17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsروح القرآن

Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

(وہ آپ ﷺ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیے ! کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم بس تھوڑا سا علم دیے گئے ہو۔

وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ ط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَآ اُوْتِیْـتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 85) (وہ آپ ﷺ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیے ! کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم بس تھوڑا سا علم دیے گئے ہو۔ ) روح سے متعلق سوال کا جواب سیاق وسباق کی روشنی میں اگلی آیات میں ان اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو مخالفین قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی رسالت کے حوالے سے کرتے تھے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کے ایسے ہی ایک سوال کا جواب ہے۔ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور انھیں بتاتے کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی کتاب کی ہیں جو مجھ پر نازل ہوئی ہے تو وہ مختلف طریقوں سے اس کا اثر زائل کرنے کی کوشش کرتے۔ انھیں کوششوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ یہ پوچھتے کہ یہ قرآن تمہیں کون سکھاتا ہے یا کون لکھ کردیتا ہے۔ اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ قرآن کریم کی زبان اور اس میں بیان کیے جانے والے مضامین نبی کریم ﷺ بلکہ پوری نوع انسانی کی بساط سے بلند ہیں۔ آنحضرت ﷺ انھیں میں پیدا ہوئے، پلے بڑھے اور زندگی کا بیشتر حصہ گزرا، اس لیے آپ ﷺ کا علم اور آپ ﷺ کی معلومات قریش سے مختلف نہ تھیں۔ قریش جب قرآن کریم میں ایک نئی صورتحال کا سامنا کرتے تو انھیں یہ سوال پریشان کرتا کہ آخر محمد ﷺ یہ باتیں کہاں سے سیکھتے ہیں اور یہ زبان انھیں کون سکھاتا ہے۔ چناچہ یہی سوال انھوں نے آنحضرت ﷺ سے کیا۔ اس سوال سے ان کا منشا یہ تھا کہ یہ کتاب کہاں سے آتی ہے ؟ اس کا منبع کیا ہے اور یا یہ پوچھنا تھا کہ اس کا لانے والا کون ہے ؟ چناچہ اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ اس کتاب کا تعلق وحی الٰہی سے ہے اور اسی وحی کو قرآن کریم نے روح کے نام سے یاد کیا ہے۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وحی کو لانے والا وہ فرشتہ ہے جسے روح کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ تمہیں اس روح کی حقیقت سمجھائی جائے تو یہ بات تمہارے لیے مشکل ہے۔ اس لیے کہ وحی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کے دل پر کیسے اترتی ہے اور اس کی کیفیت کیا ہوتی ہے ؟ کیفیتیں کبھی کسی کو سمجھائی نہیں جاسکتیں۔ وہ وہی جانتا ہے جس پر وہ کیفیت وارد ہوتی ہے۔ وحی کی حقیقت سے اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے سوا کوئی آگاہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ کسی اور کو اس سے سابقہ نہیں پڑتا۔ اور جہاں تک وحی لانے والے فرشتے کا تعلق ہے، وہ بھی صرف نبیوں اور رسولوں پر اترتا ہے۔ ان کے علاوہ اس کی شناخت کسی اور کو حاصل نہیں۔ آیت کی تشریح میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ سیاق وسباق کے عین مطابق ہے۔ اس آیت سے پہلے بھی تین آیتوں میں قرآن کریم کا ذکر ہے۔ اور اس کے بعد کی تین آیتوں میں بھی قرآن کریم ہی کا ذکر ہے۔ اور یہ بات کسی طرح بھی قابل فہم نہیں ہوسکتی کہ سیاق وسباق سے بالکل تعلق توڑ کر درمیان میں ایک نئی آیت نازل کردی جائے۔ اور دوسری بات یہ کہ قرآن کریم نے خود روح کے بارے میں مختلف مواقع پر جو باتیں فرمائی ہیں ان میں یہ مفہوم بہت نمایاں ہے۔ چناچہ سورة مومن میں فرمایا گیا ہے کہ یُلْقِیْ الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَائُ مِنْ عِبَادِہٖ ” وہ اللہ، اپنے حکم سے اپنے جس بندے پر چاہتا ہے روح نازل کرتا ہے، یعنی وحی نازل کرتا ہے۔ “ سورة شوریٰ میں فرمایا گیا ہے کَذَالِکَ اَوْ حَیْنَا اِلَیْکَ رُوْحَاً مِنْ اَمْرِنَا ” اور اسی طرح ہم نے آپ ﷺ کی طرف ایک روح اپنے حکم سے بھیجی “ اس سے مراد وحی بھی ہوسکتی ہے اور حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں۔ اور تیسری یہ بات کہ سلف میں سے ابن عباس ( رح) ، قتادہ ( رح) اور حسن بصری ( رح) نے بھی اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔ اور ابن جریر ( رح) نے اس قول کو قتادہ ( رح) کے حوالے سے ابن عباس ( رح) کی طرف منسوب کیا ہے۔ اور صاحب روح المعانی حسن ( رح) اور قتادہ ( رح) کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ ” روح سے مراد حضرت جبرائیل ہیں اور سوال دراصل یہ تھا کہ وہ کیسے نازل ہوتے ہیں اور کس طرح نبی کریم ﷺ کے قلب اطہر پر وحی کا القا ہوتا ہے۔ “ روح کا مفہوم روایات کی روشنی میں بعض مفسرین نے ہماری محولہ بالا گزارشات سے بالکل الگ یہ فرمایا ہے کہ مشرکینِ مکہ کا سوال وحی الٰہی یا ذریعہ وحی الٰہی کے بارے میں نہیں تھا بلکہ روح حیوانی کے بارے میں تھا۔ ان کا مقصد روح کی حقیقت معلوم کرنا تھا کہ وہ کیا چیز ہے اور وہ کس طرح انسانی بدن میں آتی جاتی ہے اور کس طرح اس سے حیوان اور انسان زندہ ہوتے ہیں۔ اپنے اس خیال پر وہ دو احادیث سے استدلال کرتے ہیں۔ ایک کے راوی حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک روز نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ کے غیرآباد حصے میں چل رہا تھا اور آپ ﷺ کے دست مبارک میں کھجور کی ایک شاخ تھی۔ آپ ﷺ کا گزر چند یہودیوں پر ہوا۔ یہ لوگ آپس میں کہنے لگے کہ محمد ﷺ آرہے ہیں، ان سے روح کے بارے میں سوال کرو۔ دوسروں نے ہرچند منع کیا، مگر انھوں نے سوال کر ڈالا۔ یہ سوال سن کر نبی کریم ﷺ لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے، جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہونے والی ہے۔ کچھ وقفہ کے بعد وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ مسند احمد میں حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے روایت ہے کہ قریش مکہ جو جا و بےجا سوالات رسول اللہ ﷺ سے کرتے رہتے تھے، ان کو خیال ہوا کہ یہود علم والے ہیں، ان کو پچھلی کتابوں کا بھی علم ہے، ان سے کچھ سوالات حاصل کیے جائیں جن کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کا امتحان لیا جائے۔ قریش نے یہود سے دریافت کرنے کے لیے اپنے آدمی بھیجے۔ ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے کہا کہ تم ان سے روح کے متعلق سوال کرو۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ انھوں نے اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے بارے میں بھی سوال کرنے کے لیے کہا۔ روح سے متعلق روایت کو ابن کثیر نے نقل کیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ( رض) ہی سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہود نے اپنے سوال میں یہ بھی کہا تھا کہ آپ ﷺ ہمیں بتلائیں کہ روح پر عذاب کس طرح ہوتا ہے۔ اس وقت تک نبی کریم ﷺ پر اس بارے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے اس وقت آپ ﷺ نے فوری جواب نہیں دیا۔ پھر حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ چناچہ ان دونوں روایات سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ سوال وحی الٰہی کے بارے میں نہیں تھا بلکہ روح حیوانی کے بارے میں تھا۔ اور چونکہ یہ دونوں روایات صحیح ہیں اور خاص طور پر ابن مسعود کی روایت کو چونکہ صحیحین نے بھی روایت کیا ہے، اس لیے اسے ترجیح دی جاتی ہے اور اس روایت میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے جواب میں نازل ہوئی۔ تطبیق کی عاجزانہ کوشش اس سے انکار کی مجال نہیں کہ یہود نے سوال کیا اور آنحضرت ﷺ نے وحی کی روشنی میں اس کا جواب دیا اور وہ وحی اس آیت کی صورت میں نازل ہوئی۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ کہا جائے کہ قرآن کریم میں یہ آیت جس سیاق وسباق میں آئی ہے اس سے مراد روح حیوانی ہے، ورنہ قرآن کریم کی ترتیب میں ایک بےربطی پیدا ہوتی ہے۔ رہی دونوں باتوں میں تعارض کی بات تو اس کو ختم کرنے اور تطبیق دینے کے لیے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ آیت تو مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اور حضرت ابن مسعود ( رض) کا واقعہ مدینے میں پیش آیا۔ اس وقت یہود کے جواب میں آنحضرت ﷺ پر جو کیفیت طاری ہوئی اور اس کے بعد حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی، اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے آپ ﷺ کو توجہ دلائی گئی کہ اس بات کا جواب اس آیت کریمہ میں موجود ہے۔ اور آیت کریمہ میں جس طرح یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وحی الٰہی امرِربی ہے، اسی طرح یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ روح حیوانی بھی امر ربی ہے۔ ایک آیت سے دو باتوں کا استنباط یقینا روح قرآنی کے خلاف نہیں ہے۔ اس طرح سے دونوں تفسیروں میں تطبیق پیدا ہوجاتی ہے اور مفسرین کے درمیان اختلاف ختم ہوجاتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ روح حیوانی کی حقیقت کو جاننے یا سلجھانے کے لیے متعدد علما نے کاوشیں کی ہیں۔ ان میں شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کا ایک مختصر سا رسالہ مختصر ہونے کے باوجود بڑی جامعیت اور اہمیت رکھتا ہے، لیکن یہ کہنے میں شاید کوئی مبالغہ نہ ہو کہ جس طرح ہمارے متکلمین اس موضوع پر داد تحقیق دے چکے ہیں، اسی طرح سائنسدانوں نے بھی اس میں بڑی وقیع کوششیں کی ہیں بلکہ سننے میں آیا ہے کہ انھوں نے بعض عجیب و غریب تجربات بھی کیے۔ لیکن وہ روح کے راز کو نہ پا سکے کہ وہ کیا چیز ہے جو انسان کے اندر سے نکل جاتی ہے۔ امرِ ربی نے اس عقدہ کی کشود آسان کردی کہ روح ایک امر ربی ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ میرے پروردگار کے حکم سے ہے۔ وہ عام مخلوقات کی طرح نہیں جو مادہ کے تطوّرات اور توالد و تناسل کے ذریعے سے وجود میں آتی ہے بلکہ وہ بلاواسطہ اللہ تعالیٰ کے حکم ” کُن “ سے پیدا ہونے والی چیز ہے۔ اس کے بعد انسانی عقل و دانش کو سپر انداز ہوجانا چاہیے اور بےفائدہ مشق تحقیق سے ہاتھ اٹھا لینا چاہیے۔
Ayahs 17:86–87

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں وہ سب کچھ آپ ﷺ سے چھین لیں جسے ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کیا ہے، پھر آپ ﷺ اس کے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پائو گے۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

یہ آپ ﷺ کے رب کی رحمت ہے، بیشک اس کا فضل آپ ﷺ پر بہت بڑا ہے۔

وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْھَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ثُمَّ لاَ تَجِدُلَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلاً ۔ اِلاَّرَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ط اِنَّ فَضْلَہٗ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 86۔ 87) (اور اگر ہم چاہیں وہ سب کچھ آپ ﷺ سے چھین لیں جسے ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کیا ہے، پھر آپ ﷺ اس کے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پائو گے۔ یہ آپ ﷺ کے رب کی رحمت ہے، بیشک اس کا فضل آپ ﷺ پر بہت بڑا ہے۔ ) وحی تصرفِ غیبی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے قرآن کریم کے سلسلے میں قریش آنحضرت ﷺ پر جو اعتراضات کرتے تھے ان میں بنیادی خیال یہ تھا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب نہیں بلکہ یہ محمد ﷺ نے خود بنا لی ہے۔ خود یا کسی کی مدد سے جتنا حصہ تیار کرلیتے ہیں وہ آکر ہمیں سنا دیتے ہیں اور اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کردیتے ہیں۔ چناچہ گزشتہ آیت کریمہ میں اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم وحی الٰہی ہے جسے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) لے کر آتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تم اس کا الزام آنحضرت ﷺ پر رکھتے ہو حالانکہ ان کا حال یہ ہے کہ اس وحی کے نازل ہونے میں ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انھیں کبھی اس کا خیال بھی نہیں آیا تھا کہ مجھ پر وحی آئے گی اور مجھ پر کوئی کتاب نازل ہوگی۔ ان کی مرضی اور خواہش کے بغیر اللہ تعالیٰ نے ان کا انتخاب فرمایا اور اس عظیم کام کے لیے ان کو چن لیا۔ اب جبکہ وہ اس کام کی انجام دہی میں شب و روز لگے ہوئے ہیں تو تب بھی اس وحی کے اترنے میں ان کا کوئی دخل نہیں، ہم وحی کا آنا بند کردیں اور جو کچھ نازل ہوچکا ہے اسے واپس لے جائیں تو وہ زبردستی اسے روک نہیں سکتے۔ اور کوئی ایسی قوت نہیں جو اس سلسلے میں ان کی مدد کرسکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے راستوں میں کوئی حائل ہونے کی جرأ ت نہیں کرسکتا۔ وحی نہ کسی کی مرضی سے اترتی ہے نہ کسی کی مرضی سے جاری رہتی ہے۔ قرآن کا نزول اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت ہے جس کے لیے آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے آپ ﷺ کی ذات پر اللہ تعالیٰ کا انتہائی فضل و کرم ہے۔ اس نے آپ ﷺ کو وہ بلند مقامات عطا فرمائے ہیں ہم ان کا تصور کرنے سے بھی عاجز ہیں۔ قریش کی ساری مخالفتوں کے باوجود آپ ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی نیک نامی اور ایک ایسی شہرت دوام اور ایک ایسی مسلمہ فضیلت کا فیصلہ کردیا ہے جس سے کبھی کسی پیغمبر کو بھی نہیں نوازا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے مواھب اور افضال میں سے ایک یہ بھی ہے جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا وَرَفَعْنَالَکَ ذِکِرَکَ چناچہ آج ہم دیکھتے ہیں ؎ وہ جس کا ذکر ہوتا ہے زمینوں آسمانوں میں فرشتوں کی دعائوں میں موذن کی اذانوں میں اور آخرت میں آپ ﷺ پر جو انعامات کی بارش ہوگی اس کا ذکر ہم سابقہ رکوع میں پڑھ چکے ہیں۔ ویسے بھی پروردگار کا یہ فرمانا کہ آپ ﷺ پر آپ ﷺ کے رب کا فضل کبیر ہے۔ اس فضل کی وسعتوں اور عظمتوں کا تصور کرنا بھی انسان کی طاقت سے بہت بعید ہے۔ اس لیے کہ ہر متکلم اپنی حیثیت کے مطابق کسی چیز کو چھوٹا بڑا قرار دیتا ہے۔ ایک غریب آدمی جب یہ کہتا ہے کہ میرے پاس بڑی دولت ہے تو وہ چند ہزار سے زیادہ نہیں ہوسکتی، لیکن جب کوئی بادشاہ اس طرح کی بات کہتا ہے تو اس کو ہندسوں میں سمیٹا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو کبیر کے لفظ سے یاد فرماتے ہیں تو اس کے کبیر ہونے کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔
Ayah 17:88

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

کہہ دیجیے کہ اگر تمام انسان اور جن اس بات پر اکٹھے ہوجائیں کہ اس جیسا قرآن لادیں تو وہ اس جیسا نہ لاسکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّاْ تُوْا بِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لاَ یَاْ تُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْکَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 88) (کہہ دیجیے کہ اگر تمام انسان اور جن اس بات پر اکٹھے ہوجائیں کہ اس جیسا قرآن لادیں تو وہ اس جیسا نہ لاسکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔ ) قرآن کریم کا حیرت انگیز چیلنج گزشتہ آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ سے تھا لیکن روئے سخن انھیں لوگوں کی طرف تھا جن کے سوال کا جواب گزشتہ آیت میں دیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں بھی انھیں سے فرمایا جارہا ہے کہ جس ذات عزیز پر وحی اترتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب نازل ہوتی ہے اس کی طاقت میں یہ بات نہیں کہ وہ وحی کو اپنی مرضی سے اپنے اوپر نازل کرے اور جب چاہے اسے روک دے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک بےبس اور بےاختیار بندہ ہے جسے خدا نے اس عظیم کام اور اس عظیم انعام کے لیے چن لیا ہے۔ اس کے بندہ ہونے کا عالم تو یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس پر نازل کردہ وحی کو واپس لے جائے تو وہ اسے ہرگز روک نہیں سکتا۔ حالانکہ اس وحی کو اس سے وابستگی ہے اور اسے وحی سے وابستگی ہے۔ اس پر اترنے والی کتاب اس کی رسالت کی تصدیق کرتی ہے اور بار بار اس کے فضائل بیان کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کا خاص رشتہ ہے۔ بایں ہمہ وہ قرآن کے اترنے میں کوئی دخل نہیں رکھتا اور نہ قرآن جیسی کتاب لانے پر قادر ہے۔ تو باقی تمام جن و انس جن کا براہ راست وحی الٰہی سے کوئی تعلق نہیں اور وہ پروردگارِ عالم سے اس طرح کا کوئی تعلق نہیں رکھتے کہ وہ اس کی آواز سن سکیں یا اس کا کلام ان پر نازل ہوسکے۔ تو وہ یہ کیسے دعویٰ کرسکتے ہیں کہ یہ کتاب ان جیسے کسی انسان نے لکھ دی ہے اور کسی جن نے اس کی مدد کی ہے۔ چلیے تمہارا دعویٰ اگر قبول بھی کرلیا جائے کہ یہ کسی انسان کی کاوش کا نتیجہ ہے تو ہم تمہیں تمام انسانوں سمیت دعوت دیتے ہیں کہ تم اس قرآن جیسی کتاب بنا کے لائو۔ اور اس کی بھی اجازت دیتے ہیں کہ جن جنات کو تم اپنی مدد کے لیے پکارتے ہو، انھیں بھی اپنے ساتھ شامل کرلو۔ تم کبھی ایسا نہ کرسکو گے کیونکہ خالق کے کلام کا مقابلہ مخلوق کے بس کی بات نہیں۔ قرآن کریم کا یہ چیلنج پہلی دفعہ نہیں بلکہ پروردگار نے اس سے پہلے بھی قرآن کریم ہی کے اندر تین مقامات پر اسے دہرایا ہے۔ سورة بقرہ : آیات 24، 23۔ سورة یونس : آیت 38۔ سورة ہود : آیت 12۔ ان تمام مقامات میں یہ بات کہی گئی ہے کہ تم اگر یہ سمجھتے ہو کہ قرآن کریم نبی کریم ﷺ نے خود تصنیف کرلیا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں اور ہمارا پیغمبر یہ غلط دعویٰ کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر نازل کیا ہے تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ تم بھی اس طرح کی کتاب بنا کرلے آئو۔ لیکن تقریباً ڈیڑھ ہزار سال گزرنے میں آئے، آج تک کفر اس کی ہمت نہ کرسکا۔ اور اگر کسی نے کوئی کوشش کی بھی تو اہل علم کی نگاہوں میں اس کا اپنا اعتبار جاتا رہا۔ اور عرب اپنی تمام تر زبان دانی کے دعوئوں کے باوجود کبھی اس کے لیے تیار نہ ہوئے۔ سوچنا پڑتا ہے کہ آخر قرآن کریم میں ایسی کیا بات ہے جس کی وجہ سے کوئی اس کی مثال لانے کی جرأت نہ کرسکا۔ تفصیل کے لیے آپ سورة بقرہ کی آیت 23 اور 24 پر ہماری گزارشات دروس قرآن میں نکال کے دیکھ لیجیے۔ اختصار سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم اپنے حروف سے لے کر اپنے مضامین تک ہر چیز میں ایک معجزہ ہے۔ اس کے الفاظ اس لحاظ سے معجزہ ہیں کہ پورے قرآن کریم میں ایک لفظ بھی غیرفصیح نہیں جبکہ عربی زبان میں بیسیوں غیرفصیح الفاظ موجود ہیں۔ اس کے جملوں کی ساخت اور چستی اپنا جواب نہیں رکھتی۔ اس کے مرکبات کی ترکیب بےمثال ہے، اس کا اسلوب ایسا بےبدل ہے کہ اس کی نقل کرنا بھی ممکن نہیں۔ وہ شعر نہیں، لیکن شعر سے بڑھ کر اپنے اندر اپیل رکھتا ہے۔ اس کی عبارت میں ایک غنائیت ہے، توازن ہے، الفاظ میں ہم آہنگی ہے جو اپنے اندر ایسی تاثیر رکھتی ہے کہ جسے سن کر اہل زبان غلط فہمی میں اسے شعر کہہ اٹھتے تھے، اس کا باہمی ربط گہرا اور ٹھوس ہے، اس کے تاریخی مسلمات تنقید سے بالا ہیں، اس کی اخبار تاریخ کے مختلف ادوار میں اپنی صداقت منوا چکی ہیں، اس کا پیش کردہ نظام زندگی ہر طرح کے اختلاف اور باہمی تعارض اور تناقض سے معرا ہے، اس کا طرز استدلال اس قدر محکم ہے کہ اس کا جواب دینا سورج کو چراغ دکھانا ہے اور اس کے مباحث ہر طرح کے عیوب سے پاک ہیں۔ ایسی صفات سے مزین کتاب جن و انس کے بس کی بات کیسے ہوسکتی ہے۔ ایسا کلام صرف اللہ تعالیٰ کا ہوسکتا ہے، کسی اور کا نہیں۔ ایسے فصیح وبلیغ کلام کا نبی کریم ﷺ کی زبان سے ادا ہونا بجائے خود ایک معجزہ ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ انھیں خصوصیات کے حامل تھے جو ایک ذہین و فطین امی عرب میں ہوسکتی تھیں، کیونکہ آپ ﷺ نے مکہ کی فضا میں تربیت پائی اور زندگی گزاری تھی۔ اور پھر آپ ﷺ نے زندگی کا بہترین حصہ اس طرح گزارا تھا کہ کبھی آپ ﷺ سے ایسی کوئی بات سنی تک نہیں گئی تھی۔ آپ ﷺ کا اندازِ کلام قرآن کریم کے اندازِ کلام سے یکسر مختلف تھا۔ آپ ﷺ ان مسائل اور مضامین سے بالکل بیخبر تھے جنھیں قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔ کتنے ایسے سوالات ہیں جو قریش و یہود کی جانب سے آپ ﷺ سے کیے گئے، لیکن آپ ﷺ اس کا جواب نہ دے پائے جب تک قرآن کریم نازل نہ ہوا۔ اور مزید یہ کہ آپ ﷺ کی زبان آپ ﷺ کالب و لہجہ اور آپ ﷺ کا اسلوب قرآن پاک کی زبان، لہجے اور اسلوب سے بالکل مختلف ہے۔ کیا عقل اس بات کو تسلیم کرسکتی ہے کہ ایک شخص چالیس سال تک جو زبان بولے وہ بالکل عربوں جیسی ہو، پھر وہ چالیس سال کے بعد بھی لوگوں سے جس زبان میں بات کرے وہ بھی لوگوں ہی کی زبان کے مطابق ہو۔ اور اپنی باتوں اور تعلیمات کو جس زبان میں امت کے لیے چھوڑ جائے وہ بھی قرآن کریم سے یکسر مختلف ہیں۔ کون عقل مند آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ قرآن کریم اس کا کلام ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کے حالات کا ایک ایک ورق اور آپ ﷺ کو جاننے اور پہچاننے والے ہزاروں آدمیوں میں سے ایک ایک آدمی اس بات کے گواہ ہیں کہ قرآن کریم کا آپ ﷺ کی زبان پر جاری ہونا اور پھر 23 سال تک اس کا جاری رہنا اور آنحضرت ﷺ کا اس کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانا اور راتوں کی نمازوں میں نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ اسے گھنٹوں کھڑے ہو کر پڑھنا اور اس کی دی ہوئی رہنمائی میں ایک معاشرہ کو وجود دینا، پھر اسی کی تعلیمات کے مطابق اسلامی ریاست کو تشکیل دینا اور پھر زندگی کے آخری لمحوں میں اسی کو اپنی امت کے سپرد کرکے اس امانت کا حق ادا کرنے کی تلقین کرکے جانا۔ کیا یہ باتیں یہ سمجھنے کے لیے کافی نہیں کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کا کلام سمجھ کر اس کے مطابق زندگی بھی گزاری اور لوگوں کو ہدایت بھی بخشی۔ اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم جس طرح اپنی ذات میں معجزہ ہے اسی طرح اپنے اثرات میں بھی معجزہ ہے اور یہی وہ اعجاز ہے جس کی مثال لانے سے دنیا عاجز ہے۔
Ayah 17:89

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا، لیکن اکثر لوگ انکار پر ہی اڑے ہوئے ہیں۔

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ز فَاَبٰٓی اَکْثَرُالنَّاسِ اِلاَّ کُـفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 89) (ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا، لیکن اکثر لوگ انکار پر ہی اڑے ہوئے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت اور انسانی رویہ تصریف : کا معنی تو ” پھیرنا “ ہوتا ہے، لیکن جب اسے کلام میں اس طرح استعمال کیا جاتا ہے جیسے یہاں استعمال ہوا ہے تو پھر اس کا معنی ایک حقیقت کو مختلف اسلوبوں اور گوناگوں پیرایوں سے بیان کرنا ہوتا ہے۔ اور مِنْ کُلِّ مَثَلٍ سے اسی کی تاکید ہوتی ہے۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ضرب مثل سے مراد حکمت و معرفت کی بات کہنا ہے۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرما رہے ہیں کہ ہم نے قریش مکہ اور دوسرے لوگوں کو مختلف اسلوبوں اور گوناگوں پہلوئوں سے اور ہر طرح کی مثال سے کام لے کر سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اور قرآن کریم میں ہم نے حکمت و معرفت کے موتی بکھیرے ہیں۔ عقیدے کی ایک ایک بات کو مختلف طریقوں سے پانی کردیا ہے۔ انسانی فطرت کو مختلف مثالوں سے اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ انسانی اعمال کے انجام کو قوموں کی تاریخ میں تول تول کر دکھایا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ قریش کے رویئے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ چند سعید لوگوں کے علاوہ ان کا کفر بڑھتا ہی چلا گیا اور اب ان کا حال یہ ہے کہ ایسے ایسے مطالبات نبی کریم ﷺ سے کیے جارہے ہیں جو تاریخ میں وہ امتیں کرتی رہی ہیں جو مٹ جانے کے راستے پر چل رہی تھیں اور بالآخر مٹ گئیں۔
Ayahs 17:90–93

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا ہم تو تمہاری بات ہرگز نہیں مانیں گے جب تک تم ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر کوئی چشمہ نہ جاری کردو۔

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

اور یا تمہارے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ نہ ہوجائے، پھر تم اس کے بیچ بیچ میں نہریں نہ دوڑا دو ۔

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا تم ہم پر آسمان سے ٹکڑے نہ گرا دو جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو یا اللہ اور فرشتوں کو سامنے نہ لاکھڑا کردو۔

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تمہارے لیے سونے کا ایک گھر نہ بن جائے یا تم آسمان پر نہ چڑھ جائو اور ہم تمہارے چڑھنے کا بھی یقین نہ کریں گے جب تک تم وہاں سے ہم پر کوئی کتاب نہ اتارو جسے ہم پڑھیں، اے پیغمبر ﷺ ان سے کہہ دیجیے پاک ہے میرا پروردگار، میں تو بس ایک بشر ہوں، اللہ کا رسول

وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفْجُرَلَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْبُوْعًا۔ اَوْتَکُوْنَ لَکَ جَنَّـۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّعِنَبٍ فَـتُـفَجِّرَ الْاَنْھٰرَخِلٰـلَھَا تَفْجِیْرًا۔ اَوْتُسْقِطَ السَّمَآئَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا اَوْتَا تِیَ بِاللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیْلاً ۔ اَوْیَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْتَرْقٰی فِی السَّمَآئِ ط وَلَنْ نُّوْمِنَ لِرُقِـیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِـتٰبـًا نَّـقْرَؤْہٗ ط قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُـنْتُ اِلاَّبَشَرًا رَّسُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 90۔ 91۔ 92۔ 93) (اور انھوں نے کہا ہم تو تمہاری بات ہرگز نہیں مانیں گے جب تک تم ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر کوئی چشمہ نہ جاری کردو۔ اور یا تمہارے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ نہ ہوجائے، پھر تم اس کے بیچ بیچ میں نہریں نہ دوڑا دو ۔ یا تم ہم پر آسمان سے ٹکڑے نہ گرا دو جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو یا اللہ اور فرشتوں کو سامنے نہ لاکھڑا کردو۔ یا تمہارے لیے سونے کا ایک گھر نہ بن جائے یا تم آسمان پر نہ چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے کا بھی یقین نہ کریں گے جب تک تم وہاں سے ہم پر کوئی کتاب نہ اتارو جسے ہم پڑھیں، اے پیغمبر ﷺ ان سے کہہ دیجیے پاک ہے میرا پروردگار، میں تو بس ایک بشر ہوں، اللہ کا رسول ﷺ ۔ ) ایمان کے لیے قریش کی شرائط ان آیات میں قریش اور دیگر مشرکین کے مطالبات بلکہ شرائط ذکر کی گئی ہیں جن کے ساتھ انھوں نے اپنے ایمان کو مشروط کر رکھا تھا کہ پہلے آپ ﷺ یہ کارنامے ہمیں بروئے کار لا کردکھائیں تب ہم مانیں گے کہ آپ ﷺ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ اور اگر آپ ﷺ ایسا نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں۔ اب ذرا ان کے مطالبات غور سے دیکھئے۔ 1 کہ آپ ﷺ ہماری آنکھوں کے سامنے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ نکال کردکھائیں۔ 2 یا یہ کہ دیکھتے ہی دیکھتے آپ ﷺ کھجوروں اور انگوروں کے ایک باغ کے مالک ہوجائیں اور اس کے بیچ بیچ میں بہت سی نہریں نکال کردکھائیں۔ 3 یا یہ کہ آسمان سے آپ ﷺ ہم پر کچھ ٹکڑے گرا دیں جیسا کہ آپ ﷺ کہتے رہتے ہیں کہ اگر تم ایمان نہیں لائو گے تو تم پر آسمان سے عذاب آسکتا ہے اور یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لا کھڑا کریں، ہم اپنی آنکھوں سے انھیں دیکھیں۔ 4 یا یہ کہ آپ ﷺ کے پاس ایک سونے کا مکان ہو یا آپ ﷺ ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان پر چڑھ جائیں، لیکن ہم اسے اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک آپ ﷺ ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان پر نہ چڑھیں اور پھر وہاں سے کوئی کتاب لے کر نہ آئیں جسے ہم خود پڑھ کر دیکھیں۔ ان مطالبات کو غور سے دیکھئے ان میں کہیں بھی سنجیدگی نظر آتی ہے۔ جن قوموں کو زندگی کے حقائق سے پیار ہوتا ہے اور وہ اپنی عاقبت کو سنوارنا چاہتی ہیں، کیا وہ اسی طرح کی باتیں کیا کرتی ہیں۔ لیکن قرآن کریم نے ان کے مطالبات کا جواب ایسے فصیح وبلیغ جملے میں ارشاد فرمایا ہے جس کی نظیر لانا انسان کے بس کی بات نہیں۔ بالکل ایک دوسرے پہلو سے ان پر ان کی غلطی واضح کی گئی ہے بشرطیکہ وہ اسے سمجھنا چاہیں۔ وہ پہلو یہ ہے کہ زمین سے چشمے نکالنا، کھجوروں اور انگوروں کے باغات پتھریلی زمین میں پیدا کردینا اور بہت ساری نہروں کا رواں دواں کردینا یا آسمان سے ٹکڑوں کا برسانا اور کسی کا آسمان پر چڑھنا اترنا اور اچانک سونے کا محل وجود میں آجانا، ان میں کون سا کام ہے جسے کرنے کا میں نے کبھی دعویٰ کیا ہو۔ یا ان میں سے کسی چیز کا میری دعوت سے تعلق ہو اور پھر جو میں پیغام تمہارے لیے لایا ہوں جس میں تمہاری دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے ان میں سے کون سی بات ہے جو ان سے وابستہ ہے۔ میں نے ہمیشہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا، اس کی وحدانیت کی تعلیم دی، اس کی قدرت کاملہ کا بار بار تمہارے سامنے تذکرہ کیا، اسی سے ڈرنے اور اسی سے امیدیں باندھنے کی ترغیب دی، اسی کی بندگی میں شب و روز گزارنے کی تلقین کی اور میں نے اپنے آپ کو ہمیشہ ایک بشر اور بندے کی حیثیت سے تمہارے سامنے پیش کیا۔ یہ جن مطالبات کو تم لے بیٹھے ہو، کیا ان کا پورا کرنا کسی بشر کا کام ہوسکتا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کام ہیں۔ وہی خالق کائنات ہے اور وہی جب چاہے بستیوں کو ویران کرسکتا ہے اور ویرانوں کو باغات میں تبدیل کرسکتا ہے۔ وہ چاہے تو سمندروں سے آگ اٹھنے لگے اور چاہے تو صحرائوں میں حباب تیرنے لگیں۔ میرا دعویٰ تو صرف یہ ہے کہ میں تمہارے طرح ایک انسان ہوں لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے رسول بنا کے بھیجا۔ مجھ پر ایک کتاب اتاری ہے، تم میری تعلیمات کو غور سے دیکھو، میری زندگی کے معمولات کو دیکھو، قرآن کریم کے دیے ہوئے نظام زندگی کو پڑھو، کوئی بات کہنی ہے تو ان سے متعلق کہو، کیونکہ یہ وہ باتیں ہیں جن کا تعلق میری رسالت سے ہے۔ رہی وہ باتیں جن کا مطالبہ تم مجھ سے کررہے ہو، ان کا نہ میں نے دعویٰ کیا ہے اور نہ میرا ان سے کوئی تعلق ہے۔
Ayah 17:94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور نہیں روکا لوگوں کو، اس بات سے کہ وہ ایمان لائیں جبکہ ان کے پاس ہدایت آگئی، مگر اس چیز نے کہ انھوں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے ایک بشر ہی کو رسول بنا کر بھیج دیا۔

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْآ اِذْجَآئَ ھُمُ الْھُدٰٓی اِلاَّ ٓ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُولاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 94) (اور نہیں روکا لوگوں کو، اس بات سے کہ وہ ایمان لائیں جبکہ ان کے پاس ہدایت آگئی، مگر اس چیز نے کہ انھوں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے ایک بشر ہی کو رسول بنا کر بھیج دیا۔ ) نبی کی بشریت ایمان کے راستے کی رکاوٹ رسول اللہ ﷺ کی جب رسول کی حیثیت سے بعثت ہوئی اور آپ ﷺ نے اہل مکہ کے سامنے یہ دعویٰ کیا کہ میں تمہاری طرف خصوصی طور پر اور ساری دنیا کی طرف عمومی طور پر اللہ تعالیٰ کا رسول بن کے آیا ہوں۔ اور آپ ﷺ نے اہل مکہ کو اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ اور آپ ﷺ نے دلیل کے طور پر سب سے بڑی بات جو ان سے فرمائی وہ یہ تھی کہ نبوت کوئی دیکھی جانے والی چیز نہیں اور نہ جسم سے ظاہر ہونے والی کوئی ایسی چیز ہے جسے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ اس کا تعلق نبوت کا دعویٰ کرنے والے کے کردار سے ہے۔ اگر اس کا کردار ایک پیغمبر کا کردار ہے اور اس نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اپنی 40 سالہ زندگی جو نہ صرف کہ لوگوں کے اندر گزاری بلکہ ان کیآنکھوں کے سامنے اس طرحگزاری کہ بچپن اپنی قوم کی گود میں گزرا، لڑکپین حرم میں کھیلتے کودتے گزرا، اس کے بعد آپ ﷺ نے بکریاں چرائیں۔ ذرا بڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنے چچا کے ساتھ بیرون ملک کا سفر کیا، جوانی آئی تو آپ ﷺ تجارت کی طرف متوجہ ہوئے اور دوسرے تاجروں کے ساتھ مل کر تجارت فرمائی۔ حضرت خدیجہ طاہرہ ( رض) نے آپ ﷺ کی دیانت و امانت اور معاملہ فہمی کی شہرت سن کر اپنا مال آپ ﷺ کے حوالے کردیا اور اپنے کاروبار کا آپ ﷺ کو مختار بنادیا۔ پھر آپ ﷺ نے شادی فرمائی، آپ کے بچے ہوئے۔ شہر میں دوسرے لوگوں میں آپ ﷺ گھل مل کے رہے۔ حرم کی نشستوں میں آپ ﷺ کا اٹھنا بیٹھنا رہا۔ بعض جنگوں میں آپ ﷺ نے اپنی قوم کا ساتھ دیا۔ بےبس اور بےکس لوگوں کی مدد کے لیے مکہ کے اہل خیر نے ایک معاہدہ کیا جسے حلف الفضول کہا جاتا ہے، آپ ﷺ اس میں پیش پیش رہے۔ کہنا یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی قوم اور اپنے شہر والوں کے ساتھ ایک بھرپور زندگی گزاری۔ آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ کے شب و روز کے معمولات سے مکمل طور پر آگاہ تھی۔ آپ ﷺ کی زندگی ان کے لیے ایک کھلی کتاب تھی، جس کا ہر ورق ان کے سامنے تھا۔ جب آپ ﷺ کو نبوت دی گئی تو آپ ﷺ نے اپنی ذات اور اپنے کردار کو دلیل کے طور پر قوم کے سامنے پیش کیا اور کوہ صفا پر چڑھ کے پوچھا کہ لوگو ! تم پوری طرح میری زندگی سے واقف ہو، کیا تمہیں کبھی چالیس سالوں میں کسی ایک موقع پر بھی مجھ سے جھوٹ بولنے کا تجربہ ہوا ہے، میں نے کبھی کسی خیانت کا ارتکاب کیا، میں نے کبھی کسی کی دلآزاری کی، غور کیجیے جس شخص نے چالیس سال میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور زندگی کے شب و روز باد نسیم کی طرح بےعیب گزارے ہوں اور پھر وہ اپنی قوم سے صاف صاف پوچھتا ہو کہ بتائو تم میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو۔ جب قوم نے اعتراف کیا کہ ہم نے کبھی آپ ﷺ کو جھوٹ بولتے نہیں سنا تو تب آپو نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کے بھیجا ہے اور پھر آپ ﷺ نے ان کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کیا۔ قوم نے جب دیکھا کہ اس عظیم ذات میں کوئی ایسی بات نہیں جسے ہم بطور اعتراض پیش کرسکیں، کوئی ایسی کمزوری نہیں جو تلاش کے باوجود بھی لوگوں کے سامنے پیش کی جاسکے۔ البتہ ایک بات ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نبوت و رسالت بہت بلند، بہت اعلیٰ وارفع اور بہت نازک مقام ہے۔ اس مقام پر کسی بشر کا فائز ہونا، ایک ناقابلِ فہم بات ہے۔ کہاں زمین پر بسنے والا ایک معمولی انسان، اور کہاں نبوت و رسالت کا مقام، ان دونوں میں یکجائی نہیں ہوسکتی۔ نبی بشر نہیں ہوسکتا اور بشر کو نبوت نہیں مل سکتی۔ محمد ﷺ اپنی ساری خوبیوں کے باوجود نہ صرف ایک بشر ہے بلکہ ایک غریب آدمی بھی ہے۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار یہ فرما رہا ہے کہ جب ان کے سامنے ہدایت کھل کر آگئی، قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت نے انھیں گنگ کر کے رکھ دیا۔ آنحضرت ﷺ کی نہایت دلآویز شخصیت میں ہزار کوشش کے باوجود جب کوئی کمزوری تلاش نہ کرسکے تو آخری بات انھوں نے یہ کہی کہ ہم ایک بشر کو رسول ماننے سے معذور ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بشر کو رسول بنا کے بھیج دے انسان بھی عجیب واقع ہوا ہے۔ کبھی کبر کا شکار ہو کر نہ جانے اپنے آپ کو کیا سمجھنے لگتا ہے اور خدا کے سامنے جھکنے سے بھی انکار کردیتا ہے۔ اور کبھی اس حد تک اپنی آپ کو گرا لیتا ہے کہ پتھر کے گھڑے ہوئے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے اور عزت نفس سے محروم ہو کر بشریت کو ذلت کی علامت سمجھنے لگتا ہے۔ ذوق نے اسی کا ماتم کرتے ہوئے کہا تھا ؎ بشر جو اس تیرہ خاکداں میں پڑا یہ اس کی اپنی فروتنی ہے وگرنہ قندیلِ عرش میں بھی اسی کے جلوے کی روشنی ہے
Ayah 17:95

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے ! اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو ان کے لیے پیغمبر بنا کے بھیجتے۔

قُلْ لَّوْکَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِـنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَلَکًا رَّسُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 95) (اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے ! اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو ان کے لیے پیغمبر بنا کے بھیجتے۔ ) انبیا کے بشر ہونے کی حکمت گزشتہ آیت کریمہ میں اہل مکہ کا آپ ﷺ پر ایمان نہ لانے کا جو سبب بیان کیا گیا ہے اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ اور جواب اتنا سادہ، اتنا واضح، اتنا مسکت اور اتنا حکیمانہ ہے کہ اس سے بہتر جواب کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ تم یہ بتائو کہ زمین پر بسنے والے کیا انسانوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق ہیں، کیا وہ فرشتے ہیں۔ اگر تو ایسا ہے تو پھر تو یقینا اللہ تعالیٰ کو چاہیے تھا کہ ان کی ہدایت کے لیے کسی فرشتے کو بھیجتا لیکن جب زمین پر رہنے والے انسان ہی ہیں تو پھر ان کی ہدایت کے لیے انسان کے علاوہ کسی اور کو کیسے بھیجا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول دنیا میں صرف زندگی گزارنے کے لیے نہیں آتا بلکہ وہ انسانوں کی اصلاح کے لیے آتا ہے۔ ایک ایک شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی بندگی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا صحیح شعور دماغوں میں اتارتا ہے پھر اسے اس کے مقصد زندگی سے آگاہ کرتا ہے۔ پھر انسانوں کو اجتماعی زندگی گزارنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے شریعت پہنچاتا ہے اور ان کی عملی زندگی پر اس کا انطباق کرکے دکھاتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اس طرح رہنمائی مہیا کرتا ہے کہ کہیں بھی انسانوں کو کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ جو لوگ اس کی رہنمائی کو قبول کرتے ہیں ان سے ایک معاشرہ تشکیل کرتا ہے اور اس نئے دین کی مخالفت کرنے والوں کی مخالفت کو برداشت کرنے اور ان سے عہدہ برآء ہونے کی تربیت دیتا ہے۔ حق و باطل کی یہ کشمکش اگر حرب و ضرب کے دور میں داخل ہوجاتی ہے تو اس میں بھی پوری طرح ان کی قیادت کرتا ہے۔ غرضیکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے جتنے مدارج ہیں ان میں ایک ایک ایک مرحلے پر تربیت کا اس طرح سامان کرتا ہے کہ کہیں بھی رہنمائی کا جھول پیدا نہیں ہوتا اور ایک ایسی مکمل زندگی وجود میں آتی ہے جس سے بہتر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ تصور کیجیے کہ اگر بشر کی بجائے کسی فرشتے کو اس کام کے لیے بھیجا جاتا تو وہ اسے کیسے سرانجام دے سکتا تھا اور اس پر ایمان لانے والے اس سے کیا استفادہ کرسکتے تھے۔ نہ وہ نظر آتا کہ اس کی پیروی کرسکیں، نہ اسے بھوک لگتی، نہ اسے کسی تکلیف کا احساس ہوتا، نہ اس کے اندر انسانی احساسات ہوتے، نہ اس کی بیوی ہوتی، نہ بچے ہوتے، نہ اسے کھانے پینے کی ضرورت لاحق ہوتی، نہ اسے انسانی معاملات سے سابقہ پڑتا، تو وہ اسوہ حسنہ جس کی رہنمائی اور پیروی میں امت کا کردار تشکیل پاتا ہے، وہ کہاں سے وجود میں آتا۔ اس لیے عقل اور حکمت کی بات اس کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ معلم، مربی اور پیغمبر مخلوق کی اسی صنف میں سے ہونا چاہیے جس صنف کی رہنمائی کے لیے اسے بھیجا جارہا ہو۔ نبی کریم ﷺ چونکہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے دنیا میں تشریف لائے تو اس لیے آپ ﷺ کو بشرپیدا کیا گیا۔ آپ ﷺ اپنی ذات اور ذاتی ضروریات میں یقینا باقی انسانوں کی طرح ایک انسان اور ایک بشر ہیں اور یہی ہمارا ایمان ہونا چاہیے لیکن اپنے کمالات اور مراتب کے اعتبار سے آپ ﷺ خیرالبشر ہیں جس کا ہمسر نہ کوئی انسان ہوسکتا ہے اور نہ کوئی فرشتہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 17:96

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

کہہ دیجیے ! کہ میرے اور تمہارے درمیان ایک اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کو خوب جاننے والا ہے، خوب دیکھنے والا ہے۔

قُلْ کَـفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدً ما بَیْـنِیْ وَبَیْنَکُمْ ط اِنَّـہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًما بَصِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 96) (کہہ دیجیے ! کہ میرے اور تمہارے درمیان ایک اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کو خوب جاننے والا ہے، خوب دیکھنے والا ہے۔ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کی ہدایت آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ اہل مکہ سے کہہ دیجیے کہ تمہیں نہ تو میرے کردار پر اعتراض ہے اور نہ تمہیں میری دعوت میں شبہ ہے۔ لے دے کے تمہیں میرے بشر ہونے پر اعتراض ہے۔ اس کا مکمل جواب گزشتہ آیت کریمہ میں دے دیا گیا۔ اگر نیت سمجھنے کی ہو تو اس سے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں، لیکن اگر اس کے باوجود بھی تم اپنی بات پر اڑے ہوئے ہو تو پھر میں معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تمہارے ایمان نہ لانے کا سبب یہ ہے کہ تم بشریت اور نبوت کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے یا یہ محض تمہاری ضد اور انانیت ہے۔ اللہ تعالیٰ دلوں میں چھپی ہوئی نیتوں کو جانتا ہے۔ وہ بندوں کے ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ فیصلہ آخرکار اسی کو کرنا ہے۔ اس لیے میں معاملہ اسی کے سپرد کرتا ہوں۔
Ayah 17:97

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے، پس وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو تم ان کے لیے اس کے سوا کسی کو مددگار نہ پائو گے، اور ہم ان کو قیامت کے دن اکٹھا کریں گے، ان کے مونہوں کے بل، اندھے، گونگے اور بہرے، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اس کو مزید بھڑکا دیں گے۔

وَمَنْ یَّھْدِاللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتَدِ ج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَلَھُمْ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِہٖ ط وَنَحْشُرُھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ عُمْیًا وَّ بُکْمًا وَّصُمًّا ط مَاْوٰ ھُمْ جَھَنَّمُ ط کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰـہُمْ سَعِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 97) (اور جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے، پس وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو تم ان کے لیے اس کے سوا کسی کو مددگار نہ پائو گے، اور ہم ان کو قیامت کے دن اکٹھا کریں گے، ان کے مونہوں کے بل، اندھے، گونگے اور بہرے، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اس کو مزید بھڑکا دیں گے۔ ) ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت قرآن کریم کی تمام تر وضاحتوں اور آنحضرت ﷺ کی بےپناہ کوششوں کے باوجود جب مشرکینِ مکہ ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے تو آنحضرت ﷺ کے دل پر نہ جانے کیا گزرتی تھی۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ یہ ایمان نہ لانے والے آج اس قدر اکڑفوں دکھا رہے ہیں اور کسی کی بات سننے کے روادار نہیں۔ کاش انھیں یقین آجاتا کہ ان کی یہ روش قیامت کو انھیں بہت مہنگی پڑے گی اور ان کا انجام بہت خطرناک ہوگا۔ آپ ﷺ کی اس دل گرفتگی کو دیکھتے ہوئے پروردگار نے مختلف مواقع پر آپ ﷺ کو تسلی بھی دی ہے اور ساتھ ہی ساتھ انکار کرنے والوں کو وارننگ بھی۔ چناچہ یہاں بھی بنی کریم ﷺ کو اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ آپ کی تبلیغی مساعی میں کوئی کمی نہیں۔ لیکن ہدایت وہی پاتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے، اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی کوئی مدد کرنے والا نہیں۔ البتہ ساتھ ہی ساتھ یہ بات واضح فرما دی کہ ہمارے یہاں ہدایت و ضلالت کا ایک قانون ہے۔ وَنَحْشُرُھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ عُمْیًا وَّ بُکْمًا وَّصُمًّا میں اس سنت اللہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ جب کسی قوم میں اللہ تعالیٰ کا رسول مبعوث ہوتا ہے اور وہ اپنی قوم میں شب و روز تبلیغ و دعوت کے لیے جان لڑاتا ہے، اپنی صلاحیت کا ایک ایک قطرہ اس راستے میں نچوڑ دیتا ہے اور لوگوں کو ہر پہلو سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن قوم پیغمبر کی دعوت پر غور کرنے کی بجائے اس کے انکار پر تل جاتی ہے۔ مزاحمت کا ہر طریقہ اختیار کرتی ہے، اذیت رسانی میں وہ دشمنوں سے بھی آگے بڑھ جاتی ہے، شرافت کی ہر قدر کو پامال کردیتی ہے، جو آنکھیں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دیکھنے کے لیے پروردگار نے عطا فرمائی ہیں اور جو زبانیں حق کی گواہی دینے کے لیے اور جو کان تبلیغ و دعوت کو سننے کے لیے دیے گئے ہیں وہ ان میں سے ہر ایک قوت کو اللہ تعالیٰ کے دین کا راستہ روکنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ پروردگار ایک مدت تک اس صورتحال کو برداشت کرتا ہے اور ایسے لوگوں کو مہلت دیتا چلا جاتا ہے۔ لیکن پھر ایک وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آتا ہے اور ان کی محرومی کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ ان کے دلوں پر مہر کردی جاتی ہے اور گمراہی کی چھاپ ایسی گہری کردی جاتی ہے جس سے نکلنا ان کے بس میں نہیں رہتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے غلط استعمال کی وجہ سے ان کی بینائی، ان کی شنوائی اور ان کی گویائی سلب کرلی جاتی ہے۔ آخر ان کا ٹھکانہ جہنم ہوتا ہے اور جہنم میں بھی ایسی سخت سزا ملے گی کہ جب بھی جہنم کی آنچ اور اس کی تیزی مدھم ہونے لگے گی، اسے تیز کردیا جائے گا تاکہ ان کے عذاب میں تخفیف نہ ہونے پائے۔ اور جہنم میں مونہوں کے بل گھسیٹتے ہوئے انھیں پھینکا جائے گا۔
Ayah 17:98

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انھوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا، کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟

ذَلِکَ جَزَاٗ ؤْ ھُمْ بِاَنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاٰیٰـتِنَا وَقَالُوْٓا ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّرُفَا تًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 98) (یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انھوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا، کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟ ) قیامت سے انکار کا نتیجہ گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے قانون ہدایت و ضلالت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے قبولیتِ حق میں کام لینے کی بجائے حق کی مخالفت میں کام لینا شروع کردیتا ہے اور سمجھانے بجھانے کی تمام کوششوں کے باوجود وہ پلٹنے کا نام نہیں لیتا تو تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی محرومی کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں مشرکینِ مکہ کے بگڑے ہوئے رویئے اور اللہ تعالیٰ کے دین سے مخالفت وعناد کے حوالے سے ان کی صرف ایک بات کا ذکر کیا جارہا ہے کہ ان کا حال یہ ہے کہ متعدد مواقع پر قیامت کو دلائل سے ثابت کیے جانے کے باوجود جب بھی انھیں موقع ملتا ہے وہ بڑی بلند آہنگی سے یہ کہتے ہیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب ہم مرنے کے بعد بوسیدہ ہڈیوں اور ریزہ ریزہ جسم کی صورت میں مٹی میں مل جائیں گے تو ہمیں اس وقت ازسرنو زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔ یہ ایک ایسی ناقابل یقین بات ہے کہ جسے ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن پیغمبر بار بار ہم سے یہ بات منوانے پر تلا ہوا ہے۔ اے کاش انھیں احساس ہوتا کہ یہی ناقابلِ یقین بات واقعہ بننے والی ہے۔ سب لوگ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے اور انکار کرنے والے اپنے بدترین انجام کو پہنچیں گے۔
Ayah 17:99

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ قادر ہے اس بات پر کہ ان کے مانند پھر پیدا کردے اور اس نے مقرر کررکھی ہے ان کے لیے ایک مدت جس میں کوئی شک نہیں، پس ان ظالموں نے کفر کے سوا ہر بات سے انکار کیا۔

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَھُمْ وَجَعَلَ لَھُمْ اَجَلاً لاَّرَیْبَ فِیْہِ ط فَاَبَی الظّٰلِمُوْنَ اِلاَّ کُـفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 99) (کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ قادر ہے اس بات پر کہ ان کے مانند پھر پیدا کردے اور اس نے مقرر کررکھی ہے ان کے لیے ایک مدت جس میں کوئی شک نہیں، پس ان ظالموں نے کفر کے سوا ہر بات سے انکار کیا۔ ) قیامت کے لیے وقت مقرر ہے گزشتہ آیت کریمہ میں پروردگار نے ان کے اس استبعاد کا ذکر کیا کہ ہم مر کر جب مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے گا۔ تو اس کا جواب دیتے ہوئے اس آیت کریمہ میں پروردگار فرماتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان کے نور سے تو محروم ہیں ہی تو کیا عام غور و فکر کی صلاحیت بھی کھو بیٹھے ہیں۔ اتنی بات تو ایک معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ زمین و آسمان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور وہی اس کا نظام چلا رہا ہے۔ تو جو ذات اس قدر قدرتوں کی مالک ہے تو اس کے بارے میں یہ بات سمجھنا کتنا مشکل ہے کہ وہ دوبارہ انسان کو ازسرنو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اگر کوئی شخص تاج محل کے معمار کے بارے میں یہ کہے کہ وہ اس کے گرے ہوئے ستونوں کو دوبارہ نہیں بنا سکتا تو سننے والا ہنسے گا کہ یہ کیسا بیوقوف آدمی ہے، جس شخص نے تاج محل بنایا کیا وہ گرے ہوئے ستون نہیں بنا سکتا، اس سے زیادہ حماقت کی بات اور کیا ہوگی۔ مشرکینِ مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر قیامت کا آنا واقعی ایک حقیقت ہے تو پھر وہ آج تک آئی کیوں نہیں، آخر اسے کس چیز نے روک رکھا ہے۔ اس آیت کے دوسرے حصے میں پروردگار نے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کام الل ٹپ نہیں ہوتے، اس کے یہاں ہر کام کا ایک فیصلہ ہوتا ہے اور ہر فیصلے کے پیچھے ایک حکمت ہوتی ہے۔ قیامت کے لیے بھی اس نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے، لیکن اس کا علم اس کے سوا کسی اور کو نہیں۔ اور اس مقرر وقت پر قیامت کا آنا یقینی ہے۔ جب وہ وقت آجائے گا تو نہ اس میں تقدیم ہوگی اور نہ تاخیر ہوگی۔ لیکن ان ظالموں کا کیا کیا جائے یہ قیامت کے وقوع پر ایک سے ایک دلیل سن چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے انکار اور کفر میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انھیں ہر چیز سے انکار ہے لیکن اپنے جامد رویئے سے نہ انکار ہے اور نہ اس پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے کہ اگر تم میرے رب کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے اندیشے سے ہاتھ روک لیتے، اور انسان بڑا ہی تنگدل ہے۔

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِکُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَۃِ رَبِّیْٓ اِذًا لَّاَمْسَکْتُمْ خَشْیَۃَ الْاِنْفَاقِ ط وَکَانَ الْاِنْسَانُ قَـتُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 100) (اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے کہ اگر تم میرے رب کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے اندیشے سے ہاتھ روک لیتے، اور انسان بڑا ہی تنگدل ہے۔ ) حضرت حکیم الامۃ تھانوی نے بیان القرآن میں اس جگہ رحمت رب سے مراد نبوت و رسالت اور خزائن رحمت و رسالت سے مراد کمالات نبوت لیے ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق اس کا ربط آیات سابقہ سے یہ ہوگا کہ تم جو نبوت و رسالت کے لیے بےسروپا اور بےہودہ مطالبات کررہے ہو اس کا حاصل یہ ہے کہ میری نبوت کو ماننا نہیں چاہتے تو کیا پھر تمہاری خواہش یہ ہے کہ نبوت کا نظام تمہارے ہاتھوں میں دے دیا جائے جس کو تم چاہو نبی بنا لو۔ اگر ایسا کرلیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم کسی کو بھی نبوت و رسالت نہ دو گے بخل کرکے بیٹھ جاؤ گے۔ حضرت ( رح) نے اس تفسیر کو نقل کرکے فرمایا ہے کہ یہ تفسیر مواہبِ الٰہیَّہ میں سے ہے کہ مقام کے ساتھ نہایت چسپاں ہے۔ اس میں نبوت کو رحمت کے ساتھ تعبیر کرنا ایسا ہوگا جیسا آیت اَھُمْ یُقْسِمُوْنَ رَحْمَۃَ رَبِّکَ میں بالاجماع، رحمت سے مراد نبوت ہی ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ قریش کی خست پر چوٹ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ کفار مکہ کو قیامت اور بعث بعدالموت کا یقین اس لیے نہیں آتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کو ماننے کے باوجود اس کی قدرت کاملہ کے بارے میں مذبذب تھے۔ ان کے ذہن میں یہ بات نہیں اترتی تھی کہ انسانوں کی مکمل تباہی کے بعد دوبارہ زندگی کیسے پیدا سکتی ہے اور ازسرنو کائنات کی بساط کیسے بچھائی جاسکتی ہے۔ اس عدم یقین اور شک پر تعریض کرتے ہوئے پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ایک طرف تو تم اپنے پروردگار کی قدرت کاملہ پر یقین نہ ہونے کے باعث بعث بعدالموت کے بارے میں متردد ہو اور دوسری طرف تمہارا حال یہ ہے کہ تمہاری خواہش یہ ہے کہ دنیا بھرکے خزانے تمہارے قبضے میں آجائیں حتیٰ کہ نبوت اور رسالت بھی تمہاری تحویل میں ہو اور ساتھ ہی ساتھ تمہاری تنگدلی اور بخل ایک جانی پہچانی سی بات ہے۔ تم تو اگر اپنے رب کے خزانوں کے مالک بھی بن جاؤ تو تمہیں ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہے گا کہ اگر انھیں خرچ کیا گیا تو یہ ایک نہ ایک دن ختم ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ وہ اب بھی مخلوقات کو رزق دیتا ہے۔ اور جب دوبارہ زندگی کی بساط بچھائے گا تو پھر ابدالآباد تک ان مخلوقات کو رزق بہم پہچائے گا اور بےحساب نعمتیں دے گا جنھیں اس وقت کی کائنات میں زندہ رکھا جائے گا۔ یہ تمہاری تنگدلی ہے جو تمہیں قیامت کو تسلیم کرنے سے بھی روکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی عظمتوں کا اعتراف کرنے سے بھی۔ بخل کی وجہ سے ہر چیز کو حاصل کرنے کی خواہش تو رکھتے ہو لیکن حوصلہ مندی میں کمی کی وجہ سے حقائق کو تسلیم کرنے سے قاصر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا معاملہ تمہاری تنگدلی کی وجہ سے تمہارے ساتھ تمہاری تنگدلی کے مطابق ہے۔ تم صرف خزف ریزوں کے اہل تھے تو اس نے تمہیں دنیا کے خزف ریزے دے دیے، لیکن نبوت جیسے فضل عظیم کے اہل چونکہ نبی کریم ﷺ تھے، اس لیے یہ عظیم دولت ان کو عطا کی گئی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تم اپنی طبعی کمزوری پر اصرار کرنے کی بجائے حقائق کا سامنا کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی عظمت کا اعتراف کرو۔