17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsروح القرآن

Ayahs 17:45–48

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

جب آپ ﷺ قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو ہم آپ ﷺ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں۔

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ہم ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں، اور جب آپ ﷺ قرآن میں تنہا اپنے رب کا ذکر کرتے ہیں تو وہ نفرت کے ساتھ پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں جس غرض کے لیے یہ اسے سنتے ہیں، جب یہ آپ ﷺ کی طرف کان لگاتے ہیں اور (ہم خوب جانتے ہیں) جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں، اس وقت یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے آدمی کی پیروی کررہے ہو جس پر جادو کردیا گیا ہے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھئے یہ کس طرح آپ ﷺ کے لیے مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وہ گمراہ ہوگئے، اب وہ سیدھے راستے پر چل نہیں سکتے۔

وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُوْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا۔ وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّـۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہُ وَفِیْٓ اٰذانِہِمْ وَقْرًا ط وَاِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَہٗ وَلَّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِھِمْ نُفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 45۔ 46) (جب آپ ﷺ قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو ہم آپ ﷺ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں۔ اور ہم ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں، اور جب آپ ﷺ قرآن میں تنہا اپنے رب کا ذکر کرتے ہیں تو وہ نفرت کے ساتھ پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔ ) ہدایت سے متعلق اللہ تعالیٰ کا قانون ہم پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ توحید کی حقیقت کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اسلوب بدل بدل کر اور مختلف پیرایوں میں مشرکین کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ ان کی اکثریت نہ صرف سمجھنے سے قاصر ہے بلکہ اس کی مخالفت میں ہر طرح سے کمر بستہ ہے اور آنحضرت ﷺ کی معجزانہ کاوشیں بھی ان پر اثر دکھاتی نظر نہیں آتیں۔ چناچہ ان آیات میں اس بات کا جواب دیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ایک خاص حد تک تبلیغ و دعوت کے ذریعے پیغمبروں ( علیہ السلام) کی معرفت دین کو پیش کرتا ہے۔ پیغمبر ( علیہ السلام) اپنی تمام ممکن مساعی کو بروئے کار لاتے ہیں۔ ہمدردی و خیرخواہی کا ایک ایک قطرہ ان کے لیے نچوڑ دیتے ہیں۔ ان کی غلط سے غلط حرکت پر بھی مشتعل ہونے کی بجائے دعائیں دیتے اور تبلیغ و دعوت میں تیزی پیدا کردیتے ہیں اور یہ کاوشیں چند دنوں تک نہیں رہتیں بلکہ سالوں پر محیط ہوجاتی ہیں۔ لیکن جب اس کے جواب میں مخالفین کی مخالفت بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ اذیت رسانی کی نہ صرف کہ آخری حدوں تک پہنچ جاتے ہیں بلکہ پیغمبر ( علیہ السلام) کے قتل کے منصوبے بنانے لگتے ہیں تو تب اللہ تعالیٰ کا قانونِ ہدایت حرکت میں آتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں سے قبولیت کی استعداد چھین لی جاتی ہے۔ ان کے حواس اور ان کی عقل ہدایت کے لیے معطل کردیے جاتے ہیں۔ پیغمبر ( علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ایسا باریک پردہ حائل کردیا جاتا ہے کہ وہ پیغمبر ( علیہ السلام) کو دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے۔ ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا جاتا اور ان کے دلوں پر محرومی کے پردے تان دیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہدایت اپنا کام چھوڑ دیتی ہے کیونکہ اس کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، پیغمبر ( علیہ السلام) کا کام دعوت و تبلیغ ہے، کسی کے دل کو بدلنا نہیں۔ یہ وجہ ہے کہ جس کی وجہ سے یہ لوگ قرآن سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ دوسری آیت میں ان کے مرض کی شدت کو بیان کرنے کے لیے یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ ان کے بگاڑ کا حال تو یہ ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی ذات کی نسبت بتوں سے زیادہ دلچسپی ہے۔ آنحضرت ﷺ جب قرآن کریم پڑھ کر سناتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو بیان کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی گئی ہے تو بجائے خوش ہونے کے وہ اس لیے بگڑ جاتے ہیں کہ ہمارے بتوں کا تذکرہ کیوں نہیں کیا جارہا، صرف اللہ تعالیٰ کی ہی حمد و ثنا کیوں کی جارہی ہے۔ چناچہ وہ نفرت سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان سے یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ بےدلی ہی سے ہی سہی قرآن پاک کو سننے کی زحمت گوارا کرلیں۔ ہمارے قدیم مفسرین نے ان آیات کا شان نزول بیان کیا ہے اور ان کے چند خصائص بھی بیان کیے گئے ہیں، ہم اسے معارف القرآن سے نقل کرتے ہیں۔ آیات کا شان نزول آیات مذکورہ میں سے پہلی و دوسری آیت میں جو مضمون آیا ہے اس کا ایک خاص شان نزول ہے جو قرطبی نے سعید بن جبیر ( رح) سے نقل کیا ہے کہ جب قرآن میں سورة ٔ تبت یدا ابی لہب نازل ہوئی جس میں ابو لہب کی بیوی کی بھی مذمت مذکور ہے تو اس کی بیوی نبی کریم ﷺ کی مجلس میں گئی۔ اس وقت حضرت صدیق اکبر ( رض) مجلس میں موجود تھے اس کو دور سے دیکھ کر آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ یہاں سے ہٹ جائیں تو بہتر ہے کیونکہ یہ عورت بڑی بدزبان ہے۔ یہ ایسی باتیں کہے گی جس سے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس کے اور میرے درمیان اللہ تعالیٰ پردہ حائل کردیں گے۔ چناچہ وہ مجلس میں پہنچی مگر رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھ سکی تو حضرت صدیق اکبر ( رض) سے مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ آپ ( رض) کے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے۔ حضرت صدیق اکبر ( رض) نے فرمایا کہ واللہ وہ تو کوئی شعر ہی نہیں کہتے جس میں عادۃً ہجو کی جاتی ہے تو وہ یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ تم بھی ان کی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو۔ اس کے چلے جانے کے بعد حضرت صدیق اکبر ( رض) نے عرض کیا کہ کیا اس نے آپ ﷺ کو نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک وہ یہاں رہی ایک فرشتہ میرے اور اس کے درمیان پردہ کرتا رہا۔ دشمنوں کی نظر سے مستور رہنے کا ایک عمل حضرت کعب ( رض) فرماتے ہیں کو رسول اللہ ﷺ جب مشرکین کی آنکھوں سے مستور ہونا چاہتے تو قرآن کی تین آیتیں پڑھ لیتے تھے۔ اس کے اثر سے کفار آپ ﷺ کو نہ دیکھ سکتے تھے۔ وہ تین آیتیں یہ ہیں، ایک آیت سورة کہف میں ہے یعنی اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَھُوْہُ وَفِیْٓ اِذَا نِھِمْ وَقْرًا۔ دوسری آیت سورة نحل میں ہے : اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَسَمْعِھِمْ وَاَبْصَارِھِمْ ۔ اور تیسری آیت سورة جاثیہ میں ہے : اَفَرَأیْتَ مَنِ اتَّخَدَ اِلٰـھَہٗ ھَوَاہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشَاوَۃً ۔ حضرت کعب ( رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ معاملہ میں نے ملک شام کے ایک شخص سے بیان کیا۔ اس کو کسی ضرورت سے رومیوں کے ملک میں جانا تھا وہاں گیا اور ایک زمانہ تک وہاں مقیم رہا پھر رومی کفار نے اس کو ستایا تو وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔ ان لوگوں نے اس کا تعاقب کیا۔ اس شخص کو وہ روایت یاد آگئی اور مذکورہ تین آیتیں پڑھیں۔ قدرت نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈالا کہ جس راستہ پر چل رہے تھے اسی راستہ پر دشمن گزر رہے تھے مگر وہ ان کو نہ دیکھ سکتے تھے۔ امام ثعلبی کہتے ہیں کہ حضرت کعب ( رض) سے جو روایت نقل کی گئی ہے میں نے رئے کے رہنے والے ایک شخص کو بتائی۔ اتفاق سے ویلم کے کفار نے اس کو گرفتار کرلیا۔ کچھ عرصہ ان کی قید میں رہا پھر ایک روز موقع پا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ یہ لوگ اس کے تعاقب میں نکلے مگر اس شخص نے بھی یہ تین آیتیں پڑھ لیں۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا گیا کہ وہ اس کو نہ دیکھ سکے حالانکہ ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور ان کے کپڑے ان کے کپڑوں سے چھو جاتے تھے۔ امام قرطبی کہتے ہیں کہ ان تینوں کے ساتھ وہ آیات سورة یٰسین کی بھی ملالی جائیں جن کو آنحصرت ﷺ نے ہجرت کے وقت پڑھا تھا جبکہ مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کے مکان کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے یہ آیات پڑھیں اور ان کے درمیان سے نکلتے ہوئے چلے گئے بلکہ ان کے سروں پر مٹی ڈالتے ہوئے گئے ان میں سے کسی کو خبر نہیں ہوئی۔ وہ آیات سورة یٰسین کی ہیں۔ یٰسٓ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ اِنَّکَ لِمَنَ الْمُرْسَلِیْنَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْدِرَاٰبَآئُ ھُمْ فَھُمْ غٰفِلُوْنَ ۔ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلِ عَلٰٓی اَکْثَرِھِمْ فَھُمْ لاَیُوْمِنُوْنَ ۔ اِنَّا جَعَلْنَا فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلاَلاً فَہِیَ اِلٰی الْاَذْقَانِ فَھُمْ مُّقْمَحُوْنَ ۔ وَجَعَلْنَا مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفَھُمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰھُمْ فَھُمْ لاَیُبْصِرُوْنَ ۔ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ مجھے خود اپنے ملک اندلس میں قرطبہ کے قریب قلعہ منثور میں یہ واقعہ پیش آیا کہ میں دشمن کے سامنے بھاگا اور ایک گوشہ میں بیٹھ گیا۔ دشمن نے دو گھوڑے سوار میرے تعاقب میں بھیجے اور میں بالکل کھلے میدان میں تھا کہ کوئی چیز پردہ کرنے والی نہ تھی مگر میں سورة یٰسین کی یہ آیتیں پڑھ رہا تھا۔ یہ دونوں سوار میرے برابر سے گزرے پھر جہاں سے آئے تھے یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ یہ شخص کوئی شیطان ہے کیونکہ وہ مجھے دیکھ نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مجھ سے اندھا کردیا تھا۔ (قرطبی) نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِہٖٓ اِذْیَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْکَ وَاِذْھُمْ نَجْوٰٓی اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلاَّ رَجُلاً مَّسْحُوْرًا۔ اُنْظُرْکَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ فَضُلُّوْا فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 47۔ 48) (ہم خوب جانتے ہیں جس غرض کے لیے یہ اسے سنتے ہیں، جب یہ آپ ﷺ کی طرف کان لگاتے ہیں اور (ہم خوب جانتے ہیں) جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں، اس وقت یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے آدمی کی پیروی کررہے ہو جس پر جادو کردیا گیا ہے۔ دیکھئے یہ کس طرح آپ ﷺ کے لیے مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وہ گمراہ ہوگئے، اب وہ سیدھے راستے پر چل نہیں سکتے۔ ) آنحضرت ﷺ کی باتیں قریش برے ارادوں سے سنتے تھے گزشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ مشرکینِ مکہ اور اشرافِ قریش کبھی قرآن کریم کو سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ان کا حواس اور ان کی عقلیں قرآن پاک سننے سے مائوف ہوگئی ہیں۔ لیکن اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کبھی کبھی بہت کان لگا کر قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی باتوں کو سنتے تھے۔ لیکن یہ ان کا سننا قرآن کریم کی وضاحت کے مطابق ہدایت قبول کرنے کے لیے نہ تھا بلکہ محض اس لیے سنتے تھے تاکہ انھیں کوئی ایسی بات ہاتھ آئے جس سے وہ آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کے خلاف دھول اڑا سکیں، بدگمانیاں پھیلا سکیں اور لوگوں کے ذہنوں کو مسموم کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں اور انھیں باہم مشوروں کا موقع ملتا ہے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ قرآن اور صاحب قرآن کے خلاف کوئی بات بنا سکیں تو پھر اس کے سوا اور وہ کچھ نہیں کہہ پاتے کہ یہ ایک ایسے آدمی کی دعوت ہے جو سحرزدہ ہے۔ یعنی جو اپنے آپ کو پیغمبر کہتا ہے، اس کی اپنی حالت درست نہیں، اس پر کسی نے جادو کردیا ہے اور وہ جادو کے اثرات سے نہ جانے کیا کچھ کہتا رہتا ہے۔ دوسری آیت کریمہ میں اسی بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہزار کوشش کے باوجود انھیں قرآن کریم اور صاحب قرآن کے بارے میں جب کوئی بات ایسی نہیں ملتی جسے وہ پر اپیگنڈے کا موضوع بنا سکیں تو پھر آپ ﷺ کے لیے مختلف مثالیں گھڑنا شروع کردیتے ہیں۔ کبھی آپ ﷺ کو مسحورکہتے ہیں، کبھی مجنون کہتے ہیں، کبھی شاعر کہتے ہیں اور کبھی کاہن کہتے ہیں۔ لیکن جب ان میں سے کوئی بھی سمجھدار آدمی اس پر اعتراض کرتا ہے جیسے ولید بن مغیرہ کے بارے کہا جاتا ہے کہ جب اس کے سامنے اس طرح کی باتیں کہی گئیں تو اس نے کہا کہ ہم شعر کے تمام اصناف سے واقف ہیں۔ قرآن کریم نہ شعر ہے اور نہ محمد ﷺ شاعر ہیں۔ کاہنوں کی بھی ہم نے باتیں سنی ہیں۔ آپ ﷺ میں کاہنوں والی بھی کوئی بات نہیں۔ آپ ﷺ کی ذہانت و فطانت کا مکہ بھر میں کوئی جواب نہیں تو انھیں مجنون کیسے کہا جاسکتا ہے، تو تمام اشراف اس کے پیچھے پڑگئے کہ پھر تم ہی بتائو ہم اسے کیا کہیں ؟ تو اس نے بہت سوچ سمجھ کے جواب دیا، کہ اور تو کوئی بات کہنا مشکل ہے البتہ تم اسے مسحور، یعنی سحرزدہ کہہ سکتے ہو۔ یعنی یہ ایک ایسی بات ہے جو کسی کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ اس لیے کہ اس کی کوئی ظاہری علامتیں تو ہوتی نہیں۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مخالفین کسی ایک الزام پر متفق نہیں۔ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی شخصیت کے سامنے وہ اپنے آپ کو بےبس محسوس کرتے ہیں۔ گمراہی سے نکلنا نہیں چاہتے اور مخالفت میں ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں۔ اس لیے مجبوراً جو جی میں آتا ہے کہہ گزرتے ہیں لیکن جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام آہستہ آہستہ اپنا راستہ بنا رہا ہے تو پھر جب کسی پر شبہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اسلام سے متاثر ہورہا ہے تو آخری یہی بات اسے سمجھانے کے لیے کہی جاتی تھی کہ یہ تو ایک سحرزدہ شخص کی باتیں ہیں جن سے تم متاثر ہورہے ہو۔ یہ گویا ایک ایسے ذہن کی کہانی ہے جسے مخالفت نے بالکل اندھا کردیا ہے اور مخالفت کے بےاثر ہونے نے اسے پاگل بنادیا ہے۔ ان میں سے ہر شخص مخالفت کرنا چاہتا ہے لیکن مخالفت کا طریقہ سجھائی نہیں دیتا۔ سب مل کر باہمی مشاورت سے بھی کسی ایک بات پر جمع نہیں ہو پاتے تو ایسے لوگوں سے بجائے سر مارنے کے یہ بہتر ہے کہ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ وہ وقت دور نہیں جب حقیقت ان کے سامنے کھل کر آجائے گی۔
Ayah 17:49

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جب ہم ہڈیاں اور چورا چورا ہوجائیں گے تو ہم ازسرنو اٹھائے جائیں گے۔

وَقَالُوْٓائَ اِذَا کُنَّا عِظَامًاوَّرُفَا تًائَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 49) (اور کہتے ہیں کہ جب ہم ہڈیاں اور چورا چورا ہوجائیں گے تو ہم ازسرنو اٹھائے جائیں گے۔ ) مشرکین کا اصل مرض پیچھے ہم پڑھ چکے ہیں کہ مشرکین کا اصل مرض آخرت کا انکار تھا۔ انھیں اس بات میں سخت استبعاد معلوم ہوتا تھا کہ جب ہم فنا کی گھاٹ اتر جائیں گے اور ہمیں لحد میں اتار دیا جائے گا تو ایک مدت کے بعد یقینا زمین ہمارے جسموں کو کھاجائے گی اور ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو ہمیں کس طرح ازسرنو زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔ ہمارا جسم نہ جانے مٹی کی کس تہہ میں مٹی بن کر شامل ہوچکا ہوگا۔ دوبارہ زندگی کس قالب میں ڈالی جائے گی : اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا مذہب کے نام پر محض خیالی تصورات پر اصرار کرنا یہ تو کوئی اچھی بات نہیں، انھیں نہ جانے ہمیں ماننے پر کیوں مجبور کیا جارہا ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ یہی زندگی حقیقی زندگی ہے، یہیں کی خوشیاں اور غم اپنی آخری حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد کسی زندگی کا تصور خام خیالی کے سوا کچھ نہیں، ایسے سراب کی پیچھے بھاگنے کی کیا ضرورت ہے جو نہ عقل کی گرفت میں آتا ہے اور نہ اس کی کوئی توجیہ ممکن ہے۔ پروردگار نے دوسری آیت میں اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
Ayahs 17:50–51

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

کہہ دیجیے کہ تم پتھر بن جائو یا لوہا،

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور مخلوق جو تمہارے خیال میں ان سے بھی سخت ہو، پھر وہ کہیں گے کہ ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا، کہہ دیجیے، وہی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا، پھر وہ آپ ﷺ کے آگے سر ہلائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کب ہوگا ؟ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ عجب نہیں کہ اس کا وقت قریب ہی آپہنچا ہو۔

قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْحَدِیْدًا۔ اَوْخَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُفِیْ صُدُوْرِکُمْ ج فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا ط قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اََوَّلَ مَرَّۃٍ ج فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْکَ رُئُ وْسَہُمْ وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھُوَ ط قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ قَرِیْبًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 50۔ 51) (کہہ دیجیے کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا، یا کوئی اور مخلوق جو تمہارے خیال میں ان سے بھی سخت ہو، پھر وہ کہیں گے کہ ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا، کہہ دیجیے، وہی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا، پھر وہ آپ ﷺ کے آگے سر ہلائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کب ہوگا ؟ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ عجب نہیں کہ اس کا وقت قریب ہی آپہنچا ہو۔ ) بعث بعدالموت پر دلیل تم یہ سمجھتے ہو کہ جب ہم بوسیدہ ہڈیاں اور چورا چورا ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اس لیے زندہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بوسیدہ ہڈیاں یا ہڈیوں کا چورا زندگی کو قبول نہیں کرسکتا۔ پروردگار فرماتا ہے کہ تم اگر پتھر یا لوہا بھی ہوجاؤ یا اس سے بھی کوئی سخت چیز جس کے بارے میں تمہارا گمان ہو کہ وہ زندگی کو بالکل قبول نہیں کرسکتی تو یاد رکھو تمہیں پھر بھی دوبارہ زندہ ہونا ہوگا۔ وہ حیران ہو کر یا ازرہ استہزاء کہیں گے کہ ہمیں کون زندہ کرے گا ؟ ان کے خیال میں بوسیدہ ہڈیوں یا ہڈیوں کے چورے میں دوبارہ زندگی کا پیدا کیا جانا ایک ناممکن سی بات ہے تو ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں وہی پیدا کرے گا جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ تمہاری خودفریبی کا سبب یہ ہے کہ تم صرف یہ دیکھ رہے ہو کہ ہر مخلوق مرنے کے بعد مکمل طور پر فنا ہوجاتی ہے۔ یعنی مٹی بن کر گل سڑ جاتی ہے۔ اب اس میں دوبارہ زندگی کا پیدا ہونا ایک ناممکن بات ہے۔ لیکن تم یہ نہیں سمجھتے کہ جب تمہیں پہلی مرتبہ پروردگار عدم سے وجود میں لایا تو تمہارا نام و نشان تک نہ تھا۔ اب جبکہ تم دنیا میں زندگی گزار کے گئے ہو تو تمہارا ایک نام تو ہے، تمہارے آثار بھی ہیں، تمہیں تو نہیں معلوم لیکن اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ تمہاری ریڑھ کی ہڈی کے بقیہ اجزاء کہاں ہیں۔ تم چاہے انھیں کیسا بھی گیا گزرا سمجھو اور اس میں اور زندگی میں کیسا بھی استبعاد محسوس کرو لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے ایسی کوئی چیز مانع نہیں ہوسکتی۔ وہ چاہے تو سراب میں حباب اٹھا سکتا ہے، وہ چاہے تو سمندر کو ایک لمحہ میں پایاب بنا سکتا ہے۔ اس کی قدرت سے قومیں فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہیں اور مردہ زمین بارش کے چند چھینٹوں سے زندہ ہوجاتی ہے۔ اور اس کے حیات بخش پیغام سے قومیں ازسرنو زندگی کا پیغام لے کر اٹھتی ہیں اور تاریخ میں اپنا نام چھوڑ جاتی ہیں۔ تمہیں جب تک اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یقین نہیں آئے گا اس وقت تک قیامت تمہارے لیے ایک پہیلی بنی رہے گی۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کا جواب سن کر مذاق کے طور پر سر ہلائیں گے اور خندہ استہزاء کے ساتھ پوچھیں گے کہ اچھا کب آئے گا وہ لمحہ، جب قیامت آئے گی، تو اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ ممکن ہے کہ وہ لمحہ قریب ہی آلگا ہو لیکن میں اس کے بارے میں تعین سے کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس کے وقوع کا یقینی علم نہیں دیا، لیکن تم یہ بتائو کہ اگر کسی چیز کے بارے میں یہ تو معلوم ہو کہ وہ ہو کے رہے گی لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کب ہوگی تو کیا اس کا انکار کردیتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو تم اپنی موت کا انکار کیوں نہیں کردیتے۔ کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ موت آئے گی لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ اس کی موت کا وقت کون سا ہے۔ محض وقت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کوئی شخص اپنی موت کا انکار نہیں کرتا، تو تم قیامت کا انکار کیسے کرسکتے ہو۔ رہی یہ بات کہ تم یہ کہو کہ ہمیں تو قیامت کے آنے کا یقین ہی نہیں تو اس کا کوئی علاج کسی کے پاس نہیں کیونکہ یہ ایسا علم ہے جس پر عقل تو شہادت دیتی ہی ہے، اخلاق بھی پکار پکار کر کہتے ہیں کہ قیامت کا آنا تکمیلِ اخلاق کے لیے انتہائی ضروری ہے لیکن اس کے علاوہ دنیا کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کبھی کوئی پیغمبر اہل دنیا کی اصلاح کے لیے آیا ہے اس نے قیامت کے آنے کی خبر ضرور دی ہے اور ہر قوم نے دوسری قوم تک اس صداقت کی امانت کو منتقل کیا ہے۔ افراد کی شہادتیں بعض دفعہ پایہ ٔ ثبوت سے گر جاتی ہیں لیکن اقوام کی شہادتوں کا انکار کرنا اپنے وجود کے انکار کے مترادف ہے۔
Ayah 17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں پکارے گا، تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کرو گے، اور تم یہ گمان کرو گے کہ تم نہیں رہے (دنیا اور برزخ میں) مگر تھوڑی سی مدت۔

یَوْمَ یَدْعُوْکُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِہٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 52) (جس دن وہ تمہیں پکارے گا، تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کرو گے، اور تم یہ گمان کرو گے کہ تم نہیں رہے (دنیا اور برزخ میں) مگر تھوڑی سی مدت۔ ) پروردگار براہ راست کفار سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ آج جبکہ تم نبی کریم ﷺ کی بات سننے کے روادار نہیں ہو اور قرآن کریم سے رخ پھیر لیتے ہو اور تمہاری اکڑ روزبروز بڑھتی جارہی ہے، اس وقت کیا کرو گے جب قیامت کے دن حضرت اسرافیل کے واسطے سے یا براہ راست اللہ تعالیٰ تمہیں آواز دے گا کہ قبروں سے نکلو اور محشر میں پہنچ جاؤ۔ تو تم سب زندہ ہو کر میدانِ حشر میں اس طرح پہنچو گے کہ تمہاری زبانوں پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا ہوگی۔ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِہٖ ۔ استجابت کے معنی کسی کے بلانے پر حکم کی تعمیل کرنا اور حاضر ہونا ہے۔ کفار سے کہا جارہا ہے کہ تمہیں قیامت کے دن جب بلایا جائے گا تو آج جبکہ تم کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہو، اس وقت فوراً تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو گے۔ اور مزید یہ کہ صرف تعمیل ہی نہیں کرو گے بلکہ تمہاری زبانوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا جاری ہوگی۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مسلم اور غیرمسلم کا کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔ سب اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے ہوئے محشر کی طرف بڑھیں گے۔ امامِ تفسیر حضرت سعید بن جبیر ( رح) نے فرمایا کہ کفار بھی اپنی قبروں سے نکلتے وقت سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِکَ کے الفاظ کہتے ہوئے نکلیں گے، مگر اس وقت کا حمد و ثنا انھیں کوئی نفع نہیں دے گا کیونکہ جب مرنے کے بعد زندگی دیکھیں گے تو غیراختیاری طور پر ان کی زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کے الفاظ نکلیں گے۔ وہ کوئی ایسا عمل نہیں ہوگا جس پر جزا مرتب ہو۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ حمدوثنا صرف صاحب ایمان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ کافروں کے بارے میں تو قرآن کریم نے بتایا ہے کہ جب وہ قیامت کے دن اٹھیں گے تو یہ کہتے ہوئے اٹھیں گے کہ ہائے ہماری قسمت، ہمیں کس نے قبر سے زندہ کر اٹھایا۔ لیکن ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قبروں سے نکلتے وقت تو سب اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں گے، لیکن جب کافروں کو مومنوں سے الگ ہونے کا حکم دیا جائے گا تو اس وقت ان کی زبانوں سے وہ کلمات بھی نکلیں گے جس کا قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے۔ امامِ قرطبی فرماتے ہیں کہ قبروں سے اٹھتے ہوئے بھی لوگ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں گے اور سب معاملات کا خاتمہ بھی حمد پر ہوگا۔ اور جب اہل محشر کے اعمال کا فیصلہ کردیا جائے گا تو سب کی زبانوں پر اللہ رب العالمین کی حمد جاری ہوجائے گی۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

(اور ( اے پیغمبر۔ ) آپ ﷺ میرے بندوں کو حکم دیجیے کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہتر ہوں، بیشک شیطان ان کے درمیان وسوسہ اندازی کرتا ہے، یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

وَقُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَہُمْ ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِـلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 53) (اور ( اے پیغمبر۔ ) آپ ﷺ میرے بندوں کو حکم دیجیے کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہتر ہوں، بیشک شیطان ان کے درمیان وسوسہ اندازی کرتا ہے، یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ ) مخالفتوں کے ہجوم میں مسلمانوں کو صبر کی تلقین گزشتہ آیات سے یہ بات تو بالکل واضح ہوگئی ہے کہ مشرکینِ مکہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی مخالفت میں انتہائوں کو چھونے لگے تھے۔ قرابت یا مروت کی پاسداری ایک افسانہ بن چکی تھی۔ قریش جو ہمیشہ خونی رشتوں اور ہمسائیگی کے تعلقات کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اب ان میں سے ہر رشتے کو نظرانداز کرچکے تھے۔ ادھر اہل کتاب بھی اس نئے آنے والے دین کی طرف سے بےفکر نہ تھے۔ انھیں جب بھی موقع ملتا وہ قریش کی پیٹھ ٹھونکتے تھے۔ آیت نمبر 47 سے اندازہ ہوچکا ہے کہ ان کی زبانیں پوری طرح بےروک ہوچکی تھیں اور طنزوتعریض کے نشتر مکمل بےرحمی کے ساتھ اپنے جوہر دکھا رہے تھے۔ ایسی فضا میں دو باتوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ایک تو یہ کہ مسلمان جب اپنے آپ کو مسلسل مصائب کا ہدف دیکھیں تو ان کے اندر نفسیاتی عوارض پیدا ہونے لگیں جس کے نتیجے میں وہ بجائے یکسوئی کے ساتھ مخالفتوں کا سامنا کرنے کے ایک دوسرے سے الجھنے لگیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ مصیبت ایک وقت میں انسانوں کو اکٹھا بھی کرتی ہے اور پھر ایک دوسرے سے بدگمان بھی کرتی ہے۔ مسلمانوں کے سروں پر اگرچہ اللہ تعالیٰ کا سایہ تھا اور ایک عظیم قیادت کی رفاقت انھیں میسر تھی، تاہم کسی نہ کسی نفسیاتی عارضہ کا شکار ہونا ناممکن نہ تھا۔ اس لیے ایک تو اس طرف توجہ دلانا ضروری تھا اور دوسری یہ بات کہ مخالفتوں کے ردعمل میں اس بات کا بھی امکان تھا کہ صبر اور ضبط کا دامن کبھی کبھی مسلمانوں کے ہاتھ سے چھوٹنے لگے۔ جب مکہ کے رہنے والے مکہ کے ان باسیوں سے توہین آمیز سلوک کرنے لگیں جن کا قصور اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین پر ایمان لا چکے ہیں اور اپنے تمام رشتوں کو طاق نسیاں پر رکھ دیں اور اس سے بھی بڑی بات یہ کہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں شرم اور وضع داری کا ہر رشتہ کاٹ دیں۔ ایسی صورتحال میں ان کی طنز و تعریض کے جواب میں مسلمان بھی جواب دینے کی کوشش کرنے لگیں اور کبھی کبھی ان کی مخالفتوں کا نوٹس بھی لیا جانے لگے۔ چناچہ اس سے پہلے کہ مسلمان اس کیفیت سے دوچار ہوں پروردگارِ عالم نے اپنی کتاب کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ میرے بندوں کے پابند کریں کہ مخالفین چاہے کچھ بھی کہیں اور وہ کیسی بھی غلط اور نازیبا باتیں کریں، آپ ﷺ کو ان کے جواب میں بہتر، جائز اور مستحسن بات کے سوا کچھ نہیں کہنا چاہیے۔ ممکن ہے اس سے آپ ﷺ کے جوشِ حمیت کو کچھ تسکین ملے، لیکن اس سے تبلیغ و دعوت کی روح کا مجروح ہونا بالکل سامنے کی بات ہے۔ مخالف ہمیشہ ایسی بات کہتا ہے جسے سننے والے کے لیے برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا، لیکن اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ میری بات سے کسی کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے، دلآزاری ہوتی ہے، بدنامی ہوتی ہے یا رشتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ لیکن اگر ایسی ہی بات مبلغ کے منہ سے نکل جائے اور ایسی ہی کوئی حرکت داعی سے سرزد ہوجائے تو مخالفین اسے نہ صرف کہ برداشت نہیں کرتے بلکہ اسے دعوت کی کمزوری کے لیے استعمال کرتے اور دعوت کی بدنامی کا باعثبنا دیتے ہیں۔ تبلیغ و دعوت کی کامیابی کا راستہ ہمیشہ صبر، عفو و درگزر اور اعلیٰ اخلاق کے اندر سے گزرتا ہے۔ شیطان چونکہ سب سے زیادہ دین کا دشمن ہے کیونکہ اس کی زندگی ہدف ہی یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے آستانے سے دور رکھا جائے۔ اس لیے اس کا سب سے بڑا نشانہ مبلغ اور داعی اِلیٰ اللہ ہوتا ہے۔ جب لوگ اس کی توہین کرتے ہیں اور اس کو اذیت پہنچاتے ہیں تو وہ اس کے دل میں ایک ردعمل اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے بار بار حمیت کا درس دیتا ہے اور ہر طرح کی زیادتی پر چپ رہنے کو کمزوری قرار دیتا ہے۔ چناچہ اس صورتحال کی طرف توجہ دلانے کے لیے فرمایا کہ شیطان تمہارے دلوں میں وسوسہ اندازی کرے گا۔ وہ کبھی تمہیں دشمن سے لڑائے گا اور کبھی تمہارے اپنے اندر اختلافِ رائے پیدا کرے گا تاکہ تمہاری ہم آہنگی اور یکسوئی کو نقصان پہنچے۔ اور دشمن کو تمہارے ردعمل کا بہانہ بنا کر اسلام پر برہنہ تنقید کا موقع ملے۔ اس لیے تمہیں یہ بات کبھی ذہن سے نکالنی نہیں چاہیے کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ وہ ہر طرح سے کوشش کرے گا کہ تمہیں تمہارے راستے سے ہٹائے اور تمہاری منزل تم سے دور کردے۔ اس لیے تمہیں دعوت اِلیٰ اللہ کا کام کرتے ہوئے پوری طرح بیدار رہنا ہوگا۔
Ayah 17:54

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے، اگر چاہے تو تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تو تم کو عذاب دے، اور ہم نے آپ ﷺ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔

رَبُّـکُمْ اَعْلَمُ بِکُمْ ط اِنْ یَّشَایَرْحَمْکُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْکُمْ ط وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ عَلَیْھِمْ وَکِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 54) (تمھارا رب تمہیں خوب جانتا ہے، اگر چاہے تو تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تو تم کو عذاب دے، اور ہم نے آپ ﷺ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ ) حکمتِ تبلیغ گزشتہ آیت کریمہ میں پروردگار نے آنحضرت ﷺ کے واسطے سے مسلمانوں کو جو ہدایت جاری فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو مخالفین کی باتوں اور اذیتوں سے اثر لینے اور اس پر کسی ردعمل کا اظہار کرنے کی بجائے اپنی ساری توجہ تبلیغ و دعوت پر مرکوز رکھنی چاہیے۔ آپ کو ہر بات کہنے اور ہر کام کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کا تبلیغ و دعوت پر کیا اثر پڑے گا اور غیرمسلم قبولیتِ ایمان کے سلسلے میں اس سے کیا اثر لیں گے۔ چناچہ اس ہدایت کا اثر یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ اور مسلمان پہلے سے بھی بڑھ کر غیرمسلموں کے ایمان کے لیے بےچین رہنے لگے۔ رات دن دھیان اسی بات کا رہنے لگا کہ کس طرح ان کفار کو اسلام کی آغوش میں لایا جائے۔ ایسا کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ ان کے دل اس کے لیے کھل جائیں۔ اس وارفتگی اور شیفتگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جیسے جیسے کافروں کی مخالفتیں بڑھنے لگیں، ویسے ویسے مسلمانوں کی فکرمندی اور دل گرفتگی میں اضافہ ہونے لگا۔ چناچہ مسلمانوں کو ان کی تبلیغ و دعوت کی آخری حد واضح کرنے کے لیے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا کہ کسی شخص کو اسلام کی دولت نصیب ہوگی یا نہیں اور کوئی اس بدنصیبی میں دنیا سے چلا جائے گا اور جو شخص اسلام کی آغوش میں آچکا ہے وہ واقعی اس میں ثابت قدم رہے گا۔ اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کسی شخص کی ہٹ دھرمی دیکھ کر آپ اس کی طرف سے مایوس نہ ہوں۔ آپ کو اپنا کام جاری رکھنا چاہیے اور نہ آپ دل گرفتہ ہوں، کیونکہ جو شخص اس وقت آپ کی دعوت کو قبول نہیں کررہا ہے، ضروری نہیں کہ وہ کبھی بھی قبول نہ کرے۔ آنحضرت ﷺ چونکہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے تھے اس لیے آپ ﷺ سے خاص طور پر فرمایا کہ آپ ﷺ کو اس بات کا ذمہ دار بنا کر تو نہیں بھیجا گیا کہ یہ لوگ ضرور ایمان لائیں، ورنہ آپ ﷺ سے جواب طلب کیا جائے گا۔ آپ ﷺ اپنی مساعی جاری رکھئے اور ان کا انجام اللہ تعالیٰ پر چھوڑیئے۔
Ayah 17:55

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور ہم نے بعض نبیوں ( علیہ السلام) کو بعض پر فضیلت دی ہے اور ہم نے دائود کو زبور عطا فرمائی۔

وَرَبُّـکَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰی بَعْضٍ وَّاٰ تَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 55) (اور آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور ہم نے بعض نبیوں ( علیہ السلام) کو بعض پر فضیلت دی ہے اور ہم نے دائود کو زبور عطا فرمائی۔ ) تفضیلِ انبیاء میں صحیح نقطہ نظر مذہبی مباحث میں عام طور پر جس بات سے بحث میں گرمی پیدا ہوجاتی ہے وہ ہر گروہ کا اپنے مقتدائوں کو سب پر فضیلت دینا ہوتا ہے، جس گروہ نے جسے اپنا رہنما اور پیشوا بنا لیا ہے اور یا وہ اسے نبی سمجھ کر اس پر ایمان لے آبا ہے تو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ میں اسے تمام رہنمائوں پر فضیلت دوں اور تمام انبیائے کرام سے اسے برتر ثابت کروں۔ مشرکینِ مکہ اگرچہ اپنے بتوں کے بارے میں خاصے حساس تھے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو سب سے افضل مانتے تھے لیکن عموماً اس طرح کی بحثیں یہودی اٹھاتے تھے۔ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر چند پیغمبروں کو باقی سب سے افضل سمجھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے جب نبوت کا دعویٰ فرمایا تو اولاً تو انھیں آپ ﷺ کے دعویٰ ہی سے انکار تھا پھر جب معراج جیسے واقعات ان کے سامنے آئے اور انھیں اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو کیسے کیسے مراتب سے نوازا ہے تو انھوں نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں توہین آمیز رویہ اختیار کرلیا اور بار بار مسلمانوں کو اس بحث میں گھسیٹنے لگے کہ کہاں وہ اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر ( علیہ السلام) جن کو دنیا مانتی ہے اور کہاں یہ صاحب جو نبوت کا دعویٰ کررہے ہیں، ان کا ان سے کیا تعلق۔ مسلمانوں کو یقینا ان باتوں سے تکلیف ہوتی اور وہ کچھ نہ کچھ کہنے پر مجبور ہوجاتے۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے اصولی بات فرمائی کہ آج دنیا میں سوائے نبی کریم ﷺ کے اور کوئی اللہ تعالیٰ کا نبی ( علیہ السلام) موجود نہیں۔ جو صدیوں پہلے گزر چکے ہیں تم ان کے بارے میں جو چاہو رائے رکھو، لیکن تم براہ راست ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، لیکن اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کو خوب جانتا ہے۔ آسمان میں اس کی پاکیزہ مخلوق فرشتے ہیں تو وہ ان کے بارے میں اور ان کے مقامات کے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہے۔ اسی طرح زمین پر اس نے ایک سے ایک بڑھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) بھیجے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس وقت کی دنیا کا امام بنایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف ہم کلامی بخشا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بینات عطا فرمائے اور حضرت دائود (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان تمام کے مقامات و مراتب سے آگاہ ہے۔ مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے جس پیغمبر ( علیہ السلام) کو جو مقام دیا ہے تم اسے بیان کرو۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کو جو اعلیٰ مقامات عطا فرمائے ہیں، ان کا بھی ذکر کرو، لیکن کسی سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ آخر میں حضرت دائود (علیہ السلام) کو زبور دیے جانے کا بطورخاص تذکرہ فرمایا ہے۔ اس کی دو وجہ ذہن میں آتی ہیں۔ (والعلم عنداللہ) پہلی وجہ تو یہ ہے کہ زبور آسمانی کتابوں میں واحد کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے منظوم نازل فرمایا۔ اور حضرت دائود (علیہ السلام) کو لحن دائودی عطا کیا۔ چناچہ جب آپ ( علیہ السلام) زبور پڑھتے تے تو پہاڑ آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور پرندے اس سے مسحور ہو کر گرنا شروع کردیتے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) بادشاہ تھے اور بادشاہ بالعموم مذہب سے کوئی گہرا رشتہ نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ کی کتابوں سے ان کی دلچسپی واجبی سی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کا انھیں ایک ایسی کتاب سے نوازنا جو ذکر اللہ کا باعث بن گئی اور آپ ( علیہ السلام) صبح و شام پہاڑوں میں اسے ترنم سے پڑھتے تھے۔ اس بات کے ضمن میں درحقیقت قریش مکہ کے ایک اعتراض کا جواب دینا بھی مقصود تھا۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ محمد ﷺ کیسے پیغمبر ہیں کہ جو کھاتے پیتے بھی ہیں، بیوی بچے بھی رکھتے ہیں، کاروبار بھی کرتے ہیں، بازار میں آنا جانا بھی ہے، خود ہی اشیائے خوردونوش خرید کر گھر لے جاتے ہیں، یہ کام اللہ والوں کے تو نہیں ہوتے۔ وہ تو ایک کونے میں پڑے یاد خداوندی میں مصروف رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلاتے ضرور ہیں لیکن دنیا سے انھیں کوئی رغبت نہیں ہوتی اور ان کی ضروریات عام انسانوں کی ضروریات سے بالکل الگ ہوتی ہیں۔ پروردگار نے آخری جملے میں ارشاد فرمایا کہ یہود تو حضرت دائود (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا پیغمبر مانتے ہیں اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان پر زبور نازل ہوئی تھی حالانکہ وہ بادشاہ تھے اور مملکت کا کاروبار چلاتے تھے۔ تمہیں آنحضرت ﷺ کے ایک گھر چلانے پر اعتراض ہے، تو ان کا مملکت کا کاروبار چلانے پر اعتراض کیوں نہیں۔
Ayah 17:56

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے ! کہ پکارو ان کو جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود گمان کر رکھا ہے۔ وہ تو قدرت نہیں رکھتے، تم سے تکلیف دور کرنے کی اور نہ اسے ٹالنے کی۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ فَلاَ یَمْلِکُوْنَ کَشْفَ الضُّرِّعَنْکُمْ وَلاَ تَحْوِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 56) (اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے ! کہ پکارو ان کو جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود گمان کر رکھا ہے۔ وہ تو قدرت نہیں رکھتے، تم سے تکلیف دور کرنے کی اور نہ اسے ٹالنے کی۔ ) اوپر کی آیات جملہ ہائے معترضہ تھیں، اب پھر توحید کے مضمون کو جہاں سے چھوڑا تھا وہیں ملایا جارہا ہے۔ مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ تم جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو، انھیں پکارو، پھر دیکھو وہ تمہاری پکار کا جواب دیتے ہیں اور تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ اور اگر وہ تمہارے پکارنے پر تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتے اور تم سے کسی تکلیف کا ازالہ نہیں کرسکتے حتیٰ کہ اسے ٹال تک نہیں سکتے تو پھر تم نے انھیں اللہ تعالیٰ کا شریک کس مقصد کے لیے بنا رکھا ہے۔ علامہ قرطبی نے اس کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب قریش کو قحط میں مبتلا کردیا گیا تو انھوں نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر فریاد کی اور اپنی خستہ حالی کا تذکرہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے دریافت کریں کہ جن معبودوں کی پرستش اور عبادت کرتے ہیں ان سے جا کر فریاد کیوں نہیں کرتے۔ پھر خود ہی بتادیا کہ وہ بےچارے خود بےبس ہیں۔ اس مشکل وقت میں وہ تمہاری کوئی امداد نہیں کرسکتے۔ سوچنے کی بات ہے کہ جو خدا مشکل میں کام نہ آئے اور جو معبود مصیبت کو دور نہ کرے اس کی پوجا کرنے سے کیا حاصل۔ دو باتیں آیت میں تدبر سے کام لیا جائے تو دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ جس طرح غیر اللہ کو سجدہ کرنا اور اس کی پوجا پاٹ کرنا شرک ہے۔ اسی طرح غیر اللہ سے استمداد اور استعانت اور انھیں مدد کے لیے پکارنا بھی شرک ہے۔ دونوں میں عبادت ہونے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حق صرف اپنے لیے مخصوص رکھا ہے کہ اسی کو سجدہ کیا جائے، اسی کے سامنے دست سوال پھیلایا جائے اور اسی کو غیب میں پکارا جائے۔ دوسری یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ غیر اللہ سے مراد صرف بت نہیں بلکہ وہ تمام قوتیں اور تمام شخصیتیں ہیں جنھیں لوگ ہمیشہ عبادت یا استمداد کے لیے پکارتے رہے۔ چاہے وہ بت ہوں، چاہے وہ گزرے ہوئے بزرگ جن کی عقیدت میں لوگوں نے ان کے مجسمے بنا لیے، چاہے وہ فرشتے ہوں اور چاہے وہ مظاہر فطرت ہوں۔ ان کے ساتھ وہ معاملہ کرنا جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کیا جاتا ہے بہر صورت شرک ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور دوسروں میں یہ فرق ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے دعا چاہی جاتی ہے کیونکہ وہ بارگاہِ الٰہی میں تقرب کی وجہ سے عزت کیے جاتے ہیں اور ان کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور یا بعض لوگوں کے نزدیک ان کی برکت سے دعا مانگی جاسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ان کی بندگی اور اطاعت کا لحاظ فرماتے ہوئے ان کی برکت کی لاج رکھتی ہے۔
Ayah 17:57

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

جن کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کے قرب کی طلب میں سرگرم ہیں کہ ان میں سے کون سب سے زیادہ قرب حاصل کرتا ہے، اور وہ اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، بیشک آپ ﷺ کے رب کا عذاب چیز ہی ڈرنے کی ہے۔

اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ وَیَرْجُوْنَ رَحْمَتَہٗ وَیَخَافُوْنَ عَذَابَہٗ ط اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 57) (جن کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کے قرب کی طلب میں سرگرم ہیں کہ ان میں سے کون سب سے زیادہ قرب حاصل کرتا ہے، اور وہ اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، بیشک آپ ﷺ کے رب کا عذاب چیز ہی ڈرنے کی ہے۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ مشرکینِ عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھتے تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ دنیا کی مشکلات میں بھی وہ بیٹیاں ہمارے کام آتی ہیں اور اگر واقعی قیامت ہوئی تو وہاں بھی وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گی۔ وہ انسانوں پر قیاس کرتے ہوئے یہ گمان کرتے تھے کہ جس طرح بیٹیاں ضد کرکے اپنے باپ سے اپنی بات منوا لیتی ہیں، اسی طرح ہم جیسے بھی ہیں فرشتے بیٹیاں ہونے کی حیثیت سے ضد کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرلیں گے اور ہمیں اس کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی طرف اشارہ کرکے فرماتے ہیں کہ نادانوں تم جن کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جو چاہے منوا سکتے ہیں، گویا کہ پروردگار ان کی بات یا ان کی ضد کے سامنے مجبور ہوجاتا ہے حالانکہ تمہیں معلوم نہیں کہ فرشتے باوجود اس کے کہ اپنی خلقت اور سرشت کے اعتبار سے پاکیزہ اور معصوم واقع ہوئے ہیں، لیکن ان میں سے ہر ایک اپنی بندگی، اطاعت اور کارگزاری کے باعث اللہ تعالیٰ کا قرب ڈھونڈنے کی فکر میں رہتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس کی اطاعت بجا لاتے ہیں اور اسی کو بارگاہِ ایزدی میں ذریعہ بنا کر تقرب کی تلاش کرتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے وہ اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور معصوم ہونے کے باوجود ہر وقت اپنے رب کے عذاب سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور اس کی بےنیازیوں سے ڈرتے ہیں اور یہ ڈرنا کوئی بےجا بھی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب چیز ہی ایسی ہے جس سے ڈرا جانا چاہیے۔ اس کی مخلوقات میں جو چیزیں تکلیف پہنچا سکتی ہیں، انسان ابھی تک ان کی تکلیف اور ضرررسانی سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں کرسکا۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان میں زور پیدا ہوتا ہے تو انسان کے سارے تحفظات دھرے رہ جاتے ہیں۔ سیلاب آتا ہے تو بند ٹوٹ جاتے ہیں، آگ پھیلتی ہے تو فائربریگیڈ کام نہیں کرتے، زمین پھٹتی ہے تو ہمارے تمام اسباب تحفظ کی بجائے اس میں دھنس جاتے ہیں۔ چہ جائیکہ وہ تکلیف جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب بن کے آئے اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ لیکن مشرکین یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے خدا کے علاوہ کوئی اور بھی بچا سکتا ہے، اس سے بڑی کوئی بھول نہیں ہوسکتی۔
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی بستی مگر ہم اس کے ہلاک کرنے والے ہیں قیامت کے دن سے پہلے یا اس کو عذاب دیں گے، شدید عذاب، یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔

وَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلاَّ نَحْنُ مُھْلِکُوْھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ اَوْمُعَذِّبُوْھَا عَذَابًا شَدِیْدًا ط کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 58) (اور نہیں ہے کوئی بستی مگر ہم اس کے ہلاک کرنے والے ہیں قیامت کے دن سے پہلے یا اس کو عذاب دیں گے، شدید عذاب، یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ ) عذاب سے متعلق سنت اللہ گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جواب میں مشرکین آپ ﷺ سے بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ ان کے جواب میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا نزول لوگوں کے مطالبے پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایک قانون ہے، جب قانون اس کا تقاضا کرتا ہے تو عذاب نازل ہوجاتا ہے۔ جب اہل دنیا اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی بندگی سے بالکل آزاد کردیتے ہیں اور ان کا ہر رشتہ اللہ تعالیٰ کے آستانے سے کٹ جاتا ہے جس کے نتیجے میں اقدارِ انسانیت رفتہ رفتہ دم توڑنے لگتی ہیں۔ انسانی بستیاں درندوں کے بھٹ بن جاتی ہیں اور انسانوں کی شکل میں زمین پر ایک ایسی مخلوق وجود میں آتی ہے جو انسان کہلانے کے باوجود حیوانوں سے بدتر ہوتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنا رسول ( علیہ السلام) بھیجتا ہے اور رسول ( علیہ السلام) کی رہنمائی کے لیے کتاب نازل فرماتا ہے۔ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) پر ایمان لے آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں برسنا شروع ہوجاتی ہیں اور زمین پر انسانیت اور بندگیِ رب کی بہار آجاتی ہے لیکن اگر انسان اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) پر ایمان لانے کی بجائے اس کی تکذیب پر تل جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ اسے برداشت کرنے سے بھی انکار کردیتے ہیں تو اب ان کے اعمال یقینا اس بات کا تقاضہ کررہے ہوتے ہیں کہ انھیں فنا کردیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت انھیں بار بار سنبھلنے کا موقع دیتی ہے۔ بگڑے ہوئے لوگ اللہ تعالیٰ کے نبیوں ( علیہ السلام) کو پریشان کرنے کے لیے بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں بلکہ وہ ایک طرح سے ان کی چڑ بنا لیتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ انھیں مہلت پہ مہلت دیے چلا جاتا ہے کہ شاید یہ لوگ اس مہلت سے فائدہ اٹھائیں۔ اس آیت کے شان نزول میں بھی کہا گیا ہے کہ اشرافِ قریش اکٹھے ہو کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر ہمارے چند مطالبات تسلیم کرلیے جائیں تو ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ مطالبات کیا ہیں ؟ انھوں نے کہا مکہ معظمہ کے تمام نشیبی علاقوں کو ہموار کردیا جائے تاکہ ہم اس میں کھیتی باڑی کرسکیں، پہاڑوں کو سونے کا بنادیا جائے، یہ پوری وادی ایک چمن میں تبدیل کردی جائے۔ اسی دوران حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حاضر ہوئے اور انھوں نے آکر عرض کیا کہ حضور ﷺ آپ ﷺ ان کے مطالبات تسلیم کر لیجیے لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ اگر یہ لوگ اس کے بعد بھی ایمان نہ لائے تو پھر یہ بدترین عذاب دیے جائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں، میں یہ چاہتا ہوں کہ پروردگار انھیں اور سنبھلنے اور سوچنے کی مہلت عطا فرمائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) عذاب کے رسول ( علیہ السلام) بن کر نہیں آتے بلکہ ہدایت کے رسول ( علیہ السلام) بن کر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں دنیا کی اصلاح کے لیے بھیجتا ہے لیکن جب دنیا اصلاح قبول نہیں کرتی بلکہ پیغمبر ( علیہ السلام) کے قتل کے منصوبے باندھتی ہے تو پھر ایک وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس قوم کو تباہ کردیتا ہے۔ اور ایسا وقت عموماً اس وقت آتا ہے جب کسی قوم کا خوشحال طبقہ کھل کھیلتا ہے اور کھلم کھلا منکرات کو فروغ دیتا ہے اور بےحیائی سرعام ناچنے لگتی ہے، انسانیت کی قدریں دم توڑ جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شرم جاتی رہتی ہے۔ تب ایسی بستی کو پروردگار تباہ فرما دیتے ہیں، لیکن جب تک یہ آخری فیصلے کا وقت نہیں آتا تو کبھی کبھی انھیں سزا دینے یا وارننگ دینے کے لیے چھوٹی موٹی سزائیں ان پر مسلط کی جاتی ہیں جنھیں اس آیت کریمہ میں عذاب کہا گیا ہے۔ اصل عذاب تو قوم کی جڑ مار دیتا ہے اور اس کا نام و نشان نہیں چھوڑتا اور اس کی داستان عبرت بن کر رہ جاتی ہے۔ لیکن جزوی عذاب وہ وقتاً فوقتاً بھیجتا رہتا ہے تاکہ قوم اس سے سبق سیکھے۔ اور یہ وہ قانون ہے جو اس کی کتاب فیصلہ میں لکھا ہوا ہے اور اسی کے مطابق قوموں سے سلوک ہوتا ہے۔
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا، مگر اس بات نے کہ پہلوں نے ان نشانیوں کو جھٹلایا، اور ہم نے قوم ثمود کو ایک اونٹنی دی، آنکھیں کھول دینے والی، تو انھوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں بھیجتے ہیں تو ڈرانے ہی کے لیے بھیجتے ہیں۔

وَمَا مَنَعَنَـآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلاَّ ٓاَنْ کَذَّبَ بِھَا الْاَوَّلُوْنَ ط وَاٰ تَیْنَا ثَمُوْدَالنَّاقَـۃَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوْا بِھَا ط وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلاَّ تَخْوِیْفًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 59) (اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا، مگر اس بات نے کہ پہلوں نے ان نشانیوں کو جھٹلایا، اور ہم نے قوم ثمود کو ایک اونٹنی دی، آنکھیں کھول دینے والی، تو انھوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں بھیجتے ہیں تو ڈرانے ہی کے لیے بھیجتے ہیں) منہ مانگے معجزات نہ بھیجنے کی حکمت آنحضرت ﷺ کے زمانے میں لوگوں کی ہدایت کے لیے زیادہ زور تفہیم پر دیا گیا۔ آنحضرت ﷺ نے کوشش فرمائی کہ لوگوں کے دل و دماغ کو اپیل کی جائے اور ان کے اندر یہ بات اتارنے کی کوشش کی جائے کہ توحید ہی اس کائنات کی اصل حقیقت ہے۔ شرک ایک فریبِ نفس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ وہ خالق کائنات ہے، اسے بجا طور پر یہ حق پہنچتا ہے کہ بندے اس کی غیرمشروط عبادت اور اطاعت کریں۔ وہ چونکہ سب سے بڑا ہے اس لیے اسے ہی یہ بات زیب دیتی ہے کہ اس زمین پر اسی طرح اس کی حاکمیت قائم ہو جس طرح باقی کائنات پر تکوینی طور پر قائم ہے۔ یہ وہ سامنے کے حقائق ہیں جنھیں لوگوں کے لیے سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے رسول کا تعلق ہے اس کی نبوت سے پہلے کی بےعیب زندگی اور پھر آپ ﷺ کی دلآویز شخصیت اور آپ ﷺ کے امی ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی زبان سے ابلتا ہوا علم کا چشمہ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کی فصاحت و بلاغت اور اس کا پیش کردہ نظام زندگی جس میں نہ کوئی جھول ہے اور نہ اختلاف۔ ان میں سے ایک ایک چیز اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان تمام حقائق کی موجودگی میں مزید کسی دلیل اور کسی نشانی کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی، لیکن لوگ اپنی عادت سے مجبور ہیں، وہ جب تک کوئی خرق عادت چیز نہیں دیکھ لیتے انھیں کسی کے رسول ( علیہ السلام) ہونے کا یقین نہیں آتا۔ ان کے ایسے ہی مطالبات پر متعدد دفعہ آنحضرت ﷺ سے معجزات کا ظہور ہوا، لیکن آخر اشرافِ مکہ نے منہ مانگی نشانیاں دکھانے پر اصرار شروع کردیا۔ اس پر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی نشانی کو دکھا دینا کوئی مشکل کام نہیں۔ لیکن اس کا قانون یہ ہے کہ جب وہ کسی منہ مانگے معجزے یا نشانی کو ظاہر کرتا ہے اور قوم اسے دیکھنے کے بعد بھی ایمان لانے سے انکار کردیتی ہے تو پھر اس قوم کو مزید زندہ رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹتا ہے۔ چناچہ اس کی تائید میں پروردگار نے قوم ثمود کی مثال دی کہ ہم نے ان کے مطالبے پر ناقہ جیسی نشانی انھیں دکھائی جو آنکھیں کھول دینے والی تھی، جسے دیکھنے کے بعد اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا تھا کہ حضرت صالح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) ہیں اور یہ ناقہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہے۔ لیکن ان ظالموں نے جب اسی بھی قتل کردیا اور معجزے کی حرمت کا بھی پاس نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور ان پر عذاب نازل ہوگیا۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ ہم جب بھی کسی قوم کی طرف کوئی نشانی بھیجتے ہیں تو انھیں متنبہ کرنے کے لیے بھیجتے ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ( علیہ السلام) پر ایمان لے آئے۔ مقصود انھیں تباہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ ڈرانا ہوتا ہے، لیکن وہ جب اس پر مزید دلیر ہوجاتے ہیں تو پھر وہ زمین پر رہنے اور جینے کا حق کھو دیتے ہیں اور انھیں تباہ کردیا جاتا ہے۔ مشرکینِ مکہ کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ تم منہ مانگی نشانیوں پر اصرار نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تمہاری تباہی کا باعث ہوں۔