Ayah 10:5683 ؎
موت و زندگی اس کے اختیار میں ہے اور اس کی طرف سب کو لوٹنا ہے
82 ؎ ہرچیز کی موت وحیات اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ مرنے کے بعد سب کو آخر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے نہ کہ مسیح ابن مریم کی طرف جس کو اہل کتاب کے ایک گروہ نصاریٰ نے الوہیت کے مقام پر لے جا کر اٹھا دیا ہے اور نہ ہی کسی اگنی دیوتا کی طرف جیسا کہ ہندوستانیوں کا خیال ہے اور نہ ہی کسی پیرو مرشد کی طرف جیسا کہ اکثر مسلمانوں نے سمجھ رکھا ہے اور جاہل مذہبوں کی اکثریت یہی سمجھتی ہے کہ موت کے بعد انسان کا مرجع کوئی اور ذات ہے اور اس جگہ اس کی تردید بھی کی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ موت و زندگی کا تعلق اس خالق حقیقی سے ہے نہ کوئی شخص باذن اللہ زندگی دے سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو موت کا اذن دیا جاسکتا ہے۔ ہاں ! جس موت سے مراد کفر اور حیات سے مراد ایمان ہے اس کا اختیار تو کسی کو نہیں دیا گیا لیکن باذن اللہ ایسا ہو سکتا ہے کیونکہ نبوت و رسالت کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی مقصد ہے کہ لوگوں کو کفر سے باز رکھا جائے اور ایمان و اسلام کی ان کو دعوت دی جائے۔
Ayah 10:57اے لوگو ! تمہارے پاس دل میں اتر جانے والے دلائل ، دلوں کی شفاء ، ہدایت اور رحمت آ گئی
83 ؎ زیر نظر آیت میں قرآن کریم کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ 1۔ موعظت ہے یعنی دل میں اتر جانے والی دلیلوں اور روح کو متاثر کرنے والے طریقوں سے ان تمام باتوں کی ترغیب دیتا ہے جو خیر و حق کی باتیں ہیں اور ان تمام باتوں سے روکتا ہے جو شر اور بطلان کی باتیں ہیں کیونکہ عربی میں وعظ کا مفہوم صرف نصیحت ہی نہیں ہے بلکہ ایسی نصیحت ہے جو موثر دلائل اور دل نشین اسلوبوں کے ساتھ کی جائے۔ 2۔ دل کی تمام بیماریوں کیلئے نسخہ شفاء ہے جو فرد اور جو گروہ بھی اس نسخہ پر عمل کرے گا اس کا قلب ہر طرح کے مفاسد و رذائل سے پاک ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ عربی زبان میں قلب ، فواد اور صدر کے الفاظ جب کبھی ایسے موقعہ پر بولے جائیں جیسا کہ یہ موقع ہے تو ان سے مقصود انسان کی معنوی حالت ہوتی ہے یعنی ذہن و فکر کی قوت ، عقلی ادراک ، جذبات و عواطف ، اخلاق و عادات ، اندرونی حیات اور وہ اعضاء مقصود نہیں ہوتے جو فن تشریح کا دل اور سینہ ہے۔ پس دل کی شفا کا مطلب ہوا کہ انسان کی فکری اور اخلاقی حالت کے جس قدر امراض ہو سکتے ہیں ان سب کیلئے نسخہ شفاء ہے۔ 3۔ یقین کرنے والوں کیلئے ہدایت ہے۔ 4۔ یقین کرنے والوں کیلئے پیام رحمت ہے یعنی ظلم و فسادت اور بغض و تنفر کو نجات دلاتا ہے اور رحمت و محبت اور امن و سلامتی کی روح سے معمور کرتا ہے۔
یہ محض قرآن کریم کے اوصاف کا مدعیانہ اعلان ہی نہ تھا بلکہ اس کی صداقت کی سب سے زیادہ موثر دلیل بھی تھی۔ اگر ایک شخص دعویٰ کرے کہ وہ طبیب ہے تو سب سے زیادہ سہل اور قطعی طریقہ اس کے دعویٰ کی جانچ کا یہ ہوگا کہ دیکھا جائے اس کے علاج سے بیماروں کو شفا ملتی ہے یا نہیں ؟ اگر تم دیکھو کہ موت کی آغوش میں پہنچے ہوئے بیمار اس کے شفا خانہ میں داخل ہوئے اور تندرست ہو کر نکلے تو تم یقیناً تسلیم کرلو گے کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے۔ قرآن کریم نے بیے جا بجا یہی جانچ منکروں کے سامنے پیش کی ہے اس نے کہا کہ میں نسخہ شفاء ہوں اور ثبوت میں مومنوں اور متقیوں کی جماعت پیش کردی جو اس کے دارالشفاء سے صحت یاب ہوئی تھی کہ دیکھ لو یہ تندرست ہوگئے ہیں یا نہیں ؟
آج بھی اس کی یہ دلیل اسی طرح قاطع ہے جس طرح صدر اول اور عہد نزول میں تھی۔ اگر اس نے عرب جاہلیت کے مریضان روح و دل میں سے ابوبکر ؓ ، عمر ؓ ، عثمان ؓ ، علی ؓ ، خالد ؓ ، سلمان ؓ اور ابوذر ؓ جیسی ہزاروں شخصیتیں تندرست کردی تھیں تو اس کے نسخہ شفاء ہونے میں شک کیا جاسکتا ہے ؟ بلاشبہ آج بھی یہ نسخہ کیمیا یہی اثر رکھتا ہے۔ وہ قرآن کریم ہی ہے جس نے صدیوں سے آغوش غفلت میں مدہوش ہونے والی قوم کو بیدار کردیا وہ سینوں کے لاعلاج امراض اور پرانی بیماریوں کا کامیاب علاج ہے۔ بغض وعناد ، شک اور نفاق ، حسد اور کینہ غرض کہ ہر قسک کی مذموم صفات سے روح کو پاک کرتا ہے۔ وہ حق و باطل کو نکھار کر پیش کرتا ہے کسی قسم کا التباس نہیں رہتا اور حق کا متلاشی راہ ہدایت کو اپنے سامنے منور اور ہموار پاتا ہے۔ جس کا لانے والا رحمت للعالمین ﷺ ہے اس کتاب کے رحمت مجسم ہونے میں کیا کلام ہو سکتا ہے ؟
لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے اس کو شفاء کی ایک کان سمجھ کر دکانیں کھول لیں۔ کسی نے اس کو دھاگہ میں گرہ لگا کردینے کیلئے چھو منتر سمجھا اور کسی نے اس کی عبارات لکھ کر کھول کھول کر پینے کی چیز بنا دیا ، کوئی اٹھا اور اس نے کاغذ کے پرزوں پر لکھ لکھ کر تعویذ بنانے شروع کردیئے اور قوم کی ساری بیماریوں کا علاج اس کی ایک ہی پڑیہ سے کرنا شروع کردیا۔ عورتوں اور بچوں کو وام فریب میں لانے کیلئے اس سے معجز نما تعویذ تیار کرنے لگے اور پھر عوام نے ان لوگوں کا نام ” عامل “ رکھا۔ اس امت مرحومہ کے اسی فی صد علماء نے اپنے اپنے مجربات تحریر کئے اور انہی مجربات کے باعث وہ حکیم الامت کہلائے۔ ان نسخہ جات کی تشہیر کیلئے انہوں نے ” اعمال قرآنی “ اور ” شمع شبستان رضاء “ کے نام سے کتابیں تحریر کیں اور دنیا کی کوئی بیماری ایسی نہ چھوڑی جس کیلئے قرآن کریم کی آیات کو تیر بہدف کے طور پر استعمال نہ کیا حتیٰ کہ وہ لوگ جو مشت زنی اور اغلام بازی کے مسلسل ارتکاب سے استرفا کے مریض ٹھہرے ہمارے علمائے کرام نے ان کی استرفاء کا علاج قرآن کریم کی آیات سے بہتر جانا اور پھر اپنے مجربات میں ان آیات کو نقل کر کے اپنی اندرونی حالت کی عکاسی فرما دی۔ یہ جو کچھ ہوا ہم اس کو قرآن کریم کی پاک تعلیمات کے ساتھ ظلم گردانتے ہیں اور ان لوگوں کا احترام کرنے کے باوجود ان کو ظالم سمجھتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ حاشاء اللہ کہ اس آیت کا مفہوم ایسا ہو جاسل کہ ان ظالموں نے سمجھا۔ انما اشکوابثی و حزنی الی اللہ۔
Ayah 10:58اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے حصول میں ساری خوشیاں پنہاں ہیں
84 ؎ دنیا کا نفع ہر حال میں قلیل ہے خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو اور پھر یہ کہ وہ فانی بھی ہے اور آخرت کا نفع دنیا کے مقابلہ میں کثیر بھی ہے اور پھر باقی رہنے والا بھی۔ ابو سعید خدری ؓ اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مراد ” قرآن “ اور اس کی رحمت سے مراد ” دین اسلام “ ہے اور ایک روایت میں ہے کہ فضل سے مراد ” قرآن کریم “ اور رحمت سے مراد ہم کو ” صاحب قرآن “ بنانا ہے۔ (قرطبی) مختصر یہ کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی وہ چیزیں ہیں کہ جس کو حاصل ہوجائیں اس کا حق ہے کہ وہ جتنی چاہے خوشیاں … لیکن اسلام میں کوئی خوشی ناچ کود کر اور لعو و لعب میں مصروف ہو کر نہیں منائی جاسکتی بلکہ خوشی منانے کے لئے عبادت الٰہی میں اضافہ سے ممکن ہے اور اللہ کا فضل اور رحمت ہی وہ چیزیں ہیں جو انسان کو ایک بلند مقام پر پہنچاتی ہیں اور اس مال و دولت سے جس کو جمع کرنے کی فکر میں تم اس کی تکذیب کرتے ہو وہ بہت ہی بہتر ہے گویا یہ … سمجھایا گیا ہے کہ اخلاق فاضلہ اس دنیا کے مال و دولت سے زیادہ اچھی چیز ہے اور قرآن کریم ہی وہ چیز ہے نہ تم میں اخلاق فاضلہ پیدا کرتا ہے تم دولت کو جمع کرنے کیلئے بڑی کوشش کرتے ہو لیکن ان اخلاق فاضلہ کے حاصل کرنے کیلئے کیوں متوجہ نہیں ہوتے۔ دولت سے انسان عزت اور راحت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر دولت سے یہ چیزیں کبھی نہیں ملتیں اور جو کچھ ملتا ہے وہ ہمیشہ کیلئے نہیں ہوتا اور جو عزت و راحت ہمیشہ کیلیے اخلاق فاضلہ سے ملتی ہے وہ دولت سے عارضی طور پر بھی نہیں مل سکتی۔
Ayah 10:59اللہ کے عطا کردہ رزق میں سے بعض کو حرام اور بعض کو حلال کرنے کا حق تم کو کس نے دیا ؟
85 ؎ رزق کیا ہے ؟ رزق عطائے جاری کو کہتے ہیں وہ دنیوی ہو یا اخروی اور مال و جاہ اور علم سب رزق میں داخل ہیں۔ (راغب) ہمارے ہاں اکثر رزق کا اطلاق کھانے پینے کی چیزوں پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہاں گرفت صرف اس قانون پر کی گئی ہے جو دستر خوان کو چھوٹی سی دنیا میں مذہبی اوہام یا رسم و رواج کی بناء پر لوگوں نے کر ڈالی ہے پھر اس غلط فہمی میں جاہل اور عوام ہی نہیں بڑے بڑے علماء تک مبتلا ہیں لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ عربی زبان میں ” رزق “ محض خوراک کے معنی تک محدود نہیں ہے بلکہ عطاء و بخشش اور نصیب کے معنی میں عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی انسان کو دنیا میں دیا ہے وہ سب اس کا رزق ہے حتیٰ کہ اولاد بھی رزق میں شامل ہے اور محاورے میں بولا جاتا ہے کہ رزق علما ” فلاں شخص کو علم دیا گیا ہے۔ “ اس لئے رزق کو محض دستر خوان کی سرحدوں تک سمجھنا اور یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ کو صرف ان پابندیوں اور آزادیوں پر اعتراض ہے جو کھانے پینے کی چیزوں کے معاملہ میں لوگوں نے بطور خود اختیانر کرلی ہے سخت غلطی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور فرمایا اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ ” اے اللہ ہم پر حق واضح فرما اور ہمیں اس کے اعتبار کی توفیق عطا فرما۔
اس لئے رزق سے مراد صرف کھانے پینے کی چیزیں سمجھنا سخت غلطی ہے اور پھر یہ کوئی معمولی غلطی بھی نہیں اس غلطی کی بدولت اللہ تعالیٰ کے دین کی ایک بہت بڑی بڑی اصولی تعلیم لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی۔ یہ اس غلطی کا تو نتیجہ ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں اور حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز معاملہ تو ایک دینی معاملہ سمجھا جاتا ہے لیکن تمدن کے وسیع تر معاملات میں اگر یہ اصول طے کرلیا جائے کہ انسان خود اپنے لئے حدود مقرر کرنے کا حق رکھتا ہے اور اسی بناء پر اللہ اور اس کی کتاب سے بےپناہ ہو کر قانون سازی کرنے لگے تو عوام تو درکنار علمائے دین و مفتیان شرع متین اور مفسرین قرآن کریم اور شیوخ حدیث تک کہ یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ چیز بھی دین سے اسی طرح ٹکراتی ہے جس طرح ماکولات و مشروبات میں شریعت الٰہی سے بےنیاز ہو کر جائز و ناجائز کے حدود بطور خود مقرر کرلینا ہے۔ اگر علمائے کرام اور مفتیان عظام اس حقیقت کو سمجھ جاتے تو آج ہماری حالت ایسی نہ ہوتی جو ہو چلی ہے۔
زیر نظر آیت میں ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ تمہیں کچھ احساس بھی ہے کہ یہ کتنا سخت اور باغیانہ جرم ہے جو تم کر رہے ہو۔ رزق اللہ کا ہے اور تم خود اللہ کے ہو پھر یہ حق آ کر تمہیں کہاں سے حاصل ہوگیا کہ اللہ کی املاک میں اپنے تصرف ، استعمال اور انقفاع کیلئے خود حد بندیاں مقرر کرو ؟ کوئی نوکر اگر یہ دعویٰ کرے کہ آقا کے مال میں اپنے تصرف اور اختیارات کی حدیں اسے خود مقرر کرلینے کا حق ہے اور اس معاملہ میں آقا کے کچھ بولنے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے تو اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ تمہارا اپنا ملازم اگر تمہارے گھر میں اور تمہارے ہی گھر کی سب چیزوں میں اپنے عمل اور استعمال کیلئے اسی آزادی و خودمختاری کا دعویٰ کرے تو تم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرو گے ؟
پھر اس نوکر کا معاملہ تو دوسرا ہی ہے جو سرے سے یہی تسلیم نہیں کرتا کہ وہ کسی کا نوکر ہے اور کوئی اس کا آقا بھی ہے اور یہ کسی اور کا مال ہے جو اس کے تصرف میں ہے اس بدمعاش غاصب کی پوزیشن یہاں زیر بحث ہی نہیں ہے۔ یہاں سوال اس نوکر کی پوزیشن کا ہے جو خود مان رہا ہے کہ وہ کسی کا نوکر ہے اور یہ بھی مانتا ہے کہ مال اس کا ہے جس کا وہ نوکر ہے اور پھر کہتا ہے کہ اس مال میں اپنے تصرف کے حدود مقرر کرلینے کا حق مجھے آپ ہی
Ayah 10:6088 ؎ کیا اللہ نے تم کو اس تصرف کی اجازت دی ہے یا تم بہتان باندھ رہے ہو ؟
86 ؎ اس وقت عرب جاہلیت کی اپنی معاشی ، معاشرتی ، اخلاقی ، مذہبی اور سیاسی زندگی ان رسوم و رواج کی پابند تھی جو انہوں نے خود یا ان کے پہلوئوں نے وضع کئے تھے لیکن اس کے باوجود وہ انہیں احکام خداوندی کہا کرتے تھے اور بڑی سختی سے ان کی پابندی کرتے تھے اور جو شخص ان سے سرمو انحراف کرتا اس کے خلاف ایک طوفان برپا کردیتے نبی اعظم و آخر ﷺ نے ان کے لغو اور ضرر رساں رسم و رواج کی اصلاح کیلئے جب آواز بلند کی تو برافروختہ ہوگئے۔ انہیں ان کی غلط روش پر سرزنش کی جا رہی ہے کہ تم اپنے خود ساختہ رسوم و قوانین کو اللہ کی طرف کیوں منسوب کر رہے ہو ، کیا تمہیں شرم نہیں آتی جس چیز کو چاہتے ہو حلال بنا دیتے ہو اور جس کو چاہتے ہو حرام ، جس کو چاہتے ہو جائز کردیتے ہو اور جس کو چاہتے ہو ناجائز۔ یہ حق آخر تم کو کس نے دیا ہے ؟ ہرچیز کا مالک تو اللہ ہے اور تم اس کے بندے ہو۔ پھر یہ بات تمہیں زیب دیتی ہے کہ اس کے بندے ہو کر اس کی چیزوں میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرتے رہو اور ظاہر ہے کہ اس نے تم کو کوئی اجازت نہیں دی۔ معلوم ہوگیا کہ تم اللہ پر بہتان باندھتے ہو اور پھر اللہ پر بہتان باندھ کر تم کہاں جائو گے ؟ یہ بات اس وقت کے عربوں کی ہے لنکا امانت و دیانت کے ساتھ اگر دیکھا جائے تو آج ہماری قوم مسلم کا کیا حال ہے ؟ جو کچھ وہ جاہلیت کے دور میں کرتے تھے آج ہم اس پڑھے لکھے دور میں ان سے بہت کچھ زیادہ کر رہے ہیں اور دین اسلام انہی چیزوں کا نام رہ گیا ہے جن کا تعلق اسلام سے دور کا بھی نہیں۔ حلت و حرمت ہمارے علمائے کرام کی زبان کا نام ہے ، وہ جس کو چاہیں جائز اور جس کو چاہیں ناجائز قرار دیں جس کے نظائر ابھی آپ گزشتہ آیت میں پڑھ چکے ہیں۔
غور کرو کہ کسی جرأت کے مالک ہیں وہ لوگ جو اللہ پر افتراء باندھتے ہیں
87 ؎ اب ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ یہ جرأت تم کو کیسے حاصل ہوئی ؟ یہ تمہاری پوزیشن تو صرف اس صورت میں صحیح ہو سکتی تھی کہ آقا نے خود تم کو اجازت دی ہوتی کہ میرے مال میں تم جیسے چاہو تصرف کرو اپنے عمل اور استعمال کے حدود ، قوانین و ضوابط سب کچھ بنا لینے کے بعد جملہ حقوق میں نے تمہیں سونپ دیئے اب سوال ہو رہا ہے کہ کیا تم کو واقعی اس کی اجازت دی گئی ؟ اگر دی گئی ہے تو اس کی دلیل کیا ہے ؟ کیا تم بغیر سکی سند و دلیل کے ہی یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ وہ تمام حقوق تمہیں سونپ چکا ہے ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کی سند دکھائو ورنہ سیدھے ہاتھ تسلیم کرلو کہ تم کھلی بغاوت کر رہے ہو اور یہی بغاوت تمہاری اللہ پر افتراء پردازی ہے اور اسی جرم کی سزا تم کو دی جائے گی اگر تم نے اس مہلت سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا جو تم کو دی جا رہی ہے ، غور کرو کہ تم نے روز قیامت کو کیا سمجھ رکھا ہے ؟
Ayah 10:61اللہ اپنے بندوں پر بڑا ہی فضل کرتا ہے لیکن بہت کم ہی شکر گزار ہوتے ہیں
88 ؎ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہی تو ہے کہ اس نے تم کو اپنی اصلاح کرلینے کی مہلت دے رکھی ہے اور جو لوگ حرام و حلال کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتے ہیں کیا یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن ان سے باز پرس نہ ہوگی ، کیوں نہیں ؟ یقیناً ہوگی کیونکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام (علیہ السلام) بھیج کر اور کتابیں اتار کر لوگوں پر بڑا فضل و کرم کیا ہے لیکن اکثر لوگ پھر بھی اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور اللہ ہے کہ اپنے بندوں پر انعامات و احسانات کے دروازے کھولے ہوئے ہیں۔ ان کی آفرینش ، ان کی بقا اور ان کی نشو ونما کیلئے تمام ضروری چیزوں کو فراہم کرنا پھر نور عقل اور نور وحی اور بعثت رسل ہو۔ ختم نبوت یہ سب اس کی غایات ہی تو ہیں۔ ہم سے خطا ہوتی ہے ، وہ بخش دیتا ہے ہم نافرمانی کرتے ہیں تو وہ توبہ قبول فرماتا ہے ، ہم اس کی نعمتوں کا شکریہ صحیح طور پر نہیں ادا کرتے پھر اس کی نعمتوں کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے اس کی نعمتوں کا کوئی شمار نہیں لیکن اس رحیم و کریم رب ذوالجلال والاکرام کی مہربانیوں کا شکریہ ادا کرنے کی طرف بہت کم لوگ متوجہ ہوتے ہیں۔
زیر نظر آیات 59 ، 60 پر ذرا دوبارہ نظر ڈال لو اور غور کرتے جائو ، بتایا گیا ہے کہ مشرکین عرب نے اپنے اوہاتم و خرافات کی بناء پر بہت سی چیزیں جو ان کے استعمال کی تھیں کو حرام ٹھہرا لیا تھا جیسا کہ پیچھے سورة الانعام کی آیات 138 تا 150 میں آپ تفصیل سے پڑھ چکے ہیں اور زیر نظر آیات میں بھی اس طرح اشارہ کیا ہے ان آیتوں اور اس کے ہم معنی ساری آیتوں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوگئی کہ :
1۔ قرآن کریم کے نزدیک ان تمام چیزوں میں جو کھانے پینے کی پیدا کی گئی ہے اصل اباحت ہے نہ کہ حرمت یعنی جتنی چیزیں کھانے کے قابل ہیں سب حلال ہیں مگر ہاں ! یہ کہ وحی الٰہی نے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیا ہو چناچہ قرآن کریم نے جا بجا یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ اس نے صرف انہی چیزوں سے روکا ہے جو خبائث ہیں یعنی مضر اور گندی ہیں باقی جتنی چیزیں ہیں طیبات ہیں۔
2۔ کسی چیز کو حرام ٹھہرا دینے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے جس نے اس کو شریعت میں واضح کردیا ہے پس کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ محض اپنے قیاس و رائے سے کوئی چیز حرام ٹھہرا دے۔
3۔ قرآن کریم نے جن باتوں کو افتراء علی اللہ سے تعبیر کیا ہے یعنی رب ذوالجلال پر جو بہتان باندھا ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ بغیر نص قطعی کے محض اپنی رائے اور قیاس سے کوئی چیز حرام ٹھہرا لی جائے۔
4۔ انسان کے عقائد و اعمال کی بنیاد علم اور یقین پر ہونی چاہئے نہ کہ وہم و گمان پر۔ وہ مشرکوں کی بنیادی گمراہی یہی قرار دیتا ہے کہ علم و یقین کی کوئی روشنی اپنے سامنے نہیں رکھتے محض اوہام و ظنون کے پرستار ہیں۔
نزول قرآن کریم سے پہلے اقوام عالم کی ایک عالمگیر گمراہی یہ تھی کہ کھانے پینے کے بارے میں طرح طرح کے وہمی قاعدے بنا لیتے تھے حلت و حرمت کی بنیاد علم و حقیقت کی کسی روشنی پر نہ تھی محض ادہام و خرافات پر تھی۔ قرآن کریم نے نوع انسانی کو اس حالت سے نجات دلائی اس نے اعلان کیا کہ زمین میں جتنی اچھی چیزیں اللہ نے پیدا کی ہیں سب اس لئے ہیں کہ انسان انہیں استعمال کرے اور اللہ کے سوا کسی کو یہ اختیار نہیں کہ اس کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو حرام ٹھہرا دے۔
زیر نظر دونوں آیتیں ان تمام فقہا متشددین کے خلاف حجت قاطع ہیں جنہوں نے محض رائے و قیاس سے بعض مباحات حرام ٹھہرا دیں اور ان تمام لوگوں کے خلاف بھی جو سمجھتے ہیں کہ مباجات کا دائرہ اپنے اوپر تنگ کرلینا تقویٰ اور تقرب الٰہی کی بات ہے۔ اب بھی کسی کی تسلی نہ ہو تو اس کی ذمہ داری اس کے اپنے سر پر ہے ہم تو سمجھ کی دعا ہی کرسکتے ہیں۔
علم الٰہی سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں کتاب الٰہی میں سب کچھ واضح کردیا گیا ہے
89 ؎ قرآن کریم کی متعدد آیتوں کی طرح یہ آیت بھی پوری طرح واضح اس وقت ہوتی ہے جب اہل ضلال کے عقائد بھی پیش نظر ہوں۔ علم الٰہی کے متعلق طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلی ہوئی تھیں جن میں صرف عوام کا انعام مبتلا نہ تھے بلکہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو دانشور اور اہل نظر کہلاتے تھے وہ بھی ان کا شکار تھے۔ ارسطو جی کو اقلیم علم اور فلسفہ کا تاجدار کہا جاتا ہے اس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کی صرف اپنی ذات کا علم ہے کائنات کی کسی چیز کے متعلق وہ کچھ نہیں جانتا اور پھر دلیل بھی خوب پیش کی کہا کہ کیونکہ اس کی ذات اعلیٰ و اکمل ہے اور کائنات کی ہرچیز اس کے مقابلہ میں ناقص اور ادنیٰ ہے اس لئے ادنیٰ اور ناقص اشیاء کا اس کے شایان شان نہیں۔ اس نے اتنا بھی نہ سوچا کہ اگر اس کا یہ قاعدہ تسلیم کرلیا جائے تو پھر انسان کو بھی اپنے سے فروتر اشیاء کا جاننا اس کے شایان شان نہیں ہوگا کیونکہ یہ سب اشیاء بلاشبہ انسان سے فروتر ہیں۔ اس طرح ابن سینا نے یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کو بطریقہ و کلیہ تمام اشیاء کا علم ہے تفصیلات جزئیہ کے متعلق ذات باری کو کچھ پتہ نہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ اس کا علم قدیم ہے یعنی تخلیق کائنات سے پہلے اس نے ہر چز کو جان لیا تھا بعض کہتے ہیں کہ اس سے پہلے ہرچیز کا تفصیل علم نہیں تھا بلکہ جیسے جیسے کوئی چیز معرض وجود میں آتی جاتی ہے تو اس وقت وہ اسے جانتا جاتا ہے ان تمام شبہات کا اس آیت میں رد کردیا کہ ہر فعل جو کسی سے صادر ہوتا ہے وہ اس کو دیکھ رہا ہوتا ہے زمن و آسمان کی وسعتوں ، بلندیوں اور پستیوں میں بڑی سے بڑی ، چھوٹی سے چھوٹی جو چیز بھی ہے وہ اللہ کی ذات سے مخفی نہیں وہ سب کو اپنے اپنے مقام پر اپنے اپنے حال اور مال کے اعتبار سے پہلے بھی جانتا تھا اور اب بھی جان رہا ہے۔ تخلیق کائنات سے پہلے ہی وہ چیز کو جانتا تھا اور کتاب مبین میں اسے درج کردیا گیا تھا۔
چھوٹی ہو یا بڑی رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے وہ حاضر ہے
90 ؎” فی کتاب مبین “ کے الفاظ بیان فرما کر واضح کردیا کہ حق تعالیٰ کا علم صرف حدوث کے وقت نہیں ہوتا جیسا کہ اہل ضلال سمجھ رہے ہیں بلکہ روز ازل سے چھوٹی بڑی ہر شے لوح محفوظ میں ثبت ہے اور ہر چھوٹی بڑی ہر مقدار اور ہر بساط کی شے علم الٰہی میں موجود ہے کوئی شے بھی اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں جیسا کہ اس کی وضاحت اوپر بیان کردی گئی اس جگہ کتاب مبین کے متعلق کچھ بیان کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے چناچہ سن لینا چاہئے کہ قرآن کریم کا اسلوب بیان یہ ہے کہ وہ کسی بات کے ٹھہرا دینے اور قطعی طور پر نافذ کردینے کے لئ ” کتاب “ کی تعبیر اختیار کرتا ہے یعنی کہتا ہے کہ یہ بات لکھ دی گئی ہے مثلاً ارشاد الٰہی ہے کہ کتب علیکم الصیام ( البقرہ 2 : 183) ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھرا فی کتاب اللہ ( التوبہ 9 : 36) کتب علیہ انہ من تولا ہ فانہ یضلہ (الحج 22 : 4) اسی طرح اس مطلب کیلئے حکمت الٰہی نے کارخانہ ہستی کی ہرچیز کیلئے ایک قانون بنا دیا ہے اور یہاں جو کچھ ظہور میں آتا ہے وہ سب کچھ ضبط میں آچکا ہے ” کتابت “ اور ” کتاب “ کی تعبیرجا بجا ملتی ہے چناچہ اس جگہ بھی فرمایا کہ آسمان و زمین میں سے ایک ذرہ بھی ایسا نہیں جو کتاب مبین کے انضباط سے باہر ہو یعنی علم الٰہی سے باہر ہو یا اللہ نے جو قوانین خلقت ٹھہرا دیئے ہیں ان کے احاطہ سے باہر ہو۔
احکام و قوانین کا شاہی فرمانوں میں لکھ دینا اور شاہی دفاتر میں درج کردینا دنیا کی نہایت پرانی رسم ہے اس لیے تقریباً تمام زبانوں میں کسی بات کے لکھ دینے کا مطلب یہ ہوگیا ہے کہ بات پکی ہوگئی اور اب اس میں رد و بدل کی کوئی گنجائش نہیں رہی ۔ باہمی عہد و پامین بھی لکھے جاتے تھے اور جب لکھ دیئے گئے تو سمجھا جاتا تھا کہ اب ان کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی ۔ عربی میں بھی یہ تعبیر قدیم سے موجود ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے بھی اسی معنی میں یہ تعبیر اختیار کی ہے البتہ یہ ظاہر ہے کہ ہر جزم و یقین کے ساتھ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ معاملہ عالم غیب سے تعلق رکھتا ہے اور عالم غیب کے حقائق ہماری عقل کی دسترس باہر ہیں ۔ اس لئے جو عرض کیا گیا محض تفہیم کیلئے ہے ۔
Ayah 10:62اللہ والوں کیلئے نہ کسی طرح کا کوئی خوف ہوگا نہ غم گینی
91 ؎ قرآن کریم نے ایمان اور اہل ایمان کی نسبت جو کچھ کہا ہے اس میں کوئی بات بھی اس قدر نمایاں نہیں ہے جس قدر یہ کہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون کہ خوف و غم دونوں سے وہ محفوظ ہوجائیں گے چناچہ اس جگہ بھی یہی بات فرمائی گئی کہ اب غور کرنا چاہئے کہ قرآن کریم نے اس وصف پر کیوں اس قدر زور دیا ؟ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کی سعادت کیلئے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا جاسکتا اس کی شقاوت کی ساری سرگزشت انہی دو لفظوں میں سمٹی ہوئی ہے ۔ خوف اور دکھ جونہی ان دو باتوں سے اسے رہائی مل گئی اس کی ساری سعادتیں اس کے قبضے میں آگئیں زندگی کے جتنے بھی کانٹے ہو سکتے ہیں سب کو ایک ایک کر کے چنو اور دیکھ خواہ جسم میں چبھتے ہوں ، خواہ دماغ میں ، خواہ موجودہ زندگی کی عافیت میں خلل ڈالتے ہوں خواہ آخرت کی زندگی میں ماتم دیکھو گے کہ ان دو باتوں سے باہر نہیں ہیں یا خوف کا کاٹنا ہے یا غم کا ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ ایمان کی راہ سعادت کی راہ ہے جس کے قدم اس راہ میں جم گئے اس کیلئے دونوں کانٹے بےاثر ہوجاتے ہیں ۔ اس کیلئے نہ تو کسی طرح کا اندیشہ ہوگا نہ کسی طرح کی غم گینی ۔ تا ہم قرآن کریم نے یہی حقیقت دوسرے پیرایوں میں بیان کی ہے مثلاً سورة العصر بھی ایک اسی حقیقت کا اعلان ہے۔
زیر نظر آیت ان آیات قرآنی میں ایک ہے جن کے ساتھ قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے والوں میں سے اکثر لوگوں نے بہت زیادتی کی اور ان کا مفہوم بیان کرنے میں اتنا غلو کیا کہ یہود و نصاریٰ کے بھی کان کاٹ کر رکھ دیئے ۔ اولیاء اللہ کی شان بیان کرتے کرتے اس قدر مبالغہ کیا کہ جن لوگوں کو اولیاء اللہ کا خطاب دیا ان کو عین ” اللہ “ بنا کر رکھ دیا اور توحید الٰہی کی اس طرح دھجیاں اڑائی گئیں کہ توحید کا نام سن کر بعض لوگوں کے منہ چڑھنے شروع ہوگئے ۔ اس لئے اس کے متعلق کچھ عرض کردینا ضروری خیال کیا گیا ۔ لہٰذا جان لناا چاہئے کہ اولیاء جمع ہے ولی کی اور ولی کے معنی ہیں دوست ، مدد گار ، قریب ، محب اور صدیق ۔ ولی اللہ کے معنی ہوئے اللہ کا دوست ، اللہ کا محبت ، اللہ کا صدیق اور پھر اللہ ولی الذین امنوا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مزید وضاحت فرما دی کہ اللہ ایمان والوں کا دوست ہے ، مدد گار ہے ۔ جو شخص ایمان میں جتنا پختہ ہوگا اللہ کی دوستی میں اتنا ہی مضبوط ہوگا ۔ اس تفہیم کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ جس شخص کو ہمارا جی چاہا ولی اللہ کہہ لیا نہیں ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ جو شخص جتنا ایمان میں پختہ ہوا اتنا ہی وہ ولایت میں پختہ ہوا جس کا تعلق ایمان باللہ سے ہے نہ کہ ہماری سمجھ بوجھ ہے۔
بلا شبہ ایمان کے بہت درجات ہیں اور اسی طرح ایمان کم بھی ہوتا ہے زیادہ بھی ، کچا بھی ہوتا ہے پکا بھی ، پھر جتنے درجے ایمان کے اتنے ہی ولی کے ، جس درجے کا ایمان اسی درجہ کا ” ولی “ پھر ہر درجہ ایک سے ایک بلند اور ایک سے ایک اعلیٰ ۔ سمجھ میں آگیا کہ شرط اول کیا ہوئی ؟ ایمان باللہ دولت ایمان سے مشرف ہونے کے بعد اہل عزم و ہمت ترقی کرتے کرتے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور انجام کار انسانیت کے آخری مقام تک پہنچ جاتے ہیں لیکن کسی حال میں بھی انسانیت سے نکل نہیں جاتے اور یہ مقام نہایت ہی نازک ہے جس کی وضاحت پیغمبر اسلام ﷺ نے اس طرح بیان فرما کہ لا یزال العبد ینقرب الی بالنوافل حتی احببتہ فاذا اجببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصربہ (رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ ؓ ” بندہ نقل عبادات سے میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان ہوجاتا ہوں ، جن سے وہ سنتا ہے اور میں ہی اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے “۔
افسوس کہ لوگوں نے اس حدیث سے اس شخص کو جو صحیح معنوں میں اللہ کا فرمانبردار بندہ ہوگیا عین ” اللہ “ سمجھ لیا اور پھر اس کے ہاتھوں کو اللہ کے ہاتھ ، اس کے کانوں کو اللہ کے کان سمجھا اور اس کے جسم کو اللہ کا جسم سمجھ کر چومنے لگے اور سجدوں میں گرنے لگے انا للہ وانا الیہ راجعوان۔ بتایا یہ گیا تھا کہ ایسا شخص جب نفلی عبادات سے میرے قریب ہوتا ہے تو میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور پھر میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس کا عبادات سے میرے قریب ہوتا ہے تو میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور پھر اس کے کان ہوجاتا ہوں جس کا سیدھا اور صاف مطلب یہ تھا کہ وہ میرے حکم کے مطابق باتوں کو سنتا ہے اور ان پر عمل کرتا ہے ، میرے حکم کے خلاف جو کچھ بھی اس کے سامنے بیان کیا جائے وہ سنی ان سنی کردیتا ہے اور اس پر کان نہیں دھرتا اور اسی طرح وہ صرف اور صرف اس چیز کی طرف دیکھتا ہے جس کی طرف دیکھ لینے کا ہمارا حکم ہوتا ہے اور ہمارے حکم کے خلاف وہ کسی چیز کو دیکھنا گوارا نہیں کرتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر اس شخص کو اللہ کے نیک بندوں نے قدر کی نگاہ سے دیکھا جو کتاب و سنت کا پابند تھا اور ہر اس سے نفرت کی جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے غافل تھا۔
لیکن ہمارے ہاں کیا ہو رہا ہے کہ ہر وہ شخص جو پیغمبر اسلام ﷺ کی زبان سے ” مرفوع القلم “ ہوگیا یعنی جس کو حلال و حرام میں کوئی تمیز نہ رہی پاکیزگی و طہارت کے نام سے شناساں نہ رہا جس کی عقل و فکر جاتی رہی ، ننگ دھڑنگ رہنے لگا ۔ جو منہ میں آیا دیا اور جو چا ہا کھالیا اور جس کو جی چاہا پھینک دیا لوگوں نے اس کے مرنے کے بعد اس کو ” ولی اللہ “ کا نام دے کر دفن کردیا اور یاروں نے اس پر ایک عمارت کھڑی کرنا شروع کردی اور دیا جلا کر رکھا دیا جس سے وہ ہوتے ہوتے ماشاء اللہ پہلے ولی اللہ بن گیا اور نام اس کا یہی رہا اور کام کے لحاظ سے وہ ” اللہ “ ہوگیا اور ہمارے مذہبی ٹھیکہ داروں نے ان پر یہ آیت کریمہ چسپاں کردی کہ ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔
اب اس ” مزار “ اور مشرکین مکہ کے ” ہبل “ میں کوئی فرق نہ رہا ۔ الایہ کہ وہاں ایک بت تھا اور یہاں اس کی جگہ ایک قبر نے لے لی ۔ اس پتھر کو گھڑ کر ان کی نوک پلک سیدھی کردی گئی اور یہ ڈھیر کا ڈھیر رہا وہ ایک خاص طرز سے گھڑ لیا گیا اور اس کو ان گھڑا رکھ لیا گیا یا ایک قبر کی طرح گھڑ لیا گیا ۔ حاشاء اللہ کہ اس طرح کی ولایت کا کوئی تصور اسلام میں موجود ہو ۔ اچھی طرح یاد رکھو کہ مشرکین مکہ کا شرک اس ہمارے اسلامی شرک سے کئی درجے کم تھا اور یہ اس سے کئی درجے بلند شرک ہے ۔ اس کی اصلاح ممکن تھی اور آج بھی جہاں اس طرح کا شرک ہے وہاں اصلاح کی توقع کی جاسکتی ہے لیکن اسلامی شرک کے مٹانے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی اور نہ ہی اصلاح کی کوئی صورت ، کیونکہ اس کے شرک کو اسلام کے ساتھ پیوند کرلیا گیا ہے ۔ العیاذ باللہ ، استغفرا للہ ۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔
Ayah 10:63اللہ کے دوست کی نشانیاں جو قرآن کریم نے ذکر کیں تاکہ وہ پہچانا جا سکے
29 ؎ گزشتہ آیت میں ” اولیاء اللہ “ کا ذکر تھا اور اس آیت میں ان کی پہچان بھی بتا دی ۔ وہ پہچان کیا ہے ؟ فرمایا ایمان اور تقویٰ ۔ فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو صدق دل سے ایمان لاتے ہیں اور جنہوں نے اللہ سے ڈرتے ہوئے مکمل طور پر غلط راستوں کو چھوڑ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں دیکھ کر اللہ یاد آتا ہے ۔ غور کرو کہ ولایت کی علامتیں کیا ارشاد ہو رہی ہیں ۔ نہ عوام کو خوش کرنے والی کرامتیں ، نہ عامۃ الناس کو حیرت میں ڈال دینے والے خوارق ، بلکہ ذکر کیا گیا ہے ایمان اور تقویٰ کا ۔ اللہ کا ولی کون ہوتا ہے ؟ اور اللہ کس کا ولی ہوتا ہے ؟
وہی جن کا ایمان اللہ تعالیٰ کی توحید اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی نبوت و رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر اتنا مستحکم ہوتا ہے کہ کوئی ابلیسی وسوسہ اندازی اور کوئی مصیبت اسے متزلزل نہیں کرسکتی اور ان کا ظاہر و باطن تقویٰ کے نور سے جگمگا رہا ہوتا ہے ۔ ان تمام اعمال اور اخلاق سے ان کا دامن یکسر مبرا ہوتا ہے جو ان کے خالق کو ناپسند ہیں ، شرک جلی ، شرک خفی ، اخفی ، حسد ، کینہ ، غرور اور تکبر اور ہوا و ہوس غرضیکہ تمام اخلاق ذمیمہ سے وہ پاک ہوتے ہیں اور یہی تقویٰ کا وہ بلند مقام ہے جہاں جب انسان پہنچتا ہے تو اسے خلعت ولایت سے مشرف کیا جاتا ہے اور اس پکرش و عجز و نیاز کو وہ سر بلندی عطا کی جاتی ہے جسے دنیا رشک بھری نظروں سے دیکھتی ہے ۔ بلا شبہ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی ایک حجت و دلیل ہوتے ہیں ۔ ان کا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کیلئے ہوتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور وہ سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والے ہوتے ہیں اور وہ اللہ کے سوا کسی اور کی تلاش نہیں کرتے وہ سر دینا آسان سمجھتے ہیں اور شرک کے قریب جانا ان کو مشکل نظر آتا ہے ۔ ان کا حال احادیث صحیحہ میں اس طرح آتا ہے کہ :
نبی اعظم و آخر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے اے جبریل ! میں اپنے فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر ۔ پس جبریل بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے ۔ پھر وہ آسمان میں منادی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو پھر سب اہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر زمین میں اس کی مقبولیت کا چرچا ہوتا ہے ۔ اس طرح جس شخص کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو بھی اسے ناپسند کرنے کا حکم ملتا ہے پھر جبریل (علیہ السلام) آسمان میں اس کے مبغوض ہونے اور ناپسند ہونے کی منادی کرتے ہیں تو آسمان والے اس سے بغض کرنے لگتے ہیں پھر زمین میں اس کے متعلق نفرت اور بغض کا جذبہ بڑھنے لگتا ہے ۔ ( صحیح مسلم) غور کرو گے تو یہ حدیث تم کو بہت بڑا سبق دے گی اور وہ یہ کہ اللہ والوں کی محبت کی ابتداء خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے شروع ہوتی ہے اور اس کا چرچا سب سے پہلے آسمانوں میں کیا جاتا ہے اور اختتام زمین پر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ وہ انعام الٰہی کا مکمل طور پر پابند ہوتا ہے اور سختی کے ساتھ ان پر قائم رہتا ہے اور زندگی کے کسی حصہ میں بھی وہ احکام الٰہی کی پیروی سے مستثنیٰ قرار نہیں پاتا اور جو احکام الٰہی کا نہایت سختی کے ساتھ پابند نہ ہو وہ ولایت کا مستحق نہیں قرار پاتا بلکہ وہ شیطان کا دوست کہلات ہے اب اس حدیث کے پیش نظر اپنے سیدوں ، پیروں ، مرشدوں اور مذہبی رہنمائوں کا تجزیہ کر کے دیکھو اور بتائو کہ وہ اولیائے رحمن کہلانے کے مستحق ہیں یا اولیائے شیطان کہلانے کے اور پھر یہ بھی کہ جو لوگ لوگ ان بزرگوں اور اللہ کے سچے ولیوں کی خانقاہوں اور درباروں پر کر رہے ہیں یہ شیطانی کام ہیں یا رحمانی ؟ ایک بار پھر غور کرو اور اپنی ایمانداری سے بتائو کہ یہ خانقاہیں اور دربار بدکاری کے اڈے نہیں بنا دیئے گئے ۔ افیون ، بھنگ ، چرس اور ہیروئن جیسی ناپاک چیزیں وہاں استعمال نہیں ہوتیں ۔ ناچ اور گانے وہاں نہیں ہوتے ، ڈھول اور دف وہاں نہیں بجائے جاتے کیا اولیائے کرام (رح) ان سارے کاموں کو جائز سمجھتے تھے ۔ کیا ان کاموں میں کوئی ایک کام بھی ہے جو شیطان کی سرپرستی میں نہ ہوتا ہو ؟ کیا اولیائے کرام (رح) کے ساتھی شیطان ہوتے ہیں ؟ کیا متقی اور پرہیز گار لوگ ان کاموں کو کرتے دیکھتے اور سنتے ہیں ؟ خدا کا خوف کرو اور اولیائے کرام (رح) کی توہین مت کرو کیونکہ ایسا کر کے اللہ تعالیٰ کے ہاں مبغوض ٹھہرو گے۔
Ayah 10:64اللہ تعالیٰ کا فرمان اٹل ہے اور وہ کبھی بھی بدلا نہیں کرتا
93 ؎ پیچھے اولیاء اللہ کو ایک طرف تو یہ خوش خبری دی تھی کہ ان کیلئے خوف و حزن باقی نہ رہے گا اور دوسری طرف اس آیت میں یہ بھی بتادیا کہ صرف یہی نہیں بلکہ ان کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بشارتیں ہی بشارتیں ہیں اور یہی وہ بلند ترین مقام ہے جس کو قرآن کریم نے ” فوز عظیم “ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ البشری بشارۃ اس خبر کو کہا جاتا ہے جو خوش کرنے والی ہو چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے ولما جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری (العنکبوت 29 : 31) یبشری ھذا غلام ( یوسف 21 : 19) اور بشیر اس کو کہتے ہیں جو اس طرح کی خبر پہنچاتا ہے فلما ان جاء البشیر (یوسف 12 : 96) ان ہوائوں کو بھی مبشرات کہا جاتا ہے جو انسانی زندگی کیلئے مفید ہوں یا کسی علاقہ کے لوگوں کیلئے مفید وقت پر چلیں ۔ فرمایا یرسل الریاح مبشرات ( الروم 30 : 46) یہ خوش خبری اس خوف و حزن سے محفوظ رہنے کی ہے اور خوف و غم سے مراد دنیوی خوف وغم بھی ہو سکتا ہے جس سے مومنین کاملین اس لئے محفوظ ہوجاتے ہیں کہ وہ ہر ناگوار سے ناگوار واقعہ میں بھی حکمت الٰہی ہی کا مشاہدہ کرتے ہیں اس لئے دنیا کی ہر ناگواری ان کیلئے گوارا ہے اور ان کیلئے حزن و ملال کا باعث نہیں ہو سکتی ۔ گویا
ع مشکلیں اتنی پڑیں کہ آساں ہو گئیں
اور آخرت کیلئے بشارات تو ظاہر ہی ہیں کیونکہ دنیا کے حجابات ہی نے ان کو روک رکھا تھا جب وہ حجاب اٹھ گیا تو باقی کیا رہ گیا ؟ اب تو خوشی ہی خوشی باقی ہے کہ وہ بحمد اللہ کامیاب و کامران ہو کر اپنے اصل محبوب سے جا ملے اور ان کو وہ چیز یعنی لقائے الٰہی مل گئی جس کا ملنا دنیوی زندگی میں محال تھا۔ ” اللہ کے فرمان اٹل ہیں وہ کبھی بدلنے والے نہیں “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کے ساتھ جو انعامات کے وعدے کئے ہیں اور جن بےپایاں عنایات اور نوازشات کی بشارتیں دی ہیں وہ قطعی ہیں ان میں کوئی ردو بدل نہیں ہوگا اس لئے کہ اللہ کی باتوں میں کبھی ردو بدل ممکن نہیں نہ وہ خود رد و بدل کرتا ہے نہ کسی کو ردو بدل کرنے دیتا ہے اس لئے جو وعدے دنیا میں ان کے ساتھ کئے گئے تھے تو وہ یقینا پورے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی خاص نوازشات سے ان کو نوازے گا ۔ ” اور یہی سب سے بڑی فیروز مندی ہے “ ۔ ان خوش نصیبوں کے طالع ارجمند کا کیا کہنا جن کا سفینہ حیات جب ساحل موت پر لنگر انداز ہو تو رب کریم کے فرشتے مرحبا صد مرحبا کہتے ہوئے ان کا استقبال کریں اور رضائے الٰہی کا تاج زونگار ان کے سروں پر رکھ دیں ۔ مادی لذتوں میں مگن رہنے والوں اور فانی کامیابیوں کو اپنی زندگی کا منتہائے مقصود سمجھنے والوں کو کیا خبر کہ اس کامیابی میں کیا سرور ہے اور یہ کامیابی کتنی بڑی کامیابی ہے اور اس دنیا کی بد مست کردینے والی شراب پینے والوں کو کیا خبر کہ وہ ” شرابا ً ظھورا ً “ کیا چیز ہے ؟
Ayah 10:65اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان منکرین کی باتوں سے آزردہ خاطر نہ ہوں
94 ؎ اللہ رب العزت والا کرام منکرین کے طنز و تعریض اور آپ ﷺ کی تبلیغ و موعظت سب کچھ سن رہا ہے اور ان کی شرارت وعناد اور آپ ﷺ کا تحمل اور درد اصلاح سب اس پر روشن ہے ’ ’ منکروں کی باتوں سے آپ ﷺ آزردہ خاطر نہ ہوں “ فرمایا اس لئے کہ کفریات سے آپ ﷺ کا مغموم ہونا بالکل ایک امر طبعی تھا۔ آپ ﷺ کی اس سے تسلی کی جا رہی ہے اور ” ساری عزتیں اللہ ہی کیلئے ہیں “ اور وہی اپنی قدرت سے آپ ﷺ کی اور اسلام کی نصرت و حمایت کرے گا اس آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اے میرے رسول ﷺ ! اہل مکہ کا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، تیری نبوت و رسالت کا انکار ، تیرے خلاف قتل و غارت کے منصوبے اور دوسری ان کی نازیبا حرکتیں آپ ﷺ کو رنجیدہ خاطر نہ کریں عزت اور غلبہ قدرت سب اللہ کے اختیار میں ہے وہ آپ ﷺ کو ان پر غلبہ دے گا ، ان کی سب باتیں وہ سنتا ہے اور ان کے سارے عزائم کو وہ خوب جانتا ہے۔
مطلب بالکل واضح ہے کہ کفار کی ایذاء رسانیوں میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ کفر اپنی ساری طاقتوں کو یکجا کر کے اسلام پر بھر پور وار کرنے کیلئے پر تول رہا ہے اور نبی کریم ﷺ کی مخلصانہ مساعی پر پھبتیاں کسی جا رہی ہے۔ ظاہر بین نگاہیں سمجھنے لگی ہیں کہ عداوت وعناد کے ان بھڑکتے ہوئے شعلوں میں شجر اسلام کا برگ و بار لانا ناممکن ہے ۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو ان تسلی آمیز الفاظ سے خطاب فرماتا ہے کہ آپ ﷺ کفار کی دل آزاریوں پر غم گین نہ ہوں۔
Ayah 10:66غیر اللہ کی پرستش کرنے والے دراصل اپنے وہم و گمان کی پرستش کرتے ہیں
95 ؎ فرمایا آسمان میں بسنے والے فرشتے ہوں یا زمین میں بسنے والے جن و انس سب کے سب اللہ کی مخلوق ہیں تو غور کرو کہ وہ مخلوق ہو کر خالق کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اور پھر جب یہ ذوی العقول اللہ نہیں بن سکتی تو تمہارے خود ساختہ بت جو اللہ ہی کی مخلوق میں سے بعض انسانوں کو تم نے گھڑ لئے ہیں وہ کیسے اللہ بن سکتے ہیں ؟ پھر جو لوگ اللہ کے سوا اپنے مصنوعی شرکیوں کو پکارتے ہیں وہ نرے وہم و گمان اور محض قیاس کی اتباع کرتے ہیں کوئی واضح دلیل ان کے پاس نہیں ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جب زمین آسمان کی ہرچیز اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے اور اس کے قبضہ قدرت میں ہے تو کسی کو کیا مجال کہ الوہیت میں اس کی ہمسری کا اور ربوبیت میں شریک ہونے کا دعویٰ کرسکے ۔ زیر نظر آیت میں جو لفظ ” ما یتبع “ کا استعمال ہوا اس میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے کہ آیا یہ ’ ’ ما “ ا۔ نافیہ ہے ۔ 2۔ استفہامیہ ہے یا 3 ۔ موصولہ ہے ۔ ہم نے دوسرا قول پسند کیا ہے اور زیادہ مفسرین بھی اسی طرف گئے ہیں اور لفظ استفہامیہ ہے یا 3 ۔ موصولہ ہے ۔ ہم نے دوسرا قول پسند کیا ہے اور زیادہ مفسرین بھی اسی طرف گئے ہیں اور لفظ ” یخرضون “ کی تحقیق میں جو کچھ نقل کیا گیا ہے اس کا مفہوم اس طرح ہے کہ ” ہر وہ قول جو محض ظن وتخمین سے کیا جائے اسے ” خرص “ کہتے ہیں خواہ وہ واقع کے مطابق ہو یا نہ ہو اور ایسے قول کے قائل کا ” کاذب “ بھی کیا جاتا ہے (مفردات امام راغب) مطلب یہ ہوا کہ ان کا اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہی میں سے بعض کے بتوں کو یا قبروں کو اپنا معبود بنانا کسی عقلی دلیل پر مبنی نہیں اور نہ ہی کسی اللہ کے رسول نے ان کو یہ تعلیم دی ہے کہ خدائے بر حق کو چھوڑ کر اس کی مخلوق کے بت یا قبریں بنا کر ان کی پوجا میں لگ جانا محض ان کے وہم و گمان کی پیداوار ہے ۔ معلوم رہے کہ ہم ہر جگہ پر بتوں کے ساتھ جو قبروں کا ذکر کرتے ہیں حالانکہ پرانے مفسرین نے ہر جگہ بتوں کے ساتھ کبھی قبروں کا نام نہیں لیا تھا تو یہ محض اس لئے کہ پرانے مفسرین نے جو نبی کریم ﷺ کے براہ راست مخاطبین یعنی اہل مکہ و اہل عرب کا حال دیکھا تو وہ اللہ کے نیک لوگوں ، نبیوں اور ولیوں کے مجسمے ہی تیار کرتے تھے اور انہی مجسموں کو بت کہا جاتا تھا اس وقت قبر پرستی کی وبا موجود نہیں تھی ۔ فی زماننا جو کچھ اس وقت کے لوگ ان بتوں یعنی صاحب بت کے ساتھ محبت رکھتے تھے آج بالکل ہمارے زمانہ کے لوگ صاحب قبر کے ساتھ وہ محبت کرتے ہیں لہٰذا جب مشرکوں نے اپنی حالت بدل لی تو ظاہر ہے کہ ان کی بدلی ہوئی حالت کا ذکر بھی ساتھ کردینا کوئی بری بات نہیں ہوگا اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ اس وقت کے مشرکوں میں بعض مشرکوں کا ذکر کرتے ہوئے خود قرآن کریم نے واضح الفاظ میں ” اپنی خواہش کو رب بنا لینے والوں “ کا ذکر بھی کیا ہے اور ان کو مشرک ہی قرار دیا ہے حالانکہ ان کے سامنے اس وقت نہ تو کوئی بت ہوتا تھا اور نہ اس وقت کوئی قبر ، لہٰذا وہ لوگ جو اپنی ہی خواہشوں کے پرستار تھے کہ اس وقت بھی تھے اور آج بھی ہیں اور اسلام کی تعلیم میں وہ بھی ویسے ہی مشرک تھے اور ہیں جیسا کہ وہ مشرک جو بتوں کی پرستش کرتے تھے یا آج جو لوگ قبروں کی پرستش کرتے ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم میں ان کا بیان اس طرح آیا ہے کہ ” ارء یت من اتخذ الھہ ھواہ افانت تکون علیہ وکیلا “ (الفرقان : 25 : 43) ” کبھی تم نے اس شخص کے حال پر بھی غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لای ہو ؟ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔
Ayah 10:67دن رات کا بنانے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ان میں بڑی نشانیاں ہیں
96 ؎ فرمایا وہ اللہ کی گرامی ذات ہے جس نے رات بنائی تاکہ تم دن بھر کی تکان سے آرام و سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے کاروبار انجام دے سکو ۔ تاریکی شب اور دن کی روشنی میں کھلے کانوں پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت سننے والوں کیلئے اللہ کی وحدانیت کی بیشمار نشانیاں ہیں اور ان میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کے علیم و حکیم اور سمیع وبصیر ہونے کی ناقابل تردید دلیلیں پیش کی جارہی ہیں اور ایک دوسری جگہ اس سے اس طرح استدلال کیا گیا ہے۔
” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کیلئے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟ ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے پوچھو کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کیلئے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون معبود ہے جو تمہیں رات لا دے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو ؟ کیا تم کو کچھ سوجھتا نہیں ؟ “ (القصص : 28 : 71 ، 72)
اس طرح اس آیت سے استدلال کیا گیا کہ غور کرو کہ کس طرح رات کا آرام انسان کو کام کاج کے قابل بنانا ہے اور دن کی روشنی میں وہ کام کرتا ہے یہ دن اور رات اللہ ہی کی ذات نے بنائے ہیں پس نفع و نقصان کا مالک بھی وہی ہے جو سامانوں کا پیدا کرنے والا ہے اور اس میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ جس طرح رات جسمانی سکون کا باعث ہے اسی طرح وہ روحانی سکون کا موجب بھی ہے کیونکہ رات کو عبادت سے خصوصیت کے ساتھ تسکین قلب حاصل ہوتی ہے اور ایسا ہی دن جس طرح جسمانی طور پر روشنی دیتا ہے روحانی طور پر بھی دیتا ہے بشرطیکہ کوئی غور و فکر کرنے والا بھی ہو۔
Ayah 10:68کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے کس کو ولد بنا لیا ہے آخر کیوں ؟
97 ؎” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنا ایک بیٹا رکھا ہے “ ۔ یہ کہنے والے کون تھے ؟ ان لوگوں سے مراد بہت سے اہل باطل لئے جاسکتے ہیں لیکن خاص طور پر اشارہ اس گھڑے ہوئے مذہب ” تثلیث “ کی جانب ہے جس کا نام ایک اللہ کے سچے رسول ﷺ کی جانب منسوب کر کے مسیحیت رکھ لیا گیا ہے حالانکہ اس کے عقائد باطلہ سے نعوذ باللہ سید نا مسیح (علیہ السلام) کو کوئی نسبت نہیں ” اتخذ والذا “ کا صحیح ترجمہ ” بنا رکھا ہے ایک بیٹا “ لے رکھا ہے ایک بیٹا “ اس جگہ ان میحیوں کا قول نقل کیا گیا جو کہتے تھے کہ ” اللہ کا ایک بیٹا ہے “ بلکہ یہ ان مسیحیوں کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے جو بیان کرتے تھے کہ ” اللہ نے ایک بیٹا بنا لیا ہے “ اتخاذ ولد کا صاف صاف مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے گویا کسی کو متنبی کرلیا ہے۔ قرآن کریم کی تلمیحات کو پوری طرح سمجھنے کیلئے قرآن کریم نے صدہا مقدمات کی طرح یہاں بھی اس کی ضرورت ہے کہ نظر اہل باطل کے عقائد و خیالات پر ذرا گہری ہو۔ مسیحیوں کے ہاں ایک زبردست قرقہ " Adoprinists" کے نام سے گزرا ہے ان کے مرکزی عقیدہ کیلئے اصطلاحی لفظ تبنیت (Adoprionists) کا ہے ۔ عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیح خلقتہً خدا نہیں وہ خدا پیدا نہیں ہوئے۔ وہ خدا شروع سے بنے بنائے اور خود بخود نہیں ہیں بلکہ اضلا ً و خلقاً وہ انسان ہی تھے البتہ اقنوم ثالثہ یعنی روح القدس کا فیضان ان پر شروع ہی سے ہونے لگا تھا اس لئے وہ قدوست کے ایسے اوج کمال پر پہنچ گئے اور روح الٰہی ان کے اندر ایسی حلول کرگئی کہ اقنوم اول یعیہ خدائے برتر و اعظم نے اپنابیٹاقراردے کر ، اپنا متنبی بنا کر شریک الوہیت کرلیا اور اب وہ ربوبیت ، مالکیت وغیرہ جملہ صفات الٰہی میں شریک وسہیم ہیں اس عقیدہ کے وجود کی شہادت تاریخ میں 185 میں ملتی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں پاپائے روم نے اسے الحادو زندقہ قرار دیا ۔ بارہویں صدی عیسوی میں اس نے پھر زور پکڑا اور پھر یہ لوگ زندیق قرار پائے تفصیل اس کی تاریخ میں ملے گی ۔ اس آیت میں صاف اشارہ مسیحیت کی اس شاخ کی جانب ہے۔ بڑے سے بڑا محقق مفسر بھی بہر حال بندہ اور بشر ہی ہوتا ہے کسی کی نظر سے کوئی پہلو رہ جاتا ہے اور کسی کو نظر سے کوئی پہلو ۔ مسیحیت کے سلسلہ میں خوب یاد رہے کہ مسیح مذہب میں عقیدہ ٔ انبیت کوئی ثانوی درجہ یا فرعی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ مسیحیت کی جان یہی عقیدہ ہے اگرچہ اس کی تعبیرات مختلف ہیں اور زیر نظر آیت میں ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ مسیح (علیہ السلام) کے متعلق متنبی کا عقیدہ رکھتے تھے۔ لیکن کفار عب کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ فرشتے نعوذ باللہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے ” ان یدعون من دونہ الا اناثا “ ( النساء 4 : 117) اور اس کی تشریح بھی ہم جلد دوم تفسیر سورة النساء میں کر آئے ہیں اور اس طرح ایک جگہ ارشاد فرمایا : اَفَاَصْفٰـکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا (الاسراء : 17 : 40) اور ایسا ہی سورة الصافات : 150 میں اور سورة الزخرف 90 میں بیان ہوا ، لہٰذا زیر نظر آیت کے اس حصہ میں ان کو بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔
اس عقیدہ بد کی تردید کی جا رہی ہے کہ تم نے کیسی بیوقوفی کی بات کردی ہے
98 ؎ آیت کے اس حصہ میں اس عقیدہ کے رد کیلئے دو دلیلیں پیش فرمائی جا رہی ہیں ۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ وہ غنی ہے یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے وجود ، اپنی نشو ونما اور اپنی بقاء میں اس کا محتاج ہے۔ اولاد کی ضرورت تو اس لئے محسوس کی جاتی ہے کہ انسان جو کمزور ہے وہ چاہتا ہے کہ اسکی اولاد ہوتا کہ وہ طاقتور ہوجائے اور اپنے دشمنوں کو مغلوب کرسکے یا وہ فقیر و کنگال ہے وہ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد ہو جو کسب رزق میں اس کی معاون ثابت ہو یا انسان جب سوچتا ہے کہ ایک نہ ایک دن اسے یہاں سے رخت سفر باندھنا ہے تو اس کے دل میں اولاد کی خواہش پیدا ہوتی ہے جو مرنے کے بعد اس کے نام کو اور اس کی یاد کو زندہ رکھ سکے اور جو ذات ہر قسم کے احتیاج اور ضرورت سے پاک ہے اس کو اولاد کی خواہش آخر کیوں ؟ اور پھر دوسری دلیل لہ ما فی السموات والارض الخ سے دی کہ جب عالم ہست و بود کی ہر چھوٹی بڑی چیز اس کی پیدا کردہ ہے اور اس کی مملوک ہے تو وہ اس کی اولاد کیسے بن سکتی ہے۔
اللہ کے متعلق تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تم کو علم نہیں ہے ؟
99 ؎ قرآن کریم نے ایک طرف اثبات توحید پر بیسیوں دلائل دیئے اور دوسر طرف اہل شرک سے بار بار مطالبہ بھی کیا کہ تم اپنی باطل پرستی پر کیا دلیل رکھتے ہو ؟ تم آخر کیوں ایک سراسر دعویٰ بےدلیل کی پیروی کر رہے ہو ؟ اور پھر ایسے لغو دعویٰ اور جھوٹ موت پر کیوں عمل پروا ہو ؟ ان سے کہا جا رہا ہے کہ اس عقیدہ کے بنیادی تصورات میں رب ذوالجلال والاکرام پر بہت سے عیوب ، بہت سی کمزوریاں ، بہت سے نقائص اور بہت سی احتیاجوں کی تہمت لگی ہوئی ہے اس بناء پر پہلے فقرے میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام عیوب ، نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے جو تم اس کی طرف منسوب کر رہے ہو ۔ دوسرے فقرے میں ارشاد فرمایا کہ وہ ان حاجتوں سے بھی بےنیاز ہے جس کی وجہ سے فانی انسانوں کی اولاد کی یا بیٹا بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے اور تیسرے فقرے میں صاف کہہ دیا گیا کہ زمین و آسمان میں سب اللہ کے بندے اور اس کے مملوک ہیں ان میں سے کسی کے ساتھ بھی اللہ کا ایسا کوئی مخصوص ذاتی تعلق نہیں ہے کہ سب کو چھوڑ کر اسے وہ اپنا بیٹا یا اکلوتا یا ولی عہد قرار دے دے۔ صفات کی بناء پر بلا شبہ اللہ بعض بندوں کو بعض کی بہ نسبت زیادہ محبوب رکھتا ہے مگر اس محبت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کسی کو بندگی کے مقام سے اٹھا کر خدائی میں شرکت کا مقام دے دیا جائے زیادہ سے زیادہ اس محبت کا تقاضا بس وہ ہے جو اس سے پہلے کی ایک آیت میں بیان کردیا گیا ہے کہ ” جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا ان کیلئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ، دنیا اور آخرت دونوں میں ان کیلئے بشارت ہی بشارت ہے “۔ اور آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس جب اس کی کوئی دلیل موجود نہیں تو کیا تم اللہ پر ایسی بات گھڑتے ہو جس کا تم کو بھی کوئی علم نہیں کہ تم ایسی بات کیوں کہہ رہے ہو ؟ تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ کوئی بھی ایسا دعویٰ جس کیلئے کوئی دلیل موجود نہ ہو کبھی صحیح نہیں ہوتا اور آنے والی آیت میں مزید وضاحت کی جا رہی ہے۔
Ayah 10:69اللہ پر جھوٹ باندھنے والے تو کبھی فلاح حاصل نہیں کر سکتے
100 ؎ اب اعلان کیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ فرما دیں کہ جو لوگ اللہ پر بیٹا بنا لینے اور شریک مقرر کرنے کیلئے افتراء باندھتے ہیں وہ کبھی بھی دوزخ سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے۔ ” فلاح “ کا لفظ کم از کم جن معنی میں عربی زبان میں مستعمل ہے تو وہ وہی ہے جو مستقل دیرپا اور دائمی ہو اور ظاہر ہے کہ وہ کسی منکر مکذب اور مشرک کو نصیب نہیں ہو سکتی اور عارضی زندگی میں چند روز دنیوی عیش و تنعم جس کا خاتمہ یقینی طور پر ذلت و مصیبت پر ہے اسے فلاح ہرگز نہیں کہا جاسکتا ۔ لیکن یہی وہ غلطی ہے جو اکثر لوگوں کو لگتی رہی ہے اور آج بھی لوگوں کو الگ ہی ہے کہ جس کے ہاں ذرا مال و متاع دنیوی میں ریل پیل دیکھی تو جھٹ کہہ دیا کہ اجی اس پر تو اللہ بہت سی راضی ہے اور بس جی وہ تو بہت ہی کامیاب زندگی گزار رہا ہے اور اسلام کی نظر میں
ع لا عیش الا العیش الآخرہ
کا سبق سکھایا گیا ہے اور وہ اپنے ماننے والوں کو یہی یاد رکھنے کی تلقین کرنا ہے۔