Ayah 10:7نشانات الٰہی غافل کون ہیں ؟ وہی جو دنیا کی زندگی میں مگن ہیں
16 ؎ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ اس آیت کے چند گنے ہوئے لفظوں میں حقیقت حال کی کیسی کامل تصویر کھینچ کر رکھی دی جس سے کوئی گوشہ بھی انسانی زندگی کا باہر نہیں رہا اور پھر ساتھ ہی وجود آخرت کے تمام دلائل بھی خود بخود نمایاں ہوگئے ۔ پھر غور کرو گے تو پا لو گے کہ منکرین آخرت کی ذہنیت کی چار حالتیں ہیں ۔ 1۔ ان کے اندر اللہ سے ملنے کی کوئی توقع نہیں ۔ 2۔ صرف دنیوی ہی میں خوشنود ہو رہے ہیں ۔ 3۔ اس حالت کے خلاف اس کے اندر کوئی خلش پیدا نہیں ہوتی اور اس پر مطمئن ہوگئے ۔ 4۔ ان کا ذہن و ادراک اس درجہ معطل ہوگیا ہے کہ قدرت کی تمام نشانیاں جو چاروں طرف پھیلی ہیں انہیں بیدار نہیں کرسکتیں ، وہ ایک قلم غافل ہوگئے۔
پھر غور کرو کہ ان میں سے ہر ایک بات نہ صرف بیان حاصل ہے بلکہ بجائے خود ایک دلیل بھی ہے اور یہی قرآن کریم کی معجزانہ بلاغت ہے اور ایک مزید یاد رہے کہ قرآن کریم نے ہر جگہ آخرت کے معاملہ کو ” لقاء الٰہی “ سے تعبیر کیا ہے اور اس تعبیر نے واضح کردیا ہے کہ حیات آخرت کی اصل حقیقت قرآن کریم کے نزدیک کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ ادیان عالم کے بنیادی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی اس دنیا میں ختم نہیں ہوجاتی اس کے بعد بھی ایک زندگی ہے اور اس زندگی میں جیسے کچھ اعمال ہوں گے ویسے ہی نتائج دوسری زندگی میں پیش آئیں گے۔ قرآن کریم میں بھی ایمان باللہ کا ایک بنیادی عقیدہ یہی مسئلہ ہے البتہ اس نے جو تعبیر اختیار کی ہے وہ پیرو ان مذاہب کے عام تصور سے مختلف ہے۔ وہ اس گوشہ کو کائنات ہستی کے عالمگیر قوانین خلقت سے الگ نہیں قرار دیتا بلکہ اس کے ماتحت لاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ جس طرح دنیا میں ہرچیز کے خواص اور ہر حادثہ کے نتائج ہیں ٹھیک اسی طرح انسانی اعمال کے بھی خواص و نتائج ہیں اور یہاں مادیات کی طرح معنویات کے قوانین کے بھی کام کر رہے ہیں ۔ بس اچھے عمل کا نتیجہ اچھا ہی ہوگا اور برے عمل کا نتیجہ برائی ۔ رہی یہ بات کہ یہ اچھے برے نتائج کس شکل میں پیش آئیں گے ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ نیک عمل انسان اصحاب جنت ہیں ان کیلئے بہشتی زندگی کی خوشحالیاں ہوں گی اور رضائے الٰہی کی دائمی نعمت ۔ بد عمل انسان اصحاب دوزخ ہیں ان کیلئے دوزخی زندگی کی بد حالیاں ہوں گی اور نعمت اخروی سے محرومی پھر دونوں طرح کی زندگیوں کے احوال و واردات ہیں جنہیں جا بجا مختلف اسلوبوں میں بیان کیا گیا ہے۔
رہی یہ بات کہ یہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس بارے میں ہم اپنی عقل سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ عالم ہمارے ادراک کی سرحد سے باہر ہے۔ جسم مقام کا اہم ادراک نہیں کرسکتے وہاں کے حالات کی نسبت حکم کیسے لگائیں ؟ اگر لگائیں گے تو یہ ظن و گمان ہوگا اور ظن سے یقین پیدا نہیں ہو سکتا ۔
لیکن اس پر بھی ہم یقین کیوں کرلیں ؟ اس لئے کہ ہم وجدانی طور پر محسوس کرتے ہیں کہ سرحد محسوسات سے ماوراء بھی ایک حقیقت موجود ہے اور اگر اس حقیقت سے انکار کردیں تو کائنات ہستی کے مسئلہ کا کوئی حل باقی نہیں رہتا اور خود ہماری عقل کہتی ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے اور یہ کہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر اللہ کی ہستی اور آخرت کی زندگی کا مبدا تسلیم نہیں کیا جاتا تو مسئلہ ہستی کے سارے سوالات لا یخل ہوجاتے ہیں لیکن جونہی یہ لفظ تسلیم کرلیا جاتا ہے معاً سارے سوالات حل ہوجاتے ہیں اور مجہولت کی تاریکی جگہ عرفان و بصیرت کی روشنی ہر طرف نمایاں ہوجاتی ہے۔ پس ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ نقطہ بناوٹی نہیں ہے بلکہ حقیقی ہے۔
البتہ ایک باتواضح ہے کہ جب ہم عالم آخرت کے احوال و واردات سنتے ہیں تو قدرتی طور پر ان کی ہی شکل سامنے آجاتی ہے جو اس زندگی کی محسوسات کے لحاظ سے ہو سکتی ہے لیکن خود قرآن کریم اور سنت رسول اللہ ﷺ کی تصریحات نے میں بتلا دیا کہ عالم آخرت کی باتوں کو اس دنیا کی باتوں کی طرح نہیں سمجھنا چاہئے۔ مثلاً جب ہم سنتے ہیں کہ جہنم میں آگ ہوگی اور بہشت سے مقصود باغ ہے تو ہمارے سامنے آگے کی وہی شکل آجاتی ہے جو ہمارے چولہوں میں جلا کرتی ہے اور اس طرح باغ کا وہی نقشہ کھینچ جاتا ہے جو اپنے مکان کے صحنوں میں اگایا کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ ظاہر ہے کہ عالم آخرت کی آگ اس دنیا کی آگ کی طرح نہیں ہو سکتی اور نہ وہاں کے باغ و چمن ہمارے اگائے ہوئے باغوں کی طرح ہوں گے ۔ چناچہ سورة السجدہ کی آیت میں ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
فَـلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍج جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (السجدہ : 32 : 17) کوئی جان نہیں جانتی کہ اس کی نیک عملیوں کی جزاء میں نگاہ کا کیا سرور پردہ عیب میں پوشیدہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت کی راحت و سرور کی حقیقت کا ہم اس دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ اس طرح ایک حدیث میں پیغمبر اسلام ﷺ نے جنت کی حقیقت اس طرح بتلائی ہے لا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر یبالی احد بشر ( مسلم) نہ تو کسی آنکھ نے دیکھی ، نہ کسی کان نے سنی اور نہ ہی کسی فرد بشر کے خیال میں گزری ! حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جنت کی نعمتیں دنیا سے کوئی مشابہت نہیں رکھتیں بجز اس کے کہ نام میں مشارکت ہے ( ابن کثیر) باقی رہی یہ بات کہ اگر عالم آخرت کے یہ معاملات دنیا کے معاملات کے مثل نہیں ہوں گے تو پھر ان کی حقیقت کیسی ہوگی ؟ تو عرض یہ ہے کہ اس بارے میں ہماری عقلی کاوش کچھ معلوم نہیں کرسکتی لہٰذایہ مسئلہ خالصتہ ًعلم غیب کا ہے جس کا تعلق ایمانیات سے ہے۔
اصل یہ ہے کہ مادی زندگی کے احساسات و مفہومات کا زنجیروں میں ہم کچھ اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ان سے آزاد ہو کر جمال حقیقت کا تصور ہی نہیں کرسکتے پس اس کے سوا چارہ نہیں کہ جو کچھ بتلا دیا گیا ہے اس پر یقین کرلیں اور جو کچھ نہیں پا سکتے اس کی کاوش میں سرگرداں نہ ہوں اور اگر سرگرداں ہوں گے تو حقیقت کا سراغ تو نہیں ملے گا البتہ نئے نئے وہموں اور گمانوں میں مبتلا ہوجائیں گے ؎
اے بروں از دہم و قال و قیل من خاک بر فرق من و تمثیل من
Ayah 10:8ایسے ہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ یقینا جہنم ہوگا جو بدلہ ہے ان کے اعمال کا
17 ؎ وہ کون لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہوگا ؟ فرمایا : یہ وہ پست ہمت اور کوتاہ نظر لوگ ہیں جن کے دلوں میں محبت الٰہی اور شوق وصل کی کوئی چنگاری موجود نہیں رہی اور انکی تڑپ صادق کا نور بالکل بجھ چکا ہے اور وہ کوتاہ نظر جو دنیوی زندگی اور اس کی زیب وزینت پر مفقون اور اس کے آرام و آسائش پر شاداں وفرحاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی دلیلوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے ان کا ٹھکانہ آتش جہنم کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ؟ وہ جہنم رسید ہوں گے تو کیوں ؟ اس لئے کہ انکے اعمال کا نتیجہ ہی ایسا ہوگا کیونکہ قانون الٰہی اس طرح واقع ہوا ہے کہ جو آج بوئو گے وہی کل کاٹو گے ۔ اس اصول کے مطابق جو کچھ ان کو ملے گا وہ خود انہی کے کسب و کمائی کا نتیجہ ہوگا ان پر کوئی زیادہ نہیں ہوگی۔
Ayah 10:9بلا شبہ نیک اعمال کرنے والوں کیلئے ہمیشہ رہنے کیلئے باغات ہوں گے
18 ؎ ” بلاشہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے تو ان کے ایمان کی وجہ سے سعادت کی راہ کا پروردگار ان پرکھول دے گا۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی جب کہ وہ نعمت الٰہی کے باغوں میں ہوں گے ‘ ‘ ۔ معلوم ہوا کہ جنت تک اصل رہنمائی کرنے والی شے ایمان ہے ، نطہ آغاز یہی ہے ۔ اعمال صالحہ اس میں صرف معین ہوجاتے ہیں اس لئے یھد یھم کے ساتھ ذکر صرف ایمان کا کیا گیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب ایمان نہ ہو تو عمل صالحہ کی بھی کوئی قیمت عند اللہ نہیں جس کا صلہ آخرت میں ملنے والا ہے۔ اگرچہ ہر نیک عمل ہی ہے خواہ کوئی کرے لیکن ہر ایک کیلئے نیک عمل کی جزاء آخرت میں نہیں اگرچہ اس دنیا میں اس کا صلہ اس کو ضرور مل کر رہے گا ۔ اس آیت نے کفار کے نیک اعمال کا مسئلہ بھی حل کردیا کہ ان کو دنیا کے ایسے عمل کی جزاء دنیا کے اندر ہی مل جاتی ہے۔
Ayah 10:10جنت میں داخل ہونے والوں کی آخری پیکار کیا ہوگی ؟
19 ؎ جنت میں پہنچ کر ان لوگوں کی جو صدا ہوگی اس کا مختصرخا کہ اس جگہ بیان کیا گیا ہے فرمایا منزل مقصود پہنچ کر جو سچی خوشی اور مسرت انہیں حاصل ہوگی اس کے اظہار کیلئے اس سے بلیغ تر کوئی اسلب اور کہاں سے لائے گا ؟ وہ جگہ ہی ایسی ہوگی کہ جہاں سلامتی ہی سلامتی ہوگی اور بےچینی کا نام و نشان بھی نہیں ہوگا اور وہاں پہنچنے والوں کی آخری پکار جو ہوگی وہ صرف اور صرف یہ ہوگی کہ وہ اللہ کی حمد و تعریف کے گیت گائیں گے۔ جس نے ان کیلئے یہ نظام قائم کر رکھا تھا جس کا انہوں نے اب مشاہدہ کیا ہے اور وہ چیز جو اس سے پہلے انہوں نے دنیا کی زندگی میں ایمان بالغیب کے طور پر تسلیم کی تھی آج وہ اس سے فی الواقع دو چار ہیں اور یہ مثل ہے کہ ” شنیدہ کے بوددیدہ “ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ جنتیوں کا سلام ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ وہ ایک دوسرے پر ’ ’ سلام علیکم “ کے الفاظ سے سلام پیش کریں گے اور یہ وہ سلام ہے جو جنتیوں کا جنتیوں کیلئے ہوگا ۔ لیکن کچھ اس دنیا میں اس اسلام کے الفاظ ایک دوسرے کیلئے ضروری قرار دیتے ہیں اور اس کو قرآنی اسلام کہتے ہیں کیوں ؟ محض اس لئے کہ ان کو اس اخروی زندگی پر بالکل یقین نہیں بلکہ وہ اس دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی بنانا چاہتے ہیں اور بتاتے ہیں جس میں یقینا نہ سلامتی ہے اور نہ ہے چین و آرام اور سکون ۔ ان کے خیال میں آخرت کی زندگی تو ایک ڈھکوسلا ہے جس کا سر ہے نہ پیر ۔ حالانکہ یہ محض ان کی خوش فہمی ہے اس دنیا کی زندگی دراصل عمل کا نام ہے اور آخرت کی زندگی اس عمل کے نتیجہ کا نام ہے اور عمل اور نتیجہ بالکل دو الگ چیزیں ہیں ۔ اگرچہ وہ آپس میں لازم و ملزوم ہوں ۔ بلا شبہ اسدینا کی زندگی اور آخرت کی انسانی زندگی آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور دنیاوی زندگی کے نتائج سے آخرت میں ہم سب کو دو چار ہونا ہے کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے۔
Ayah 10:11اس آیت میں قانون بتدریج و امہال کی طرف اشارہ ہے
20 ؎ ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت کے تمام قوانین اپنی نوعیت میں کچھ اس طرح واقع ہوئے ہیں کہ اگر لفتوں میں انہیں تعبیر کرنا تو مشکل ہی سے تعبیر کرسکتے ہیں مگر ہاں ! فطرت کے فضل و رحمت ہی سے ایسا ممکن ہے ہمیں اور کوئی تعبیر نہیں ملے گی ۔ مثلاً اس کے قانون کا عمل کبھی فوراً اور اچانک نہیں ہوتا وہ جو کچھ کرتی ہے آہستہ آہستہ بتدریج کرتی ہے اور اس تدریجی طرف عمل نے دنیا کیلئے مہلت اور ڈھیل کا فائدہ پیدا کردیا ہے یعنی اس کا ہر قانون فرصتوں پر فرصتیں دیتا ہے اور اس کا ہر فعل عفو ودر گزر کا دروازہ آخر تک کھلا رہتا ہے۔ بلا شبہ اس کے قوانین اپنے نفاذ میں اٹل ہیں ، ان میں ردو بدل کا امکان نہیں ۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ما یبدل الققول الدی ( 50 : 38) ” ہمارے یہاں جو بات ایک مرتبہ ٹھہرا دی گئی اس میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی “ ۔ اور اس لئے تم خیال کرنے لگتے ہو کہ ان کی قطعیت بےرحمی سے خالی نہیں لیکن تم نہیں سوچتے کے جو قوانین اپنے نفاذ میں اس درجہ قطعی اور بےپرواہ ہیں اپنی نوعیت میں کس درجہ عفو و در گزر اور مہلت بخشی و اصلاح کوشی کی روح بھی رکھتے ہیں ؟ اس لئے آیت مندرجہ میں ” ما یبدل القوی لدی “ کے بعد فرمایا ” وما انا بظلام للعبید “ ( 50 : 38) ” لیکن یہ بھی نہیں کہ ہم بندوں کیلئے زیادتی کرنے والے ہوں “۔
فطرت اگر چاہتی تو ہر حالت بیک وقت ظہور میں آجاتی یعنی اس کے قوانین کا نفاذ فوری اور نا گہانی ہوتا لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ ہر حالت ، ہر تاثیر ، ہر انفعال کے ظہور و بلوغ کیلئے ایک خاص مدت مقرر کردی گئی ہے اور ضروری ہے کہ بتدریج مختلف منزلیں پیش آئیں ۔ پھر ہر منزل اپنے آثار و انداز رکھتی ہے اور آنے والے نتائج سے خبردار کرتی رہتی ہے۔ زندگی اور موت کے قوانین پر غور کرو کہ کس در زندگی بتدریج نشو ونما پاتی ہے اور کس طرح درجہ بدرجہ مختلف منزلوں سے گزرتی ہے اور پھر کس طرح موت کمزوری و فساد کا ایک طول طویل سلسلہ ہے جو اپنے ابتدائی نقطوں سے شروع ہوتا ہے اور یکے بعد دیگرے مختلف منزلیں طے کرتا ہوا آخری نقطہ بلوغ تک پہنچا کرتا ہے ؟ تم بدپرہیزی کرتے ہو تو یہ نہیں ہوتا کہ فوراً ہی ہلاک ہو جائو بلکہ بتدریج موت کی طرف بڑھنے لگتے ہو اور بالآخر ایک خاص مدت کے اندر جو ہر صورت حال کے یکساں نہیں ہوتی درجہ بدرجہ اترتے ہوئے موت کی آغوش میں جا گرتے ہو ۔ نباتات کو دیکھو کہ درخت اگر آبیاری سے محروم ہوجاتے ہیں یا نقصان و فساد کا کوئی دوسرا سبب عارض ہوجاتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ ایک ہی دفعہ مرجھا کر رہ جائیں یا کھڑے کھڑے اچانک گر جائیں بلکہ بتدریج شادابی کی جگہ پژمردگی کی حالت طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے اور پھر ایک خاص مدت کے اندر جو مقرر کردی گئی ہے یا تو بالکل مرجھا کر رہ جاتے ہیں یا جڑ کھوکھلی ہو کر گر پڑتے ہیں ۔ اس چیز کا نام قانون تدریج امہال ہے۔
اور زیر نظر آیت میں بھی اس بات کا ذکر ہے فرمایا دیکھو جس طرح انسان فائدہ کیلئے جلد باز ہوتا ہے اگر اسی طرح اللہ اسے نقصان پہنچانے میں بھی جلد باز ہوتا یعنی اس کا قانون جزاء ایسا ہوتا کہ ہر بد عملی کا برا نتیجہ فوراً کام کرجاتا تو اس کا وقت کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا لیکن قانون جزاء نے یہاں ڈھیل دے رکھی ہے پس جو لوگ مرنے کے بعد ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے ہم انہیں ان کی سر کشیوں میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں اور ایک وقت تک جو ان کیلئے ہمارے قانون میں مقرر ہے اسی طرح سرگرداں رہتے ہیں۔
Ayah 10:12انسان کو جب کوئی دکھ آ لیتا ہے تو پھر کروٹ پر کروٹ بدلنے لگتا ہے
12 ؎ اب انسان کی اضطراری اور مجبوری کے اوقات کا بیان شروع ہورہا ہے کہ انسان بھی عجیب چیز ہے کہ جب رنج و مصیبت کی حالت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے اندر وجدانی طور پر ایک ایساولولہ اٹھتا ہے کہ ایک بالا تر ہستی موجود ہے جو میرا درد و دکھ دور کرسکتی ہے اور اس کو پکارنا چاہئے پھر وہ اس کو پکارتا ہے لیکن جب اس کی وہ مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر عیش و راحت کی غفلتوں میں پڑ کر اسے بھول جاتا ہے گویا کبھی اس نے کسی کو پکارا ہی نہ تھا اور ظاہر ہے کہ بلا شبہ ” انسان “ کی یہ حالت ہوتی ہے اور اس طرح کی حالت سے وہ دو چار ہوتا ہے لیکن کیا ہر انسان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے ؟ ہرگز نہیں اس لئے یہ باور کرایا جارہا ہے کہ ہر انسان کی یہ حالت تو نہیں ہوتی لیکن ہر اس انسان کی حالت ایسی ضرورہوتی ہے جو آخرت کے عقیدہ پر سچے دل سے ایمان نہیں رکھتا اور پھر یہ کہ جس پر یہ حالت طاری ہوجائے وہ خودبھی سمجھ لے اور دوسرے بھی اچھی طرح جان لیں کہ ایسا شخص عقیدہ آخرت کے نظریہ سے محروم ہے اگر وہ بظاہر مانتا اور تسلیم بھی کرتا ہے تو اس کے لئے اس طرح ماننے اور تسلیم کرنے کی عند اللہ کوئی قیمت اور کوئی حقیقت نہیں ۔ زیر نظر آیت گویا ایمان بالا خرت کیلئے ایک کسوٹی بتادی گئی جس پر اپنا آخرت کا عقیدہ رکھ کر دیکھ لیا جاسکتا ہے کہ وہ کیا ہے ؟ اور کیسا ہے ؟
قرآن کریم نے جا بجا انسان کی اس حالت سے استشہاد کیا ہے کیونکہ مصیبت اور بےبسی کی حالت میں بےاختیار ولولوں کا اٹھنا اس امر کا ثبوت ہے کہ انسانی فطرت اپنے اندرونی اور آگ میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کا اعتقاد رکھتی ہے اور یہ کہ اعراض و غفلت کی حالت وجدانی نہیں ہے بلکہ خارجی اثرات کا نتیجہ ہے اور یہ وجہ ہے کہ وہ انسان جس کی حالت اس طرح ہوجائے اس کو ” ابن الوقت “ کہا جاتا اور اس پر فرد جرم عائد کی جاتی ہے اور پھر اس کی بعض حالت کو گناہ کی حالت اور بعض کو منافق کی حالت اور بعض کو مشرک کی حالت پر رکھ کر بیان کاٰ گیا ہے۔ اس لئے ہم نے اس کو فطرت انسانی کا بیان قرار دے کر یہ کہا ہے کہ اکثر اوقات میں انسان فطرت کے خلاف چلنے کی کوشش کرتا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑا کمزوری ہے جس کی اصلاح کیلئے اس کی اس کمزوری کا ذکر جگہ جگہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی اصلی فطرت کی طرف لوٹ آئے اور اس سے انحراف نہ کرے لیکن اس کے باوجود وہ اکثر اس سے انحراف کرجاتا ہے اور یہ حالت بڑے بڑے سمجھدار اور عققل و فکر والوں کی ہوجاتی ہے۔ اس لئے اپنی کمزوری کو کمزوری تسلیم کرلینے میں اصلاح مضمر ہے اگر بر ملا نہ ہو سکے تو اپنے اندر ہی اندر رکھ کر بھی اس کا اصلاح کی جاسکتی ہے اور آگے چل کر اس سورت میں اس کی مزید تشریح ملے گی لہٰذا آیت 22 کا انتظار کریں ۔ اس آیت میں مکہ والوں کی قحط سالی کا ذکر بھی آگیا جس کے بعد وہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے سامنے درخواست کرنے پر مجبور ہوگئے کہ اپنے رب سے کہو کہ وہ اپنا عذاب ہم پر سے اٹھا لے کہ ہم آخر کار تیری قوم تو ہیں اور پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور ان کا عذاب دور ہوا۔
Ayah 10:13اس سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کی جا چکی ہیں اور مجرموں کا انجام یہی ہوتا ہے
22 ؎ القرون حالت نصب میں حالت رفع میں اور حالت جر میں استعمال ہتا ہے جس کے معنی ہیں ” ایک زمانہ کے لوگ “ وہ قومیں جن میں سے ہر ایک کا زمانہ دوسرے سے جدا ہو اور اسی طرح مختلف قوموں کیلئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے اس جگہ اس کا مطلب مختلف ہی کیا گیا یا مختلف امتیں اور امتیں کہو یا قومیں بات تو ایک ہی ہے ۔ اس طرح اہل مکہ کو بتایا جا رہا ہے کہ جو روش تم نے اختیار کر رکھی ہے وہ کسی عقل مند اور عاقبت اندیش انسان کی روش نہیں ۔ اپنے گناہوں پر تمہیں بھی ندامت نہیں ۔ ہر بھلائی اور آرام کو حاصل کرنے کیلئے تم بہت بےچین ہو لیکن جب تمہیں کوئی مصیبت گھیر لیتی ہے تو اس وقت تم اپنے پروردگار کو پکارتے ہو اور بڑی عاجزی سے دعائیں مانگتے ہو اور جب وہ تم پر رحم فرماتا ہے تو تم اتنے طوطا چشم ہو کر اس وقت ادھر سے آنکھیں پھیر لیتے ہو اور احسان مندی اور شکر گزاری کا کوئی اثر تمہارے قول و فعل میں نظر نہیں آتا یاد رکھو تم سے پہلے بھی اس قم اس کے لوگ گزرے ہیں ہم نے ان کو بھی سمجھنے اور سنبھلنے کیلئے کافی مہلت دی ۔ انہیں راہ ہدایت دکھانے کیلئے رسول بھیجے لیکن جب وہ سر کشی سے باز نہ آئے تو انہیں عذاب کی چکی میں پیس دیا گیا اور ان کا نام و نشان تک بھی باقی نہ رہا ۔ اے اہل مکہ ! آنکھیں کھولو اور نزول عذاب سے پہلے اپنی نجات کا سامان کرلو ۔ اگر تم اسی سستی میں پڑ رہے اور حق کو نہ ماننے کی یہی ڈگر جاری رکھی تو تم بھی ہمارے عذاب کی گرفت سے نہیں بچ سکو گے کیونکہ ہمارا قانون مجرموں کو اسی طرح سزا دیتا ہے اور تم بھی مجرم ہو کر ہمارے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ تم تو تکذیب پر تکذیب اور ظلم پر ظلم کرتے جائو اور حدود شرعی سے تجاوز کرو اور بدنی و مالی حق تلفیاں اور اس طرح اللہ کی توحید اور پیغمبر اسلام ﷺ کی صداقت کو جھٹلاتے جائو اور تم پر کوئی گرفت نہ آئے اور تم پاک کے پاک ہی رہو۔
Ayah 10:14انسانی آزمائش کا ایک نیا رخ اقتدار کی کرسی پر بٹھا کر جائزہ لینا
23 ؎ فرمایا ہم نے تم کو زمین پر نائب کیا ، معلوم ہے کیوں ؟ محض اس لئے تاکہ تمہارا جائزہ لیا جائے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ، غور کرو کہ قدرت کے قانون کس طرح اٹل اور یکساں ہیں ۔ جب تک کوئی قوم اپنی افادیت اور نفع رسانی کا ثبوت بہم پہنچاتی رہتی ہے وہ زندہ و سلامت رہتی ہے اور اس کا آفتاب اقبال درخشاں اور تاباں رہتا ہے لیکن جب وہ اپنے اقتدار اور طاقت کو لذت کوش او عشی طلبی کیلئے وقف کردیتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو بجا لانے میں غفلت برتتی ہے تو سمجھ لو کہ اس کی موت کی گھڑی آپہنچی پھر اسے راہ سے ہٹا دیا جاتا ہے اور اس کے بعد دوسری قوم کو آگے بڑھایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی نوخیز قوتوں اور جوان صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر علم و فن اور حکمت و دانش کے کاروان کی قیادت سنبھال لے۔ اے قریش کے سردار ! تم بھی ان گزری بسری ہوئی قوموں کے جانشین ہو ۔ قدرت کی نگاہ دور بیں میں ہر وقت تمہاری کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اگر تم نے راست بازی اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا ، نیکی کو فروغ دینے اور بدی کا قلع قمع کرنے میں مقدور بھر سعی و کوشش کی ، اپنے مالک و خالق کے سارے اپنی جبین نیاز کو جھکائے رکھے اور نوع انسانی کی خدمت میں اپنے وسائل اور اپنی قوتوں کو استعمال کرتے رہے تو تم پر کوئی آنچ نہیں آئے گی اور اگر تم نے بھی اپنے مقصد سے کوتاہی برتی تو یاد رکھو تمہیں بھی ٹکرا دیا جائے گا۔ یہی کچھ ہوتا آیا ہے یہی کچھ ہو رہا ہے اور یہی کچھ ہوتا رہے گا ۔
اس ملک عزیز کو حاصل کئے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ؟ اس کو حاصل کرنے کیلئے کتنی کتنی قربانیاں پیش کی گئیں ؟ اس ملک کے حاصل کرنے کا جو مقصد تھا وہ پورا ہوگیا ؟ کیا اب غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں یا ہمیں غلامی کی بیڑیاں پہنا دی گئیں ؟ کیا ہم اپنی نفع رسانی اور افادیت کا ثبوت بہم پہنچانے میں کسی کوتاہی کا مظاہرہ تو نہیں کر رہے ؟ کیا آج مجموعی طور پر ہماری قوتیں نیکی کو مٹانے اور بدی کو فروغ دینے میں تو صرف نہیں ہو رہیں ؟ کیا ہم خدا پرستی کی بجائے نفس پرستی کا شکار تو نہیں ہو رہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اسلام اسلام کا شور ڈال کر کفر کے ہاتھ پر بیعت تو کرچکے ہوں ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس وقت کا کفر آج کے اسلام سے بدر جہا بہتر دکھائی دے رہا ہو ؟ ان سوالات کا جواب دے کر ہمیں شکریہ کا موقع دیں ، ہم منتظر ہیں اور رہیں گے ۔ ہاں ! آپ کو اجازت ہے کہ اپنے زعماء سے پوچھ کر بتا دیں ، مذہبی زعماء سے اور سیاسی زعماء سے ۔ اگر تم نے جواب نہ دیات سن لو کہ ان باتوں کا جواب عند اللہ تیار ہو رہا ہے اور اس طرح تیار ہو رہا ہے کہ کوئی شور و غوغا نہیں اور سنت اللہ کے عین مطابق وہ اپنے وقت پر ظاہر ہوجائے گا اور تم اس کو انشاء العزیز اس طرح دیکھو گے جیسے کسی عزیز کی موت کا خط اچانک ڈا کیا تمہارے ہاتھ میں دے دے اور تم سر پیٹ کر رہ جائو لیکن اس طرح سر پیٹنے سے تمہارا وہ عزیز واپس آجائے گا ؟ بلا شبہ قوموں کی زندگی میں ایسے خط پہنچنے پہنچتے وقت لگتا ہے لیکن آخر مقرر کی گئی تاریخ کیسے اپنے وقت پر آپہنچتی ہے ، اس کا تجربہ تم اپنی زندگی میں کتنی بار کرچکے ۔
Ayah 10:15کفار کا مطالبہ کہ ہم آپ کو پیغمبر مان لینے کو تیار ہیں اگر تم اس قرآن کو بدل دو
24 ؎ کفار مکہ یعنی مشرکین کی طرف سے مطالبہ یہ ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم آپ کی صداقت و فضلیت سے انکار نہیں کرسکتے اور آپ کی بات سننے کو بھی تیار ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ تم کچھ ایسی باتیں کہتے ہو جو ہمارے ہی نہیں بلکہ ہمارے آبائو و اجداد کے بھی مخالف ہیں جنہیں ہم کبھی قبول نہیں کرسکتے اور ان کو تسلیم کریں بھی کیونکر جب کہ وہ سارے معاشرے ہی کیخلاف ہوں ، کیا سارے جہان میں ایک تو ہی ایسا انسان ہے کہ اس کی سمجھ میں اس طرح کی باتیں آئی ہیں اور باقی سارے لوگ ہی غلط ہیں ؟ نہیں ! ایسا نہیں ہو سکتا ۔ ہاں ! تم اس قرآن کی بجائے کوئی دوسرا قرآن لائو یا اسکے مطالب ایسے کر دو کہ ہمارے پرانے عقیدوں کے خلاف نہ ہوں ۔ فرمایا آپ ﷺ ان کو دو ٹوک جواب سنادیں کہ یہ جو کچھ میں بیان کرتا ہوں میرے جی کی گھڑی ہوئی باتیں نہیں ہیں کہ میں تمہاری فرمائش کے مطابق بنا دوں میں تو خود اللہ کی وحی کے تابع ہوں جو کچھ مجھ پر وحی ہوتی ہے تمہیں سنا دیتا ہوں ۔ اگر میں اس کے حکم سے نافرمانی کروں تو اس کی پکڑ سے مجھے بچانے والا کون ہے ؟
آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ قرآن کو بدلنا میرے اختیار میں نہیں ہے
25 ؎ غور کرو کہ کفار مکہ کی طرف سے کیا مطالبہ کیا گیا ؟ کیا انہوں نے کسی بات کو عقلا ً غلط ثابت کیا ؟ کوئی دلیل پیش کی کہ تیری باتیں اس دلیل کی بناء پر غلط ہیں اس لئے ہم ان کو نہیں مان سکتے ؟ بغیر دلیل پیش کئے فقط اس بنیاد پر کہ ہمارے باپ دادا نے یہ باتیں نہیں کہیں اور ہم نے تیرے سوا آج تک کسی سے یہ باتیں نہیں سنیں اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ تم اس قرآن کو بدل کر ایسا قرآن لائو یا اس کا مفہوم اس طرح ہمارے سامنے پیش کرو جو ہمارے باپ دادا کے نظریئے کے خلاف نہ ہو ۔ ان لوگوں کے متعلق کیا کہوگے ؟ یہی کہ یہ الٹی کھوپڑی کے لوگ تھے جب نبی اعظم و آخر ﷺ انہیں دعوت حق دیتے ہیں اور آیات الٰہی پڑھ کر سناتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے ہم تمہارا ساتھ دینے کو تیار ہیں بشرطیکہ آپ ﷺ اپنی لائی ہوئی کتاب میں ہماری خاطر چند تبدیلیاں کردیں ۔ ایک تو ہمارے بزرگوں کی توہین کا پہلو ان سے نکلتا ہے وہ مقامات اس سے خارج کر دو اور دوسرا شریعت کے وہ احکام جو ہمارے رسم و رواج کے خلاف ہیں ان کو ختم کر دو ۔ بس آپ اتنا کردیں تو ہم سب کے سب آپ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کو تیار ہیں ۔ ان نادانوں کو دراصل نبوت و رسالت کے مفہوم ہی سے نا آشنائی تھی ۔ وہ شاید جانتے ہی نہ تھے کہ نبوت و رسالت کی کیا ذمہ داریاں ہوتی ہیں ؟ وہ ان ساری باتوں کو جو نبی کریم ﷺ پیش کرتے تھے اپنے سرداروں ، مذہبی پیشوائوں اور سیاسی لیڈروں کی باتوں کے ساتھ وزن کر کے دیکھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ ایک نئے مذہب کا داعی ہے لیکن آخر پہلے بھی تو ہمارے پاس مذہب اور اس مذہب کے داعی اور ماننے والے موجود ہیں جب سارے کے سارے اپنی باتوں میں ضرورت کے تحت ترمیم کرلیتے ہیں تو اس میں کونسی ایسی بات ہے کہ وہ یعنی محمد بن عبد اللہ رسول اللہ ﷺ ترمیم نہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے میرے رسول ﷺ ! ان سے کہہ دیجئے کہ یہ میرے بس کا معاملہ نہیں کہ میں قرآن کریم میں کسی طرح کا رد و بدل کرسکوں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے کلام کا امین بنایا ہے میں اس میں خیانت کا تصور تک نہیں کرسکتا اس کے قہر اور عذاب کی جو بجلیاں کوند رہی ہیں تمہاری آنکھیں تو وہ نہیں دیکھ سکتیں لیکن میں تو ان سے چشم پوشتی نہیں کرسکتا اگر میں تمہیں خوش کرنے کیلئے کلام الٰہی میں ذرہ بھر کمی بیشی کر دں تو کیا تم میں اتنی ہمت ہے کہ روز محشر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مچھے چھڑا لو ؟ اگر تم ہاں ! بھی کہہ دو تو بھی میں اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتا کیونکہ اللہ نے اس بات کا اعلان فرما دیا کہ ایسا کرنے والا میرے عذاب سے نہیں بچ سکتا۔
اللہ کے حکم کی نافرمانی کرکے اس کے عذاب کو دعوت کیوں دوں ؟
26 ؎ آیت کے آخری فقرہ پر ایک بار پھر نظرڈالو ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ” میں ڈرتا ہوں کہ اگر اپنے پروردگار کے حکم سے سرتابی کروں تو عذاب کا ایک بہت بڑا دن آنے والا ہے “ اور پھر کون ہے جو مجھے اس نافرمانی کے عذاب سے بچا سکے ؟ یہ کون کہہ رہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ کے حکم سے خود محمد رسول اللہ ﷺ یہ بات ارشاد فرما رہے ہیں حالانکہ نہ تو آپ ﷺ کی اس طرح کی نافرمانی کرنے کا کوئی امکان اور نہ ہی آپ ﷺ کو عذاب دیئے جانے کی ضرورت ، تو پھر آپ ﷺ سے یہ اعلان آخر کیوں ؟ محض اس لئے کہ علم الٰہی میں موجود تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگ بعض شخصیتوں کے متعلق گمان کریں گے اور عقائد رکیں گے وہ لوگ خواہ کچھ بھی کریں عذاب ان کیلئے نہیں ہے اس لئے ان کے متعلق ایسی بات زبان سے نکالی ہی نہیں جاسکتی کہ اللہ ان کو بھی عذاب دے سکتا ہے جیسا کہ آج بھی ہمارے بعض لوگوں میں یہ بات معروف ہے کہ ہماری سرکار ، ہمارے پیرو مرشد ہمارے ہادی و رہنما تو ایسے ہیں کہ ان کو اللہ عذاب دے ہی نہیں سکتا یہ پاک لوگوں کی پاک اولادیں ہیں اور معرفت کا درجہ طے کر رہے ہیں ان پر شریعت کوئی مواخذہ نہیں کرسکتی ۔ اس لئے کہ شریعت تو شریعت ہے وہ لوگ تو حقیقت اور طریقت سے بھی بہت آگے نکل گئے اور اس وقت معرفت کی منزل میں ہیں ان کیلئے نماز ، روزہ اور حج و زکوٰۃ جیسی عبادت لازم و ضروری نہیں ہیں۔ زیر نظر آیت کے اس حصہ نے ایسے سارے لوگوں کی باتوں پر یکبارگی پانی پھیر دیا اور خود پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات کو مخاطب کر کے آپ ﷺ کی امت سے یہ سوال پچھوادیا کہ اگر میں بھی حکم الٰہی کی نافرمانی کروں تو عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتا اور نہ ہی مجھے ایسا کرنے کی جرأت و ہمت ہے تاکہ اس طرح کی تفہیم رکھنے والے سارے لوگوں کے سارے عقائد کی نفی کی جاسکے اور لوگوں کیلئے راہ ہدایت آسان ہو اور پھر جب پیغمبر اسلام ﷺ سے اس کا اعلان کر وا دیا تو تم اور ہم کون ہیں اور ہماری حیثیت کیا ہے ؟ جب ایک کام کرنے سے اللہ کا رسول محمد رسول اللہ ﷺ بچتے ہیں کہ اگر مجھ سے سر زد ہوجائے تو مجھے عذاب الٰہی سے کوئی نہیں بچا سکتا تو اور کون ہے جو اس کے کرنے کی جرأت کرے اور پھر عذاب الٰہی سے بھی بچ جائے۔ اللہ کے ہاں دیر ہے لیکن اندھیر مطلق نہیں۔
Ayah 10:16اگر اللہ نہ چاہتاتو میں قرآن کریم تم پر کیسے پڑھ سکتا ؟
27 ؎ اب غور کرو کہ ان روشن خیالان عرب کی اس فرمائشی ترمیم کا کیا بہترین ، صاف ، ستھرا اور معجزانہ انداز میں
جواب دے دیا جو صداقت نبوت کی ایک سب سے زیادہ واضح اور وجدانی دلیل بیان کردی جس کی حقیقت افسوس ہے کہ ہمارے مفسرین نے پوری طرح واضح نہ کی ۔ فرمایا : ساری باتیں چھوڑ دو صرف اور صرف اس بات پر غور کرو کہ میں تم میں کوئی نیا آدمی نہیں ہوں جس کے خصائل و حالات کی تمہیں خبر نہ ہو ، تم ہی میں سے ہوں اور اعلان وحی سے پہلے ایک پوری عمر تم میں بسر کرچکا ہوں یعنی چالیس برس تک کی عمر کہ یہ عمر انسان کی پختگی کی کامل مدت ہے اس تمام مدت میں میری زندگی تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے ، بتلائو اس تمام عرصہ میں کوئی ایک بات بھی تم نے سچائی اور امانت کے خلاف مجھ میں دیکھی ؟ پھر اگر اس تمام مدت میں مجھ سے یہ نہ ہوسکا کہ انسانی معاملہ میں جھوٹ بولوں تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اب اللہ کی ذات پر بہتان باندھنے کیلئے تیار ہو جائوں اور جھوٹ موٹ کہنے لگوں کہ مجھ پر اس کا کلام نازل ہوتا ہے ؟ کیا اتنی سی موٹی بات بھی تم نہیں پا سکتے ؟
Ayah 10:17اللہ پر افتراء باندھنے والا کبھی فلاح و کامیاب حاصل نہیں کر سکتا
28 ؎ تمام علماء اخلاقیات اور نفسیات متفق ہی کی عمر میں ابتدائی چالیس برس کا زمانہ اس کے اخلاق و خصائل کے ابھرنے اور پنپنے کا اصل زمانہ ہوتا ہے۔ جو سانچا اس عرصہ میں بن گیا پھر بقیہ زندگی میں بدل نہیں سکتا ۔ پس اگر ایک شخص چالیس برس کی عمر تک صادق و امین رہا ہے تو کیونکر ممکن ہے کہ اکتالیسیوں برس میں قدم رکھتے ہیں ، ایسا کذاب و مفتری بن جائے کہ انسانوں ہی پر نہیں بلکہ فاطر السموات والارض پر افترا کرنے لگے ؟ چناچہ اس کے بعد فرمایا کہ دو باتوں سے تم انکار نہیں کرسکتے جو شخص اللہ پر افتراء کرے کہ اس سے بڑھ کر کوئی شریر نہیں اور جو صادق کو جھٹلائے وہ بھی سب سے زیادہ شریر انسان ہے اور یہ کہ شریر و مفتری کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اب صورتحال نے یہاں دونوں فریق پیدا کردیئے ہیں اگر میں مفتری علی اللہ ہوں تو مجھے ناکام و نامراد ہونا پڑے گا اگر تم سچائی کے مکذب ہوں تو تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا ہے فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کا قانون ہے کہ وہ مجرموں کو فلاح نہیں دیتا۔ چناچہ اللہ کا فیصلہ صاد ہوگیا جو مکذب تھے ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا اور جو صادق تھا اس کا حکم صدق آج تک قائم ہے اور قائم رہے گا ۔ اس سے پہلے سورة الانعام کی آیت 21 ، 24 اور سورة الاعراف کی آیت 37 میں بھی یہ استشہاد گزر چکا ہے اس لئے عروۃ الوثقیٰ جلد سوم میں الانعام 6 : 21 ، 24 اور الاعراف 7 37 کی تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 10:18وہ اللہ کے سوا ان شخصیتوں کو پکارتے ہیں جو ان کو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان
29 ؎ زیر نظر آیت اور اس جیسی ان گنت آیتوں میں تمام مشرک قوموں کے معبود ان باطل کی بےحقیقی واضح کی جا رہی ہے اور ان کا یہ جھوٹا عذر بھی کہ ان دیویوں ، دیوتائوں ، پیروں ، ولیوں اور بزرگوں اور اس طرح ان نیک لوگوں کے بتوں اور قبروں ، مجسموں اور استھانوں کو کچھ مستقل متصرف فی الکائنات اور رب و الٰہ تھوڑا ہی مانتے ہیں ہم تو ان کی حیثیت مستقل شفیع کی مانتے ہیں اور عرب کے مشرکین کی طرح یہی عقیدہ عیسائیوں کا بھی ہے۔ مسیح پرستی کے سلسلہ میں تو کھلا ہوا اور عیسائیوں کے سارے فرقوں ، گروہوں اور پارٹیوں کا اور اولاء پرستی کے سلسلہ میں ان کے فرقہ کیتھولک کا کیونکہ وہ اپنے اولیاء کرام کو وہ شفاء ہی ٹھہراتے ہیں اور ہمارے زمانہ کے اہل بدعات کا بھی کچھ اسی طرح کا عقیدہ ہے بلکہ وہ بعض صورتوں میں ان سارے گروہوں سے آگے بڑھ گئے ہیں ۔ انکے ہاں اگر قبور اکابر کی تعظیم مفرط کی جائیزگی تو یہ اکابر و صالحین اپنے پرستاروں کے حق میں شافع و شفیع بن جائیں گے اور ہر طرح عذاب الٰہی ان کے آڑے آجائے گا اور یہ بلا اس امت پر آج سے نہیں عرصہ دراز سے مسلط ہے۔ اس آیت نے قرآن کریم میں ترمیم و اصلاح کا مشورہ دینے والے جن روشن خیال عربوں کا ذکر آپ پیچھے پڑھ آئے ان کی ساری دانشوری کی قلعی کھول دی کہ دیکھو یہ لوگ کتنے بدھو ہیں کہ مٹی اور پتھر کے بےجان مجسموں کو کس طرح اپنا معبود و مسجود بنائے ہوئے ہیں ؟ کس طرح ان کو یقین آیا ہے کہ ہمارے اپنے ہی گھڑے ہوئے پتھروں میں ان کی روحیں کس طرح حلول کر آئیں جو مقام علیین میں پہنچ چکی ہیں اور اس طرح کیونکر ان کو یقین آگیا ہے کہ ان مٹی کے ڈھیروں میں وہ ابھی تک روحیں محفوظ پڑی ہیں اور وہ ہماری باتوں کو سن کر خدا تک پہنچا رہی ہیں ۔ ان میں ذرا بھی عقل و فکر موجود ہوتی ہیں تو ان کی سمجھ میں یہ بات آجاتی کہ وہ کسی صنم تراش کے ہتھوڑے کی چند ضربوں سے کیونکر خدائی کے مسند پر براجمان ہو کہ ان کا حاجت روا بن گیا اور اسی طرح ان کے ذہن میں ضرور یہ بات کھٹکتی کہ ایک ہزار من مٹی کے نیچے دبایا گیا انسان جس کو ہمارے ہی چند آدمیوں نے ایک گڑھا کھود کر خود اپنے ہاتوں سے اس گڑھے میں رکھا اور پھر اپنی ہی کدالیں لے کر اس کے ارد گرد کی ساری مٹی اٹھا اٹھا کر اس کے اوپر ڈال دی اس سارا کچھ کرنے کے بعد یہ ہماری عرض داشت سن کر رب ذوالجلال کے حضور کیسے پیش کر دے گا ۔
بلکہ یہ شخصیتیں تو خود محتاجی کی ایک جیتی جاگتی تصویریں ہیں جو ایک تصور ہماری آنکھوں کے سامنے پیش کر رہی ہیں جن کو ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے مٹی کی تہہ میں دبا دیا ، ایندھن کے ایک ڈھیر میں رکھ کر جلا دیا ہے یہ لوگ کتنے ہی مبارک سہی کتنے اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار سہی ہمارے اپنے ہی عقیدے کے مطابق ہمارے ہی محتاج ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوئے اور ان محتاجوں کو ہمارے ہاتھوں کی ضرورت تھی اور ہمارے ہی ہاتھ ان کے لئے یہ سب کچھ کرتے رہے اور پھر یہ سب کچھ ہو چکنے کے بعد ہمارے ہی تراشیدہ بتوں اور ہمارے ہی ان تعمر کردہ مقبروں میں کس طرح رہائش پذیر ہو کر ہماری صدائیں سن رہے ہیں یہ تو سراسر ہمارا وہم و گمان ہے جس کا نہ سر ہے نہ پائوں اور وہی بات قرآن کی اس آیت میں بیان فرمائی جا رہی ہے کہ ” کیا اللہ کو ایسی بات کی خبر دینی چاہتے ہو جو خود اسے معلوم نہیں اور نہ آسمانوں میں اور نہ زمینوں میں کسی کو معلوم ہے ؟ “ اور پھر ان سے ایک بار پوچھا بھی جاتا ہے کہ یہ لوگ جو کسی کے نفع و نقصان کی قدرت نہیں رکھتے ان کی عبادت کرنا کیا شرف انسانی کی توہین نہیں۔ علامہ رازی (رح) فرماتے ہیں کہ عبادت تو تعظیم کا سب سے بلند مقام ہے اور یہ اس کے لئے زیبا ہے جس کا احسان و انعام تمام احسانات و انعامات سے اعلیٰ و برتر ہو تکریم کا سب سے بلند مقام ہے اور یہ اس کے لئے زیبا ہے جس کا احسان و انعام تمام احسانات و انعامات سے اعلیٰ و برتر ہو۔ جیسے زندگی ، عقل وقدرت اور دنیوی و آں خروی منافع و فوائد یہ سب چیزیں تو اللہ وحدئہ لا شریک کی عطا فرمودہ ہیں اس لئے اس کے بغیر اور کون ہے جسے خدا بنایا جائے۔ کیا اس عطا کرنے والے کو چھوڑ کر انکو اس نے یہ سب کچھ عطا کیا اگر ان کو رب ، رب کا شریک و سمیم اور اس کے ہاں وسیلہ و واسطہ ٹھہرا لیا تو کیا ہم نے اپنے ہی وہم کی پرستش نہ کی ؟
اللہ کی ذات بہت بلند وبالا ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں
۔ 30 فرمایا قوموں کی یہ گمراہی آج کی نہیں بلکہ بہت پرانی ہے۔ اللہ کی ذات کے متعلق ان کا تصور اس طرح دھوکا کھا جاتا ہے کہ وہ ایک ان دیکھی ذات کو دیکھنا اور ناسمجھی شے کو سمجھنا چاہتے ہیں اور یہی ان سب کی بنیادی غلطی ہے خواہ وہ نام کے لحاظ سے ہندو سکھ اور عیسائیوں کے ناموں سے متعارف ہوں یا مسلمانوں کے کسی گروہ سے اپنے آپ کو وابستہ سمجھتے ہوں اس لئے کہ انسان ہونے کے لحاظ سے تو سب انسان ہیں اور وہ ایک ہی جیسی غلطی کے بھی مرتکب ہیں جو فرق ہے وہ صرف نام کا ہے اور نام کے فرق سے کچھ نہیں ہوتا اس لئے کہ اس سے حقیقت نہیں بدل سکتی ہے۔ ایک ہی چیز کو مختلف ناموں سے پکارے جانے سے وہ چیز کبھی مختلف نہیں ہو سکتی ہے جس چیز کو آپ ” پانی “ کہتے ہیں انگریزی میں اس کو ” واٹر “ عربی میں ” ماء “ اور فارسی میں ” آب “ کہا جاتا ہے لیکن کیا ناموں کے بدل جانے سے اس کی حقیقت بھی بدل گئی ہے اور یہی صورتحال یہاں واقع ہوئی ہے ایک نے اپنے وہم و گمان میں جن کو بزرگ اور نروان و مکتی حاصل کئے ہوئے سمجھا ان کے مرنے کے بعد ان کے بت تراشے اور دوسروں نے اپنے عقیدہ کے مطابق جن کو ولی اللہ ، نجات یافتہ اور پہنچے ہوئے سمجھا ان کی قبریں اور مقبرے بنا لئے کیا ان الگ الگ صورتوں سے حقیقت بھی بدل گئی ؟ نہیں اور یقینا نہیں ، اس لئے فرمایا کہ ” پاک اور بلند ہے اس کی ذات اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔
Ayah 10:19سارے انسان ایک ہی گروہ تھے پھر وہ آپس میں اختلاف کر کے الگ الگ ہو گئے
۔ 31 ” سارے انسان من حیث الجنس ایک ہی طرح کے انسان تھے اور ایک ہی طریقہ پر تھے۔ پھر انہوں نے اختلاف کیا۔ “ قرآن کریم کے اس نظریہ میں اس بات کی پوری پوری وضاحت کردی کہ دین میں ” ارتقاء “ مطلق نہیں ہوا بلکہ اصل دین توحید ہی تھا اس کے ” ارتقاء “ کے نہیں انحطاط کے اثر سے شرک ، بت پرستی “ قبر پرستی اور شخصیت پرستی کی مختلف صورتیں ظہور میں آئیں جو لوگ دین میں ارتقاء کیقائل ہیں ان کا رداس آیت سے اور اس جیسی دوسری آیتوں سے واضح ہے۔ اب اس کی وضاحت اس طرح کی جا رہی ہے کہ چاہئے تو یہ تھا کہ جب انہوں نے حق کو قبول کرنے سے دانستہ انکار کیا اور انسانی وحدت کو کفر و الحاد کے فساد انگیز نظریات و عقائد سے پارہ پارہ کردیا تو فوراً انہیں صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا جاتا۔ نہ رہتا بانس اور نہ بجتی بانسری لیکن فطرت یا قدرت اتنی زود گیر اور تنگ مزاج نہیں کہ وہ انسان کو سوچنے سمجھنے کی کافی مہلت نہ دیتی اور فوراً اس کو خواب غفلت سے جھنجھوڑتی اور نتیجتاً اس صفحہ ہستی سے ان کو مٹا کر کر رکھ دیتی ۔ وہ لوگ جو اتنے زود رنج ہیں ان کو غور کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے اس قانون امہال پر نظر رکھنی چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا اور دین و ملت کے نام پر لوگوں نے ظلم وجور کی بنیاد رکھتے ہوئے وہ خرمستیاں کیں کہ وہ خود اور نہیں تو بہرحال دین فطرت یعنی اسلام کے دائرے سے بالکل باہر ہوگئے۔ دنیا کی تاریخ ان داستانوں سے بھری پڑی ہے۔
Ayah 10:20مشرکین کا یہ اعتراض کہ ایسا کیوں نہیں کہ پیغمبر پر کوئی نشانی اترتی
۔ 32 پیغمبر کیا ہوتا ہے ؟ مکمل اور کامل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لئے ایک معجزہ اور بہت بڑا نشان۔ جس کے مقابلے کا اور کوئی نشان اس وقت موجود نہیں ہوتا۔ پھر وہ کیوں کہتے کہ ” اگر یہ پیغمبر ہوتا تو اس پر کوئی نشانی اتری ؟ “ اسمیں کوئی بات اچنبھے کی نہیں اس لئے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارا اپنا وجود تو ہر وقت موجود ہے اور اس ہمارے اپنے وجود سے بڑا کوئی اور معجزہ نہیں ہو سکتا پھر کیا ہم اس کو معجزہ مانتے ہیں ؟ ہمارا وجود کیسے معجزہ ہے ؟ ہم اپنے وجود جیسا کوئی دوسرا انسان نہیں پیدا کرسکتے اور ساری دنیا مل کر بھی ایک ایسا انسان بنانا چاہے تو نہیں بنا سکتی تو پھر معجزہ کیا ہے ؟ یہی کہ جس کا کوئی توڑ انسانوں سے ممکن نہ ہو تو کیا اس انسان کے اپنے جسم کا کوئی توڑ موجود ہے ؟ نہیں تو پھر معجزہ ہوا یا نہیں ؟ اس لئے پیغمبر یعنی ہر نبی و رسول بذاتہ ایک بہت بڑا معجزہ ہوتا ہے کہ کسی انسان کے سامنے تہ زانو کر کے علم حاصل نہیں کرسکتا لیکن اس کے مقابلہ کا جاننے والا اس کے دور میں بلکہ سارے دور میں کبھی کوئی اور نہیں پیدا ہو سکتا جو غیر نبی ہو اور وہ علم رکھتا ہو جو اللہ نے نبی و رسول کو عطا کیا ہو اور نبی کی یہی ایک صفت ایسی ہے کہ وہ سارے عجزات سے بڑا معجزہ ہوتی ہے لیکن کیا کوئی اس کو مان لیتا ہے ؟ پھر وہ لوگ جن میں وہ نبی و رسول مبعوث ہوتا ہے لوگ اس سے عجیب عجیب مطالبے شروع کردیتے ہیں جن مطالبات کا نبوت و رسالت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور جب غیر متعلق چیزوں سے نبی و رسول معذرت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہارا مطالبہ میرے دعویٰ نبوت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تو وہ فوراً جز بز ہو کر کہنے لگتے ہیں کہ اگر تو رسول ہوتا تو ہمارا مطالبہ پورا کرتا جب وہ تو نے نہیں کیا تو ہم آپ کو نبی کیسے مان لیں ؟ مثلاً معاندین و مخالفین نیمطالبہ کیا کہ اگر اے رسول محمد رسول اللہ ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا گرا کر دکھائو۔ بتائو کہ اس مطالبے کا کوئی تعلق نبوت کے ساتھ ؟ اچھا اگر اس کا کوئی تعلق نبوت سے نہیں لیکن اس کے باوجود وہ اللہ سے دعا کرے اور اللہ آسمان سے ٹکڑا ان پر گراہی دے تو جب گرے گا تو ان کا کیا حال ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ وہ اس کے نیچے آ کر مر جائیں گے تو پھر کس سے پوچھا جائے گا کہ بتائو تم نے معجزہ دیکھا یا نہیں ؟ اس سے تو ان کا اپنا وجد ہی ختم ہو کر رہ جائے گا اس لئے قرآن کریم یہ ارشاد فرماتا ہے کہ ان بیوقوفوں کو کون سمجھائے کہ اگر تمہارے سوالوں کا جواب تم کو نقد بہ نقد دیا جائے تو تم ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتے اس لئے رب العزت تمہارے ان مطالبات کو سنتے اور جانتے ہوئے تمہاری بیوقوفیوں کے لئے تم کو ڈھیل دیئے جا رہا ہے کہ وہ اس قدر جلد باز نہیں کہ وہ تمہاری ان حجتوں سے تنگ آ کر تمہارے مقررہ وقت سے پہلے ہی تمہارا کام تمام کر دے۔ تم غور کرو گے تو حاصل کرلو گے کہ پیغمبر کی ساری زندگی تو معجزہ ہی ہوتی ہے اس کی ایک ایک بات سے خدائی روح ٹپکتی ہے اور قدم قدم پر اس کے اور عام مخلوق کے ردرمیان فرق نمایاں رہتا ہے۔
ع روئے و آواز پیمبر معجزہ ست
لیکن یہ سب کچھ اہل بصیرت کے لئے ہے باقی معاندین ، جہلاء ہر زمانہ میں مخصوص فرمائشیں کر کے فلاں فلاں متعین مادی معجزات کی طلب کرتے رہے ہیں کہ فلاں پہاڑ سونے کا ہوجائے ؟ فلاں فلاں کھاوں کا خوان آسمانوں سے نازل ہونا شروع ہوجائے اور یہ کہ رسول کے لئے کوئی سونے کا محل تیار ہو کر کھڑا ہو اس کے لئے باغات ہوں اچھا کچھ نہیں تو آسمان سے کوئی ٹکڑاہی ہم پر گر پڑے جیسا کہ وہ خود ہم کو ڈراتے ہوئے کہتا بھی ہے۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام یہ لوگ نزول عذاب کے لئے بڑی بےچینی کا اظہار کر رہے ہیں لیکن اللہ کی طرف سے آپ انہیں آگاہ کردیں کہ ان امور کا تعلق مشیت الٰہی سے ہے۔ رہی یہ بات کہ اس کا وقت کب آئے گا تو اس کے متعلق جواب آگے آ رہا ہے۔
غیب کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے ، تم انتظار کرو میں بھی انتظار میں ہوں
۔ 33 اس بات کا جواب کہ وہ کب آئے گا ؟ فرمایا آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ﷺ برملا کہہ دیں کہ یہ معاملہ تو غیب سے ہے جس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے تم بھی انتظار کرو ، میں بھی کرتا ہوں۔ جب اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا تو اس کو نازل کردیا جائے گا اگر تم نے گمراہی کے اندھیروں ہی میں بھٹکتے رہنے کا ارادہ کرلیا ہے اور حق کو قبول نہ کرنے کا عزم تمہارا پکا ہے تو یاد رکھو کہ وہ آئے گا ضرور اس لئے کہ مجھے صرف یہی اطلاع دی گئی تم انتظار کرتے رہو اور میں بھی انتظار میں ہوں۔ ذرا غور کرو تو تمہارا یہ حجاب دور ہوجائے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی بشریت و عبدیت میں کیسیکیسی کھلی نشانیاں موجود ہیں اور پھر اس پر کیوں حیرت نہ ہو کہ تم نے ان کو پس پشت ڈالے رکھنے کی قسم کھالی ہے کہ رسول کو ماننے کا دعویٰ بھی ہے اور اس کی رسالت کے پیغام کو جھٹلانے رکھنے کا عزم بھی ۔ بہرحال زیر نظر آیت پر دوبارہ نظر کرو کہ کس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کو صاف صاف یہ کہنے کی ہدایت ہو رہی ہے کہ میرا دخل کسی معجزہ کے وقوع اور عدم وقوع میں بالکل نہیں یہ معاملہ خالصتاً اللہ کے ہاتھ میں ہے پر وہ غیب سے جو کچھ بھی ظہور میں ہے جہاں تم وہیں میں۔ فرق صرف اتنا کہ مجھے اس نے یہ فرمادیا کہ ان کو اطلاع کردیں کہ وہ وقت ضرور آئے گا اور میں نے تم کو اطلاع کردی اور دوسرا فرق یہ کہ میں اس اطلاع کو سوفیصد درست تسلیم کرتا ہوں اور تم ابھیشک میں مبتلا ہو اور جب تمہارے شک کے نکلنے کا وقت آیا تو تمہیں تلاش کیا جائے گا لیکن تم سننے والے نہیں ہو گے اور یہ بات اس لئے عرض کی جا رہی ہے کہ پہلے بھی ایسا ہوچکا ہے اور کتنے قصص ہیں جن میں تم کو پڑھ سنایا جا چکا ہوں۔
Ayah 10:21اللہ تعالیٰ جب اپنی رحمت کا مزہ لوگوں کو چکھاتا ہے تو وہ کٹ حجتیاں کرنے لگتے ہیں۔
۔ 34 اس آیت میں منکرین کی مریض ذہنیت کا بیان کیا جا رہا ہے کہ ان کی تسکین تو آپ کے کسی معجزہ ، کسی نشان اور کسی آیت سے بھی نصیب نہیں ہوگی ، کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تسکین حاصل کرنا تو ان کے ارداہ ہی میں نہیں ہے ان کا مقصد تو محض ٹانگ اڑانا ہے آج ایک بات کریں گے اگر وہ پوری ہو گیتو کل دوسری بات پیش کریں گے کیونکہ انہوں نے کچھ نہ کچھ کہتے رہنے کی ٹھان لی ہوئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ہماری بات بڑی رہے اور ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے اللہ کی ذات سے کون ہے جس کی بات بڑی ہو سکے۔ یہ لوگ چھوٹی چھوٹی اور مخفی سے مخفی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے اللہ کی ذات سے کون ہے جس کی بات بڑی ہو سکے۔ یہ لوگ چھوٹی چھوٹی اور مخفی سے مخفی تدبیریں سوچتے اور بال کی کھال اتارتے رہنے کے عادی مجرم ہیں اور اس معاملہ سے یہ لوگ باز نہیں آسکتے۔ مکہ والوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ لوگ حق کو قبول کرنا چاہتے تو اس طرح کی کج بحثیاں کیوں کرتے ؟ ابھی کل کی تو بات ہے کہ یہ لوگ قحط میں مبتلا ہوئے اور کیا وہ اس وقت اپنے ان معبود ان سے مایوس نہیں ہوئے تھے ؟ ابیہ لوگ ان کی سفارشوں سیباتیں کرتے ہیں اس وقت ان کے یہ کرتے دھرتے کہاں تھے جن کے متعلق کہا کرتے تھے کہ فلاں آستانے کی نیاز تو تیر بہدف ہے اور فلاں درگاہ و خانقاہ پر چڑھاوا چڑھانے کی دیر ہے کہ مراد بر آجائے گی۔ تم نے دیکھ لیا کہ ان نام نہاد خدائوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے اور سارے اختیارات کا مالک صرف اور صرف اللہ ہے اس وجہ سے تم آخر اللہ ہی سے دعائیں مانگنے لگے تھے کیا یہ کافی نشانی نہ تھی کہ تمہیں اس تعلیم کے برحق ہونے کا یقین آجاتا ؟ مگر اس واضح نشانی کو دیکھ کر تم نے کیا کیا ؟ جونہی کہ قحط کا دور ہوا اور باران رحمت نے تمہاری مصیبت کا خاتمہ کردیا لیکن تم نے اس کے دور ہور جانے کے بعد وہی کچھ شروع کردیا جو پہلے کرتے چلے آ رہے تھے اور اس درخاست کا تم نے خوب مذاق اڑایا۔
اے مشرکین مکہ اچھی طرح سمجھ لو کہ ہم تمہاری ساری مکاریاں لکھ رہے ہیں
۔ 35 خوب سن رکھو کہ اللہ کی تدبیر یہی ہے کہ اگر تم حقیقت کو نہیں مانتے اور اس کے مطابق اپنا رویہ درست نہیں کرتے تو وہ تمہیں اس باغیانہ روش پرچلتے رہنے کی چھوٹ دے دے گا ، تم کو جیتے جی اپنے رزق اور اپنی نعمتوں سے نوازتا رہے گا جس سے تمہارا نشہ زندگانی یونہی تمہیں مست کئے رکھے گا اور اس مستی کے دوران میں جو کچھ تم کرو گے وہ سب اللہ کے فرشتے خاموشی کے ساتھ لکھتے رہیں گے حتیٰ کہ اچانک موت کا پیغام آجائے گا اور تم اپنے کرتوتوں کا حساب دینے کے لئے حاضر کردیئے جائو گے۔ اللہ کا مکر کیا ہے ؟ اس کی پوری وضاحت ہم عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سوئہ آل عمران کے حاشیہ 125 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ فرشتوں کے لکھنے سے جو ات مفہوم کرانا مقصود ہے وہ فقط یہ ہے کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ عند اللہ محفوظ ہے اور تم کو اپنے کئے کا جواب دینا ہوگا یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے جو یقینا ہو کر رہے گا۔
مادی وسائل کی فراوانی اللہ رب العزت سے کس طرح غفلت کا باعث بنتی ہے ؟
۔ 36 فرمایا جب تک دنیوی علائق و اسباب کا کوئی ادنیٰ سا سہارا بھی باقی رہتا ہے ، انسان کا وجدان بیدار نہیں ہوتا اور ایک تنکے کا بھروسہ بھی اس کے لئے کافی ہوتا ہے کہ وہ اللہ رب العزت کی طرف سے غافل ہوجائے لیکن جونہی اسباب و علائق کے رشتے ٹوٹے اور یاس و قنوط کی کامل حالت طاری ہوئی اور اس نے دیکھا کہ اب دنیا کا کوئی ہاتھ اسے بچا نہیں سکتا تو اچانک اس کا سویا ہوا وجدان بیدار ہوجاتا ہے اور خدا پرستی کا جوب اپنے سارے اخلاص کے ساتھ اس کے اندر بھر آتا ہے۔ اس وقت وہ رب کریم کے سوا اور کسی کو نہیں دیکھتا۔ اس وقت اس کے سارے رشتے ، سارے بھروسے اور ساری ہستیاں یک قلم نابود ہوجاتی ہیں وہ بےاختیار اللہ کو پکارنے لگتا ہے اور اس کی یہ پکار اس کے دل کے ایک ایک رو و ریشہ کی پکار ہوتی ہے۔ لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ پھر اس کے بعد کیا ہوتا ہے ؟ کیا اس کی یہ حالت قائم رہتی ہے ؟ نہیں جونہی اس کی ڈوبتی کشتی اچھلی اور امیدو مراد کی گم شدہ صورت واپس آئی پھر وہی اس کی غفلتیں ہوتی ہیں اور وہی سرکشیاں !
اگر تم غور کرو گے تو اس حالت کی مثالیں خود اپنی ہی زنگدی میں تمہیں مل جائیں گی۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ تم بیمار ہوئے اور اطباء نے تم کو جواب دے دیا ؟ یا کسی دوسری مصیبت میں پڑے اور دنیا کے سارے سہارے ہاتھ سے نکل گئے ؟ اگر ایسا ہوا ہے تو یاد کرو کہ اس وقت تمہاری خدا پرستی اور خدا پرستی کے اخلاص کا کیا حال تھا ؟