18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 18:94

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے دریمان ایک دیوار کھینچ دیں ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالوا یذا القرنین۔ یعنی ایک صالح قوم نے اسے کہا : ان یاجوج وماجوج مفسدون فی الارض اخفش نے کہا : یاجوج ہمزہ کے ساتھ ہے اور دونوں الفوں کو اصل سے بنایا ہے انہوں نے کہا : یاجوج کا وزن یفعول ہے اور ماجوج کا وزن مفعول ہے گویا یہ اجیج النار سے مشتق ہیں اور جو مہموز نہیں بناتے وہ دونوں الفوں کو زائد بناتے ہیں وہ کہتے ہیں : یاجوج یججت سے ہے اور ماجوج مججت سے ہے اور یہ دونوں غیر منصرف ہیں۔ روبہ نے کہا : لوان یاجوج وماجوج معا وعاد عاد واستجاشوا تبعا یہ جوہری نے ذکر کیا ہے۔ بعض علمائء نے فرمایا : دونوں غیر منصرف ہیں کیونکہ دونوں اسم عجمی ہیں جیسے طالوت اور جالوت، غیر مشتق ہیں ان کے غیر منصرف ہونے کے اسباب عجمہ اور تعریف اور تانیث ہیں اور ایک جماعت نے کہا : یہ آج اور اجج سے مشتق ہو کر معرب ہیں۔ ان کے غیر منصرف ہونے کی علتیں تعریف اور تانیث ہیں۔ ابوعلی نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ دونوں عربی لفظ ہوں جس نے ہمزہ سے یاجوج پڑھا ہے یہ اس کے نزدیک یربوع کی طرح یفعول کے وزن پر ہو جیسے تیرا قول ہے : اجت النار، اسی سے الجیج ہے، یعنی روشن کی گئی آگ اسی سے ملح اجاج ہے اور جس نے ہمزہ سے نہیں پڑھا ممکن ہے اس نے ہمزہ میں تخفیف کر کے اسے الف سے بدل دیا ہو جیسے راس ہے۔ رہا یاجوج یہ اج سے مفعول کے وزن پر ہے دونوں کلمے اشتقاق میں ایک اصل سے ہیں اور جس نے ہمزہ سے نہیں پڑھا جائز ہے کہ اس نے ہمزہ میں تخفیف کی ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مج سے فاعول کے وزن پر ہو اور تانیث اور تعریف کی وجہ سے غیر منصرف ہے گویا یہ قبیلہ کا اسم ہے ان کے فساد میں اختلاف ہے۔ سعید بن عبدالعزیز نے کہا : ان کا (فساد برپا کرنا یہ تھا کہ وہ) بنی آدم کو کھاتے تھے۔ ایک جماعت نے کا ان کا فساد متوقع ہے یعنی وہ فساد کریں، پس انہوں ان سے بچائو کی وجہ کو تلاش کیا۔ ایک جماعت نے کہا : ان کا فساد ظلم، زیادتی، قتل اور وہ تمام شر انگیزیاں ہیں جو انسانیت میں معروف ہیں۔ واللہ اعلم۔ یاجوج، ماجوج کی صفات، ان کے خروج کے بارے میں اخبار وارد ہیں۔ وہ یافت کی اوللاد سے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نببی کریم ؛ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” حضرت نوح علیہ اللسلام کے تین بیٹے ہوئے، سام، حام اور یافث، پھر سام سے عرب، فارس اور روم پیدا ہوئے اور ان میں خیر ہے۔ یافث سے یاجوج، ماجوج، ترک اور صقالبۃ پیدا ہوئے اور ان میں خیر نہیں ہے۔ اور حام سے قبط، بربر اور سودان پیدا ہوئے۔ “ کعب احبار نے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) کو احتلام ہوا ان کا پانی مٹی سے ملا تو انہوں نے افسوس کیا پس اس پانی سے یاجوج ماجوج پیدا کیے گئے۔ یہ باپ کی طرف سے ہمارے ساتھ متصل ہیں اور ماں کی طرف سے متصل نہیں اس میں نظر ہے کیونکہ انبیاء کرام صلوات اللہ علیہم وسلامہ کو احتلام نہیں ہوتا۔ یہ یافث کی اولاد سے ہیں ؛ اسی طرح مقاتل وغیرہ نے کہا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” ان کا کوئی آدمی فوت نہیں ہوتا حتیٰ کہ اس کی پشت سے ہزار افراد پیدا ہوچکے ہوتے ہیں یعنی یاجوج وماجوج “۔ حضرت ابو سعید نے کہا : یاجوج وماجوج کے علاوہ یہ پچیس قبائل ہیں ان میں سے اور یاجوج وماجوج میں سے کوئی شخص فوت نہیں ہوتا حتیٰ کہ اس کی پشت سے ہزار افراد پیدا ہوچکے ہوتے ہیں یعنی یاجوج ماجوج “ حضرت ابو سعید نے کہا : یاجوج وماجوج کے علاوہ یہ پچیس قبائل ہیں ان میں سے اور یاجوج وماجوج میں سے کوئی شخص فوت نہیں ہوتا حتیٰ کہ اس کی پشت سے ہزار آدمی پیدا ہوچکے ہوتے ہیں، یہ قشیری نے ذکر کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا : میں نے نبی کریم ﷺ سے یاجوج وماجوج کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” یاجوج اور ماجوج دو امتیں ہیں ہر امت چار لاکھ امت ہے ان کی تعداد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان میں سے کوئی شخص نہیں مرتا حتیٰ کہ اس کے اس کی صلب سے ہزار افراد پیدا ہوچکے ہوتے ہیں، تمام کے تمام ہتھیار اٹھا چکے ہوتے ہیں۔ “ عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ہمارے لیے ان کی صفت بیان فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ تین قسمیں ہیں ان میں سے ہر صنوبر کے درخت کی مثل ہے، ایک درخت شام میں ہے اس درخت کی لمبائی ایک سو بیس ہاتھ ہے۔ ایک قسم وہ ہے جس کا عرض اور طول برابر ہے جیسے ہاتھ ہے۔ ایک قسم وہ ہے جو ایک کان بچھونا بناتے ہیں اور دوسرے کان کو لحاف بناتے ہیں وہ کسی ہاتھی، وحشی اور خنزیر سے گزرتے ہیں تو اسے کھا جاتے ہیں اور جوان میں سے مر جاتا ہے اسے بھی کھا جاتا ہیں ان کا مقدمہ شام میں ہوگا اور ان کا ساقہ خراسان میں ہوگا۔ وہ مشرق کی نہریں اور بحیرہ طربہ کو پی جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور بیت المقدس سے روک لے گا “ (1) ۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : میں سے ایک قسم لمبائی میں ایک بالشت ہے ان کے پنجے ہیں اور درندوں جیسی کچلیاں ہیں، کبوتر کی طرح ہلاتے ہیں، جانوروں کی طرح جفتی کرتے ہیں اور بھیڑیوں کی طرح غراتے ہیں اور ان کے بال انہیں گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں اور ان کے بڑے بڑے کان ہیں۔ ایک وبرہ ہے جس میں وہ سردیاں گزارتے ہیں اور دوسرا جلدہ ہے جس میں وہ گرمیاں گزارتے ہیں وہ دیوار کو کھودتے ہیں حتیٰ کہ وہ سوراخ کرنے کے قریب پہنچتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پھر اسے پہلے کی طرح بھر دیتا ہے حتیٰ کہ وہ کہیں گے : گل انشاء اللہ ہم اس کا سوراخ مکملل کریں گے اور باہر نکل آئیں گے، لوگ اپنے قلعوں میں پناہ لیں گے وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے وہ تیر ان کی طرف خون میں لت پت لوٹایا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ انہیں اس کیڑے سے ہلاک کرے گا جو ان کی گردنوں میں نکلے گا ؛ یہ غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ حضرت علی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ” یاجوج ایک امت ہے اس کے چار سو امیر ہیں اور اسی طرح ماجوج ہے ان کا کوئی فرد نہیں مرتا حتیٰ کہ وہ اپنی اولاد سے ہزار شہسوار دیکھ لیتا ہے۔ “ میں کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث مروی ہے (2) جیسے ابن ماجہ نے انن میں تخریج کیا ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” یاجوج وماجوج ہر روز دیوار کو کھودتے ہیں جب وہ سورج کی شعاع دیکھنے کے قریب پہنچ جاتے ہیں تو ان کے اوپر جو مسلط ہوتا ہے وہ کہتا ہے : اب واپس چلے جائو باقی کل کھودنا تو اللہ تعالیٰ اسے پہلے سے زیادہ مضبوط کر کے بھر دیتا ہے حتیٰ کہ جب ان کی مدت پوری ہوگی اور اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں پر بھیجنے کا ارادہ کرے گا تو وہ دیوار کو کھودیں گے حتیٰ کہ سورج کی شعاع دیکھنے کے قریب پہنچ جائیں گے تو وہ کہے گا : اب واپس چلے جائو پھر کل انشاء اللہ تم اسے کھو دو گے پس وہ انشاء اللہ کہیں گے تو پھر وہ لوٹ کر اس کی طرف آئیں گے تو وہ اسی طرح ہوگی جس طرح وہ چھوڑ کر گئئے ہوں گے وہ پھر اسے کھو دیں گے اور لوگوں پر نکل آئیں گے وہ سارا پانی نکالیں گے لوگ اپنے قلعوں میں اپنا بچائو کریں گے پھر وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے تو ان پر خون لوٹے گا۔ “ الذی احفظ۔ پس وہ کہیں گے : ہم اہل زمین پر غالب آگئے اور ہم اہل آسمان پر بھی غالب آگئے۔ اللہ تعالیٰ ان پر ایک کیڑا مسلط فرمائے گا جو ان کی گدیوں میں پیدا ہوگا پس اللہ تعالیٰ انہیں اس کے ذریعے قتل کر دے گا۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! زمین کے کیڑے یاجوج وماجوج کا گوشت کھانے کی وجہ سے موٹے ہوجائیں گے اور خوب خون سے بھر جائیں گے “ (1) جوہری نے کہا : شکرت الناقۃ تشکرشکرافھی شکرت واشکر الضرع امتلاء لبنا۔ یعنی اونٹنی کی کھیری دودھ سے بھر گئی۔ وہب بن منبہ نے کہا : ان کو ذوالقرنین نے دیکھا ان میں سے ایک کے قد کی لمبائی ہم میں سے درمیانے قد والے شخص کے نصف کے برابر تھی۔ ان کے ناخنوں کی جگہ پنجے تھے۔ اور ان کے درندوں کی طرح داڑھیں اور کجلیاں اور اونٹوں کی طرح ان کے جبڑے تھے وہ بالوں والے تھے ان پر اتنے بال تھے کہ وہ انہیں چھپا دیتے تھے، ہر ایک کے بڑے بڑے کان تھے۔ ایک کان کو لحاف بناتے اور دوسرے کان کو بچھونا بناتے تھے۔ ان میں ہر ایک کی عمر معلوم نہیں ان میں سے کوئی نہیں مرتا حتیٰ کہ اس کی پشت سے ہزار مرد پیدا ہوجاتے تھے۔ اگر وہ مذکر ہوتا تھا اور اس کے رحم سے ہزار مؤنث پیدا ہوجاتے تھے اگر وہ مونث ہوتی۔ سدی اور ضحاک نے کہا : ترک، یاج وما جوج سے ایک جماعت ہے جو ان سے نکلی ہے تبدیل ہوچکی ہے۔ ذوالقرنین آیا تو اس نے دیوار تعمیر کی پس وہ دیوار کی دوسرے جانب ہیں۔ سدی نے کہا : وہ دیوار اکیس قبائل پر بنائی گئی ہے۔ ان میں سے ایک قبیلہ دیوار سے باہر رہ گیا اور وہ ترک ہیں ؛ یہ قتادہ کا قول ہے۔ میں کہتا ہوں : جب یہ ہے تو نبی کریم ﷺ نے ترکوں کی اسی طرح صفت بیان کی جس طرح یاجوج وماجوج کی بیان کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” قیات قائم نہ ہوگی حتیٰ کہ مسلمان ترکوں سے لڑیں گے وہ ایسی قوم ہے جن کے چہرے ایسی ڈھاللوں کی طرح ہیں جن پر تہہ در تہہ کھا لیں چڑھائی گئی ہوں، وہ بالوں کا لباس پہنیں گے اور بالوں میں چلیں گے “ (2) ایک روایت میں ہے ” وہ بالوں کے جوتے بنائیں گے۔ “ اس حدیث کو مسلم، ابو دائود و غیر ہما نے روایت کیا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے ان کی کثرت تعداد اور ان کی شوکت کی حدت جان لی تو فرمایا : ” ترکوں کو چھوڑے رکھو جس وقت تک وہ تمہیں چھوڑے رہیں (3) ان سے اس وقت اتنی امتیں نکلیں جن کی تعداد کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور مسلمانوں سے انہیں صرف اللہ تعالیٰ نے ہی روکا حتیٰ کہ گویا وہ یاجوج وماجوج ہیں یا ان کا مقدمہ ہیں۔ “ ابو دائود نے ابوبکرہ سے روایت کیا ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” میری امت سے کچھ لوگ کھلی ہموار جگہ پر اتریں گے جو نہر کے پاس ہے وہ اس جگہ کو بصرہ کہیں گے اور اس نہر کو دجلہ کہا جاتا ہوگا اس کے اوپر ایک پل ہوگا اس کے رہنے والے زیادہ ہوں گے اور وہ مہاجرین کے شہروں سے ہوگا۔ “ ابن یحییٰ نے کہا : ابو معمر نے کہا : یہ آخر زمانہ میں ہوگا۔ بنو قنطور یا جوڑے ہوئے مونہوں والے، چھوٹی آنکھوں والے آئیں گے حتیٰ کہ وہ نہر کے کنارے اتریں گے پھر وہ لوگ تین فرقوں میں بٹ جائیں گے۔ ایک فرقہ گائیوں کی دم پکڑے گا اور بریت کو اختیار کرے گا اور وہ ہلاک ہوجائیں گے۔ ایک گروہ اپنے نفسوں کو اختیار کرے گا اور وہ کفر کریں گے اور ایک فرقہ اپنی عورتوں اور بچوں کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے رکھے گا اور وہ ان سے لڑیں گے اور وہ شہداء ہیں۔ ببنو قنطور اسے مراد ترک ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قنطوراء ایک لونڈی کا نام ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تھی اس سے آپ کی اولاد ہوئی تو ان کی نسل سے ترک ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : فھل نجعل لک خرجاً علی ان تجعل بیننا وبینھم سدا۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فھل نجعل لک خرجا۔ یہ استفہام حسن ادب کے اعتبار سے ہے۔ خرجاً کا معنی ہے کچھ مال، خراجاً بھی پڑھا گیا ہے۔ الخرج، الخراج سے خاص ہے۔ کہا جاتا ہے : ادخرج رأسک وخراج مدینتک۔ ازہری نے کہا : الخراج کا اطلاق ٹیکس پر ہوتا ہے اور مال فی پر بھی ہوتا ہے اور جزیہ پر بھی ہوتا ہے اور غلہ پھر بھی ہوتا ہے اور الخراج اس کو کہا جاتا ہے جو اموال میں سے فرضی حصہ نکالا جاتا ہے اور الخراج مصدر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : علی ان تجعل بیننا وبینھم سدا۔ یعنی ردم (دیوار) ، ردم اس کو کہتے ہیں جس کا بعض، بعض پر جوڑا گیا ہو حتیٰ کہ وہ مل جائے۔ ثوب مردم وہ کپڑا جو جوڑا گیا ہو ؛ ہر وی کا یہ قول ہے، کہا جاتا ہے : ردمت الثلمۃ اردمھا ردماً ۔ میں سوراخ ببند کردیا۔ الردم اسم ہے اس کا معنی دیوار بھی ہے کسی چیز کو کسی چیز پر رکھنا خواہ پتھر ہو، مٹی ہو یا کوئی اور چیز ہو حتیٰ کہ اس کے ساتھ مضبوط پردہ بنجائے گا اس سے ردم ثوبہ۔ جب اس پر مزید کپڑے لگائئے جائیں بعض بعض پر جڑے ہوئے ہوں۔ اسی سے عشرہ کا قول ہے : ھل غادر الشعراء من متردم یعنی ایسا قول جس کا بعض بعض پر مرکب کیا گیا ہو۔ اور سداً ۔ سین پر فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ خلیل اور سیبویہ نے کہا : سین کے ضمہ کے ساتھ اسم ہے اور فتحہ کے ساتھ مصدر ہے۔ کسائی نے کہا : ضمہ اور فتحہ کے ساتھ دونوں لغتیں ہیں دونوں کا معنی ایک ہے۔ عکرمہ، ابو عمرو بن العلاء اور ابو عبیدہ نے کہا : جو اللہ کی تخلیق سے ہو اس میں کوئی کسی عمل سے شریک نہ ہو تو وہ ضمہ کے ساتھ ہے اور جو بشر کے عمل سے ہو وہ فتحہ کے ساتھ پڑھنا واجب ہے اور اس سے پہلے بین السدین ضمہ کے ساتھ پڑھنا واجب ہے ؛ یہ حمزہ اور کسائی کی قرأت ہے۔ ابو حاتم نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ سے ابو عبیدۃ کے قول کا برعکس مروی ہے، اببن ابی اسحاق نے کہاٖ : جس کو تیری آنکھیں دیکھیں وہ سد (ضمہ کے ساتھ) ہے اور جس کو آنکھیں نہ دیکھیں وہ سد (سین کے فتحہ کے ساتھ) ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت میں جیل خانے بنانا اور فسادیوں کو ان میں قید کرنا اور انہیں تصرف سے روک دینا جائز ہے اور ان فسادیوں کو اپنے حال پر نہیں رہنے دیا جائے گا بلکہ ان کو سزا دی جائئے گی یا ان سے ضامن لیے جائیں گے اور انہیں چھوڑ دیا جائے گا جیسا کہ حضرت عمر ؓ نے کیا تھا۔
Ayah 18:95

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

(ذوالقرنین نے) کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنادوں گا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال ما مکنی فیہ ربی خیر اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قال ما مکنی فیہ ربی خیر یہ ذوالقرنین نے ان لوگوں کو کہا : جو اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت اور ملک عطا فرمایا وہ تمہارے خراج اور مال سے بہتر ہے لیکن تم بدنی قوت سے میری مدد کرو، یعنی مردوں کے ساتھ اور ببدنی عمل کے ساتھ اور اس آلہ کے ساتھ میری مدد کرو جس کے ساتھ میں وہ دیوار تیار کروں۔ اس کلام میں ذی القرنین کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید ہے کیونکہ اگر لوگ خراج جمع کرتے تو کوئی اس کی مدد نہ کرتا اور وہ دیوار کی تعمیر اس کے سپرد کردیتے اور ان کا اپنے جسموں سے مدد کرنا اس عمل کو جلدی مکمل کر کے اور خوبصورت بنانے کا باعث تھا اور جو انہوں نے اس کے یے ذکر کیا وہ خراج سے زیادہ تھا۔ ابن کثیر نے مامکننی، دونوں کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے مامکنی فیہ ربی پڑھا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 اس آیت میں دلیل ہے کہ بادشاہ پر فرض ہے کہ وہ اپنی رعیت کی حفاظت کرے اور ان کی ضروریات کو پورا کرے اور ان کی سرحدوں کی اصلاح کرے، ان کے مال سے جو ان پر لازم کیے گئے ہیں اور ان حقوق سے جو اس کے ذریعے ان کے خزانہ میں جمع ہیں حتیٰ کہ اگر حقوق اس خزانہ کو ختم بھی کردیں اور ضروریات اسے صفر تک پہنچا دیں تو ان کے اموال سے جبراً ٹیکس لیا جائے گا اور بادشاہ پر ضروری ہے کہ وہ رعیت کے بارے میں عمدہ اور بہتر انداز میں غورو فکر کرے۔ یہ تین شروط کے ساتھ ہے (i) وہ کسی چیز کے ساتھ اپنے آپ کو ترجیح نہ دے (ii) پہلے اس مال سے حاجت مندوں پر خرچ کرے اور ان کی مدد کرے (iii) ہر ایک کو اس کی قدرو منزلت کے مطابق عطا کرے۔ اس کے بعد اگر مال ختم ہوجائے اور خزانہ خالی ہوجائے اور حوادثات ظاہر ہوں تو بادشاہ لوگوں کو اموال کے خرچ کرنے سے پہلے اپنے جسموں کو پیش کرنے کے لیے کہے اگر جسمانی طاقت سے کام نہ چلے تو پھر تدبیر کے تصرف و تقدیر پر ان سے اموال لیے جائیں گے۔ جب ذوالقرنین پر ان لوگوں نے مال پیش کیا تاکہ وہ ان سے یاجوج وماجوج کی زیادتی کو روکے تو اس نے کہا : مجھے مال کی ضرورت نہیں مجھے تمہاری افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ فاعینونی بقوۃ یعنی میرے ساتھ تم جسمانی خدمت بجا لائو۔ اموال میرے پاس ہیں اور جسمانی قوت تمہارے پاس ہے۔ اس نے دیکھا کہ ان کے مال مفید نہیں کیونکہ ان کے اموال کو اجرت کے طور پر لے گا تو جس کام کی ضرورت ہے وہ اس سے کم ہیں، پھر ان پر اجر لوٹے گا، پس بدنی خدمت خود اپنی طرف سے پیش کرنا بہتر ہے۔ ضابطہ یہ ہے کہ کسی سے کام لینا حلال نہیں مگر ضرورت کے لیے جو لاحق ہوتی ہے اس سے وہ مال جبراً لیا جائے گا خفیۃً نہیں اور مال وہ عدل کے ساتھ خرچ کرے گا، ترجیحات کے اعتببار سے نہیں، جماعت کی رائے سے خرچ کرے گا نہ کہ اپنی مرضی سے۔ اللہ تعالیٰ درست سمت کی توفیق دینے والا ہے۔
Ayah 18:96

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کردیا اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو یہاں تک کہ جب اسکو (دھونک دھونک کر) آگ کردیا گیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس (تانبا) لاؤ کہ میں اس پر پگھلا کر ڈال دوں

اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : اتونی زبر الحدید تم مجھے لوہے کی چادریں دو اس نے انہیں آلات نقل کرنے کا حکم دیا یہ تمام اس عطیہ کا مطلب کرنا ہے جو ہبتہ کے معنی میں نہیں ہے یہ لینے کے لیے استدعا ہے کیونکہ اس نے ان سے خراج نہ لینے کے قول پر مرتب کیا ہے۔ پس صرف مناولت کی صورت ہی باقی رہ جاتی ہے اور بدنی اعمال کی ضرورت رہ جاتی ہے۔ زبر الحدید۔ لوہے کے ٹکڑے۔ اس کلمہ کی اصل اجتماع ہے اس سے زبرۃ الأسد ہے۔ شیر کے کندھے کے جمع شدہ بالوں کو کہتے ہیں۔ زبرت الکتاب، یعنی میں نے کتاب کو لکھا اور اس کے حروف کو جمع کیا، ابوبکر اور مفضل نے ردما ایتونھی پڑھا ہے۔ یہ الاتیان سے ہے جس کا معنی ہے آنا، یعنی میرے پاس لوہے کی چادریں لے آئو۔ جب حرف جر ساقط ہو تو فعل کو نصب دیا گیا جیسا کہ شاعر کا قول ہے : امرتک الخیر حرف جر کو حذف کیا گیا اور فعل کو نصب دی گئی۔ جمہور نے زبر۔ (فاء کے فتحہ) کے ساتھ پڑھا ہے۔ حسن نے اس کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ تمام زبرۃ کی جمع ہے اس سے مراد لوہے کا بڑا ٹکڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتیٰ اذا ساوی، یعنی جب دیوار کھڑی ہوگئی، دیوار کے لفظ کو حذف کردیا کیونکہ کلام اس پر دلالت کر رہا ہے۔ بین الصدقین۔ ابو عبیدہ نے کہا : یہ پہاڑ کی دونوں طرفیں ہیں۔ اس کو یہ نام اس لیے دیا جاتا ہے کیونکہ یہ آپس میں ملی ہوئی ہوتی ہیں، یہ زہری کا قول ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کیونکہ وہ دوسری طرف سے اعراض کیے ہوئے ہے۔ یہ الصدوف سے مشتق ہے، شاعر نے کہا : کلا الصدقین ینفذہ سناھا توقد مثل مصباح الظلام بلند عمارت کو بھی الصدف کہتے ہیں۔ صدف کو پہاڑ سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ حدیث شریف میں ہے : ” جب جھکی ہوئی بلند منزل سے گزرتے تو تیز چلتے “ (1) ۔ ابو عبیدہ نے کہا : الصدف اور الھدف، ہر بلند عمارت عمارت کو کہتے ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : الصدفان سے مراد وہ دو پہاڑ ہیں جو آمنے سامنے ہوتے ہیں (2) ۔ ان کو صدفان کہتے ہیں کیونکہ ہر ایک دوسرے کے سامنے ہوتا ہے۔ نافع، حمزہ اور کسائی نے الصدفین یعنی صاد کے فتحہ اور شد کے ساتھ اور دال کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ قرأت حضرت عمر بن خطاب اور عمر بن عبدالعزیز کی ہے ؛ یہ ابو عبیدہ کی مختار قرأت ہے اور یہ مشہور لغت ہے۔ ابن کثیر، ابن عامر اور ابو عمرو نے الصدقین صاد اور دال کے ضمہ کے ساتھ پڑھا۔ عاصم نے ابوبکر کی روایت میں الصدقین یعنی صاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ قتادہ نے بین الصدفین، صاد کے فتحہ۔ اور دلال کے سکون کے پڑھا ہے۔ تمام کا معنی ایک ہے دو پہاڑ جو مقابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال انفخوا۔ یعنی دھونکنیوں کے ساتھ لوہے کے ٹکڑوں پر پھونکو۔ وہ انہیں لوہے کے ٹکڑے اور پتھر کے ٹکڑوں کو رکھنے کا حکم دیتا تھا پھر ان پر ایندھن اور کوئلہ رکھا جاتا تھا اور دھونکنیوں کے ذریعے آگ جلائی جاتی تھی حتیٰ کہ وہ لوہا گرم ہوجاتا تھا۔ لوہے کو جب گرم کیا جاتا تو وہ آگ کی طرح ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : حتی اذا جعلہ ناراً ۔ سے یہی مراد ہے پھر پگھلا ہوا تانبا، رصاص یا لوہا لایا جاتا تھا (قطر میں اختلاف کی بناء پر) اسے ان لوہے کی گرم تہہ در تہہ رکھی ہوئی چادروں پر ڈالا جاتا تھا جب وہ جڑ جاتا تھا اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتا تھا تو پھر دوسری چادر ڈالی جاتی تھی یہاں تک کہ عمل مکمل ہوا اور مضبوط پہاڑ سا بن گیا۔ قتادہ نے کہا : وہ یمنی چادر کی طرح تھا ایک لائن زرد اور ایک لائن سرخ تھی۔ روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے یاجوج ماجوج کی دیوار دیکھی ہے۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” تو نے کیسی دیکھی ہے ؟ “ اس نے کہا : میں نے وہ یمنی دھاری دار چادر کی طرح دیکھی ہے۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” تو نے واقعی دیکھی ہے “ (3) حتیٰ اذا جعلہ ناراً ۔ کا معنی ہے جب وہ آگ کی طرح ہوگیا۔ اتونھی افرغ علیہ قطرا۔ کا معنی ہے تم مجھے قطر (تانبا) دو میں اس پر انڈیلوں۔ اس میں تقدیم و تاخیر ہے اور جس نے اتونی پڑھا اور ان کے نزدیک اس کا معنی ہے تم آئو میں اس پر تانبا ڈالوں۔ القطر اکثر مفسرین کے نزدیک پگھلا ہوا تانبا ہے اس کی اصل القطر ہے کیونکہ جب وہ پگھلایا جاتا ہے تو اس طرح اس کے قطرے گرتے ہیں جیسے پانی کے قطرے گرتے ہیں۔ ایک جماعت نے کہا : اس سے مراد پگھلا ہوا لوہا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : ان میں سے ابن الانباری بھی ہے کہ قطر سے مراد پگھلا ہوا تانبا ہے۔ یہ قطر یقطر قطراً سے مشتق ہے۔ اسی سے ہے والسنا لہ عین القطر (سبا : 12) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما استطاعوالہ نقباً ۔ یعنی یاجوج وماجوج اس پر چڑھ نہ سکے کیونکہ وہ چکنی اور پہاڑ جتنی بلندتھی کہ پہاڑ بلند تھا اس کو عببور کرنے کا قصد نہیں کیا جاتا تھا اس دیوار کی بلندی دو سو ہاتھ تھی اور چوڑائی پچاس ہاتھ تھی۔ روایت ہے کہ اس کا طول دو پہاڑوں کی طرفوں کے درمیان تھا (یعنی) سو فرسخ اور عرض پچاس فرسخ ؛ وہب بن منبہ نے یہی کہا ہے۔ وما استطاعوا لہ نقباً ۔ اس کے عرض اور مضبوطی کی وجہ سے یاجوج وماجوج سوراخ نہ کرسکے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” آج یاجوج وماجوج کی دیوار سے اس کی مثل کھل گیا ہے “۔ وہب بن منبہ نے اپنے ہاتھ سے توے کا عقد بنایا۔ ایک روایت میں ہے : انہوں نے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی سے حلقہ بنایا… الخ۔ یحییٰ بن سلام نے سعد بن ابی عروبہ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے ابو رافع سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” یاجوج وماجوج ہر روز دیوار کو پھاڑتے ہیں حتیٰ کہ جب وہ سورج کی شعاع دیکھنے کے قریب پہنچتے ہیں تو ان کا نگران کہتا ہے : اب لوٹ جائو باقی تم کل پھاڑو گے۔ پس اللہ اسے پہلے سے زیادہ مضبوط کر کے لوٹا دیتا ہے حتیٰ کہ جب ان کی مدت پوری ہوگی اور اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں پر بھیجنے کا ارادہ فرما گا تو وہ دیوار کو کھودیں گے حتیٰ کہ جب سورج کی شعاع دیکھنے کے قریب ہوں گے تو ان کا نگران انہیں کہے گا : انشاء اللہ کل تم اسے پھاڑو گے۔ وہ دوسرے دن اس کی طرف آئیں گے تو وہ اسے اسی ہئیت میں پائیں گے جس ہئیت میں چھوڑ کر گئے ہوں گے، پس وہ اسے پھاڑ دیں گے اور للوگوں پر نکل آئیں گے “ (1) (الحدیث)
Ayah 18:97

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فما اسطاعوا طاء کی تخفیف کے ساتھ جمہور کی قرأت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ لغت استطاعوا کے معنی میں ہے۔ بعض نے فرمایا : بلکہ یہ استطاعواہی تھا عربوں کے کلام میں کثرت سے موجود ہے حتیٰ کہ بعض نے اس سے تاء حذف کردی اور انہوں نے کہا : اسطاعوا۔ اور بعض نے طاء حذف کردی اور کہا : استاع یستیع بمعنی استطاع یستطیع یہ مشہور لغت ہے۔ صرف حمزہ نے اسے فما اسطاعوا یعنی طاء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے گویا اس نے استطلاعوا کا ارادہ کیا پھر تاء کو طاء میں ادغام کردیا ہے اور اسے مشدد کردیا۔ یہ ضعیف قرأت ہے۔ ابو علی نے کہا : یہ جائز نہیں ہے۔ اعمش نے فما استطاعو ان یظھروہ وما استطلاعولہ نقبا۔ پڑھا ہے دونوں جگہ تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 18:98

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال ھذا رحمۃ من ربی اس کا قائل ذوالقرنین ہے ھذا کے ساتھ اس دیوار کی طرف اور اس پر قوت اور یاجوج وماجوج کے ضرر کو دفع کرنے میں اس سے انتفاع کی طرف اشارہ کیا۔ ابن ابی عبلہ نے ھذہ رحمۃ من ربی پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فاذا جآء وعدربی۔ یعنی قیامت کا دن آئے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : جب یاجوج وماجوج کے خروج کا دن آئے گا جعلہ دکآء تو اسے زمین کے برابر کر دے گا اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا دکت الارض دکا (الفجر) ابن عرفہ نے کہا : اس کا مطلب ہے وہ اس طرح برابر کردی جائے گی کہ اس میں کوئی ٹیلہ نہ ہوگا، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جعلہ دک ’ آئ۔ ایسی اونٹنی جس کی کہانی ختم ہوگئی ہو۔ قتبی نے کہا : اس دیوار کو زمین کے برابر بنا دے گا۔ کلبی نے کہا : اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔ شاعر نے کہا : ھل غیر غاد دک غار آفانھدم۔ ازہری نے کہا : کہا جاتا ہے : دککتہ یعنی دققتہ۔ ریزہ ریزہ کرنا جس نے دکاء پڑھا ہے اس نے یہ ارادہ کیا ہے کہ پہاڑ کو برابر زمین بنا دے گا اس سے مراد وہ ٹیلہ ہے جو پہاڑ کی اونچائی کو نہ پہنچتا ہو۔ اس کی جمع دکاوات ہے۔ حمزہ، عاصم اور کسائی نے دکاء مد کے ساتھ پڑھا ہے اور الناقۃ الدکاء (بےکوہان اونٹنی) کے ساتھ تشبیہہ کی بناء پر۔ اس کلام میں حذف ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے : جعلہ فی مثل دکاء اس تقدیر کی بناء پر حذف ضروری ہے کیونکہ السدمذ کر ہے اس کی صفت دکاء نہیں ہو سکتی اور جنہوں نے دکاء پڑھا ہے تو یہ دک یدک کا مصدر ہوگا جب کوئی چیز گرا دی جائے اور چور کردی جائے۔ یہ ببھی احتمال ہے کہ جعلل ببمعنی خلق ہو اور دکا پر نصب حال کی ببنا پر ہو، اسی طرح جنہوں نے مد کے ساتھ پڑھا ہے اس کی نصب کے دو احتمال ہیں۔
Ayahs 18:99–106

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور اس روز جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کار ساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ؟ ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لیے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

یہ انکی سزا ہے (یعنی) جہنم اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اڑائی

(تفسیر آیت 99-110) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔ ترکنا من ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے یعنی ہم جن و انس کو قیامت کے روز واگزار کردیں گے وہ (تند موجوں کی طرح) ایک دوسروں میں گھس جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہم یاجوج وماجوج کو واگزار کردیں گے۔ یومئذ اس دیوار کے کمال کے وقت وہ ایک دوسرے میں گھس جائیں گے۔ ان کے موج کا استعارہ حیرت سے عببارت ہے اور ان کے تردد سے عبارت ہے جیسے غم اور خوف کی وجہ سے نڈھال لوگ ہوتے ہیں انہیں دریا کی موج سے تشبیہ دی ہے جس کی موجیں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔ بعض نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم یاجوج و ماجوج کو دیوار کے کھلنے کے دن دنیا میں دریا کی موجوں کی طرح کردیں گے کثرت کی وجہ سے خلط ملط ہوجائیں گے۔ میں کہتا ہوں : یہ تین اقوال ہیں ان میں سے اظہر دوسرا قول ہے اور زیادہ بعید آخری قول ہے۔ پہلا قول حسن ہے کیونکہ فاذا جاء وعدربی کے ارشاد کی تاویل میں قیامت کا ذکر گزر چکا ہے۔ فجمعنہم جمعاً ۔ یعنی قیامت کے میدان میں جن و انس کو ہم جمع کریں گے۔ وعرضنا جہنم یعنی ان کے لیے ہم جہنم کو ظاہر کریں گے۔ یومئذ للکفرین عرضا۔ الذین کا نت اعینھم اسم موصول کافرین کی صفت کی بناء پر محل جر میں ہے۔ فی غطاء عن ذکری وہ اس آنکھ کی طرح ہیں جو ڈھانپی گئی ہے وہ اللہ کے دلائل (توحید) کو دیکھتی ہی نہیں۔ وکانوا لا یستطیعون سمعا۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کی طاقت نہیں رکھتے وہ بہرے شخص کی طرح ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افحسب الذین کفروا حسبب کا معنی ہے گمان کیا۔ حضرت علی، عکزہ، مجاہد اور ابن محیصن نے افحسبب سین کے سکون اور باء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی انہیں کافی ہے۔ ان یتخذوا عبادی یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، ملائکہ اور حضرت عزیز علیہ السللام۔ من دونی اولیآء من انہیں سزا نہیں دوں گا۔ کلام میں حذف ہے۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے کیا انہوں نے گمان کیا ہے کہ انہیں یہ نفع دے گا ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا۔ الذین ضل سذعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعا۔ اولئک الذین کفروا بایت ربھم ولقآئہ فحبطت اعمالھم فلا نقیم لھم یوم القیمۃ وزنا۔ اس میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ قل ھل ننبئکم آیۃ۔ اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ لوگوں میں سے جو عمل کرتا ہے اور وہ یہ خیال کرتا ہے وہ اچھائی کرنے والا ہے حالانکہ اس کی محنت رائیگان ہوچکی ہوتی ہے اور جو چیز اس کی محنت کے ضیاع کا باعث بنتی ہے وہ اس کے عقیدہ کی خرابی ہے یا ریاکاری ہے اور یہاں کفر مراد ہے۔ امام بخاری نے مصعب سے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے اپنے باپ سے پوچھا : قل ھل ننبئکم بالخسرین اعمالا۔ سے مراد حروریہ (خوارج) ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں وہ یہود و نصاریٰ ہیں کیونکہ یہود حضرت محمد ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور نصاریٰ جنت کا انکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا : اس میں کھانا، پینا نہیں ہے اور حروریہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پختہ عہد کرنے کے بعد عہد کو توڑا۔ حضرت سعد انہیں فاسقین کہتے تھے۔ آیت میں تو بیخ ہے یعنی ان کفار کو کہو جو میرے علاوہ کی عبادت کرتے ہیں ان کی سعی اور ان کی امنگیں کل قیامت کے روز سب خائب و خاسر ہوں گی۔ پس یہی لوگ اعمال کے اعتبار سے گھاٹے میں ہیں۔ الذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعا۔ یعنی میرے سوا کوئی عبادت میں گمان رکھتے ہیں۔ حضرت علی نے فرمایا : وہ حروراء کے خوارج ہیں۔ مرۃ نے کہا : وہ راہب ہیں جو صوامع میں رہتے ہیں۔ روایت ہے کہ اببن الکوائء نے الاخسرین اعمالا کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : اس سے مراد تو اور تیرے ساتھی ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : ان تمام اقوال کو اس کے بعد والا قول کمزور کردیتا ہے وہ یہ ہے : اولئک الذین کفروا بایت ربھم ولقآئہ فحبطت اعمالھم اور ان گروہوں میں سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ ، اس کی ملاقات، بعث اور نشور کا انکار نہیں کرتا۔ یہ مشرکین مکہ کی صفت ہے جو بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ حضرت علی اور حضرت سعد ؓ نے ایسے لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اس آیت سے اپنا حصہ لیا۔ اعمالا۔ پر نصب تمیز کی بناء پر ہے۔ حبطت۔ جمہور کی قرأت باء کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ حضرت ابن عبب اس ؓ نے باء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ (1) مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلا نقیم لھم یوم القیمۃ وزنا۔ جمہور کی قرأت نقیم نون عظمت کے ساتھ ہے۔ مجاہد نے یاء غائب کے ساتھ پڑھا یعنی اللہ قائم فرمائے گا۔ عبید بن عمیر نے فلا یقوم پڑھا ہے اسے وزن پڑھنا لازم ہے اسی طرح مجاہدنے، فلا یقوم لھم یوم القیاۃ وزن پڑھا ہے۔ عبید بن عمیر نے کہا : قیامت کے روز ایک بہت لمبے تڑنگے، زیادہ کھانے پینے والے کو لایا جائے گا اللہ کی بارگاہ میں مچھر کے برابر بھی وزن نہ ہوگا۔ میں کہتا ہوں : ایسا قول رائے سے تو نہیں کہا جاتا۔ اس کا معنی بخاری و مسلم کی صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے (2) ، نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” قیامت کے روز ایک بڑے موٹے شخص کو لایا جائے گا اللہ کی بارگاہ میں مچھر کے برابر بھی اس کا وزن نہ ہوگا۔ اگزر چاہو تو یہ پڑھ لو، فلا نقیم لھم یوم القیمۃ وزنا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا ثواب نہ ہوگا اور ان کے اعمال کے مقابل عذاب ہوگا، ان کی کوئی نیکی نہ ہوگی کہ قیامت کے میزانوں میں اس کا وزن کیا جائے اور جس کی کوئی نیکی نہ ہوگی وہ آگ میں ہوگا۔ حضرت ابو سعید خدری نے کہا : تہامہ پہاڑ کی طرحاعمال کے ساتھ لایا جائے گا لیکن ان کا کچھ وزمن نہ ہوگا۔ بعض نے فرمایا : یہ بھی احتمال ہے کہ مجاز اور استعارہ مراد ہو گویا فرمایا : ہمارے نزدیک اس دن ان کی کوئی قدر نہ ہوگی۔ واللہ اعلم۔ اس حدیث میں فقہ یہ ہے کہ اس موٹاپے کی مذمت کی گئی ہے جو تکلفاً حاصل کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے کھانے پینے کا تکلف کرنا ہوگا اور مکارم سے دوری ہوگی، بلکہ یہ دلیل ہے کہ کفایت کی قدر سے زائد کھانا حرام ہے جس کے ساتھ ترفہ اور موٹاپا مطلوب ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ترین شخص موٹا دینی پیشوا ہے۔ “ (3) عمران بن حصین نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” تم میں سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر جو اس کے ساتھ مصل ہوں گے۔ “ عمران نے کہا : میں نہیں جانتا، آپ ﷺ نے اپنے زمانہ کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین زمانوں کا ذکر کیا۔ پھر فرمایا : ” تمہارے بعد ایک قوم ہوگی جو گواہی دیں گے جبکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی، وہ خیانت کریں گے اور امین نہ ہوں گے، نذریں مانیں گے اور نذر پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔ “ یہ مذمت ہے اس کا سبب یہ ہے کہ موٹاپا جو حاصل کیا جاتا ہے وہ کثرت سے کھانے اور حرص کرنے، آرام اور امن سے رہنے اور نفس کو شہوات پر چھوڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پس وہ اپنے نفس کی عبادت کرنے والا ہے، اپنے رب کی عبادت کرنے والا نہیں اور جس کی یہ حالت ہو وہ حرام میں واقع ہوتا ہے اور ہر وہ گوشت جو حرام سے پیدا ہوتا ہے آگ اس کی زیادہ مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زیادہ کھانے کی وجہ سے کفار کی مذمت کی ہے فرمایا : والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنار مثوی لھم۔ (محمد) جب ایک مومن ان کے مشابہ ہوگا اور ہر حال اور زمانہ میں ان جیسے تنعم سے لطف اندوز ہوگا تو اس کے ایمان کی حقیقت کہاں ہوں گی اور وہ اسلام کے وظائف کو کیسے قائم کرے گا ؟ جو زیادہ کھاتا پیتا ہے اس کی حرص اور لالچ زیادہ ہوتی ہے۔ رات کو سستی اور نیند زیادہ ہوتی ہے، پس اس کا دن لالچ میں گردش کرتے ہوئے اور رات سوتے ہوئے گزرتی ہے۔ یہ مفہوم سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ اس میں میزان کا ذکر بھی گزر چکا ہے۔ اس کے دو پلڑے ہیں جن میں اعمان کے صحائف کا وزن کیا جائے گا، اعادہ کی ضرورت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب صحابہ حضرت ابن مسعود کی پنڈلی کی باریکی کو دیکھ کر ہنستے تھے جب کہ وہ کھجور پر چڑھ رہے تھے : ” تم پنڈلی کی وجہ سے ہنس رہے ہو تمام اہ زمین کے عمل کے ساتھ اس کا وزن کیا جائے گا۔ “ یہ دلیل ہے کہ اشخاص کا وزن کیا جائے گا ؛ غزنوی نے اس کو ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک جزآو ھم۔ ذالک مشار الیہ وزن کا ترک ہے۔ ذالک مبتدا ہے اور جزاء ھم خبر ہے۔ جہنم، متبدا سے بدل ہے جو ذالک ہے۔ اور بما کفروا میں ما مصدر یہ ہے اور الھزء کا معنی مزاح کرنا اور ہلکا سمجھنا ہے۔
Ayahs 18:107–108

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کیے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے (اور) وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الذین امنوا وعملوا الصلحت کا نت لھم جنت الفردوس نزلا۔ قتادہ نے کہا : فردوس جنت کا بلند، عمدہ، اعلیٰ ، افضل اور ارفع مقام ہے۔ حضرت ابو امامہ باہلی نے کہا : فردوس جنت کی ناف ہے۔ کعب نے کہا : جنتوں میں سے ایک جنت ہے جو جنۃ الفردوس سے بھی اعلیٰ ہے، اس میں وہ لوگ ہوں گے جو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے ( 1) فرمایا : ” نبی پاک ﷺ نے فرمایا : جو اللہ پر ایمان لایا، نماز قائم کی، رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے خواہ اس نے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا ہو یا اس زمین میں بیٹھا رہا ہو جس میں پیدا ہوا تھا “ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کو اس کی خوشخبری دے دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جنت میں ایک سودرجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیے ہیں۔ اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جیسا کہ آسمان اور زمین کے درمیان ہے جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت الفردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا اعلیٰ اور بلند درجہ ہے “۔ میرا خیال ہے فرمایا : ” اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اس سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ “ مجاہد نے کہا : فردوس، رومی زبان میں باغ کو کہتے ہے۔ فراء نے کہا : یہ عربی لفظ ہے۔ فردوس جنت میں ایک باغیچہ ہے۔ فردوس یمامہ کے قریب ایک باغ کا نام ہے۔ اس کی جمع فرادیس ہے۔ امیہ بن ابی الصلت ثقفی نے کہا : کا نت منازلھم اذ ذاک ظاھرۃ فیھا الفرادیس والفومان والبصل الفرادیس شام کا ایک علاقہ ہے۔ کرم مفردس کا مطلب ہے انگور کی بلیں جو چھپر کی طرح پھیلی ہوئی ہوں۔ خلدین فیھا وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یبغون عنھا حولا۔ یعنی وہ اس جنت سے کسی اور طرف پھرنا نہیں چاہتے۔ الحول بمعنی التحویل ہے یہ ابو علی نے کہا۔ زجاج نے کہا، حال من مکانہ حولا، جیسے کہا جاتا ہے : عظم عظماا۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ الحیلہ سے مشتق ہو یعنی، لا یحتالون منزلاً غیرھا۔
Ayahs 18:109–110

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لیے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائیں اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل لو کان البحر مداداً لکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی نفد الشی کا معنی ہے جب مکمل اور فارغ ہوجائے۔ یہ مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ ولو جئنا بمثلہ مدداً ۔ اگر ہم سمندر پر عدد یا وزن کے اعتبار سے زیادتی کردیں۔ مصحف ابی میں مداداً ہے اسی طرح مجاہد، ابن محیصن اور حمید نے پڑھا ہے۔ مدداً کی نصب تمیز یا حال کی بناء پر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب نبی پاک ﷺ نے فرمایا : وما اوتیتم من العلم الا قلیلا۔ (الاسرائ) تو یہود نے کہا : ہمیں تورات دی گئی ہے اور جس کو تورات دی گئی تو اسے خیر کثیر دیا گیا (تو ہم افضل ہوئے پھر ہم آپ کی پیروی کیسے کریں) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : قل لو کان البحر… الآیۃ۔ بعض علماء نے کہا : یہود نے کہا : پ کو حکمت دی گئی ہے اور جسے حکمت دی گئی اسے خیر کثیر دیا گیا پھر آپ کہتے ہیں : مجھے روح کا علم نہیں ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ فرمائیں اگر مجھے قرآن دیا گیا ہے اور تمہیں تورات دی گئی ہے تو تورات اللہ کے کلمات کی نسببت سے کم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : لکلمت ربی۔ سے مراد مواعظ ربی ہے یعنی میرے رب کے مواعظ۔ بعض علماء نے فرمایا : کلمات سے مراد وہ قدیم کلام ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ہے اگرچہ وہ ایک ہے اس کو لفظ جمع سے تعبیر کرنا جائز ہے کیونکہ اس میں فرائد کلمات موجود ہیں اور فرائد کلمات کے قائم مقام ہے۔ پس عظمت شان کے اظہار کے لیے جمع کے صیغہ سے تعبیر کرنا جائز ہے۔ اعمشق نے کہا : ووجہ نقی اللون صاف یزینہ مع الجید لبات لھا ومعاصم اس معرکہ میں لبہ کو لبات سے تعبیر کیا ہے۔ قرآن میں ہے : نحن اولیوکم (حم السجدہ :31) انا نحن نزلنا الذکر (الحجر :9) وانا لنحن نحی ونمیت (الحجر : 23) اسی طرح فرمایا : ان ابراھیم کان امۃ۔ کیونکہ ابراہیم علیہ السللام ایک امت کے قائم مقام تھے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے وہ عبارات اور دلدلت ختم نہ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے کلام کے معانی کے مفہومات پر دلالت کرتی ہیں۔ سدی نے کہا : اس کا مطلب ہے اگر سمندر روشنائی بن جائے میرے رب کے کلمات کے لیے تو سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ اس جنت کی صفات تم ہوں جو دارالثواب ہے۔ عکرمہ نے کہا : سمندر ختم ہوجائے گا لا الہ الا اللہ کہنے والے کے ثواب کے ختم ہونے سے پہلے۔ اس آیت کی مثال یہ آیت ہے : ولو ان مافی الارض من شجرۃ قلام والبحر یمدہ…… الآیۃ (لقمان : 27) حمزہ اور کسائی نے قبل أن ینفدیاء کے ساتھ پڑھا ہے فعل کے تقدم کی وجہ سے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل انما انا بشر مثلکم یوحیٰ الی۔ یعنی میں نہیں جانتا مگر جو اللہ تعالیٰ کا علم شمار سے وراء ہے مجھے تو حکم ہے کہ میں تمہیں لا الہ الا اللہ پہنچائوں۔ فمن کان یرجوا القآء ربہ۔ جو اللہ تعالیٰ کی رویت اور ثواب کی امید رکھتا ہے اور اس کے عذاب سے ڈرتا ہے۔ فلیعمل عملاً صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ حضرت جندب بن زبیر عامر کے بارے میں نازل ہوئی اس نے عرض کی۔ یارسول اللہ ! ﷺ میں اللہ کے لیے عمل کرتا ہوں اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتا ہوں مگر جب اس پر (لوگوں کی) آگاہی پائی جاتی ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ قبول نہیں فرماتا مگر پاک کو اور اسے قبول نہیں فرماتا جس میں کسی اور کو شریک کیا گیا ہو “ (1) تو یہ آیت نازل ہوئی۔ طائوس نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ میں اللہ کے راستہ میں جہاد کو پسند کرتا ہوں اور میں یہ بھی پسند کرتا ہوں کہ میرا مکان و مرتبہ دیکھا جائے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ مجاہد نے کہا : ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ صدقہ کرتا ہوں اور صلہ رحمی کرتا ہوں اور میں یہ کام نہیں کرتا مگر اللہ کے لیے۔ پھر میری طرف سے اس کام کو ذکر کیا جاتا ہے اور اس پر تعجب کیا جاتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے اور مجھے اچھا لگتا ہے۔ نبی کریم ﷺ خاموش ہوگئے اور کوئی کلام نہ کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : فمن کان یرجوالقا اء ربہ فلیعمل عملاً صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا۔ (2) میں کہتا ہوں یہ آیت تمام اعمال کو شامل ہے سورة ہود میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ان تین شخصوں کے بارے گزر چکی ہے جن کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا اور سورة النساء میں ریاکاری پر کلام گزر چکی ہے اور ہم نے وہاں بہت سے واقعات ذکر کیے ہیں جن میں کفایت ہے ماوردی نے کہا : تمام علماء تفسیر نے کہا : ولا یشرک بعبادۃ ربہ احداً کا مطلب ہے کہ وہ اپنے اعمال کسی کو نہ دکھائے (یعنی ریاکاری نہ کرے) ترمذی حکیم (رح) نے نوادر الاصول میں روایت کیا ہے فرمایا : ہمیں عبدالواحد بن زید نے عبادہ ببن نسی سے روایت کر کے بتایا فرمایا : میں شداد بن اوس کے پاس اس کی جائے نماز میں آیا تو وہ رو رہے تھے میں نے کہا : اے ابو عبدالرحمن تم کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : میں نے ایک دن نبی پاک ﷺ سے ایک دن ایک حدیث سنی تھی ؟ میں نے نبی پاک ﷺ کے چہرے پر پریشانی دیکھی تھی۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ کے چہرے پر پریشانی کے آثار ہیں کیا وجہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” شرک اور خفیہ شہوت “ (3) ۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کے بعد آپ کی امت شرک کرے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے شداد ! لوگ سورج، چاند، پتھر، ریت کی پوجا تو نہیں کریں گے لیکن وہ اپنے اعمال میں ریاکاری کریں گے۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ کے بعد آپ کی امت شرک کرے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے شداد ! لوگ سورج، چاند، پتھر، ریت کی پوجا تو نہیں کریں گے لیکن وہ اپنے اعمال میں ریاکاری کریں گے۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ریاکاری شرک ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں “ میں نے پوچھا : حضور ! شہوت خفیہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی صبح کے وقت روزے سے ہوگا پھر اس کے لیے دنیا کی شہوات ظاہر ہوں گی تو وہ روزہ افطار کر دے گا۔ “ عبدالواحد نے کہا : میں حسن سے ملا تو میں نے پوچھا : اے ابو سعید ! مجھے ریاکاری کے بارے میں بتا کیا وہ شرک ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں۔ کیا تو یہ آیت نہیں پڑھتا : فمن کان یرجوا القآء ربہ۔ الخ۔ اسماعیل بن اسحاق نے روایت کیا ہے فرمایا : ہمیں محمد بن ابی بکر نے بتایا تو انہوں نے کہا : ہمیں معتمر بن سلیمان نے بتایا انہوں نے لیث سے انہوں نے شہر جن حوشب سے روایت کیا ہے فرمایا : عیادہ بن صامت اور شداد بن اوس اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا : ہم اس امت پر شرک اور شہوت خفیہ کا خوف کرتے ہیں۔ شہوت خفیہ عورتوں کی طرف سے ہے۔ انہوں نے کہا : ہم نے نبی پاک ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے ” جس نے ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا، جس نے دکھاوا کرتے ہوئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا “ پھر یہ آیت تلاوت کی : فمن کان یرجوالقآء ربہ… الآیۃ۔ (1) ۔ میں کہتا ہوں : شہوت خفیہ کی تفسیر اس کے خلاف بھی آئی ہے وہ ہم نے سورة النساء میں ذکر کردی ہے۔ حضرت سہل بن عبد اللہ نے کہا : حسن سے اخلاص اور ریاکاری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : اخلاص میں سے یہ ہے کہ تو اپنی نیکیوں کو چھپانا پسند کرے اور اپنی برائیوں کو پسند نہ کرے۔ اگر اللہ تعالیٰ تجھ پر تیری نیکیاں ظاہر کر دے تو تو کہے : (اے رب کریم ! ) یہ تیرا فضل اور احسان ہے یہ نیکیاں میرا فعل نہیں (بلکہ یہ کرم ہے) اور تو اس ارشاد کو یاد کرلے : فمن کان یرجوا لقآء ربہ… ال آیتہ۔ والذین یؤتون ما اتوا… الآیۃ (المومنون :60) یعنی جنہیں اخلاص دیا گیا ہے وہ ڈرتے ہیں کہ کیسے ہوگا ؟ فرمایا : ” جس نے اپنے اور اللہ تعالیٰ اور دار آخرت کے سوا کسی کو اپنے کسی عمل کے ساتھ طلب کیا تو وہ ریاکاری ہے۔ “ ہمارے علماء نے فرمایا : ریاکاری انسانکو لوگوں کے استہزا تک پہنچاتی ہے جیسا کہ حکایت ہے کہ طاہر بن حسین نے ابو عببداللہ مروزی سے کہا : تم اے عبداللہ ! کب سے عراق میں ہو ؛ اس نے کہا : میں بیس سال سے عراض میں ہوں اور میں تیس سال سے روزہ رکھ رہا ہوں۔ اس نے کہا : اے ابو عبداللہ ! ہم نے تجھ سے ایک سوال پوچھا آپ نے ہمیں دو مسئلے بتا دیے۔ اصمعی نے حکایت کیا ہے کہ ایک اعرابی نے نماز پڑھی اور بڑی لمبی نماز پڑھی اور اس کے قریب ایک قوم تھی انہوں نے کہا : کیا خوب تیری نماز تھی۔ اس نے کہا : اس کے ساتھ میں روزے سے بھی ہوں۔ اشعث بن قیس کا قول ہے کہ اس نے نماز پڑھی اور بہت تخفیف کی ان سے کہا گیا : تو نے بہت تخفیف کی ہے۔ اس نے کہا : اس میں ریاکاری کی دواء اور علاج لقمان کے قول سے گزر چکا ہے کہ وہ عمل کو چھپانا ہے۔ ترمذی حکیم نے خبر دی فرمایا : ہمیں جریر نے بتایا میرے باپ نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں حمانی نے خبر دی فرمایا ہمیں جریر نے بتایا انہوں نے لیث سے روایت کیا انہوں نے شیخ سے انہوں نے معقل بن یسار سے روایت کیا فرمایا : حضرت ابوبکر نے کہا اور انہوں نے اس کے ساتھ نبی پاک ﷺ پر گواہی دی فرمایا : نبی پاک ﷺ نے شرک کا ذکر کیا فرمایا : ” شرک تم میں چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ مخفی ہوتا ہے (2) ء میں تجھے ایک وظیفہ سکھاتا ہوں جب تو وہ کرے گا تو چھوٹا، بڑا شرک تجھ سے دور ہوجائے گا۔ تو کہہ : اللھم انی اعوذبک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرلنا لما لا اعلم (3) ” اے اللہ ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیرے ساتھ دانستہ شرک کروں اور میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں کہ میں غیر دانستہ شرک کروں “۔ تین بار کہے۔ عمر بن قیس کندی نے کہا : میں نے حضرت معاویہ کو سنا انہوں نے منبر پر یہ آیت تلاوت کی، فمن کان یرجوالقا آء ربہ۔ پھر کہا : یہ آخری آیت ہے جو آسمان سے نازل ہوئی اور حضرت عمر نے کہا (4): نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” مجھے وحی کی گئی ہے کہ جو فمن کان یرجوا لقآء ربہ… الخ۔ پڑھے گا اس کے لیے ایک نور بلند کیا جائے گا جو عدن سے مکہ تک فاصلہ جتنا ہوگا اس کو ملائکہ نے پُر کر کھا ہوگا جو اس بندے کے لیے دعا کرتے ہوں گے اور اس کے لیے استغفار کرتے ہوں گے۔ حضرت معاذ بن جبل نے کہا (1): نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جس نے سورة کہہف کا اول و آخر پڑھا اس کے لیے سر سے قدموں تک نور ہوگا اور جو پوری سرورت پڑھے اس کے لیے زمین سے لیکر آسمان تک نور ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ایک شخص نے ان سے کہا : میں رات کے وقت اٹھنے کا دل میں عزم کرتا ہوں لیکن مجھ پر نیند غالب آجاتی ہے۔ حضرت ابن عبب اس ؓ نے فرمایا : جب تو رات کے کسی وقت اٹھنا چاہے تو بستر پر سوتے وقت یہ آیت پڑھا کر۔ قل لو کان البحر مداداً لکلمت ربی… الخ۔ تو اللہ تعالیٰ تجھے بیدار کر دے گا جب تو اٹھنا چاہے گا۔ یہ فضائل ثعلبی نے ذکر کیے۔ پس مسند دارمی میں ہے ابو محمد نے کہا : ہمیں محمد بن کثیر نے بتایا انہوں نے اوزاعی سے انہوں نے عہدہ سے انہوں نے زربن حبیش سے روایت کیا ہے فرمایا : جس نے سورة کہف کا آخر تلاوت کیا وہ رات کو جس وقت اٹھنا چاہے گا اٹھ پڑے گا۔ عہدہ نے کہا : ہم نے اس کا تجربہ کیا تو ہم نے اسی طرح پایا۔ ابن عربی نے کہا : ہمارے شیخ طرطوشی اکبر کہتے تھے زمانے تم سے ہم عصروں سے لڑتے ہوئے اور بھائیوں سے تعلق جوڑتے ہوئے نہ گزر جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیان کو اس قول پر ختم کردیا ہے۔ فمن کان یرجوالقآء ربہ فلیعمل عملاً صالحاً ولا یشرک بعبادۃ ربہ احد۔۔