Ayah 17:20کُلاًّ نُّمِدُّھٰٓؤْلَآئِ وَھٰٓؤْلَآئِ مِنْ عَطَـآئِ رَبِّکَ ط وَمَا کَانَ عَطَـآئُ رَبِّکَ مَحْظُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 20)
(ہر ایک کی ہم امداد کرتے ہیں، ان کی بھی اور ان کی بھی، آپ ﷺ کے رب کی بخششوں سے اور آپ ﷺ کے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں۔ )
کافر اور مومن سب کو رزق اللہ تعالیٰ دیتا ہے
اس آیت کریمہ کا سب سے پہلا لفظ ” کُلاًّ “ کے بارے میں یہ جان لینا چاہیے کہ جب اس سے پہلے مختلف جماعتوں کا ذکر آئے جیسے یہاں آیا ہے تو یہ معرفہ کے حکم میں ہوجاتا ہے۔ یعنی اس سے وہ ساری جماعتیں مراد ہوتی ہیں جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے۔
گزشتہ آیتوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ طالب دنیا اور طالب آخرت کا ذکر آیا ہے اور دونوں کے بارے میں جو پروردگار کا طرزعمل ہے اسے بیان فرمایا گیا ہے۔ یہاں دونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بظاہر طالب آخرت اللہ تعالیٰ کا مومن بھی ہے اور فرمانبردار بندہ بھی۔ اور طالب دنیا خودغرض بھی ہے اور نافرمان اور باغی بھی۔ دونوں کی حالت دیکھ کر انصاف کا تقاضا یہ کہتا ہے کہ طالب آخرت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں اور طالب دنیا کو اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت پر قدرت میسر نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں معاملہ برعکس دکھائی دیتا ہے۔ چناچہ اس سلسلے میں پروردگار فرماتا ہے کہ کوئی دنیا کا طالب ہو یا آخرت کا، ہماری بخشش کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں، ہم بدترین نافرمان کی بھی روزی تنگ نہیں کرتے۔ رزق کا کوئی ایسا ذریعہ جو مومن کو میسر ہو، کافر کے لیے اسے بند نہیں کرتے۔ میدانِ عمل دونوں کے لیے یکساں ہے۔ کسی کو کسی پر کوئی ترجیح نہیں۔ اور یہ یکسانی ہم نے اس لیے رکھی ہے تاکہ قیامت کے دن جب آخرت کے انکار کرنے والے سے پوچھا جائے کہ تم نے آخرت کی تیاری کیوں نہ کی اور تم نے اللہ تعالیٰ کا حق کیوں نہ پہچانا تو وہ جواب میں یہ نہ کہہ سکے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا حق ہی کیا تھا، میری زندگی تو محرومیوں سے عبارت تھی۔ مومن کو نوازا جاتا تھا اور کافر کو تکلیفیں پہنچائی جاتی تھیں۔ اگر ہمیں بھی نعمتوں سے نوازا جاتا تو ہم بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور بہت ممکن تھا کہ ہم ایمان کا راستہ اختیار کرلیتے۔ چناچہ دونوں کو یکساں نعمت کے مواقع دے کر یکساں گراں بار کیا گیا، پھر جس نے اللہ تعالیٰ کا حق پہچانا اس کا حق بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا حق پہچانے اور اخروی نعمتوں سے اسے مالامال کردے۔ اور جس نے نعمتوں سے تو مومن سے بڑھ کر حظ اٹھایا اور ہر چیز کو بےروک ٹوک پانے کی کوشش کی اور شریعت کی کسی پابندی کو کبھی قبول نہ کیا اور اپنی خواہشاتِ نفس کو پورا کرنے میں پوری زندگی گزار دی، قیامت کے دن خود اس کا ضمیر جبکہ وہ اپنی اصل حالت پر آچکا ہوگا، اسے ملامت کرے گا کہ بتا آج تیرے پاس پروردگار کے انعامات کا کیا جواب ہے ؟
Ayah 17:21اُنْظُرْکَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط وَلَـلْاٰخِرَۃُ اَکْبَرُدَرَجٰتٍ وَّاَکْبَرُ تَفْضِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 21)
(دیکھو ہم نے ان کے ایک کو دوسرے پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت درجات اور فضیلت کے اعتبار سے کہیں بڑھ کر ہے۔ )
اونچ نیچ میں حکمت
اس آیت کریمہ میں ہر غور و فکر کرنے والے کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ تم دنیا میں بسنے والے انسانوں کو دیکھو رزق میں، عزت میں، عہدہ و منصب میں، شکل و صورت میں، طاقت اور قوت میں کس طرح ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے۔ بظاہر انسان یہ چاہتا ہے کہ سب انسان برابر ہونے چاہئیں، لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ انسانوں کا ہر لحاظ سے برابر ہونا خلاف فطرت بھی ہے اور خلاف حکمت بھی۔ اگر سب لوگ برابر ہوتے تو دنیا کا نظام معطل ہوجاتا۔ کوئی کسی سے کسی کام میں تعاون نہ کرتا۔ اور یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ ہر کام ہر آدمی بجالاتا۔ قدرت کی تقسیم ہے کہ کوئی کپڑا بنتا ہے، کوئی کاشتکاری کرتا ہے، کوئی جوتا بناتا ہے، کوئی بال کاٹتا ہے، کوئی تعلیم دیتا ہے، کوئی تعلیم پاتا ہے، کوئی مزدوری کرتا ہے، کوئی مزدوری لیتا ہے، کوئی رہنمائی دیتا ہے، کوئی رہنمائی قبول کرتا ہے۔ یہی تقسیم انسانی زندگی کی ہمہ ہمی ہے۔ اسی سے یہاں کی سرگرمیاں وابستہ ہیں اور اسی میں انسان کی مسرتیں پنہاں ہیں۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس اونچ نیچ اور تقسیم کے نتیجے میں انسانوں کی محنت اور سعی و کاوش کا حسن جھلکتا ہے۔ محنت کرنے والا آگے نکل جاتا ہے، بیکار پیچھے رہ جاتا ہے۔ ذہانتیں نئے نئے راستے تلاش کرلیتی ہیں اور لکیر کا فقیر راستہ ناپتا رہتا ہے۔ جب ہم ان مصالح پر غور کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ سوائے اس تقسیم کے جسے جبراً پیدا کیا گیا ہے اور سوائے اس تفضیل کے جسے ظلم سے وجود دیا گیا ہے باقی ہر وہ تقسیم اور ہر وہ فضیلت جو فطری مساعی کا نتیجہ ہے وہ فطرت کا تقاضا بھی ہے اور خوشیوں کی ضمانت بھی۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی سب لوگ یکساں مراتب کے حامل نہیں ہوں گے حالانکہ وہاں خوشیوں کا مسرتوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ وہاں کی مسرتیں اور وہاں کے مناصب بھی دنیا کے ایمان و عمل کا نتیجہ اور عکس ہوں گے۔ اس لیے وہ بھی عین مبنی برصداقت ہوں گے۔ مزیدبراں آخرت چونکہ دنیا کی نسبت بہت وسیع اور بہت عظیم ہے اس لیے وہ اپنے درجات و مراتب کے لحاظ سے بھی بہت عظیم ہوگی۔ یہ کہہ کر پروردگار نے اپنے بندوں کو شوق دلایا ہے کہ اگر تم جنت کے بیش بہا مناصب چاہتے ہو تو وہاں بھی ایک کو دوسرے سے آگے بڑھنے کے امکانات میسر ہیں۔ ایمان و عمل میں آگے بڑھنے کی کوشش کرو، قربانی و ایثار کی نئی نئی شمعیں جلائو۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے ہمتوں کا آخری قطرہ تک نچوڑ دو ، تو جنت کی بڑی سے بڑی نعمت کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 17:22لاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَفَـتَقْـعُدَ مَذْ مُوْمًا مَّخْذُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 22)
(اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو شریک نہ کر، ورنہ تو سزاوار مذمت اور بےیارومددگار ہو کر رہ جائے گا۔ )
اس آیت کریمہ میں واحد کے خطاب سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید نبی کریم ﷺ کو خطاب کیا گیا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں، عربی زبان میں بعض دفعہ واحد کا خطاب جمع کے لیے بھی آتا ہے، لیکن اگر اس تصور کو بھی قبول کرلیا جائے کہ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے تو تب بھی یہ خطاب اس لحاظ سے آپ ﷺ کو ہے کہ آپ ﷺ نوعِ انسانی کے امام ہیں۔ آپ ﷺ کو خطاب فرما کر پوری نوع انسانی کو متوجہ کرنا مقصود ہے کیونکہ ساری نوع انسان آپ ﷺ کی امت دعوت ہے۔
توحید ہی بنیاد ہے
فرمایا یہ جارہا ہے کہ دنیا اور آخرت کی کامیابیاں اور سرفرازیاں صرف ایک صورت میں ممکن ہیں کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے۔ نہ اس کی ذات میں، نہ صفات میں، نہ حقوق میں، نہ افعال میں۔ وہ وحدہ لاشریک ہے، کوئی اس جیسا نہیں۔ ہم صرف اسی کے بندے اور اسی کے احکام کے غیرمشروط طور پر پابند ہیں۔ وہی ہمیں زندگی دینے والا ہے، وہی موت دے گا۔ دنیا بھی اس کے ہاتھ میں ہے اور آخرت بھی اس کے ہاتھ میں۔ ہر مخلوق کو وہی روزی عطا کرتا ہے۔ اسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے بندوں سے کامل اطاعت کا مطالبہ کرے اور پھر قیامت کے دن ان کی زندگی کا حساب کتاب بھی لے۔ اور پھر اسی کے مطابق کسی کو جزا سے نوازے اور کسی کو سزا دے دے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان بنیادی تصورات پر یقین نہیں رکھتا جسے توحید کہتے ہیں اس کا دین اسلام سے کوئی رشتہ نہیں۔ اور قرآن کریم کی تعلیم اسے کوئی فائدہ نہیں دے گی۔
Ayah 17:23وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ط اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْکِلٰـہُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّـہُمَآ اُفٍّ وَّلاَ تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَّـھُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا۔ وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰـنِیْ صَغِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 23۔ 24)
( اور تیرے رب کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو، اور ماں باپ کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کرو، اگر وہ تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں ان میں سے ایک یا دونوں تو نہ ان کو اُف کہو اور نہ ان کو جھڑکو، اور ان سے شریفانہ بات کہو۔ اور ان کے لیے رحم دلانہ اطاعت کے بازو جھکائے رکھو اور دعا کرتے رہے کہ اے میرے رب ان پر رحم فرما، جیسا کہ انھوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ )
گزشتہ آیات میں چند تمہیدی نصیحتیں فرمائی گئی ہیں۔ اب یہاں سے ان بنیادی اصولوں کا ذکر شروع کیا گیا ہے جن پر آئندہ اسلامی ریاست اور معاشرے کی تعمیر ہونا ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی دعوت کا وہ منشور ہے جس پر نئے اسلامی معاشرے اور ریاست کی فکری، اخلاقی، تمدنی، معاشی اور قانونی عمارت اٹھائی جانی ہے۔
عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے
سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ تم لوگ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ عبادت اسلام کی ایک وسیع اصطلاح ہے۔ قرآن کریم نے عبادت ہی کو جنوں اور انسانوں کا مقصد تخلیق ٹھہرایا ہے۔ انبیائِ کرام جس دعوت کو لے کے آئے اس دعوت کا عنوان صرف عبادت رہا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے قیامت تک کے انسانوں کی ہدایت کے لیے جس بات کی طرف دعوت دی اور جس پر زندگی بھر زور دیا وہ یہی عبادت ہے۔ قرآن کریم کی سورة بقرہ میں جہاں قرآن کریم کی دعوت شروع ہوئی ہے اس کی پہلی آیت ہی یہ ہے ” یایھا الناس اعبدوا ربکم “ (اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا) یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ عبادت کے تصور میں صرف پرستش اور پوجا ہی شامل نہیں بلکہ اس میں غلامی اور بےچون و چرا اطاعت بھی شامل ہے۔ مقصود یہ ہے کہ پرستش بھی اللہ ہی کی کرو ‘ اسی کی بےچون و چرا اطاعت کرو ‘ اسی کے حکم کو حکم اور اسی کے قانون کو قانون مانو اور اس کے سوا کسی کا اقتدارِ اعلیٰ تسلیم نہ کرو۔ غلامی کے جتنے تصورات انسانوں نے اپنی فکر اور اپنی زبان سے رائج کیے اور اسے قانونی شکل دی اللہ کی اطاعت ان تمام تصورات پر محیط اور ان سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ جسے اگر سمیٹ کر کہا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہر مسلمان اللہ کا غلام ہے۔ نہ اس کا جسم اپنا ہے نہ جان ‘ نہ اس کی صلاحیتیں اور توانائیاں اپنی ہیں ‘ نہ وہ اپنی جسمانی قوتوں کا مالک ہے ‘ نہ اسے اولاد پر حق ملکیت حاصل ہے اور نہ وہ مال و دولت پر حق ملکیت جتانے کا مجاز ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی دین اور اس کا عطیہ ہے۔ وہی ان سب کا مالک ہے۔ مسلمانوں کے پاس یہ اس کی دی ہوئی امانت ہے۔ امانت میں ان حدود سے تجاوز کرنا جو امانت رکھنے والے نے عائد کردی ہیں اور یہ اپنی مرضی اس طرح استعمال کرنا جو امانت کو ملکیت بنا دے ‘ یہ امانت داری نہیں خیانت ہے۔ ہم اپنی ان چیزوں میں اپنی مرضی کرنے کے ہرگز مجاز نہیں۔ زندگی اس نے ہمیں گزارنے کے لیے دی ہے تو گزارنے کے طریقے بھی عطا فرمائے ہیں۔ اس میں اپنی مرضی سے لکیریں کھینچنا ‘ اپنی مرضی سے نقشے بنانا ‘ اپنی مرضی سے اس کی اصول و ضوابط اور آداب وضع کرنا یہ بندگی اور غلامی کے خلاف ہے۔ اور پھر اس زندگی کے لیے از خود نصب العین اور مقصد زندگی متعین کرنا سراسر حدود سے تجاوز ہے۔ اور زندگی کے ہر شعبے کے لیے جو احکام دیے گئے ہیں انھیں کامل بندگی کے تصور کے ساتھ بجا لانے کی بجائے ان کے خلاف دل و دماغ کی قوتیں صرف کرنا اس کے خلاف اپنے اعضاء وجوارح کو حرکت میں لانا بلکہ کھلم کھلا اس کے احکام کے خلاف زندگی کے معاملات کا فیصلہ کرنا سراسر اس کی عبادت ‘ بندگی اور غلامی سے بغاوت ہے۔ اور پھر وہ تنگی اور ترشی ‘ عسر و یسر اور امن اور خوف جس حال میں رکھے اس کے خلاف حرف شکایت زبان پر لانا یا اس کے سوا کسی اور کے سامنے دست سوال دراز کرنا اور کسی اور سے امیدیں باندھنا ‘ محبت کسی اور سے کرنا ‘ نفرت کا حوالہ کسی اور کو بنانا ‘ دل کی دنیا کسی اور سے آباد کرنا ‘ زندگی کے الجھے ہوئے مسائل میں اس کی دی ہوئی ہدایت کے برعکس کوئی اور ہدایت قبول کرنا اس کے آئین و قانون کو چھوڑ کر ملک میں وضعی قوانین کو نافذ کرنا ‘ اسلامی تہذیب کے سوادوسری تہذیبوں کو رائج کرنا اور پسند کرنا یہ سب وہ باتیں ہیں جو اس بندگی اور عبادت کے خلاف ہیں۔ مدینہ طیبہ پہنچ کر نبی کریم ﷺ نے اسی عبادت کے جامع تصور کو مسلمانوں کے دل و دماغ میں راسخ فرمایا اور اسی کو تہذیب ‘ تمدن ‘ اخلاق اور قانون کی بنیاد بنایا۔ اور اسی کو ریاست کا مقصد قرار دے کر ریاست کے تمام وسائل کو اس کی خدمت پر لگا دیا۔
انسانوں میں سب سے پہلا حق والدین کا ہے
اللہ کے بعد انسانوں میں سب سے مقدم حق والدین کا قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں آنے کا سبب والدین کے سوا اور کوئی نہیں۔ خالق تو اللہ کی ذات ہے ‘ لیکن بظاہر جسمانی ظہور ہر شخص کا والدین کی وساطت سے ہوا اور مزید یہ بات کہ اللہ تعالیٰ انسان کو نہایت بےبسی کی شکل میں دنیا میں بھیجتا ہے ‘ پیدا ہونے والا بچہ نہ سننے کی طاقت رکھتا ہے ‘ نہ دیکھنے کی ‘ نہ وہ پکڑ سکتا ہے ‘ نہ سمجھ سکتا ہے۔ گوشت کا ایک خوبصورت لوتھڑا ہے جو کبھی مسکراتا ہے کبھی روتا ہے۔ لیکن اپنے طور سے کسی بات پر قدرت نہیں رکھتا۔ والدین کا احسان یہ ہے کہ انھوں نے اس لوتھڑے کو پالا ‘ پروان چڑھایا ‘ تربیت کیا ‘ اس کی ہر ضرورت پوری کی ‘ انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ‘ ماں نے اپنا خون جگر اس کے گلے میں ٹپکایا ‘ باپ کے کندھوں نے اس کا بوجھ اٹھایا ‘ پھر دھیرے دھیرے اس عمر کو پہنچا جب وہ اپنے آپ کو سنبھالنے کے قابل ہوسکا۔ اتنے بڑے احسان کا بدلہ بڑے سے بڑا ہونا چاہیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے عظیم بدلے کے طور پر ماں باپ کے حق کو سب سے مقدم رکھا۔ لیکن یہ حق انھیں نہیں دیا کہ وہ اللہ کی عبادت میں شریک کیے جائیں۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے تین حقوق بیان فرمائے ہیں۔ (1) حُسنِ سلوک۔ (2) اطاعت۔ (3) دعا۔
والدین کے تین حقوق میں سے پہلا حق حُسنِ سلوک ہے
حُسنِ سلوک ادائے حق سے ایک بالا تر چیز ہے۔ اس لیے کہ اس کا حقیقی تعلق اولاد کی فرمانبرداری کے جذبے اور حسن ذوق سے ہے۔ جتنا کسی کا ذوق اس لحاظ سے پاکیزہ اور نازک ہوگا وہ اتنا ہی حسن سلوک میں آگے بڑھ جائے گا۔ لیکن اس آیت کریمہ میں اس حسن سلوک کی طرف رہنمائی بھی فرمائی گئی ہے۔ فرمایا گیا کہ اگر ماں باپ تمہاری زندگی میں بوڑھے ہوجائیں تو ان کے بارے میں تمہارا رویہ یہ ہونا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بڑھاپے سے پہلے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی ضرورت نہیں یا یہ ان کا حق نہیں۔ بڑھاپے کا ذکر تو صرف یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہی زمانہ ہے جس میں لوگوں کو ماں باپ بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں اور اسی میں وہ اولاد کی خدمت اور حسن سلوک کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔ کیونکہ بڑھاپے میں انسان میں دو طرح کی تبدیلیاں آتی ہیں۔
بڑھاپے میں آنے والی تبدیلیاں
1 قویٰ مضمحل ہوجاتے ہیں۔ اپنی مرضی سے چلنا پھرنا تو درکنار بعض دفعہ حرکت کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں حسن سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ انھیں نوکروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دیا جائے ‘ یا ان کی طرف سے بےپرواہی نہ برتی جائے ‘ بلکہ اولاد کی ذمہ داری ہے کہ امکانی حد تک خود ان کی کمزوریوں اور ناتوانیوں کا مداوا بننے کی کوشش کریں۔
2 دوسری تبدیلی ذہن اور عقل کی تبدیلی ہے۔ بڑھاپے میں بعض دفعہ آدمی ٹھیک بات کہنے اور سمجھ کر گفتگو کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ اور یہ بات بہت حد تک صحیح ہے کہ بڑھاپے میں آدمی دوبارہ بچہ بن جاتا ہے۔ ان دونوں تبدیلیوں کو سامنے رکھتے ہوئے پروردگار نے فرمایا کہ دیکھنا ایسی صورت حال میں اپنے ماں باپ کو اف تک بھی نہ کہنا۔ یعنی اظہارِ بیزاری نہ کرنا۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے منہ سے رال ٹپک رہی ہو ‘ ناک بہہ رہی ہو ‘ آنکھیں تلچھٹ سے بھری ہوں ‘ ممکن ہے وہ رفع حاجت بھی خود نہ کرسکیں۔ ایسی حالت میں خدمت سے تنگ آجانا ‘ انسانی فطرت سے بعید نہیں۔ دیکھنا ایسے وقت میں بیزاری کا اظہار نہ کرنا۔ اور اگر وہ عقل اور ذہن میں فتور کے باعث بچوں جیسی حرکتیں کرنے لگیں ‘ بلا وجہ کسی بات پر ضد کریں یا بار بار کوئی بات پوچھیں تو دیکھنا ان کو جھڑکنا نہیں۔ ان سے ناراض نہیں ہونا۔ بلکہ جس طرح انھوں نے نہایت محبت اور پیارے تمہیں اس وقت پالا جب تم گوشت کے ایک لوتھڑے کی طرح تھے۔ ہر طرح کی عقل اور سمجھ سے خالی ‘ بستر پر گندگی ‘ نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کا سلیقہ ‘ لیکن اس کے باوجود ماں باپ نے کیسی محبت سے تمہیں پالا ‘ تم بھی اسی محبت کے جذبے سے دیکھ بھال کرنا۔
کہا جاتا ہے کہ ایک صاحب بوڑھے ہوگئے۔ ایک دن گھر کے لان میں بیٹھے تھے کہ جوان بیٹا آگیا۔ جوان بیٹے کو پاس بٹھایا۔ دیوار پر کوا بیٹھا تھا، اس کی طرف اشارہ کر کے پوچھا بیٹا یہ کیا ہے ؟ بیٹے نے جواب دیا : ابا جان ! یہ کوا ہے۔ انھوں نے پھر پوچھا یہ کیا ہے ؟ بیٹے نے پھر جواب دیا کہ یہ کوا ہے۔ جب انھوں تیسری دفعہ پوچھا تو بیٹے کے لہجے میں تیزی آنے لگی۔ حتیٰ کہ جب پانچویں دفعہ یہی سوال کیا تو بیٹے نے جھڑک کر کہا کہا ابا جان یہ کیا ایک ہی سوال آپ بار بار کیے جا رہے ہیں۔ میں کتنی دفعہ آپ کو جواب دے چکا ہوں۔ یہ صاحب اٹھے، اندر سے اپنی ڈائری اٹھا لائے۔ ڈائری کا ایک صفحہ کھول کر بیٹے کے سامنے رکھ دیا۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ ” میرا بیٹا چھوٹا سا تھا۔ اسی صحن میں بیٹے ہوئے اس نے مجھ سے دیوار پر بیٹھے کوے کے بارے میں پوچھا۔ میں نے اس کو جواب دیا۔ لیکن وہ بار بار مجھ سے پوچھتا ابا جان یہ کیا ہے۔ میں جواب دیتا بیٹے یہ کوا ہے۔ اس نے پچیس دفعہ یہ سوال کیا اور پچیس دفعہ ہی میں نے جواب دیا اور اتنی دفعہ جواب دینے کے بعد مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میرا بیٹا بار بار مجھ سے پوچھتا ہے۔ “
اندازہ کیجیے کہ باپ پچیس دفعہ جواب دیتا ہے تو اس کی محبت اور پیار میں کوئی کمی نہیں آتی۔ قرآن کریم کی اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ تم بھی اسی جذبہ سے اپنے ماں باپ کی خدمت کرنا اور ہر طرح کی بات برداشت کرنا۔
والدین کا دوسرا حق اطاعت ہے
دوسرا حق جو اس میں بیان کیا گیا ہے وہ ہے ہرحال میں اپنے ماں باپ کی اطاعت کرنا اور ہر جائز حکم کو بجا لانا۔ ان کی مالی ضروریات کو پورا کرنا اور ہر جائز خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرنا اور پھر اس میں یہاں تک و سعت کی گئی کہ تمہارے والدین اگر غیر مسلم بھی ہوں وہ تمہیں کوئی اسلام کے خلاف بات کہیں تو اسے ہرگز نہ ماننا، لیکن ویسے ان کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا۔ ارشاد خداوندی ہے :
وَ اِنْ جَاہَدَاکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌلا فَلَا تُطِعْہُمَا وَ صَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا۔ (لقمان : 15)
(اور اگر تیرے والدین تجھے مجبور کریں اس بات پر کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک کر، جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی اطاعت مت کرنا، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ )
رضاعی والدین بھی حُسنِ سلوک کے مستحق ہیں
پھر والدین کے اس رشتے کو اسلام نے رضاعی والدین تک وسعت دے دی ہے۔ یعنی جس خاتون کا دودھ پیا ہے وہ دودھ پینے والے کی رضاعی ماں کہلاتی ہے اور اس کا شوہر رضاعی باپ بن جاتا ہے۔ اور ساتھ دودھ پینے والا دوسرا بچہ رضاعی بھائی کہلاتا ہے۔ جس طرح حضرت حلیمہ سعدیہ رسول اللہ ﷺ کی رضاعی والدہ تھیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ آپ ﷺ کی رضاعی والدہ یعنی حلیمہ سعدیہ تشریف لے آئیں۔ آپ ﷺ نے اپنی چادربچھا دی کہ اس پر تشریف رکھیں۔ پھر آپ ﷺ کے رضاعی والد آئے تو آپ ﷺ نے چادر کا دوسرا حصہ ان کے لیے بچھا دیا۔ اتنے میں آپ ﷺ کے رضاعی بھائی بھی پہنچ گئے تو آپ ﷺ نے ان کو ماں باپ کے درمیان بٹھایا۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اللہ کی نگاہ میں ماں باپ کا مقام و مرتبہ کیا ہے ؟ اطاعت کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ نافرمانی سے بھی منع فرمایا بلکہ نافرمانی سے روکنے کو قانونی حق کے طور پر تسلیم کیا۔ ارشاد فرمایا :
اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الْاُمَّہَاتِ
(اللہ نے تم پر مائوں کی نافرمانی کو حرام کردیا ہے)
ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ :
یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا حَقُّ الْوَالِدَیْنِ عَلٰی وَلَدِہِمَا قَالَ ہُمَا جَنَّـتُکَ وَ نَارُکَ
(کہ اے اللہ کے رسول ﷺ والدین کا ان کی اولاد پر کیا حق ہے ؟ فرمایا وہ دونوں تمہاری جنت ہیں اور اور تمہاری جہنم ہیں)
یعنی اطاعت کرو گے تو جنت کے مستحق ٹھہرو گے اور نافرمانی کرو گے تو اس کی وجہ سے جہنم میں جانا ہوگا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے :
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ ، قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ رَغِمَ اَنْفُہٗ رَغِمَ اَنْفُہٗ رَغِمَ اَنْفُہٗ قِیْلَ مَنْ ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ مَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ عِنْدَ الْکِبَرِاَحَدَہُمَا اَوْ کِلَا ہُمَا لِمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ
(حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو، اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو، اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو یعنی وہ ذلیل ہو۔ پوچھا گیا کہ کون اے اللہ کے رسول ﷺ ؟ فرمایا جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا۔ ان میں سے ایک کو یا دونوں کو اور پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا)
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے باپ کی رضامندی کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی ٹھہرایا اور باپ کی ناراضگی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی قرار دیا :
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ رِضٰی الرَّبِّ فِیْ رِضٰی الوَالِدِ وَ سُخْطَ الرَّبِّ فِیْ سُخْطَ الْوَالِدِ
(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے)
اور پھر والد کی نافرمانی کو نہ صرف اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ والد کی نافرمانی اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں دنیا میں ہی اس کی سزا نہ دے دی جائے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے :
کل الذنوب یغفر اللّٰہ تعالیٰ منہا ماشاء الا عقوق الوالدین فانہ یجعل لصاحبہ فی الحیاۃ قبل الممات
(اللہ تعالیٰ تمام گناہوں میں سے جس کو چاہے گا معاف فرمائے گا مگر والدین کی نافرمانی کو معاف نہیں فرمائے گا۔ ممکن ہے کہ وہ نافرمان کو موت سے پہلے زندگی میں ہی سزا دے ڈالے۔ )
ماں چونکہ اولاد کی پیدائش میں اور بچپن میں ان کی تربیت میں زیادہ دکھ اٹھاتی ہے اور باوجود اس کے کہ اس کا تعلق صنف نازک سے ہے، لیکن وہ کس قدر حوصلہ مندی کے ساتھ اپنی اولاد کی ہر غلط بات اور بڑی سے بڑی خدمت کے بوجھ کو برداشت کرتی ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ماں کی خدمت اور حسن سلوک کا حق باپ کی نسبت سے تین گنا تم پر زیادہ ہے :
قَالَ رَجَلٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَنْ اَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِیْ قَالَ اُمُّکَ ثُمَّ اُمُّکَ ثُمَّ اُمُّکَ ثُمَّ اَبَاکَ ثُمَّ اَدْنَاکَ ثُمَّ اَدْنَاکَ
(ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میرے بہتر حق کا اور بہتر مصاحبت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون ؟ کہا تمہاری ماں۔ پوچھا پھر کون ؟ کہا تمہارا باپ اور پھر تمہارے اور درجہ بدرجہ قریبی رشتے دار۔ )
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ماں کے ساتھ حسن سلوک اور اطاعت کو باپ کی نسبت تین گنا زیادہ اہمیت دی۔
عہدِ نبوت کی ایک معروف شخصیت حضرت اویس قرنی ہیں، جو یمن کے علاقے قرن کے رہنے والے تھے۔ وہ اپنے علاقے میں کسی صحابی کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ اور پھر انھوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ ” حضور میری والدہ بوڑھی ہیں، کوئی ان کی دیکھ بھال کرنے والا نہیں۔ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ ارشاد فرمایئے میرے لیے کیا حکم ہے ؟ “ آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ” تم اپنی ماں کی خدمت کرتے رہو۔ میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں۔ “
ذرا غور کیجیے کہ ایمان کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت سے بہرہ ور ہونے والے کو صحابی کہتے ہیں اور یہ شرف صحابیت جو محض آنحضرت ﷺ کی زیارت سے ملتا ہے، اس سے بڑھ کر کوئی شرف دنیا میں نہیں۔ ایک آدمی ساری عمر بھی اللہ کی عبادت کرتا رہے تو وہ ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی کے برابر نہیں ہوسکتا۔
حضرت اویس قرنی t
تاریخ میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مبارک جو بڑے جلیل القدر محدث ہیں، ان سے کسی نے پوچھا ” امیر معاویہ ؟ افضل ہیں یا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؟ “ تو حضرت عبداللہ بن مبارک نے فرمایا کہ ” بھائی ! تم نے ان دونوں میں عجیب تقابل کیا ہے۔ ان دونوں کا آپس میں تو کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ کیونکہ حضرت امیر معاویہ صحابی ہیں وہ جب آنحضرت ﷺ کے ساتھ جہاد کے لیے نکلتے تھے تو جو مٹی اڑ کر ان کی ناک میں جاتی تھی جو مقام و مرتبہ اس مٹی کا ہے وہ بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز کا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ بعد میں آنے والا بڑے سے بڑا شخص بھی شرف صحابیت سے ہمکنار نہیں ہوسکتا۔ اندازہ فرمائیں کہ اتنا بڑا شرف حضرت اویس قرنی نے ماں کی خدمت کی وجہ سے قربان کردیا۔ کیونکہ ان کی والدہ زندہ رہیں اور وہ ان کی خدمت میں لگے رہے۔ آنحضرت ﷺ کی صحبت میں باوجود اس کے کہ آپ ہمیشہ اس کے لیے تڑپتے تھے حاضر نہ ہو سکے۔ حتیٰ کہ حضور ﷺ نے انتقال فرمایا۔ لیکن ماں کی خدمت کی اطاعت کا جو ان کو صلہ ملا اس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر فاروق ( رض) سے فرمایا ” عمر ! میرے بعد ایک شخص اس حلیے کا جس کا نام اویس ہوگا، یمن سے آئے گا۔ تم اس کو تلاش کرنا۔ اگر وہ تمہیں مل جائے تو اس سے اپنے لیے دعا کرانا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مستجاب الدعوات بنایا ہے۔ “ یعنی اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ آپ ( رض) کو یہ شرف صرف اس وجہ سے ملا کہ آپ ( رض) نے ماں کی خدمت کی۔ چناچہ حضرت عمر فاروق ( رض) نے یہ تلاش جاری رکھی کہ جو بھی قافلہ یمن سے آتا آپ ( رض) اس میں معلوم کرنے کی کوشش کرتے کہ اس نام اور حلیے کا آدمی اس میں موجود ہے یا نہیں ؟ چناچہ آپ ( رض) کو ایک دفعہ یہ خبر ملی کہ کوئی قافلہ یمن سے آیا ہے اور اس میں اس نام کے صاحب موجود ہیں تو آپ ( رض) فوراً ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے دعا کی درخواست کی۔ انھوں نے حیران ہو کر پوچھا کہ حضرت آپ مجھ سے دعا کراتے ہیں حالانکہ آپ کا مقام و مرتبہ تو معروف و معلوم ہے تو پھر آپ نے آنحضرت ﷺ کے حوالے سے یہ سارا واقعہ بیان کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں ایک ماں کا مقام و مرتبہ کیا ہے ؟
جہاد جو اسلام میں سب سے بڑی عبادت ہے، والدین اگر بوڑھے ہیں اور کوئی ان کی دیکھ بھال کرنے والا نہیں یا صرف اکیلی ماں ہے اور ان کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی خدمت کو جہاد پر اہمیت دی ہے۔ آپ درج ذیل دو احادیث کو ملاحظہ فرمائیں :
جَآئَ رَجُلٌ اِلٰی النَّبِیِّ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ اُجَاہِدُ قَالَ اَلَکَ اَبَوَانِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِیْہِمَا فَجَاہِدْ
(ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا کیا تمہارے ماں باپ ہیں ؟ اس نے عرض کیا ہاں۔ فرمایا واپس جاؤ ان دونوں کے حوالے سے جہاد کرو یعنی ان دونوں کی خدمت کرو۔ )
ان جاہمۃ جاء الی النبی ﷺ فقال یا رسول اللہ اردت ان اغزو و قد جئت استشبرک فقال ہل لک من ام قال نعم قال فالزمہا فان الجنۃ عند رجلہا
(کہ جاہمہ نامہ کا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول میں جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔ میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ سے مشورہ کروں۔ فرمایا کیا تمہاری والدہ ہیں ؟ کیا ہاں۔ فرمایا جاؤ جا کر ہر وقت ان کی خدمت کرو۔ اس لیے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ )
ان دونوں احادیث میں والدین کو یا والدہ کی خدمت کو جہاد سے افضل قرار دیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ ان کے والدین یا ان کی والدہ کی نگہداشت کرنے والا اور کوئی نہیں۔ اس لیے آپ نے ان کو والدین کی خدمت یا ماں کی خدمت کو جہاد پر ترجیح دینے کا حکم دیا۔
ماں باپ کی خدمت اور جہاد
بات یہ ہے کہ اگر جہاد فرض نہ ہوا ہو بلکہ جہاد میں شرکت صرف ثواب کی نیت سے کرنا ہو تو پھر ایسے جہاد کے لیے تو ماں باپ کی اجازت ضروری ہے۔ لیکن اگر جہاد فرض ہوجائے جیسے جنگ تبوک میں آنحضرت ﷺ نے ہر صحابی کو نکلنے کا حکم دے دیا تھا، ایسے جہاد کو فرض عین کہتے ہیں تو پھر سب کا جہاد پر نکلنا فرض ہوجاتا ہے۔ ہاں اگر ایسی صورت ہو کہ ماں باپ کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں اور وہ خود اپنے آپ کو سنبھال نہ سکتے ہوں اور اندیشہ ہو کہ بیٹے کے چلے جانے کی صورت میں ان کی موت واقع ہوجائے گی تو ایسی صورت حال میں ماں باپ کی دیکھ بھال جہاد سے زیادہ درجہ حاصل کر جاتی ہے۔
والدین کی اطاعت قانوناً بھی ضروری ہے اور اخلاقاً بھی
ماں باپ کی اطاعت کا ذکر ہورہا ہے تو اس سلسلہ میں یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ اطاعت ایک تو خدمت کو کہتے ہیں۔ یعنی ماں باپ کی دیکھ بھال، نگہداشت، ان کی ہر طرح کی مدد اور تعاون، لیکن اطاعت کی دوسری صورت ان کے اخراجات کو برداشت کرنا ہے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ماں باپ کو صرف مالی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی دیکھ بھال کرنے والے دوسرے بھی ہوتے ہیں تو اطاعت جس کو ہم نفقہ کہتے ہیں اولاد پر قانونی طور پر بھی ضروری ہے اور اخلاقی طور پر بھی۔ قانونی طور پر ضروری ہونے کا معنی یہ ہے کہ اگر کوئی اولاد والدین کی جائز ضرورتوں کو پورا نہیں کرتی تو حکومت کا فرض ہے کہ وہ عدالت کے ذریعے اس اولاد کو مجبور کرے اور اخلاقی طور پر ضروری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسا جرم ہے جو مسلمان معاشرے میں قابل نفرت ہونا چاہیے۔ آخرت میں اللہ کے یہاں اس کی شدید باز پرس ہوگی۔ قرآن حکیم نے اولاد کو ماں باپ پر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی اس کی تاکید فرمائی ہے اور دور خلافتِ راشدہ میں خلفائے راشدین نے اس کے بارے میں فیصلہ بھی فرمایا۔ آنحضرت ﷺ کا ایک ارشاد ہے :
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصٍ اَنَّ اَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنَّ لِیْ مَالًا وَ وَلَدَانِ وَ اَنَّ اَبِیْ یُحْتَاجُ اِلٰی مَالِیْ فَقَاَل اَنْتَ وَ مَالُکَ لِاَبِیْکَ
(حضرت عمرو بن العاص ( رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول میرے پاس مال اور دو بیٹے بھی ہیں اور میرے والدین میرے مال کے محتاج ہیں تو مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ کا ہے)
اسی طرح حضرت عمر فاروق ( رض) کے زمانے میں حضرت عمر فاروق ( رض) کی خدمت میں ایک ایسے شخص کی شکایت کی گئی جو اپنے والدین کے اخراجات کے تحمل میں کوتاہی کا ارتکاب کر رہا تھا تو حضرت عمر ( رض) نے اسے حکم دیتے ہوئے یہی جملہ دہرایا یعنی ” اَنْتَ وَمَالُکَ لِاَبِیْکَ “ (تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ کی ملکیت ہے)
Ayah 17:24قرآن کریم نے اولاد کو جو والدین کی اطاعت اور خدمت کرنے کا حکم دیا ہے اس میں یہ قید بھی لگائی ہے کہ :
وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ ۔ (بنی اسرائیل : 23)
(والدین کے سامنے فرمانبرداری کے بازو محبت سے جھکائے رکھو۔ )
یعنی تم اپنے والدین کی خدمت ایک بوجھ سمجھ کر مت کرنا، بلکہ تمہاری فرمانبرداری کے بازو رحمت اور محبت سے ان کے سامنے پھیلے رہنے چاہئیں۔ یعنی جس طرح ماں باپ اپنی اولاد کو بوجھ سمجھ کر نہیں پالتے، بلکہ نہایت محبت اور پیار سے پالتے ہیں، بالکل اسی جذبے کے ساتھ اولاد کو بھی اپنے ماں باپ کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور اگر وہ ایسے ہی جذبے سے اپنے ماں باپ کی دیکھ بھال کریں تو یقین جانئے یہ خدمت اور یہ محبت سے کی ہوئی دیکھ بھال اتنا بڑا ذریعہ ہے کہ آدمی اگر کبھی کسی ایسی صورت حال میں گرفتار ہوجائے جس سے نکلنے کی بظاہر کوئی صورت نہ ہو تو اس عمل کے واسطے سے اگر دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے رد نہیں فرماتا۔ خود آنحضرت ﷺ نے ایک واقعہ بیان فرمایا :
ارشاد ہوا کہ تین مسافر راہ میں چل رہے تھے کہ اتنے میں موسلا دھار پانی برسنے لگا۔ تینوں نے بھاگ کر ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی۔ قضا را ایک چٹان اوپر سے اس طرح گری کہ اس سے اس غار کا منہ بند ہوگیا۔ اب ان کی بےکسی و بےچارگی اور اضطراب و بیقراری کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ ان کو موت سامنے کھڑی نظر آتی تھی۔ اس وقت انھوں نے پورے خضوع و خشوع کے ساتھ دربارِ الٰہی میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ ہر ایک نے کہا کہ اس وقت ہر ایک کو اپنی خالص نیکی کا واسطہ خدا کو دینا چاہیے۔ ایک نے کہا ” یا الٰہی تو جانتا ہے کہ میرے والدین بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے، میں بکریاں چراتا تھا اور انھیں پر ان کی روزی کا سہارا تھا۔ میں شام کو جب بکریاں لے کر گھر آتا تھا تو دودھ دوھ کر پہلے اپنے اپنے والدین کی خدمت میں لاتا تھا۔ جب وہ پی چکتے تب اپنے بچوں کو پلاتا تھا۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں بکریاں چرانے کو دور نکل گیا۔ لوٹا تو میرے والدین سو چکے تھے۔ میں دودھ لیکر ان کے سرہانے کھڑا ہوا، نہ ان کو جگاتا تھا کہ ان کی راحت میں خلل آجاتا اور نہ ہٹتا تھا کہ خدا جانے کس وقت ان کی آنکھیں کھلیں اور دودھ مانگیں، بچے بھوک سے بلک رہے تھے، مگر مجھے گوارا نہ تھا کہ میرے والدین سے پہلے میرے بچے سیر ہوں۔ میں اسی طرح پیالہ میں دودھ لیے رات بھر سرہانے کھڑا رہا اور وہ آرام کرتے رہے۔ خداوندا ! اگر تجھے معلوم ہے کہ میں نے یہ کام تیری خوشنودی کے لیے کیا تو اس غار کے منہ سے چٹان کو ہٹا دے۔ “ یہ کہنا تھا کہ چٹان کو خود بخود جنبش ہوئی اور غار کے منہ سے تھوڑا سرک گئی۔ اس کے بعد باقی دو مسافروں کی باری آئی اور انھوں نے بھی اپنے نیک کاموں کو وسیلہ بنا کر دعا کی اور غار کا منہ کھل گیا۔
تیسرا حق دعا کرنا
اولاد پر ماں باپ کا تیسرا حق دعا کرنا ہے۔ اس کا تعلق والدین کی زندگی سے بھی ہے اور والدین کی زندگی کے بعد سے بھی۔ جب تک والدین زندہ رہیں تو آدمی حتیٰ المقدور ماں باپ کی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرتا رہے :
رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا
(اے میرے پروردگار ! تو ان پر رحمت فرما جس طرح انھوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے۔ )
اس میں اشارہ دو باتوں کی طرف ہے۔ ایک تو یہ کہ جو آدمی اپنے والدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ ان کے لیے اس طرح دل سے دعا بھی مانگے گا تو یقینا اس کے دل میں اپنے ماں باپ کی خدمت بوجھ نہیں بنے گی۔ اور پھر اس دعا سے ماں باپ کی محبت کا جذبہ ہمیشہ زندہ رہے گا اور وہ امکانی حد تک کبھی اس خدمت سے دریغ نہیں کرے گا اور دوسرا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ دنیا میں ہر آدمی کے لیے بہت سے لوگ دعائیں مانگتے ہیں جن میں دوست احباب ہیں، بیوی ہے، بچے ہیں، ان کی دعائوں میں یقینا اخلاص بھی ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ بےلوث اور بےغرض دعا سوائے والدین کے اور کوئی نہیں مانگتا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ماں باپ کے اٹھ جانے سے بےلوث اور بےغرض دعائیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اولاد چاہے کتنے پیار سے دعا مانگے لیکن کوئی نہ کوئی خواہش کہیں نہ کہیں چھپی ہوتی ہے۔ یہی حال بیوی اور دوست احباب کا بھی ہے، لیکن والدین جب دعا مانگتے ہیں تو اپنی ذات کی مکمل نفی کر کے دعا کرتے ہیں۔ تو یہاں خدمت کے ساتھ ساتھ جو دعا کا حکم دیا گیا ہے اور ساتھ والدین کا حوالہ بھی ہے تو اس میں شائد اس بات کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ دیکھو تمہارے والدین نے جب تمہاری تربیت کی تھی اس میں جہاں ہر طرح کی دیکھ بھال، خیر خواہی، ہمدردی اور ایثار کا جذبہ کار فرما تھا وہیں اس میں تمہارے لیے بےلوث دعائیں بھی شامل تھیں۔ جن کا سلسلہ ان کی زندگی کے آخری سانس تک قائم رہا۔ وہ اپنے آپ کو بھول کر ہمیشہ تمہاری بھلائی اپنے رب سے مانگتے رہے۔ دیکھنا تم بھی ایسے ہی جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کرنا اور جہاں تک زندگی کے بعد دعائوں کا تعلق ہے اسے بھی آنحضرت ﷺ نے ماں باپ کے بعد از وفات حقوق میں شامل فرمایا۔ ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں :
عَنْ اَبِیْ السَّیِّدِ السَّاعَدِیْ قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ اِذْ جَآئَ رَجُلٌ مِّنْ بَنِیْ سَلْمَۃَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ھَلْ بَقی من بر ابوی شیء ابرہما مِنْ بَعْدِ مَوْتِہِمَا قَالَ نَعَمْ اَلصّٰلٰوۃُ عَلَیْہِمَا وَالْاَسْتِغْفَارُ لَہُمَا وَانْقَاذُ عَہْدَہُمَا وَ صِلَۃُ الرَّحْمِ الَّتِیْ لَا تُوْصِلُ اِلَّا بِہِمَا وَ اِکْرَامُ صَدِیْقِہِمَا
(ابوسید الساعدی سے روایت ہے کہ ایک وقت جب ہم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے بنی سلمہ میں سے ایک شخص آیا اور اس نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ کیا میرے ماں باپ کے مجھ پر کچھ ایسے حقوق ہیں جو ان کے مرنے کے بعد مجھے ادا کرنے چاہئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ان کے لیے خیر و رحمت کی دعا کرتے رہنا، ان کے واسطے اللہ سے مغفرت اور بخشش مانگنا، ان کا اگر کوئی عہد معاہدہ کسی سے ہو تو اس کو پورا کرنا، ان کے تعلق سے جو رشتے ہیں ان کا لحاظ رکھنا، اور ان کا حق ادا کرنا اور ان کے دوستوں کا اکرام و احترام کرنا۔ )
بعدازوفات والدین کے حقوق
اس حدیث میں ماں باپ کے لیے دعا، اللہ سے ان کی بخشش کی طلب، بندوں میں سے کسی کے ساتھ اگر کوئی عہد معاہدہ ہو تو اسے پورا کرنا، ماں باپ کے تعلق سے جو جو رشتے بھی ہیں، ان کا لحاظ کرنا اور ان کا حق ادا کرنا اور زندگی میں ان کے جن کے ساتھ دوستی کے تعلقات تھے ان کا اکرام و احترام کرنا۔
یہ وہ حقوق ہیں جو ماں باپ کی وفات کے بعد بھی اولاد پر باقی رہتے ہیں تو ان میں سب سے پہلا حق ان کے لیے دعائے خیر و رحمت کرنا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ جب بھی موقع ملے تو آپ اپنے والدین کے لیے یہ دعا کرتے رہا کریں :
’ رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا
(اے میرے پروردگار ! تو ان پر رحمت فرما جس طرح انھوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے۔ )
اس کا فائدہ اس کے والدین کو قبر میں اور آخرت میں انشاء اللہ جو ہوگا سو ہوگا خود اولاد کو بھی اس کا فائدہ جو پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ نافرمان اولاد کو بھی اس دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرمانبردار اولاد میں شامل فرما دیتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے :
عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ اِنَّ الْعَبْدَ لَیَمُوْتُ وَالِدَاہُ اَوْاَحَدُہُمَا وَ اِنَّہٗ لَہُمَا لَعَاقٍ فَلَا یَزَالُ یَدْعُوْلَہُمَا وَ یَسْتَغْفِرُ لَہُمَا حَتّٰی یَکْتُبَہُ اللّٰہُ بَارًا۔
(حضرت انس ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی آدمی کے ماں باپ کا یا دونوں میں سے کسی ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اولاد زندگی میں ان کی نافرمان اور رضا مندی سے محروم ہوتی ہے لیکن یہ اولاد ان کے انتقال کے بعد سچے دل سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر و رحمت کی دعا مانگتی اور بخشش کی التجا کرتی رہتی ہے۔ (اور اس طرح اپنی قصور کی تلافی کرنا چاہتی ہے) تو اللہ تعالیٰ اس نافرمان اولاد کو فرمانبردار قرار دے دیتا ہی اور پھر وہ ماں باپ کی نافرمانی کے وبال اور عذاب سے بچ جاتے ہیں۔
اندازہ فرمایئے کہ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا کرم کیا ہوگا ؟ دنیا میں کی ہوئی غلطیوں کی تلافی اور وہ بھی حقوق العباد کے حوالے سے متعلقہ لوگوں کی موت کے بعد، ظاہر ہے ایک ناممکن بات ہے لیکن پروردگار نے محض اپنے فضل و کرم سے نافرمان اولاد کی کوتاہیوں اور ان کی نافرمانیوں کا ازالہ اس صورت میں فرمایا کہ اگر وہ اپنی کوتاہیوں کو محسوس کرتے ہوئے اپنے لیے مغفرت مانگتے رہیں اور اپنے والدین کے لیے دعائوں کا سلسلہ جاری رکھیں تو جہاں والدین کو قبر میں رحمت و سکون ملے گا وہاں اس اولاد کے بارے میں بھی امید کی جاسکتی ہے کہ یہ قیامت کے دن عذاب سے بچ جائے۔ جہاں تک والدین کے بعد از وفات دوسرے حقوق کا تعلق ہے اس کی پابندی بھی اولاد پر لازم ہے۔ یعنی انھیں ہر صورت میں اپنے والدین کے معاہدوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ وہ اپنے عزیزوں سے جس طرح صلہ رحمی سے پیش آتے تھے، انھیں بھی اس میں کمی نہیں کرنی چاہیے اور زندگی میں جن لوگوں سے انھوں نے اپنی دوستی اور محبت کا تعلق قائم کیا تھا انھیں ان کا احترام ملحوظ رکھنا چاہیے اور اس کی کم سے کم صورت یہ ہے کہ آدمی اپنی ذاتی احباب کی فہرست میں اپنے والدین کے ملنے والوں کو بھی شامل کرے۔ پھر جس طرح مختلف تقریبات کے حوالے سے وہ اپنے احباب کو یاد رکھتا ہے اسی طرح وہ اپنی والدین کے احباب کو بھی یاد رکھے۔ اپنی والدہ کی سہیلیوں کو بھی مختلف اوقات میں تحائف بھیجتا رہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کا یہ عمل ہمیں احادیث میں ملتا ہے کہ گھر میں جب کبھی آپ کوئی اچھا کھانا تیار کرواتے تو اپنے والدین کے احباب کو بھی یاد فرماتے۔ حتیٰ کہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ ( رض) کی سہیلیوں کے گھروں میں بھی پکوان بھجواتے۔
ایک حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ کے قریبی لوگوں سے حسن سلوک اولاد کے ذمہ صرف ماں باپ کا حق ہی نہیں، بلکہ خود اولاد کو اس سے یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ اگر ان سے کوئی ایسا بڑ گناہ ہوجائے جس سے بظاہر بخشش کی کوئی صورت نظر نہ آتی ہو تو والدین کے قریبی لوگوں سے حسن سلوک کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ وہ گناہ بھی معاف فرما دیتے ہیں۔ یہ حدیث ملاحظہ فرمایئے۔
عَنْ اِبْنِ عُمَرَ اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْٓ اَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِیْمًا فَہَلْ لِّیْ مِنْ تَوْبَۃٍ قَالَ ہَلْ لَکَ مِنْ اُمٍّ قَالَ لَا قَالَ وَ ہَلْ لَکَ مِنْ خَالَۃٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَبِرْہَا
(حضرت عبداللہ بن عمر ( رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضور ! میں نے ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے تو کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ اور مجھے معافی مل سکتی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا تمہاری ماں زندہ ہے ؟ اس نے عرض کیا ماں تو نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری کوئی خالہ ہے ؟ اس نے عرض کیا ہاں خالہ موجود ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو اس کی خدمت کر اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کر۔ (اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے تمہاری توبہ قبول فرما لے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا)
والدین کی اطاعت کی دنیوی برکات
آخر میں ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ماں باپ کی فرمانبرداری کے دنیوی اور اخروی نتائج کیا ہوں گے ؟ جہاں تک دنیا میں اس کے نتیجہ خیز ہونے کا تعلق ہے اس کا ذکر ہم شروع میں کرچکے ہیں۔ کوئی معاشرہ کبھی حفاظت اور تربیت کے حوالے سے مستحکم بنیادوں پر قائم نہیں ہوسکتا۔ جس معاشرے میں والدین کا مقام و مرتبہ محفوظ نہ ہو اور جس میں ماں باپ کے تعلق کو معاشرے کی ایک مضبوط بنیاد کے طور پر قبول نہ کیا جائے۔ لیکن جہاں تک اس کی دنیوی برکات کا تعلق ہے اس سلسلہ میں ہم آنحضرت ﷺ کی چند احادیث نقل کرتے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ کی فرمانبرداری کی دنیا میں جو سب سے پہلی برکت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے فرمانبرداری کرنے والوں کی عمر میں اضافہ فرماتا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سلَّمَ اَنَّ اللّٰہِ یَزِیْدُ فِیْ عُمْرِ الرَّجُلِ بِبِرٍّ وَّالِدَیْہِ
( رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ماں باپ کی خدمت فرمانبرداری اور حسن سلوک کی وجہ سے آدمی کی عمر میں اضافہ فرما دیتا ہے۔ )
دوسری دنیوی برکت یہ ہے کہ جو اولاد ماں باپ کی فرمانبرداری اور خدمت کرے گی اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کو اس کی فرمانبرداری اور خدمت گزار بنا دے گا۔ اسی طرح جو لوگ پاکدامنی کی زندگی گزاریں گے اللہ تعالیٰ ان کی بیویوں کو پاکدامنی کی توفیق عطا فرمائے گا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے :
عَنْ اِبْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سلَّمَ بِرُّوْا اٰبَآئَ کُمْ یَبِرُّ اَبْنَآئُ کُمْ وَ عَفُّوْا تَعْفُ نِسَآئُ کُمْ
(حضرت عمر ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے والدین کی خدمت اور فرمانبرداری کرو، تمہاری اولاد تمہاری فرمانبرداری اور خدمت گزار ہوگی۔ اور تم پاکدامنی کے ساتھ رہو تمہاری عورتیں پاکدامن رہیں گی۔ )
تیسرا دنیوی فائدہ یہ ہے کہ والدین کی خدمت سے اللہ تعالیٰ رزق میں وسعت عطا فرماتا ہے۔ ارشاد نبوی ہے :
عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَ سلَّمَ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُبْسَطَ فِیْ رِزْقِہٖ وَ یَنْسَا لَہٗ فِیْٓ اَثَرِہٖ فَلْیَصِلُ رَحْمَہٗ
(حضرت انس ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت کی جائے اور اس کے اجل میں تاخیر کی جائے تو اپنا رشتہ پیوست رکھے۔ )
مختصر یہ کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی اطاعت اور بعد از وفات ان کے لیے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرنا، ان کے معاہدوں کی پاسداری کرنا اور انکے ملنے جلنے والوں سے اچھا رویہ رکھنا یہ وہ قدریں ہیں جن سے خاندان مضبوط ہوتا اور اہل خاندان کو معاشرتی تحفظ میسر آتا ہے۔ نتیجۃً معاشرے میں یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ ایثار و محبت کی قدریں پروان چڑھتی ہیں اور معاشرے میں رہنے والے لوگ خوشحالی، خوش اطواری اور خوشگواری کی زندگی گزارتے ہین، لیکن اگر والدین کا یہ ادارہ متاثر ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں پلنے والے بچے ان تمام قدروں سے آہستہ آہستہ محروم ہوجائیں گے جن کا ابھی ہم نے ذکر کیا اور خود غرضی اور خود سری کی لعنتیں معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ معاشرہ اجتماعی سکون سے محروم ہو کر حیوانون کا ایک انبوہ بن جائے گا۔ اس لیے ہم اگر ایک زندہ قوم کی طرح اسلامی اطوار کے حامل بن کر ایک آبرو مندانہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو انتہائی ضروری ہے کہ والدین کے احترام اور حسن سلوک کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔ باپ کو صحیح احترام اور حسن سلوک کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔ باپ کو صحیح احترام دیا جائے، وہ نہ صرف گھر کا مرکز ہے، بلکہ وہ گھر کا سربراہ بھی ہے۔ جس طرح گھر بھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ اس کے کندھے اٹھائیں اسی طرح بچے اسکے نقوش قدم کو بھی اپنے لیے ایک نعمت سمجھیں۔ اس لیے اسلام نے باپ کی طرف پائوں پسارنے سے، اس کے آگے چلنے سے، اس کے سامنے بلند آواز سے بولنے سے اور اس کی رضامندی سے ہٹ کر فیصلہ کرنے سے منع فرمایا اور جہاں تک حسن سلوک کا تعلق ہے ماں کو باپ سے تین گنا بڑھ کر اس کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ کیونکہ جو بےتکلفی اولاد کو اپنی ماں سے ہوتی ہے باپ سے نہیں ہوتی۔ البتہ رہنمائی کا فریضہ چونکہ باپ کو انجام دینا ہے اس لیے اولاد اور باپ میں ایک فرق رکھتے ہوئے اس کے احترام کی زیادہ تاکید فرمائی اور ماں کو حسن سلوک کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ محترم بنایا گیا۔ بہرحال والدین ہی اولاد کی جنت بھی ہیں اور ہنم بھی۔ اور انہی کے حوالے سی معاشرہ بنتا بھی ہے اور بگڑتا بھی اور یہی وہ نعمت ہیں جن کی قدر کر کے قومیں دنیا میں سرفراز ہوتی ہیں۔
Ayah 17:25رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ ط اِنْ تَکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 25)
(تمھارا رب خوب واقف ہے اس سے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اگر تم نیک رہو گے تو وہ رجوع کرنے والوں کو بڑا بخشنے والا ہے۔ )
والدین کی خدمت کی انتہائی تاکید کے بعد بھی پروردگار نے اس آیت میں مزید ایک بات کی طرف توجہ دلائی ہے، وہ یہ کہ اگر تم والدین کی خدمت اوپرے دل سے کرتے رہے، محض یہ سمجھ کر کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور یا لوگوں کو خوش کرنے کے لیے، لیکن تمہارا دل اس میں شریک نہیں تھا تو یاد رکھو یہ خدمت اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول نہیں ہوگی۔ اس کے لیے انتہائی پاکیزہ قلبی جذبہ محبت اور دلی لگائو بھی بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ خدمت کو بھی دیکھتا ہے لیکن اس کی نگاہ دلوں پر بھی رہتی ہے کہ خدمت کرنے والا کس طرح کے جذبات سے خدمت کررہا ہے۔ البتہ اس میں ایک اطمینان کی بات بھی ہے کہ آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا کہ اگر تم نے اپنے دلی جذبات کو درست رکھا اور دل سے خدمت بجالانے کی کوشش کرتے رہے اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی بھی مانگتے رہے کہ کوئی کمی بیشی ہوجائے تو معاف فرما دیا جائے تو اللہ تعالیٰ کا کرم یہ ہے کہ ان جذبات کے ساتھ اگر خدمت میں کوئی کمی بھی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ نظر کرم سے محروم نہیں کرتا بلکہ وہ ایسی تمام غلطیوں کو جو بےخیالی میں ہوجاتی ہیں معاف کرنے والا ہے۔