17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsروح القرآن

Ayahs 17:4–5

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فسادِ عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھائو گے۔

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پھر جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع آیا تو ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنی ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے، یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔

وَقَضَیْنَـآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُـفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا۔ فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ اُوْلٰـھُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّـنَـآ اُوْلِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ ط وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 4۔ 5) (اور ہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فسادِ عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھائو گے۔ پھر جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع آیا تو ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنی ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے، یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ ( بنی اسرائیل کی تاریخ اور درس عبرت عربی زبان میں قَضَیْنَـآکے ساتھ جب اِلیٰ کا صلہ آتا ہے تو وہاں اس سے پہلے ابلغنا یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا تھا کہ جب تمہارے اندر فساد ایک خاص حد تک پہنچ جائے گا اور اس وقت کے انبیائے اکرام تمہیں وارننگ بھی دیں گے تو اس کے بعد تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ضرور آئے گا۔ اور یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ ایسا دو دفعہ ہوگا جب تم اللہ تعالیٰ کے سامنے بغاوت اور سرکشی اختیار کرو گے۔ چناچہ جب ہم پہلے صحف آسمانی میں وہ تفصیلات پڑھتے ہیں جو بنی اسرائیل کے انبیائے اکرام نے ان پر تنقید کرتے ہوئے ذکر فرمائی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی قابل ذکر ایسی برائی نہیں تھی جو بنی اسرائیل میں پیدا نہ ہوچکی تھی۔ انھیں پڑھ کر جہاں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے فساد کے نوعیت کیا تھی، وہیں ہمیں خود اپنا جائزہ لینے کا بھی موقع مل سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے معاملات سارے انسانوں اور تمام امتوں سے مستقل اصولوں پر مبنی ہیں ‘ اس کی کسی سے رشتہ داری نہیں ‘ جو امت بھی وہی رویہ اختیار کرے گی جس کی پاداش میں کسی امت پر عذاب آچکا تو پھر اسے عذاب سے بےفکر نہیں ہونا چاہیے۔ سب سے زیادہ زور تو اس بات پر دیا گیا ہے کہ دوسری قوموں کے ساتھ مل کر انھوں نے وہ تمام قسم کا شرک اختیار کرلیا جو دوسری قوموں میں پایا جاتا تھا۔ بت پرستی کی ‘ بعل پرستی کی ‘ عجل پرستی میں مبتلا ہوئے ‘ مختلف دیویوں کی پوجا کی اور ان کی پرستش ان کے لیے عبادت بن گئی۔ اور قدم قدم پر اللہ کے احکام سے سرکشی کا رویہ اختیار کیا۔ حقوق العباد کا احترام اٹھتا چلا گیا ‘ رشوت عام ہوگئی ‘ یتیموں اور بیوائوں کا مال کھانا ان کے لیے ایک محبوب مشغلہ بن گیا ‘ غریبوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا ‘ شروع میں اللہ کی شریعت سے انحراف پیدا ہوا جو بڑھتے بڑھتے انکار تک جا پہنچا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عقیدے کی خرابی کے ساتھ ساتھ معاملات کی تمام خرابیاں ان کے اندر پیدا ہوگئیں ‘ ہوسِ زر نے مختلف طریقے ایجاد کیے اور زندگی کا بگاڑ بڑھتا چلا گیا ‘ بدکاری اور عیاشی ان میں عام ہوگئی ‘ بےحیائی ثقافت کا حصہ بن گئی ‘ دوسری قوموں کی تہذیب انکے یہاں عزیز ہوگئی اور اس کی نقل اتارنا فیشن بن گیا۔ ان کے معاشی معاملات میں سود کو رفتہ رفتہ اہمیت ملتی چلی گئی ‘ جب کہ سود ان پر حرام کیا گیا تھا۔ اس پر انبیائِ کرام نے بار بار انھیں ٹوکا ‘ جھنجھوڑا ‘ لیکن انھیں جب بھی موقع ملا انھوں نے انبیا کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا بنیادی جرم جس کا ذکر آسمانی کتابیں کرتی ہیں وہ اللہ کی شریعت کی نافرمانی ‘ اللہ کے احکام کو توڑنا ‘ پیغمبروں سے دشمنی ‘ انھیں قتل تک کرنے کی کوشش کرنا ‘ کمزوروں پر ظلم اور عیاشی اور بدکاری تھی۔ اور ہوس زر کو زندگی کا مقصد بنا کر تمام حرام ذرائع کا اختیار کرنا تھا۔ ان بد اعمالیوں کے باعث ان پر اللہ کا عذاب ٹوٹا۔ یہاں رک کر ذرا غور کر لیجیے کہیں یہ ساری خرابیاں اس امت میں تو در نہیں آئیں۔ پہلی دفعہ جب ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا برسا تو وہ آشوریوں اور اہل بابل کی طرف سے آنے والی وہ تباہی تھی جس نے انھیں کھیل کھیل کر کے رکھ دیا۔ اس سے پہلے کہ ہم نہایت اختصار سے اس کی کچھ تفصیل عرض کریں، یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی طرف سے جس فساد کے برپا کرنے اور پھر اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے عذاب کا جو ذکر فرمایا ہے، بائبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں آج بھی اس کی تفصیلات موجود ہیں۔ صاف صاف بتایا گیا ہے کہ تم پر یہ تباہی آنے والی ہے لیکن قومیں جب بگڑتی ہیں تو وہ اپنے خیرخواہوں کی بات پر بھی کان دھرنا پسند نہیں کرتیں۔ اس سلسلے میں عبارتیں نقل کرنا تو بہت طوالت کا باعث ہوگا البتہ ہم حوالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ پہلے فساد پر سب سے پہلے تنبیہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے کی۔ زبور، باب 106، آیات 24۔ 41، پھر جب یہ فسادِ عظیم رونما ہوگیا تو اس کے نتیجے میں آنے والی تباہی کی خبر حضرت یسعیانبی نے اپنے صحیفے میں مندرجہ ذیل ابواب میں دی۔ باب 1، آیت 4۔ 5… باب 1، آیت 21۔ 24… باب 2، آیت 6۔ 8… باب 3، آیت 16۔ 26، اسی طرح اور بہت سے ابواب میں یہ تنبیہات ملتی ہیں۔ پیغمبر ( علیہ السلام) نہایت دلسوزی سے اپنی قوم کی بداعمالیوں کا نہ صرف نوحہ پڑھتے ہیں بلکہ انھیں برے انجام سے ڈراتے بھی ہیں، لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ پھر عین وقت پر حزقی ایل نبی اٹھے اور انھوں نے یروشلم کو خطاب کرتے ہوئے کہا ” اے شہر تو اپنے اندر خونریزی کرتا ہے تاکہ تیرا وقت آجائے اور تو اپنے لیے بت بناتا ہے تاکہ تجھے ناپاک کریں۔ دیکھ اسرائیل کے امراء سب کے سب جو تجھ میں ہیں مقدور بھر خونریزی پر مستعد تھے۔ تیرے اندر انھوں نے ماں باپ کو حقیر جانا، تیرے اندر انھوں نے پردیسیوں پر ظلم کیا، تیرے اندر انھوں نے یتیموں اور حیوانوں پر ستم کیا، تو نے میری پاک چیزوں کو ناپاک جانا اور میرے سبتوں کو ناپاک کیا، تیرے اندر وہ ہیں جو چغل خوری کرکے خون کرواتے ہیں، تیرے اندر وہ ہیں جو بتوں کی قربانی سے کھاتے ہیں، تیرے اندر وہ ہیں جو فسق و فجور کرتے ہیں، تیرے اندر وہ بھی ہیں جنھوں نے اپنے رب کی حرم شکنی کی، تجھ میں انھوں نے اس عورت سے جو ناپاکی کی حالت میں تھی مباشرت کی، کسی نے دوسرے کی بیوی سے بدکاری کی، کسی نے اپنی بہو سے بدذاتی کی، کسی نے اپنے بہن، اپنے باپ کی بیٹی کو تیرے اندر رسوا کیا، تیرے اندر انھوں نے خونریزی کے لیے رشوت خواری کی، تو نے بیاج اور سود کیا اور ظلم کرکے اپنے پڑوسی کو لوٹا، مجھے فراموش کیا، کیا تیرے ہاتھوں میں زور ہوگا، جب میں تیرا معاملہ فیصل کروں گا… ہاں میں تجھ کو قوموں میں تتربتر کروں گا اور تیری گندگی تجھ میں سے نابود کردوں گا اور تو قوموں کے سامنے اپنے آپ میں ناپاک ٹھہرے گا اور معلوم کرے گا کہ میں خداوند ہوں۔ (باب 22، آیت 3۔ 16) یہ تھیں وہ تنبیہات جو بنی اسرائیل کو پہلے فسادِ عظیم کے موقع پر کی گئیں۔ پھر دوسرے فسادِ عظیم اور اس کے ہولناک نتائج پر حضرت مسیح (علیہ السلام) نے ان کو خبردار کیا۔ متی باب 23 میں حضرت مسیح کا ایک مفصل خطبہ درج ہے، وہ اپنی قوم کے شدید اخلاقی زوال پر تنقید کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔ ” اے یروشلم ! اے یروشلم ! تو جو نبیوں کو قتل کرتا اور جو تیرے پاس بھیجے گئے ان کو سنگسار کرتا ہے، کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کرلیتی ہے، اسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کرلوں، مگر تو نے نہ چاہا۔ دیکھو تمہارا گھر، تمہارے لیے ویران چھوڑا جاتا ہے۔ (آیت 37۔ 38) پھر جب رومی حکومت کے اہلکار حضرت مسیح (علیہ السلام) کو صلیب دینے کے لیے لے جارہے تھے اور لوگوں کی ایک بھیڑ جن میں عورتیں بھی تھیں روتی پیٹتی ان کے پیچھے جارہی تھیں تو انھوں نے آخری خطاب کرتے ہوئے مجموعہ سے فرمایا : اے یروشلم کی بیٹیو ! میرے لیے نہ روئو بلکہ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے روئو، کیونکہ دیکھو، وہ دن آتے ہیں جب کہیں گے کہ مبارک ہیں بانجھیں اور وہ پیٹ جو نہ جنے اور چھاتیاں جنھوں نے دودھ نہ پلایا، اس وقت تو پہاڑوں سے کہنا شروع کریں گے کہ ہم پر گر پڑو اور ٹیلوں سے کہ ہمیں چھپالو۔ (لوقا، باب 23 آیت 28۔ 30) اب ہم اشوریوں اور اہل بابل کی طرف سے آنے والی تباہی کی کچھ تفصیلات عرض کرتے ہیں۔ تورات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ کے سے بنی اسرائیل کو ہدایات دی گئی تھیں اور انھیں صاف صاف کہا گیا تھا کہ تم فلسطین فتح کرنے کے بعد دوسرے قوموں کے ساتھ رہنے ‘ بسنے اور ان کی اخلاقی و اعتقادی خرابیوں میں مبتلا ہونے سے پرہیز کرنا۔ لیکن بنی سرائیل جب فلسطین میں داخل ہوئے تو وہ اس ہدایت کو بھول گئے انھوں نے کوئی اپنی متحدہ سلطنت قائم نہ کی۔ وہ قبائلی عصبیت میں مبتلا تھے اور ان کے ہر قبیلے نے اس بات کو پسند کیا کہ مفتوحہ علاقے کا ایک حصہ لے کر الگ ہوجائیں۔ اس تفرقے کی وجہ سے ان کا کوئی قبیلہ بھی اتنا طاقتور نہ بن سکا کہ اپنے علاقے کو مشرکین سے پوری طرح پاک کردیتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان قوموں کے ذریعے سے ان کے اندر شرک داخل ہوگیا اور اس کے ساتھ بتدریج دوسری اخلاقی گندگیاں راہ پانے لگیں۔ دوسری خرابی یہ پیدا ہوئی کہ جن قوموں کی شہری ریاستیں انھوں نے چھوڑ دی تھیں اور انھوں نے اور فلسطنیوں نے جن کا پورا علاقہ غیر مغلوب رہ گیا تھا ‘ بنی اسرائیل کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کرلیا اور پے در پے حملے کر کے فلسطین کے بڑے حصے سے ان کو بیدخل کردیا حتیٰ کہ ان سے تابوتِ سکینہ بھی چھین کے لے گئے۔ آخر کار بنی اسرائیل کو ایک فرمانروا کے تحت اپنی ایک متحدہ سلطنت قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور ان کی درخواست پر حضرت سموئیل نبی نے 1020 قبل مسیح میں طالوت کو ان کا بادشاہ بنایا ( سورة بقرہ میں اس کی تفصیل موجود ہے) اس متحدہ سلطنت کے تین فرمانروا ہوئے۔ طالوت ‘ حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) ۔ ان فرمانروائوں نے اس کام کو مکمل کیا جسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نامکمل چھوڑ دیا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل پر دنیا پرستی کا پھر شدید غلبہ ہوا اور انہوں نے آپس میں لڑ کردو الگ الگ سلطنتیں قائم کرلیں۔ شمالی فلسطین اور شرق اردن میں سلطنتِ اسرائیل ‘ جس کا پایہ تخت آخر کار سامریہ قرار پایا۔ اور جنوبی فلسطین اور ادوم کے علاقے میں سلطنت یہودیہ جس کا پایہ تخت یروشلم رہا۔ ان دونوں سلطنتوں میں سخت رقابت اور کشمکش اول روز سے شروع ہوگئی اور آخر تک رہی۔ ان میں سے اسرائیل ریاست کے فرمانروا اور باشندے ہمسایہ قوموں کے مشرکانہ عقائد اور اخلاقی فساد سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متأثر ہوئے۔ حضرت الیاس اور حضرت یسع (علیہم السلام) نے اس سیلاب کو روکنے کی انتہائی کوشش کی مگر یہ قوم جس تنزل کی طرف جا رہی تھی اس سے باز نہ آئی۔ آخر کار اللہ کا غضب اشوریوں کی شکل میں دولت اسرائیل کی طرف متوجہ ہوا اور نویں صدی قبل مسیح سے فلسطین پر اشوری فاتحین کے مسلسل حملے شروع ہوگئے۔ اس پر مختلف انبیائِ کرام نے بار بار اپنی قوم کو متحد ہونے اور اپنی اصلاح کرنے پر اکسایا اور تبلیغ و دعوت کا حق ادا کیا ‘ مگر جس غفلت کے نشے میں وہ سرشار تھے وہ تنبیہہ کی ترشی سے اور زیادہ تیز ہوگیا۔ یہاں تک کہ عاموس نبی کو شاہ اسرائیل نے ملک سے نکل جانے اور نبوت بند کردینے کا نوٹس دے دیا۔ اس کے بعد کوئی زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ خدا کا عذاب اسرائیلی سلطنت اور اس کی باشندوں پر ٹوٹ پڑا۔ 721 قبل مسیح میں اشور کے سخت گیر فرمانروا سارگون نے سامریہ کو فتح کر کے دولت اسرائیل کا خاتمہ کردیا۔ ہزارہا اسرائیلی تہِ تیخ کیے گئے 27 ہزار سے زیادہ با اثر اسرائیلیوں کو ملک سے نکال کر اشوری سلطنت کے مشرقی اضلاع میں تتربتر کردیا گیا۔ اور دوسرے علاقوں سے لا کر غیر قوموں کو اسرائیل کے علاقے میں بسایا گیا۔ جن کے درمیان رہ بس کر بچا کھچا اسرائیلی عنصر بھی اپنی قومی تہذیب سے روز بروز بیگانہ ہوتا چلا گیا۔ بنی اسرائیل کی دوسری ریاست جو یہودیہ کے نام سے جنوبی فلسطین میں قائم ہوئی ‘ وہ بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد بہت جلدی شرک اور بدا خلاقی میں مبتلا ہوگئی۔ مگر نسبتاً اس کا اعتقادی اور اخلاقی زوال دولت اسرائیل کی بہ نسبت سست رفتار تھا۔ اس لیے اس کو مہلت بھی زیادہ دی گئی۔ آخر کار 598 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم سمیت پوری دولت اسرائیل کو مسخر کرلیا اور یہودیہ کا بادشاہ اس کے پاس قیدی بن کر رہا۔ یہودیوں کی بد اعمالیوں کا اسلسلہ اس پر بھی ختم نہ ہوا۔ آخر 587 قبل مسیح میں بخت نصر نے ایک سخت حملہ کر کے یہودیہ کے تمام بڑے چھوٹے شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو اس طرح پیوندِ خاک کیا گیا کہ اس کی ایک دیوار بھی اپنی جگہ کھڑی نہ رہی۔ یہودیوں کی بہت بڑی تعداد کو ان کے علاقے سے نکال کر ملک ملک میں تتر بتر کردیا گیا اور جو یہودی اپنے علاقے میں رہ گئے وہ بھی ہمسایہ قوموں کے ہاتھوں بری طرح پامال ہو کر رہ گئے۔ یہ تھا وہ پہلا فساد اور پہلا عذاب جس کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے۔
Ayah 17:6

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔

ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْھِمْ وَاَمْدَدْنٰـکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَجَعَلْنٰـکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا۔ اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْقف وَاِنْ اَسَاْ تُمْ فَلَھَا ط فَاِذَا جَآئَ وَعْدُالْاٰخِرَۃِ لِیَسُوْٓئٗ ا وُجُوْھَکُمْ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّلِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 6۔ 7) (پھر ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ اگر تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کردیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کرکے رکھ دیں۔ ) یہود کی تاریخ کا دوسرا دور اس آیت کریمہ میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کو پھر سنبھلنے کا موقع دیا۔ اسرائیل نام کی سلطنت کے لوگ تو اپنے اخلاقی و اعتقادی زوال کی پستیوں میں گرنے کے بعد پھر نہ اٹھے ‘ مگر یہودیہ کے باشندوں میں ایک بقیہ ایسا موجود تھا جو خیر پر قائم اور خیر کی دعوت دینے والا تھا ‘ اس نے لوگوں میں اصلاح کا کام جاری رکھا۔ آخر رحمت الٰہی مددگار ہوئی ‘ بابل کی سلطنت کو زوال آیا ‘ 539 قبل مسیح میں ایرانی فاتح سائرس نے بابل کو فتح کیا اور اس کے دوسرے سال اس نے بنی اسرائیل کو اپنے وطن واپس جانے اور دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دے دی۔ پھر حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ایک فرمان کے ذریعے مجاز کیا گیا کہ وہ اپنے علاقے میں دین کا کام کریں اور حاکموں اور قاضیوں کو مقرر کرائیں۔ حضرت عزیر نے اس سے فائدہ اٹھا کر دین موسیٰ کی تجدید کا بہت بڑا کام انجام دیا۔ بائبل کی کتب خمسہ کو جن میں تورات ہے مرتب کر کے شائع کیا۔ ایرانی سلطنت کے زوال کے بعد اور سکندرِ اعظم کی فتوحات کے نتیجے میں ان کے لیے پھر دشواریاں پیدا ہوئیں۔ سکندر کی وفات کے بعد اس کی سلطنت جن تین سلطنتوں میں تقسیم ہوئی تھی ان میں سے شام کا علاقہ اس سلوقی سلطنت کے حصے میں آیا جس کا پایہ تخت انطاکیہ تھا اور اس کے فرمانروا انٹیوکس ثالث نے 198 قبل مسیح میں فلسطین پر قبضہ کرلیا۔ یونانی فاتح جو مذہباً مشرک اور اخلاقاً اباحیت پسند تھے، یہودی مذہب اور تہذیب کو سخت ناگوار محسوس کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 175 قبل مسیح میں انٹیوکس چہارم جب تخت نشیں ہوا تو اس نے پوری جابرانہ طاقت سے کام لے کر یہودی مذہب اور تہذیب کی بیخ کنی کرنی چاہی۔ چناچہ اس کی تمام سختیوں کے باوجود یہودی اس سے مغلوب نہ ہوئے اور ان کے اندر ایک زبردست تحریک اٹھی جو تاریخ میں مکابی بغاوت کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کی پھونکی ہوئی روح دینداری نے اپنا اثر دکھایا کہ یہودیوں کی اکثریت مکابیوں کے ساتھ ہوگئی اور آخرکار انھوں نے یونانیوں کو ملک سے نکال کر اپنی ایک آزاد دینی ریاست قائم کرلی جو 67 قبل مسیح تک قائم رہی۔ یہ ایک طویل عرصہ ہے جس میں قدرت ان کے شامل حال رہی ‘ لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کے اندر وہی پرانی عادتیں عود کر آئیں۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کا اخلاقی و دینی اثر کمزور ہونے لگا ‘ آخر ان کے درمیان پھوٹ پڑگئی اور انھوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دی۔ چناچہ پومپی 63 قبل مسیح میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کردیا۔ لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم و نسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے ذریعے سے بالواسطہ اپنا کام نکلوانا زیادہ پسند کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے فلسطین میں اپنے زیرسایہ ایک دیسی ریاست قائم کردی جو بالآخر 40 قبل مسیح میں ایک ہوشیار یہودی ہیرود نامی کے قبضہ میں آئی۔ اس کی ریاست 4 قبل مسیح تک باقی رہی۔ آخر یہ ریاست تین حصوں میں تقسیم ہوگئی جو اس کے تین بیٹوں کے حصے میں آئی۔ 41 عیسوی میں ہیرود اعظم کے پوتے کو رومیوں نے ان تمام علاقوں کا فرمانروا بنادیا جن پر ہیروداعظم اپنے زمانے میں حکمران تھا۔ اس شخص نے برسراقتدار آنے کے بعد مسیح (علیہ السلام) کے پیروئوں پر مظالم کی انتہا کردی اور اپنا پورا زور خدا ترسی اور اصلاحِ اخلاق کی اس تحریک کو کچلنے میں صرف کر ڈالا جو حواریوں کی رہنمائی میں چل رہی تھی۔ چند ہی سالوں کے بعد حالات نے کروٹ لی اور یہودیوں اور رومیوں کے درمیان سخت کشمکش شروع ہوگئی۔ یہودیوں نے نہ جانے اپنی طاقت کا کیا اندازہ لگایا کہ 64 ء اور 66 ء کے درمیان کھلی بغاوت کردی، تو رومی سلطنت نے ‘ ایک سخت فوجی کاروائی سے اس بغاوت کو کچل ڈالا اور 70 ء میں ٹیٹس نے بزور شمشیر یروشلم کو فتح کرلیا۔ اس موقع پر قتل عام میں ایک لاکھ 33 ہزار آدمی مارے گئے۔ 67 ہزار آدمی گرفتار کر کے غلام بنائے گئے ‘ ہزار ہا آدمی پکڑ پکڑ کر مصری کانوں میں کام کرنے کے لیے بھیج دیے گئے ‘ ہزاروں آدمیوں کو پکڑ کر مختلف شہروں میں بھیجا گیا تاکہ ان کو جنگلی جانوروں سے پھڑوانے ‘ یا شمشیر زنوں کے کھیل کا تختہ مشق بننے کے لیے استعمال کیا جائے۔ تمام دراز قامت اور حسین لڑکیاں فاتحین کے لیے چن لی گئیں اور یروشلم کے شہر اور ہیکل کو مسمار کر کے پیوند خاک کردیا گیا۔ اس کے بعد فلسطین سے یہودی اثر و اقتدار ایسا مٹا کہ دو ہزار برس تک اس کو پھر سر اٹھانے کا موقع نہ ملا اور یروشلم کا ہیکل مقدس پھر کبھی تعمیر نہ ہوسکا۔ یہ تھی وہ سزا جو بنی اسرائیل کو دوسرے فسادِ عظیم کی پاداش میں ملی۔
Ayahs 17:7–8

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کردیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کرکے رکھ دیں۔

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

ممکن ہے تمہارا رب تم پر رحم کرے لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی اپنی سزا کا اعادہ کریں گے اور کافرِنعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قیدخانہ بنا رکھا ہے۔

عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ ج وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا م وَجَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ خَصِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 8) (ممکن ہے تمہارا رب تم پر رحم کرے لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی اپنی سزا کا اعادہ کریں گے اور کافرِنعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قیدخانہ بنا رکھا ہے۔ ) بنی اسرائیل کے لیے آخری موقعہ اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت تمہارے لیے ایک آخری موقع ہے۔ اگر تم نے اس سے فائدہ اٹھایا تو عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے، لیکن اگر تم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا یعنی اللہ تعالیٰ کے آخری رسول پر ایمان لانے کی سعادت حاصل نہ کی تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب دوبارہ بھی حرکت میں آسکتا ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہود کی ایک مختصر تعداد کے سوا اس موقع سے فائدہ اٹھانا تو دور کی بات ہے۔ انھوں نے اس کی دشمنی پر کمر باندھ لی اور یہ عہد کرلیا کہ ہم جیتے جی آنحضرت ﷺ کی بات چلنے نہیں دیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے وارننگ کے مطابق انھیں اس طرح ازسرنو سزا دی کہ قبیلہ بنی قینقاع اور قبیلہ بنونضیر جلاوطن کیے گئے اور انھوں نے خیبر میں جا کر پناہ لی اور پھر نبی کریم ﷺ کی ہدایت کے مطابق انھیں خیبر سے بھی نکال دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ جزیرہ عرب کے باہر جا کر پناہ ڈھونڈو۔ البتہ بنو قریظہ 5 ہجری تک مدینہ منورہ میں رہے لیکن پھر جنگ خندق میں انتہائی خطرناک عہد شکنی کے نتیجے میں قتل کیے گئے۔
Ayahs 17:9–10

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ اور وہ بشارت دیتا ہے ان ایمان لانے والوں کو جو صالح اعمال کرے، بیشک ان کے لیے بڑا اجر ہے۔

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور بیشک جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انھیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ وَیُبَشِّرُالْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا۔ وَّاَنَّ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ اَعْتَدْنَالَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 9۔ 10) (حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ اور وہ بشارت دیتا ہے ان ایمان لانے والوں کو جو صالح اعمال کرے، بیشک ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ اور بیشک جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انھیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ) امتِ مسلمہ کی قسمت قرآن کریم سے وابستہ ہے امتِ مسلمہ سے پہلے وہ امت جس کے سر پر امامت کا تاج رکھا گیا اور دنیا کی قیادت اس کے سپرد کی گئی وہ امت بنی اسرائیل تھی جن کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسا جلیل القدر پیغمبر ( علیہ السلام) بھیجا اور تورات جیسی کتاب اتاری اور ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ تورات اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سنت بنی اسرائیل کے لیے رہنمائی کا حقیقی ماخذ ہیں۔ دیکھنا ان کی طرف سے غفلت نہ برتنا اور اللہ تعالیٰ کی ذات تمہارے لیے وکیل، کارساز، جائے پناہ، قوت کا سرچشمہ اور ماویٰ وملجا ہے۔ اس کے سوا کسی اور کو وکیل نہ بنانا۔ رہنمائی بھی اسی سے لینا اور بھروسہ بھی اسی پر کرنا۔ سر بھی اسی کے سامنے جھکانا اور اطاعت بھی اسی کی کرنا۔ جب تک تم اس روش کے پابند رہو گے اور اس عہد کو مضبوطی سے تھامے رہو گے، اس وقت تک دنیا کی کوئی قوم تم پر غالب نہیں آسکے گی اور تم ہی سربلند رہو گے۔ لیکن اگر تم نے کتاب و سنت کو پس پشت ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ کے عہد سے روگردانی کی تو پھر دنیا کی قوموں کے ہاتھوں بار بار تمہیں سزا دلوائی جائے گی۔ لیکن اس کے بعد بنی اسرائیل نے جو کچھ کیا، قرآن کریم نے اس کی طرف اشارے کیے اور بائبل نے اس کہانی کو تفصیل سے اپنے صفحات پر پھیلایا اور ان کے رویئے کی پاداش میں جو سزائیں ان پر مسلط ہوتی رہیں اس کی پوری تفصیل تاریخ کے حوالے کردی۔ پروردگار نے اس کا حوالہ دے کر ارشاد فرمایا کہ جس طرح بنی اسرائیل کی تاریخ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ اور تورات کی تعلیم سے شروع ہوئی تھی اسی طرح امت مسلمہ کی تاریخ بھی نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ اور اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب یعنی قرآن کریم سے شروع ہورہی ہے۔ اب قیامت تک انسانوں کی بھلائی اور اقدارِ انسانیت کی بقا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا دارومدار انہی دونوں سرچشموں پر ہے۔ اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل، مشرکینِ مکہ اور تمام دنیا کو دعوت دی جارہی ہے کہ اہل دنیا نے زندگی گزارنے کے لیے مختلف راستے تجویز کر رکھے ہیں اور مختلف پگڈنڈیاں بنا رکھی ہیں، لیکن انسانی تجربے نے ثابت کردیا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی صراط مستقیم نہیں، ان میں سے کوئی بھی ایسا راستہ نہیں جو اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا ہو۔ ان پر چلنے والے پیچ در پیچ وادیوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ اس لیے کہ رہنمائی کے لیے جو کتابیں آسمانوں سے اتریں وہ وقت کے ساتھ ساتھ تحریف اور ترمیم کی نذر ہوگئیں۔ بہت ساری کتابیں تاریخ کی دھول میں گم ہوگئیں اور جن کے محفوظ ہونے کا دعویٰ ہے، وہ حفاظت کے معیار پر پوری نہیں اترتیں اور جہاں تک انسانی کاوشوں کا تعلق ہے، وہ انسان کے اجتماعی ضمیر تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ کتاب اپنے آخری رسول پر اتاری ہے جو قیامت تک باقی رہے گی اور جس کی تازگی اور شادابی پر کبھی کہنگی طاری نہیں ہوگی، جس کی رہنمائی کبھی نارسائی کا شکار نہیں ہوگی، جو انسانیت کی پیاس بجھانے کے لیے کبھی کم مائیگی کا شکار نہیں ہوگی بلکہ وقت جیسے جیسے آگے بڑھتا جارہا ہے اور نئے نئے مسائل پیدا ہوتے جارہے ہیں، قرآن حکیم کی ضرورت بھی بڑھتی جارہی ہے۔ کسی شاعر نے ٹھیک کہا ؎ یہ بزم آب و گل جتنی کہ برہم ہوتی جاتی ہے محمد کی شریعت اور محکم ہوتی جاتی ہے یہ کتاب نہایت ذمہ داری کے ساتھ اپنے ماننے والوں کو ضمانت دیتی ہے کہ تم اگر اس کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارو تو تمہاری یہ حیات، حیاتِ طیبہ بن جائے گی اور تمہاری آخرت بھی سدھر جائے گی اور ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کرتی ہے کہ جو اس کتاب کے دیے ہوئے بنیادی تصور یعنی آخرت میں جوابدہی کو ماننے سے انکار کریں گے، ان کی دنیا بھی ہمیشہ مسائل کا شکار رہے گی اور آخرت میں انھیں جہنم کے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

(اور انسان برائی کا اس طرح طالب بنتا ہے جس طرح اس کو بھلائی کا طالب بننا چاہیے، اور انسان بڑا ہی جلد باز ہے۔

وَیَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّدُعَآء ہٗ بِالْخَیْرِ ط وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 11) (اور انسان برائی کا اس طرح طالب بنتا ہے جس طرح اس کو بھلائی کا طالب بننا چاہیے، اور انسان بڑا ہی جلد باز ہے۔ ) مخالفین کا طرز عمل روئے سخن قرآن کریم کے مخالفین کی طرف ہے جن کا طریقہ یہ تھا کہ بجائے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے یا اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کے وہ اپنے خبث باطن کے اظہار یا آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے کے لیے بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے۔ نبی کریم ﷺ ازراہِ ہمدردی و غمخواری جب انھیں یہ سمجھاتے کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین کو مذاق مت سمجھو، اسی دین سے تمہاری زندگی وابستہ ہے، اسی سے تمہاری دنیا کی کامیابیاں ہیں اور اسی سے اخروی سعادتیں متعلق ہیں۔ اگر تم نے اسے قبول کرنے کی بجائے اس سے تمسخر کارویہ جاری رکھا تو مجھے اندیشہ ہے کہ پہلی امتوں کی طرح تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ ٹوٹے، تو وہ بدبخت بجائے اس سے فکرمند ہونے کے اس کا مذاق اڑاتے اور جب بھی آپ ﷺ ان سے مخاطب ہوتے تو وہ عذاب کی بحث چھیڑ کے بیٹھ جاتے تو ان کی حماقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار ارشاد فرما رہے ہیں کہ انسان کا بھی عجیب حال ہے، وہ بجائے خیر کے طالب ہونے کے برائی طلب کرتا ہے، یعنی بجائے اس کے کہ وہ آگے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول کرے وہ اس کی بجائے عذاب کو دعوت دے رہا ہے حالانکہ بجائے خود یہ چیز کس قدر احمقانہ ہے اور مزید یہ فرمایا کہ نبی کریم ﷺ بار بار انھیں یہ بات سمجھا چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کوئی کھیل نہیں، وہ تو زندگی کی جڑ اکھاڑ کے رکھ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو مخلوقات کے لیے انتہائی رحیم و کریم ہے اور انسان تو تمام مخلوقات میں گل سرسبد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی وہ انسانوں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ مہلت پہ مہلت دیتا چلا جاتا ہے، لیکن جب وہ دیکھتا ہے (اور اس کا علم یقینا ہر طرح کی غلطی سے پاک ہے) کہ اب ان لوگوں میں ایمان لانے کی کوئی رمق باقی نہیں رہی تو پھر وہ سزا دینے میں تأمل نہیں کرتا۔ اس وقت یہ لوگ مہلت کے دور سے گزر رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ یہ اس سے فائدہ اٹھائیں وہ اور دلیر ہوتے جارہے ہیں لیکن انھیں اندازہ نہیں کہ ان کی جلد بازیاں، ان کے لیے کہیں تباہی کا باعث نہ بن جائیں۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، سو ہم نے رات کی نشانی دھندلی کردی اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے رب کے فضل کے لیے کوشش کرو، اور تاکہ تم سالوں کی تعداد اور حساب معلوم کرسکو اور ہم نے ہر چیز کی پوری پوری تفصیل کردی ہے۔

وَجَعَلْنَا الَّیْلَ وَالنَّھَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَـآ اٰیَۃَ الَّیْلِ وَجَعَلْنَـآ اٰیَۃَ النَّھَارِ مُبْصِرَۃً لِّـتَبْتَغُـوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عدَدَالسِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ط وَکُلَّ شَیْ ئٍ قَصَّلْنٰـہُ تَفْصِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 12) (ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، سو ہم نے رات کی نشانی دھندلی کردی اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے رب کے فضل کے لیے کوشش کرو، اور تاکہ تم سالوں کی تعداد اور حساب معلوم کرسکو اور ہم نے ہر چیز کی پوری پوری تفصیل کردی ہے۔ ) ہدایت کے حصول کے لیے یہ نشانیاں کافی ہیں آیتِ کریمہ کی تالیف و ترکیب پر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ فَمَحَوْنَـآ اٰیَۃَ الَّیْلِ کے بعد مُظْلِمَۃً لِتَسْتَرِیْحُوْا یا اس کے ہم معنی الفاظ محذوف ہیں جن پر بعد کے الفاظ مُبْصِرَۃً لِّـتَبْتَغُـوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ دلالت کررہے ہیں۔ آیتِ کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تم یہ جاننے کے لیے کہ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہیں یا نہیں، اور آپ ﷺ کا لایا ہوا دین سچا ہے یا جھوٹا۔ تم اس کے لیے بار بار کوئی نہ کوئی نشانی دیکھنا چاہتے ہو حتیٰ کہ عذاب کو بھی بطور نشانی طلب کرتے ہو۔ ان سے فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں اگر کوئی نشانی ہی دیکھنا ہے تو یہ کیا ضرور ہے کہ تم عذاب ہی کی نشانی مانگو۔ کیا آفاقی نشانیاں کم ہیں ؟ کائنات میں جدھر نظر دوڑائو، ایک سے ایک بڑھ کر نشانی دکھائی دیتی ہے۔ تم شب و روز کے طلوع و غروب کو دیکھو، اس سے بڑھ کر اور کیا نشانی درکار ہے۔ سورج کا وجود، اس سے نکلنے والی روشنی، اس کی حدت اور گرمی سے انسانی غذا کا تیار ہونا، پھر اسی کی کرنوں سے بادلوں کا وجود میں آنا، پھر اسی کی سیرابی سے پودوں کا پھلنا اور پھولنا، پھر اسی سے انسانی زندگی کے چولہے کا جلنا اور انسانی گاڑی کے پہیئے کا رواں دواں رہنا، ان میں سے کون سی چیز ہے جس سے بہتر اور کوئی نشانی ہوسکتی ہے۔ اور پھر اسی کے طلوع و غروب سے شب و روز کا وجود میں آنا، دن کی روشنی میں تمام انسانی امور کا انجام پانا اور انسانی سرگرمیوں کو بروئے کار آنے کا موقع ملنا، اور اس کے غروب سے سکون اور اطمینان کا دروا ہونا اور انسان کی قوت کارکردگی کی بحالی کا راستہ کھلنا اور آرام و راحت کے لیے پرسکون ماحول کا میسر آنا، کیسی حیرت میں ڈالنے والی نشانیاں ہیں کہ سورج نکلتا ہے تو معاشی سرگرمیوں کا دروازہ کھل جاتا ہے اور ڈوبتا ہے تو انسان کے لیے سکون کا پیغام لاتا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ آدمی اگر دیدہ بینا رکھتا ہو تو اس کی ہر شام، شامِ اودھ ہے اور اس کی ہر صبح، صبحِ بنارس ہے۔ ایسی نشانیوں کے ہوتے ہوئے اور نشانی مانگنا بےذوقی کے سوا اور کیا ہے۔ مزید فرمایا کہ یہ بھی کیا کم نشانی ہے کہ سورج کے طلوع و غروب سے تم مہینوں اور سالوں کا حساب بھی معلوم کرلیتے ہو اور دوسرے حساب بھی جان لیتے ہو اور اگر یہ روز و شب کا فرق نہ ہوتا تو کسی چیز کے تعین کے لیے تم نشان اور علامتِ امتیاز کس چیز کو ٹھہراتے۔ اور مزید ہمارا احسان یہ ہے کہ زندگی کی الجھنوں میں رہنمائی کے لیے ہم نے جو کتاب اتاری ہے اس میں ہر چیز کی تفصیل بیان کردی ہے تاکہ غور کرنے والے کے اطمینان کے لیے یہ کتاب ہی کافی ہوجائے۔
Ayahs 17:13–14

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کے گلے کے ساتھ باندھ دیا ہے اور ہم قیامت کے روز اس کے لیے ایک رجسٹر نکالیں گے جس کو وہ بالکل کھلا ہوا پائے گا۔

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

لو پڑھ لو اپنا اعمال نامہ، آج تم خود ہی اپنا حساب کرلینے کے لیے کافی ہو۔

وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰـہُ طَآئِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ ط وَنُخْرِِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبـًا یَّلْقٰـہُ مَنْشُوْرًا۔ اِقْرَاْ کِتٰـبَکَ ط کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 13۔ 14) (اور ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کے گلے کے ساتھ باندھ دیا ہے اور ہم قیامت کے روز اس کے لیے ایک رجسٹر نکالیں گے جس کو وہ بالکل کھلا ہوا پائے گا۔ لو پڑھ لو اپنا اعمال نامہ، آج تم خود ہی اپنا حساب کرلینے کے لیے کافی ہو۔ ) انسانوں کی فلاح و خسران کا مدار حُسنِ کردار پر ہے عربی زبان میں طائر کا لفظ پرندہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن اہل عرب دوسری مشرک قوموں کی طرح چونکہ پرندوں سے فال بھی لیتے تھے، اس وجہ سے یہ لفظ رفتہ رفتہ قسمت، حظ اور نصیبہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ جیسا کہ عرض کیا کہ اہل عرب فالوں اور شگونوں کے بڑے معترف تھے۔ اسی میں وہ اپنی قسمت تلاش کرتے تھے۔ وہ کہیں جانے کا ارادہ کرتے یا کسی کام کرنے کا سوچتے تو اگر بلی راستہ کاٹ جاتی یا کوا آکر منڈیر پر بولنے لگتا یا صبح سویرے پرندوں کی آوازیں کانوں میں پڑنے لگتیں تو وہ اس سے اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہوجاتے اور عموماً اس کام سے رک جاتے جس کا وہ ارادہ کرچکے ہوتے۔ قرآن کریم کے نزول سے اللہ تعالیٰ نے جو انسانوں کو ہدایات عطا فرمائی ہیں ان میں بنیادی بات یہ ہے کہ انسانوں کی فلاح و خسران کا انحصار طوطے کّوے اور بلی چوہے پر نہیں بلکہ ان کے اپنے اعمال پر ہے۔ انسان کے زندگی کے وہ معاملات جن کا تعلق تکوین سے ہے ان کا سررشتہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ہاتھ میں ہے۔ رہے وہ معاملات جس سے انسان کی کامیابی یا ناکامی وجود میں آتی ہے اور جو انسان کی زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں ان کا تعلق انسانی کردار سے ہے۔ اس لیے بجائے اس کے کہ آدمی غلط طریقوں سے اپنی قسمت معلوم کرتا پھرے اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ میرے اعمال کیسے ہیں، میرے ایمان کی کیفیت کیا ہے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ادا کرنے میں میرے عزم و حوصلہ کا عالم کیا ہے، میں اسلام اور خلق خدا کی طرف سے عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو کس نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ یہی چیزیں ہیں جن سے نامہ اعمال تیار ہوتا ہے اور یہ نامہ اعمال ہے جو ہر وقت انسان کی گردن میں معلق رہتا ہے یعنی ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے اور یہی نامہ اعمال قیامت کے دن ہر شخص کے ہاتھوں میں اس طرح دیا جائے گا کہ اس کا ایک ایک ورق کھلا ہوگا جسے وہ بڑی آسانی سے پڑھ سکے گا۔ یہی اعمال ہیں جن سے انسان کی دنیا بنتی ہے۔ اسی سے انسان عزت کے راستے پر چلتا ہے اور اسی کے نتیجے میں ذلت مقدر ہوتی ہے۔ اپنی ہی بداعمالیاں ہیں جو بعض دفعہ مصیبتوں کا باعث بنتی ہیں اور جب آدمی اللہ تعالیٰ کے سامنے شکایت کرتا ہے تو ادھر سے آواز آتی ہے ؎ جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ دنیا میں بھی اسی نامہ اعمال کو دیکھنے کی ہدایت ہوتی ہے کہ تم اپنی بدحالی کی شکایت کرنے کی بجائے اپنے اعمال کی اصلاح کی فکر کرو۔ اسی کے نتیجے میں تمہاری دنیا کے احوال بدلیں گے۔ کتنی احادیث ہیں جن میں فرمایا گیا ہے کہ رزق میں تنگی، بارشوں کا وقت پر نہ اترنا، وبائوں کا پھوٹ پڑنا، حادثاتی موتوں کا بڑھ جانا، باہمی تعلقات کا بگڑ جانا، ملکی حالات کا غیرمستحکم ہوجانا، دشمن کا حملہ کردینا اور ظالم حکمرانوں کا مسلط ہوجانا وغیرہ یہ سب انسانوں کی بداعمالیوں کا پھل ہیں۔ لیکن جب آدمی اپنے اعمال کی اصلاح کرلیتا ہے اور اس کی زندگی اسلامی شریعت کے اتباع میں گزرتی ہے تو حضرت عمرفاروق ( رض) کی طرح بڑے ناز سے زمین پر پائوں مار کر کہہ سکتا ہے ( جب زمین میں زلزلہ آیا) ارے زمین تو کانپتی ہے، کیا میں نے تجھ پر عدل نہیں کیا ؟ اسی طرح قیامت کے دن بھی انسان جب اپنے انجام کی فکر میں ہوگا تو اس کا نامہ اعمال ہی اس کے ہاتھوں میں دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اسے پڑھ کے دیکھو۔ اسے پڑھنے کے بعد تم خود اپناحساب کرنے کے لیے کافی ہو۔ تم خود اندازہ کرسکتے ہو کہ تمہارا یہ نامہ اعمال تمہیں جنت کا راستہ دکھاتا ہے یا جہنم کا۔ غور فرمایئے، وہ معاشرہ جس میں صرف انتسابات کا سکہ چلتا تھا، حسب، نسب اور دولت رائج الوقت سکے تھے۔ اس میں قرآن کریم نے کیسا انقلاب آفریں اعلان فرمایا کہ آج کے بعد انتسابات نہیں چلیں گے، صرف کردار کا سکہ چلے گا، تقویٰ کی بات سنی جائے گی، محنت برگ و بار لائے گی، صاحب صلاحیت اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر اپنے لیے راستہ بنائے گا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ایک ہندو شاعر بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہوا ؎ جس کی حکمت نے یتیموں کو کیا دُرِّ یتیم اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کردیا
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو ہدایت کی راہ چلتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے ہدایت کی راہ چلتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی اوپر وبال لاتا ہے اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی اور ہم عذاب دینے والے نہیں تھے جب تک کسی رسول کو بھیج نہ دیں۔

مَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا ط وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَاُخْرٰی ط وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 15) (جو ہدایت کی راہ چلتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے ہدایت کی راہ چلتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی اوپر وبال لاتا ہے اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی اور ہم عذاب دینے والے نہیں تھے جب تک کسی رسول کو بھیج نہ دیں۔ ) ایک اور رعدآسا اعلان یہ ایک اور رعدآسا قرآن کریم کا اعلان ہے جس نے عرب کی دھرتی کو ہلا کے رکھ دیا اور ان کی زندگی کی کامیابی و ناکامی کے تمام معیارات کو بدل ڈالا۔ حقیقت میں سابقہ آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اسی کی تائید اور تکمیل ہے۔ جو شخص ہدایت کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے بھلے کے لیے کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے۔ ہدایت اختیار کرنے والا کسی پر احسان نہیں کرتا اور گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والا کسی کا کچھ نہیں بگاڑتا۔ اس لیے ہر آدمی کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہر انسان اپنی ایک مستقل اخلاقی ذمہ داری رکھتا ہے اور اپنی شخصی حیثیت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ اس ذاتی ذمہ داری میں کوئی دوسرا اس کے ساتھ شریک نہیں۔ اگر وہ کسی کے پیچھے لگ کے بگڑتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی اسی پر ہے۔ اور اگر وہ کسی کی دعوت کو قبول کر کے صحیح راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ اس پر احسان نہیں کرتا بلکہ اپنے بھلے کے لیے سب کچھ کرتا ہے۔ اس لیے یہ تصور ذہن میں پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ میرے بنائو بگاڑ کا ذمہ دار فلاں شخص ہے بلکہ اس پر یقین رکھنا چاہیے کہ کوئی شخص بھی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ نہ کوئی کسی شخص کی کسی اچھائی میں کام آئے گا اور نہ کسی کی برائیاں اپنے سر لے گا۔ ہر لحاظ سے انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ یہ صحیح ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش سے بےنیاز نہیں رہ سکتا ‘ لیکن یہ بات اس سے زیادہ صحیح ہے کہ اسے ہر وقت نگاہ اپنے اعمال پر رکھنی چاہیے کہ وہ خود کیا کر رہا ہے ؟ یہ ذمہ داری تو ایک مسلمان پر ضرور ہے کہ وہ دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرے۔ لیکن اس سے بھی پہلے اپنی اصلاح اس کے لیے زیادہ ضروری ہے۔ ایک آدمی اگر بیمار ہوتا ہے تو وہ جب بھی بات کرتا ہے تو اپنی بیماری کی کرتا ہے۔ ڈاکٹر کے پاس جائے گا تو اپنا علاج چاہے گا۔ ہسپتال میں اگر داخل کردیا جائے تو اس کی خواہش یہ ہوگی کہ ڈاکٹر صاحب مجھ پر زیادہ توجہ دیں۔ اس کے دائیں بائیں لیٹے ہوئے مریض چاہے کیسی تکلیف میں ہوں لیکن اس کی خواہش یہی ہوگی کہ توجہ کا مرکز مجھے بنایا جائے۔ تو جس طرح ایک بیمار پہلے اپنی بیماری کی فکر کرتا ہے اسی طرح انسان کو ہرحال میں اپنے عمل کی فکر ہونی چاہیے۔ جس شخص یا جس قوم میں دوسروں کی برائیاں گننے کی عادت پڑجائے اور اپنی طرف کبھی التفات نہ ہو اس کی تباہی اور بربادی کو دنیا کا کوئی عقل مند نہیں روک سکتا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ” ہلک من قال ہلک الناس اوکما قال ( علیہ السلام) “ ( وہ شخص ہلاک ہوگیا جس شخص نے کہا کہ سب لوگ ہلاک ہوگئے) جیسے ہماری عادت ہے ہم ہمیشہ اس طرح کے جملے بولتے ہیں کہ ” سارا معاشرہ بگڑ گیا ‘ ساری قوم تباہ ہوگئی “ لیکن کبھی اپنے اعمال کی فکر کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ حالانکہ اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے ہونا چاہیے۔ یہ پہلا قدم اٹھے گا تو دوسرے قدم کے اٹھنے کی باری آئے گی۔ اس اساسی حقیقت کو بیان کرنے کے بعد آیت کریمہ کے آخر میں ایک ایسی بات ارشاد فرمائی گئی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا اظہار ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہدایت اختیار کرنا یقینا ہر شخص کی اپنی ذمہ داری ہے اور کوئی دوسرا شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، لیکن یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ جب لوگ اپنی ذاتی ذمہ داریاں ادا کرنے سے پہلوتہی کرتے ہیں تو بجائے عذاب دینے کے اپنا رسول ( علیہ السلام) بھیجتا ہے جو ان بےپرواہ اور گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کی حتی المقدور کوشش کرتا ہے۔ اپنی پوری شخصیت کو اس کام میں جھونک دیتا ہے۔ تبلیغ و دعوت اور انذار وتبشیر کا کوئی طریقہ ایسا باقی نہیں رہتا جس سے وہ کام نہیں لیتا۔ اب اگر اس کے مخاطب لوگ بات سمجھنے اور راہ راست اختیار کرنے کی بجائے اس کی جان لینے کے درپے ہوجاتے ہیں اور اپنے عمل سے ثابت کردیتے ہیں کہ وہ کسی قیمت پر بھی حق کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو تب اللہ تعالیٰ کا عذاب اس قوم پر اس طرح نازل ہوتا ہے کہ اس کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس کے خوشحالوں کو امر کردیتے ہیں تو وہ اس میں خوب اودھم مچاتے ہیں، پس ان پر بات پوری ہوجاتی ہے، پھر ہم ان کو یک قلم نیست و نابود کرکے رکھ دیتے ہیں۔

وَاِذَآ اَرَدْنَـآ اَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَۃً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا فَفَسَقُوْا فِیْھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰـھَا تَدْمِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 16) (اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس کے خوشحالوں کو امر کردیتے ہیں تو وہ اس میں خوب اودھم مچاتے ہیں، پس ان پر بات پوری ہوجاتی ہے، پھر ہم ان کو یک قلم نیست و نابود کرکے رکھ دیتے ہیں۔ ) قوموں کی تباہی کا آخری سبب اس آیت کریمہ میں اَمَرْنَا کا لفظ تحقیق طلب ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ یہ اَمَرْنَا بمعنی اَمَّرَنَا ہے۔ یعنی ہم اس علاقہ کی حکومت سرکش اہل ثروت کے حوالے کردیتے ہیں اور وہ دولت و اقتدار کے باعث فسق و فجور کا بازار گرم کردیتے ہیں۔ بعض علما کی رائے یہ ہے کہ اَمَرْنَا کا معنی اَکْثَرْنَا ہے، لیکن بعض اہل لغت کا خیال ہے کہ اَمَرْ صرف حکم دینے کے ہی معنی میں نہیں آتا بلکہ بسا اوقات کسی کو ڈھیلا چھوڑ دینے اور مہلت دینے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ آپ کسی شخص یا گروہ سے افہام و تفہیم کی کوشش کرنے کے بعد جب تنگ آجاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ جاؤ جو جی میں آئے کرو، بظاہر یہ امر ہی کا صیغہ استعمال ہوا ہے لیکن اس کا مفہوم حکم دینا نہیں بلکہ مہلت دینا ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی سرکش لوگوں پر اپنی حجت قائم کرچکنے کے بعد ان کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح سے بھر لیں۔ حقیقت میں معاشرے کے بگاڑ اور تباہی کے اسباب تو کئی ایک ہیں ‘ لیکن ان میں وہ سبب جو کسی قوم کی تباہی و بربادی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے وہ خوشحال ‘ با اثر اور صاحب اقتدار لوگوں کا فسق و فجور میں مبتلا ہونا ہے۔ عوام اگر بگڑتے ہیں تو خواص ان کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر نصیحت سے کام نہیں چلتا تو اہل اقتدار طاقت سے برائی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ با اثر طبقہ ہمیشہ عوام کو فیڈ کرتا ہے۔ یعنی وہ لوگوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے ؟ تاکہ لوگ صحیح کو اختیار کریں اور غلط کو چھوڑ دیں۔ کبھی وہ یہ کام تعلیمی ادارے قائم کر کے کرتا ہے اور کبھی مختلف تقریبات کے ذریعے ‘ کبھی مختلف طریقوں سے تہوار منا کر اور کبھی ثقافت کے نام سے مختلف مظاہرِ تہذیب اختیار کر کے۔ مختصر یہ کہ یہی طبقہ ہے جو ہر لحاظ سے خیالات کے ذریعے ‘ پر اپیگنڈے کے زور سے یا اثر و اقتدار کے بل بوتے پر عوام کو اپنی مرضی پر چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اگر یہ طبقہ بگڑ جائے تو پھر اس قوم کے سدھرنے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے اٹھائے ہوئے فتنے پوری قوم کے لیے آزمائش بن جاتے ہیں۔ لہٰذا جو معاشرہ آپ اپنا دشمن نہ ہوا ہو اسے فکر رکھنی چاہیے کہ اس کے ہاں اقتدار کی باگیں اور معاشی دولت کی کنجیاں کم ظرف اور بد اخلاق لوگوں کے ہاتھوں میں نہ جانے پائیں۔ مترفین کا اثر و اقتدار تو ہر دور میں سب سے موثر عامل رہا ہے ‘ لیکن جمہوری نظام کے آجانے سے تو اس کی خطرناکی میں کہیں اضافہ ہوگیا ہے۔ دولت کے بل بوتے پر انسانوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے ‘ احتسابی ادارے دولت کے زور سے استعمال کیے جاتے ہیں ‘ ذرائع ابلاغ دولت کے ذریعے مترفین کے لیے راہیں ہموار کرنے کا کام کرتے ہیں۔ پھر بظاہر عوام سے کی رائے سے یہ لوگ اقتدار کے محلات میں داخل ہوجانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر اپنی بگڑی ہوئی فکر کے مطابق فیصلے کرتے ہیں جس کے مطابق عوام کو ڈھلنا پڑتا ہے۔ یہاں قرآن کریم مترفین کے بگاڑ کو بنیادی سبب قرار دے رہا ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا ادراک مسلمانوں میں کب پیدا ہوگا۔
Ayah 17:17

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کردیں اور تمہارا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر رہنے اور ان کو دیکھنے کے لیے کافی ہے۔

وَکَمْ اَھْلَکْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ م بَعْدِنُوْحٍ ط وَکَفٰی بِرَبِّکَ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا م بَصِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 17) (اور نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کردیں اور تمہارا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر رہنے اور ان کو دیکھنے کے لیے کافی ہے۔ ) سابقہ آیت کریمہ میں بستیوں میں بسنے والوں کی تباہی و ہلاکت کا جو اصول بیان فرمایا گیا ہے اس کی تائید میں قوم نوح سے استشہاد کیا جارہا ہے، کیونکہ نوح (علیہ السلام) اس دھرتی پر پہلے اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) تھے۔ اور انھیں آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ طوفانِ نوح کی ہمہ گیر تباہی کے بعد انھیں کی اولاد اور ان کے ساتھ کشتی پر سوار ہونے والوں کی اولاد سے دنیا آباد ہوئی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے سینکڑوں سال تک اپنی قوم کو سمجھایا، انھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی لیکن ان کے مترفین یعنی خوشحال طبقے نے اپنے اثرات سے قوم کی اکثریت کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ آپ ( علیہ السلام) کی تمام تر مساعیِ جمیلہ کے باوجود قوم کا غالب حصہ کفر پر قائم رہا۔ چناچہ جب ان کے خوشحال طبقے نے بگاڑ کی کوشش کو انتہا تک پہنچا دیا تو تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا عذاب آیا جس نے سب کچھ تباہ کرکے رکھ دیا۔ مشرکینِ مکہ کو قوم نوح کی بربادی کی طرف اشارہ کرکے سمجھایا جارہا ہے کہ تم اس راستے پر مت چلو جس راستے پر چل کر یہ قوم برباد ہوئی اور تمہارا خوشحال طبقہ وہ رویہ اختیار نہ کرے جس رویئے نے قوم نوح کو عذاب تک پہنچایا اور یہ خیال نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ شاید تمہارے حالات سے بیخبر ہے، وہ تمہاری ایک ایک حالت کو جانتا ہے، وہ خبیر بھی ہے اور بصیر بھی ہے۔ وہ جس طرح تمہارے حالات سے واقف ہے، اسی طرح تمہارے حالات کا عینی شاہد بھی ہے۔ جب وہ وقت آجائے گا جو قوموں پر عذاب کے لیے مقدر کیا گیا ہے تو پھر اہل عرب کا فیصلہ کرنے میں بھی تاخیر نہیں ہوگی۔
Ayah 17:18

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو دنیا ہی کا طالب بنتا ہے ہم اس کے لیے اسی میں جس قدر چاہتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں آگے بڑھا دیتے ہیں، پھر ہم نے اس کے لیے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ خوار اور راندہ ہو کر داخل ہوگا۔

مَنْ کَانَ یُرِیْدُالْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْھَا مَانَشَآئُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَھَنَّمَ ج یَصْلٰـھَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 18) (جو دنیا ہی کا طالب بنتا ہے ہم اس کے لیے اسی میں جس قدر چاہتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں آگے بڑھا دیتے ہیں، پھر ہم نے اس کے لیے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ خوار اور راندہ ہو کر داخل ہوگا۔ ) اعمال کے متعلق سنت الٰہی گزشتہ آیات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دارومدار ایمان و عمل پر ہے۔ یہاں نہ حسب و نسب کام آتا ہے اور نہ کوئی دوسرا سہارا ساتھ دیتا ہے۔ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحیح راستہ اختیار کرے اور برے راستے سے اجتناب کرے۔ لیکن جو شخص اس بنیادی نصیحت کو قبول نہیں کرتا اور ہدایت کی بجائے ضلالت کا راستہ اختیار کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ سنبھلنے کا موقع تو دیتا ہے لیکن بالآخر اس کا انجام جہنم ہے۔ قوموں کے لیے بھی وہی قانون ہے جو افراد کے لیے ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مورد بالعموم قومیں بنتی ہیں۔ ایک ایک فرد اس کا ہدف نہیں ہوتا۔ اس سے بظاہر یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ اگر دنیا کی ناکامی بھی ایمان و عمل ہی کی رہین منت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر کو شاید وسیع رزق بھی نہیں مل سکتا، اس کی روزی بھی تنگ کردی جائے گی اور خوش حالی اور آرام و راحت کے تمام وسائل اس سے چھین لیے جائیں گے۔ اس آیت کریمہ میں اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے کہ کافروں کو ہم دنیا کے سامان سے محروم نہیں رکھتے بلکہ بعض دفعہ ان کی آزمائش کے لیے دنیا انھیں زیادہ دی جاتی ہے۔ البتہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اور دنیا میں بھی وہ وسائل کی فراہمی میں اس قدر آزاد نہیں ہوں گے کہ جتنے چاہیں فراہم کرلیں۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے، جتنا چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ تدبیر اور محنت سے وسائل میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت کا طلبگار ہوتا ہے اور اس کے لیے پوری طرح جدوجہد کرتا ہے درآنحالیکہ وہ مومن بھی ہو، پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہوگی۔

وَمَنْ اَرَادَالْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَھَا سَعْیَھَا وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُوْلٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 19) (اور جو شخص آخرت کا طلبگار ہوتا ہے اور اس کے لیے پوری طرح جدوجہد کرتا ہے درآنحالیکہ وہ مومن بھی ہو، پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہوگی۔ ) دنیا کے طلبگار کے مقابلے میں اب آخرت کے طلبگار کی بات ہورہی ہے کہ جو شخص آخرت کا طلبگار ہوگا یعنی وہ زندگی کا وہ رویہ اختیار کرے گا جو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور اس کی آخری کتاب میں دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے تجویز کیا گیا ہے اور وہ پورے اخلاص کے ساتھ اسے اختیار کرے گا اور پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہوگی۔ اور یہ صرف خواہش کی حد تک نہ ہو بلکہ اس کے لیے ہر ممکن مساعی کو بھی بروئے کار لائے گا۔ اور اس راستے میں جو مشکلات آئیں گی انھیں برداشت کرنے میں اسے کوئی تأمل نہیں ہوگا۔ اس راستے کا ہر کانٹا اسے پھول سے بڑھ کر عزیز ہوگا تو یہ وہ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ جن کی زندگی کی کوششوں کو قبول فرماتا ہے۔ دنیا میں بھی انھیں آسودہ رکھتا ہے اور دل و دماغ کا سکون عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جنت ان کی منتظر ہوگی۔ ان دونوں آیتوں میں مسلمانوں کو وہ بات یاد دلائی گئی ہے جو قرآن کریم میں بار بار دہرائی گئی ہے کہ اگر تمہارے پیش نظر صرف یہی دنیا اور اس کی کامیابیاں اور خوشحالیاں ہوں تو یہ سب کچھ تمہیں مل سکتا ہے مگر اس کا آخری انجام بہت برا ہے۔ مستقل اور پائیدار کامیابی جو اس زندگی سے لے کر دوسری زندگی تک کہیں نامرادی سے داغدار نہ ہونے پائے ‘ تمہیں صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے ‘ جبکہ تم اپنی کوششوں میں آخرت اور اس کی باز پرس کو پیش نظر رکھو۔ دنیا پرستی کی خوشحالی بظاہر تعمیر کی شان رکھتی ہے مگر اس تعمیر میں ایک بہت بڑی خرابی کی صورت مضمر ہے۔ وہ اخلاق کی اس فضیلت سے محروم ہوتا ہے جو صرف آخرت کی جواب دہی کا احساس رکھنے ہی سے پیدا ہوا کرتی ہے۔ یہ فرق تم دنیا ہی میں دونوں طرح کی آدمیوں میں دیکھ سکتے ہو۔ یہی فرق بعد کی منازل حیات میں اور زیادہ نمایاں ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ ایک کی زندگی سرا سر ناکامی اور دوسرے کی زندگی سراسر کامیابی بن کر رہے گی۔