Ayahs 17:74–76وَلَوْلَآ اَنْ ثَـبَّـتْـنٰـکَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَیْھِمْ شَیْئًا قَلِیْلاً ۔ اِذًا لَّاَ ذَقْـنٰـکَ ضِعْفَ الْحَیٰوۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لاَ تَجِدُلَکَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا۔ وَاِنْ کَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَکَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْکَ مِنْھَا وَاِذًا لاَّ یَلْبَثُوْنَ خِلٰـفَکَ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 74۔ 75۔ 76)
(اگر ہم نے آپ ﷺ کو جمائے نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ آپ ﷺ ان کی طرف کچھ نہ کچھ مائل ہوجاتے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم آپ ﷺ کو زندگی اور موت دونوں کا دگنا عذاب چکھاتے، پھر آپ ﷺ ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ پاتے۔ اور بیشک انھوں نے ارادہ کرلیا ہے کہ اس سرزمین سے آپو کے قدم اکھاڑ دیں تاکہ وہ آپ ﷺ کو یہاں سے نکال دیں، (اور اگر انھوں نے یہ حماقت کی) تو آپ ﷺ کے بعد یہ نہیں ٹھہریں گے، مگر تھوڑا عرصہ۔ )
توجہ طلب باتیں
پہلی دونوں آیتوں میں چند باتیں بطورخاص نہایت توجہ چاہتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ قرآن کریم میں قریش جس تبدیلی کے خواہش مند تھے اس کے لیے انھوں نے محض آنحضرت ﷺ سے گزارش کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ نہایت عیاری اور دبائو کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے یہ تجویز رکھی اور ساتھ ہی ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ اپنے ایمان لانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ ان کا یہ وار اس قدر شدید تھا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ اگر ہم آپ ﷺ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو آپ ﷺ کچھ نہ کچھ ان کی طرف مائل ہوجاتے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ لادینی قوتوں کی وہ روایت جو قریش مکہ سے شروع ہوئی تھی اس میں ہر دور میں ایسی ہی کوششوں اور حشرسامانیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ البتہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ خیرالقرون کے بعد چند مواقع کو چھوڑ کر مسلمان اس طرح لادینی قوتوں کا مقابلہ نہیں کرسکے جو آنحضرت ﷺ کی سنت ہے۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اصل حقیقت کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی تھی۔
نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی، نہ حریفِ پنجہ شکن نئے
وہی قوت اسداللّٰہی وہی مرحبی وہی عنتری
اہلِ مکہ کی تمام کوششوں کے باوجود انھیں کامیابی نہیں ہوئی کیونکہ ان کا مطالبہ ابھی چل رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی آگئی۔ اور آپ ﷺ پر یہ بات پوری طرح واضح کردی گئی کہ قریش کے لیے آپ ﷺ کے دل میں قبولیتِ ایمان کی خواہش اپنی جگہ، لیکن اس کے لیے ان کی کسی باطل خواہش کو قبول نہیں کیا جاسکتا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی ردوبدل نہیں ہوسکتا، کیونکہ ایسی کوئی کوشش بھی اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر اس کے کرنے والے سیدالرسل بھی ہوں تو اللہ تعالیٰ انھیں بھی سخت عذاب کی وعید سنا رہا ہے اور اس طرح سے یہ بات قریش مکہ کو سنائی جارہی ہے کہ تم جس بات کی خواہش رکھتے ہو تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ کتنا بڑا جرم ہے اور اس کے نتیجے میں کتنا بڑا عذاب نازل ہوسکتا ہے۔
عصمتِ انبیا کا مفہوم
اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ اگر ہم آپ ﷺ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو آپ ﷺ کچھ نہ کچھ ان کے مطالبے کی طرف جھک جاتے لیکن ہم نے آپ ﷺ کو جھکنے نہ دیا۔ یہ دراصل عصمت کی تعبیر ہے کہ ہم نے جو آپ ﷺ کو معصومیت بخشی ہے اس کا تقاضاہی یہی ہے کہ آپ ﷺ مقامِ حق سے سرمو بھی ادھر ادھر نہیں ہوسکتے۔ اگر آپ ﷺ کے دل میں اس سے مختلف کوئی بات آئے گی تو آپ ﷺ کی معصومیت جس کے ہم محافظ ہیں وہ آپ ﷺ کو اپنی جگہ سے ہلنے نہ دے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عتاب کا رخ آپ ﷺ کی طرف نہیں بلکہ ہر اس شخص کی طرف ہے جو ایسی کسی کاوش کے حق میں ہو۔ چاہے وہ مشرکینِ مکہ ہوں اور چاہے آج کے دور کے نام نہاد مسلمان، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب سے جہاد کے احکام نکالنے کے درپے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی تو تعریف کی جارہی ہے کہ حالات کا تقاضا یقینا یہ تھا کہ آپ ﷺ کی طبیعت میں قریش کے مطالبے کی طرف میلان پیدا ہوتا، لیکن آپ ﷺ چونکہ معصوم ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی معصومیت کی حفاظت کی جو آپ ﷺ کی نبوت کا لازمی حصہ ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ثابت قدمی جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے، وہ فرع ہے معصومیت کی۔ اور معصومیت لازمہ نبوت ہے۔ سرکارِدوعالم ﷺ کی عجیب شان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عصمت کا ہاتھ ہر وقت آپ ﷺ کے دائیں بائیں رہتا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ سے کسی غلط کام کے صدور کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کی پاکیزگیِ فکر اور رفعتِ خیال کا عالم یہ تھا کہ حضرت قتادہ ( رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے بارگاہِ ایزدی میں عرض کیا اللھم لاتکلنی الی نفسی طرفۃ عین (اے اللہ ! مجھے چشم زدن کے لیے بھی اپنے نفس کے سپرد نہ کرنا ) ۔ ہمیں اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو شخص بھی دعوت حق کا فریضہ ادا کررہا ہو اسے ہر لمحہ ان آیات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ مبادہ اس سے ایسی کوئی فروگزاشت ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنے۔ اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کرتے رہنا چاہیے یاحیی یاقیوم برحمتک استغیث لاتکلنی الی نفسی طرفۃ عین واصلح لی شانی کلہ۔
ہجرت کی طرف اشارہ
تیسری آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل مکہ نے جب اپنی کوششوں کو ناکام ہوتے دیکھا اور آنحضرت ﷺ کو تبلیغ و دعوت میں مزید سرگرم پایا تو ان کا جوشِ غضب مزید بھڑکا۔ باہمی مشورے سے منصوبہ بندی کرنے لگے کہ آنحضرت ﷺ کو شہر سے نکال دیا جائے۔ قرآن کریم چونکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ ان کی کون سے کوشش کامیاب ہوگی۔ اس لیے ان کے دوسرے منصوبوں کا ذکر نہیں کیا جس میں آنحضرت ﷺ کو قتل کرنا بھی شامل تھا۔ البتہ ان کے اس ارادے پر تنبہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر انھوں نے آپ ﷺ کو اس قدر پریشان کردیا کہ آپ ﷺ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ پھر وہ بھی اس شہر میں ایک مختصر مدت کے سوا رہ نہیں سکیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمامِ حجت کے لیے آتا ہے۔ وہ جب تک اپنی قوم میں رہتا ہے تو اس کی قوم عذاب الٰہی کے نزول سے بچی رہتی ہے، لیکن جب اس کی قوم کی اذیت رسانیاں اور سازشیں اسے نکلنے پر مجبور کردیتی ہیں تو پھر وہ قوم اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لیے غیرمحفوظ ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول اپنی قوم میں ایسے ہوتا ہے جیسے جسم میں روح ہوتی ہے۔ اور جب وہ ہجرت کرجاتا ہے تو یہ جسد بےروح ہوجاتا ہے۔ تو جس طرح جسدِ بےروح کو دیر تک گھر میں نہیں رکھا جاسکتا بلکہ اسے جلد ہی قبرستان میں دفن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح اہل مکہ سے کہا جارہا ہے کہ تم نے اگر نبی کریم ﷺ کو یہاں سے نکلنے پر مجبور کیا تو تم اپنے آپ کو درحقیقت غیرمحفوظ کرلو گے۔ تمہارا وجود بےروح ہو کر رہ جائے گا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی آنحضرت ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ایک سال کے بعد ہی بدر کے میدان میں مشرکینِ مکہ کی صفِ اول کی قیادت قتل ہوگئی اور دوسری صف گرفتار ہوگئی۔ اور جنگ خندق میں عرب بھر سے ان کا رعب و دبدبہ اٹھ گیا اور 8 سال کے عرصہ کے بعد جو کہ قوموں کی زندگی میں نہایت ناقابلِ ذکر عرصہ ہے مکہ فتح ہوگیا اور ایک ہی سال کے بعدمشرکینِ عرب کو عرب سے نکل جانے کا نوٹس دے دیا گیا۔ چنانحہ آنحضرت ﷺ کی زندگی کے آخری دنوں میں پورا جزیرہ عرب مکمل طور پر کفر اور شرک سے پاک ہوگیا۔ حضور ﷺ ابھی مکہ میں تھے جب یہ سورت نازل ہوئی ہے اور اس وقت یہ پیشگوئی کی گئی کہ حضور ﷺ کے یہاں سے تشریف لے جانے کے بعد یہ لوگ مکہ میں زیادہ عرصہ تک ٹھہر نہیں سکیں گے۔ یعنی انھیں نکال دیا جائے گا۔ تو اس وحی کے نزول سے نو دس سال میں اس پیشگوئی کی صداقت کو ہر شخص نے اپنی سر کی آنکھوں سے دیکھ لیا۔
Ayah 17:77سُنَّۃَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلاَ تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیَلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 77)
(یہی ہمارا قانون ہے ان کے بارے میں جنھیں ہم نے آپ ﷺ سے پہلے رسول بناکر بھیجا اور آپ ﷺ ہمارے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ )
پروردگار فرماتے ہیں، ہم نے گزشتہ آیت کریمہ میں جو کچھ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے ہجرت کر جانے کے بعد ان کی قوم بھی اپنے شہر یا اپنے ملک میں زیادہ دیر تک سکون سے نہیں رہ سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ ضرور آتی ہے یا اہل ایمان کی تلوار ان کا خاتمہ کردیتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی سنت اور قانون ہے جسے کبھی بدلتا نہیں دیکھو گے۔ تاریخ بھی اس پر شاہد ہے اور نبی کریم ﷺ کی سیرت بھی اسی کی گواہی دیتی ہے۔
Ayah 17:78اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ط اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 78)
(نماز کا اہتمام کیجیے زوال آفتاب کے اوقات سے لے کر رات کے تاریک ہونے تک (نیز ادا کیجیے) فجر کی نماز، بیشک فجر کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ )
نماز کا حکم دینے کی وجہ
گزشتہ رکوع کی آخری آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نہایت ناگفتہ بہ حالات سے گزر رہے تھے۔ مسلمانوں کی اکثریت حبشہ کی طرف ہجرت کرچکی تھی۔ کچھ لوگ مدینہ منورہ میں سکونت پذیر ہوچکے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسلمانوں کی نہایت مختصر تعداد مکہ معظمہ میں باقی تھی۔ اور دوسری طرف حال یہ تھا کہ قریش مکہ شب و روز منصوبے بنا رہے تھے اور کوئی نہ کوئی آخری اقدام کرنے کی فکر میں تھے۔ آنحضرت ﷺ کی زندگی سخت خطرے میں تھی۔ مکہ والوں کا رویہ دیکھ کر آپ ﷺ نے طائف کا رخ کیا کہ شاید وہاں اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے کچھ انصار میسر آجائیں، لیکن وہاں جو صورتحال پیش آئی، تاریخ کا ہر طالب علم آج تک اس سے تکلیف محسوس کررہا ہے۔ حضور ﷺ مکہ معظمہ تشریف لائے تو حالات پہلے سے بھی زیادہ دگرگوں تھے۔ پروردگار نے گزشتہ آیات میں آپ ﷺ کو تسلی بھی دی اور قریش مکہ کو وارننگ بھی۔ اس آیت کریمہ میں ایسے نا گفتہ بہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ ﷺ کو نماز کے اہتمام کا حکم دیا جارہا ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی ہمیں اسی کتاب مقدس میں بتایا گیا ہے کہ مشکل سے مشکل حالات میں ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کرے، کیونکہ بگڑے ہوئے انسانوں کی اکثریت سے محفوظ رکھنے والا اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ اور اس سے مدد مانگنے کا سب سے اہم ذریعہ یہ ہے کہ رات کی تنہائیوں میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی بےبسی کا اظہار کیا جائے اور کافروں کے ناپاک ارادوں کو ناکام کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جائے۔ چناچہ مدد طلب کرنے اور استعانت کا سب سے مجرب نسخہ جو قرآن کریم بار بار ذکر کرتا ہے اور یہاں بھی اسی کا حکم دیا گیا ہے، وہ نماز ہے۔ کیونکہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس میں کمزور سے کمزور انسان اللہ تعالیٰ کی کبریائی سے اپنا تعلق جوڑ لیتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں قطرہ ہو کر سمندر کا حصہ بن جاتا ہے۔ نماز کا قیام اس کے اندر اولولعزمی پیدا کرتا ہے۔ نماز کا رکوع صرف ایک ذات کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے اور قومہ ساری دنیا کے سامنے تن جانے کی تعلیم دیتا ہے۔ اور سجود اور قعود عبودیت کا سارا اثاثہ اللہ تعالیٰ کے حضور ڈھیر کرکے قربانی و ایثار کا پیکر بن جانا سکھاتا ہے۔ اس طرح سے دل و دماغ میں ایک آسودگی اور دنیا کی قوتوں کی طرف سے بےنیازی اور اللہ تعالیٰ پر بےپناہ اعتماد اور توکل کی کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ پھر ہر طرح کی مخالفتیں اس کے سامنے پتلیوں کا تماشا معلوم ہوتی ہیں۔
نمازوں کی فرضیت
مشہور روایات کے مطابق یہ سورت معراج شریف کے بعد نازل ہوئی ہے اور روایات میں ہم یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ معراج ہی کے سفر میں پانچ نمازیں مسلمانوں پر فرض کی گئیں۔ پہلے پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا، پھر آنحضرت ﷺ کی بار بار کی گزارش پر پچاس کی بجائے پانچ رہ گئیں لیکن ساتھ ہی فرمایا مَایُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ میرے یہاں حکم تبدیل نہیں کیا جاتا، پچاس نمازیں پچاس ہی رہیں گی، البتہ ہم نے یہ قانون بنا لیا ہے کہ اس امت کے لوگوں کی ہر نیکی دس گناہ اجر پائے گی۔ اس اصول کے مطابق ایک نماز دس نمازوں کے برابر ہوگی۔ مسلمان پانچ نمازیں پڑھیں گے لیکن ہمارے یہاں اسے پچاس لکھا جائے گا۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے کہ انھیں پانچ نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ فرمایا گیا۔ اگر ہمارے سامنے نمازوں کے اوقات اور دوسرے احکام سے متعلق تفصیلات نہ ہوتیں تو ممکن ہے ہمارے لیے ان اشاروں سے نماز کے اوقات کا تعین مشکل ہوتا، لیکن اب جبکہ ہم پانچ نمازوں کی تفصیلات سے واقف ہیں تو ہم ان اشاروں کو سمجھ سکتے ہیں۔ چناچہ علما نے اس کی تصریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس آیت میں دلوک شمس کے وقت نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم الفاظ پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ” لام “ یہاں ’ ’ علیٰ “ کے معنی میں ہے جس کا معنی ہے ” پَر “۔ اور ” دلوک “ زوال کو بھی کہتے ہیں اور غروب کو بھی۔ لیکن یہاں زوال کے معنی میں ہے۔ اس لحاظ سے آیت کا معنی ہوگا نماز قائم کیجیے، زوالِ شمس پر یعنی زوال شمس کے اوقات میں۔ چناچہ جب ہم زوال شمس کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کے زوال کے تین مدارج معلوم ہوتے ہیں۔ چناچہ جب اس کا زوال شروع ہوتا ہے اس وقت تو وہ بالکل سروں پر ہوتا ہے۔ اس طرح سے پہلے زوال کو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ وقت ہے جب سورج سمت راس سے مغرب کی طرف اترتا ہے۔ پھر وہ آہستہ آہستہ نگاہوں کے محاذات پر آجاتا ہے یعنی آنکھوں کی بالکل سیدھ میں۔ چناچہ دوسرا زوال اس کا یہاں سے شروع ہوتا ہے، یہاں سے ڈھلتے ڈھلتے جب وہ افق کے کنارے پر پہنچتا ہے تو تیسرا زوال اس کا غروب کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ چناچہ ان اوقات میں نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تو مراد اس سے ظہر، عصر اور مغرب تین نمازیں ہیں۔ پہلے زوال سے ظہر کا وقت شروع ہوتا ہے، دوسرے سے عصر کا اور تیسرے کے بعد مغرب کا وقت ہوجاتا ہے۔
” غسق “ عربی زبان میں اندھیرے کے گہرا ہوجانے کو کہتے ہیں۔ غروبِ آفتاب کے بعد افق پر سرخی چھا جاتی ہے، پھر آہستہ آہستہ یہ سرخی سفیدی میں تبدیل ہوجاتی ہے، پھر سفیدی کی جگہ تاریکی لے لیتی ہے اور تاریکی جب گہری ہوجاتی ہے تو ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جسے ہم عشاء کا وقت کہتے ہیں۔ اس طرح سے اس آیت کے پہلے حصے میں چار نمازوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
وقرآن الفجر : قرآن کے لفظ کو اگر قرأ سے مصدر سمجھا جائے تو پھر اس کا معنی ہوگا، صبح کی نماز میں قرآن کریم کی تلاوت۔ اس سے شاید صبح کی نماز میں قرآن کی تلاوت کا خاص اہتمام کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ کی سنت سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ فجر کی نماز میں خصوصی طور پر طویل سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ قرآن سے نماز مراد لی جائے، کیونکہ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کبھی نماز کے لیے صلوٰۃ کا لفظ استعمال کرتا ہے اور کبھی اس کے کسی اہم رکن کا ذکر کرکے نماز مراد لیتا ہے۔ کبھی قیام سے، کبھی رکوع سے، کبھی قرآن کریم کی تلاوت سے اور کبھی سجدے سے نماز مراد لی گئی ہے۔ اس طرح سے صبح کی نماز کی خاص اہمیت کا اظہار ہوتا ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا بیشک فجر کی نماز یا فجر کی تلاوت بڑی حضوری کی چیز ہے، یہ وہ وقت ہے جب دل و دماغ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے یکسو ہوتے ہیں۔ اور دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ فجر کی نماز کی گواہی دی گئی ہے یا اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ مفہوم دونوں کا یہ ہے کہ جیسا احادیثِ مبارکہ میں وارد ہوا ہے کہ فجر کی نماز میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ رات کی ڈیوٹی ختم ہوتی ہے اور دن کی ڈیوٹی شروع ہورہی ہوتی ہے۔ نماز میں دونوں کو جمع ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ نہایت خوشی اور مسرت سے مسلمانوں کے اجتماع کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی ذکر اللہ میں مشغولیت کی گواہی بھی دیتے ہیں۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر جو پانچ وقت کی نمازیں فرض فرمائی ہیں اس آیت کریمہ میں ان کے اوقات کی طرف اشارے فرمائے گئے۔ ظاہر ہے کہ اشاروں کی یہ زبان امت کی ضرورت کے لیے کافی نہ ہوسکتی تھی اس لیے پروردگار نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو آنحضرت ﷺ کے پاس بھیجا اور انھوں نے احادیث کی گواہی کے مطابق دو دن مسلسل بیت اللہ کے سامنے آنحضرت ﷺ کو تمام نمازیں پڑھائیں۔ پہلے دن تمام نمازیں اول وقت میں پڑھی گئیں اور دوسرے روز آخر وقت میں۔ اور پھر پلٹ کر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ یہ ہیں تمام انبیائے کرام کے نمازوں کے اوقات۔ آپ ﷺ ان اوقات کے درمیان کے اوقات میں نمازیں پڑھیں۔ امت کے لیے یہی مسنون اوقات ہیں اور اس کی مزید تفصیلات آنحضرت ﷺ کے ارشادات میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
اوقاتِ صلوٰۃ کے تعین میں حکمت
ان اوقات میں سب سے زیادہ دو باتیں توجہ طلب ہیں۔ پہلی بات یہ کہ سورج کے معمولات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سورج شب و روز کے تمام اوقات میں قیام، رکوع اور سجود میں رہتا ہے۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں جن پر سورج کا عکس پڑتا ہے وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ اپنے رب کے آگے برابر قیام، رکوع اور سجود میں رہتی ہیں۔ چناچہ قرآن کریم کی بعض آیات میں بتایا گیا ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا نہ کرتی ہو۔ اور مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے۔ حتیٰ کہ ہر وجود کا سایہ بھی صبح و شام اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ اس طرح سے انسان کو توجہ دلائی گئی ہے کہ تم بڑی بڑی قوتوں کے سامنے جھکتے ہو حالانکہ کائنات کی تمام چھوٹی بڑی چیزیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتی اور سجدہ ریز ہوتی ہیں۔
نمازوں کے اوقات کو دیکھ کر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نمازوں کے یہ اوقات مقرر کرنے میں ایک مصلحت شاید یہ بھی ہے کہ آفتاب پرستوں کے اوقاتِ عبادت سے اجتناب کیا جائے۔ آفتاب ہر زمانے میں مشرکین کا سب سے بڑا یا بہت بڑا معبود رہا ہے اور اس کے طلوع و غروب کے اوقات خاص طور پر ان کے اوقاتِ عبادت رہے ہیں۔ اس لیے ان اوقات میں تو نماز پڑھنا حرام کردیا گیا۔ اس کے علاوہ آفتاب کی پرستش زیادہ تر اس کے عروج کے اوقات میں کی جاتی رہی ہے۔ لہٰذا اسلام میں حکم دیا گیا کہ تم دن کی نمازیں زوال آفتاب کے بعد پڑھنی شروع کرو اور صبح کی نماز طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لیا کرو۔ اس طرح سے نماز کے ساتھ ساتھ اس کے اوقات بھی توحید کی نہ صرف تعلیم دیتے ہیں بلکہ اس کا علی الاعلان اظہار بھی ہیں۔
Ayah 17:79وَمِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَصلے ق عَسٰٓی اَنْ یَّبـْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 79)
(اور شب میں بھی تہجد پڑھو، یہ آپ ﷺ کے لیے زائد ہے، توقع رکھئے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔ )
ہم اس آیت کے پہلے حصے کی تشریح معارف القرآن سے نقل کرتے ہیں۔
تہجد کا معنی
وَمِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ : لفظ تہجد ہجود سے مشتق ہے اور یہ لفظ دو متضاد معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی سونے کے بھی آتے ہیں اور جاگنے بیدار ہونے کے بھی، اس جگہ وَمِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖکے معنی یہ ہیں کہ رات کے کچھ حصہ میں قرآن کے ساتھ بیدار رہا کرو کیونکہ بِہٖکی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے۔ (مظہری)
قرآن کے ساتھ بیدار رہنے کا مطلب نماز ادا کرنا ہے۔ اسی رات کی نماز کو اصطلاح شرع میں نماز تہجد کہا جاتا ہے اور عموماً اس کا یہ مفہوم لیا گیا ہے کہ کچھ دیر سو کر اٹھنے کے بعد جو نماز پڑھی جائے وہ نماز تہجد ہے، لیکن تفسیر مظہری میں ہے کہ مفہوم اس آیت کا اتنا ہے کہ رات کے کچھ حصے میں نماز کے لیے سونے کو ترک کردو اور یہ مفہوم جس طرح کچھ دیر سونے کے بعد جاگ کر نماز پڑھنے پر صادق آتا ہے اسی طرح شروع ہی میں نماز کے لیے نیند کو مؤخر کرکے نماز پڑھنے پر بھی صادق آتا ہے۔ اس لیے نماز تہجد کے لیے پہلے نیند ہونے کی شرح قرآن کا مدلول نہیں پھر بعض روایات حدیث سے بھی تہجد کے اسی عام معنی پر استدلال کیا ہے۔
اور امام ابن ( رح) کثیر نے حضرت حسن بصری ( رح) سے نماز تہجد کی جو تعریف نقل کی ہے وہ بھی اسی عموم پر شاہد ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔
قال الحسن البصری ھوما کان بعدالعشاء و یحمل علیٰ مکان بعدالنوم
(ابن کثیر)
(حسن بصری ( رح) فرماتے ہیں کہ نماز تہجد ہر اس نماز پر صادق ہے جو عشاء کے بعد پڑھی جائے البتہ تعامل کی وجہ سے اس کو کچھ نیند کے بعد پر محمول کیا جائے گا۔ )
اس کا حاصل یہ ہے کہ نماز تہجد کے اصل مفہوم میں بعدالنوم ہونا شرظ نہیں اور الفاظ قرآن میں بھی یہ شرط موجود نہیں لیکن عموماً تعامل رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ( رض) کا یہی رہا ہے کہ نماز آخر رات میں بیدار ہو کر پڑھتے تھے اس لیے اس کی افضل صورت یہی ہوگی۔
نماز تہجد فرض ہے یا نفل
نَافِلَۃً لَّکَ لفظ نفل اور نافلہ کے لغوی معنی زائد کے ہیں۔ اسی لیے اس نماز اور صدقہ خیرات وغیرہ کو نفل کہتے ہیں جو شرعاً واجب اور ضروری نہ ہو جس کے کرنے میں ثواب ہے اور نہ کرنے میں نہ کوئی گناہ ہے اور نہ کسی قسم کی برائی، اس آیت میں نماز تہجد کے ساتھنَافِلَۃً لَّکَکے الفاظ سے ظاہراً یہ سمجھا جاتا ہے کہ نماز تہجد خصوصیت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے لیے نفل ہے حالانکہ اس کے نفل ہونے میں آنحضرت ﷺ اور پوری امت سب ہی شریک ہیں۔ اسی لیے بعض حضرات مفسرین نے اس جگہ نافلہ کو فریضہ کی صفت قرار دے کر معنی یہ قرار دیے ہیں کہ عام امت پر تو صرف پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں مگر رسول اللہ ﷺ پر تہجد بھی ایک زائد فرض ہے تو یہاں لفظ نافلہ بمعنی فرض زائد کے ہے نفل کے عام معنی میں نہیں۔
اور تحقیق صحیح اس معاملہ کی یہ ہے کہ ابتداء اسلام میں جب سورة مزمل نازل ہوئی تو اس وقت پانچ نمازیں تو فرض ہوئی نہ تھیں صرف تہجد کی نماز سب پر فرض تھی اسی فرض کا ذکر سورة مزمل میں ہے۔ پھر شب معراج پانچ نمازیں فرض کردی گئیں تو تہجد کی فرضیت عام امت سے تو باتفاق منسوخ ہوگئی اور اس میں اختلاف رہا کہ آنحضرت ﷺ سے بھی اس کی فرضیت منسوخ ہوئی یا یہ خصوصی طور پر آپ ﷺ کے ذمہ فرض رہا اور اس آیت میں نَافِلَۃً لَّکََکے یہی معنی ہیں کہ نماز تہجد آپ ﷺ کے ذمہ ایک زائد فرض ہے مگر تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہ کئی وجہ سے صحیح نہیں اول یہ کہ فرض کو نفل سے تعبیر کرنے کی کوئی وجہ نہیں اگر کہا جائے کہ مجاز ہے تو یہ ایک ایسا مجاز ہوگا جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ دوسرے احادیث صحیحہ میں صرف پانچ نمازوں کے تعین کے ساتھ فرض ہونے کا ذکر ہے اور ایک حدیث میں اس کے آخر میں یہ بھی مذکور ہے کہ شب معراج میں جو اول پچاس نمازیں فرض کی گئی تھیں پھر تخفیف کرکے پانچ کردی گئیں تو اگرچہ عدد گھٹا دیا گیا مگر ثواب پچاس ہی کا ملے گا اور پھر فرمایا لاَ یُبَدَّلُ الْقُوْلُ لَدَیَّیعنی میرا قول بدلا نہیں کرتا جب پج اس کا حکم دیا تھا تو ثواب پچاس ہی کا دیا جائے گا اگرچہ عمل میں کمی کردی گئی۔
ان روایات کا حاصل یہی ہے کہ عام امت اور خود رسول اللہ ﷺ پر پانچ نمازوں کے سوا کوئی اور نماز فرض نہیں ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہنافِلَہکا لفظ اگر اس جگہ فریضہ زائد کے معنی میں ہوتا تو اس کے بعد لفظلَکَکے بجائیعَلَیْکَہونا چاہیے تھا جو وجوب پر دلالت کرتا ہے لفظ لک تو صرف جواز اور اجازت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اسی طرح تفسیر مظہری میں صحیح اسی کو قرار دیا ہے کہ جب تہجد کی فرضیت امت سے منسوخ ہوئی تو رسول اللہ ﷺ سے بھی منسوخ ہوگئی اور سب کے لیے نفل رہے گا مگر اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس میں آنحضرت ﷺ کی خصوصیت کیا ہے۔ نفل ہونا تو سب ہی کے لیے ثابت ہے پھرنافِلَۃً لَّکَ فرمانے کا کیا حاصل ہوگا۔ جواب یہ ہے کہ حسب تصریح احادیث تمام امت کی نوافل اور تمام نفلی عبادات ان کے گناہوں کا کفارہ اور فرض نمازوں میں جو کوتاہی کمی رہ جائے اس کی تکمیل کا کام دیتی ہیں مگر رسول اللہ ﷺ گناہوں سے بھی معصوم ہیں اور نماز کے آداب میں کوتاہی سے بھی، اس لیے آپ ﷺ کے حق میں نفلی عبادت بالکل زائد ہی ہے جو کسی کوتاہی کا تدارک نہیں بلکہ محض زیادت تقرب کا ذریعہ ہے۔ (قرطبی و مظہری)
نماز تہجد نفل ہے یا سنت موکدہ
سنت موکدہ کے لیے جو عام ضابطہ فقہا کا ہے کہ جس کام پر رسول اللہ ﷺ نے عملاً مداومت فرمائی ہو اور بلامجبوری کے نہ چھوڑا ہو وہ سنت موکدہ ہے بجز اس کے کہ کسی دلیل شرعی سے یہ ثابت ہوجائے کہ یہ کام آنحضرت ﷺ کے لیے مخصوص تھا عام امت کے لیے نہیں تھا۔ اس ضابطہ کا تقاضا بظاہر یہی ہے کہ نماز تہجد بھی سب کے لیے سنت موکدہ قرار پائے نہ کہ صرف نفل کیونکہ اس نماز پر رسول اللہ ﷺ کی مداومت سنت متواترہ سے ثابت ہے اور خصوصیت کی کوئی دلیل نہیں۔ اس لیے عام امت کے لیے بھی سنت موکدہ ہونا چاہیے۔ تفسیر مظہری میں اسی کو مختار اور راحج قرار دیا ہے اور اس کے موکد ہونے پر حضرت ابن مسعود ( رض) کی اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے اس شخص کے بار میں جو پہلے تہجد پڑھا کرتا تھا یہ ارشاد فرمایا کہ ” اس کے کان میں شیطان نے پیشاب کردیا ہے “ اس طرح کی وعید اور تنبیہ صرف نفل میں نہیں ہوسکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سنت موکدہ ہے۔
اور جن حضرات نے تہجد کو صرف نفل قرار دیا ہے وہ اس مواظبت اور مداومت کو آنحضرت ﷺ کی خصوصیت قرار دیتے ہیں اور تہجد پڑھنے والے کے ترک تہجد پر جو زجر کے الفاظ ارشاد فرمائے وہ دراصل مطلقا ترک پر نہیں بلکہ اول عادت ڈالنے کے بعد ترک کرنے پر ہیں کیونکہ آدمی جس نفل کی عادت ڈال لے باتفاق امت اس کو چاہیے کہ اس پر مداومت کرے۔ اگر عادت ڈالنے کے بعد چھوڑے گا تو قابل ملامت ہوگا کیونکہ عادت کے بعد بلاعذر ترک ایک قسم کے اعراض کی علامت ہے اور جو شروع سے عادی نہ ہو تو اس پر کوئی ملامت نہیں۔ واللہ اعلم۔
تہجد کی تعداد رکعات
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت صدیقہ عائشہ ( رض) کی روایت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان یا غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔ ان گیارہ رکعات میں حنفیہ کے نزدیک تین رکعتیں و تر کی ہوتی تھیں باقی آٹھ تہجد کی۔
اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں صدیقہ عائشہ ( رض) کے یہ الفاظ منقول ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے جن میں وتر کی بھی شامل ہیں اور دو رکعتیں سنت فجر کی بھی۔ (مظہری)
سنت فجر کو رات کی نماز میں بوجہ رمضان کے شمار کرلیا ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ عام عادت رسول اللہ ﷺ کی یہ تھی کہ تہجد کی نماز میں آٹھ رکعات ادا فرماتے تھے۔ لیکن صدیقہ عائشہ ( رض) ہی کی ایک روایت سے یہ بھی ثابت ہے کہ کبھی کبھی اس تعداد سے کم چار یا چھ رکعات پر بھی اکتفا فرمایا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں آپ ( رض) سے یہ منقول ہے کہ حضرت مسروق ( رض) نے صدیقہ ( رض) سے تہجد کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا کہ سات، ٰنو اور گیارہ رکعات ہوتی تھیں۔ علاوہ سنت فجر کے۔
(مظہری عن البخاری)
حنفیہ کے قاعدہ کے مطابق تین رکعت وتر کی ہوئیں تو سات میں سے چار، نو میں سے چھ، گیارہ میں سے آٹھ تہجد کی رکعتیں رہ جاتی ہیں۔
نماز تہجد کی کیفیت
جو عام روایات حدیث سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ ابتدا میں دو رکعت ہلکی مختصر قرأت کے ساتھ پھر باقی رکعات میں قرأت بھی طویل اور رکوع سجدہ بھی طویل ہوتا اور یہ طول بسا اوقات بہت زیادہ ہوجاتا تھا۔ کبھی کچھ کم (یہ خلاصہ ان روایات حدیث کا ہے جو اس جگہ تفسیر مظہری میں نقل کی گئی ہیں۔ )
عَسٰٓیکا مفہوم
عَسٰٓی اَنْ یَّبـْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا : عَسٰٓیکا لفظ عموماً امید و رجا، توقع اور ظنِ غالب کے اظہار کے لیے آتا ہے، لیکن جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اہل علم نے اس کا ترجمہ دو طرح سے کیا ہے۔ ایک یہ کہ اس کا معنی امید اور جا کی بجائے یقین ہوجاتا ہے۔ ” البرہان “ میں ہے عسیٰ ولعل من اللہ تعالیٰ واجبتان ترجمے کی دوسری صورت یہ ہے کہعسیٰ کا تعلق جب اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے تو اس صورت میں امید و رجا کا تعلق اللہ تعالیٰ کی بجائے مخاطب یا متکلم سے ہوجاتا ہے۔ مثلاً عسیٰ ربکم ان یرحمکم اس کا ترجمہ ہوگا ” تم توقع رکھو کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا۔ “ پیش نظر آیت کریمہ میں بھی یہ معنی نہیں ہے کہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مقام محمود پر کھڑا کرے گا بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ امید رکھیں یا یقینا اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔ اس وضاحت سے یہ اشکال ختم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت سے امید یا توقع کا لفظ استعمال کرنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ تو ہر بات کو جانتا ہے اور اس کے نزدیک ہر چیز معلوم اور معین ہے، تو ہم نے یہ بات واضح کردی کہ ایسے مواقع پر عسیٰ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے نہیں بلکہ بندوں سے ہوتا ہے اور یا پھر اس کا معنی امید و رجا نہیں بلکہ یقین ہوتا ہے۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مقام محمود کا وعدہ
نبی کریم ﷺ کو نماز کا حکم دے کر دراصل یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ جس طرح کے ناگفتہ بہ حالات سے گزر رہے ہیں وہ یقینا نہایت اذیت ناک ہیں، لیکن ہم آپ ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ حالات ہمیشہ نہیں رہیں گے، وہ وقت دور نہیں کہ یہ لوگ جنھیں آپ ﷺ کی عزت گوارا نہیں اور آپ ﷺ کی ہر طرح کی توہین پر انھیں قلبی مسرت ہوتی ہے، یہ آپ ﷺ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے اور آپ ﷺ کی تعریف میں رطب اللسان ہوکر آپ ﷺ سے جان کی امان مانگ رہے ہوں گے۔ اور بہت جلد وہ وقت آئے گا کہ عرب کے گوشے گوشے میں اذانوں میں آپ ﷺ کا نام گونجے گا اور ہر کلمہ گو آپ ﷺ پر درودوسلام بھیجے گا۔ اور جہاں تک آخرت کا تعلق ہے، وہاں آپ ﷺ کو وہ مقام عطا فرمایا جائے گا، جسے مقام محمود کہا گیا ہے اور جو کسی اور پیغمبر ( علیہ السلام) کو عطا نہیں کیا جائے گا۔ اس کی وضاحت فرماتے ہوئے خود آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ھذا المقام الذی اشفع فیہ لامتی ” یہ وہ مقام ہے جس میں، میں اپنی امت کے لیے شفاعت کروں گا۔ “ دنیا میں بھی آپ ﷺ امت کے حال پر کس قدر مہربان تھے اور کس قدر ان کی عاقبت کا خیال رہتا تھا، اس سے روایات بھری پڑی ہیں۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ حضور ﷺ اپنی امت کی عاقبت سے متفکر ہو کر بےساختہ روئے اور اللہ تعالیٰ سے امت کی مغفرت کی دعائیں مانگیں۔ اور بعض روایات میں (اگرچہ ان کی سند کمزور ہے) یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر آپ ﷺ کو تسلی بھی دی اور امت کے بارے میں آپ ﷺ کو راضی کرنے کا وعدہ بھی فرمایا۔
مقامِ محمود صرف امت کے کام آنے کی جگہ نہیں بلکہ یہ وہ مقام ہے جہاں آپ ﷺ ساری امتوں کی دستگیری فرمائیں گے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روز حشر جب ہر دل پر خوف و ہراس طاری ہوگا اور جلالِ خداوندی کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہوگی۔ تمام انبیائے کرام نفسی نفسی پکارتے ہوں گے۔ تمام امتیں حساب کے انتظار میں نہایت بےبسی کے ساتھ لرزاں اور ترساں کھڑی ہوں گی۔ آخر کچھ لوگ ہمت کریں گے اور حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حساب کتاب شروع کرنے کی التجا کریں، لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوگی۔ آخرکار حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچیں گے اور ان سے شفاعت کی التجا کریں گے۔ آپ ( علیہ السلام) جواب دیں گے کہ میں خود تو آج لب کشائی کی جسارت نہیں کرسکتا، تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ، مجھے امید ہے کہ وہاں تمہاری التجا سنی جائے گی۔ چناچہ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اپنی داستانِ غم پیش کریں گے۔ آنحضرت ﷺ سن کر فرمائیں گے، انا لہا انا لہا ” ہاں، میں اس کے لیے ہوں۔ “ آپ ﷺ عرشِ عظیم کی طرف بڑھیں گے اور قریب پہنچ کر سر سجدہ میں رکھ دیں گے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس وقت میں نہیں جانتا کہ میں اس وقت سجدہ میں اللہ تعالیٰ کو کن پیارے ناموں سے یاد کروں گا اور کن الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کروں گا۔ دیر تک سجدہ ریز رہنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی، یامحمد (علیہ السلام) ارفع راسک قل تسمع اسئل تعط اشفع تشفع ” اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھا لیجیے، کہئے، تمہاری بات سنی جائے گی، مانگئے، آپ ﷺ کو دیا جائے گا، شفاعت کیجیے، آپ ﷺ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ “ اس طرح آپ ﷺ تمام امتوں کی شفاعت فرمائیں گے اور آپ ﷺ کی کرم فرمائی سے اللہ تعالیٰ کی رحمت بےپایاں کا دروازہ کھل جائے گا۔
قاضی عیاض ( رح) نے اپنی مشہور کتاب ” کتاب الشفا “ میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ پانچ شفاعتیں فرمائیں گے۔
1 شفاعتِ عامہ، جس سے مومن اور کافر، اپنے اور بیگانے سب فائدہ اٹھائیں گے۔
2 بعض خوش نصیبوں کے لیے بغیر حساب کے جنت میں داخل کرنے کی شفاعت فرمائیں گے۔
3 وہ موحد جو اپنے گناہوں کے باعث عذاب دوزخ کے مستحق قرار پاجائیں گے، حضور ﷺ کی شفاعت سے بخش دیے جائیں گے۔
4 وہ گنہگار جنھیں دوزخ میں پھینک دیا جائے گا، حضور ﷺ شفاعت فرما کر ان کو وہاں سے نکالیں گے۔
5 اہلِ جنت کے مدارج میں ترقی کے لیے سفارش فرمائیں گے۔
حضرت ابوسعید خدری ( رح) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : انا سیدولدآدم یوم القیامۃ ولافخر وبیدی لواء الحمد ولافخر وما من نبی یومئذ الاتحت لواء ی ” میں قیامت کے دن تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، لیکن میں فخر نہیں کرتا، حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہوگا اور تمام انبیائے کرام میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، لیکن میں فخر نہیں کرتا۔ “
سرکار دوعالم ﷺ کے بیشمار مقامات میں سے ایک یہ مقام محمود ہے جس کی آپ ﷺ نے تفصیل دیکھی۔ مشرکینِ مکہ کو بتایا جارہا ہے کہ کاش تمہیں معلوم ہوتا کہ کتنی عظیم شخصیت تمہارے درمیان ہے لیکن تم اندھوں کی طرح اسے پہچاننے سے انکار کررہے ہو۔
شاہدے درمیانِ کو راں است
مصحفے درمیانِ زندیقاں
Ayah 17:80وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 80)
(اور دعا کیجیے ! اے میرے رب، داخل کر مجھے عزت اور سچائی کا داخل کرنا، اور مجھے نکال عزت اور سچائی کا نکالنا، اور عطا کر مجھے اپنے پاس سے، اقتدار مدد کرنے والا۔ )
ہجرت کی دعا اور اس کا مفہوم
قریشِ مکہ کے رویئے کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ ہر وقت اس کے انتظار میں تھے کہ کب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے ہجرت کا حکم ملتا ہے۔ حالات تیزی سے اس کا تقاضا کررہے تھے لیکن آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر مکہ معظمہ چھوڑنے کے مجاز نہیں تھے۔ آپ ﷺ ہر طرح کے حالات کا نہایت پامردی سے مقابلہ کررہے تھے، کہ پیش نظر آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اس میں آپ ﷺ کو ہجرت کی دعا سکھائی گئی ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہجرت کا حکم اب زیادہ دور نہیں۔ دعا سکھانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان بپھرے ہوئے حالات میں آپ ﷺ کو اس سے تسلی ملے گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ جب بھی ابتر حالات میں وہ اپنے پیغمبروں کو تائید و نصرت کے لیے کسی دعا کا حکم دیتا ہے تو وہ درحقیقت دعا کی قبولیت کا اعلان ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کو اس میں بتادیا گیا ہے کہ حالات کے تیور کچھ بھی ہوں، اللہ تعالیٰ ہرحال میں آپ ﷺ کی حفاظت فرمائے گا۔ مکہ معظمہ سے خیروعافیت سے نکلنا بجائے خود ایک بہت بڑی بات ہے، اور پھر دارالہجرت میں جو یقینا ایک اجنبی شہر ہوگا وہاں کے لوگ اجنبی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہاں کیسے حالات سے واسطہ پڑے، یہ بجائے خود پریشان کن باتیں ہیں، لیکن آپ کو دعا کے اسلوب میں اطلاع دے دی گئی کہ آپ ﷺ کا نکلنا بھی عزت اور وقار کے ساتھ ہوگا۔ اور آپ ﷺ کا داخل ہونا بھی نہایت شان کے ساتھ ہوگا۔ البتہ یہ بات حیران کن ہے کہ داخل ہونے کی بات پہلے کہی گئی ہے اور نکلنے کی بعد میں۔ حالانکہ سب سے پہلے نکلنے کی مہم درپیش ہے، کیونکہ دشمن ہر وقت نگرانی کررہا ہے۔ اس کی مکمل کوشش ہے کہ آنحضرت ﷺ کو خیریت سے نکلنے نہ دیا جائے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس میں دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ نکلنا اور داخل ہونا دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہر طرح کی خیریت سے عمل میں آئیں گے۔ لیکن نکلنا چونکہ مقصود نہیں، مقصود تو دارالہجرت میں داخل ہونا ہے اور اسے رفتہ رفتہ اسلام کا مرکز اور اسلامی ریاست کا دارالحکومت بنانا ہے۔ اس لیے اس کی ضمانت پہلے دی گئی کہ ہم نے ہر طرح سے اس کا انتظام کردیا ہے۔ آپ ﷺ وہاں پہنچیں گے تو ایک شاندار استقبال آپ ﷺ کے انتظار میں ہوگا۔ بعض دیگر اہل علم کا خیال اس سے تھوڑا سا مختلف ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہاں دخول سے مراد دارالہجرت میں داخل ہونا نہیں بلکہ لوٹ کر مکہ معظمہ آنا ہے۔ دارالہجرت میں جانا وہ تو خروج کا لازمی نتیجہ ہے، اس لیے اس کا ذکر کرنے کا کیا حاصل۔ آنحضرت ﷺ کسی طرح بھی اللہ تعالیٰ کے گھر کی ہمسائیگی کو چھوڑنا پسند نہیں کرتے تھے اور مزید یہ کہ یہ شہر آپ ﷺ مولد و مسکن بھی تھا اور حرم بھی۔ اس لیے جب بھی آپ ﷺ تصور کرتے کہ مجھے اس شہر سے نکلنا ہوگا تو دل پر ایک چوٹ سی پڑتی۔ چناچہ آپ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ ﷺ فکر نہ کریں، آپ ﷺ کو نہایت عزت و وقار کے ساتھ اور صدق کی دولت لیے ہوئے اسی شہر میں دوبارہ فاتحانہ شان کے ساتھ لایا جائے گا۔ چناچہ اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ جب آپ ﷺ ہجرت کے سفر میں مکہ معظمہ سے کچھ فاصلے پر اس چورا ہے پر پہنچے جہاں سے مدینے کو راستہ نکلتا ہے تو آپ ﷺ مکہ معظمہ کو یاد کرکے آبدیدہ ہوگئے، تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت کریمہ لے کر نازل ہوئے۔ ان الذی فرض علیک القرآن لرادکّ الی معاد ” بیشک جس اللہ نے آپ ﷺ پر قرآن کریم فرض کیا ہے، وہ آپ ﷺ کو پھر مکہ معظمہ لوٹا کے لائے گا۔ “
ایک اور دُعا
آیت کے دوسرے حصے میں آپ ﷺ کو ایک دوسری دعا سکھائی گئی ہے کہ الٰہی اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ میں جس عظیم مقصد کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں، وہ محض دعوت اور نصیحت سے بروئے کار نہیں آسکتا۔ دنیا میں برائی کی قوتیں کبھی نیکی کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیتیں۔ طاغوت کے پیروکاروں کے مضبوط جتھے قدم قدم پر حائل ہوتے ہیں۔ سلاطین کی حکومتیں نہ جانے کتنے ملکوں میں قائم ہیں جو اللہ تعالیٰ کی حکومت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ میرے پیش نظر فواحش و معاصی کے سیلاب کو روکنا اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کرنا ہے، یہ کام میں بغیر اقتدار کی قوت کے نہیں کرسکتا۔ مکہ معظمہ میں نبی کریم ﷺ نے جب دیکھا کہ مسلمانوں پر اذیتیں بڑھتی جارہی ہیں اور قریش کا غضب روز بروز تیز ہوتا جارہا ہے تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی کہ یا اللہ ! دو عمروں میں سے ایک عمر دے دے۔ عمرو بن ہشام دے دے یا عمربن خطاب دے دے۔ اس کے بغیر کام چلنا مشکل ہورہا ہے۔ اب چونکہ دارالہجرت پہنچ کر اسلامی ریاست کی بنیاد رکھنا تھی اور دنیا بھر کی مخالفتوں کا سامنا تھا۔ اس لیے اب اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا اقتدار مانگا جارہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے اور کلمہ حق کو سربلند کرنے اور نفاذِ شریعت کے مراحل کو آسان کرنے کے لیے مطلوب تھا۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبے کے لیے اقتدار کے حصول کے لیے کوشش کرنا نہ صرف جائز بلکہ عین مطلوب ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے جس کی تائید نبی کریم ﷺ کی اس حدیث سے ہوتی ہے ان اللّٰہ لیزع بالسلطان مالایزع باالقرآن ” اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کردیتا ہے جن کا سد باب قرآن کریم سے نہیں کرتا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ لادینیت کا تیار کردہ ایک پرزہ جسے ہم اے سی کہتے ہیں، وہ پورے شہر کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگر علمائے کرام بالاتفاق کسی شہر کو ہدف بنا کر اس کی اصلاح کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں اس شہر میں کام کرنے کا فیصلہ کریں، لیکن جیسے ہی وہ راوی کے پل پر پہنچیں تو اے سی صاحب ایک آرڈر کے ذریعے شہر میں ان کا داخلہ بند کرسکتے ہیں یا ان کی زبان بندی کے احکام جاری کرسکتے ہیں یا انھیں نظربند کرسکتے ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ سینکڑوں علما اس شخص کے سامنے بےبس ہیں کیونکہ اس کے پاس اقتدار کی قوت ہے۔ ان علما میں بیشک محدثین ہوں، مفسرین ہوں، قرآن کریم کے حفاظ ہوں، بڑے بڑے فقیہ ہوں، لیکن اس ایک شخص کے سامنے ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ اقتدار جب چاہتا ہے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا سر اڑا دیتا ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو صلیب پر لٹکانے کا حکم جاری کرسکتا ہے۔ اس لیے جو لوگ دیانتداری اور ہوش مندی سے اسلام کو غالب دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ وقت کے دھارے کو اسلام کے حق میں موڑنا چاہتے ہیں تو انھیں اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے کہ وقت کی رفتار نصیحتوں سے نہیں رکتی، وقت کا دھارا دعوت سے نہیں پلٹتا۔ کسی بھی ملک میں تبدیلی لانے کے لیے جہاں اور بہت سارے عوامل کی ضرورت ہے، وہاں سب سے مؤـثر عامل اقتدار ہے۔ مکہ معظمہ میں 13 سال تک دعوت کے نتیجے میں چند سو آدمی مسلمان ہوئے، لیکن مدینہ منورہ میں اقتدار کی قوت مل جانے کے بعد چند ہی سالوں میں پورا جزیرہ عرب اسلام کی آغوش میں آگیا۔ اور مزید نصف صدی گزرنے سے پہلے اسلام کا پھریرا نصف زمین پر لہرانے لگا۔
یہ کہنے کو تو دعائیں ہیں لیکن حقیقت میں اسلام کے غلبے کی پیشگوئیاں ہیں، جسے دیکھنے والوں نے چند ہی سالوں میں اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھا۔
Ayah 17:81وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زُھُوْقًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 81)
(اور آپ ﷺ اعلان کردیجیے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، اور باطل تھا ہی مٹنے والا۔ )
حق کی فتح اور باطل کی شکست کا اعلان
سابقہ آیت کریمہ میں غلبہ دین کی جو بات اشاروں میں کہی جارہی تھی، اب آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ کھل کر اعلان کردیجیے کہ اسلام کا راستہ روکنے والو ! سن لو، تم اب اس شمع کو جلنے سے نہیں روک سکو گے۔ مشعل برداروں کا قافلہ دنیا کی تاریکیاں دور کرنے کے لیے نکلا ہے، تم ان سے مشعلیں نہیں چھین سکو گے۔ مستقبل اگرچہ ابھی تک تاریک پردوں میں ہے، اس لیے تم اسے دیکھ نہیں سکتے، لیکن جس نے یہ قرآن اتارا ہے اور مجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اس کے سامنے کوئی چیز مخفی نہیں، وہ مجھے یہ اعلان کرنے کا حکم دے رہا ہے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا یعنی وہ وقت بہت قریب ہے جب حق پوری طرح جلوہ گر ہوگا۔ حق سے مراد وہ دین حق ہے جس کو لے کر قرآن آیا تھا اور باطل سے مراد وہ دین باطل ہے جس کو مٹانے کے لیے قرآن نازل ہوا تھا۔ چناچہ اس اعلان کو 9 سال سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ نبی کریم ﷺ حق کا پھریرا لہراتے ہوئے مکہ معظمہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ اور آپ ﷺ جب اللہ تعالیٰ کے گھر میں داخل ہوئے جسے مشرکین نے بت خانہ بنا رکھا تھا۔ تو آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا جس کی انی سے آپ ﷺ بتوں کو توڑتے جاتے تھے اور زبان پر یہ آیت جاری تھی۔ لوگوں نے چند ہی سالوں بعد اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جس غلبہ حق کا اعلان کیا گیا تھا، وہ آج ان کے سامنے پورا ہورہا ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ باطل کا مٹ جانا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ باطل خودرو جھاڑیوں کی طرح ہے۔ جس زمین کا کوئی وارث نہ ہو اور جس باغ کا کوئی مالی نہ ہو، جو اس کی نگہبانی کا فرض انجام دے، وہاں خودرو پودے، جڑی بوٹیاں اور جھاڑیاں پھیل جاتی ہیں۔ اور یہ اس وقت تک پھیلتی جاتی ہیں جب تک کوئی کسان یا کوئی باغبان اپنا فرض انجام دینے کے لیے نہیں اٹھتا۔ لیکن جب کوئی بھی شخص اپنا فرض انجام دینے کے لیے کسّی یا درانتی لے کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو پھر جھاڑیوں اور جڑی بوٹیوں کو تلف ہوتے دیر نہیں لگتی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہاں پھول کھلنے اور فصلیں لہلہانے لگتی ہیں۔ یہی حال حق و باطل کا ہے۔ انسانی فطرت میں باطل کے لیے قدرت نے کوئی گنجائش نہیں رکھی، لیکن جب اہل حق اپنا فرض انجام نہیں دیتے اور وہ فطرت کی زمین میں حق کی تخم ریزی نہیں کرتے اور اسے بیکار چھوڑ دیتے ہیں تو پھر جگہ جگہ باطل کی جڑی بوٹیاں اور جھاڑیاں سر اٹھانے لگتی ہیں۔ اور خاروخس اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ جو خلیفۃ اللہ تھے تشریف لے آئے اور آپ ﷺ نے کشت حق کی تخم ریزی اور اس کی نگرانی کا فرض انجام دینا شروع کردیا اور آپ ﷺ کے ساتھ صاحب ایمان لوگوں کا قافلہ بڑھتا چلا گیا تو چند ہی سالوں میں زمین کی قسمت بدل گئی۔
رہا ڈر نہ بیڑے کو موج بلا کا
اِدھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا
آج بھی یہ آیت کریمہ امت مسلمہ کے دعوت و ارشاد سے تعلق رکھنے والے دردمند لوگوں کو پکار رہی ہے کہ تم اپنے گردوپیش میں لادینیت اور فواحش کی جو یلغار دیکھ رہے ہیں اور جس طرح سے زمین کا سینہ بےحیائی کے خودرو پودوں اور جھاڑیوں نے روک لیا ہے اور جگہ جگہ اللہ تعالیٰ سے انکار کرنے والوں اور دین کے دشمنوں کے جتھے منظم ہورہے ہیں اور گھروں سے لے کر منڈیوں اور بازاروں تک مسلمان معاشرے کا کوئی حصہ ایسا باقی نہیں رہا جو لادینیت کی لپیٹ میں نہ آچکا ہو۔ یہ صرف اس بات کا نتیجہ ہے کہ دین کی دعوت دینے والوں کو جس توانائی، دردمندی، جرأت و جسارت اور حکمت و بصیرت سے کام لینے کی ضرورت تھی اس میں کمی آگئی ہے۔ لادینیت اور بےحیائی خرگوش کی چال دوڑ رہی ہے اور ہم اپنے وسائل اور اپنی تگ و دو میں کچھوے سے بھی کم رفتار ہونے کے باوجود میٹھی نیند سو رہے ہیں۔ کہیں مادیت نے اپنا بسیرا کر رکھا ہے اور کہیں تعلیمی اداروں اور تربیتی مراکز میں الحاد اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ ہم حالات سے نبردآزما ہونے کی بجائے دین و دنیا میں تفریق کے قائل ہوچکے ہیں اور ہمارے اندر اس غلط فہمی نے بزدلی پیدا کردی ہے کہ باطل اس قدر توانا ہوچکا ہے کہ اس کا راستہ روکنا ممکن نہیں رہا۔ یہ آیت ہمیں یہ شعور دے رہی ہے کہ باطل فطرت کی پکار نہیں۔ انسانی ضمیر کے لیے یہ اجنبی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی زمین اس کے لیے سازگار نہیں، لیکن جب اس زمین کا وارث سو جاتا ہے تو پھر جڑی بوٹیوں اور خودرو پودوں کو سر اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے۔ ہر طرح کے منکرات پائوں پسارنے لگتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اس باغ کے مالی کہیں سوگئے ہیں یا مرکھپ گئے ہیں۔ اس لیے اس امت کے دردمند لوگوں کو اس آیت کی پکار پر کان لگانے ہوں گے ورنہ قیامت کے دن شرمندگی اور دنیا میں ذلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
Ayah 17:82وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَاھُوَشِفَـآئٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ لا وَلاَ یَزِیْدُالظّٰلِمِیْنَ اِلاَّ خَسَارًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 82)
(ہم قرآن میں سے جو اتارتے ہیں وہ ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں میں یہ اضافہ نہیں کرتا، مگر خسارے میں)
قرآن اہل ایمان کے لیے رحمت اور ظالموں کے لیے محرومی ہے
حق کے آجانے اور باطل کے مٹ جانے کا اعلان کردینے کے بعد ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ قریش اپنے تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں اور وہ بیشک اپنے پندار کے گنبد سے باہر نکلنا پسند نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ چند ہی سالوں میں اس ملک میں حق کا پھریرا لہرا رہا ہوگا اور یہاں کی لاقانونیت اور انسانوں کی منتشر بھیڑ ایک منظم معاشرے اور ایک مہذب ریاست کی شکل اختیار کرچکی ہوگی جس کا دستور اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب ہوگی جسے قرآن کے نام سے نازل کیا جارہا ہے اور جسے قریش کسی قیمت پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں لیکن ان بدنصیبوں کو معلوم نہیں کہ اس قرآن میں جو کچھ نازل ہورہا ہے وہ انسان کے روحانی، اخلاقی اور عقلی روگوں کا مداوا ہے۔ اور انجام کار اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ضمانت ہے۔ جیسے جیسے قرآنی تعلیمات پر ایمان و عمل بڑھتا جائے گا ویسے ویسے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی گھٹا گہری ہوتی جائے گی۔ آج جبکہ ایمان لانا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے پھر یہی ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ضمانت بن جائے گا۔ آج کا انسان امن کو ترستا ہے۔ جان مال اور آبرو ہر جگہ خطرے میں ہے، کمزور کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں، ظالم کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں۔ لیکن قرآنی نظام کے آجانے کے بعد نہ کوئی ظلم باقی رہے گا، نہ کوئی بدعنوانی باقی رہے گی۔ ہر طرح کے امتیازات مٹا دیے جائیں گے، انسانی دکھوں کو شفا ملے گی اور انسانی شقاوت رحمت میں تبدیل ہوجائے گی۔ لیکن جو لوگ کسی طرح بھی اس پر کان نہیں دھریں گے اور اپنی مخالفت اور مدافعت پر جمے رہیں گے قرآن کا نزول اور اس کی بالادستی ان کے لیے خسارے اور تباہی کا باعث ہوگی۔ ایک وقت آئے گا کہ اس ملک کی سرزمین ان کو جگہ دینے سے انکار کر دے گی۔ انھیں اسلام کی آغوش کے سوا کہیں پناہ دکھائی نہیں دے گی۔
Ayah 17:83وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِہٖ ج وَاِذَا مَسَّہُ الشَّرُّکَانَ یَؤْسًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 83)
(اور جب ہم انسان پر اپنا انعام کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا اور پہلو بدل لیتا ہے۔ اور جب اس کو مصیبت پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہے۔ )
انسان کا رویہ
اس آیت کریمہ میں انسان کا لفظ لا کر پروردگار نے عام انسانی رویئے کی بات کی ہے لیکن روئے سخن چونکہ قریش کے مفسدین کی ہی طرف ہے اس لیے ان کا نام لیے بغیر منہ پھیر کر انسان کے عام لفظ سے انہی کی کمزوری کو نمایاں کیا گیا ہے۔ انسان اپنی عادات واطوار میں عجیب واقع ہوا ہے کہ علم و دانش اور شعور و آگہی کے ہزاروں دعوئوں کے باوجودنہ تو اسے خیر و شر میں امتیاز کا ملکہ حاصل ہے اور نہ اسے اچھے اور برے حالات میں اپنے رویئے کو متوازن رکھنے کی صلاحیت ہے۔ کبھی خزف ریزوں کو ہیرے سمجھ بیٹھتا ہے اور کبھی ہیروں سے خزف ریزوں جیسا سلوک کرتا ہے۔ قریش حرم کے متولی ہو کر اپنی جہالت پر نازاں ہیں اور اس رویئے نے انھیں اس حد تک اندھا کردیا ہے کہ قرآن کریم اور پرانے قصے کہانیوں میں تمیز نہیں کر پا رہے۔ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی جو پتھروں کے ڈھیر میں ہیروں سے بڑھ کر چمک رکھتی ہے ان کی شناخت تک سے بےبہرہ ہیں۔ قرآن کریم اپنی بےبدل فصاحت و بلاغت کے موتی بکھیر رہا ہے، لیکن وہ زبان دانی کے دعوئوں کے باوجود اس کا منہ چڑاتے ہیں۔ وہ ذرا سے غور کرتے تو انھیں اندازہ ہوتا کہ قرآن کریم سے بڑھ کر دنیا میں کوئی نعمت نہیں ہوسکتی جس سے دنیا کی کامیابیاں بھی وابستہ ہیں اور آخرت کی کامیابیاں بھی، لیکن ان کی بدتمیزیوں کا حال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جب قرآن پڑھتے ہیں تو نہ صرف ان سے شائستہ اعراض کرتے ہیں جیسے شائستہ لوگوں کا کام ہوتا ہے بلکہ بےہودہ لوگوں کی طرح پہلو بدلتے اور منہ پھیر لیتے ہیں۔
عام انسانی زندگی میں بھی ان کا حال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ خوشحالی عطا کرتا ہے تو اس کے شکرگزار ہونے کی بجائے اکڑنے لگتے ہیں اور اگر کبھی بدحالی آ پکڑتی ہے تو پھر مایوس ہو کر ڈگ ڈال دیتے ہیں۔ قرآن کریم سے ان کے رویئے کے پیش نظر اگر پروردگار انھیں کسی ابتلا میں مبتلا کرتا ہے تو مایوس ہونے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے کسی اچھی بات کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔ اس طرح سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ ان کے رویئے سے ہرگز دل گرفتہ نہ ہوں، یہ تو اپنی کمزوریوں کے مارے ہوئے لوگ ہیں، آپ ﷺ ان کی اتنی پرواہ کیوں کرتے ہیں۔
Ayah 17:84قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ط فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدٰی سَبِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 84)
(کہہ دیجیے ! ہر شخص اپنی روش پر کام کرتا ہے، پس تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر (گامزن) ہے۔ )
ہدایت قبول نہ کرنے والوں سے آخری بات
کل : نکرہ ہے، لیکن بعض مواقع پر یہ معرفہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہاں بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسے معرفہ کے طور پر استعمال کیا گیا، یعنی مراد اس سے وہی لوگ ہیں جن کی طرف قرآن کریم کا روئے سخن ہے۔
شَاکِلَۃٌ : کا معنی عام طور پر ” طریقہ “ کیا جاتا ہے۔ علامہ قرطبی کی تحقیق یہ ہے کہ مجاہد نے اس کا معنی ” طبیعت “ کیا ہے اور مقاتل نے اس کا معنی ” جبلت “ کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قریش اور دوسرے مشرکینِ مکہ آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ کوئی باعثِ تعجب نہیں۔ اس لیے کہ انھوں نے بت پرستی اور جہالت کے باعث اپنی جبلت اس حد تک بگاڑ لی ہے کہ جس طرح ملاوٹ والی غذا کھانے والا ملاوٹ سے پاک غذا ہضم نہیں کرسکتا اور جس طرح بری صحبت میں بیٹھنے والا اچھی صحبت سے اعراض کرتا ہے، اسی طرح یہ لوگ بھی توحید اور آخرت کے تصور کو قبول کرنے سے عاجز ہیں۔ مکارمِ اخلاق کی تعلیم انھیں اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر ان کی طبیعتوں کے لیے بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ یہ اپنی زندگی کو جس طریقے پر گزار رہے ہیں، اس سے مختلف طریقے پر چلنا ان کے لیے آسان نہیں۔ ویسے تو یہ بات کسی قوم کے لیے بھی آسان نہیں ہوتی جو ایک خاص طرز کی زندگی کے عادی ہو۔ لیکن ان کے جمود اور جہالت نے انھیں بالکل بےبس کر کے رکھ دیا ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ان سے توقعات باندھنے کی بجائے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اور ان سے صاف صاف کہہ دیں کہ تم میں تو یہ صلاحیت نہیں کہ تم یہ فیصلہ کرسکو کہ صحیح راستہ کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ اگر کوئی ذات فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس لیے ہم یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں کہ وہی جانتا ہے کہ صحیح راستے پر کون ہے۔ اولاً تو اس نے اپنے علم کی سند دے کر مجھے مبعوث فرمایا اور مجھ پر اپنی کتاب اتاری۔ یہ میرے صحیح راستے پر ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ لیکن اگر تمہیں یہ دلیل اپیل نہیں کرتی تو پھر حالات بتادیں گے کہ صحیح راستے پر کون تھا۔ بس چند سال تک انتظار کرو، تم ہر بات اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔