل رہی ہو ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی غلطی کیلئے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے پیروئوں کو اس غلطی سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے اور فرمایا کہ دیکھو تم انہی ناموافق حالات میں کام کئے جائو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی وہی غلط فہمی ہوجائے جو ایسے حالات میں جاہلوں اور نا دانوں کو عموماً لا حق ہوجایا کرتی ہے ۔ پس ان دونوں انبیائے کرام (علیہ السلام) کو اپنی جگہ کام کئے جانے کا حکم دیا اور فرما دیا کہ جب تم کو جیسی اطلاع ملے اس کی پیروی تم پر لازم ہے اور نہ جاننے والوں کی راہ نہ اختیار کی جائے۔
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور پھر ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے لشکر نے پیچھا کیا مقصود یہ تھا کہ ظلم و شرارت کریں لیکن جب حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ فرعون سمندر میں غرق ہونے لگا تو اس وقت پکار اٹھا میں یقین کرتا ہوں کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور میں بھی اس کے فرمانبرداروں میں ہوں

بنی اسرائیل کو سمندر سے پار جاتے دیکھ کر فرعون اور اس کے لشکر نے تعاقب کیا 123 ؎ بنی اسرائیل کے سمندر سے پار ہونے اور فرعون کے تعاقب کرنے کی تفصیل پیچھے سورة البقرہ 2 : 50 اور سورة الاعراف 7 : 136 میں پوری وضاحت سے گزر چکا ہے اس کیلئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ اور عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة الاعراف 7 کی آیت 136 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔ غرق ہوتے وقت فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی تصدیق 124 ؎ بنی اسرائیل سمندر پار کر رہے تھے کہ فرعون نے آگے کی طرف سے سمندر پار کر کے ان کا تعاقب کرنا چاہا تو اچانک سمندر کی تیز و تند موجوں نے اس کو بپھر کر اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پھر صرف اس کو نہیں بلکہ اس کے پورے لشکر کو آن کی آن میں بھسم کر کے رکھ دیا اور عین اس وقت جب وہ ان موجوں کے نرغہ میں تھا اور اسے اپنی ہلاکت کے بارے میں کوئی شبہ نہ رہا تو اس کی خدائی کا سارا نشہ ہرن ہوگیا اور ایسا رام ہوا کہ اپنے ایمان لانے کا اعلان کردیا ۔ وہ کون تھا جس نے اس کے اعلان کو سنا ؟ وہ وہی تھا جس نے اس کو پیدا کیا اور حکومت بخشی اور وہی ہی سرفراز فرما کر فرعون کے سامنے لے جا کر کھڑا کیا ۔ بھلا وہ کون تھا ؟ بس وہ وہی تھا جس نے فرعون کے غرق ہونے کے متعلق اس کے ایمان لانے کی خبر دی اور ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ یہ وقت ایسا تھا کہ اس کے ایمان لانے اس کو ذرا بھی فائدہ نہ دیا اگرچہ اس کے ایمان لانے کے الفاظ بالکل صاف اور غیر مبہم تھے کہ اس نے کہا کہ ” میں یقین کرتا ہوں کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور میں بھی اس کے فرمانبرداروں میں ہوں “۔ اس سے صاف الفاظ اور کیا ہو سکتے ہیں ؟ یہی وجہ ہے کہ یہ الفاظ اس کے بےوقت تھے اور موت کے وقت کا ایمان معتبر نہیں چناچہ حدیث میں ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا کہ ’ ’ اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ قبول فرماتا رہتا ہے جب تک کہ غر غرہ موت کا وقت نہ آجائے ‘۔ ( ترمذی)
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

ہاں ! اب تو ایمان لایا حالانکہ پہلے برابر نافرمانی کرتا رہا اور تو دنیا کے مفسد انسانوں میں سے ایک مفسد تھا

فرعون کی بےوقت تصدیق اس کے کچھ بھی کام نہ آئی 125 ؎ اور عذاب کا فرشتہ جب آ کر شہ رگ کو دبوچ لے اور پردہ غیب میں مستور حقائق جب بےحجاب دکھائی دینے لگیں تو اس وقت ایمان لانا شریعت میں معتبر نہیں اس لئے حالت اضطرار میں جب فرعون نے ایمان لانے کا اعلان کیا تو اسے اس کے منہ پر پٹخ دیا گیا اگرچہ بائبل میں فرعون کے ایمان لانے کا تذکرہ نہیں لیکن تلمود میں صراحتہ ً مذکور ہے کہ اس وقت فرعون نے کہا ” میں تجھ پر ایمان لاتا ہوں اے خداوند ! تیرے سوا کوئی خدا نہیں “۔ (تفہیم القرآن جلد دوم ص 310)
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

پس آج ہم ایسا کریں گے کہ تیرے جسم کو بچا لیں گے تاکہ ان لوگوں کے لیے جو تیرے بعد آنے والے ہیں ایک نشانی ہو اور اکثر انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں کی طرف سے یک قلم غافل رہتے ہیں

فرعون کو اس وقت اس کی پکار کا واضح جواب سنا دیا گیا کہ اب تیرا کچھ کہنا بےسود ہے 126 ؎ فرعون کی بےوقت درخواست کا جواب اس کو اس نازک وقت میں سنا دیا گیا ۔ اس کا مضمون بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے یعنی مشیت الٰہی کا یہ فیصلہ کہ فرعون کے جسم کو غرق ہونے سے نجات دی جائے گی تاکہ آنے والی قوموں کیلئے قدرت الٰہی کی نشانی ہو اور اس لئے قدیم مفسرین کو حل مطلب میں بہت پریشانیاں اور مشکلات پیش آئیں لیک ن اگر ذرا رقت نظر سے کام لیا جائے تو مطلب بالکل واضح ہے ۔ قدیم مصریوں میں حنوط کا طریقہ رائج تھا یعنی بادشاہوں اور امیروں کی نعشیں ایک خاص طرح کا مصالحہ لگا کر ایک عرصہ تک کیلئے محفوظ کردیتے تھے چناچہ اٹھارویں صدی کے اوائل سے لے کر اس وقت تک بیشمار نعشیں مصر میں نکل چکی ہیں اور دنیا کا کوئی عجائب خانہ نہیں جس کے حصے میں دو چار نعشیں نہ آئی ہوں اس طرح کی نعشوں کیلئے ” ممی “ کا لفظ یونانیوں نے استعمال کیا تھا جو غالباً خود مصریوں ہی کی اصطلاح تھی۔ آیت کے مطلب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ، فرمایا تو اب موت سے تو نہیں بچ سکتا لیکن تیرا جسم سمندر کی موجوں سے بچالیا جائے گا تاکہ وہ حسب معمول ” ممی “ کر کے رکھا جائے اور آنے والی نسلوں کیلئے عبرت و تذکیر کا موجب ہے ۔ اگر مصریات کے بعض علماء کی یہ تحقیق درست ہے کہ یہ فرعون ریمسیس ثانی تھا تو اس کا بدن آج تک زائل نہیں ہوا ہے کیونکہ اس کی ” ممی “ نکل آئی ہے اور قاہرہ کے دارالاثار میں صحیح وسالم ہے ۔ ممکن تھا کہ سمندر کی بےرحم موجیں اس کی نعش کو کہیں دور بہا لے جائیں اور سمندر کا کھارا پانی تھوڑی دیر بعد اس کے گوشت پوست کو گلا کر رکھ دیتا یا بحری جانور اس کو نگل جاتے اور اس کا کوئی نشان تک باقی نہ رہتا لیکن قدرت کو یہ منظور نہ تھا کہ دنیا خدائی کے جھوٹے مدعی کے ہولناک انجام کو فراموش کر دے چناچہ سمندر کی موجوں کو حکم ملا اور انہوں نے اس کے بےروح جسم کو اٹھا کر ایک ٹیلے پر پھینک دیا اور یہ جگہ آج بھی جبل فرعون کے نام سے مشہور ہے اور وہاں کے لوگ بتاتے ہیں کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں فرعون کی لاش کو سمندر نے پھینکا تھا اس کی لاش کو دیکھ کر بنی اسرائیل کو بھی اس کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا اور باقی لوگوں کیلئے بھی اس میں درس عبرت رکھ دیا گیا ۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو بسنے کا بہت اچھا ٹھکانہ دیا تھا اور پاکیزہ چیزوں سے ان کی روزی کا سامان کردیا تھا پھر جب کبھی انہوں نے اختلاف کیا تو علم کی روشنی ضرور ان پر نمودار ہوگئی قیامت کے دن تمہارا پروردگار ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں باہم اختلاف کرتے رہے تھے

بنی اسرائیل پر انعامات الٰہی کا تذکرہ اور علمی روشنی کا ذکر 127 ؎ بنی اسرائیل کو فرعون جیسے دشمن سے جب نجات مل گئی تو ان کو چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا اس پر بہت شکر ادا کرتے لیکن انہوں نے دین میں تفرقے برپا کئے اور نئے نئے مذہب نکالے ۔ فرمایا اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کو حقیقت کا علم نہیں دیا گیا تھا اور نا واقفیت کی بناء پر انہوں نے مجبوراً کیا یا ان سے ایسا ہوگیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ ان کی اپنی شرارتوں کا نتیجہ تھا خدا کی طرف سے انہیں واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ دین حق یہ ہے کہ یہ اس کے اصول ہیں اور یہ اس کے تقاضے اور مطالبے ہیں اور خصوصاً ہجرت مصر کے بعد تو موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلا کر ان کو تورات دی لیکن بنی اسرائیل نت نئی شرارتیں کرنے لگے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے الٹے سیدھے سوال کرنے لگے حالانکہ ان کو مصر کی ہجرت کے بعد بہت اچھا ٹھکانا دیا گیا اور عمدہ سے عمدہ چیزیں بھی ان کی فرمائشوں کے مطابق دی گئیں لیک نان کی کم بختی کہ انہوں نے ایک دین کے بیسیوں دین بنا دیئے اور اختلاف کا وہ بازاز گرم کیا کہ آپس ہی میں الجھ کر رہ گئے اور اللہ کے اصل دین کو چھوڑ کر دوسری ہی بنیادوں پر اپنے مذہبی فرقوں کی بنیادی کھڑی کرلیں جیسا کہ آج کل مسلمانوں کی حالت ہو رہی ہے کہ دین اسلام کے نام پر وہ مطمئن نہیں رہے اور جب تک ان کی بنائی ہوئی فرقہ بندی کا نام نہ لیا جائے وہ قطعاً مطمئن نہیں ہوتے ۔ کسی کو پوچھوکر دیکھ لو کہ وہ آپ کو اپنا تعارف اسلام کے نام سے کرائے گا ؟ پھر ستم یہ کہ سارے فرقے ایک دوسرے کو گمراہ اور ضال قرار دیتے ہیں اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے قطعا ً تیار نہیں ۔ بس یوں سمجھ لو کہ آج ہماری وہی حالت ہے جو اس وقت بنی اسرائیل کی تھی بلکہ بعض باتوں میں ان سے بھی بدتر ہیں۔ ان کے اختلافات کا فیصلہ قیامت کے روز ان کو سنا دیا جائے گا 128 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ” قیامت کے روز تمہارا پروردگار ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں باہم اختلاف کرتے رہے تھے۔ “ لیکن معاملہ یہ کہ اس دن کیا گیا فیصلہ کیا ان کیلئے مفید مطلب بھی ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ ان کو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس میں ان کی رسوائی کا پہلو نکلتا ہے کہ تم وہی لوگ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات سے نوازا تھا ؟ فرمایا اور تو چھوڑو صرف ان کی اس گمراہی کو دیکھو کہ ایک وقت تھا کہ نبی آخر الزماں کے متعلق جو نشانیاں وہ تورات میں پڑھتے تھے اور آپ ﷺ کے آنے کا شدت سے انتظار کر رہے تھے جب وہ رسول ﷺ آگئے تو بجائے اس کے وہ سب سے پہلے ایمان لاتے انہوں نے انکار میں پہل کی اور پھر صرف یہی نہیں کہ صرف انکار کیا بلکہ انکار کے بعد قیامت میں کمر بستہ ہوگئے اور پھر اتنے چھوٹ ہوگئے کہ خود تو مخالفت کر ہی رہے تھے دوسروں کو بھی آپ ﷺ کی مخالفت کی ترغیب دی اور یہ مخالفت بھی ان کی لا علمی کی بنا پر نہیں تھی بلکہ علم آجانے کے بعد تھی اور محض اس ضد میں تھی کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کا تعلق بنی اسماعیل سے کیوں ہے اور بنی اسحاق سے کیوں نہیں۔
Ayah 10:94

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

اور اگر تمہیں اس بات میں کسی طرح کا شک ہو جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لو ؟ تمہارے زمانے سے پہلے کی کتابیں پڑھتے رہتے ہیں کہ یقینا یہ سچائی ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر اتری ہے تو ہرگز ایسا نہ کرنا کہ شک کرنے والوں میں سے ہو جاؤ

نبی کریم ﷺ کو مخاطب فرما کر قوم مسلم سے خطاب کیا جا رہا ہے 129 ؎ قرآن کریم کا اسلوب بیان یہ ہے کہ مومنوں سے خطاب مقصود ہوتا ہے تو نبی کریم ﷺ کو مخاطب کیا جاتا ہے جیسے دوسری جگہ ہے کہ یایھا النبی اذا طلقتم النساء ( اطلاق 65 : 1) زیر نظر آیت میں بھی بظاہر خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن مخاطب دراصل مومنوں کی جماعت ہے جو آغاز دعوت کی بےچارگی اور مظلومی میں ایمان لائی تھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ خطاب عام انسان کو ہو کہ اے انسان ! اگر تجھ کو اس وحی الٰی میں کوئی شک ہے جو بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ تیری طرف بھیجی گئی تو تو ان لوگوں سے دریافت کر جو تجھ سے پہلے اللہ کی کتاب تورات و انجیل پڑھتے تھے وہ تجھے بتلائیں گے کہ گزشتہ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی کتابیں محمد رسول اللہ ﷺ کی کس طرح خوشخبری دیتی آئی ہیں جس سے تیری سارے وساوس دور ہوجائیں گے۔ پروردگار کی طرف سے اترنے والی سچائی پر کبھی شک نہ کرنا 130 ؎ اے مخاطب ! بلا شبہ تیرے رب کی طرف سے ” الحق “ آگیا ہے پس تو ہرگز شک کرنے والوں سے نہ ہو ۔ ہاں ! اگر تو نے شک کیا بھی تو تیرے شک کرنے سے ” الحق “ میں تو شک نہیں پڑ سکتا لیکن تیرے لئے وہ نہایت ہی نقصان دہ ثابت ہوگا لیکن تیری زندگی کو روگی بنا دے گا ۔ پھر آیت کے آخری الفاظ نے خود اس کی تشریح فرما دی کہ اس شک کے کرنے والے محمد رسول اللہ ﷺ نہیں ہو سکتے اس لئے کہ آیت کے آخر میں مزید فرما دیا کہ اے مخاطب تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو اور جب ایک عام انسان کو بھی شک کی بیماری سے روکا جا رہا ہے تو اس بیماری کا شکار خود محمد رسول اللہ ﷺ ہوں ، کیسے ممکن ہے ؟ ایک بار پھر غور کرو شک چیز کیا ہے ؟ کسی شخص کا دو امور میں جو آپس میں نقیض ہوں یکساں اور مساوی ہونا شک کہلاتا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اس شخص کے نزدیک دونوں میں یکساں نشانات پائے جاتے ہیں یا دونوں میں یکساں نشانات نہیں پائے جاتے اور شک کبھی تو کسی شے کے متعلق ہوتا ہے کہ وہ موجود ہے یا نہیں اور کبھی اس کی جنس کے متعلق ہوتا ہے کہ یہ کس جنس سے ہے اور شک یقینا ایک قسم کی جہالت ہے مگر جہالت عام ہے اور یہ خاص اور پھر ہر شک جہالت ہے اگرچہ ہر جہالت شک نہیں ۔ اس لئے کسی نبی کو بھی اپنے لائے ہوئے پروگرام میں کوئی شک نہیں ہو سکتا اور ایسا سمجھنا اس نبی کے تسلیم کرنے سے انکار کے مترادف ہے۔
Ayah 10:95

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں سے جنہوں نے اللہ کی نشانیاں جھٹلائیں اور نتیجہ یہ نکلا کہ نامراد ہوئے

اے مخاطب ! ان لوگوں سے مت ہو جنہوں نے اللہ کی نشانیاں جھٹلائیں 131 ؎ اس آیت میں ان لوگوں کو جن کا شعار ہی انکار ہے ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ زندگی کی فرصت کو غنیمت جانو اور انکار و سر کشی سے اب بھی باز آ جائو ورنہ ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب توبہ کرو گے تو توبہ قبول نہیں ہوگی جیسا کہ فرعون پر آیا اور اس نے واشگاف الفاظ میں توبہ کی اور ایمان کا اقرار کیا لیکن اس کو کچھ بھی حاصل نہ ہو بلکہ اس کا نتیجہ یہ ٹھہرا کہ وہ نامراد و نامرام ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے انکار کا یہی انجام ہوتا ہے ۔
Ayah 10:96

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

بلاشبہ (اے پیغمبر اسلام) جن لوگوں پر اللہ کا فرمان صادق آگیا ہے ( کہ جو آنکھیں بند کرلیں ان کو کچھ نظر نہیں آتا) وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے

ایمان نہ لانے کا قول جن لوگوں پر صادق آیا وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے 132 ؎ فیصلہ الٰہی کو کون بدل سکتا ہے ؟ اس کے علم ازل میں جو دولت ایمان سے محروم ہیں انہیں ہزار دلائل وبراہین دکھائے جائیں وہ کبھی حق کو قبول نہیں کریں گے یعنی یہ بات کہ جو لوگ خود طالب حق نہیں ہوتے اور جو اپنے دلوں پر حسد ، تعصب اور ہٹ دھرمی کے قفل چڑھائے رکھتے ہیں اور جو دنیا کے عشق میں مدہوش اور عاقبت سے بےفکر ہوتے ہیں انہیں ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔
Ayah 10:97

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

اگر ساری نشانیاں بھی ان کے سامنے آجائیں جب بھی وہ نہ مانیں یہاں تک کہ عذاب دردناک اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں

نہ ماننے والوں کے پاس کتنی ہی نشانیاں آجائیں وہ ایمان لانے کے نہیں 133 ؎ کتنے ہی لوگ ہیں جو ہماری آیتوں اور نشانیوں میں غور و فکر نہیں کرتے اور نہ ہی عبرت حاصل کرتے ہیں ورنہ اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو عالم کے ایک ایک زرہ میں ایسی نشانیاں موجود ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کا ملہ کا پہچانا جاسکتا ہے لیکن جو لوگ جان بوجھ کر اندھے اور بہرے بنے رہیں اور دیکھنے اور سننے کی کوشش ہی نہ کریں وہ ان سے کیونکر فائدہ حاصل کرسکتے ہیں یہ لوگ ایسے مدہوش ہیں کہ اگر آنکھوں سے بھی اس عذاب کو دیکھ لیں تو بھی ماننے والے نہیں اگرچہ عذاب دیکھ کر ماننا بذات خود بھی سود مند نہیں ہو سکتا ۔ ہاں ! عذاب کی دھمکی آچکی ہو لیکن وقت معین نہ کیا جا چکا ہو کہ کوئی قوم یا فرد ایمان لے آئے تو یقینا اس کیلئے ایمان مفید ہوگا اس لئے کہ دھمکی تو ان کو ہر وقت سنائی جاتی رہتی ہے لیکن ایسا بہت ہی کم ہوا کہ کسی قوم کو دھمکی سنائی گئی ہو اور وہ اس دھمکی کو سن کر فوراً ایمان لے آئی ہو ۔ ہاں ! ایک قوم ایسی نکلی اور ہم نے بھی فوراً اس کے بچائے جانے کے آرڈ رکر دیئے ۔