Ayah 17:101وَلَقَدْ اٰ تَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اِذْجَآئَ ھُمْ فَقَالَ لَہٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّکَ یٰـمُوْسٰی مَسْحُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 101)
(اور ہم نے عطا فرمائی تھیں موسیٰ (علیہ السلام) کو 9 کھلی ہوئی نشانیاں، آپ خود بنی اسرائیل سے پوچھ لیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میں تم کو ایک سحر زدہ آدمی سمجھتا ہوں۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیے گئے معجزات اور فرعون پر ان کا اثر
آیت 90 سے 93 تک ان معجزات کا ذکر گزر چکا ہے قریش جن کا مطالبہ کرتے تھے۔ یہ آیت اسی کا جواب معلوم ہوتی ہے۔ اس میں بتانا مقصود یہ ہے کہ قومیں معجزات دیکھ کر ضروری نہیں کہ ایمان کا راستہ اختیار کرلیں بلکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب وہ معجزات طلب کرتی ہیں تو ساتھ وعدہ بھی کرتی ہیں کہ ہم آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لے آئیں گے، لیکن مختلف قسم کے معجزات دیکھنے کے باوجود وہ ایمان لانے کی بجائے اسے جادو قرار دے کر مسترد کردیتی ہیں۔ نہ انھیں اپنا وعدہ یاد رہتا ہے اور نہ ان کے اندر ایمان کی طلب پیدا ہوتی ہے۔ مدت سے جو کفر ان کے اندر بس چکا ہے اسے نکالنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ فرعون کی قوم نے بھی مختلف وقتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) سے مختلف معجزات دیکھے۔ یہاں قرآن کریم نے انھیں 9 سے معدود کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کی تفسیر کے مطابق ان آیات سے معجزات ہی مراد ہیں جن کا انھوں نے اپنی تفسیر میں ذکر فرمایا ہے، وہ یہ ہیں (1) عصائے موسیٰ ، (2) یدِبیضا، اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنا ہاتھ بغل میں داخل کرکے دباتے اور جب نکالتے تو وہ سورج کی طرح چمک رہا ہوتا، اور پھر یہ چمک مستقل نہیں تھی، جب اس معجزے کے ظہور کا مقصد پورا ہوجاتا تو وہ چمک غائب ہوجاتی۔ (3) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت تھی جو دور کردی گئی، (4) بنی اسرائیل کے گزرنے کے لیے سمندر کو شق کیا گیا، (5) ٹڈی دل کا عذاب غیرمعمولی وسعت کے ساتھ بھیجا گیا، (6) طوفان آیا جس نے تباہی مچا دی، (7) فرعونیوں کے کپڑوں میں کثرت سے جوئیں پیدا کردی گئیں جس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ تھی، (8) مینڈک مسلط کردیے گئے کہ ہر کھانے پینے کی چیز میں مینڈک داخل ہوجاتے تھے، (9) خون کا عذاب بھیجا گیا، ہر کھانے اور پینے کی چیز خون آلود ہو کر رہ گئی۔
قریش سے کہا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل تمہیں مختلف قسم کے معجزات طلب کرنے پر انگیخت کرتے ہیں۔ ذرا ان سے پوچھئے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وقتاً فوقتاً یہ معجزات قوم فرعون کو دکھائے تو کیا وہ ان معجزات کو دیکھ کر ایمان لے آئی یا اس راستے پر بڑھتی چلی گئی جس کے نتیجے میں بحرقزم میں ڈوب کر فنا ہوگئی، تو کیا یہ بنی اسرائیل تمہیں بھی یہ مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی راستے پر چلتے رہو اور آخر قوم فرعون کی طرح اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوجاؤ۔
بنی اسرائیل سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون کے سامنے اپنی دعوت پیش کی اور اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور اس کے سامنے بعض معجزات کا ظہور بھی ہوا، عصائے موسیٰ کے کرشمے اس نے بار بار اپنی آنکھوں سے دیکھے، یدِ بیضا اس کے سامنے روشنی دیتا رہا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ ان سے متأثر ہو کر ایمان لے آتا، لیکن اس کے بالکل برعکس اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بدتمیزی کرتے ہوئے کہا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میرا خیال تو یہ ہے کہ تم پر جادو کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے تم عجیب و غریب باتیں کرتے ہو۔ ہم پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ قریش نے بھی آنحضرت ﷺ کے بارے میں ان لوگوں سے یہی بات کہی جو آنحضرت ﷺ کی دعوت سے متاثر ہورہے تھے کہ تم ایک ایسے آدمی کی پیروی کرنا چاہتے ہو جو سحرزدہ آدمی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون کی وہ روش جس نے بالآخر اسے تباہی کے راستے پر ڈالا قریش اسے اختیار کرچکے ہیں۔ انھیں سوچنا چاہیے کہ یہ روش انھیں کہاں تک پہنچا کے چھوڑے گی۔
ایک دوسری تفسیر
بعض مفسرین اس آیت میں مذکور تِسْعَ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍکی تفسیر ایک اور طرح سے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ایک صحیح حدیث کے مضمون سے جسے ابودائود، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے اپنی جامع میں ذکر کرنے کے بعد اسے حسن صحیح کہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیات سے مراد یہاں وہ احکامِ عامہ ہیں جو ہر نبی ( علیہ السلام) کی شریعت کی اساس ہیں۔ حدیث یہ ہے کہ حضرت صفوان بن عسال ( رض) نے کہا کہ ایک یہودی نے اپنے ایک دوست کو کہا، چلو اس نبی ﷺ کے پاس چلیں۔ اس کے دوست نے کہا کہ تم اسے اپنی زبان سے نبی ﷺ نہ کہو۔ اگر اس نے سن لیا تو بڑا خوش ہوگا۔ پس وہ دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور سوال کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو 9 آیات بینات دی گئی تھیں، وہ کیا تھیں ؟ تو حضور ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ وہ یہ ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو، (2) چوری نہ کرو، (3) زنا نہ کرو، (4) کسی کو بےگناہ قتل نہ کرو، (5) کسی بےگناہ کو حاکم کے پاس نہ لے جاؤ تاکہ وہ اسے قتل کردے، (6) جادو نہ کرو، (7) سود نہ کھائو، (8) کسی پاکدامن پر تہمت نہ لگائو، (9) جنگ کے دن میدان سے بھاگو نہیں۔ اور اے یہودیو ! تمہارے لیے خاص حکم یہ ہے کہ تم ہفتہ کے دن نافرمانی سے باز رہو۔ صفوان ( رض) کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا یہ جامع جواب سن کر انھوں نے آپ ﷺ کے دونوں مبارک ہاتھوں کو چوما اور دونوں مقدس پائوں کو بوسا دیا اور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں آپ ﷺ نبی ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمہیں میرا اتباع کرنے سے کیا چیز روکتی ہے ؟ کہنے لگے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنے رب سے یہ دعا کی تھی کہ ان کی ذریت میں ہمیشہ نبی ہوتے رہیں اور ہمیں خطرہ ہے کہ اگر ہم آپ ﷺ کا اتباع کرنے لگیں تو یہود ہمیں قتل کردیں گے۔
چونکہ یہ تفسیر صحیح حدیث سے ثابت ہے، اس لیے بہت سے مفسرین نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قریش کو جو بات سمجھانا مقصود ہے دونوں تفسیروں کے حوالوں سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انھیں کہنا یہ ہے کہ ایمان قبول نہ کرنا اور اس کو معجزات کے ساتھ مشروط کرتے چلے جانا یہ خطرناک رویہ ہے جو تمہارے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے۔ اسی طرح نبی کی تعلیمات پر کان نہ دھرنا بلکہ اس کی پر از حکمت باتوں کو سحر یا جادو کا نتیجہ قرار دینا یہ فرعون جیسے لوگوں کی سوچ رہی ہے جس کے نتیجے میں وہ تباہ ہوئے۔ تم بھی اسی سوچ کے پیچھے چل رہے ہو۔ بجائے آنحضرت ﷺ کی دعوت پر غور کرنے کے تم نے آج تک ان کی تعلیمات کا مذاق اڑایا ہے اور قرآن پاک کا سننا تمہیں گوارا نہیں۔ سوچ لو اس کا انجام وہی ہوگا جو فرعون اور آل فرعون کا ہوا۔
Ayah 17:102قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ ھٰٓؤْلَآئِ اِلاَّ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بِصَآئِرَ ج وَاِنِّیْ لَاَظُنُّکَ یٰـفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 102)
(موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ تو جانتا ہے کہ ان آیات کو نہیں اتارا، مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے آنکھیں کھول دینے کے لیے، اور میں تو تم کو اے فرعون ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کو جواب
اس آیت کریمہ کے لب و لہجہ اور تیوروں پر غور کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے نہایت جابر اور طاقتور حکمران کے سامنے کھڑے ہیں۔ اور وہ آپ ( علیہ السلام) کی توہین کرتا ہوا آپ ( علیہ السلام) کو مسحور قرار دے رہا ہے۔ بجائے اس کے کہ آپ ( علیہ السلام) اس کی حکومت اور اس کی ہیبت سے مرعوب ہوتے، آپ ( علیہ السلام) نے اسی انداز میں ترکی بہ ترکی جواب دیا، کہ اے فرعون ! میں مسحور نہیں ہوں، میں تو اللہ تعالیٰ کا رسول ( علیہ السلام) ہوں جس پر ایسی کتاب اتری ہے، جو حکمت کے خزانوں سے بھرپور ہے، جس میں انسانوں کے لیے بھلائی کے سوا کچھ نہیں۔ وہ ہماری دنیا اور آخرت کی ضامن ہے۔ مجھ سے جن معجزات کا ظہور ہورہا ہے وہ بھی درحقیقت میرے پروردگار کی قدرت کا ظہور ہے۔ میں اس کا بندہ اور رسول ﷺ ہوں۔ میں وہی کہتا ہوں جو اس کا حکم ہوتا ہے اور اگر کسی معجزے کا مجھ سے ظہور ہوتا ہے تو وہ بھی اسی کی قدرت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ذراغور کرو کہ جو اللہ تعالیٰ جیسی عظیم ذات کا نمائندہ بن کر تمہارے پاس آیا ہے وہ سحرزدہ کیسے ہوسکتا ہے۔ اور کوئی بھی سحر اور جادو اس کے معجزات پر اور اس کی تعلیمات پر کیسے اثرانداز ہوسکتا ہے۔ البتہ تم میری دعوت کے مقابلے میں اور اس کی تائید میں میرے معجزات کو دیکھ کر بھی جو رویہ اختیار کررہے ہو اس سے یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ تم ایک شامت زدہ آدمی ہو۔ تمہاری شامت نے تمہیں گھیر رکھا ہے۔ تم بالآخر ہلاکت کی نذر ہونے والے ہو، لیکن تمہاری بدنصیبی یہ ہے کہ ہلاکت تمہارے سر پر تلی کھڑی ہے اور وہ تمہیں نظر نہیں آتی، لیکن میرے معجزات تمہیں سحر نظر آتے ہیں اور میری تعلیمات پر توجہ دینے کے لیے تم تیار نہیں ہو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جو شخص بھی چاہے وہ کتنا بڑا حکمران ہو، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتا ہے، وہ اس مخالفت کے انجام سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ اس کا مقدر ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔
Ayahs 17:103–104فَاَرَادَاَنْ یَّسْتَـفِزَّھُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْـنٰـہُ وَمَنْ مَّعَہٗ جَمِیْعًا۔ وَّقُلْنَا مِنْ م بَعْدِہٖ لِبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اسْکُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآئَ وَعْدُالْاٰخِرَۃِ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیْفًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 103۔ 104)
(پس فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے، تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیا۔ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو، پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو اکٹھا کرکے لائیں گے۔ )
قریش کے لیے آئینہ
فرعون اور آل فرعون کی تمام تر سختیوں اور اذیتوں کے باوجودجب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ و دعوت کا سلسلہ نہ رکا اور آپ ( علیہ السلام) مسلسل اپنے مشن میں آگے بڑھتے رہے تو فرعون نے ارادہ کیا کہ انھیں سرزمینِ مصر سے نکال دے اور ایسی صورتحال پیدا کردے کہ ان کے پائوں اکھڑ جائیں اور وہ کسی طرح مصر میں رہنے کے قابل نہ رہیں اور ہجرت پر مجبور ہوجائیں، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو نکالنا چاہا لیکن ہم نے اس کی اس جسارت کی پاداش میں اسے اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھے بحر قزم میں غرق کردیا۔ اب ہم نے بنی اسرائیل سے یہ کہا کہ دیکھو تم پر اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا انعام ہوا ہے کہ ہم نے تمہیں فرعونیوں کے ظلم سے نجات دی ہے۔ اب تم اس زمین میں رہو، بسو۔ مراد اس سے ارض مقدس ہے جس کا بنی اسرائیل سے وعدہ تھا۔ لیکن ساتھ ہی انھیں یاد دلایا کہ اس انعام کو پانے کے بعد کہیں آخرت کے وعدے کو نہ بھول جانا۔ تمہیں اندازہ ہونا چاہیے کہ جس طرح ہم نے تمہیں وعدے کے مطابق ارض مقدس عطا کی ہے اسی طرح ہم ایک دن قیامت بپا کریں گے اور تم سب کو حشر کے میدان میں جمع کردیں گے، لیکن افسوس کہ بنی اسرائیل اس وعدے کو بھول گئے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی تاریخ میں بار بار اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوتے رہے اور آج وہ دنیا میں عبرت کا نشان ہیں۔
بنی اسرائیل کی تاریخ کا حوالہ دے کر درحقیقت قریش کو یہ بات سمجھانا ہے کہ جس طرح فر عون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سرزمینِ مصر سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کی اور اس کے نتیجے میں تباہ ہوگیا، تم بھی اسی طرح نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہو۔ تمہیں تاریخ کے اس آئینہ میں اپنا انجام دیکھنا چاہیے۔
Ayah 17:105وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰـہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ط وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 105)
(اور ہم نے اس کو حق کے ساتھ اتارا، اور یہ حق ہی کے ساتھ اترا ہے، اور ہم نے آپ ﷺ کو نہیں بھیجا مگر بشیر اور نذیر بنا کر۔ )
دعوت کے سلسلے میں آنحضرت ﷺ کی ذمہ داری
سورة بنی اسرائیل کا مرکزی مضمون یہی ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو ایک کتاب دی تھی، انھوں نے کتاب سے بےوفائی کی اور اس کے تقاضوں کو نظرانداز کیا تو تاریخ میں عبرت بن کے رہ گئے۔ اب ہم نے قرآن کریم نازل کیا جو ایک مضبوط راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس امت کی بھلائی اور کامیابی اس کتاب کا حق ادا کرنے میں ہے۔ درمیان میں ضمنی مباحث چھڑتے رہے۔ اب گفتگو کو سمیٹتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا، اور یہ حق ہی کے ساتھ اترا۔ یعنی نہ اس کے بھیجنے میں اور اتارنے میں باطل کی کوئی آمیزش ہوئی ہے اور نہ یہاں اترنے میں کہیں باطل کو قلمکاری کا موقع ملا ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ لوح محفوظ سے بیت العزت میں بھی حق کے ساتھ اتارا گیا۔ ہر طرح کی باطل کی آمیزش سے پاک۔ پھر اسی شان سے وہ زمین پر بھی آیا۔ اور وہ اپنی بیشمار خصوصیات کے باعث اپنی مثال آپ ہے۔ دشمن اس کی نظیر لانے سے اور باطل کسی بھی سطح پر اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے۔ اور وہ اپنی دلآویزی اور اثراندازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ ان خصوصیات کے باوجود اگر قریش اس کو قبول کرنے کی بجائے اس میں میں میخ نکالتے، قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کرتے، اور عجیب و غریب مطالبات کرتے ہیں، تو آپ ﷺ کو ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز پریشان نہیں ہونا چاہیے، آپ ﷺ ان لوگوں کے ایمان کے ذمہ دار نہیں، آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ ایمان لانے والوں کو بشارت سے نوازیں اور انکار کرنے والوں کو نظر انذار کریں۔ اس کے علاوہ آپ ﷺ کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ آپ ﷺ بلاوجہ اپنے آپ کو کوئی روگ لگا لیں۔
Ayah 17:106وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰـہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنٰـہُ تَنْزِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 106)
(اور قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا تاکہ آپ ﷺ اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر سنائیں اور ہم نے اس کو نہایت اہتمام سے اتارا۔ )
قرآن کے بتدریج اترنے کی حکمت
یہ ایک اعتراض کا جواب ہے جو مشرکین کی طرف سے کیا گیا لیکن انھیں یقینا بنی اسرائیل نے اس پر آمادہ کیا، کیونکہ مشرکین آسمانی کتابوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ بنی اسرائیل نے انھیں یہ بات سمجھائی کہ ہماری کتابیں تو یکبارگی نازل ہوئیں۔ اگر یہ صاحب اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ ہیں تو ان پر کتاب ایک ہی دفعہ کیوں نہیں نازل ہوئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ محنت سے یا کسی کی مدد سے جتنا حصہ تیار کرلیتے ہیں وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کہہ کر سنا دیتے ہیں، پروردگار نے اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا ہے، کیونکہ اگر ہم اسے یکبارگی مکمل کتاب کی شکل میں اتارتے تو آنحضرت ﷺ چونکہ امی ہیں اور آپ ﷺ کی امت کی غالب اکثریت بھی امی ہے تو ان کے لیے اس کتاب کو محفوظ کرنا مشکل ہوجاتا۔ حکمت کی بات بھی یہ تھی کہ تبلیغ و دعوت کے نتیجے میں جیسی جیسی ضرورتیں پیش آتی جائیں اس کے مطابق قرآن کریم کی صورت میں ہدایات ملتی رہیں۔ اور جیسے جیسے مخالفت آگے بڑھے اور اذیتیں ناقابلِ برداشت ہونے لگیں تو حضرت جبرائیل اللہ تعالیٰ کے تسلی آمیز پیغامات لے کر اتریں اور اپنی ذات میں بھی آنحضرت ﷺ کے لیے تسکین کا باعث بنیں۔ اور جو مختلف سوالات مخالفین کی طرف سے کیے جائیں تو وقت پر اس کا جواب نازل ہونے پر مخالفین کو مطمئن کیا جاسکے۔ علما نے اس سلسلے میں بہت سی مصلحتیں لکھی ہیں، لیکن اس آیت میں قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ ہم نے اس لیے تھوڑا تھوڑا قرآن کریم نازل کیا ہے کہ یہ اہتمام کا تقاضا بھی تھا اور اس کتاب کی شان کے لائق بھی۔ اور مزید یہ بات کہ تعلیم و تربیت کی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت یہ بھی تھی کہ آپ ﷺ تھوڑا تھوڑا ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کو پڑھ کر سنائیں تاکہ وہ اسے ساتھ ساتھ یاد کرتے چلے جائیں، اس سے ان کے عمل میں پختگی آئے، ایمان میں تازگی پیدا ہو اور دل میں خشیت الٰہی اترتی چلی جائے۔
Ayahs 17:107–109قُلْ اٰمِنُوْا بِہٖ اَوْلاَ تُؤْمِنُوْا ط اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖ اِذَا یُتْلٰی عَلَیْھِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا۔ وَّیَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلاً ۔ وَیَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ وَیَزِیْدُھُمْ خُشُوْعًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 107۔ 108۔ 109)
(ان سے کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لائو یا نہ لائو، بیشک وہ لوگ جنھیں اس کے پہلے سے علم دیا گیا ہے، جب یہ قرآن ان کو سنایا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرجاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا پروردگار، بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ شدنی تھا۔ اور وہ روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہیں اور یہ ان کے خشوع میں اضافہ کرتا ہے۔ )
صالحین اہل کتاب کے رویئے سے آنحضرت ﷺ کو تسلی اور قریش سے بےنیازی
قریشِ مکہ کا آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کے ساتھ جو رویہ تھا وہ ہم سابقہ آیات میں پڑھ چکے ہیں اور جس طرح انھوں نے قدم قدم پر سوالات اٹھائے، ان کا جواب بھی ہماری نظروں سے گزر چکا ہے۔ اب ان سے ایک طرح سے منہ پھیر کر آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ان کے رویئے کی پرواہ نہ کیجیے بلکہ انھیں صاف صاف کہہ دیجیے کہ تم قرآن پر ایمان لائو یا نہ لائو، تمہاری مصلحتیں اور تمہارا خبث باطن تمہارے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے تو بنتا رہے، میرے اطمینان کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اہل کتاب میں سے وہ گروہ جنھیں اللہ تعالیٰ نے عصبیت کی بیماری سے محفوظ رکھا ہے اور جو حقیقت میں صالحین کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کی حقیقی روح کو پہچان چکے ہیں ان کے سامنے جب یہ قرآن کریم پڑھا جاتا ہے تو وہ چونکہ اپنی کتابوں میں آنے والے نبی اور اس پر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں بشارتیں پڑھ چکے ہیں اور وہ عہد بھی ان کی نگاہوں میں ہے جو ہر پیغمبر ( علیہ السلام) نے اپنی امت سے اس بات کا لیا تھا کہ اگر اس کی زندگی میں وہ آخری نبی تشریف لے آئیں تو وہ ان کی مدد کرے گی۔ چناچہ وہ قرآن کریم کے آئینہ میں جب تمام پیشگوئیوں کا مصداق دیکھتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی میں وہ سراپا دیکھتے ہیں جس کی تصویر ان کی کتابوں میں کھینچی گئی ہے تو وہ یہ جان کر کہ آخری نبی تشریف لے آئے اور ان پر نازل ہونے والی وہ کتاب جو آخری بھی ہے اور سب سے عظیم بھی نازل ہوگئی تو وہ بےساختہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں ڈوب جاتے ہیں اور خود کلامی کرتے ہوئے اور یا لوگوں کو سناتے ہوئے بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ آخرالزمان نبی ﷺ کا آنا اور اس پر قرآن کریم کا نازل ہونا، یہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا اور ہمارے رب کریم کے وعدے کبھی ٹلا تو نہیں کرتے، وہ تو ہمیشہ عمل میں آکر رہتے ہیں۔ اس لیے کتنے اطمینان اور فخر کی بات ہے کہ اس وعدے کا ظہور ہوگیا۔ سرکارِ دو عالم ﷺ تشریف لے آئے اور وہ آخری کتاب آگئی جو خیرالکتب بھی ہے اور دنیا بھر میں انقلاب کا پیغام بھی۔ اور وہ جیسے جیسے قرآن کریم پڑھتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے عہد اور اس کے ایفاء کو دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اور ٹھوڑیوں کے بل زمین پر گرجاتے ہیں۔ اور یہ تصور ان کے دلوں میں جہاں احساسِ تفاخر پیدا کرتا ہے وہیں خشیت الٰہی کو بھی بڑھاتا ہے کہ کتنا عظیم ہے ہمارا رب جو کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور کتنی مہربان ہے وہ ذات جو ہماری رہنمائی اور ہدایت کے لیے ہمیشہ کتابیں اتارتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کسی کے دل پر قرآن پاک کی روح کا نزول ہوتا ہے اور وہ قرآن کی حقیقت سے آشنا ہوجاتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ کہاں اللہ تعالیٰ کی حمیدومجید ذات اور کہاں زمین پر رہنے والا انسان کے نام کا کیڑا مکوڑا، لیکن کیا ٹھکانہ ہے اس کی رحمتوں کا کہ وہ اس انسان کو اپنی رحمتوں سے کبھی الگ نہیں فرماتا۔ یہ احساس جیسے جیسے دل کی گہرائیوں میں اترتا جاتا ہے، ویسے ویسے ایک مومن کی ذات پگھلتی جاتی ہے اور اس کی آنکھیں آنسوئوں کی جھڑیاں برسانے لگتی ہیں۔ آج یہ امت جو حوادث کا شکار ہے اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اس میں رونے والوں کی کمی ہوگئی ہے۔ اب خشیت الٰہی سے دل پگھلتے نہیں اور خیرالقرون میں اسی جنسِ بیش بہا کی فراوانی تھی اور حقیقت یہی ہے کہ ؎
عطار ہو رومی ہو، رازی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بےآہ سحرگاہی
اور جب یہ دولت نصیب ہوجاتی ہے تو پھر ایک مومن بڑی اپنائیت سے کہہ سکتا ہے کہ ؎
دولتیں مل گئی ہیں آہوں کی
ایسی تیسی مرے گناہوں کی
Ayah 17:110قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِادْعُوا الرَّحْمٰنَ ط اَیًّامَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی ج وَلاَ تَجْھَرْبِصَلاَ تِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 110)
(کہہ دیجیے ! اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو، جس نام سے بھی پکارو، سب اچھے نام اسی کے ہیں اور تم اپنی نماز کو نہ زیادہ جہری کرو اور نہ بالکل ہی سِرِّی، اس کے بیچ کا راستہ اختیار کرو۔ )
آیت کا شان نزول اور مفہوم
اس آیت کے شان نزول کے ضمن میں چند واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ایک تو یہ کہ نبی کریم ﷺ اپنی دعوت میں سب سے زیادہ زور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دیتے تھے اور توحید ہی آپ ﷺ کی دعوت کا مرکزی نقطہ تھا۔ ایک روز نبی کریم ﷺ دعا میں مشغول تھے۔ ابوجہل نے سنا کہ آپ ﷺ اپنی دعا میں یا اللہ اور یارحمن کہہ کر اپنے رب کو پکار رہے ہیں تو اس نے شور مچا دیا کہ ہمیں تو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارنے سے منع کیا جاتا ہے اور خود حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ رحمن کو پکار رہے ہیں۔ چناچہ اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا کہ اللہ اور رحمن ایک ہی ذات کے دو نام ہیں اور اسی طرح اس کے اور بھی بہت اچھے اچھے نام ہیں۔ تم جس نام سے بھی پکارو اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ تمہیں یہ غلط فہمی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارا جارہا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی کو مختلف ناموں سے یاد کیا جارہا ہے۔
دوسرا قصہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز میں بلند آواز سے تلاوتِ قرآن کریم فرماتے تو مشرکین تمسخر و استہزاء کرتے اور قرآن کریم اور حضرت جبرائیل امین اور خود اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخانہ باتیں کہتے اور بعض دفعہ شور مچانا شروع کردیتے۔ اس آیت کے دوسرے حصے میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تلقین فرمائی گئی کہ آپ اپنی نمازوں میں درمیان کی راہ اختیار کریں۔ نہ بہت بلند آواز سے قرآن کریم پڑھیں تاکہ مشرکین کو شور مچانے اور گستاخیاں کرنے کا موقع نہ ملے اور نہ اتنی پست آواز سے پڑھیں کہ نماز میں شریک لوگ بھی سن نہ سکیں۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا طریقہ بھی سکھایا اور مخالف حالات میں راستہ نکالنے کی حکمت بھی بتائی۔
Ayah 17:111وَقُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 111)
(اور کہہ دیجیے کہ ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس کے نہ کوئی اولاد ہے اور نہ اس کی حکمرانی میں اس کا کوئی ساجھی ہے، اور نہ اس کو ذلت سے بچانے کے لیے کسی مددگار کی ضرورت ہے، اور اس کی بڑائی بیان کرو جیسا کہ اس کا حق ہے۔ )
حضرت انس ( رض) فرماتے ہیں کہ بنی عبدالمطلب میں جب کوئی بچہ زبان کھولنے کے قابل ہوجاتا تو اس کو آپ ﷺ یہ آیت سکھا نے کی ترغیب دیتے تھے۔
اتمامِ حجت اور اعلانِ حق
حضرت ابوہریرہ ( رض) فرماتے ہیں کہ ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باہر نکلا، اس طرح کہ میرا ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھا۔ آپ ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو بہت شکستہ حال اور پریشان تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ تمہارا یہ حال کیسے ہوگیا ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ بیماری اور تنگدستی نے مجھے اس حال کو پہنچا دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں چند کلمات بتاتا ہوں، وہ پڑھو گے تو تمہاری بیماری اور تنگدستی جاتی رہے گی۔ وہ کلمات یہ تھے، تَوَکَّلْتُ عَلٰی الْحَیِّ الَّذِیْ لاَیَمُوْتُ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الِّذْیْ اِلٰی آخرالایہ۔
یہ آخری آیت ایک طرح سے مشرکین پر اتمامِ حجت بھی ہے اور ان کے تمام عقائدباطلہ کے مقابلے میں اعلانِ حق بھی، کہ مشرکین کچھ بھی کہتے رہیں، آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیں کہ میں تمہارے سامنے توحیدِ کامل کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ اس میں اس بات کے لیے کوئی گنجائش نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے، کیونکہ اولاد کی ضرورت زوال پذیر شخصیتوں کو ہوتی ہے جو اس بات کا اندیشہ رکھیں کہ بڑھاپے میں ہمیں کون سنبھالے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی احتیاج سے پاک ہے، اس کی ذات کے لیے کبھی زوال نہیں۔ وہ حیی اور قیوم ہے، اس کی بادشاہی میں کوئی ساجھی اور شریک نہیں، پوری کائنات کا نظام اس کے احکام سے چل رہا ہے، کائنات کا ایک ایک ذرہ اس سے زندگی اور زندگی کے قیام کی بھیک مانگتا ہے۔ اسے شریک کی ضرورت تب ہوسکتی ہے جب اسے کائنات کے کسی گوشے میں اپنی حکومت اور نگرانی میں کمزوری کا اندیشہ ہو۔ وہ ایسے ہر اندیشے سے پاک ہے۔ کائنات کی ہر مخلوق اس کے خوان نعمت سے فیض پا رہی ہے۔ اس کے سامنے کائنات کا بڑے سے بڑا کُرّہ کمزوروں کی طرح تعمیل احکام کررہا ہے۔ انسانوں اور باقی مخلوقات کی بڑائی اسی میں ہے کہ تم سب مل کر اس کی کبریائی کے نغمے گائو اور اپنے قلب و دماغ میں اس کی کبریائی کو راسخ کرلو اور دنیا کے علم و دانش پر یہ بات واضح کردو کہ دنیا کی تمام ابتری کا علاج صرف اس بات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور اس کی کبریائی کو تسلیم کیا جائے اور زندگی کے ہر شعبے میں اس کو بنیادی اصول تسلیم کرکے زندگی کی تعمیر کی جائے۔