10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 10:22

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی خشکی اور تری میں سیر و گردش کا سامان کردیا ہے پھر جب تم جہازوں میں سوار ہوتے ہو ، جہاز موافق ہوا پا کر تمہیں لے اڑتے ہیں مسافر خوش ہوتے ہیں کہ اچانک ہوائے تند کے جھونکے نمودار ہوجاتے ہیں اور ہر طرح سے موجیں ہجوم کرنے لگتی ہیں اور مسافر خیال کرتے ہیں بس اب ان میں گھر گئے تو اس وقت وہ دین کے اخلاص کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ اے اللہ ! اگر اس حالت سے ہمیں نجات دے دے تو ہم ضرور تیرے شکرگزار ہوں گے

جب کسی ایک مصیبت میں پھنسے کہ نکلنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو اللہ یاد آ گیا ۔ 37 انسان کی اس عجیب و غریب حالت کا بیان کہ جب اس پر مصیبتوں کے مہیب بادل چھا جاتے ہیں اور وہ ان بادلوں میں گھر کر رہ جاتا ہے اور جب غم واندوہ کا اندھیر اس پر چھا جاتا ہے اور اس کے سارے مصنوعی سہارے ٹوٹ جاتے ہیں اور جب تمام دوست و احباب ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور جب اس کے دل کی کشتی مایوسی اور نا امیدی کے طوفان میں ڈوبنے لگتی ہے تو اس وقت انسان کی آنکھیں کھلتی ہیں اور ایک ایسی ہستی کا یقین آنے لگتا ہے جس کے ماننے سے آج تک وہ انکار کرتا رہا تھا خواہ یہ انکار زبانی ہو یا عملی تو اس وقت اس کے دامن رحمت میں سرچھپانے کے بغیر کوئی چارہ نظر نہیں آتا جس کی وہ اب تک نافرمانی کرتا رہا تھا۔ اس وقت انسانی تمام معبود ان باطل سے منہ موڑ کر صرف اور صرف ایک ہی اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس سے گڑ گڑا کر اپنی فلاح و نجات کے لئے سوال کرتا ہے اور پختہ وعدہ کرتا ہے کہ اے اللہ ! اگر ایک دفعہ تو نے مجھے اس گرداب ہلاکت سے بچالیا تو عمر بھر تیری چوکھٹ سے سر نہیں اٹھائوں گا لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے اس کو نوازتا ہے اور اس کی امیدوں کو ڈوبتے ہوئے سفینے کو ساحل مراد تک پہنچا دیتا ہے تو پھر وہ کفر و شرک کرنے لگتا ہے۔ اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے کس کریم کو اس نازک وقت میں پکارا تھا اور مصیبت کی ان گھڑیوں میں اس نے کیا وعدہ کیا تھا ؟ اس جگہ جو حالت بیان کی گئی وہ مشرکین مکہ کی ہے یا اس وقت کی دوسری جاہل قوموں کی۔ فی زمانہ ہم مسلمان کہلانے والوں کی حالت بالکل اس سے مختلف ہے ہم لوگ ایسی حالت میں پکاریں گے اور سوریں گے تو شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کو ، علی مشکل کشا کو ، حسین بادشاہ کو اپنے اپنے پیروں ، بزرگوں اور شہیدوں کو۔ بلاشبہ اس وقت ہماری قوم کی اکثریت کی حالت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ ان کی اصلاح کی کوئی صورت بظاہر نظر نہیں آتی۔ ہمارے ملک کے ” یاغوث اعظم “ یا ” پیران پیر “ کی صدائیں لگانے والے اور یا علی مشکل کشا کا نعرہ لگانے والے فوراً اپنے اپنے انجام پر بھی غور کرلیں اور بہتر ہے کہ اپنی اصلاح کرلیں۔ اس لئے کہ جب تک جان اس جسد عنصری میں گھری ہوئی ہے اس وقت تک اپنے ہر کئے کی تلافی اور معافی مانگی جاسکتی ہے لیکن جب یہ الحاق ختم ہوگیا تو اس وقت اصلاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔ امام رازی نے امام جعفر صادق سے ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہے کہ کسی نے آپ سے اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے پر دلیل طلب کی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تم کیا کرتے ہو ؟ اس نے عرض کی کہ میرا پیشہ سمندری تجارت کا ہے۔ آپ نے اس سے اپنے بحری سفر کا کوئی واقعہ سنانے کی سفارش کی اس نے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں سمندر میں سفر کر رہا تھا کہ طوفان آیا اور میری کشتی ٹوٹ گئی مجھے ایک تختہ مل گیا میں اس کے سہارے سمنر میں تیرنے لگا۔ اچانک تیز آندھی چلنے لگی۔ آپ نے جھٹ اس سے پوچھا سچ بتائو جب تمہاری کشتی ٹوٹ چکی تھی اور تمہارا تختہ بپھری ہوئی موجوں کے رحم و کرم پر تھا کیا اس وقت تمہارے دل میں کسی برتر ہستی کے حضور میں عجز و نیاز کے جذبات پیدا ہوئے تھے اس نے جواب دیا جی ہاں ! آپ نے فرمایا بس وہ ہے تررا معبود اور خا جس کے لئے مصیبت کی گھڑی میں تمہارے دل میں نیاز مندی اور عاجزی کے جذبات پیدا ہوئے تھے۔ (رازی (رح)) لیکن ہم پورے وثوق سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک میں اکثریت ان مسلمانوں کی ہے جن کی کشتی اگر ڈوبنے لگیت و نہ ڈوبتے وقت ان کے تصور میں اللہ وحدہ لاشریک لہ کا خیال پیدا ہوگا اور نہ ڈوب جانے کے بعد کسی تختے پر بچ نکلتے وقت بچ جانے والے کے دماغ میں یہ بات آئے گی وہ ڈوبتے وقت بھی غیر اللہ ہی کو یاد کریں گے اور تختے پر بچ نکلنے والے بھی یہی کہیں گے ہمیں فلاں بزرگ اور فلاں مرشد نے ہاتھ دے کر بچالیا ہے اور پھر وہ اسی کے نام کی نذر و نیاز دیں گے اس لئے اگر اجازت ہو تو امام رازی (رح) کی اس بات سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے وہی معبود حقیقی ہیں جن کو انہوں نے ایسے نازک وقت میں نایت ہی عاجزی اور نا زی مندی کے ساتھ پکارا اور وہ اس وقت کے مشرکوں سے زیداہ پکے اور کٹر مشرک ثابت ہوئے جن کے مشرک ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں رہتا اور ان کے نام کتنے ہی اسلامی ہوں اور وہ کتنے ہی عبادت گزارو نیک متصور ہوتے ہوں ان کے مشرک ہونے میں ذرا برابر بھی شبہ نہیں رہتا لیکن ایسے مسلمانوں کو خود اپنا تجزیہ کرنا چاہئے دوسروں کو اس بات کا حق نہیں کہ وہ ان پر فتویٰ بازی کریں جس سے چڑ کر وہ مزید اپنے شرک پر پکے ہوجائیں اور یہ بھی کہ جب تک کوئی انسان اس دار فناء سے رخصت نہیں ہوتا اس وقت تک اس کے متعلق حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ وہ کسی موڑ پر آ کر اسلام کو دل و جان سے قبول کرسکتا ہے۔ اس ملک عزیز کے وڈیروں پر سب سے زیادہ اور مشکل وقت وہ ہوتا ہے جب وہ جمہوریت کے میدان میں ایم این اے یا ایم پیاے کی سیٹ پر الیکشن لڑ رہے ہوتے ہیں کیونکہ اس ملک عزیز میں یہی مشکل وقت ہے جس سے اس ملک کے وڈیروں کو دوچار ہونا پڑتا ہے اور کوئی مشکل ان کے لئے اس سے بڑی مشکل نہیں ہو سکتی اس وقت بھی وہ اپنی کشتی پر سوار ہوتے وقت کسی بزرگ اور پیر کی درگاہ و خانقا رہ پر حاضری دے کر آتے ہیں اور پھر کامیاب ہونے کے بعد بھی ان کی حاضری انہیمقامات پر ہوتی ہے۔ ان باتوں کا تو تم بھیمشاہدہ کر رہے ہو اور امام رازی رحمتہ اللہ کی عبارت بھی تم نے پڑھی ہے اگر آپ چاہیں تو اپنے قائدین اور راہنمائوں سے پوچھ دیکھو کہ وہ ان مزاروں اور خانقاہوں کو کیا سمجھتے ہیں ؟ لیکن ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ ان ساری باتوں کو محلوظ خاظر رکھتے ہوئے فقط اپنی اصلاح کی کوشش کرو اور اگر کوئی خامی نظر آئے تو اس کی اصلاح کرلو اور اگر کسی کی تفہیم کرا سکتے ہو تو اس انداز کے ساتھ کر ائو کہ خرابی بڑھنے کی بجائے کم ہوتی نظر آئے۔ بلاشبہ فطرت کا مطالعہ کرنے والوں نے یہ نقل کیا ہے کہ یہ چیز انسانی فطرت میں رکھ دی گئی ہے کہ جب تکالیف کے مہیب سائے اسے گھیر لیتے ہیں تو اس کے دل میں اس وقت صرف اپنے رب حقیقی کا ہی خیال پیدا ہوتا ہے اور اس کے دامن رحمت میں پناہ کی امید بندھتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر مضطر اور پریشان حال کی التجا قبول فرماتا ہے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان کیونکہ اس وقت جھوٹے سہارے ختم ہو چکتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰکی رحمت ہی کا سہارا باقی رہ جاتا ہے۔ لیکن پھر کیا ہوتا ہے جب وہ مشکل وقت نکل جاتا ہیڈ یہی کہ وہ مشرک پھر سامنے کھڑا ہوتا ہے جس سے ان لمحات کے علاوہ وہ مانوس رہ چکتا ہے اس لئے نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ وہ دوبارہاسی مقام کی طرف مراجعت کرجاتا ہے اور اس کی وہ وقتی حالت فوراً بدل جاتی ہے۔
Ayah 10:23

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب اللہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو اچانک بھول جاتے ہیں اور ناحق ملک میں سرکشی و فساد کرنے لگتے ہیں اے لوگو ! تمہاری سرکشی کا وبال تو خود تمہاری ہی جانوں پر پڑنے والا ہے ، یہ دنیا کی زندگی کے فائدے ہیں سو اٹھا لو پھر تمہیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اس وقت ہم تمہیں بتائیں گے کہ جو کچھ دنیا میں کرتے رہے اس کی حقیقت کیا تھی

۔ 38 ذرا مصیبت دور ہوئی تو وہ دوبارہ فساد میں مبتلا ہو گیا ۔ 38 بغاوت تو پہلے ہی بغاوت ہوتی ہے پھر اس کے ساتھ ” ناحق “ کے لفظ کا اضافہ کے کیا معنی ؟ کیا کوئی ” بغی “ حق بھی ہے ؟ اس کی ضرورت اس طرح پڑی کہ ان لوگوں کی یہ زیادتی اور سرکشی خود ان کے ضمیر میں اور ان کے معیار سے بھی کھلا جرم تسلیم ہوتی تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس کا ارتکاب کیا حالانکہ ان کو یہ سجھ لینے کے بعد اسکا حق نہیں تھا اس لئے ان کے اس کام کو اس لفظ نے ان کی نادانی اور ناسمجھی کے عذر کو دفع کردیا اور فرمایا کہ انہوں نے جو کچھ کیا جانتے بوجھتے کیا کہ ایسا کرنا ہمارا حق نہیں تھا۔ یاد رہے کہ ” بغی “ کے عنی سرکش کے ہیں اور اس میں ہر قسم کی سرکشی داخل ہے لیکن بغی کے ساتھ جب ’ دفی الارض “ کے الفاظ بھی ہوں جیسا کہ اس جگہ ہیں تو اس سے مقصد وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں دنیا کی دولت و طاقت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ اس کے گھمنڈ میں آ کر ظلم و فساد کو اپنا شیوہ بنا لیتے ہیں چونکہ اس سرکشی کا اصل سرچشمہ دنیوی زندگی کے سرو سامان کا غرور ہے اس لئے فرمایا جا رہا ہے کہ ان کو بات سمجھا دو کہ ان کے اس سرکشی کا وبال انہی پر پڑنیوالا ہے اور ان کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دنیا کا فائدہ ایک معمولی چیز ہے اس لئے یہ بات خوب طرح سمجھ لینے کے بعد ان کو حق نہیں پہنچتا کہ وقتی فائدہ حاصل کرنے کے لئے وہ کام کریں جو ان کو ہمیشہ کی زندگی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو۔ کفر و معصیت کے ساتھ دنیا میں جو عیش و کامرانی جمع ہوجاتی ہے وہ بالکل عارضی ہے ۔ 39 آیت کے اس حصہ میں مزید اعلان فرما دیا کہ ان کے کفر و معصیت کے ساتھ دنیا میں جو عیشو کامرانی جمع ہو سکتی ہے وہ محض چند روزہ ہے لیکن اس کی دائمی سزا تو آخرت میں بھگتنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی اس طوطا چشمی اور وعدہ شکنی سے اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور اسلام کی ترقی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوگیا لبتہ اس کی نحوست ان کے لئے وبال جان ثابت ہوگی اور اس کو نیست و نابود کر دے گی اور اس طرح ان کی سرکشی کا وبال کس پر پڑا ؟ ظاہر ہے کہ خود انہی لوگوں پر پڑا اس لئے کہ قدرتاً اور فطرتاً انہی پر پڑنا چاہئے تھا۔ فرمایا یہ دنیا کی زندگی کے فائدے ہیں سو ان کو خوب لوٹ لو انجام کار تم کو لوٹ کر ہماری ہی طرف آتا ہے پھر ہم تم کو بتا دیں گے کہ جو کچھ تم دنیا میں کرتے رہے اس کی اصل حقیقت کیا تھی ؟ لیکن اس وقت تمہارا سنبھلنے کا وقت نکل چکا ہوگا۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے یہ معاملہ کہ آسمان سے ہم نے پانی برسایا اور زمین کی نباتات جو انسانوں اور چارپایوں کے لیے غذا کا کام دیتی ہے اس سے شاداب ہو کر پھلی پھولیں اور باہم دگر مل گئیں پھر جب وہ وقت آیا کہ زمین نے اپنے سارے زیور پہن لیے اور خوشنما ہوگئی اور زمین کے مالک سمجھے کہ اب فصل ہمارے قابو میں آگئی ہے تو اچانک ہمارا حکم دن کے وقت یا رات کے وقت نمودار ہوگیا اور ہم نے زمین کی ساری فصل اس طرح بیخ و بن سے کاٹ کر رکھ دی گویا ایک دن پہلے تک اس کا نام و نشان ہی نہ تھا اس طرح ہم دلیلیں کھول کھول کر بیان کردیتے ہیں تو ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں

دنیوی زندگی کے عروج پر زوال کی دوسری مثال بیان کی جا رہی ہے ۔ 40 اس مثال میں بھی وہی بات سمجھائی ہے جو پہلی مثال میں سمجھائی گئی تھی۔ انسانی زندگی کے عروج وزوال اور بہار و خزاں کی ایک اور اثر انگیز اور دل نشین مثال سمجھائی جا رہی ہے جو حقیقت سے اتنی قریب ہے کہ کسی وضاحت کی کوئی حاجت نہیں اور اتنی کثرت سے وقوع پذیر ہے کہ اس میں کسی کو تردد نہیں۔ ہمارے خیال میں زمین کو جو آراستگی اور زیبائش آج نصیب ہے شاہد ہی کبھی نصیب ہوئی ہوگی۔ عمارتیں ہیں جو اپنی بلندی میں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں ان کے برقی طاقتور قمقمے اپنی چمک دمک میں ستاروں کو شرما رہے ہیں۔ دریائوں کے سرکش پانیوں کو ڈیموں میں بند کردیا گیا۔ بنجر زمینیں سونا اگل رہی ہیں۔ چٹیل میدانوں میں سرسبز و شاداب کھیت لہلہا رہے ہیں۔ صحرا و ریگستان سب رشک ارم بنتے جا رہے ہیں۔ بازاروں میں دنیا بھر کی عجیب و غریب مصنوعات کے ڈھیر لگے ہوئے صحرا و ریگستان سب رشک ارم بنتے جا رہے ہیں۔ بازاروں میں دنیا بھر کی عجیب و غریب مصنوعات کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ انسانی علم کی حدیں مزیدپھیلتی جا رہی ہیں۔ اس کی جستجو اور تجسس کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور اسی طرح سمندر کی اتھاہ گہرائیاں پایاب ہوتی جا رہی ہیں۔ فضاء کی وسعتیں سکڑ گئی ہیں۔ کاش ! انسان تسخیر کائنات کے خواب دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو بھی سمجھ لے کر اس عالم رنگ و بو کا ایک خلاق ومالک بھی ہے جس نے قدرتی چیزوں میں وہ صلاحیتیں رکھ دی ہیں جن سے یہ فائدہ حاصل کر کے آگے سے آگے قدم رکھتا چلا جا رہا ہوں وہی جس نے اس جہان کو ساری رعنائیاں بخشی ہیں۔ جس نے خود اس انسان کو بھی پیدا فرمایا ہے اور اس کی عقل و فکر اور قلب و نظر کی دولت سے بھی مالا مال کردیا ہے جن کے بل بوتے پر اس نے اتنی ترقی کی ہے ۔ اس کا بھی یہی فرض ہے کہ وہ اپنے کریم خالق کو پہچانے اور اس کے احکام بجا لائے اور اس کے ارشادات کی صدق دل سے اطاعت کرے۔ انسان کبھی تنہا ہی غور کرلے کہ اس کے دستر خوان پر جو طرح طرح کے کھانے چنے گئے ہیں ان میں سے کوئی ایک چیز بھی ہے جس کو اس نے اپنی ہمت اور زور بازو سے بنایا ہے پھر ان طرح طرح کے پھلوں کو جو اس کے سامنے پڑے ہیں جب ایک ہی زمین میں بویا گیا ، ایک ہی طرح کا پانی دیا گیا اور ایک ہی طرح سے نلائی کی گئی لیکن جب یہ پک کر تیار ہوئے تو ان کے ذائقے کتنے مختلف ہیں ، آخر ایسا کیوں ہے ؟ وہ کون ہے جس نے ان پھلوں میں یہ ذائقے اور مزے بھر دیئے ہیں۔ زمین کی ساری انگوری اور دوسری زیبائش خاک کا ڈھیر نظر آنے لگے ۔ 41 انسان کبھی اتنا ہی غور و فکر کرلیتا کہ کل تک وہ زمین سڑی پڑی نظر آرہی تھی اور مٹی کی اینٹیں اور ڈھیلے پڑے تھے جیسے ہی آسمان سے بارش پڑی تو اس کو نباتات سے کس نے بھر دیا اور یہ ہریاول ہی ہریاول جو نظر آرہی ہے کہاں سے اور کیسے اس سے نکل کھڑی ہوگئی۔ اس بارش نے کیا عمل کیا کہ انسانوں کے کھانے کے لئے پھل پھلاری ، میوہ جات اور غلہ جات اگائے اور جانوروں کے کھانے کے لئے پنیاں اور بھوسہ وغیرہ بھی اسی سے برآمد ہوگیا۔ پھر جب ہر طرف خوب سرسبزی اور شادابی پھیل گئی ، لہلہاتے کھیت نظر آنے لگے ، سرسبز درخت ، شادات باغات ہر طرف پورے زیب وزینت کے ساتھ نظر آنے لگے تو کبھی ایسا بھی ہوا کہ جب انسان سمجھنے لگا کہ بس ہم ان تمام لذتوں اور نعمتوں سے لطف اٹھانے کے پوری طرح مالک و مختار ہیں کہ یکایک حکم الٰہی کوئی آسمانی آفت یا زمینی حادثہ ایسا پیش آیا کہ سارا گل و گلزار تہس نہس ہو کر ہر گیا اور یکدم ایٹمی دھماکوں سے یہ دنیا جہنم زار بن گئی جس نے سارے نوع انسانی ہی کو ختم کر کے رکھ دیا اور اگر کہیں دور دراز گوشوں میں انسان بچے بھی گئے تو انہیں خبر بھی نہ رہی کہ آج جہاں خاک کے تودے نظر آ رہے ہیں وہاں کبھی فلک بوس عمارتیں بھی تھیں۔ جہاں آج ویرانی نے پوری طرح پنجے گاڑے ہوئے ہیں وہاں کبھی نور و نکبت کے سمندر موجزن تھے ، جہاں آج وحشت و دہشت کا عفریت پھنکار رہا ہے وہاں کبھی بہاریں اٹکھیلیاں کیا کرتی تھیں۔ غور کرو گیتو سمجھو گے کہ یہی مرقع ہے انسانی زندگی کا کہ بڑے سے بڑے نامور اور با اقبال انسانوں کا خاتمہ بھی دفعتہً موت پر ہو کر رہ جاتا ہے اور یہ حال ہے دنیا کا جس میں غافل انسان ہمہ تن مصروف رہتا ہے۔ دلائل انہی لوگوں کے کام آتے ہیں جو اپنی کھوپڑی میں عقل رکھتے ہیں ۔ 42 افسوس کہ قرآن کریم جس چیز کی بار بار یاد دہانی کراتا ہے آج مسلمانوں کو اس سے بیر ہے اور پھر عوام تو عوام ہوئے ان لوگوں کو بھی جو خود قوم کے مذہبی لیڈر اور راہنما سمجھے جاتے ہیں ، وہ کیا ہے ؟ عقل ، قرآن کریم بار بار عقل والوں کے سامنے اپنی نشانیاں کھول کھول کر رکھتا ہے اور بار بار کہتا ہے کہ میں ان لوگوں سے مخاطب ہوں جو اپنے سروں میں عقل رکھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عروج وزوال کے ان گزشتہ واقعات کو بیان کرنے کا مقصد داستان سرائی نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اہل علم و دانش ان اسباب کا سراغ لگائیں جن کی وجہ سے یہ آباد شہر اور پر رونق بستیاں اور خوشحال قومیں برباد ہوگئیں تاکہ وہ آئندہ ان غلطیوں کا ارتکاب کرنے سے بچیں۔ لیکن افسوس کہ آج مسلمان قوم کے سارے مذہبی و سیاسی راہنما اگر غافل نظر آتے ہیں تو صرف اس بات سے اور پھر اس کا نتیجہ جو کچھ ہے وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے ایسا کیوں ہے ؟ محض اس لئے کہ عقل سے جو کام لینا چاہئے تھا وہ نہیں لیا جا رہا مذہب کے ٹھیکہ داروں نے تو مذہب کو عقل و فکر سے پہلے ہی آزاد کردیا ہے اور ان کا یہ فتویٰ بچہ بچہ کی زبان پر ہے کہ مذہب میں عقل کو دخل نہیں اور پھر جب مذہب عقل کی زد سے آزاد کردیا گیا تو اب جس چیز کو ان کا جی چاہا مذہب کا نام دے لیا اور ہوتے ہوتے آج وہ چیزیں مذہب نظر آنے لگیں جن کا نام و نشان بھی مذہب اور خصوصاً اسلام میں موجود نہیں تھا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ ! ہماری قوم مسلم کے راہنمائوں کو بھی عقل سے کام لینے کی توفیق عطا فرما اور ہماری بگڑی کو سنوار دے اے اللہ ! تیری قدرت سے ایسا ہو سکتا ہے اور تو ہماریاس رات کو دن میں بدل دے کہ ہر رات کے بعد دن لانے والا تو ہی ہے۔ زیر نظر آیت کی مزید تشریح انشاء اللہ العزیز سورة الکھف کی آیت 45 میں ملے گی۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے (کامیابی و نجات کی) سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے

اللہ تعالیٰ ہمیشہ تم کو سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے ۔ 43 رہی لوگ جو اللہ کی باتوں کو غور و فکر کے ساتھ سنتے ہیں ، ان کو اس سلامتی کے گھر تک پہنچ جانے کی توفیق ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس فانی دنیا اور اس کی فنا پذیر لذتوں میں کھو جانے سے اس لئے روکتا ہے کہ تم کہیں ہوا و ہوس کی زنجیروں میں مقید ہو کر نہ رہ جائو۔ نفس و شیطانی کے فریب میں پھنس کر اپنے حقیقی مقام سے بیخبر نہ ہو جائو ۔ اللہ تعالیٰ تم کو ایسی راہ پر چلنے کی دعوت دیتا ہے جس پر چل کر تم اپنی منزل پا لو گے اگر تم کو اپنی منزل یاد ہے تمہاری روح بھی چین محسوس کرے گی اور تم قریب الٰہی کی سعادت سے بھی بہرہ اندوز ہوجائے گے اور یاد رکھو کہ اللہ کی بنائی ہوئی راہیں صراط مستقیم ہیں۔
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لیے بھلائی ہوگی اور اس سے کچھ زیادہ ان کے چہروں پر نہ تو کالک لگے گی اور نہ ذلت کا اثر نمایاں ہوگا ، ایسے ہی لوگ جنتی ہیں ہمیشہ جنت میں رہنے والے

نیکی کا بدلہ یقینا نیک ہوگا اور ان کے منہ کبھی بھی کالے نہیں ہوں گے ۔ 44 جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لا کر نیک عمل کیے ان کے لئے جنت ہے اور مزید اس کا فضل ہے کہ ایک نیکی کے بدلے دس گنا ثواب عنایت فرمائے گا اور اپنے دیدار سے بھی نوازے گا۔ یہ ایسے خوش نصیب اور نیک بخت ہوں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہروں پر سیاہی اور رسوائی نہ چھائے گی ، وہ جنت کے مستحق ہیں جن میں ان کی ہر خواہش جو اس وقت ہوگی پوری کی جائے گی اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اس آیت میں اس کی وضاحت فرما دی گئی کہ اطاعت گزار اور فرمانبردار بندوں کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوگا کہ جتنی انہوں نے نیکیاں کی ہیں ناپ تول کر ان کے برابر ان کو اجر دے دیا جائے اور بس ، نہیں ، نہیں بلکہ ان کے اجر کے علاوہ انہیں مزید انعامات اور احسانات سے بھی نوازا جائے گا جس کا اندازہ آج کسی پیمانے سے نہیں لگایاجا سکتا۔
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا نتیجہ ویسا ہی نکلے گا جیسی کچھ برائی ہوگی اور ان پر خواری چھا جائے گی اللہ تعالیٰ کے قانون سے انہیں بچانے والا کوئی نہ ہوگا ، ان کے چہروں پر اس طرح کالک چھا جائے گی جیسے اندھیری رات کا ایک ٹکڑا چہروں پر اوڑھا دیا گیا ہو سو ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے

برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنی کہ اس نے برائی کی ہو گی ۔ 45 جن لوگوں نے کفر و شرک اور نفاق جیسے نہایت ہی برے کام کئے ہوں گے وہ ویسی ہی اس کی سخت سزا پائیں گے اور ذلت و رسوائی ان پر یقینا مسلط ہوگی۔ ان کے چہرے ایسے سیاہ ہوں گے جیسے رتا کے سیاہ پردے لیکن اس طرح جو سزا ان کو دی جائے گی ان کے جرم سے زیادہ مطلق نہیں ہوگی۔ نیک بندوں کے ساتھ جود و عطا کا معاملہ کیا جائے گا لیکن بدکاروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں عدل و انصاف کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ چہرے کالے پڑنے کا مطلب دراصل ناکامی و نامرادی ہے ۔ 46 ان کے چہرے ہی سیاہ ہوں گے یعنی ذلت و رسوائی ان پر چھائی ہوگی اور یہی وہ عذاب الٰہی ہے جس میں ان کو مبتلا کردیا جائے گا۔ چہروں پر سیاہی چھا جانا ناکامی و نامرادی کا لازمی نتیجہ ہے اور وہ غم کے مارے ایسے ہوجائیں گے کہ گویا ان پر دھواں چھا گیا ہے ، بس یہی لوگ دوزخی ہیں اور وہ دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ لڑتے رہیں گے اور یہ سب کچھ ان کے اپنے ہی کئے کی سزا ہوگی جو عین ان کے اعمال کے برابر ہوگی ان کے اعمال سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ہاں ! یہ بات یقینی ہے کہ اس غم واندوہ اور عذاب سے ان کو بچانے والا کوئی نہیں ہوگا جاسا کہ یہ لوگ سمجھتے رہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ بعض مفسرین نے ان حکمائے اسلام کی خوب خبر لی ہے جنہوں نے اس سیاہی کو جہل وضلالت کی سیاہی قرار دیا ہے لیکن دراصل ان کا یہ سارا جوش ان کے اپنے دلوں کی عکاسی کرتا ہے جو وہ عقل و فکر سے کام لینے والے لوگوں کے خلاف رکھتے ہیں اس طرح اسلام کی کوئی خدمت انہوں نے نہیں کی اور نہ ہی کوئی دلیل پیش کی ہے۔ اوپر کی دو آیتوں یعنی 26 اور 27 پر ایک مجموعی نظر دوبارہ ڈال لینا باعث تفہیم ہوگا اور اگر اس کو اچھی طرح ذہن نشین کیا گیا تو انشاء اللہ العزیز دل میں ایک تازگی کا نور ظاہر ہوگا جو بڑی ہی کام کی چیز ہے ، جس سے جہل و گمراہی کے سارے پردے چھٹ جائیں گے۔ خیال رہے کہ قرآن کریم ہر جگہ ایمان کو روشنی اور کفر کو تاریکی سے تشبیہ دیتا ہے۔ اس جگہ ہم اشارات دیں گے غور و فکر آپ کا اپنا کام ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : (آیت) (البقرہ 2 : 257) ” جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے۔ “ ان تاریکیوں سے مراد کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ جہالت کی تاریکیاں ہیں جن میں بھٹک کر انسان اپنی فلاح وسعادت کی راہ سے دور نکل جاتا ہے اور حقیقت کے خلاف چل کر اپنی تمام قوتوں اور کوششوں کو غلط راستوں میں صرف کرنے لگتا ہے اور نور سے مراد علم حق ہے جس کی روشنی میں انسان اپنی اور کائنات کی حقیقت اور اپنی زندگی کے مقصد کو صاف صاف دیکھ کر علیٰ وجہ البصیرت ایک صحیح راہ عمل پر گامزن ہوتا ہے۔ اسی طرح کتنے ہی مقامات پر قرآن کریم نے مومنوں کی پہچان یہ بیان فرمائی ہے کہ ان کے لئے سرخروئی اور شادمانی ہوگی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی فرمایا (آیت) (القیامہ 75 : 23) ” اس روز کچھ چہرے ترو تازہ ہوں گے جو اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ “ کیا مطلب ؟ یہی کہ وہ خوشی سے دمک رہے ہوں گے کیونکہ جس آخرت پر وہ ایمان لائی تھے وہٹھیک ان کے یقین کے مطابق سامنے موجود ہوگی اور جس آخرت پر ایمان لا کر انہوں نے دنیا کے ناجائز فائدے چھوڑے اور برحق نقصان برداشت کئے تھے ، اس کو فیالواقع اپنی آنکھوں کے سامنے برپا ہوتے دیکھ کر انہیں یہ اطمینان حاصل ہوجائے کہ انہوں نے اپنے رویہ زندگی کے متعلق بالکل صحیح فیصلہ کیا تھا۔ اب وہ وقت آگیا ہے جب وہ اس کا بہترین انجام دیکھیں گے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ تعرف فی وجوھھم نضرۃ النعیم (المطففین 83 : 24) ” ان کے چہروں پر تم خوشحالی رونق محسوس کرو گے۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا ” وجوہ یومئذنا عمۃ لسعیھا راضیۃ (الغاشیہ : 88 : 8 ، 9) ” کچھ چہرے اس روز بارونق ہوں گے جو اپنی کارگزاری پر خوش ہوں گے۔ “ کا لمطلب ان دونوں آیتوں کا ؟ یہی ناکہ دنیا میں جو سعی کر کے وہ آئے ہوں گے اس کے بہترین نتائج آخرت میں دیکھ کر خوش ہوجائیں گے۔ انہیں اطمینان ہوجائے گا کہ دنیا میں ایمان اور اصلاح وتقویٰ کی زندگی اختیار کر کے انہوں نے نفس اور اس کی خواہشات کی جو قربانیاں کیں ، فرائض کو ادا کرنے میں جو تکلیفیں اٹھائیں ، احکام الٰہی کی اطاعت میں جو زحمتیں برداشت کیں ، معصیتوں سے بچنے کی کوشش میں جو نقصانات انہوں نے اٹھائے اور جن فائدوں اور لذتوں سے اپنے آپ کو محروم کرلیا تھا وہ سب کچھ بلاشبہ بڑے نفع کا سودا تھا۔ اور کفر کے لئے سیاہ روئی اور خواری ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ (آیت) (القیامہ 75 : 24) ” کچھ چہرے اد اس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمرتوڑ برتائو ہونے والا ہے۔ “ اور ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا (الغاشیہ : 88 : 2 ، 4) کچھ چہرے اس دن خوف زدہ ہوں گے ، سخت مشقت کر رہے ہوں گے ، تھکے جاتے ہوں گے ، شدید آگ میں جھلس رہے ہوں گے۔ “ ظاہر ہے کہ چہروں کا لفظ اس جگہ اشخصا کے معنوں میں استعمال ہوا ہے چونکہ انسانی جسم کی نمایاں ترین چیز اس کا چہرہ ہی ہوتا ہے جس سے اس کی شخصیت پہچانی جاتی ہے اور انسان پر اچھی یا بری جو کیفیات بیج گزرتی ہیں ان کا اظہار اس کے چہرے سے ہی ہوتا ہے اس لئے ” کچھ لوگ “ کہنے کی بجائے ” کچھ چہرے “ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور یہی بات ان آیات میں بیان کی گئی ہے۔ خوشحالی و کامران سے چہروں کا چمک اٹھنا اور نامرادی و خواری سے سیاہ پڑجانا ایک طبیی حالت ہے اس لئے اس سے ہر انسان اس دنیوی زندگی میں بھی اچھی طرح واقف ہے یہی وجہ ہے کہ اس مضمون کو اس طرح سمجھایا گیا کہ قیامت کے دن ایک گروہ کے چہرے چمک اٹھیں گے اور دوسری کے سیاہ پڑجائیں گے اور سیاہ چہروں کا یہ حال ہوگا کہ گویا پردہ شب نے ان کے چہرے ڈھانپ لئے ہیں۔ ہمارے جن مفسرین کو یہ تفسیر پسند نہ آئی اور وہ اس کو طبعیحالت کہنے سے گریزاں ہیں ان کا موقف معلوم کرنے کے لئے صاحب بحر المحیط علامہ ابوحیان غرناطی اندلسی کی تفسیر کا مطالعہ کرنا چاہئے جنہوں نے ” حکمائے اسلام “ کو بہتی برا بھلا کہا ہے اور ان کی کتابوں کا مطالعہ حرام قرار دیا ہے اور خود جناب اچھی طرح ان کے مطالعہ سے مستفید ہوئے ہیں۔ کچھ تفصیل انشاء اللہ العزیز سورة القیامہ میں ہوگی۔
Ayahs 10:28–29

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو اپنے حضور اکٹھا کریں گے اور پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے تم اور وہ سب جنہیں تم نے شریک ٹھہرایا تھا اپنی جگہ سے نہ ہلو اور پھر ایک دوسرے سے انہیں الگ الگ کردیں گے تب وہ ہستیاں جنہیں اللہ کے ساتھ شریک بنایا گیا ہے کہیں گی ، یہ بات تو نہ تھی کہ تم ہماری پرستش کرتے تھے

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

آج کے دن ہم میں اور تم میں اللہ کی گواہی بس کرتی ہے اور تمہاری پرستاریوں سے ہم یک قلم بیخبر تھے

سب کے جمع ہونے کے روز اہل شرک و کفر سے کیا کیا جائے گا ؟ ۔ 47 جس دن سب اچھے اور برے لوگوں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کیا جائے گا اس روز ہم مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے وہ لوگ جن کو تم نے اپنے عقیدہ میں اپنے معبود بنائے رکھا تھا اس جگہ ٹھہر جائو اور اس طرح ان کو پیش آنے والے واقعات سنا کر انہی غور و فکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ آج تم کو ہمارا رسول محمد رسول اللہ ﷺ دلائل پیش کر کے دعوت توحید دے رہا ہے لیکن تم پرواہ نہیں کرتے اور اپنے ان بزرگوں اور دوستوں کو جن کی وفات کے بعدتم نے ان کے بت یا قبریں بنا لی ہیں اور ان کو پوجنے لگے ہو یاد رکھو کہ قیامت کا دن آنے والا ہے اس روز تمہارے یہ سارے معبود تمہارے لئے بےسود اور بےفائدہ ہوجائیں گے۔ اگر کل کی پیشمانی سے بچنا چاہئے ہو تو آج میرے رسول ﷺ کے طریقہ کے مطابق عمل کرلو کہ ابھی تمہارے لئے جب تک اس زندگی میں موجود ہو وقت باقی ہے۔ ان کو الگ الگ کردیا جائے گا اور معبود بنائے جانے والے اپنی عبادت سے انکار کریں گے ۔ 48 آیت کے مضمون نے خود اس بات کا فیصلہ کردیا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد فقط بت اور مورتیاں ہیں اگر بت اور مورتیاں ہوتیں تو وہ بکلف کیونکر ہوئیں کہ ان کو وہاں لاکھڑا کردیا گیا اور پھر ان کو گویائی بھی عطا کی گئی آخر اس کا کوئی جواز اور کوئی ضرورت ؟ ظاہر ہے کہ یہ بات جن اللہ کے نیک بندوں کے انہوں نے بنائے تھے ان ہی کو حاضر کیا جائے گا اور اس طرح ان کو بھی جن کی قبروں کی پرستش کی گئی اور وہ سب کے سب جب روبرو کھڑے کئے جائیں گے تو جن کی پرستش کی جاتی رہی اگر وہ نیک و صالح لوگ ہوں گے تو وہ ان لوگوں کو جن پر ان کی پرستش کا الزام ہے صاف صاف کہیں گے کہ ہم نے ان کو اپنی پرستش کا مطلق نہیں کہا اگر ہم نے ان میں سے کسی کو کہا ہے تو اس کو بلائو کہ ہم نے کب ایسا کہا تھا ؟ انہیں بنائے گئے معبودوں میں سے ایک مسیح (علیہ السلام) کی شخصیت بھی ہے اور مسیح (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے ان سے پوچھے جانے کا ذکر آپ پیچھے سورة المائدہ کی آیت 116 ، 117 میں تفصیل سے پڑھ چکے ہیں اگر یاد نہ ہو تو اس مقام کا دوبارہ مطالعہ کرلیں بات بالکل واضح ہوجائے گی۔ اس آیت کی تشریح پیچھے آپ اس سورت کی آیت 7 حاشیہ نمبر 16 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ معبود بنائے جانے والوں کا مزید بیان کہ ہمیں تمہاری پرستاری کا علم نہیں۔ ۔ 49 ان کے بنائے گئے معبود اور شریک اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہمارے اور تمہارے رمیان اللہ کی شہادت کافی ہے کہ ہمیں اس کی مطلقاً خبر نہیں تھی کہ تم ہماری عبادت بجا لا رہے ہو ، تمہاری کوئی دعا اور فریاد ، کوئی نذر و نیاز اور چڑھاوے کی چیز ، کوئی سجدہ ریزی اور آستانہ بوسی وغیرہ ہم تک نہ پہنچی تھی۔ ممکن ہے کہ اس بیان میں کچھ جھوٹے لوگ بھی ہوں اور وہ بھی جن کی پرستش ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتی رہی لیکن انہوں نے منع کرنے کے بجائے ان کو یقین دلایا کہ ہاں ! ہم تم کو کفایت کریں گے اور تم کو آخرت کے دن عذاب الٰہی سے بچا لیں گے جیسا کہ اس صدی کے اکثر جاہل پیر اور مرشد اپنے مریدوں کو یہ بات کہتے سنتے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ذکر بھی دوسری جگہ بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ فرمایا : (آیت) (الانبیاء 21 : 98 ، 99) ” بلاشبہ تم اور تمہارے وہ معبود جنہیں تم پوجتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں ، وہیں تم کو جانا ہے اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے ، اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔ “ روایات میں ہے کہ اس آیت پر عبداللہ بن الزبقریٰ نے اعتراض کیا کہ اس طرح تو صرف ہمارے ہی معبود نہیں مسیح اور عزیز اور ملائکہ بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ دنیا میں ان کی بھی پرستش کی گئی اور اس پر نبی اعظم و آخر ﷺ نے ارشاد فرمایا ” نعم کل من احب ان یعبد من دون اللہ فھو مع من عبدہ “ ہاں ! ہر وہ شخص جس نے پسند کیا کہ اللہ تعالیٰ کی بجائے اس کی بندگی کی جائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا ، جنہوں نے اس کی بندگی کی۔ ذ‘ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے خلق خدا کو خدا پرستی کی تعلیم دی تھی اور بعد میں لوگ ان کو معبود بنا بےٹھ یا جو لوگ اس بات سے بالکل بیخبر ہیں کہ دنیا میں ان کی بندگی کی جا رہی ہے جیسے عبدالقادر جیلانی (رح) ، مجدد الف ثانی (رح) ، علی ہجویری (رح) وغیرہ اور اس فعل میں ان کی خواہش اور مرضی کا کوئی دخل نہیں ہے ظاہر ہے کہ ان کے جہنم میں جانے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ وہ اس شرک کے ذمہ دار نہیں ہیں البتہ جنہوں نے خود معبود بننے کی کوشش کی اور جن کا خلق خدا کے اس شرک میں واقعی دخل ہے وہ سب اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے اور اس طرح وہ لوگ بھی جہنم میں جائیں گے جنہوں نے اپنے اغراض کے لئے غیر اللہ کے لئے معبود بنوایا کیونکہ اس صورت میں مشرکین کے اصلی معبود وہی قرار قائیں گے نہ کہ وہ جن کو ان اشراد نے بظاہر معبود بنایا ہوا تھا اور شیطان بھی اسی ذیل میں آتا ہے کیونکہ اس کی تحریک پر جن ہستیوں کو معبود بنایا جاتا ہے اصل معبود وہ نہیں بلکہ خود شیطان ہوتا ہے جس کے حکم کی اطاعت میں یہ فعل کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں پتھر اور لکڑی کے بتوں اور دوسرے سامان پرستش کو بھی مشرکین کے ساتھ جہنم میں داخل کیا جائے گا تاکہ وہ ان پر آتش جہنم کے اور زیادہ بھڑکنے کا سبب بنیں اور یہ دیکھ کر انہیں مزید تکلیف ہو کہ جن سے وہ شفاعت کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے وہ ان پر الٹے عذاب کی شدت کے موجب بنے ہوئے ہیں ۔ اس لئے اس طرح کی غلط فہمیاں پیدا کرنے والے خود اشرار قوم ہیں وہ خود خواہ لوگوں کے پیشوا ، لیڈر اور مذہبی راہنما ہی کہلاتے ہوں اس لئے کہ کسی کے کچھ کہلانے سے نہیں ، بات عمل پر موقوف ہے۔
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

پس اس دن ہر آدمی جان لے گا کہ جو کچھ وہ پہلے کرچکا ہے اس کی حقیقت کیا تھی ، سب اللہ کے حضور کہ ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور حقیقت کے خلاف جس قدر افتراء پردازیاں کرتے رہے ہیں سب ان سے کھوئی جائیں گی

ہر آدمی کے سامنے اس کا چٹھا رکھ دیا جائے گا تاکہ اپنے کئے کی فلم وہ خود دیکھ لے ۔ 50 اس وقت میدان حشر میں ہر انسان اپنے کئے کا نفع و نقصان جانچ لے گا اور اپنے اعمال کا مزہ چکھ لے گا۔ پھر ان سب کو ان کے حقیقی مالک اللہ کی طرف پھیر دیا جائے گا جو جھوٹ اور افتراء پر داڑیاں دنیا میں انہوں نے گھڑ رکھی تھیں سب کی سب گم ہوجائیں گی اور سکی بنائے ہوئے شریک کی سفارش نہ ہو سکے گی یعنی کوئی اس جگہ کام نہ آئے گا۔ اس وقت سب گم ہوجائیں گے اور ہر شخص اعیانا دیکھ لے گا کہ جو اعمال اس نے کئے تھے وہ واقعتاً اس کے لئے نافع تھے یا غیر نافع اور اس کا اجمالی علم تو انسان کے مرنے کے ساتھہی ہوجاتا ہے لیکن حشر میں اس کا تحقیق کامل اور مفصل طور پر ہوگا۔ ” یہ لوگ اپنے مالک حقیقی کی طرف جب لوٹائے جائیں گے۔ “ اور وہ معبو دجو انہوں نے گھڑ لئے ہیں وہ یہاں ہی رہ جائیں گے اور یہ بھی کہ وہ دراصل ان کے غیر حقیقی معبود ہی تھے اور یہ بات ان پر روشن ہوجائے گی اور یہ بھی کہ جو ان کا اصلی اور حقیقی مولیٰ ہے وہ ان کو وہاں جزا و سزا دے گا اور جو کچھ وہ کرے گا حق و صداقت پر مبنی ہوگا اور جو جو وہ ” حقیقت کے خلاف کرتے رہے اور جس قدر افتراء پر دازیاں کرتے رہے سب ان سے کھوئی جائیں گی۔ “
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

ان لوگوں سے پوچھو وہ کون ہے جو تمہیں آسمان و زمین کی بخشائشوں کے ذریعہ روزی دیتا ہے ؟ وہ کون ہے جس کے قبضہ میں تمہارا سننا اور دیکھنا ہے ؟ وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے ؟ اور پھر وہ کون ہے جو تمام کارخانہ ہستی کا انتظام کر رہا ہے ؟ یہ فوراً بول اٹھیں گے کہ ” اللہ “ پس تم کہو اگر ایسا ہی ہے تو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

اے پیغمبر اسلام ان سے پوچھو تم کو روزی دینے والا کون ہے ؟ ۔ 51 زیر نظر آیت میں پانچ سوالات ہیں جو ان مشرکین سے کئے جا رہے ہیں جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے وقت موجود تھے اور یہ سارے کے سارے سوالات آج بھی موجودہ مشرکین سے بدستور کئے جا رہے ہیں اور قیامت تک کے سارے مشرکین ان سوالات کے باعث مخاطب ہیں۔ مشرکین کی ذہنی پستی اور فکری انحطاط اور گراوٹ کا ذکر کرنے کے بعد ان کے جھوٹے خدائوں کی خدائی پر ایسی کاری ضربیں لگائی جا رہی ہیں جن کا جواب ان کے پرستاروں کے پاس بھی نہیں۔ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ ان نبیوں ، بزرگوں اور ولیوں کو اپنا خدا ماننے والو ! ذرا یہ تو بتائو کہ یہ قسم قسم کے اناج اور رنگ برنگ پھل اور طرح طرح کی سبزیاں اور ترکاریاں کس نے پیدا کی ہیں ؟ یہ سڑنکوں قسم کے جانور جن کا تم گوشت کھاتے ہو کس کی پیداوار ہیں ؟ تم تو ہل چلا کر زیادہ سے زیادہ بیج ہی ڈال آتے ہو اس کے بعد جو ابر رحمت برس کر انہیں سیراب کرتا ہے ، چاند کی ٹھنڈی ٹھنڈی اور پہلی کرنیں اور سورج کی گرم گرم سنہری شعاعیں جو اس ننھے سے بیج سے ایک درخت نکلتی ہیں اس کو رنگ و بو سے نوازتی ہیں اس میں ذائقہ کا رس گھولتی ہیں۔ یہ ہوائیں جو نر و مادہ کے شگوفوں میں عمل تتقیح انجام دیتی ہیں ذرا انصاف سے بتائو کہ آخر ینش اور نشو و نما کے اس عمل کی طویل زنجیر میں کوئی ایک بھی ایسی کڑی ہے جس کی نسبت تمہارے ان معبودوں کی طرف کی جاسکتی ہو ؟ پھر دیکھو تم کو آنکھیں اور اکن کس نے بخشے ہیں اور ان میں دیکھنے اور سننے کی قوت کس نے رکھی ہے ؟ تم اس نازک اور پیچیدہ مشینری کو دیکھو کس حکمت اور مہارت سے بنائی گئی ہے۔ ذرا سوچ کر بتائو کہ یہ کارنامہ تمہارے معبودوں نے سر انجام دیا ہے اور پھر یہ بھی سوچو کہ زندگی اور موت دو متضاد قوتیں ہیں لیکن چشم حقیقت آشنا کھول کر دیکھو اور بتائو کس کی قدرت ایک مردہ چیز خواہ وہ کفر کی موت کا مردہ ہو یا جامد زندگی کا متحمل جیسے انڈا وغیرہ کس طرح اس سے زندگی کے چشمے جاری کرتی ہے اور کس طرح زندگی کے شکم سے مردہ اشیاء پیدا کرتی ہے خواہ وہ انسان ہوں یا دوسری چیزیں کیا اس میں تمہارے ان معبودوں کا کوئی عمل دخل ہے اور آخر میں من یدبر الامر اور اس طرح ہر کام کا انتظام کون فرماتا ہے کہ الفاظ بیان فرما کر بتا دیا کہ یہ چند چیزیں تو بطور مثال بیان کی گئیں ورنہ اس کارخانہ ہستی کی جس چیز کی طرف بھی تم دیکھو گے وہاں اس کی قدرت ، حکمت اور علم کامل کے جلوے تمہیں نظر آئیں گے۔ غرض کہ سبب اور مسبب ، علت اور معلول ، موثر اور اثر کے باہمی تعلق کا جو نظام محکم و قائم ہے وہ سوچنے والے انسان کو محو حیرت کردیتا ہے۔ اب بتائو کہ آسمان کی بلندیاں اور زمین کی پستیاں ، مہر و ماہ کی تابانیاں اور ستاروں کی چمک و دمک ، انسان اور دیگر حیوانی افزائش نسل کے قواعد پر کالی کالی گھٹائیں اور لہلہاتے ہوئے کھیت کس نے پیدا کئے ہیں ؟ کیا تم میں یہ کہنے کی ہمت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی اور بھی ان کا خالق ہے ؟ کسی نبی ، ولی اور بزرگ کا اس میں کوئی حصہ ہے ؟ ہرگز نہیں ہاں ! جب یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے تو پھر تم اس کے سوا کسی غیر کو الہ اور معبود کیوں مانتے ہو ؟ اس کے بغیر کسی اور کو اپنا مجدد کیوں بناتے ہو ؟ کیا تمہیں اپنے ہولناک انجام کا کوئی ڈر نہیں ہے ؟ ان سارے سوالوں کا جواب گزشتہ اور موجودہ مشرکوں کے پاس کیا ہے ؟ ۔ 52 اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اس کے جواب میں وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہہ سکیں گے کہ ” اللہ “ پھر اے مخاطب ! آپ بھی ان سے کہہ دیں کہ وہ شرک کی پیروی کر کے حقیقت کے خلاف چلنے سے پرہیز کیوں نہیں کرتے ؟ اور اللہ کے ان بندوں کو اللہ کے ساتھکیوں شریک ٹھہراتے ہو ؟ کیا تم کو معلوم نہیں کہ اس کی سزا کتنی سخت ہے۔ اس وقت کے مشرکوں نے تو فی الواقع کوئی جواب نہ دیا لیکن آج کل کے مشرک زبان کھولنے سے باز نہیں آتے وہ کہتے ہیں کہ ” جو آیت اللہ تعالیٰ نے بتوں کے لئے نازل فرمائی وہ تم مسلمانوں اور اولیائے اللہ اور انبیاء اللہ پر چسپاں کرتے ہو اور اس طرح تم تحریف قرآن کریم کے مرتکب ہوتے ہو۔ “ زیر نظر آیت میں پانچ سوالات کئے گئے ہیں۔۔ 1 تم کو آسمان و زمین کی بخشائشوں کے ذریعہ روزی کون دیتا ہے ؟۔ 2 وہ کون ہے جس کے قبضہ میں تمہارا سننا اور دیکھنا ہے ؟ ۔ 3 وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے ؟۔ 4 اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا کون ہے ؟۔ 5 اور وہ کون ہے جو تمام کارخانہ ہستی کا انتظام کر رہا ہے ؟ کیا ان پانچوں کا موں میں سے آپ کسی نبی ، ولی ، پیر اور بزرگ کا نام لے سکتے ہیں کہ یہ کام یا اس میں سے کسی کام کا کوئی ایک حصہ ان کے ذمہ میں رکھا گیا ہو ؟ اور وہ بت تو نہ کرسکتے ہوں جس کی پرستش اس وقت کے یا اس وقت کے مشرک کرتے ہیں لیکن انبیاء کرام ہی میں سے کوئی ولیوں اور بزرگوں میں سے کوئی کر رہا ہے پھر یہ بھی قبل ازیں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ بات کہنا کہ وہ بتوں کی پرستش کرتے تھے بالکل صحیح نہیں بلکہ ہمیشہ پرستش صاحب بت کی ہوا کرتی تھی اور آج بھی اسی طرح پرستش قبر کی نہیں بلکہ صاحب قبر کی ہوتی ہے۔ یہ ایک دھوکا ہے اور ایک فریب ہے جو موجودہ مشرکنر کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے پھر بتلاؤ سچائی کے جان لینے کے بعد اسے نہ ماننا گمراہی نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ تم منہ پھیرے کدھر کو جا رہے ہو ؟

سب کا حقیقی پروردگار اللہ ہی ہے گمراہوں کی قسمت میں ہدایت کہاں ؟ ۔ 53 دو اور دو کو چار نہ ماننے والوں کا نہ کوئی علاج تھا اور نہ ہے سوائے اللہ کے کہ اس نے پہلوئوں کا علاج کیا کہ ان کو تہس نہس کر کے نئے لوگ پیدا کئے اور وہی اس وقت کے مشرکوں کا علاج کرسکتا ہے۔ قرآن کریم کی صدا اس وقت بھی وہی تھی جو آج ہے اور آج بھی وہی ہے جو اس وقت تھی اور اللہ کے کاموں میں اس کا کوئی شریک جو نہ اس وقت تھا اور نہ اب ہے۔ جو ذات الہ ان صفات کمال سے متصف ہے جو ان خوبیوں کی مالک ہے وہی تو خدا برحق ہے ، اس کے علاوہ اگر کوئی کسی کو اپنا خدا اور معبود بنائے گا تو وہ یقینا گمراہ ہوجائے گا۔ ذرا غور تو کرو کہ کہاں ظن وتخمین کے ریگزاروں اور وہم و گمان کے ویرانوں میں مارے مارے پھر رہے ہو۔ پھر غور کرو کہ اگر ابنیاء کرام اور اولیائے عظام کے بت بنائے جائیں جیسے سیدنا ابراہیم علیہالسلام اور اسماعیل (علیہ السلام) کا بت بنایا گیا اور سیدہ مریم صدیقہ کی شبیہ تیار کی گئی تو کیا ان نیک اور پاک باز لوگوں کے بت ویسے ہی نہیں ہوں گے جیسے لات ، مناۃ اور عزیٰ کے بت تھے ؟ کیا ان پاک بازوں کے بت نہیں بنائے گئے ؟ قبر اور بت میں آخر فرق کیا ہے ؟ اگر مہا تمہ بدھ کے بت کی بجائے اس کی قبر بنا لیج ائے تو اس کی پرستش یعنی وہاں سجدہ وسلام جائز ہوجائے گا ؟ دراصل بات وہی ہے کہ بت کی بجائے اس کی قبر بنا لی جائے تو اس کی پرستش یعنی وہاں سجدہ وسلام جائز ہوجائے گا ؟ دراصل بات وہی ہے کہ بت کی بجائے اس کی قبر بنا لی جائے تو اس کی پرستش یعنی وہاں سجدہ وسلام جائز ہوجائے گا ؟ دراصل بات وہی ہے کہ بت کی بجائے اس کی قبر بنا لی جائے تو اس کی پرستش یعنی وہاں سجدہ وسلام جائز ہوجائے گا ؟ دراصل بات وہی ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس کو دیتا ہے جو ہدایت کا طالب ہو جو غیر اللہ کی پرستش کا داعی ہے وہ ہدایت پا ہی نہیں سکتا جب تک کہ غیر اللہ کی پرستش سے باز نہ آئے اور جو حق سے منہ پھیر لے اس کو بزور حق کی طرف نہیں پھیرا جائے گا۔ فرمایا جا رہا ہے کہ فانی تصرفون ؟ سوالیہ ہے اور یہ سوال ہم لوگوں سے ہے اور پھر ان سے سوال یہ نہیں کیا جا رہا ہے کہ ” تم کدھر پھرتے جاتے ہو ؟ “ بلکہ یہ ہے کہ ” تم کدھر پھرائے جا رہے ہو۔ “ اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی ایسا گمراہ کن شخص یا گروہ موجود ہے جو لوگوں کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ پر پھیر رہا ہے۔ اس وجہ سے لوگوں پر اپیل یہ کی جا رہی ہے کہ تم اندھے بن کر غلط راہنمائی کرنے والوں کے پیچھے کیوں چلے جا رہے ہو اپنی گرہ کی عقل سے کام لے کر سوچتے کیوں نہیں کہ جب حقیقت یہ ہے تو آخر تم کو یہ کدھر چلایا جا رہا ہے ؟ یہ طرز سوال جگہ جگہ ایسے مواقع پر قرآن کریم میں اختیار کیا گیا ہے اور ہر جگہ گمراہ کرنے والوں کا نام لینے کی بجائے ان کو صیغہ مجہول کے پردہ میں چھپا دیا گیا ہے تاکہ ان کے معتقدین ٹھنڈے دل سے اپنے معاملے پر غور کرسکیں اور کسی کو یہ کہہ کر انہیں اشتعال دلوانے اور ان کا دماغی توازن بگاڑ دینے کا موقع نہ ملے کہ دیکھو یہ تمہارے بزرگوں اور پیشوائوں پر چوٹیں کی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ اس میں حکمت تبلیغ کا ایک اہم نکتہ پوشیدہ ہے جس سے غافل نہ رہنا چاہئے۔ لیکن مخالفین نے جب تاویلیں کر کے ان آیات کریمات سے بتوں کو مراد لیا اور انبیائے کرام اور اولیائے عظام کو اللہ کے ساتھ شریک بنا کر رکھ دیا تو اب اس کی لازماً ضرورت ہوئی کہ حقیقت سے ان کا ڈالا ہوا پردہ بھی اٹھایا جائے تاکہ حقیقت کھل کر اصلیت واضح ہوجائے ۔
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح تیرے پروردگار کا فرمودہ ان لوگوں پر صادق آگیا جو ہدایت سے باہر ہوگئے ہیں کہ وہ ایمان لانے والے نہیں

تیرے پروردگار کی فرمودہ ان پر صادق آگیا کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ۔ 54 پاتا کون ہے ؟ وہی جو تلاش کرتا ہے ، جستجو کرتا ہے۔ لیکن جو حق کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں ان کے لئے حق کو پانے کی کوئی اور راہ ؟ اور جنہوں نے نہ ماننے کی قسم کھائی ہو ان کا کوئی علاج ؟ فرمایا آپ بات واضح کردیں اور برملا کہہ دیں کہ ” تیرے پروردگار کا فرمودہ ان پر صادق آگیا جو ہدایت سے باہر ہوگئے ہیں کہ وہ ایمان لانے والے نہیں۔ “ یہ علم الٰہی کی بات ہے جس میں خطا کا کوئی امکان ہی نہیں۔
Ayah 10:34

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

ان سے پوچھو کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو خلقت کی پیدائش شروع کرے اور پھر اسے دہرائے ؟ تم کہو یہ تو اللہ ہے جو ابتدا میں پیدا کرتا ہے پھر اسے دہرائے گا ، پس غور کرو تمہاری الٹی چال تمہیں کدھر کو لے جا رہی ہے ؟

تخلیق کی ابتدائی اور اعادہ کرنے والا کون ہے ؟ ۔ 55 ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے پوچھو کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو خلقت کی پیدئاش شروع کرے اور پھر اسے دہرائے ؟ تم کہو کہ یہ تو اللہ ہی ہے جو ابتداء میں پیدا کرتا ہے اور پھر اسے دہرائے گا۔ “ تخلیق کی ابتداء کے متعلق تو مشرکین مانتے ہی تھے کہ یہ صرف اللہ کا کام ہے ان کے شریکوں میں سے کسی کا اس کام میں کوئی حصہ نہیں رہا ، تخلیق کا اعادہ تو ظاہر ہے کہ جو ابتداً پیدا کرنے والا ہے وہی اس عمل پیدائش کا اعادہ بھی کرسکتا ہے مگر جو ابتدا ہی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو وہ کس طرح اعادئہ پیدائش کا اعادہ بھی کرسکتا ہے مگر جو ابتداً ہی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو وہ کس طرح اعادئہ پیدائش پر قادر ہو سکتا ہے ؟ یہ بات اگرچہ صریحاً ایک معقول بات ہے اور خود مشرکین کے دل بھی اندر سے اس کی گواہی دیتے تھے کہ بات بالکل ٹھکانے کی ہے لیکن انہیں اس کا اقرار کرنے میں اس بناء پر تامل تھا کہ اسے مان لینے کے بعد انکار آخرت مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوپر کے سوالات پر تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ خود کہیں گے کہ یہ کام اللہ کے ہیں مگر یہاں اس کی بجائے نبی اعظم و آخر ﷺ سے ارشاد ہتا ہے کہ تم ڈنکے کی چوٹ پر کہو کہ یہ ابتدائے خلق اور اعادئہ خلق کا کام بھی اللہ ہی کا ہے۔ لیکن ایک بات مزید سمجھنے کی ہے کہ مشرکین یہ کہہ دیں گے کہ یہ خلق کا کام تو بلاشبہ اللہ ہی کا ہے لیکن جس کو چاہے اذن دے دے اور باذن اللہ پیدا کرے اور باذن مارے تو پھر کیا تخلیق کی ابتداء اور انتہا میں کوئی فرق آجائے گا ؟ کیا اگر براہ راست اللہ کو خلاق مانا جائے لیکن اللہ کی اجازت سے دوسرے بھی تخلیق کریں اور ماریں تو یہ شریک ہوگا یا نہیں ؟ کیا مشرکین بغیر اذن اللہ اپنے معبودوں کا پیدا کرنا اور مارنا تسلیم کرتے تھے ؟ قرآن کریم نے ان مشرکین سے اس طرح بھی پوچھا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو کہ کبھی تم نے دیکھا بھی ہے اپنے ان شریکوں کو جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہو مجھے بتائو انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے یا آسمانوں میں ان کی کیا شرکت ہے ؟ اگر یہ نہیں بتا سکتے تو ان سے پوچھو کیا ہم نے انہیں کوئی تحریر لکھ دی ہے جس کی بناء پر یہ اپنے اس شرک کے لئے کوئی صاف سند رکھتے ہوں ؟ نہیں بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو محض فریب کے جھانسے دیئے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہے جو آسمان اور ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی دوسرا نہیں تھامنے والا نہیں ہے۔ بلاشبہ اللہ بڑا حلیم اور درگزر کرنے والا ہے۔ “ (فاطر 35 : 41) سارے قرآن کریم کو پڑھ جائو کہ کسی ایک جگہ بھی آپ انگلی نہیں رکھ سکتے کہ یہ لکھا ہے کہ مشرکین بغیر اذن اللہ اپنے معبودوں کو خلاق مانتے تھے اور اگر وہ باذن اللہ خالق مانتے ہوتے تو پھر بھلا کیوں مشرک ہوتے ؟ بلکہ دوسری جگہ اس کی وضاحت موجود ہے کہ ہم ان کی پرستش اس لئے کرتے ہیں کہ یہ لوگ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے اور قرآن کریم نے کس طرح کی تخلیق غیر اللہ کی نفی کی اور پورے زور و شور سے فرمایا ” اور دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ بطور خود مخلوق ہیں۔ “ (النمل 16 : 20) واضح کردیا کہ یہ اصول یاد رکھو کہ جو مخلوق ہے وہ خالق نہیں ہو سکتا اور کسی میں یہ طاقت نہیں کہ وہ باذن اللہ خدا یا خدا کا بیٹا ہو اور نہ یہ وہ باذن اللہ کسی چیز کا خلاق ہو سکتا ہے۔ مشرک تو شرک کے مرتکب تھی ہی لیکن مسلمانوں نے بھی اس شرک میں اپنی بساط کے مطابق حصہ لینے کی بھرپور کوشش کی اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو باذن اللہ خلاق تسلیم کر لا اور باذن اللہ فحی بھی ثابت کیا جو کسی طرح بھی صحیح اور درست نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یہ وہی بات ہوئی کہ ” اوروں کو نصیحت اور خود میاں نصیحت “ دوسروں کو شرک سے بچنے کی تلقین کرنے والے خود ہی شرک کی دلدل میں پھنس کر رہ گئے۔ ذرا غور کرو کہ تمہاری یہ الٹی چال تم کدھر لے جا رہی ہے ؟ ۔ 54 فرمایا ذرا غور کرو کہ تمہاری یہ الٹی چال تم کو کدھر لئے جا رہی ہے کہ تم دوسروں کو نصیحت کرتے کرتے اپنی حقیقت ہی کو بھول گئے اور تم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوار ہی نہ کی کہ ایک خلاق حقیقی اور خدائے برحق کے سوا کسی کو خدا کیوں مانا جائے اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت کیوں کی جائے ؟ جب کہ خلاق ومالک ایک اللہ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا تو پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ خالق کے خلق کئے ہوئے نظام میں غیر خالق ہستیوں کی حیثیت و خالق کے برابر یا کسی طرح بھی اس کی مانند ہو ؟ کیونکر ممکن ہے کہ اپنی خلق کی ہوئی کائنات میں جو اختیار خلاق کے ہیں وہی ان کے غیر خلاق کے بھی ہوں اور اپنی مخلوق پر جو حقوق خالق کو حاصل ہیں وہی حقوق غیر خالق کو بھی حاصل ہوں ؟ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ خالق اور غیر خلاق کی صفات ایک جیسی ہوں گی یا وہ ایک جنس کے افراد ہوں گے حتیٰ کہ ان کے درمیان باپ اور اولاد کا رشتہ بھی ہوگا ؟ ذرا غور کرو کہ تم کدھر کو جا رہے ہو ؟
Ayah 10:35

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

ان سے پوچھو کیا تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو حق کی راہ دکھاتا ہے پھر جو حق کی راہ دکھائے وہ اس کا حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود ہی راہ نہیں پاتا جب تک اسے راہ نہ دکھائی جائے تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسے فیصلے کر رہے ہو ؟

ہدایت حواس و عقل اور اس سے استدلال ۔ 57 زیر نظر آیت قرآن کریم کی مہمات حجج سے بےمگر افسوس ہے کہ مفسرین نے اس کی حقیقت بھی اس طرح ضائع کردی جس طرح اکثر دلائل قرآنیہ ضائع کردی ہیں۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : قل ھل من شرکآ ئکم من یھدی الی الحق ؟ قل اللہ یھدی للحق افمن یھدی الی الحق احق ان یتبع امن لا یھدی الا ان یھدی ؟ فما لکم کیف تحکمون ؟ یعنی جن لوگوں کو تم نے خدا کا شریک ٹھہرا لیا ہے ان میں کوئی ہے جو ” حق “ کی طرف ” ہدایت “ کرتا ہے ؟ یہ تو اللہ ہی کی ذات ہے جو حق کی راہ چلاتی ہے اچھا تو پھر بتلائو جو ہستی حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے وہ اس کی حق دار ہے کہ اس کے پیچھے چلیں یا اس کے پیچھے چلنا چاہئے جو خود اس کی محتاج ہے کہ کوئی راہ سمجھائے ؟ یہ مقام قرآن کریم کے مہمات دلائل سے ہے اور ضروری ہے کہ اسے اچھی طرح سمجھ لیا جائے چونکہ اس آیت میں ” ہدایت “ اور ” حق “ کے الفاظ آتے ہیں اس لئے مفسرین نے خیال کیا کہ ہدایت سے مقصود ہدایت وحی ہے اور حق سے مقصود دین حق اور فارسی اور اردو کے تمام مترجموں نے بھی انہی کی پیروی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن کریم کے استدلال کی ساری حقیقت مفقود ہوگئی اور ہدایت کا مطلب بھی کچھ سے کچھ ہوگیا۔ اس طح کے تمام مقامات دیکھ کر سخت حیرانی ہوتی ہے کہ متاخرین کا معیار نظر و مطالعہ کیوں اس درجہ پست ہوگیا تھا کہ قرآن کریم کے صاف اور صریح مطالب سے بھی آشنا نہ ہو سکے ؟ علاوہ بریں یہ ظاہر ہے کہ یہاں خطاب مشرکوں سے ہے جو سرے سے وحی و دین کے منکر تھے اور مقام استدلال کا ہے پھر اگر ہدایت سے مقصود ہدایت وحی و دین ہو تو اس میں بھی ان کے لئے دلیل کی بات کیا ہوئی ؟ جب وہ وحی دین کی ہدایت مانتے ہی نہ تھے۔ تو پھر اس ہدایت سے ان پر دلیل کیونکر لائی جاسکتی ہے۔ کم از کم اتنی ہی بات پر ان بزرگوں نے دھیان دیا ہوتا۔ آیت کا اسلوب کہہ رہا ہے کہ یہاں پہلے ایک بات بطور ایک مسلمہ عقیدہ کے بیان کی گئی ہے جس سے مخاطب انکار نہیں کرتا یا نہیں کرسکتا۔ پھر جب اس کا مسلم ہونا واضح ہوگیا تو اس کی بناء پر استدلال ٹھہرایا گیا یعنی پہلے کہا گیا ھل من شرکائکم من یھدی الی الحق ؟ تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو حق کی راہنمائی کرتا ہو ؟ پھر کہا گیا قل اللہ یھدی للحق یعنی تم اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ وہ ہستی جو راہنمائے حق ہے وہ اللہ کرتا ہو ؟ پھر کہا گیا قل اللہ یھدی للحق یعنی تم اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ وہ ہستی جو راہنمائے حق ہے وہ اللہ ہی کی ہستی ہے پھر جب یہ مسلمہ واضح ہوگیا تو اس سے استدلال کیا گیا کہ افمن یھدی الی الحق ان یتبع پس ضروری ہے کہ یہاں ہدایت سے مقصود کوئی ایسی بات ہو جس سے مخاطبوں کو انکار کی مجال نہ تھی اب اگر ہدایت کا مطلب ہدایت وحی و دین قراردیا جاتا ہے تو سارا مطلب خبط ہوجاتا ہے کیونکہ معلوم ہے کہ مخاطبوں کے لئے یہ مسلم بات نہیں ہو سکتی وہ تو سرے سے وحی ہی کے منکر تھے۔ اصل میں یہ ہے کہ ان بزرگوں نے یہ معلوم کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ قرآن کریم میں ہدایت کا لفظ دیکھتے ہیں اسے ہدایت دین ہی پر محمول کرلے تر ہیں اگرچہ مطلب ، ٹھیک نہ بیٹھتا ہو۔ مختصر یہ کہ اس جگہ ہدایت سے مقصود ہدایت وحی نہیں ہے بلکہ وجدان و حواس اور عقل کی ہدایت ہے اور ” حق “ سے مقصود دین حق نہیں ہے بلکہ لغوی حق ہے یعنی سچا راستہ اور درست راستہ۔ قرآن کریم نے جا بجا یہ حقیقت واضح کی ہے کہ جس طرح اللہ کی ربوبیت نے مخلوقات کو ان کے مناسب حال وجود عطا فرمایا ہے اس طرح زندگی و معیشت کی راہ میں ان کی ہدایت کا قدرتی سامان بھی کردیا ہے۔ یہ ہدایت کیونکر ظہور میں آئی ؟ اس طرح کہ ان میں وجدان و حواس کی قوتیں رکھ دی گئیں اور انسان کو وجدان و حواس کے ساتھ جو ہر عقل سے بھی ممتاز کیا چناچہ اس مقام کی پوری تشریح انشاء اللہ العزیز سورة طہ کی آیت 50 میں کریں گے۔ اس مقام کا انتظار کریں۔ پس اس جگہ فرمایا تم نے جن ہستیوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا ہے ان میں کوئی ہے جو زنگدی و معیشت کے ٹھیک راستہ پر انسان کو چلاتا ہو ؟ یعنی جو دیکھنے سننے ، سمجھنے بوجھنے کی قوتیں بخشا ہوڈ پھر فرمایا تم جانتے ہو کہ یہ کوئی نہیں کرسکتا ، یہ صرف اللہ ہی کی کارفرمائی ہے کیونکہ مشرکوں کو اللہ کی ہستی اور اس کے خالق کل ہونے سے انکار نہیں تھا جیسا کہ آپ پچھلی آیات میں پڑھ چکے ہیں البتہ وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں ان ہستیوں کی بھی پرستش کرنی چاہئے جو اللہ تعالیٰ کے حضور مقرب ہیں اور جنہیں دنیا میں حکم و تصرف کی قوتیں حاصل ہوگئی ہیں۔ پھر جب یہ بات واضح ہوگئی تو فرمایا جب تمہیں اس بات سے انکار نہیں تو غور کرو کہ انسان کو پیروی اس کی کرنی چاہئے جو ہدایت کرنے والا ہے یا اس کی جو خود کسی دوسرے کی ہدایت کا محتاج ہے ؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسے فیصلے کر رہے ہو ؟