Ayah 17:60وَاِذْقُلْنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ط وَمَا جَعَلْنَا الرُّئْ یَا الَّتِیْٓ اَرَیْنٰکَ اِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ فِی الْقُرْاٰنِ ط وَنُخَوِّفُھُمْ لا فَمَا یَزِیْدُ ھُمْ اِلاَّ طُغْیَانًا کَبِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 60)
(اور اس وقت کو یاد کرو جس وقت ہم نے آپ ﷺ سے کہا تھا کہ بیشک آپ ﷺ کا رب لوگوں کو گھیر چکا ہے اور ہم نے وہ دکھاوا آپ ﷺ کو نہیں دکھایا، مگر م لوگوں کے لیے آزمائش اور وہ درخت بھی جس پر قرآن کریم میں لعنت کی گئی ہے، اور ہم انھیں ڈراتے ہیں لیکن ان کے اندر سوائے ایک بڑی سرکشی کے کسی اور چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔ )
ہدایت کے لیے چند نشانیوں کا ذکر
مشرکینِ مکہ کے نشانی کے مطالبہ کے جواب میں پروردگار نبی کریم ﷺ کو یاد دلا رہے ہیں اور بالواسطہ ان سے فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی دعوت کے ان دنوں میں جب اشرافِ قریش نے آپ ﷺ کی دعوت کو روکنے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے کو استعمال کرنا شروع کردیا تھا اور وہ ہر قیمت پر اس دعوت کو ناکام کرنے پر تل گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کے واسطے سے انھیں کہا تھا کہ تم اس دعوت کو روکنا چاہتے ہو لیکن ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں کہ تم اس میں کامیاب نہیں ہوسکو گے تم نہ جانے کیا سمجھتے ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے لوگوں کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ یہ آپ ﷺ کو مٹا دینے کی فکر میں ہیں حالانکہ یہ ہمارے نرغے میں ہیں۔ ان میں وہ لوگ بچیں گے جو ایمان لے آئیں گے اور باقی سب میدانِ کارزار میں مارے جائیں اور یا ایک دن آئے گا جب یہ آپ ﷺ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے۔ اور جیسا ہم نے کہا تھا آج کے حالات نے کچھ تو ثابت کردیا ہے اور کچھ مزید ثابت ہوجائے گا۔ تم نشانی مانگتے ہو اس سے بڑی کوئی اور نشانی کیا ہوسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ پروردگار نے یہ بات کہاں فرمائی ہے کہ ہم ان میں سے بعض آیات کا حوالہ دیتے ہیں۔ سورة البروج میں ارشاد فرمایا بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی تَکْذِیْبٍ وَّاللّٰہُ مِنْ وَرَائِ ہِمْ مُحِیْطًمگر یہ کافر جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر طرف سے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَا تِی الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِھَا (سورۃ الرعد۔ 41) ۔ کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم سرزمینِ مکہ کی طرف بڑھ رہے ہیں، اس کے اطراف سے اس کو کم کرتے ہوئے۔
پھر جب فتوحات کا دور شروع ہوا تو قرآن کریم نے فتح مکہ کی پیشگوئی ان الفاظ میں فرمائی وَاُخْرٰی لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھَا قَدْاَحَاطَ اللّٰہُ بِھَا اور دوسری فتوحات بھی ہیں جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوسکے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احاطے میں لے لیا ہے۔
ان میں سے ایک ایک آیت ایک ایسی نشانی ہے جو ان حالات میں نازل ہوئی جب دور دور تک اس کی تعبیر دکھائی نہیں دیتی تھی اور لوگ اسے دیوانے کی بڑ سمجھتے تھے۔ لیکن پھر یہ حقیقت بن کر سامنے آئی اور اب قیامت تک اسے پڑھا جائے گا۔ اور اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ قریش مکہ کے سامنے ایسی نشانیوں کا ظہور ہوتا رہا ہے جو ان کی ہدایت کے لیے کافی تھیں لیکن وہ اس وقت تک آنکھیں بند کیے رہے جب تک فتح مکہ کے ساتھ ان کی عظمت سرنگوں نہیں ہوگئی۔
وَمَا جَعَلْنَا الرُّئْ یَا …الخ۔ اس سے مراد واقعہ ٔ معراج ہے۔ ہم رویاء کے لفظ پر اس سے پہلے بحث کرچکے ہیں کہ اس سے مراد آنکھوں سے دیکھنا ہے، خواب مراد نہیں، کیونکہ اگر خواب ہوتا تو لوگوں کے لیے فتنے کی کیا بات تھی، کیونکہ خواب تو ایک سے ایک دیکھے جاتے ہیں لیکن کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرتا۔ یہ واقعہ بجائے خود نبی کریم ﷺ کی حقانیت اور دین کی صداقت کی کتنی بڑی دلیل ہے اور مزید یہ بات بھی کہ یہ ایک وارننگ بھی تھی جس میں اہل کتاب اور اشرافِ قریش دونوں کو یہ بتانا مقصود تھا کہ جو نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے اندر معبوث ہوا ہے وہ نبی القبلتین ہے۔ اب بیت المقدس اہل کتاب کی تحویل میں نہیں رہے گا اور بیت اللہ قریش کی تولیت میں نہیں رہے گا۔ اس عظیم ذات کی بعثت ہوگئی جو دونوں قبلوں کا نبی ہے اور جسے دنیا کی امامت بخشی گئی ہے۔ اس لیے اب جن قوتوں نے ان دونوں قبلوں پر زبردستی قبضہ جما رکھا تھا اور اپنی قیادت کا ڈھونگ رچا رکھا تھا انھیں اب اپنے پائوں سمیٹنے ہوں گے۔
وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ فِی الْقُرْاٰنِوہ درخت جس پر قرآن کریم میں لعنت کی گئی ہے اسے بھی لوگوں کے لیے فتنہ بنایا گیا۔ اس درخت سے مراد زقوم کا درخت ہے جو دوزخ کی تہہ میں پیدا ہوگا اور دوزخیوں کی خوراک ہوگا۔ اسے ملعون اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ یہ ان لوگوں کی خوراک ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہیں اور جن پر ہر وقت لعنت برستی ہے۔ اہل مکہ نے اس پر بڑا شور مچایا اور مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ دوزخ میں آگ کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور آگ بھی ایسی شدید کہ جس کا آج اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا تو اس کے اندر کسی درخت کا پیدا ہونا، آخر اس کا کیا مطلب ہے ؟ لیکن ان کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ اس کا پیدا کرنے والا نہ کسی سبب کا محتاج ہے اور نہ مناسب ماحول کا۔ وہ جس ماحول میں جسے چاہے پیدا فرما دے۔ اس میں بتانا تو صرف یہ ہے کہ اے اشرافِ قریش اگر تم نے ایمان کا راستہ اختیار نہ کیا تو تمہارا انجام وہ جہنم ہوگا جس میں زقوم جیسا درخت تمہارا کھانا بنے گا۔ پھر اس کے کھانے سے جو پیاس بھڑکے گی تو کھولتا ہوا پانی تمہیں پینے کو ملے گا۔ یہ سارے احوال اس لیے بیان کیے جارہے ہیں تاکہ تم غفلت کی نیند سے اٹھو اور اپنی عاقبت بنانے کے لیے جو کرسکتے ہو، سو کرو۔ لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ بجائے اس کے کہ یہ تخویف ان میں اثرانداز ہو اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبورہوں، الٹا ان میں اثر یہ ہورہا ہے کہ ان کی سرکشی پہلے سے بھی بڑھتی جارہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جن کے دماغوں کے سانچے ایسے الٹے ہیں کہ سیدھی بات بھی ان کے دماغوں میں ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔ تو ان سے کسی بہتری کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔
Ayahs 17:61–62وَاِذْقُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْالِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآاِبْلِیْسَ ط قَالَ ئَ اَسْجُدُلِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 61)
(اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ بولا کہ میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔ )
کفار کے انکار کا اصل سبب
سورة البقرہ میں اس آیت کی وضاحت اور قصہ ٔ آدم و ابلیس تفصیل سے گزر چکا ہے۔ اس لیے اب اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ بہتر ہے کہ اس مقام کو نکال کر دیکھ لیا جائے۔ البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہاں یہ واقعہ کس غرض کے لیے لایا جارہا ہے۔ یہ آیت اور اس کے بعد کی آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش مکہ جو بظاہر اس وجہ سے ایمان نہیں لا رہے تھے کہ انھیں شکایت یہ تھی کہ ہم جن معجزات کا مطالبہ کررہے ہیں وہ ہمیں دکھائے نہیں جارہے۔ جب تک ہم ایسی نشانیاں نہ دیکھ لیں جو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور آپ ﷺ کے دین کی حقانیت پر برہانِ قاطع کی حیثیت رکھتی ہوں، اس وقت تک ہم آپ ﷺ پر ایمان نہیں لاسکتے۔ قرآن کریم نے ایک تو اس رکوع سے پہلے چند آیات میں بعض ایسے معجزات کا ذکر کیا جن کی حیثیت کسی طرح بھی برہان قاطع سے کم نہیں تھی اور ان معجزات کو دیکھ کر کوئی ایسا شخص جو اپنے دماغ میں عقل سلیم رکھتا ہو اور اپنے سینے میں قلب منیب رکھتا ہو، وہ ایمان لائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن ان پر ان آیات کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور وہ برابر اپنی ہٹ پر قائم رہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر معجزات کی طلب صحیح نیت سے ہوتی تو محولہ بالا معجزات کے بعد مزید کسی معجزے کی طلب حماقت کے سوا کچھ نہ تھی۔ اب اس آیت کریمہ سے یہ بتایا جارہا ہے کہ ان کے ایمان کے راستے میں اصل رکاوٹ ان کے مطلوبہ معجزات نہیں بلکہ ان کا وہ تکبر اور غرور ہے جو انھیں آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے سے روکتا ہے۔ اولاً تو انھیں یہ بات سمجھنا ہی مشکل ہورہا ہے کہ ایک بشر رسول بھی ہوسکتا ہے۔ وہ بار بار اس استبعاد کا ذکر کررہے ہیں کہ نبوت ایک ایسے منصب کا نام ہے جو کسی بشر اور انسان کو عطا نہیں ہوسکتا اور محمد ﷺ چونکہ ہماری طرح ایک بشر ہیں اس لیے ان کی طرف سے نبوت کا دعویٰ کرنا چھوٹا منہ بڑی بات کے مترادف ہے۔ جب قرآن کریم نے دلائل سے انھیں لاجواب کردیا کہ نبوت اور بشریت میں کوئی منافات نہیں بلکہ انسانوں کی طرف انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لیے کسی انسان کا نبی بن کر آنا ہی عقل اور حکمت کا تقاضا ہے، تو تب انھوں نے ایک قدم پسپا ہو کر یہ کہنا شروع کردیا کہ چلیے اگر انسانوں میں سے کسی انسان کو رسول بننا تھا تو اس کے لیے یہ تو ہونا چاہیے تھا کہ کسی بڑے مالدار اور وقیع آدمی کا انتخاب کیا جاتا۔ مکہ معظمہ میں ایک سے ایک بڑا تاجر اور مالدار آدمی موجود ہے لیکن ان میں سے کسی کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھا گیا۔ اسی طرح طائف میں ایسے تین سردار موجود ہیں جن کی بڑائی پر تمام عرب متفق ہیں۔ ان سب کو چھوڑ کر نبوت کے لیے اس شخص کا انتخاب کیا گیا جو یتیم پیدا ہوا، جس کے باپ نے وراثت میں ایک لونڈی اور ایک اونٹنی چھوڑی جس کی والدہ خشک گوشت کھایا کرتی تھی۔ 8 سال کی عمر میں جس کے سر سے دادا کا بھی سایہ اٹھ گیا، تب اسے ایک ایسے شخص نے اپنی آغوش میں لیا جو قلیل المال اور کثیرالعیال تھا، اپنا ایک بیٹا حضرت عباس ( رض) کو پالنے کے لیے دیا تھا اور دوسرے بیٹے کو جب حضور ﷺ اپنے پائوں پر کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ تو اس شخص نے یقینا نبوت کے بعد آپ ﷺ کا بہت ساتھ دیا اور ہر طرح کے مصائب میں آپ ﷺ کی مدد کی، لیکن مالی حیثیت سے وہ آپ ﷺ کے کسی کام نہ آسکتا تھا، تو ایسا نادار شخص جو بکریاں چرا کر اور وقت آنے پر دوسروں کے سرمائے سے تجارت کرکے اپنا پیٹ پالتا ہو، بڑے بڑے سرداروں کی موجودگی میں اس کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے کیا ایسے ہی نادار اور قلاش آدمی کو انتخاب کرنا تھا ؟ چناچہ ان کی نخوت اور رعونت انھیں کسی طرح بھی نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی برتری کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہونے دیتی تھی۔ قصہ آدم و ابلیس لا کر انھیں یہ بتانا مقصود ہے کہ تم اس واقعہ کو غور سے دیکھو، کیا تم وہی رول ادا نہیں کررہے جو ابلیس کا رول تھا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ تھیں۔ سیادت و امامت کا تاج حضرت آدم (علیہ السلام) کے سر پر رکھا گیا تھا اور خلافت سے انھیں نوازا گیا تھا، لیکن ابلیس صرف اس بات کی وجہ سے ان کے سامنے سجدہ ریز نہ ہوسکا کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہو اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے۔ میرا نسب آدم (علیہ السلام) کے نسب سے بلند ہے۔ ایک اعلیٰ نسب رکھنے والا کمتر نسب رکھنے والے کے سامنے کیسے جھکے ؟ اس کی اسی رعونت نے اس کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی اور اس کے دماغ میں ایسا اختلال پیدا کیا کہ وہ یہ بھی نہ سمجھ سکا کہ عزتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہیں، مادہ تخلیق سے نہیں ملتیں اور ہمیشہ کے لیے برائی اور نحوست کی علامت بن کر رہ گیا۔ اور آج یہ قریش بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں۔ انھیں اعتراف ہے کہ تمام انسانی عظمتیں، تمام روحانی قدریں اور تمام کردار کی خوبیاں محمد کریم (علیہ السلام) کے ساتھ ہیں، لیکن مالی اعتبار سے چونکہ ان کا ہاتھ خالی ہے تو ہم ایسے شخص کو قدر و منزلت اور عظمت کا حامل کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اصل قیمت حسب و نسب اور مال و دولت کی ہے۔ عظمت کا یہ تصورابلیس کی ایجاد ہے اور ابلیس کے راستے پر چلتے ہوئے آج قریش اس کے وارث ہیں۔
قَالَ اَرَ ئَ یْتَکَ ھٰذَاالَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ ز لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّـتَہٗٓ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 62)
(اس نے کہا مجھے بتا یہ آدم (علیہ السلام) جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے (اس کی وجہ کیا ہے) ، اگر تو نے مجھے روز قیامت تک مہلت دے دی تو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا اس کی اولاد کو سوائے چند افراد کے۔ )
اَرَ ئَ یْتَکَکا مفہوم
اَرَ ئَ یْتَکَ : علامہ زرکشی نے لکھا ہے کہ جب رَ أَ یْتَپر ہمزہ استفہام کا داخل ہوجائے تو پھر یہ لفظ دیکھنے کے معنی میں مستعمل نہیں ہوتا بلکہ اس کا معنی اَخْبِرْنِیْ ( مجھے بتا) ہوجاتا ہے۔
لَاَحْتَنِکَنَّ : اہل علم کا خیال ہے کہ جب مکڑی کسی کھیت کو کھا کر چٹ کرجائے تو عرب کہتے ہیں احتنک الجراد الارض اس آیت میں بھی یہ لفظ اسی معنی کو ادا کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔
ابلیس کے عزائم
قریش کو خصوصاً اور باقی تمام انسانوں کو عموماً توجہ دلائی جارہی ہے کہ ابلیس کے جس راستے پر تم چل پڑے ہو، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اولادِ آدم کے بارے میں اس کے عزائم کیا ہیں، جس کا اظہار اس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی وقت کردیا تھا جب اس نے قیامت تک کے لیے زندگی اور مہلت مانگی تھی۔ اس کے باوجود اگر اولادِ آدم سادگی اور بےاعتنائی کا ثبوت دیتے ہوئے ابلیس کے راستوں پر چلے تو پھر اس سادگی پر داد دیے بغیر نہیں رہا جاسکتا آج بھی ابلیس اور اولاد آدم کے درمیان کشمکش جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی۔ ابلیس اپنے ارادوں کے مطابق اولادِ آدم کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی تدبیریں کرتا رہے گا اور ہم اگر بجائے اس کا دفاع کرنے کے اس کے راستے پر چل کر اس کی معاونت کرتے رہیں تو اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوسکتی ہے۔
ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگتے ہوئے صاف صاف کہا کہ اگر آپ نے مجھے قیامت تک کے لیے زندگی دے دی تو میں آدم کی ساری ذریت کو چٹ کر جاؤں گا اور اس کو جڑ سے اکھیڑ پھینکوں گا اور یہ ثابت کردوں کا کہ آدم اور اس کی اولاد میرے اور میری اولاد کے مقابلے میں کسی شرف کے حقدار نہیں۔ اس کی دشمنی کی داد دینی چاہیے کہ وہ اپنی دشمنی کو چھپا نہیں رہا اور پھر اس کا اظہار اس نے پہلے دن ہی نہیں کیا بلکہ اپنے مشن کے لیے اس کی کاوشوں میں کبھی کمی نہیں آئی۔ البتہ اولادِ آدم جس کے نمائندہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں قریش تھے، ان کی بھی داد دینی چاہیے کہ وہ ابلیس کے راستے پر چلتے ہوئے اس کے عزائم کی تکمیل میں اس سے بھی دو قدم آگے معلوم ہوتے ہیں۔
Ayah 17:63قَالَ اذْھَبْ فَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ فَاِنَّ جَھَنَّمَ جَزَآؤْکُمْ جَزَآئً مَّوْفُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 63)
(فرمایا جا، چلا جا (جو مرضی ہو کر) جو ان میں سے تیرے پیرو بن جائیں گے تو جہنم تم سب کا پورا پورا بدلہ ہے۔ )
بارگاہِ خداوندی سے ذریت آدم کو ورغلانے کی جو مہلت ابلیس نے مانگی تھی، اسے دے دی گئی۔ اور ایک طرح سے کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ انسانوں کو بہکانے کے لیے تو جو کرنا چاہتا ہے، کر گزر، تیرے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ البتہ ایک بات یاد رکھ کہ جو لوگ تیری پیروی کریں گے انھیں بھی اور تمہیں بھی جہنم کی ایسی سزا دی جائے گی کہ تمہاری زندگی بھر کی کارگزاریوں کے بدلے کے لیے کافی ہوگی۔ تمہیں ممکن ہے یہ خیال ہو کہ قیامت تک کا لمبا عرصہ تم سزا سے بچے رہو گے، یہ تمہاری حوصلہ افزائی کا بہت بڑا ذریعہ بن جائے گا، لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس جہنم میں تمہیں ڈالا جائے گا وہ اتنی مکمل سزا اپنے اندر رکھتی ہے کہ جو اس لمبے فاصلے کو بھی سمیٹ لے گی اور سزا پانے والا چیخے گا کہ یہ سزا کی شدت صرف اس وجہ سے ہے کہ میں ایک طویل عرصہ سزا سے بچا رہا اور اپنی کوششوں سے اولادِ آدم کو بگاڑتا رہا۔
Ayah 17:64وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَاَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلاَدِ وَعِدْھُمْ ط وَمَا یَعِدُھُمُ الشَّیْطٰنُ اِلاَّ غُرُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 64)
(اور گھبرا دے ان میں سے جن پر تیرا بس چلے اپنی آواز (صوتی ہتھکنڈوں) سے، اور دھاوا بول دے ان پر اپنے گھوڑسواروں اور پیادہ دستوں کے ساتھ، مال اور اولاد میں ان کا ساجھی بن جا اور ان سے جھوٹے وعدے کرتا رہ، اور شیطان ان سے وعدہ نہیں کرتا مگر مکروفرویب کا۔ )
شیطان کے اضلال کی وسعت
اس آیت کریمہ کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پروردگار خود ابلیس کو وہ تمام راستے دکھا رہا ہے جن سے وہ انسان کو گمراہ کرنے کے لیے حملہ آور ہوسکتا ہے حالانکہ حقیقت یہ نہیں لیکن یہ بھی امرواقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم تھا کہ شیطان انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے کون کون سے حربے استعمال کرے گا۔ اس لیے پروردگار نے انھیں اجمالاً انسانوں کی آگاہی کے لیے بیان فرما دیا تاکہ وہ ابلیس کی کارکردگی کو معمولی نہ سمجھیں اور اس سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں بروئے کار لائیں اور زندگی کے ہر شعبے پر نظر رکھتے ہوئے شیطانی گھاتیں پہچاننے کی کوشش کریں اور زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس میں خیر کی قوتیں برائی کی قوتوں کا سر کچلنے کے لیے یا ان کے دفاع کے لیے اپنے طور پر کوئی تیاری نہ کریں۔ چناچہ شیطانی حربوں کو پروردگار نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
1 شیطان کا سب سے پہلا حربہ جو وہ عموماً استعمال کرتا ہے وہ اس کی صوتی کاوش ہے جسے ہم ترغیب کی مختلف صورتیں قرار دے سکتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے اس نے مراد موسیقی اور گانا بجانا لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ صوتی فسوں کاری کا اس سے بہتر اظہار اور کہاں ہوسکتا ہے۔ اسی سے سفلی جذبات ابھارے جاتے ہیں۔ زندگی کے سنجیدہ مشاغل سے نوجوانوں کو دور کیا جاتا ہے۔ مقاصدِ حیات کا شعور سب سے زیادہ اسی ذریعہ سے ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
صوت اور ترغیب کی ایک صورت وسوسہ اندازی بھی ہے۔ قدرت نے ابلیس کو اس کی خاص استطاعت بخشی ہے۔ ابلیس انسان کے خون کے ساتھ گردش کرتا ہے۔ وہ دل و دماغ کی ان سوچوں میں داخل ہوجاتا ہے جس کی دوسروں کو خبر بھی نہیں ہوتی اور آہستہ آہستہ دل و دماغ کو ان راستوں پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے جو برائی کی طرف جاتے ہیں۔ اس طریقے سے نہایت خاموشی سے تعلیمی نصاب کو بدلنے، تعلیم کے تصور کو تبدیل کرنے اور تربیت کو یکسر اس سے لاتعلق کردینے اور لیکچرز کی مدد سے ذہنوں کو مسموم کردینے کی تمام کاوشیں اس میں شامل ہیں۔
2 ابلیس کا دوسرا حربہ یہ ہے کہ وہ لادینی قوتوں میں ارتباط اور تنظیم پیدا کرکے اور ایک اجتماعی قوت کی شکل دے کر دینی قوتوں کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے اور اس کے لیے اسے نہ طاقت استعمال کرنے سے گریز ہوتا ہے اور نہ بھاگ دوڑ سے۔ لائولشکر چڑھالانے اور پیادہ فوج کے ذکر سے شاید یہی مراد ہے کہ وہ ہر سطح پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو پسپا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے بلکہ تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خیر و شر کے جتنے معرکے ہوئے ہیں ان میں ابلیس کے کارنامے صاف دکھائی دیتے ہیں۔ جنگ بدر میں تو وہ ایک شیخ قبیلہ کی صورت میں ابوجہل اور دوسرے عمائدینِ قریش کے ساتھ اس وقت تک رہا جب تک فرشتوں کا نزول شروع نہیں ہوگیا۔ اس سے یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ جہاں بھی حق و باطل کا معرکہ ہوگا وہ اپنے لائولشکر سمیت باطل کا ساتھ دے گا اور خود اہل باطل بھی اسی کا لشکر ہوتے ہیں جنھیں وہ خاموشی سے تدبیریں سکھاتا ہے۔ اب تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک مدت سے اس نے اس راز کو پا لیا ہے کہ بجائے ایک ایک مسلمان کو گمراہ کرنے کے ان اداروں کو گمراہ کیا جائے جو مسلمانوں کے دل و دماغ کو بنانے یا بگاڑنے کا کام کرتے ہیں اور ان کی فوجی قیادتوں کو راہ راست سے ہٹا دیا جائے تو وہ خود اپنی طاقت کے زور سے مسلمانوں کے تمام اداروں اور ان کے خیر کے تمام ذرائع کو پابندِ سلاسل کردیں گی۔
3 شیطان کا تیسرا اہم حربہ مسلمانوں کے مالی اداروں کو کرپٹ کرنا اور ان کے وسائل کو لادینیت کی خدمات پہ لگانا ہے۔ اسی طرح ان کے تمام تعلیمی اور تربیتی اداروں کو ایسے مشاغل میں الجھانا ہے جس سے بچوں کی تربیت کی بجائے ان کے بگاڑ میں اضافہ ہوتا چلا جائے۔ اور اس کام کو اس سلیقے سے انجام دینا ہے کہ مال کمانے والے کمانے کی محنت اٹھاتے رہیں لیکن ان کا کمایا ہوا مال شیطانی راہوں میں صرف ہوتا رہے اور وہ یہی سمجھتے رہیں کہ یہ سب کچھ ہماری ترقی یا ہمارے بھلے کے لیے ہورہا ہے۔ اور جن اداروں میں بچے تربیت پا رہے ہیں بچوں کے ماں باپ خوش ہوتے رہیں کہ ہمارے بچے ماشاء اللہ کس طرح زیورتعلیم سے آراستہ کیے جارہے ہیں، لیکن شیطان اپنے تئیں خوش ہے کہ ان کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ بچے نہ ماں باپ کے ہوں گے، نہ مسلمانوں کے، بلکہ ان کا رشتہ ابلیسی جماعت اور لادینی قوتوں سے ہوگا۔
4 شیطان کے پاس چوتھا حربہ انسان کو گمراہ کرنے کا جو سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ یہ ہے کہ وہ انسان کو ہمیشہ وعدوں میں بہلاتا ہے۔ اسے ایسے ایسے سبز باغ دکھاتا ہے اور ایسے ایسے گمراہ کن نظرفریب اور دلکش لالچوں میں انسان کو مبتلا کردیتا ہے کہ انسان کیمیا گری کی کوشش کی طرح ساری عمر اسی میں دھکے کھاتا رہتا ہے اور اس دلدل سے کبھی اسے نکلنا نصیب نہیں ہوتا۔ اسی لیے پروردگار نے آیت کے آخر میں متنبہ فرمایا کہ شیطان کے وعدے دھوکہ کے سوا کچھ بنی نہیں۔
Ayah 17:65اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ ط وَکَـفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 65)
(بیشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا غلبہ نہیں ہوسکتا، اور آپ ﷺ کا رب اپنے بندوں کی کارگزاری کے لیے کافی ہے۔ )
مخلص بندوں کو تسلی
گزشتہ آیت میں انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کو جو مہلت دی گئی ہے اور جو وسائل دیے گئے ہیں انھیں دیکھ کر آدمی یہ سوچنے لگتا ہے کہ ان حربوں سے بچنا تو شاید انسان کے بس میں نہیں، تو یہ کیا بات ہوئی کہ ایک طرف تو انسان کو عبدیت کا حکم دیا گیا اور بندگی اس کا مقصد ٹھہرایا اور اسی پر اس کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا دارومدار ٹھہرا اور دوسری طرف شیطان کو وہ کچھ دے دیا گیا جس کا مقابلہ انسان کے بس کی بات نہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس خیال کے ازالے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ شیطان واقعی گمراہ کرنے کے بہت وسائل رکھتا ہے لیکن اس سے یہ خیال مت کرو کہ وہ کبھی کسی کو زبردستی بھی گمراہ کرسکتا ہے۔ اس کا کام ترغیب دینا ہے لیکن جو اس ترغیب کو رد کردے اور ایمانی قوت کا ثبوت دے شیطان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جو شخص کلمہ طیبہ پڑھ کر دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے اور تہیہ کرلیتا ہے کہ مجھے اسلامی زندگی گزارنی ہے اور میں کبھی شیطان کے رستے پر چلنا گوارا نہیں کروں گا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی حفاظت میں لے لیتے ہیں۔ اس کی نمازیں اس کے لیے پناہ گاہ بن جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ وہ اگر کہیں شیطان کی اکساہٹ محسوس کرے تو لاحول پڑھنے سے شیطان کی تمام قوتیں ختم ہو کر رہ جاتی ہیں۔ وہ جب بھی اللہ تعالیٰ سے استعانت کرتا ہے ہمیشہ ادھر سے قبولیت استقبال کے لیے آگے بڑھتی ہے۔ جس طرح بھیڑیا آوارہ بھیڑ کو پکڑتا ہے۔ اسی طرح وہ مومن شیطان کے ہتھے چڑھتا ہے جو مومن کہلاتے ہوئے بھی ایمان کی بجائے شیطان کی راہوں پر چلنا پسند کرتا ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں تسلی دی گئی کہ میرے بندوں پر شیطان کا غلبہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ اور پھر مزید یہ کہہ کر حوصلہ دیا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاتا ہے اور اسلامی زندگی اختیار کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا کارساز بن جاتا ہے اور اس کی کارسازی کے بعد پھر اس کے لیے کوئی خطرے کی بات نہیں ہوتی۔ ساری دنیا بھی دشمن ہوجائے اور تمام شیطانی قوتیں بھی اس کا تعاقب کرنے لگیں تو وہ بڑے اطمینان سے کہتا ہے کہ ؎
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
Ayah 17:66رَبُّـکُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَـکُمُ الْفُلْکَ فِی الْبَحْرِلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہِ ط اِنَّـہٗ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 66)
(تمھارا رب وہ ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو، بیشک وہ تمہارے حال پر بڑا مہربان ہے۔ )
انعاماتِ الٰہی کی فراوانی
سابقہ آیات میں شیطان کے ان عزائم کو ذکر کیا گیا جس کا اظہار اس نے قیامت تک کے لیے مہلت طلب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور کیا جس کا ایک ایک لفظ انسان دشمنی کے زہر میں بجھا ہوا ہے، لیکن یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ شیطان جس کی دشمنی میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں، انسان ہمیشہ اس کی فرمانبرداری کی طرف لپکتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی انسان دشمنی کو واضح کرنے کے بعد اپنے احسانات میں سے صرف ایک احسان کا ذکر فرمایا تاکہ انسانوں کو شیطان کا اتباع کرتے ہوئے کچھ تو شرم آئے کہ ایک طرف ان کا دشمن ہے اور اس کا اتباع کیا جارہا ہے اور دوسری طرف انسانوں کا پروردگار ہے کہ جس کی زمین اور زمین پر اگنے والی نعمتیں انسان کے کام و دہن کی خدمت کے لیے ہمہ وقت مصروف ہیں۔ اور صرف اسی پر بس نہیں بلکہ اس نے سمندر کے پانی کی بےپناہ قوت کو بھی انسانوں کے لیے مسخر کردیا ہے۔ ہزاروں ٹن وزنی جہاز انسان سمندر میں اتارتا ہے لیکن سمندر کا پانی اسے اٹھانے سے انکار نہیں کرتا۔ وہ کون سی قوت ہے جس نے سمندر کو تسخیر کی زنجیریں پہنا دی گئیں۔ ظاہر ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی قوت ہے۔ وہ کیسے ہلکے ہلکے انداز میں خراماں خراماں جہاز کو لے کر چلتا ہے۔ نہ اسے ٹھوکر لگتی ہے اور نہ وہ ہچکولے کھاتا ہے۔ اور اگر کہیں اٹھنے والی طوفانی موجیں اس کا راستہ روکتی ہیں تو تب بھی وہ انسانوں کی مدد کرتے ہوئے انھیں بخیریت تمام ان خطرات سے گزار دیتا ہے اور یہ سب کچھ وہ اس لیے کرتا ہے تاکہ انسان اپنے لیے سمندر کی نعمتیں حاصل کرسکے۔ سمندر نعمتوں کا ایک خزانہ ہے جس میں غذائی ضرورتوں کا سامان بھی ہے اور تزئین و آرائش کے ذوق کی تسکین بھی۔ زمین کے بارے میں معلومات کا ذریعہ بھی ہے اور جغرافیہ کی جہتوں کو جاننے کا پیمانہ بھی۔ اللہ تعالیٰ کی ان تمام نعمتوں کو دیکھتے ہوئے آدمی یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہتا کہ وہ ذات جس نے زمین سے ہمارے لیے خزانے نکالے اور مظاہرفطرت کو ہمارے لیے مسخر کیا اور سمندر کو بھی ہماری خدمت اور زرق رسانی کے لیے لگا دیا وہ یقینا سب سے بڑا رحیم اور اپنے بندوں پر سب سے بڑا مہربان ہے۔
Ayah 17:67وَاِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّفِی الْبَحْرِضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِیَّاہُ ج فَلَمَّا نَجّٰکُمْ اِلَی الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ط وَکَانَ الْاِنْسَانُ کَـفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 67)
(اور جب تمہیں سمندر میں مصیبت پہنچتی ہے تو گم ہوجاتے ہیں وہ، جن کو تم پکارتے ہو، اللہ تعالیٰ کے سوا۔ پھر جب وہ تم کو خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم روگردانی کرنے لگتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ )
انسان کی ناشکری
جس پروردگار نے زمینی قوتوں کے ساتھ ساتھ بحری قوتیں بھی انسان کے لیے ہموار کردی ہیں اور ان کے خزانے انسانوں کے لیے وقف کردیے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ انسان ہمیشہ اپنے پروردگار کی مہربانیوں کو یاد رکھے اور اس کے سوا کبھی کسی آستانے پر نہ جھکے اور کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے، لیکن انسان کا عالم یہ ہے کہ جب کبھی سمندر میں سفر کرتے ہوئے کسی خوفناک طوفان سے واسطہ پڑتا ہے اور منہ زور ہوائیں اس کو ہڑپ کرنے کے لیے آگے بڑھتی ہیں۔ اس وقت شروع شروع میں تو اپنے نام نہاد خدائوں کو پکارتا ہے لیکن جب دیکھتا ہے کہ خطرہ سر پر آپہنچا ہے تو پھر اپنے تمام دیوی دیوتائوں کو بھول کر ایک اللہ کو پکارتا ہے۔ اور اسی کے حضور گڑگڑا کر اپنی نجات و سلامتی کے لیے دعائیں کرنے لگتا ہے۔ ایسی حالت میں وہ کبھی غور نہیں کرتا کہ اگر وہ میرے نام نہاد خدا اور مصنوعی معبود کسی قدرت کے مالک ہوتے تو آج مجھے اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کے لیے ہاتھ کیوں پھیلانے پڑتے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ میں آج تک گمراہیوں میں ڈوبا رہا ہوں۔ آج اگر حالات کے دبائو نے مجھے صحیح راستے پر لا ڈالا ہے اور میری فطرت صحیح کام کرنے لگی ہے تو مجھے ہمیشہ کے لیے مشرکانہ رویہ سے توبہ کرنی چاہیے، لیکن اس کے برعکس ہوتا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اس کے سابقہ کرتوتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بخیریت تمام ساحل سمندر پر پہنچا دیتا ہے تو یک لخت اسے اپنی دیوی دیوتا یاد آنے لگتے ہیں اور ان کے نام کی دہائی دینے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مشرکین کو براہ راست خطاب فرما کر توجہ دلا رہے ہیں کہ اپنے رویئے پر کبھی سنجیدگی سے غور کرو، کبھی تو اپنی فطرت کی صدائوں کو سنو اور اپنی عقل سے کام لینے کی کوشش کرو۔ اگر تمہارے تراشیدہ اور مصنوعی خدائوں میں خدائی قدرت کا کچھ بھی اثر ہوتا تو ان پرخطر ساعتوں میں تمہارے دل ان کی طرف ہی مائل رہتے۔ ان مشکل لمحوں میں ان کی طرف سے تمہارا منہ موڑ لینا اور ایک رب قدیر کے حضور میں فریاد کرنا، کیا یہ اس بات کی کھلی دلیل نہیں کہ انسانی فطرت میں عقیدہ توحید کی تخم ریزی کی گئی ہے۔ اور جب خارجی اور اجنبی اثرات اور دبائو ختم ہوتے ہیں تو عقیدہ توحید خود بخود بےنقاب ہوجاتا ہے۔ آخر میں پروردگار نہایت تأسف سے فرما رہے ہیں کہ اس کا کیا کیا جائے، انسان ہے ہی ناشکرا۔ تکلیف آتی ہے تو اپنے اصل مالک کو یاد کرتا ہے اور جب تکلیف گزر جاتی ہے تو پھر ناشکری اس پر غالب آجاتی ہے۔
Ayahs 17:68–69اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لاَ تَجِدُوْا لَـکُمْ وَکِیْلاً ۔ اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَکُمْ فِیْہِ تَارَۃً اُخْرٰی فَیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَـکُمْ بِمَا کَـفَرْتُمْ لا ثُمَّ لاَ تَجِدُوْا لَـکُمْ عَلَیْنَا بِہٖ تَبِیْعًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 68۔ 69)
(کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ خشکی کے کنارے کو تمہارے سمیت دھنسا دے یا تم پر بادتند بھیج دے، پھر نہ پائو تم اپنے لیے کوئی کارساز۔ یا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ تم کو دوبارہ سمندر میں لوٹائے، پھر بھیج دے تم پر کشتیوں کو توڑنے والی سخت آندھی، پھر وہ تمہاری ناشکری کی پاداش میں تم کو غرق کردے، اور تم اس پر ہمارا کوئی پیچھا کرنے والا اپنے لیے نہ پائو۔ )
اللہ تعالیٰ کے باغیوں سے چند سوالات
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے پڑھا کہ مشرکین جب سمندر میں طوفان میں گھر جاتے ہیں تو اپنے بتوں اور دیوی دیوتائوں کو بھول کر، بلکہ ان سے مایوس ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے اور دعائیں مانگتے ہیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ انھیں خیریت سے ساحل سمندر پہ پہنچا دیتا ہے تو وہ محسوس کرتے لگتے ہیں کہ اب سمندر کا کوئی طوفان ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، تو پھر اپنے نام نہاد معبودوں کو پکارنے لگتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہیں۔ مشرکین کی اس روش پر جو سراسر حماقت پر مبنی ہے پروردگار توجہ دلا رہے ہیں کہ تمہارا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور سلطنت شاید سمندر کے کناروں تک ہے، خشکی پر اس کا حکم نہیں چلتا۔ خشکی کے حاکم مشرکین کے بت یا دیوی دیوتا ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ کائنات کا پیدا کرنے والا پروردگار ہے اور کائنات کی ہر چیز کو سنبھالنے والا اور پناہ دینے والا بھی پروردگار ہے۔ جس طرح سمندر اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی طرح زمین کا ایک ایک انچ بھی اس کے قبضے میں ہے، جس طرح سمندر کا طوفان اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہے، اسی طرح زمین کا ہر تغیر بھی اسی کے حکم کا پابند ہے۔ تمہیں اس سے بےخوف نہیں ہونا چاہیے کہ وہ زمین پر تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، وہ اگر چاہے تو تمہارے مکانوں سمیت تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر کوئی باد تند بھیج دے جو تمہیں تباہ کرکے رکھ دے۔ حَاصِبْ اس بادل کو بھی کہتے ہیں جس سے ژالہ باری ہوتی ہے اور اس تیز ہوا کو بھی جو پتھروں کو اٹھا کر اہل زمین پردے مارتی ہے یا سنگ ریزوں کی بارش کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ وہ چاہے تو زمین میں دھنسا سکتا ہے اور چاہے تو بادل سے ژالے برسا کر سب کچھ تباہ کرسکتا ہے اور چاہے تو ایسی تیز ہوا چلا سکتا ہے جو سنگ ریزوں کی ایسی بارش کرے کہ انسانوں کے جسموں کے پرخچے اڑ جائیں اور اس کے مقابل میں کوئی چیز ٹھہر نہ سکے۔
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ تم ساحل سمندر پر پہنچ کر اس غلط فہمی کا شکار کیسے ہوگئے ہو کہ اب تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل گئے ہو اور وہ تمہیں کبھی نہیں پکڑ سکتا، اس لیے اب اسے پکارنے کی ضرورت نہیں، نادانو ! اس کے لیے کوئی بعید نہیں کہ وہ دوبارہ تمہارے دل میں بحری سفر کا شوق پیدا کرے اور پھر تم خود چل کر کسی بحری جہاز پر سوار ہوجاؤ اور پہلے کی طرح سمندر کا کوئی طوفان تمہارے جہاز کو آگھیرے اور تم پھر اپنی روایت کے مطابق اپنے مصنوعی خدائوں کو بھول کر اپنے اللہ کو پکارو۔ لیکن اب وہ تمہیں نجات دینے کی بجائے تم پر ایسی ہوا بھیجے جو کشتیوں اور بحری جہازوں کو توڑ پھوڑ دیتی ہے جن کا ایک ایک تختہ سطح سمندر پر تیرتا پھرتا ہے اور پھر تمہارے کفر کے باعث تمہیں سمندر میں غرق کردے۔ اور تمہارا کوئی حامی اور مددگار ایسا نہ ہو جو ہمت کرکے پروردگار کے رحم سے اپیل کرسکے۔ اس لیے عقل کی بات یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے غضب سے ہمیشہ لرزاں اور ترساں رہو، اس کے ساتھ کسی کا شریک مت ٹھہرائو۔
Ayah 17:70وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِـْیٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰـھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْـنٰـھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰـھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 70)
(اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی، اور خشکی اور تری دونوں میں ان کو سواری عطا کی اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا، اور ہم نے انھیں نمایاں فضیلت دی بہت سی چیزوں پر جن کو ہم نے پیدا فرمایا۔ )
انسان کو ذمہ داری کی یاددہانی
گزشتہ تین آیات میں پروردگارِ عالم نے جو بحری نعمتیں عطا فرمائیں اور بحری سفر کی سہولتیں دے کر بیشمار خزانوں کے راستے کھول دیے، ان کا ذکر فرمایا۔ اور ساتھ ہی ساتھ مشرکین کا وہ طرز عمل جو سراسر ناشکری سے عبارت ہے، اس کا ذکر فرما کر ان کو شرم دلائی اور ان کی حماقت پر انھیں متنبہ کیا۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں انسان کو جو مجموعی طور پر نعمتیں عطا کی گئی ہیں اور انسان کو جو مقام و مرتبہ بخشا گیا ہے اس کا ذکر فرما کر انسان کو ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا ہے۔
انسان کا اگر قدوقامت دیکھا جائے تو وہ ایک ساڑھے پانچ اور چھ فٹ کا ایک کمزور سا وجود ہے جس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے وجود پیدا کیے، لیکن اسے عقل و علم، گویائی، پاکیزہ صورت، معتدل قامت اور معاش و معاد کی تدابیر اور تمام چیزوں پر استیلا اور تسخیر عطا فرما کر اسے باقی اکثر مخلوقات پر جو فضیلت بخشی گئی ہے وہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا انسان کبھی شکر ادا نہیں کرسکتا۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان صلاحیتوں پر ٹھیک ٹھیک عمل کرکے معرفتِ خداوندی کی دولت کو پا لیتا اور اس راستہ کو اختیار کرلیتا ہے جو انبیا و رسل نے سکھایا ہے اور اپنے فرائض کو صحیح طور پر بجا لاتا ہے تو فی الحقیقت بحر و بر کا سلطان ہے۔ زمین کا خلیفہ اور مسجودِ ملائک ہے۔ اسی میں انبیا اور رسل پیدا ہوئے، حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کا وجودِمبارک اس کے لیے سرمایہ افتخار ہے۔ لیکن اگر یہ اپنی حیثیت گم کردیتا ہے، بجائے اللہ تعالیٰ کا بندہ بننے کے مادہ اور شیطان کا بندہ بن کر رہ جاتا ہے۔ آخرت کو منزل بنانے کی بجائے دنیا کی محبت میں گم ہوجاتا ہے، تو پھر یہ اپنی ذات کے لیے ایک داغ سے بڑھ کر کچھ نہیں۔” جگر “ نے ٹھیک کہا :
گھٹے اگر تو بس ایک مشت خاک ہے انساں
بڑھے تو وسعت کونین میں سما نہ سکے
انسان کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ انسان کو ہم نے عزت عطا کی ہے، ورنہ وہ اپنی ذات میں اس قدر کمزور اور اس قدر ناتواں ہے کہ بہت سی دوسری مخلوقات کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ لیکن ہم نے اسے غیرمعمولی صلاحیتیں دے کر بلند عزائم عطا کرکے عقل و علم کا شعور دے کر اور اس کے دل کو اللہ تعالیٰ کی معرفت دے کر اور اس کے احساسات کو محبت کی گہرائی بخش کر ہم نے وہ عزت عطا کی ہے جو بیشتر مخلوقات کو عطا نہیں کی۔ اسے زمین پر قسم قسم کی سواریاں دیں، جھکڑے سے لے کر ہوائی جہاز تک اس کے زیراستعمال ہیں۔ سمندر میں بھی اسے سواریوں سے نوازا، کشتیاں اس کی سیر کے لیے ہیں اور بحری جہاز اس کے سفر کے لیے۔ اس کا بےحساب تجارتی سامان انھیں جہازوں کے ذریعے ملکوں ملکوں پہنچتا ہے اور انسانوں کی ضرورتوں اور ترقیات کے کام آتا ہے۔ اس طرح سے بر و بحر میں اسے طیبات کا وہ رزق عطا فرمایا گیا ہے کہ جس کا شمار ممکن نہیں، جس کے تنوع کو دیکھ کر آدمی کی عقل دنگ رہ جاتی ہے، پھر انسان کو قوت ایجاد دی گئی ہے جس نے ان نعمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کردیا ہے۔ یہ سب کچھ انسان کو اس لیے عطا ہوا ہے تاکہ وہ ان نعمتوں کی قدر کرے، ان کا حق ادا کرے اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین پر جن فرائض کی بجاآوری کے لیے بھیجا ہے ان کی فکر کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر بجائے فساد برپا کرنے کے انسانوں کی خیروفلاح کا انتظام کرے اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے کی بجائے اس کا شکرگزار اور فرمانبردار بندہ بن کر رہے۔
Ayah 17:71یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ م بِاِمَامِہِمْ ج فَمَنْ اُوْتِیْ کِـتٰبـَہٗ بِیَمِیْـنِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ یَقْرَئُ وْنَ کِـتٰـبَھُمْ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 71)
(اس دن کو یاد رکھو جس دن ہم ہر گروہ کو ان کے رہنما سمیت بلائیں گے، سو جن کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ اپنے اعمال نامہ کو پڑھیں گے اور ذرا بھی ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔ )
یوم حساب کی ہولناکی
انسانوں کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلانے کے بعد انھیں آخرت کا دن یاد دلایا گیا، جس دن اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی اور انسانوں کا ہر گروہ اپنے امام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوگا۔ کُلَّ اُنَاسٍکا ترجمہ بعض اہل علم نے تمام انسان کیا ہے، یہ بھی صحیح ہے۔ اور یہ امرواقعہ بھی ہے کہ اس دن تمام انسانوں کو بلایا جائے گا۔ اور بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ کیا ہے، ہر گروہ۔ کیونکہ اناس کا معنی انسانوں کا گروہ بھی ہے اور امام سے مراد ان کے لیڈر اور پیشوا ہیں۔ ہمارے یہاں امام کو بعض لوگوں نے خاص معنی پہنا دیے ہیں حالانکہ عربی زبان میں جو شخص بھی کسی فن کا ماہر ہوتا ہے، وہ امام کہلاتا ہے۔ جیسے ہم کسی کو امام لغت کہتے ہیں، کسی کو امام فقہ، کسی کو امام سخن، کسی کو امام حدیث، کسی کو امام تفسیر، علی ھذا القیاس جو شخص بھی آگے چلنے والا اور رہنمائی دینے والا ہے، اسے امام کہتے ہیں۔ اس لیے اس سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو کسی بھی معاملے میں رہنمائی کرتے رہے، چاہے وہ معاملہ ہدایت کا ہو اور چاہے سیاست کا۔ اس لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سیاسی لیڈروں کو ان کے گروہوں سمیت اور پیشوائوں کو ان کے مریدوں سمیت اپنی عدالت میں بلائے گا اور قرآن کریم میں بعض دوسرے مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ وہاں لیڈر اور پیچھے چلنے والے ایک دوسرے سے لڑیں گے۔ پیچھے چلنے والے اپنے لیڈروں پر الزام لگائیں گے کہ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا اور آج اس کی پاداش میں ہم اپنے بدترین انجام کو دیکھ رہے ہیں اور لیڈر برأت کا اظہار کریں گے کہ تم نے جو کیا تم خود اس کے ذمہ دار ہو، ہم نے تمہیں کب مجبور کیا تھا۔ ایسا ہی جھگڑا جعلی پیروں اور مریدوں میں ہوگا۔ یہاں تو صرف یہ بتایا گیا ہے کہ ہر ایک کے اعمال کا جب جائزہ لیا جائے گا تو نیک لوگوں کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کا مقام پاچکے ہیں اور یہ انشاء اللہ تعالیٰ سرخرو ٹھہریں گے۔ قیامت کا دن ایک ہولناک دن ہوگا، لیکن اس تمام ہولناکی کے باوجود جو لوگ اپنے اعمال نامے کو اپنے دائیں ہاتھ میں دیکھیں گے انھیں دیکھتے ہی حوصلہ ملے گا اور وہ اس دن کی تمام تلخیاں بھول جائیں گے، اور نہایت خوشی سے اپنے اعمال نامے کے ایک ایک ورق کو دیکھیں گے اور جیسے جیسے پڑھتے جائیں گے ان کی خوشی میں اضافہ ہوتا جائے گا، کیونکہ وہ دیکھیں گے کہ ان کے ہر عمل پر زیادہ سے زیادہ جزا دی گئی ہے۔ البتہ یہاں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ برے لوگوں کے اعمال ناموں کا کیا ہوگا، لیکن سیاق وسباق سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے۔ وہ انھیں دیکھتے ہی اپنے بال نوچیں گے اور اپنا منہ پیٹ لیں گے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ جس طرح پہلے گروہ کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ ان کا ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی یعنی ان کی ہر نیکی پر جزا دی گئی ہوگی۔ اسی طرح ان کے ساتھ بھی یقینا کوئی زیادتی نہیں ہوگی، لیکن ان کے اعمال انصاف کے ترازو میں تلنے کے بعد خود ان کے لیے جہنم کا پیغام بن جائیں گے۔
Ayah 17:72وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمٰی فَھُوَا فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَاَضَلُّ سَبِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 72)
(اور جو شخص اس دنیا میں اندھا بنا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور بہت گمراہ ہوگا۔ )
دنیا کی بےبصیرتی آخرت میں اندھے پن کا سبب بنے گی
اس آیت میں دوسرے گروہ کی طرف اشارہ گہے جنھیں اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ انھوں نے دنیا میں اندھوں کی طرح زندگی گزاری۔ وہ آخرت کے معاملے میں اندھے بنے رہے۔ جب دنیا میں انھوں نے آنکھیں نہیں کھولیں اور حقائق کا سامنا نہیں کیا تو آخرت میں بھی انھیں اندھا اٹھایا جائے گا۔ وہ حیران ہو کر کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں بینا تھے، ہمیں اندھا کیوں اٹھایا گیا تو پروردگار کی طرف سے انھیں جواب دیا جائے گا کہ جس شخص نے ہمارے ذکر سے اعراض کیا تو قیامت کے دن اس کا انجام یہی ہوگا کہ ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ اور اسے کہا جائے گا کہ چونکہ تم نے دنیا میں ہماری آیات کو دیکھنا پسند نہیں کیا تھا تو آج تمہارے رویئے کے مطابق ہم نے تمہیں اندھا اٹھایا ہے۔
اس آیت میں پیغام دیا گیا ہے کہ اگر قیامت کے دن بینائی چاہتے ہو تو دنیا میں آنکھیں کھول کر زندگی گزارو۔ کھلی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کے دین کو دیکھو، اس کی نشانیوں کو دیکھو، اسے سمجھنے کی کوشش کرو تاکہ قیامت کے دن تمہیں برے انجام سے واسطہ نہ پڑے۔
Ayah 17:73وَ اِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَہ صلے ق وَاِذًا لاَّ تَّخَذُوْکَ خَلِیْلاً ۔ ( سورة بنٓیْ اسرآئِ یل : 73)
(اور انھوں نے پختہ ارادہ کیا تاکہ وہ آپ ﷺ کو برگشتہ کردیں اس چیز سے جو ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی ہے تاکہ آپ ﷺ اس سے مختلف ہم پر افترا کرکے پیش کریں تب وہ آپ ﷺ کو اپنا گہرا دوست بنالیں گے۔ )
قریش کی سازشیں اور گھنائونی تجاویز
کَادکی تحقیق میں اہل لغت نے مختلف باتیں کہی ہیں اور مختلف معنی بیان کیے ہیں۔ علامہ بدرالدین زرکشی نے سید شریف رضی کی کتاب ” الغرر “ سے اس کے متعدد معنی بیان کیے ہیں جن میں سے ایک معنی کسی کام کا ارادہ کرنا ہے، اور یہاں یہی معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس سے اشرافِ قریش کے ان ارادوں اور سازشوں کی خبر ہوتی ہے جس کا ذکر بعض روایات میں کیا گیا ہے جس میں خاص طور پر بنو ثقیف کا نام لیا گیا ہے۔ اہل مکہ نے جب دیکھا کہ کئی سالوں کی مسلسل مخالفت اور اذیت رسانی کے باوجود آنحضرت ﷺ کے تبلیغ و دعوت کے انداز اور آپ ﷺ کی تعلیم کے بنیادی نکات میں کوئی تغیر پیدا نہیں ہوا۔ آپ ﷺ کے بقول جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر اترتا ہے آپ ﷺ اسے بلاکم وکاست لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور آپ ﷺ انھیں بنیادی عقائد کی دعوت دیتے ہیں جنھیں وحی الٰہی نے متعین کیا ہے اور شرک کی تمام اقسام پر آپ ﷺ نہایت جارحانہ تنقید کرتے ہیں اور ہماری کسی مخالفت کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کا اثر دھیرے دھیرے شہر مکہ کے اندر ہی نہیں باہر بھی ہر قبیلے میں پہنچ رہا ہے۔ اس لیے اب ہمیں اپنا طریق مخالفت بدلنا چاہیے اور اس نوزائیدہ دین کے اثرات کو روکنے کی کوئی نئی تدبیر کرنا چاہیے۔ چناچہ انھوں نے تدبیر یہ سوچی کہ انھوں نے آنحضرت ﷺ سے قرآن کریم کے بعض احکام کو تبدیل کرنے کی استدعا کی اور یہ خواہش کی کہ آپ ﷺ اپنی دعوت پیش کیجیے، لیکن اس میں ہمارے مشرکانہ عقائد کی بھی کسی نہ کسی حد تک جگہ پیدا کیجیے۔ اگر آپ ﷺ ہماری اس گزارش پر کسی حد تک آمادہ ہوجائیں تو ہم آپ ﷺ کی مخالفت چھوڑ کر آپ ﷺ کی دوستی کا راستہ اختیار کریں گے۔ یہ نہایت گہری چال انھوں نے اس احتیاط اور ہوش مندی سے آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کی کہ آپ ﷺ نے سوچنا شروع کردیا کہ اگر اس طریقے سے یہ لوگ اسلام کے قریب آتے ہیں تو یقینا ہمیں کوئی ایسا راستہ نکالنا چاہیے۔ کیا عجب کہ آہستہ آہستہ یہ لوگ دین کے مخلص پیروکار بن جائیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اپنی معصومیت کے باعث کسی ایسی بات کی طرف مائل نہیں ہوتے جسے دین نہ کہا جاسکے۔ اور ان کی ہر کوشش اور ہر خواہش ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے دین کے تابع ہوتی ہے اور وہ کسی طرح بھی اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کبھی ان کے اندر کوئی معمولی خیال بھی ایسا پیدا نہیں ہوسکتا جو معصومیت کے خلاف ہو۔ ان کا کوئی عمل یقینا شریعت کے خلاف نہیں ہوتا کیونکہ عصمت ان کی نگرانی کرتی ہے، لیکن طبیعت میں خیال کا پیدا ہوجانا اور وہ بھی نفس کے تقاضے کی وجہ سے نہیں بلکہ اشاعتِ دین کے تقاضوں کے باعث، اس کے امکان کو یہاں رد نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ آنحضرت ﷺ اپنی اندر لوگوں کے ایمان کے لیے شدید خواہش رکھتے تھے۔ چناچہ اس کی خاطر وہ کفار کے ہر رویئے کو نظرانداز کردیتے تھے۔ ان کی اذیتوں اور یاوا گوئیوں کے مقابلے میں ہمیشہ ان کے ایمان کے لیے قیام لیل میں اللہ تعالیٰ کے سامنے دعائیں مانگتے تھے۔ چناچہ اسی جذبے نے آپ ﷺ کو یہ بات سوچنے پر ہلکا سا آمادہ کردیا اور یہی وہ فتنہ ہے جس کی اس آیت میں خبر دی جارہی ہے، اور اس کے انداز سے معلوم ہورہا ہے کہ اس کے پیچھے اہل مکہ کی کتنی جان توڑ کوششیں شامل تھیں۔