Ayahs 17:29–30وَلاَ تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَلاَ تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَمَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا۔ اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطْ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ ط اِنَہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًم ا بَصِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 29۔ 30)
(تم اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھے نہ رکھو اور نہ اس کو پوری طرح کھول دو کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ رہو۔ بیشک تیرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور ان کو دیکھنے والا ہے۔ )
اعتدال کی ہدایت
ہاتھ باندھنا استعارہ ہے بخل کے لیے اور ہاتھ کو کھلا چھوڑ دینا استعارہ ہے فضول خرچی کے لیے۔ اس سے پہلے ارشاد فرمایا تھا کہ دولت چونکہ اللہ کی امانت ہے اس لیے اسے بےضرورت ‘ بےدریغ اور بےموقع اللے تللوں اڑانا امانت میں خیانت ہے۔ اسی کو اسراف اور فضول خرچی کہا گیا ہے۔ اس میں اللہ کے حق میں دخل اندازی کی جاتی ہے ‘ مال اس کا ہے لیکن مال پر قادر شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ مال میرا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اللہ کے برابر قرار دیتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ ایسا شخص شیطان کا بھائی ہے۔ اور شیطان کا کام اللہ کی پیدا کردہ ہر چیز کو غلط مصارف میں استعمال کرا کے غلط نتائج پیدا کرنا ہے۔ اور مال و دولت کے اثرات تو ہر معاشرے میں بےپناہ ہوتے ہیں۔ اسی سے خیر کی فضا پیدا کی جاسکتی ہے اور اسی سے شر کی اشاعت میں کام لیا جاسکتا ہے۔ فسق و فجور کے زیادہ تر اسباب مال و دولت کے غلط استعمال سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے اسلام فضول خرچی سے سختی سے روکتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس غلط فہمی کے پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیتا کہ خرچ کرنے سے ہاتھ بالکل روک لیا جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ چونکہ اللہ نے مال خرچ کرنے سے روکا ہے اس لیے مال بالکل خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ جائز ضرورتوں ‘ جائز جگہوں اور حقوق کی ادائیگی میں بھی خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے۔ اور جس طرح فضول خرچی بہت سارے مفاسد کا سبب بنتی ہے اسی طرح بخل بھی ہر صاحب مال کی تعمیر سیرت میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ جو شخص مال سے ناجائز حد تک محبت کرتا ہے وہ نہ اسے صدقاتِ واجبہ میں صرف کرے گا اور نہ صدقاتِ نافلہ میں ‘ معاشرے کے غریب لوگ اس کے تعاون سے محروم ہوجائیں گے اور وہ خود معاشرے کی محبت سے محروم ہوجائے گا۔ اس طرح سے معاشرے کی عمارت میں ایسی دراڑ پڑے گی جو بڑھتے بڑھتے شکست و ریخت تک پہنچ سکتی ہے۔ اسلام کی نشرو اشاعت، اعلائے کلمتہ الحق کے بیشتر اسباب، مسلمان معاشرے میں کمزور افراد کی دیکھ بھال اور گرے ہوئے عناصر کو اٹھا کر دوبارہ زندگی کے دھارے میں لانے کی کوشش ان تمام باتوں کا دارومدار جود و سخاوت اور مال خرچ کرنے کے جذبے پر ہے۔ اور جب یہ جذبہ بخل میں تبدیل ہوجاتا ہے تو یہ تمام ضرورتیں اور تمام مقاصد بروئے کار آنے سے رک جاتے ہیں۔ اس لیے اسلام نے بخل کو بدترین برائی قرار دیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ بخیل آدمی جنت میں نہیں جاسکتا۔ اور ایسا بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک مومن میں جو صفات بیان فرمائی ہیں ان کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ مومن میں بخل کبھی نہیں ہوتا۔
مدینہ میں جس اسلامی ریاست کو تشکیل دینا پیش نظر ہے اور جو اسلامی معاشرہ وجود میں آنے والا ہے واضح سی بات ہے کہ ایسی بدترین صفات کی وہاں کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ اس لیے مدینہ طیبہ کی ریاست میں ان دونوں دفعات کے منشا کی صحیح ترجمانی مختلف عملی طریقوں سے کی گئی۔ ایک طرف فضول خرچی اور عیاشی کی بہت سی صورتوں کو ازروئے قانون حرام کیا گیا ‘ دوسری طرف بالواسطہ قانونی تدابیر سے بےجا صرف مال کی روک تھام کی گئی۔ تیسری طرف معاشرتی اصلاح کے ذریعے سے ان بہت سی رسموں کا خاتمہ کیا گیا جن میں فضول خرچیاں کی جاتی تھیں۔ پھر حکومت کو یہ اختیارات دیے گئے کہ اسراف کی نمایاں صورتوں کو اپنے احکامی انتظامات کے ذریعے سے روک دے۔ آج اگر اسلامی حکومت قائم ہوتی تو بسنت جیسا نام نہاد تہوار ‘ جس میں از اول تا آخر جانوں کے ضیاع اور مال کے اتلاف کے سوا کچھ نہیں، پر فوراً پابندی لگا دی جاتی۔ کیونکہ اسلامی حکومت ایک مسلمان کی جان کو اس قدر اہمیت دیتی ہے کہ رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر ایک طرف کعبہ گر رہا ہو اور دوسری طرف ایک مسلمان کا خون بہہ رہا ہو تو میں پہلے مسلمان کو بچانے کی کوشش کروں گا۔ تو جس تہوار کے نتیجے میں مسلمانوں کی گردنیں کٹیں ‘ سڑکوں پر خون بہے ‘ شرم و حیا کا جنازہ نکل جائے ‘ چھتوں سے گر گر لڑکے بالے جانیں دیتے پھریں اور مختلف نقصانات کی شکل میں ضیاع مال کی انتہا نہ رہے ‘ اس کی اجازت دینا ان آیات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
اسراف کو روکنے کے ساتھ ساتھ زکوۃ و صدقات کے احکام سے بخل کا زور بھی توڑا گیا اور اس امر کے امکانات باقی نہ رہنے دیے گئے کہ لوگ زر اندوزی کر کے دولت کی گردش کو روک دیں۔ ان تدابیر کے علاوہ معاشرے میں ایک رائے عام پیدا کی گئی جو فیاضی اور فضول خرچی کا فرق خوب جانتی تھی اور بخل اور اعتدال میں خوب تمیز کرتی تھی۔ اس رائے عام نے بخیلوں کو ذلیل کیا ‘ اعتدال پسندوں کو معزز بنایا۔ فضول خرچوں کو ملامت کی اور فیاض لوگوں کو پوری سوسائٹی کا گل سرسبد بنادیا۔
Ayah 17:31وَلاَ تَقْتُلُوْٓا اَوْلاَ دَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلاَقٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْ ط اِنَّ قَتْلَھُمْ کَانَ خِطْاً کَبِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 31)
(اور نہ قتل کرو اپنی اولاد کو، ناداری کے اندیشہ سے، ہم ہی ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی، بیشک ان کا قتل بہت بڑا جرم ہے)
قتلِ اولاد کی ممانعت
اس سے پہلے ارشاد فرمایا گیا کہ رزق کے خزانے اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ اس کی مشیت ہے جس نے انسانوں میں رزق اور وسائل رزق میں تفاوت اور تفاضل رکھا ہے۔ وہ چونکہ حکیم ہے اس لیے خوب جانتا ہے کہ انسانوں میں مصنوعی طور پر رزق میں برابری کی کوشش اللہ تعالیٰ کے نظام میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔ اس کی حکمت کا یہی تقاضا ہے کہ اگر انسانوں میں جدوجہد کے جذبے کو باقی رکھنا ہے اور افادہ و استفادہ کی روح سے انسانوں کے درمیان ایک تعلق کو پائیدار بنانا ہے تو اس کے لیے انسانی شکلوں ‘ انسانی جسموں ‘ انسانی صلاحیتوں ‘ انسانی توانائیوں میں تنوع ناگزیر ہے۔ اور اسی سے پیدا ہونیوالا تفاوت بھی انسانی زندگی کا حسن ہے جسے ہم نادانی میں عدم مساوات کہہ دیتے ہیں۔ جس معاشرے میں بھی مصنوعی طریقے سے مساوت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی وہ معاشرہ دیر تک باقی نہیں رہ سکتا۔
جس طرح افراد کو ان کی محنتوں کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کم و بیش رزق عطا فرماتا ہے اسی طرح قوموں میں بھی رزق کی تقسیم اسی پیمانے سے ہوتی ہے۔ نہ افراد کو اس غلط فہمی میں مبتلا ہونا چاہیے کہ رزق کے خالق ہم ہیں اور نہ قوموں کو اس گمراہی کا شکار ہونا چاہیے کہ وسائل رزق کے مالک ہم ہیں۔ لیکن یہ انسانی حادثہ ہے کہ انسان اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کر اپنے رزق کا بجٹ خود بنانے لگتا ہے اور جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ رزق صرف کمانے والے ہاتھوں سے وجود میں آتا ہے تو وہ ایسے افراد کو ختم کرنے کی کوشش شروع کردیتا ہے جن سے کسب و اکتساب میں مدد نہیں لی جاسکتی۔ یہی وہ جہالت ہے جس کی وجہ سے دنیا میں قتل اطفال اور اسقاطِ حمل کے جرائم وجود میں آتے رہے۔ قدیم زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ لڑکیاں خاندان پر بوجھ ہوتی ہیں ‘ کیونکہ وہ کمائی میں ہاتھ نہیں بٹاتیں۔ اس بوجھ کو کم کرنا ہماری ضرورت ہے۔ چناچہ وہ یا تو لڑکی کو پیدا نہ ہونے دیتے یا پیدا ہونے کے بعد زندہ درگور کردیتے۔ لیکن جیسے جیسے برائی کو علم و عقل کی سپورٹ ملتی گئی ویسے ویسے اس میں وسعت پیدا ہوتی گئی۔ پہلے صرف لڑکیاں اس کا شکار ہوتی تھیں ‘ پھر آبادی کے حوالے سے ہر آنے والے کو روکنے کی کوشش کی گئی اور اس کے لیے اسقاطِ حمل یا قتل اطفال کو ذریعہ بنایا گیا۔ لیکن آج اسی برائی نے منع حمل یعنی ضبط ولادت اور منصوبہ بندی کا نام اختیار کرلیا ہے۔ اندیشہ وہی ہے جو قدیم زمانے میں تھا کہ ” آنے والے کو رزق کہاں سے ملے گا ؟ “ وہ بھی اپنے آپ کو رازق سمجھتے تھے آج بھی قومیں اپنے آپ کو وسائل رزق کا خالق سمجھتی ہیں۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ ان معاشی بنیادوں کو بالکل منہدم کردیتی ہے۔ وہ صاف صاف حکم دیتی ہے کہ اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ قتل نہ کرنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ پیدا ہونے کے بعد انھیں قتل نہ کرو ‘ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسقاطِ حمل اور منع حمل کی تدابیر بروئے کار مت لائو۔ تمہیں بجائے کھانے والوں کو گھٹانے کی کوشش کرنے کے وسائل رزق کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسلام محدود طور پر تو میاں بیوی کو کمزور صحت یا کسی اور جائز سبب سے اولاد کو محدود رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے لیے ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایک ایسا ذہن تیار کرنا جس سے اولا دایک زحمت بن کر رہ جائے اور ساتھ ساتھ ذہن میں یہ بات بیٹھتی چلی جائے کہ وسائل رزق کے پیدا کرنے والے ہم ہیں اور ہر آنے والا بچہ ہمارا دست نگر بن کے آتا ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس سے بےحیائی بھی پھیلتی ہے اور اسلام کے تصور رزق پر چوٹ بھی پڑتی ہے۔ اور آدمی بجائے اللہ سے مانگنے کے اپنے ناخن تدبیر یا اپنی حکومت کو اپنا خالق سمجھ لیتا ہے۔ تاریخ اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ اللہ نے کبھی کسی علاقے میں آبادی کی ضرورتوں سے کم وسائل رزق پیدا نہیں فرمائے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ وسائل انسانی جدوجہد کے انتظار میں ہوں۔ البتہ ان وسائل میں کمی اس وقت محسوس ہونے لگتی ہے جب فاسد نظام اور فاسق ہاتھوں کی وجہ سے وسائلِ رزق کی تقسیم میں خیانت ہونے لگتی ہے اور کچھ لوگ ان وسائل پر اس طرح قابض ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ عام لوگوں تک انکا فائدہ پہنچ نہیں پاتا۔ مجھے یاد پڑتا ہے غالباً 1974 ء میں ملکی اور غیر ملکی زرعی ماہرین کی ایک ٹیم کو ملک کے وسائلِ رزق کے سروے کا کام سونپا گیا تھا ‘ انہوں نے سروے کرنے کے بعد جو رپورٹ دی وہ یہ تھی کہ پاکستان کے زرعی وسائل اگر یہ تمام و کمال بروئے کار لائے جائیں (جن میں سے بیشتر پر جاگیرداروں کا قبضہ ہے) تو ایک ارب بارہ کروڑ افراد کی غذائی ضروریات کے لیے کافی ہوسکتے ہیں۔ اندازہ کیجیے ہماری تعداد شاید پندرہ کروڑ بھی نہیں۔ اور ان میں کھانے والوں کی تعداد بمشکل آٹھ کروڑ ہوگی۔ لیکن ہم گندم ‘ چینی ‘ اور نہ جانے کیا کیا باہر سے منگوانے پر مجبور ہیں۔ اس رپورٹ کو ” ڈرلنگ رپورٹ “ کہا جاتا ہے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہمارے وسائل رزق میں کوئی کمی نہیں اور نہ کبھی پروردگار کمی ہونے دیتا ہے البتہ ہمارے مسائل ان ہاتھوں کی وجہ سے ہیں جن کے نمائندے فوج ‘ بیوروکریسی اور پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔ جب تک ان کی اصلاح نہیں ہوگی اس وقت تک خاندانی منصوبہ بندی کرتے رہئے لیکن مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اللہ کا نظام یہ ہے ‘ وہ ایک طرف اپنے اوپر اعتماد ‘ توکل اور اپنی ذات سے دعا کا حکم دیتا ہے اور دوسری طرف اپنے دین کی بالا دستی اور جہاد کا حکم دیتا ہے۔ ان دونوں کی اطاعت پر وسائل رزق کی کمی بیشی کا دارومدار ہے۔ وہ کبھی آبادی کو کم کرتا ہے کبھی وسائل رزق میں اضافہ کرتا ہے۔ لیکن یہ کام اس کا ہے جو ہم نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔ اور جو کام ہمارا ہے ہم اسے کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مدینے کی ریاست کی تاریخ گہری نظر سے پڑھ لیجیے ‘ آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ایک ایسا ملک جس میں وسائل نام کی کوئی چیز ہی نہ تھی ان کی غذائی ضرورتیں کیسے پوری ہوتی تھیں۔
Ayah 17:32وَلاَ تَقْرَبُوْا الزِّنٰٓی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ط وَسَآئَ سَبِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 32)
(اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ کیونکہ یہ کھلی ہوئی بےحیائی ہے اور نہایت برا راستہ ہے۔ )
منہیات میں سب سے پہلے قربت زنا کا ذکر
وہ اقدارِ حیا اور فضائل اخلاق جن پر اسلامی نظام کی عمارت استوار کی گئی ہے اور جن کی شکست و ریخت اسلام کسی طوربرداشت نہیں کرتا ان میں اہم ترین قدر شرم و حیا ہے۔ زنا سے اس بنیاد پر ضرب پڑتی ہے۔ اس لیے اسلام اسے ناقابل برداشت قرار دے کر انتہائی سخت سزائوں کے ذریعے اس کا وقوع مشکل سے مشکل بنا دیتا ہے۔ اس نے حکم یہ دیا کہ زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کا مطالبہ صرف یہ نہیں کہ مسلمان معاشرے میں زنا کا ارتکاب نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ یہ بدترین فعل جن اسباب اور مقدمات کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے انھیں ختم ہونا چاہیے۔ تعلیم کو ایسی باتوں سے پاک ہونا چاہیے جس سے سفلی جذبات کو غذا ملتی ہو۔ تعلیمی اداروں کے ماحول کو ایسا پاکیزہ ہونا چاہیے جس میں بےحیائی کے تصورات کے در آنے کا کم سے کم امکان ہو۔ ذرائع ابلاغ ایسے ہونے چاہئیں جن کے چلانے والے انتہا درجہ کے شرم و حیا کے مالک ہوں۔ وہ کسی بےحیائی کے شب ہے کو بھی برداشت کرنے کو تیار نہ ہوں۔ اور پھر افراد کو الگ ہدایات دی گئیں کہ تم اپنی آنکھوں کی حفاظت کرو۔ اپنے قلبی احساسات کو نامناسب مطالعہ سے آلودہ نہ ہونے دو ۔ دل میں اللہ کا خوف اور اس کی محبت پید اکرو۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب گرامی کی سیرت کا مطالعہ جاری رکھو۔ قدم کبھی کسی غلط جگہ کی طرف اٹھنے نہ پائیں۔ اس طرح سے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں زنا اور محرکاتِ زنا اور اسباب زنا کا خاتمہ کردیا جائے۔
آیت کے دوسرے حصے میں زنا کی ممانعت کی دلیل بیان ہوئی کہ یہ کھلی ہوئی بےحیائی اور نہایت ہی برا راستہ ہے۔ کھلی ہوئی بےحیائی کے بارے میں کچھ کہنا تو بیکار ہے کیونکہ ہمیشہ سے انسانوں نے اسے کھلی بےحیائی قرار دیا۔ آج کے ترقی یافتہ دور کو چھوڑ کر ہر دور میں مرد و عورت کے آزادانہ تعلق کو کبھی گوارا نہیں کیا گیا۔ قرآن کی اسی ہدایت کے نتیجے میں زنا اور تہمت زناکو فوجداری جرم قرار دیا گیا ‘ پردہ کے احکام جاری کیے گئے ‘ فواحش کی اشاعت کو سختی کے ساتھ روک دیا گیا ‘ شراب اور موسیقی اور رقص و تصاویر پر (جو زنا کے قریب ترین رشتہ دار ہیں) بندشیں لگائی گئیں اور ایک ایسا ازدواجی قانون بنایا گیا جس سے نکاح آسان ہوگیا اور زنا کے معاشرتی اسباب کی جڑ کٹ گئی۔
Ayah 17:33وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ ط وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا فَلاَ یُسْرِفِ فِّی الْقَتْلِ ط اِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 33)
(اور نہ قتل کرو اس جان کو جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت دی ہے مگر حق کے ساتھ، اور جس شخص کو ظلماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے ولی کو اختیار دیا ہے تو وہ قتل میں حدود سے تجاوز نہ کرے کیونکہ اس کی مدد کی گئی ہے۔ )
قتل کی ممانعت اور اسلامی قانون کا مزاج
اندازہ فرمایئے قتل نفس کا ذکر کرنے سے پہلے زنا کی حرمت کا ذکر کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی نگاہ میں کسی انسان کا قتل جو بہت بڑی برائی ہے زنا کی صورت میں کسی عفیفہ کی عفت اور حرمت کا قتل انسان کے قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ کاش مسلمان اس بات کو سمجھیں۔
بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف کسی انسان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے ‘ لیکن جن اہل علم نے اس سے خود کشی کی حرمت ثابت کی ہے ان کی رائے صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ جو شخص کسی شخص کو قتل کرتا ہے وہ بھی اللہ کی ایک حرمت کو قتل کرتا ہے کیونکہ اللہ نے نفس کو ایک حرمت دی ہے اور اس کا قتل حرام ٹھہرایا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنے نفس کو اپنے ہاتھوں قتل کرتا ہے وہ بھی حرمت نفس کو پامال کرتا ہے۔ کیونکہ اس کا نفس بھی ایک حرمت کا حامل ہے جسے اس نے قتل کردیا۔ جان اپنی ہو یا کسی اور کی اس کا مالک اللہ ہے۔ جو آدمی بھی اسے اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے وہ اللہ سے بغاوت کرتا ہے اور اس کی ایک مخلوق و مملوک چیز پر حملہ آور ہوتا ہے۔ لہٰذا جتنا بڑا جرم کسی دوسرے کو قتل کرنا ہے اتنا ہی بڑا جرم اپنے آپ کو قتل کرنا ہے۔ رہی یہ بات کہ آدمی بعض دفعہ حالات کے ہاتھوں تنگ آ کر خودکشی کرتا ہے تو یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ زندگی اللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے اور دنیا ایک امتحان گاہ۔ اللہ تعالیٰ جس طرح بھی ہمارا امتحان لے ہمیں اس پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ وہ اچھے حالوں میں رکھے تب بھی اس کا حق ہے اور وہ برے حالوں میں رکھے وہ بھی اس کا اختیار ہے۔ ہمیں تو بہر صورت امتحان دیتے رہنا چاہیے۔ اللہ نے جو آزمائش کا وقت رکھا ہے اس کو ختم کر کے امتحان گاہ سے بھاگ نکلنے کی کوشش بجائے خود غلط ہے۔ چہ جائیکہ یہ فرار ایک جرم عظیم کے ذریعے سے کیا جائے جسے اللہ نے صریح الفاظ میں حرام قرار دیا ہے۔
کسی صورت بھی کسی انسان کو قتل کرنا جائز نہیں۔ ہاں پانچ صورتیں ایسی ہیں جس میں کسی انسان کو قتل کرنا جائز ٹھہرایا گیا ہے۔
1 قاتل کو قتل کرنا ‘ جس پر قتل کا جرم ثابت ہوجائے۔ عدالت اس کے جرم کا اعلان کر دے اور حکومت اولیائے مقتول کو حق دے کہ یہ تمہارا مجرم ہے تم اسے چاہو تو قتل کردو۔ یا ان کی رضا مندی سے حکومت خود اسے قتل کر دے۔
2 اسلامی حکومت کے باغیوں کو قتل کرنا۔ بشرطیکہ ان پر بغاوت کا جرم ثابت ہوجائے۔
3 ایسے جرائم پیشہ لوگ جو ڈاکے ڈالیں ‘ آبادیوں پر حملہ کریں ‘ لوگوں کو قتل کریں۔ یہ جب گرفت میں آجائیں تو انھیں قتل کرنا جائز ہے۔
4 وہ شادی شدہ مرد یا عورت جو زنا کا ارتکاب کرے اور چار گواہوں کی گواہی یا ان کے اپنے اعتراف سے ان کا جرم ثابت ہوجائے ‘ تو انھیں سنگسار کیا جاتا ہے۔
5 وہ شخص جو اسلام سے مرتد ہوجائے۔ کسی شخص کو اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا لیکن اسلام لانے کے بعد اسلام سے نکلنے کی کوشش اسلامی حکومت سے بغاوت ہے۔ جس طرح ہر ملک اور ہر قانون کا باغی قابل سزا ہوتا ہے اسی طرح اسلامی قانون کا باغی بھی قابل سزا ہے۔ بشرطیکہ عدالتوں میں اسلامی قانون نافذ ہو اور اسلام کے مطابق اس کا کیس چلے۔
اس آیت میں یہ جو فرمایا گیا کہ ” جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا گیا ہے پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے اس کی مدد کی جائے گی “ اس کا مطلب یہ ہے کہ قتل کے مقدمے میں اصل مدعی مقتول کے اولیاء یعنی اس کے وارث ہیں۔ حکومت ان کی مدد کرنے کی پابند ہے۔ اس لیے اولیائِ مقتول کو اس کی اجازت نہیں کہ وہ جوش انتقام میں مجرم کے علاوہ دوسروں کو قتل کردیں۔ یا ان کا قاتل ان کے سپرد کیا جائے تو وہ اس کو عذاب دے دے کر ماریں۔ یا مار دینے کے بعد اس کی لاش پر غصہ نکالیں۔ یا خون بہا لینے کے بعد پھر اسے قتل کردیں۔ کیونکہ مقتول کے وارث مقدمے کے اصل مدعی ہیں ‘ انھیں شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ چاہیں تو قاتل کو قصاص میں قتل کردیں چاہیں تو خون بہا لے لیں اور چاہیں تو معاف کردیں۔ لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ خون بہا بھی لے لیں اور بعد میں موقع پا کر قاتل کو قتل بھی کردیں۔ جیسے ہمارے ہاں عام طور پر ہوتا ہے۔ یہ حد سے گزر جانا ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اسے قتل کے جرم میں پکڑا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔
Ayah 17:34وَلاَ تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلاَّ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ ص وَاَوْفُوْا بِالْعَھْدِ ج اِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْـْٔوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 34)
(اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو اس کے حق میں بہتر ہو، حتیٰ کہ وہ اپنی پختگی کی عمر کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو کیونکہ عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ )
مالِ یتیم کی حرمت
اس سے پہلے بھی میں ذکر کرچکا ہوں کہ اسلام نے پسماندہ طبقے کو جس طرح اٹھایا اور اس کی حفاظت کی اس میں سب سے زیادہ اہمیت یتیم کو دی گئی۔ سورة النساء میں خاص طور پر ان کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا گیا اور انتظامی اور قانونی دونوں طرح کی جو تدابیر اختیار کی گئیں۔ قرآن کریم میں بھی جا بجا ان کا ذکر ہے اور احادیث میں اس کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ اس کی تفصیل حدیث اور فقہ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
ایفائے عہد کی ہدایت
آیت کے دوسرے حصے میں حکم دیا گیا کہ ( عہد کی پابندی کرو، بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ )
یہ بھی انفرادی اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو اسی کو پوری قوم کی داخلی اور خارجی سیاست کا سنگ بنیاد ٹھہرایا گیا۔ اسلامی اخلاق میں ڈپلومیسی کے نام پر وعدے کی خلاف ورزی اور جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ سیاستدانوں میں یہ بات عام ہے کہ سیاسی وعدے پورا کرنے کے لیے نہیں ہوتے اور اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانا سیاستدان کا حق ہے۔ لیکن اسلام میں یہ ایک جرم ہے چاہے اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے۔ اس لیے جس طرح عہد کی پابندی افراد کے لیے ضروری ٹھہری اسی طرح اسلامی حکومت بھی اس کی پابند رہی اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اسلامی حکومتیں عہد و پیمان کو نبھاتی رہیں۔ تاریخ میں نقل کیا گیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ ( رض) نے قیصر سے جنگ بندی کا ایک معاہدہ کیا اور یہ طے کیا گیا کہ فلاں تاریخ تک جنگ بند رہے گی۔ چناچہ جب اس معاہدے کا آخری دن آیا تو آپ ( رض) نے آخری دن کا سورج غروب ہوتے ہی اپنی فوجیں اس کی مملکت میں داخل کردیں۔ بظاہر یہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں تھی کیونکہ معاہدے کی مدت گزر گئی تھی۔ فوجیں فتح کا پھریرا لہراتے ہوئے آگے بڑھتی جا رہی تھیں کہ پیچھے سے سر پٹ دوڑتا ہوا ایک سوار نظر آیا۔ اسے دیکھ کر امیر معاویہ رک گئے۔ جب وہ قریب آیا تو دیکھا کہ ایک مشہور صحابی عمرو بن عبسہ ( رض) ہیں جنھوں نے ہاتھ بلند کیا ہو اتھا اور وہ بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ وفائً لاغدرًا ” وعدہ توڑنا نہیں پورا کرنا ہے۔ “ امیر معاویہ ( رض) نے حیران ہو کر پوچھا کہ ” ہم نے کون سا وعدہ توڑا ؟ “ انھوں نے بتایا کہ ” معاہدے کی مدت ختم بھی ہوجائے تب بھی حملہ کرنے سے پہلے دشمن کو بتلانا ضروری ہے۔ بیخبر ی میں حملہ کرنا یہ ایک طرح کی وعدہ خلافی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ “ امیر معاویہ نے اسی وقت مفتوحہ علاقے خالی کردیے اور فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ صرف اخلاقی نصیحتیں نہ تھیں ‘ بلکہ اسلامی حکومتوں کے رہنما اصول تھے۔
Ayah 17:35وَاَوْفُوا الْکَیْلَ اِذَا کِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ ط ذَلِکَ خَیْرٌوَّاَحْسَنُ تَاوِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 35)
(اور جب تم ناپو تو ناپ پوری رکھو اور وزن صحیح ترازو سے کرو، یہی بہتر اور مآل کار کے اعتبار سے خوب تر ہے۔ )
ایفائے کیل و وزن کی ہدایت
یہ ہدایت بھی صرف افراد کے باہمی معاملات تک محددو نہ رہی بلکہ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد یہ بات حکومت کے فرائض میں داخل ہوگئی کہ وہ منڈیوں اور بازاروں میں اوزان اور پیمانوں کی نگرانی کریں اور تطفیف کو بزور بند کردیں۔ پھر اسی سے یہ وسیع اصول اخذ کیا گیا کہ تجارت اور معاشی لین دین میں ہر قسم کی بےایمانیوں اور حق تلفیوں کا سدباب کرنا حکومت کے فرائض میں سے ہے۔
Ayah 17:36وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ط اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَا وَالْفُئَوا دَکُلُّ اُوْلٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْـْٔوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 36)
(اور اس کے درپے نہ ہوا کرو جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو کیونکہ کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک چیز کی پرسش ہونی ہے۔ )
ظن و گمان کی بجائے علم کی پیروی کی ہدایت
” اس دفعہ کا منشا یہ ہے کہ لوگ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں وہم و گمان کی بجائے علم کی پیروی کریں۔ اسلامی معاشرے میں اس منشاء کی ترجمانی وسیع پیمانے پر اخلاق میں ‘ قانون میں ‘ سیاست اور انتظام ملکی میں ‘ علوم و فنون اور نظام تعلیم میں ‘ غرض ہر شعبہ حیات میں کی گئی۔ اور ان بیشمار خرابیوں سے فکر و عمل کو محفوظ کردیا گیا جو علم کی بجائے گمان کی پیروی کرنے سے انسانی زندگی میں رونما ہوتی ہیں۔ اخلاق میں ہدایت کی گئی کہ بدگمانی سے بچو اور کسی شخص یا گروہ پر بلا تحقیق کوئی الزام نہ لگائو۔ قانون میں یہ مستقل اصول طے کرلیا گیا کہ محض شب ہے میں کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ تفتیش جرائم میں یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ گمان میں کسی کو پکڑنا اور مار پیٹ کرنا یا حوالات میں دے دینا قطعی ناجائز ہے۔ غیر قوموں کے ساتھ برتائو میں یہ پالیسی متعین کردی گئی کہ تحقیق کے بغیر کسی کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا جائے اور نہ مجرد شبہات پر افواہیں پھیلائی جائیں۔ نظام تعلیم میں بھی ان نام نہاد علوم کو ناپسند کیا گیا جو محض ظن و گمان اور لا طائل قیاسات پر مبنی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عقائد میں اوہام پرستی کی جڑ کاٹ دی گئی اور ایمان لانے والوں کو یہ سکھایا گیا کہ صرف اس چیز کو مانیں جو خدا اور رسول کے دیے ہوئے علم کی رو سے ثابت ہو۔ “ (تفہیم القرآن)
Ayahs 17:37–39وَلاَ تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ج اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلاً ۔ کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا۔ ذٰلِکَ مِمَّآ اَوْحٰٓی اِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَۃِ ط وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَفَتُلْقٰی فِیْ جَھَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 37۔ 38۔ 39)
(اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کے طول کو پہنچ سکتے ہو۔ ان سب باتوں کی برائی تمہارے رب کے نزدیک نہایت ناپسندیدہ ہے۔ یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو اِلٰہ مت بنائو کہ تم ملامت زدہ اور راندہ ہو کر جہنم میں جھونک دیے جاؤ۔ )
غرور وتکبر کی ممانعت
مراد یہ ہے کہ جباروں اور متکبروں کی روش سے بچو کیونکہ جو شخص اکڑ کر اور اترا کر چلتا ہے وہ زمین پر پائوں مارتا ہوا اور گردن اٹھا کر چلتا ہے۔ یہ متکبروں اور مغروروں کی چال ہے۔ تم اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے ہو تم کبھی ان کی طرح نہ چلنا یعنی متکبر بننے کی کوشش نہ کرنا۔ ویسے بھی انسان کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ وہ زمین پر پائوں مار مار کر چلتا ہے حالانکہ وہ زمین کو پھاڑ نہیں سکتا۔ اسی طرح وہ سینہ تان کر اور گردن اور سر اونچا کر کے چلنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ وہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ نہیں سکتا۔ جس خدا کی قدرت یہ ہے کہ اس نے تمہارے پائوں کے نیچے یہ طویل و عریض زمین بچھادی ‘ جس کے اوپر بڑے بڑے جانور دوڑتے بھاگتے پھرتے ہیں اور کتنے چھوٹے چھوٹے حشرات رینگتے پھرتے ہیں ‘ انہی جانوروں میں سے ایک تم بھی ہو۔ پھر یہ فلک بوس پہاڑ دیکھو جو تمہارے سامنے کھڑے کردیے گئے ہیں۔ تم ان کی بلندیوں کو نہیں پہنچ سکتے تمہاری حیثیت تو ان کے مقابلے میں ایک گلہری جیسی بھی نہیں ‘ تو اس کی زمین پر اکڑنے اور اترانے کا کیا فائدہ۔ آدمی کے لیے ضروری ہے کہ اپنی حیثیت کو پہچانے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے سامنے ہمیشہ سرفگندہ رہے۔
یہ ہدایت بھی محض ایک نصیحت نہیں بلکہ انفرادی اور اجتماعی اخلاق کی بنیاد ہے۔ اسی ہدایت کا فیض تھا کہ مدینہ طیبہ میں جو حکومت اس منشور پر قائم ہوئی ‘ اس کے فرمانروائوں نے حکومت کی نازک ذمہ داری سنبھال کر بھی اپنے آپ کو درویش ثابت کیا۔ ان کے گورنروں کو بازاروں میں گھومتے ہوئے دیکھ کر لوگ ان کے سروں پر اپنا سامان رکھ دیتے تھے کیونکہ ان کی ظاہری حالت قلیوں سے مختلف نہیں تھی۔ ان کا بڑے سے بڑا سپہ سالار بھی اللہ کا ادنیٰ بندہ تھا۔ انہوں نے زمین کا نقشہ بدل ڈالا ‘ لیکن کبھی بھی ان کی نشست و برخاست ‘ چال ڈھال ‘ لباس ‘ مکان ‘ سواری اور عام برتائو میں تکبر اور نخوت کا شائبہ بھی پید انہ ہوا۔
ان کی حکومت سے ہے فاش یہ رَمزِ غریب
سلطنتِ اہل دیں فَقر ہے شاہی نہیں
یہ ہے وہ چودہ نکاتی منشور جس کی بنیاد پر وہ اسلامی ریاست وجود میں آئی جس نے دنیا کو نئی تہذیب ‘ نیا تمدن ‘ نیا نظام ‘ نئے اخلاق ‘ نئے طور اطوار اور انسانیت کے نئے اصول مہیا کیے ‘ جن اصولوں پر عمل کر کے صدیوں تک مسلمانوں نے دنیا کی قیادت کی اور وہ جہاں بھی گئے اپنے ساتھ انسانیت کا نیا شعور لے کے گئے اور کفر کی تاریکیوں میں نئی شمعیں جلائیں۔ لیکن افسوس جب یہ امت مسلمہ جسے دنیا کی امامت و قیادت کے منصب پر فائز کیا گیا تھا اپنی اصل حیثیت اور منصب گم کر بیٹھی تو رفتہ رفتہ آج اس حال کو پہنچ گئی ہے کہ وہ قومیں اسے ٹھوکریں مار رہی ہیں جنھیں چند سو سال پہلے مسلمانوں کے ایک جرنیل نے ٹھوکریں مار کر مشرق وسطیٰ سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا جو یورپ آج مسلمانوں پر ہر طرح کے مظالم توڑ رہا ہے اس نے کبھی مسلمانوں کو بری نگاہ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کی تھی۔ انھیں آج اپنے تہذیب و تمدن پر ناز ہے اگر مسلمان اندلس میں نہ جاتے تو یورپ کو کبھی تہذیب کا شعور بھی پیدا نہ ہوتا۔ سقوطِ بغداد اور سقوط غرناطہ نے مسلمانوں کی علمی وراثت کو یورپ تک پہنچایا اور انہوں نے اس پر شب و روز محنت کر کے آج اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا ظالم ثابت کیا۔ آج ان کے پاس قوت ہے ‘ لیکن وہ قوت ظلم کے لیے کام میں لائی جا رہی ہے۔ ان کے پاس علم ہے جسے تباہ کن آلات کی ایجاد کے لیے صرف کیا جا رہا ہے۔ ان کے پاس تہذیب ہے جس نے انسانیت کو ننگا کردیا ہے۔ اس کے پاس تمدن ہے جس نے انسانوں میں طبقات پیدا کردیے ہیں۔ وہ بڑی سے بڑی ایجاد کرنے اور بڑے سے بڑے معرکہ انجام دینے کی قدرت رکھتا ہے لیکن ابھی تک اس نے انسانوں کی طرح چلنا نہیں سیکھا۔ اس نے انسانوں کی طرح سوچنا نہیں سیکھا۔ اس نے انسانوں کی طرح حکمرانی کرنے کے آداب نہیں سیکھے۔ آج از سرِ نو ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ مسلمان اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور وہ مشعل حق لے کر اٹھیں جس کے نہ ہونے سے یہ دنیا اندھیرے میں ڈوبتی چلی جا رہی ہے اور ہر طرف شور مچا ہوا ہے کہ ؎
یہ روشنی کا زمانہ یہ ظلمتوں کا ورود
اس انجمن کے خدائو بڑا اندھیرا ہے
اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں عقیدہ توحید سے اسلامی منشور کا آغاز فرمایا تھا جسے مدینہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد بننا تھا۔ اور کیسی عجیب بات ہے کہ عقیدہ توحید پر اس کا اختتام فرمایا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ توحید اسلام کی ساری تعلیمات کے لیے حصار اور شہر پناہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حقیقت کے پیش پا افتادہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ انسان کی شخصیت کی تعمیر کا آغاز اس بنیادی نکتہ سے ہوتا ہے کہ اس کا آقا کون ہے اور وہ کس کا بندہ ہے۔ اور انسانی اجتماعیت کا آغاز اور اختتام بھی اسی کا مرہونِ منت ہے کہ اس بات کا فیصلہ ہوجائے کہ ملک کا مقتدرِاعلیٰ کون ہے اور وہ کون ذات ہے جس کے سامنے جس طرح سب جھکتے ہیں اسی طرح انسان کی مرضیات بھی سربسجود ہوتی ہیں اور وہی ذات ہے جسے آئین اور قانون دینے کا حق ہے۔ یہ حقیقت جیسا کہ میں نے عرض کیا آغاز بھی ہے اور اختتام بھی۔ اس لیے اس کا لازمی تقاضا تھا کہ بحث کو اسی سے شروع کیا جاتا اور اسی پر ختم کیا جاتا۔
Ayah 17:40اَفَاَصْفٰـکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا ط اِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلاً عَظِیْمًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 40)
(کیا تمہارے رب نے تمہارے لیے تو بیٹے مخصوص کیے اور اپنے لیے فرشتوں میں سے بیٹیاں بنالیں، بیشک تم ایک بہت بڑی بات کہتے ہو۔
شرک کی بدترین صورت
توحید کو ایک پیش پا افتادہ اور حقیقتِ ثابتہ کے طور پر پیش کرنے کے بعد مشرکینِ مکہ کے عقیدے پر گرفت فرمائی ہے کہ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود، اس کی وحدانیت، اس کا حاکم حقیقی ہونا اور اس کا خالق کائنات ہونا سب سے بڑی حقیقت ہونے کے باوجود تم نے عقیدے کے طور پر جس بےہودگی کو اختیار کر رکھا ہے اس کا اس حقیقت کے مقابلے میں کیا جواز ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی نہایت محترم اور پاکیزہ مخلوق ہیں۔ وہ کارکنانِ قضاء و قدر بھی ہیں، لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ ایک مخلوق ہیں۔ مخلوق اور خالق کے درمیان آقا اور غلام کا رشتہ تو ہوسکتا ہے، خدائی میں شریک کا رشتہ تو نہیں ہوسکتا۔ کہاں خالق کائنات اور کہاں ایک معمولی مخلوق، کہاں وہ بےنیاز ذات اور کہاں سرتاپا احتیاج ایک مخلوق، کہاں وہ احد، صمد، حیی اور قیوم ذات اور کہاں ایک فانی زندگی اور زندگی کی ضروریات کی محتاج ذات۔ جو قوم ان دونوں میں فرق کرنے سے عاجز ہے اس کی دماغی صلاحیت کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے۔ اور اس پر بھی مزید ستم یہ ہے کہ تم بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہو۔ کتنے ایسے انسانیت کے دشمن ہیں کہ جب ان کو یہ خبر ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیٹی عطا کی ہے تو شرم ساری سے ان کے چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور ذلت کے احساس سے لوگوں سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں، لیکن ادھر حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات مانتے ہوئے بھی اس کے لیے بیٹیاں تجویز کی جارہی ہیں جو اپنے لیے باعث ذلت ہیں اور اپنے لیے بیٹے مخصوص کیے جارہے ہیں۔ ذلیل اور حقیر چیز ہمیشہ حقیر آدمی کی طرف منسوب ہوتی ہے اور عظیم چیزیں عظمت والوں کی طرف۔ ان کی ان جسارتِ ناروا اور بےہودگی پر تو زمین پھٹ جانی چاہیے کہ حقیر چیز کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں اور عظیم اور عزیز چیز کی نسبت اپنی طرف۔ یہ کس قدر بڑی بات ہے جسے تم بار بار کہتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی بردباری کا امتحان لیتے ہو۔
جمود فسادِعقل کا باعث ہوتا ہے
اندازہ فرمایئے کہ جب کوئی قوم اپنے عقائدِ فاسدہ میں جامد ہو کر رہ جاتی ہے تو اسے بالکل سامنے کی باتیں بھی سمجھ میں نہیں آتیں۔ اولاً تو توحید اتنی بڑی حقیقت ہے کہ اس کے مقابلے میں شرک ایک بےحقیقت چیز ہے۔ اس لیے اس میں کبھی التباس نہیں ہونا چاہیے تاہم ہم تسلیم کیے لیتے ہیں کہ صدیوں تک شرک میں ملوث رہنے کی وجہ سے ان کے اندر توحید کا احساس مٹ گیا ہے، اس لیے وہ یہ بات سمجھنے میں دشواری محسوس کررہے ہیں، لیکن عزت و ذلت اور اچھے اور برے انتساب کی شناخت قریش کے لیے تو کم از کم مشکل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ تو ان چیزوں میں بڑے حساس واقع ہوئے تھے لیکن شرک کی مسلسل آلودگی نے ان کی قلبی کیفیات کو اس قدر گدلادیا ہے کہ وہ ہر طرح کی شناخت اور ہر طرح کے امتیاز سے بھی محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کی اسی کیفیت کو قرآن کریم نے اگلی آیت کریمہ میں ایک دوسرے پہلو سے واضح فرمایا ہے۔
Ayah 17:41وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّکَّرُوْا ط وَمَا یَزِیْدُ ھُمْ اِلاَّ نُفُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 41)
(ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ وہ یاددہانی حاصل کریں لیکن یہ چیز ان کی بیزاری ہی میں اضافہ کیے جارہی ہے۔ )
تصریف کا مفہوم
تصریف کے معنی پھیرنے اور گردش دینے کے ہیں۔ کسی حقیقت کو مختلف اسالیب اور گو ناگوں طریقوں سے واضح کرنا کہ جس سے سمجھنے میں کوئی کمی باقی نہ رہ جائے، اسے تصریف کہتے ہیں۔ یہ بالکل وہی بات ہے کہ جس کو انیس نے کہا تھا ؎
اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں
قرآن کریم نے توحید کے مضمون کو اتنے مختلف طریقوں سے دل و دماغ میں اتارنے کی کوشش کی ہے کہ کوئی کند ذہن آدمی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے سمجھنے میں دشواری محسوس ہورہی ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی متعصب اور ہٹ دھرم آدمی جو اپنی بات پہ ہرحال میں باقی رہنا چاہے، اسے سمجھانا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح وہ شخص بھی جس نے زندگی ایک مختلف ماحول میں گزاری ہو جس کی وجہ سے اس کا ایک خاص ٹیسٹ بن گیا ہو۔ اس کے عقلی پیمانے خاص اندازوں میں ڈھل چکے ہوں، اس کی ترجیحات یکسر بدل گئی ہوں، اس کے اندر آہستہ آہستہ اک نیا شخص وجود میں آجاتا ہے جو پہلے شخص سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ آپ اسے پہلے جیسا شخص بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ شخص پہلے شخص سے رشتہ کاٹ چکا ہے۔ آپ اپنی کوشش میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ جو بچے ملاوٹ زدہ چیزیں کھا کر جوان ہوئے ہیں انھیں خالص چیزیں بیمار کردیتی ہیں۔ بناسپتی گھی کھانے والا مکھن اور خالص گھی کی غذائیت سے نہ صرف کہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا بلکہ اس کی خوشبو بھی اسے بدبو معلوم ہوتی ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی
قرآن کریم نے بھی نہ جانے کتنے اسالیب بدل کر مشرکین کو عقیدہ توحید سمجھانا چاہا اور شرک سے نفرت دلانا چاہی، لیکن بت پرستی اور شرک کی چند در چند آلودگیوں نے ان کے دل و دماغ اور ان کی روحانی قوتوں کو ایسا مسموم کیا کہ وہ صرف عقیدہ توحید ہی کیا ہر خیر کی بات سے محروم ہوگئے۔
سمجھ میں نکتہ توحید آتو سکتا ہے
ترے ذہن میں بت خانہ ہو تو کیا کہئے
اس محرومی کا نتیجہ یہ ہے کہ انھیں جیسے جیسے توحید کے قریب لانے اور یاددہانی حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے ویسے ویسے ان کے اندر حق کے خلاف جذبہ تنفر پیدا ہوتا جاتا ہے۔ گویا کہ وہ قرآن کریم کی اس تشبیہ کی صحیح تعبیر ہیں۔
کَاَنَّہُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَۃٌ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ ۔
Ayahs 17:42–43قُلْ لَّوْکَانَ مَعَہٗٓ اٰلِھَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لاَّبْتَغَوْا اِلٰی ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 42)
(کہہ دیجیے اگر اس کے ساتھ کچھ اور اِلٰہ بھی ہوتے جس طرح یہ کہتے ہیں تو وہ تلاش کرتے عرش والے کی طرف کوئی راستہ (چڑھائی کردیتے) ۔
توحید پر ایک عقلی اور واقعاتی دلیل
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل پیش فرمائی گئی ہے کہ مشرک لوگ کبھی تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے اِلٰہ ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور کبھی کائنات کے اس نظام کو کسی حکومت کے نظام پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہتے کہ خدائے اعظم اور معبودِ اعظم تو ایک ہی ہے، البتہ اس کے نیچے بہت سی دیویاں اور دیوتا ہیں جن کو اس نے اپنے اختیارات سونپ رکھے ہیں۔ کوئی قسمتیں بناتا اور بگاڑتا ہے، کوئی زمین کی دیکھ بھال کررہا ہے، کوئی آسمانوں کے نظام کو سنبھالے ہوئے ہے، کسی کے ہاتھ میں زندگی کا سررشتہ ہے اور کسی کے قبضے میں رزق کی کنجیاں ہیں۔ پروردگار ارشاد فرماتا ہے کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اللہ کی ذات کی طرح اور بھی خدا ہیں تو اس سے زیادہ نامعقول بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے کہ اس کائنات کا نظام خود بول رہا ہے کہ اس کی ایک ایک کڑی باہم ایک دوسرے کے ساتھ اس قدر پیوست ہے کہ اسے ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک دانہ گندم اس وقت تک نہیں اگتا اور ایک گٹھلی سے اس وقت تک سوئی نہیں پھوٹتی جب تک تمام عناصر بروئے کار نہیں آجاتے۔ زمین کی زرخیزی اپنا کام کرتی ہے، ہوا اپنا رول ادا کرتی ہے، سورج کی گرمی اپنی خدمت انجام دیتی ہے، پانی آبیاری کا فرض نبھاتا ہے، موسم اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے۔ غرضیکہ پورے گردوپیش میں جس جس کو جو فرض سونپا گیا ہے وہ اسے ادا کرتا ہے تو ایک دانہ گندم اگتا ہے۔ اور گھاس کا ایک تنکا سر اٹھاتا ہے۔ جس کائنات کے نظام کی وحدت کا یہ عالم ہو اس میں دوسرے خدا کی گنجائش کہاں۔ اگر یہاں دوسرا خدا ہوتا تو کبھی تو اس نظام میں کوئی تبدیلی آتی۔ سورج مشرق کی بجائے کبھی تو مغرب سے نکلتا، کبھی تو زمین کی گردش میں فرق آتا، کبھی تو چاند اپنے مدار کو چھوڑتا، کبھی ثوابت اور سیارے اپنے فرائض میں کمی کرتے، کبھی زندگی اور موت ایک دوسرے سے ہم عناں ہوتیں، کبھی دماغ اپنی حدود سے تجاوز کرتے، لیکن آج تک کسی چیز میں فرق واقع نہ ہونا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کا نظام ایک کے ہاتھ میں ہے اور وہی اس کائنات کا خالق بھی ہے اور حاکم بھی۔
اور اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ خدائے اعظم تو ایک ہی ہے لیکن اس کے نیچے بہت سے چھوٹے حکمران ہیں جن میں اختیارات کی تقسیم کردی گئی ہے۔ تو پھر اس سوال کا کوئی جواب ہونا چاہیے کہ اس زمین کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس زمین پر حکومتیں بدلتی اور بگڑتی رہتی ہیں اور اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ہر صاحب اختیار بڑے اختیار کی ہوس میں اپنی حدود سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔ ہر صوبیدار مرکز کو ہتھیانے کی کوشش میں ہوتا ہے جس کے نتیجے میں مرکز کمزور ہوجاتا ہے اور صوبیدار خودمختار ہوجاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک حکومت کئی حکومتوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ اس کائنات میں آخر یہ حادثہ کیوں نہیں ہوا جبکہ اقتدار کی فطرت کبھی نہیں بدلتی۔ سعدی مرحوم نے ٹھیک کہا :
ہفت اقلیمے بگیرد پادشاہ
ہم چناں در بند اقلیمے دگر
کہ ایک بادشاہ اگر سات ملکوں پر بھی قابض ہوجائے تو اس پر کبھی قناعت نہیں کرتا، وہ کسی اور ملک پر قبضہ کرنے کے بارے میں فکرمند رہتا ہے لیکن اس کائنات کے اختیارات رکھنے والوں نے آج تک کبھی کوئی ایسی کوشش نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اقتدار کی فطرت بدل گئی ہے وجہ یہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی اقتدار کا مالک نہیں۔ دیوتا اور دیویاں محض ایجادِ بندہ ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں۔
سروری زیبا فقط ذات بےہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری
سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 43)
(وہ پاک اور بہت برتر ہے ان باتوں سے جو یہ کہتے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ ہر شرک سے منزہ ہے
مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جن مختلف قوتوں کو شریک کر رکھا تھا ان کی طرف اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات بھی منسوب کر رکھی تھیں۔ کسی کو کسی قوت کا امین سمجھتے تھے اور کسی کو کسی قوت کا۔ اور انہی کے آئینہ میں وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو پہچاننے کی کوشش کرتے تھے۔ سبحان کلمہ تنزیہ ہے۔ کسی لمبی چوڑی دلیل دینے کی بجائے پروردگار کا طریقہ یہ ہے کہ وہ لغو سے لغو بات جو اس کی طرف منسوب کی جاتی ہے اسے رد کرنے کے لیے اس لفظ کا استعمال فرماتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جن خرافات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کررہے ہو، اللہ تعالیٰ ان سے ہر طرح سے پاک اور برتر ہے۔ کوئی شخص سورج اور چاند کے چہروں پر سیاہیاں پھینکنے کی کوشش کرے اور اپنے تئیں یہ سمجھے کہ میں شاید ایسا کرسکتا ہوں تو اس کا جواب یہ نہیں کہ اسے روشنی اور سیاہی کا سبق پڑھایا جائے بلکہ اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ سورج اور چاند تمہاری اس لغو حرکت سے بہت بلند واقع ہوئے ہیں۔ نہ تم سورج کی روشنی کو ماند کرسکتے ہو اور نہ تم چاند کی چاندنی کو گدلا کرسکتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف جو ان مخلوقات سے بےحد بلند ہے کسی غلط بات کا انتساب اس سے بھی زیادہ حماقت ہے۔
Ayah 17:44تُسْبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْمِنَّ ط وَاِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰـکِنْ لاَّ تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ ط اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 44)
(اسی کی تسبیح کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں۔ اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے، بیشک وہ بڑا بردبار اور بخشنے والا ہے۔ )
تمام کائنات اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کرتی ہے
مشرکین جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں کہتے تھے اور شرک کی جو مختلف شکلیں انھوں نے اختیار کر رکھی تھیں لفظ سبحان سے ان تمام کو رد کردینے کے بعد ایک اور حیرت انگیز دلیل ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ تم جو انسان ہو تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے ایک محدود دائرے میں آزادی عطا کر رکھی ہے۔ تم چاہو تو اسے تسلیم کرو، چاہو تو اس ذات ذوالجلال کا انکار کردو۔ اسی طرح تم چاہو تو اس کی وحدانیت کا اقرار کرو اور چاہو تو اس کی طرف قسم قسم کے شرکیہ اقوال و افعال کو منسوب کردو۔ تمہاری اس زندگی میں تم پر کوئی جبر نہیں کیا جائے گا۔ لیکن تمہارے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ایک وسیع دنیا ہے اور پھر تمہارے سروں پر گنبد آبگینہ رنگ جو چھتری تانے کھڑا ہے اور پھر اس کی مسلسل سات تہیں ہیں ان کے اندر نہ جانے کتنی مخلوقات بس رہی ہیں اور جس سمندر نے تمہیں گھیر رکھا ہے اس کے اندر بھی ایک دنیا آباد ہے۔ تم اگر انھیں جان سکو تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ ان میں سے ہر مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے تسبیح کا پابند کر رکھا ہے۔ اور پھر خالی تسبیح نہیں بلکہ ایسی تسبیح جس میں حمد بھی شامل ہے۔ فرق دونوں میں یہ ہے کہ تسبیح اللہ تعالیٰ کو ان تمام نسبتوں اور صفتوں سے بری اور بالاتر قرار دینے کا نام ہے جو اس کی اعلیٰ صفات اور شان کے منافی ہوں۔ یہ گویا ایک مکمل تنزیہہ کا عمل ہے لیکن جب تسبیح کے ساتھ حمد کا لفظ شامل ہوجاتا ہے تو پھر تنزیہہ کے ساتھ اثبات کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ البتہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تمام کائنات اور اس کا ذرہ ذرہ تسبیح کر رہا ہے تو ہم اسے محسوس کیوں نہیں کرتے اور ہمارا دائرہ علم اس سے تہی دامن کیوں ہے۔ قرآن کریم نے اس کے جواب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جو تسبیح کرتے ہیں تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک رمز ہے۔ البتہ اس کے بعض پہلو ایسے ہیں جن کا کچھ نہ کچھ ادراک عقل و دانش سے ہوتا ہے اور کچھ صحبت نبوت اور اس راستے پر چلنے سے۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے وہ ہمیں یہ بات بتاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک تکوینی نظام بھی ہے جس کا اظہار ہر مخلوق اپنی زبان حال سے کر رہی ہے۔ چناچہ وہی اس کی تسبیح ہے اور اسی کی وہ پابند ٹھہرائی گئی ہے۔ پہاڑ استادہ ہیں، چشمے ابلتے ہیں، آبشار گرتی ہے، پانی بہتا ہے، نباتات اگتی ہیں، درخت سرو قامت کھڑے ہیں، چرند دوڑتے ہیں، پرند اڑتے ہیں اور حشرات الارض رینگتے ہیں۔ ہر ایک کی اپنی ساخت، اپنی خوراک اور اپنا شغل ہے، وہ اسی کے پابند ہیں اور یہی پابندی ان کی تسبیح ہے۔ اگر ایک قدم آگے بڑھایا جائے تو وہ انسان جو اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کرتے ہیں لیکن ان کے معمولات اسی کے قانون کے پابند ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نافذ کر رکھا ہے اور یہ پابندی ان کی تسبیح ہے۔ وہ پائوں سے چلتے ہیں، دماغ سے سوچتے ہیں، ناک سے سونگھتے ہیں، ہاتھ سے پکڑتے ہیں، زبان سے بولتے ہیں، کانوں سے سنتے ہیں لیکن ایک احساس وہ ہے جو صحبت نبوت سے نصیب ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی مٹھی میں کنکروں کا تسبیح پڑھنا، پہاڑوں کا حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ صبح و شام تسبیح کرنا، پتھروں کا اللہ تعالیٰ کی خشیت سے گر جانا اور پھٹ جانا، یہ ان کی تسبیح ہے اور جس کا ادراک اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ حضرت امام بخاری ( رح) نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہم کھانے کی تسبیح کی آواز سنا کرتے تھے جبکہ وہ کھایا جارہا ہو۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھاتے تو کھانے کی تسبیح کی آواز سنا کرتے تھے۔ صحیح مسلم میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ میں مکہ مکرمہ میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو بعثت و نبوت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا اور میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں اور اسطوانہ حنانہ کے رونے سے تمام لوگ واقف ہیں اور صحابہ ( رض) نے اس وقت اسے ہچکیاں لیتے ہوئے سنا جب حضور ﷺ نے اسے اپنے ساتھ لگا کر پیار کیا۔
ان روایات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے البتہ ہم ان کی تسبیح کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس پروردگارِ عالم کی تسبیح کائنات کی ہر مخلوق کر رہی ہے اگر انسانوں کی ایک محدود تعداد اسے ماننے سے انکار کردے یا اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے تو اس کی شان میں کیا کمی آئے گی۔ البتہ ایک دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو اس حوالے سے اس کی شان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے نہ ماننے والے اور اس کے ساتھ شرک کرنے والے کتنے بےخوف ہو کر یہ سب کچھ کر رہے ہیں لیکن وہ خداوند ذوالجلال جو بےپناہ قدرتوں کا مالک ہے کبھی ان سے انتقام نہیں لیتا۔ اپنے نبیوں کے ذریعے انھیں بار بار سمجھانے کی کوشش تو کرتا ہے تاکہ وہ اپنے برے انجام سے بچ جائیں لیکن سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اس لیے اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بردبار ہے، ان کی ان باتوں اور حرکتوں سے ان پر آسمان گرپڑنا چاہیے تھا لیکن وہ بردباری کا ثبوت دے رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی مغفرت کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں جب بھی زندگی بھر کے مجرم اس کے دروازے پر دستک دیتے ہیں تو کبھی انھیں مایوسی نہیں ہوتی۔