Ayahs 18:23–24آیت نمبر 23 تا 24
قولہ تعالیٰ : ولا تقولن لشایء انی فاعل ذلک غدا۔ الا ان یشاء اللہ اس میں دو مسلئے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: علماء نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس وقت عتاب فرمایا جب کفار نے آپ سے روح، نوجوانوں اور ذوالقرنین کے بارے سوال کیا تو آپ نے انہیں فرمایا : میں تمہارے سوالات کے جوابات کے بارے کل تمہیں آگاہ کروں گا اور آپ نے اس میں انشاء اللہ تعالیٰ نہ کہا۔ پس پندرہ دن تک آپ سے وحی رک گئی یہاں تک کہ آپ پر یہ شاق اور گراں گزرا اور کفار بھی آپ کے بارے باتیں کرکے آپ کو پریشان کرنے لگے، پس اس اضطراب اور پریشانی کو دور کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ سورت نازل فرمائی۔ اور اس آیت میں آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کسی کام کے بارے یہ نہ کہا کریں کہ میں کل اس اس طرح کر دوں گا، مگر یہ کہ آپ اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ معلق کریں تاکہ آپ خبر کے حکم کو ثابت کرنے والے نہ ہوں، کیونکہ جب کوئی یہ کہے : میں یہ ضرور کروں گا اور پھر وہ نہ کرے تو وہ جھوٹا ہوتا ہے، اور جب وہ یہ کہے میں ضرور اس طرح کروں گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو وہ مخبر عنہ کو ثابت کرنے کے حکم سے نکل گیا۔ پس قول باری تعالیٰ : لشایء میں لام قائم مقام فی کے ہے یا گویا کہ یہ کہا لأجل شئ۔
مسئلہ نمبر 2: ابن عطیہ نے کہا ہے : اس آیت میں لوگوں نے قسم میں انشاء اللہ کہنے کے بارے گفتگو کی ہے، حالانکہ یہ آیت قسم کے بارے نہیں ہے بلکہ یہ قسم کے سوا عام کلام میں انشاء اللہ کہنے کے بیان میں ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : الا ان یشآء اللہ اس کلام میں حذف ہے ظاہر اس کا تقاضا کرتا ہے اور ایجاز (اختصار) اسے حسین بنا رہا ہے، تقدیر کلام یہ ہے : الا ان تقول الا ان یشآء اللہ یا إلا ان تقول إن شاء اللہ۔ پس اس کا معنی یہ ہے : مگر یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا ذکر کریں۔ پس الا ان یشآء اللہ اس قول سے نہیں ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : جسے ابن عطیہ نے اختیار اور پسند کیا ہے وہی کسائی، فراء، اور اخفش کا قول ہے۔ بصریوں نے کہا ہے : اس کا معنی ہے الا بمشیۃ اللہ۔ پس جب کوئی انسان کہے أنا أفعل ھذا إن شاء اللہ تو اس کا معنی ہوتا ہے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ یہ کام کروں گا۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اور ایک جماعت نے کہا ہے : الا ان یشآء اللہ یہ قول باری تعالیٰ : ولا تقولن سے استثنا ہے۔ انہوں نے کہا : اس قول کو علامہ طبری نے بیان کیا ہے اور اس کا رد بھی کیا گیا ہے، اور یہ فساد میں سے ہے اس حیثیت سے یہ لازم ہے کہ اسے بیان نہ کیا جائے۔ اور استثناء فی الیمین اور اس کے حکم کے بارے بحث سورة المائدہ میں گزر چکی ہے۔
قولہ تعالیٰ : واذکر ربک : انسیت اس میں ایک مسئلہ ہے، اور وہ ہے نسیان کے بعد ذکر کا امر اور مامور بہ کے ذکر میں اختلاف ہے، پس کہا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : وقل عسیٰ ان یھدین ربی لاقرب من ھذا رشدا، محمد الکوفی مفسر نے کہا ہے : بیشک یہ اپنے الفاظ کے ساتھ ان میں سے ہے جس کے بارے حکم دیا گیا ہے کہ ہر وہ انہیں کہے جو انشاء اللہ نہ کہے، اور بلاشبہ یہ انشاء اللہ بھول جانے کا کفارہ ہے۔ اور جمہور نے کہا ہے : یہ دعا ہے جس کے بارے حکم دیا گیا ہے نہ کہ یہ تخصیص ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ اس کا قول وہ انشاء اللہ ہے جسے قسم کے وقت وہ بھول گیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا گیا ہے کہ اگر وہ انشاء اللہ بھول گیا پھر اسے یاد آگیا اگرچہ سال بعد تو وہ حانث نہیں ہوا اگر وہ قسم اٹھانے والا تھا، اور یہی حضرت مجاہد کا قول ہے۔ اور اسماعیل بن اسحاق نے اسے ابو العالیہ سے قول باری تعالیٰ : واذکر ربک اذا نسیت کے تحت بیان کیا ہے۔ فرمایا : وہ انشاء اللہ کہہ دے جب اسے یاد آجائے۔ حسن (رح) نے کہا ہے : (وہ کہہ دے) جب تک وہ مجلس ذکر میں ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : دو سال (بعد تک کہہ سکتا ہے) ؛ اسے غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا : پس اسے گناہ سے خلاصی پانے کے لئے انشاء اللہ کے ساتھ برکت حاصل کرنے کے تدارک پر محمول کیا جائے گا۔ اور رہا وہ انشاء اللہ کہنا جو حکما مفید ہو تو وہ صرف متصل کہنا ہی صحیح ہوتا ہے۔ سدی نے کہا ہے : مراد ہر وہ نما زہے جسے آدمی بھول جائے جب وہ اسے یاد آجائے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تو اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ استثنا کرتا کہ تو نہ بھولے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا ذکر کرو جب تک تم اسے بھول نہ جاؤ۔ اور یہ قول بھی ہے : جب تو کسی شے کو بھول جائے تو تو اس کا ذکر کر وہ تجھے اس کی یاد دلا دے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تو اس کا ذکر کر جب تو اس کے غیر کو بھول جائے یا تو اپنے آپ کو بھول جائے، پس وہی ذکر کی حقیقت ہے۔ اور اس آیت میں خطاب حضور نبی مکرم ﷺ کو ہے، اور اصح قول کے مطابق یہ استفتاح کلام (آغاذ کلام) ہے، اور استثناء فی الیمین میں سے اس میں کوئی شے نہیں ہے، اور یہ اس کے بعد آپ کی تمام امت کو عام ہے، کیونکہ یہ ایسا حکم ہے جو اپنے کثرت سے واقع ہونے کے سبب لوگوں میں مترود رہتا ہے۔ واللہ الموفق۔
Ayah 18:25آیت نمبر 25
یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے غار میں ٹھہرنے کی مدت کے بارے خبر ہے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت میں وقالوا لبثوا ہے۔ علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : بیشک نبی اسرائیل نے اس مدت میں اختلاف کیا جو مدت ان پر ان کے اظہار کے بعد سے لے کر حضور نبی مکرم ﷺ کی تشریف آوری کی مدت تک گزر چکی تھی، پس ان میں سے بعض نے کہا : بیشک وہ تین سو نو سال تک ٹھہرے رہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو اطلاع دی کہ یہ مدت ان کے سوئے رہنے کی ہے، اور وہ جو اس کے بعد ہے وہ آدمی کیلئے مجہول ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اس کا علم اس کی طرف لوٹا دے۔ (یعنی یہ کہ اس مدت کے بارے رب کریم بہتر جانتا ہے) ۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : پس اس بنا پر قول باری تعالیٰ میں پہلا لبثوا غار میں سونے کی مدت بیان کرنے کے لئے ہے۔ اور دوسرے لبثوا سے مراد اظہار کے بعد سے لے کر حضور نبی مکرم ﷺ کے ظہور کی مدت تک کا بیان ہے، یا اس وقت تک جب تک وہ بوسیدہ ہو کر معدوم نہیں ہوئے۔ حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا : نزول قرآن کے وقت تک۔ حضرت ضحاک نے کہا ہے : ان کے فوت ہونے کی مدت تک۔ اور ان میں سے بعض نے کہا ہے : بیشک جب فرمایا وازداود تسعا لوگوں کو معلوم نہ ہوا کہ یہ نو ساعتیں ہیں یا دن ہیں یا جمعے ہیں یا مہینے ہیں یا نو سال ہیں۔ اور بنی اسرائیل نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اس نو کے بارے میں علم اپنی طرف لوٹانے کا حکم ارشاد فرمایا، پس یہ اس بنا پر مبہم ہے۔ اور ظاہر کلام عرب کے مطابق جو اس سے سمجھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ سال ہیں۔ اور ان کے معاملے میں سے ظاہر یہ ہے کہ وہ کھڑے ہوئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تھوڑا بعد غار میں داخل ہوئے درآنحالیکہ حواریوں میں سے ابھی کچھ باقی تھے۔ اور اس کے علاوہ بھی اقوال بیان کئے گئے ہیں جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
علامہ قشیری نے کہا ہے : التسع سے نوراتیں اور نو ساعتیں نہیں سمجھی جا سکتیں اس لئے کہ اس سے پہلے سنین (سالوں) کا ذکر ہے، جیسا کہ تو کہتا ہے : عندی مائۃ درھم وخمسۃ (میرے پاس ایک سو درہم اور پانچ ہیں) تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک سو پانچ درہم (یعنی پانچ سے مراد بھی درہم ہی ہیں) ۔ اور ابو علی نے کہا ہے : وازدادوا تسعا یعنی إزداد و الیث تسع (انہوں نے ٹھہرنے میں نو زیادہ کئے) پس یہ (لبث) حذف کردیا گیا۔ اور ضحاک نے کہا ہے : جب آیت : ولبثوا فی کھفھم ثلث مائۃ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا : یہ تین سو سال ہیں یا مہینے ہیں یا جمعے ہیں (مراد ہفتے ہیں) یا دن ہیں تب اللہ تعالیٰ نے سنین نازل فرمایا (یعنی یہ تین سو سال ہیں) ۔ نقاش نے بیان کیا ہے : اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ دنوں کے حساب سے تین سو شمسی سال ٹھہرے رہے، کیونکہ جب یہاں عربی نبی ﷺ کو خبر دی جا رہی ہے اور تسع (نو) کا ذکر کیا گیا ہے، تو آپ کے نزدیک سنین سے بھی قمری سال ہی سمجھے گئے اور یہ زیادتی وہ ہے جو دو حسابوں (شمسی اور قمری سالوں) کے درمیان واقع ہے، اسی طرح غزنوی نے ذکر کیا ہے، یعنی شمسی سال اور قمری سال کے اختلاف کے سبب کیونکہ ہر تینتیس سال اور ایک سال کے ثلث میں ایک سال کا فرق بنتا ہے پس تین سو سال میں نو سال کا فرق ہوجائے گا
اور جمہور نے ثلث مائۃ سنین، مائۃ کو تنوین کے ساتھ اور سنین کو نصب کے ساتھ تقدیم و تاخیر کی بنا پر پڑھا ہے، ای سنین ثلثمائۃ پس صفت کو موصوف پر مقدم کیا گیا، تو اس بنا پر سنین بدل یا عطف بیان بن جائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تفسیر اور تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور سنین، سنۃ کے محل میں ہے۔ اور حمزہ اور کسائی نے مائۃ کو سنین کی طرف مضاف کرکے پڑھا ہے، اور تنوین کو ترک کردیا ہے، گویا انہوں نے سنین کو بمنزلہ سنۃ کے بنایا کیونکہ دونوں کا معنی ایک ہے۔ ابو علی نے کہا ہے : یہ وہ اعداد ہیں جو مشہور روایت کے مطابق آحاد کی طرف مضاف ہوتے ہیں، جیسے ثلثمائۃ رجل وثوب اور کبھی جمع کی طرف بھی مضاف ہوتے ہیں۔ اور مصحف عبد اللہ میں ثلثمائۃ سنۃ ہے۔ اور ضحاک نے ثلثمائۃ سنون واؤ کے ساتھ قرأت کی ہے۔ اور ابو عمرو نے اس کے خلاف تسعا کو تا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور جمہور نے اسے تا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور فراء، کسائی اور ابو عبیدہ نے کہا : تقدیر کلام ہے ولبثوا فی کھفھم سنین ثلثمائۃ۔
Ayah 18:26آیت نمبر 26
قولہ تعالیٰ : قل اللہ اعلم بما لبثوا کہا گیا ہے : اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اس مدت کے بارے میں جو ان کی موت کے بعد سے لے کر ان کے بارے میں قرآن کریم نازل ہونے تک ہے، یہ حضرت مجاہد (رح) کے قول کی بنا پر ہے یا ان کے فوت ہونے تک کی مدت مراد ہے، یہ حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے یا بوسیدہ ہو کر ان کے متغیر ہونے کے وقت تک کی مدت مراد ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس مدت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے جتنی مدت وہ غار میں ٹھہرے رہے۔ اور یہ وہ مدت ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یہود کی جانب سے کیا ہے اگرچہ انہوں نے زیادہ یا کم ذکر کی، یعنی اللہ تعالیٰ یا اس کے سوا جسے اللہ تعالیٰ نے اس کا علم دیا ہے، اس کے بارے کوئی نہیں جانتا، لہ غیب السموت والارض (اس کیلئے آسمانوں اور زمین کا علم غیب ہے) ۔
قولہ تعالیٰ : ابصر بہ واسمع یعنی وہ کتنا دیکھنے والا اور کتنا سننے والا ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ سے زیادہ نہ کوئی دیکھنے والا ہے اور نہ سننے والا ہے۔ یہ ادراک سے متعلقہ عبارات ہیں۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ابصر بہ کا معنی ہو یعنی آپ دیکھیں اس کی وحی کے ساتھ اور اس کی راہنمائی کے ساتھ جو اس نے آپ کی طرف فرمائی اور آپ کی دلائل اور حجتیں عطا فرمائیں اور امور کے حقائق سے آپ کو آگاہ کیا، اور اسی کے ساتھ عالم کو سنائیں، تو اس صورت میں یہ دونوں امر کے صیغے ہوں گے نہ کہ یہ صیغہ تعجب ہوں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے آپ انہیں دکھائیں اور انہیں وہ سنائیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے۔ مالھم من دونہ من ولی یعنی اصحاب کہف کیلئے کوئی ولی نہیں سوائے اللہ ے تعالیٰ کے جو ان کی حفاظت کا ولی اور نگران ہو۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ لھم کی ضمیر حضور نبی مکرم ﷺ کے ہمعصر کفار کی طرف لوٹ رہی ہو، اور اس کا معنی ہو : ان کے ٹھہرنے کی مدت میں ان اختلاف کرنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ولی نہیں جو ان کے معاملے کی تدبیر کرسکتا ہو، پس وہ اس سے زیادہ عالم کیسے ہو سکتے ہیں، یا اس کے انہیں سکھائے بغیر وہ اسے کیسے جان سکتے ہیں۔
قولہ تعالیٰ : ولا یشرک حکمہ احدا اسے یا اور کاف کے رفع کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خبر کے معنی پر ہے۔ اور ابن عامر، حسن، ابورجا، قتادہ اور جحدی رحمہم اللہ تعالیٰ نے ولا تشرک تا کے ساتھ اور کاف کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ خطاب حضور نبی مکرم ﷺ کو ہے، اور اس کا قول ولا تشرک کا ابصر بہ واسمع پر عطف ہوگا۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے یشرک یا اور جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعقوب نے کہا ہے : میں اس کی وجہ نہیں جانتا۔
مسئلہ : اصحاب کہف کے بارے میں یہ اختلاف ہے کہ کیا وہ فوت ہوگئے اور فناہ ہوگئے یا وہ سوئے پڑے ہیں اور ان کے جسم محفوظ ہیں، پس حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے کسی غزوہ میں لوگوں کے ساتھ اصحاب کہف کی جگہ اور ان کے پہاڑ کے پاس سے گزرے، تو لوگ آپ کی معیت میں اس کی طرف چل کر گئے تو انہوں نے وہاں ہڈیاں پائیں تو انہوں نے کہا : یہ اصحاب کہف کی ہڈیاں ہیں۔ تو حضرت ابن عباس ؓ نے انہیں کہا : وہ تو ایسی قوم ہے جو طویل مدت سے فناہ اور معدوم ہوگئے ہیں، پس یہ بات ایک راہب نے سنی تو اس نے کہا : میں عربوں میں سے کسی کے بارے میں یہ خیال نہیں کرتا کہ وہ اسے جانتا ہو، تو اس کو بتایا گیا کہ یہ ہمارے نبی ﷺ کے چچا کے بیٹے ہیں۔ اور ایک گروہ نے روایت کیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ضرور حج کریں گے اور ان کے ساتھ اصحاب کہف ہوں گے کیونکہ انہوں نے ابھی تک حج ادا نہیں کیا “۔ اسے ابن عطیہ نے ذکر کیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور یہ کہ آپ حج یا عمرہ کرنے کیلئے روحاء سے گزریں گے یا اللہ تعالیٰ آپ کیلئے ان (دونوں) کو جمع کر دے گا۔ پس اللہ تعالیٰ اصحاب کہف اور رقیم کو آپ کا حواری بنا دے گا، پس وہ حج کرتے ہوئے گزریں گے کیونکہ نہ انہوں نے حج کیا ہے اور نہ وہ فوت ہوئے ہیں اور ہم نے یہ روایت مکمل طور پر کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کی ہے۔ پس اس بنا پر تو وہ سوئے پڑے ہیں اور یوم قیامت تک نہیں مریں گے، بلکہ قیامت سے تھوڑا پہلے انہیں موت آئے گی۔
Ayah 18:27آیت نمبر 27
قولہ تعالیٰ : واتل ما اوحی الیک من کتاب ربک، لا مبدل لکلمتہ کہا گیا ہے : یہ اصحاب کہف کے تمام قصہ کے بارے میں، یعنی آپ قرآن کریم کی اتباع اور پیروی کریں پس اللہ تعالیٰ کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں اور نہ اس کے خلاف ہو سکتا ہے جو اس نے اصحاب کہف کے واقعہ کے بارے خبر دی ہے۔ اور علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے جن کلمات کے ساتھ گنہگاروں اور اس کی کتاب کی مخالفت کرنے والوں کو وعید سنائی ہے انہیں کوئی تبدیل کرنے والا نہیں۔ ولن تجد اور آپ ہرگز نہیں پائیں گے من دونہ اس کے سوا (کوئی پناہ گاہ) اگر آپ نھے قرآن کریم کی اتباع اور پیروی نہ کی اور آپ نے اس کی مخالفت کی۔ ملتحدا یعنی پناہ گاہ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے مائل ہونے کی جگہ۔ اور اس کی اصل المیل (مائل ہونا، جھکنا) ہے ؛ اور یہ لجأت إلیہ سے ہے یعنی میں اس کی طرف مائل ہوا۔ (میں نے اس کے پاس پناہ لی) ۔ قشیری ابو نصر عبد الرحیم نے کہا ہے : یہ اصحاب کہف کے قصہ کا آخر ہے، جب حضرت امیر معاویہ ؓ روم کی طرف غزوہ المضیق پر گئے اور آپ کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ بھی تھے پس وہ اس غار کے پاس جا کر رکے جس میں اصحاب کہف تھے، تو حضرت امیر معاویہ ؓ نے کہا : اگر ہمارے لئے انہیں ظاہر کردیا جائے تو ہم انہیں دیکھ لیں، ان کی زیارت کرلیں، تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : تحقیق اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے روک دیا ہے جو آپ سے بہتر اور افضل ہے، اور ارشاد فرمایا : لو اطلعت علیہم لولیت منھم فرارا (اگر تو جھانک کر انہیں دیکھے تو ان سے منہ پھیر کر بھاگ کھڑا ہو) ۔ تو انہوں نے کہا : میں باز نہیں آؤں گا یہاں تک کہ میں ان کے بارے جان لوں اور اس کام کے لئے انہوں نے ایک جماعت بھیجی، پس جب وہ غار میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ہوا بھیج دی تو اس نے انہیں باہر نکال دیا، اسے ثعلبی (رح) نے بھی ذکر کیا ہے اور یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ وہ آپ کو ان کی زیارت کرائے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بلاشبہ آپ انہیں دار دنیا میں نہیں دیکھ سکتے بلکہ آپ اپنے اخیار صحابہ کرام میں سے چار کو ان کی طرف بھیجئے تاکہ وہ آپ کی رسالت کا پیغام ان تک پہنچائیں اور انہیں ایمان کی دعوت دیں ؛ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا : ” میں انہیں کیسے بھیج سکتا ہوں “ ؟ تو انہوں نے کہا : آپ اپنی چادر بچھائیں اور اس کی اطراف میں سے ایک طرف پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو، دوسری طرف پر حضرت عمر ؓ کو اور اس کی تیسری طرف حضرت عثمان ؓ کو اور چوتھی طرف پر حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو بٹھا دیں، پھر اس نرم پوا کے بلائیے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کی گئی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے حکم دے رہا ہے کہ وہ آپ کی اطاعت اور پیروی کرے۔ پس آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا تو ہوا انہیں اٹھا کر غار کے دروازے تک لے گئی، پس انہوں نے اس کا ایک پتھر اکھیڑ دیا تو کتے نے ان پر حملہ کردیا لیکن جب اس نے انہیں دیکھا تو وہ اپنا سر اور اپنی دم ہلانے لگا اور ان کی طرف اپنے سر سے اشارہ کیا کہ داخل ہوجاؤ چناچہ وہ غار میں داخل ہوئے اور انہوں نے کہا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، تو اللہ تعالیٰ نے ان جوانوں کی طرف ان کی ارواح کو لوٹا یا اور وہ تمام کے تمام کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا : علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، تو انہوں نے ان کو کہا : اے جوانوں کے گروہ ! بیشک نبی محمد بن عبد اللہ ﷺ کو سلام فرماتے ہیں اور انہوں نے آپ ﷺ کا دین قبول کرلیا اور وہ اسلام لے آئے، پھر انہوں نے کہا : ہماری طرف سے محمد رسول اللہ ﷺ کو سلام پیش کرنا، انہوں نے اپنے بستر لے لئے اور آخر زمانہ میں امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور تک اپنی نیند میں ہوگئے۔ پس کہا جاتا ہے کہ امام مہدی (علیہ السلام) انہیں سلام فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں زندہ کر دے گا (بیدار کر دے گا) پھر وہ اپنی نیند کی طرف لوٹ جائیں گے اور پھر وہ قیامت قائم ہونے تک نہیں اٹھیں گے، پس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے بارے خبر دی جو ان کے متعلق تھا، پھر ہوا انہیں لوٹا لائی تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تم نے انہیں کیسے پایا ہے “ ؟ تو انہوں نے آپ کو پوری خبر سے آگاہ کیا، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے کہا : اے اللہ ! میرے درمیان اور میرے اصحاب اور میرے سسرال کے درمیان تفریق نہ کرنا اور اسے بخش دے جس نے مجھ سے محبت کی اور میرے اہل بیت، میرے خواص اور میرے اصحاب کے ساتھ محبت کی “۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک اصحاب کہف حضرت مسیح (علیہ السلام) سے پہلے غار میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو ان کے بارے خبر دی پھر انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ کے درمیان زمانہ فترت میں اٹھایا گیا، بیدا کیا گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے تھے اور یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات میں ان کا ذکر کیا ہے، اسی وجہ سے یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے بارے سوال کیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بعد غار میں داخل ہوئے، پس ان کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
Ayah 18:28آیت نمبر 28
قولہ تعالیٰ : واصبر نفسک۔۔۔۔۔ والعشی یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی مثل ہے : ولا تطرد۔۔۔۔ والعشی (الانعام : 52) (اور نہ دور ہٹاؤ انہیں جو پکارتے رہتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام) یہ سورة الانعام میں ہے اور اس کے بارے کلام گزر چکی ہے۔ اور حضرت سلمان فارسی ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مولفۃ قلوب آئے۔ یعنی عینیہ بن حصن اور اقرع بن حابس اور انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ بلاشبہ اگر آپ صدر مجلس میں تشریف رکھیں اور آپ ہم سے انہیں اور ان کے جبوں کی بوکو دور کریں۔ مراد حضرت سلمان، حضرت ابوذر ؓ اور مسلمان فقراء ہیں، وہ اون کے جبے پہنے ہوئے تھے اور ان پر ان کے سوا کچھ نہ تھا۔ تو ہم آپ کے پاس بیٹھتے ہیں اور آپ سے گفتگو کرتے ہیں اور آپ سے کچھ لیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : واتل ما اوحی الیک۔۔۔۔۔۔ بھم سرادقھا یعنی اللہ تعالیٰ انہیں آگ سے ڈرا رہا ہے اور اس کی دھمکی دے رہا ہے۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ انہیں تلاش کرنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ جب آپ نے انہیں مسجد کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے پایا تو کہا : ” سب تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے مجھے موت نہیں دی یہاں تک کہ مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنے آپ کو اپنی امت کے ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھوں، تمہارے ساتھ ہی جینا ہے اور تمہارے ساتھ ہی مرنا ہے “۔ (الحمدللہ الذی لم یمتنی حتی امرنی أن أصبر نفسی مع رجال من امتی، معکم المحیا ومعکم الممات) ۔
یریدون وجھہ وہ اللہ تعالیٰ کی طاعت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور نصر بن عاصم، مالک بن دینار، اور ابو عبد الرحمن نے ولا تطرد الذین۔۔۔۔ والعشی (الانعام : 52) پڑھا ہے۔ اور ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ عام لوگوں میں واؤ کے ساتھ ہے۔ اور ابو جفعر نحاس نے کہا ہے : یہ ان کے حیاۃ اور صلاۃ واو کے ساتھ لکھنے سے لازم نہیں آتا، اور نہ قریب قریب عرب الغدوۃ کہتے ہیں کیونکہ یہ معروف ہے۔ اور حسن سے روایت ہے ولا تعد عینک عنھم یعنی آپ کی آنکھیں ان کے سوا کی طرف تجاوز نہ کریں جو کہ دنیا کے بیٹے ہیں اور اس کی زینت کے طلبگار ہیں، اسے یزیدی نے بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ کی آنکھیں انہیں حقیر نہ جانیں، جیسا کہ کہا جاتا ہے : فلان تنبر عنہ العین یعنی فلاں کو حقیر جانتے ہوئے، آنکھ اس سے دور ہوگئی۔
ترید رینۃ الحیوۃ الدنیا یعنی کیا آپ ان سرداروں کے ساتھ بیٹھنے کو زینت بخشیں گے جنہوں نے آپ کو اپنی مجلس سے فقراء کو دور ہٹانے کی تجویز دی ہے، حالانکہ نبی مکرم ﷺ نے ایسا کرنے کا ارادہ نہیں فرمایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس طرح کرنے سے منع کردیا، تو یہ اس قول سے زیادہ نہیں ہے : لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزمر :65) (کہ اگر (بفرض محال) آپ نے بھی شرک کیا تو ضائع ہوجائیں گے آپ کے اعمال) اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو شرک سے محفوظ اور بچا کر رکھا ہے۔ اور ترید فعل مضارع حال کے محل میں ہے، یعنی آپ کی آنکھیں تجاوز نہ کریں درآنحالیکہ آپ ارادہ رکھتے ہوں۔ (لاتعد عیناک مریدا) ۔ جیسا کہ امری القیس کا قول ہے :
فقلت لہ لا تبک عینک إنما نحاول ملکا أو نموت فنعذرا
اور بعض نے کہا ہے کہ اصل کلام یہ ہے : لا تعد عینیک عنھم (یعنی آپ ان سے اپنی آنکھیں نہ پھیریں) کیونکہ تعد بذات خود متعدی ہے۔ آپ کو کہا گیا ہے : وہ جس کے سبب رفع عینین کی آیت نازل ہوئی وہ دونوں میں معنی نصب کی طرف راجع ہے، کیونکہ لا تعد عیناک عنھم قائم مقام لا تنصرف عیناک عنھم کے ہے، تو لا تنصرف عیناک عنھم کا معنی ہے لا تنصرف عینیک عنھم، یعنی آپ کی آنکھیں ان سے نہ پھریں کا معنی ہے آپ ان سے اپنی آنکھیں نہ پھیریں ؛ پس فعل کی نسبت عینین (آنکھوں) کی طرف کی گئی ہے اور یہ فی الحقیقت حضور نبی مکرم ﷺ کی طرف توجہ کی گئی ہے ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : فلا تعجبک اموالھم (التوبہ 55) (سو نہ تعجب میں ڈال دیں تمہیں ان کے مال) ۔ تو اس میں الاعجاب کی نسبت اموال کی طرف کی گئی ہے، اور اس کا معنی ہے : لا تعجبک یا محمد أموالھم (اے محمد ! ﷺ ان کا مال آپ کو تعجب میں نہ ڈالے) اور آپ کیلئے مزید وضاحت زجاج کا قول کرتا ہے : بیشک اس کا معنی ہے آپ اپنی نگاہیں ان سے ان کے غیر کی طرف نہ پھیریں جو کہ صاحب حیثیت وزینت ہیں۔ (لاتصرف بصرک عنھم إلی غیرھم من ذوی الھیئات والزینۃ) ۔
قولہ تعالیٰ : ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا جو یبر نے ضحاک سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری تعالیٰ : ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا کے بارے میں روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : کہ یہ ارشاد امیہ بن خلف جمحی کے بارے نازل ہوا، وہ اس لئے کہ اس نے حضور نبی مکرم ﷺ کو ایک ایسے امر کی دعوت دی جسے آپ نے ناپسند کیا اور وہ یہ کہ آپ فقراء کو اپنے آپ سے دور کردیں اور اہل مکہ کے سرداروں کو اپنے قریب کریں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا : ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا یعنی آپ اس کی پیروی نہ کریں جس کے دل پر ہم نے مہر لگا دی ہے اس سے کہ وہ توحید قبول کرے۔ واتبع ھوہ (اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے) یعنی شرک کرتا ہے۔ وکان امرہ فرطا کہا گیا ہے : کہ فرط اس تفریط سے ہے جس کا معنی تقصیر (کمی کرنا، کوتاہی کرنا) ہے اور ایمان ترک کرنے کے سبب عجز کو مقدم کرنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ یہ افراط اور حد سے تجاوز کرنے سے ہے، اور اس قوم نے کہا تھا : ہم مضر کے اشراف اور سردار ہیں اگر ہم اسلام لے آئے تو بہت سے لوگ بھی اسلام قبول کرلیں گے۔ اور انہوں نے تکبر اور قول میں افراط اور زیادتی کے سبب یہ کہا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ فرطا سے مراد شر میں واقع ہونا ہے۔ یہ ان کے اس قول سے ہے : فرط منہ أمر یعنی معاملہ اس سے بڑھ گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ اغفلنا قلبہ کا معنی ہے ہم نے اسے غافل پایا، جیسا کہ تو کہتا ہے : لقیت فلانا فأحدتہ، یعنی میں نے اسے محمود (قابل تعریف) پایا۔ اور عمرو بن معد یکرب نے بنی حارث بن کعب کو کہا : قسم بخدا ! ہم نے تم سے مانگا اور تمہیں بخیل نہ پایا، اور ہم نے تمہارے ساتھ قتال کیا اور ہم نے تمہیں بزدل نہ پایا، اور ہم نے تمہیں جوش دلایا اور تمہیں خاموش نہ پایا (واللہ لقد سألناکم فما أبخلنا کم وقاتلنا کم فما أجبنا کم وھاجیناکم فما أفعمناکم یعنی ما وجدنا کم بخلاء ولا جبناء ولا مفحمین) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت عینیہ بن حصن فزاری کے بارے میں نازل ہوئی، یعنی ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا اسے عبد الرزاق نے ذکر کیا ہے، اور اسے نحاس نے حضرت سفیان ثوری سے بیان کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 18:29آیت نمبر 29
قولہ تعالیٰ : وقل الحق من ربکم، فمن شآء فلیومن ومن شآء فلیکفر اس میں الحق مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، ای قل ھو الحق۔ (فرمائیے وہ حق ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، اور اس کی خبر قول باری تعالیٰ من ربکم ہے۔ اور آیت کا معنی ہے : اے محمد ! ﷺ آپ فرمائیے ان لوگوں کو جن کے دلوں کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے : اے لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے ہی حق ہے اور اسی کے پاس توفیق عطا کرنا اور رسوا کرنا ہے، اسی کے دست قدرت میں ہدایت دینا اور گمراہ کرنا ہے، وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے پس وہ ایمان لے آتا ہے اور وہ گمراہ کردیتا ہے جسے چاہتا ہے پس وہ کافر ہوجاتا ہے، اس میں سے میرے پاس کوئی شے نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ حق عطا فرما دیتا ہے جسے چاہتا ہے اگرچہ وہ ضعیف اور کمزور ہو، اور جسے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے اگرچہ وہ طاقتور اور غنی ہو، اور میں تمہاری خواہش اور پسند پر مومنین کو نہیں بھگا سکتا (انہیں اپنے سے دور نہیں ہٹا سکتا) لہٰذا اگر تم چاہو تو ایمان قبول کرلو اور اگر چاہو تو کافر رہو۔ اور یہ ایمان اور کفر کے درمیان کوئی اختیار دینا اور رخصت دینا نہیں، بلکہ یہ تو وعید اور جھڑک ہے، یعنی اگر تم نے کفر اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے، اور اگر تم ایمان لے آئے تو تمہارے لئے جنت ہوگی۔
قولہ تعالیٰ : انا اعتدنا یعنی ہم نے تیار کر رکھی ہے۔ للظلمین یعنی کفر کرنے والوں اور انکار کرنے والوں کیلئے نارا، احاط بھم سرادقھا علامہ جوہری نے کہا ہے : السرادق السرادقات کی واحد ہے وہ جو گھر کے صحن میں پھیلائے جاتے ہیں (خیمے، ٹینٹ) اور ہر وہ گھر جو روئی سے بنایا جائے سرادق کہلاتا ہے۔ جیسا کہ رؤبہ نے کہا ہے :
یا حکم بن المنذر بن الجارود سرادق المجد علیک ممدود
کہا جاتا ہے : بیت مسروق۔ اور سلام بن جندل أبرو یزکا ذکر کرتا ہے اور اسے نعمان بن منذر نے ہاتھی کے پاؤں کے نیچے روند کر قتل کردیا تھا۔
ھو المدخل النعمان بیتأ سماؤہ صدور الفیول بعد بیت مسروق
ابن اعرابی نے کہا ہے : سرادقھا اس (آگ) کی فصیل۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : آگ کی دیوار۔ کلبی (رح) نے کہا ہے : آگ سے ایک گردن سی نکلے گی اور وہ کفار کو باڑ کی طرح گھیر لے گی۔ قتبی نے کہا ہے : السرادق سے مراد وہ رکاوٹ اور باڑ ہے جو خیمے کے اردگرد لگائی جاتی ہے، اور یہی ابن عزیز نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس سے مراد دھواں ہے جو قیامت کے دن کافروں کو گھیر لے گا، اور یہ وہی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة المرسلات میں کیا ہے اس حیثیت سے کہ وہ فرماتا ہے : انطلقوا الیٰ ظل ذی ثلث شعب (المرسلات) (چلو اس سایہ کی طرف جو تین شاخوں والا ہے) اور ارشاد گرامی ہے : وظل من یحموم (الواقعہ) (اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے) ، یہ حضرت قتادہ نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ وہ سمندر ہے جو دنیا کو گھیرے ہوئے ہے۔ اور یعلی بن امیہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : البحر وہ جہنم ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ نارا احاط بھم سرادقھا۔ پھر فرمایا : قسم بخدا ! میں اس میں کبھی داخل نہیں ہوں گا جب تک میں زندہ رہا اور نہ اس سے کوئی قطرہ مجھے پہنچے گا “۔ اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ اور ابن المبارک نے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جہنم کے سرادق چار مضبوط اور موٹی دیواریں ہیں ہر دیوار چالیس برس کی مسافت کی ہے “ اسے ابو عیسیٰ ترمذی نے نقل کیا ہے۔ اور کہا ہے : یہ حدیث حسن، صحیح، غریب ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ وضاحت اس پر دلالت کرتی ہے کہ سرادق سے مراد وہ دھواں یا آگ، اور وہ دیواریں ہیں جن
کا یہ وصف بیان کیا گیا ہے جو کفار پر غالب آجائیں گے۔
قولہ تعالیٰ : وان یستغیثوا۔۔۔۔ الوجوہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : المھل سے مراد گاڑھا پانی ہے جیسا کہ تیل کی تلچھٹ ہوتی ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس سے مراد پیپ اور خون ہے۔ حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : یہ کالے رنگ کا پانی ہے، بلاشبہ جہنم (تاریک) اور سیاہ ہے، اس کا پانی سیاہ ہے، اس کے درخت سیاہ ہیں اور اس کے باسی بھی سیاہ ہوں گے۔ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : زمین کے جواہر میں سے ہر وہ شے جسے پگھلا دیا جائے مثلا لوہا، سیسہ، تانبہ اور قذویر (ایک دھات) اور وہ ابلنے کے سبب کھول رہی ہو، تو وہی مہل ہے۔ اور اسی طرح حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے بیان کیا ہے : مراد وہ ہے جس کی گرمائش اور حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہو۔ اور کہا ہے کہ المھل تارکول کی ایک قسم ہے، کہا جاتا ہے : مھلت البعیر فھو ممھول (میں نے اونٹ پر تارکول ملا تو وہ تارکول والا ہوگیا) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زہر ہے۔ اور ان تمام اقوال میں معنی قریب قریب ہے۔ اور ترمذی میں حضرت نبی مکرم ﷺ سے قول باری تعالیٰ : کالمھل کے بارے میں روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” یہ تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوتا ہے پس جب کوئی اسے اپنے چہرے کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی چمک اور رونق ختم ہوجائے گی “۔ ابو عیسیٰ نے کہا ہے : اس حدیث کو ہم صرف رشدین بن سعد کی حدیث سے پہچانتے ہیں اور رشدین اپنی قوت حفظ کے اعتبار سے متکلم فیہ راوی ہے۔ اور حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے قول باری تعالیٰ : ویسلی من مآء صدید۔ (ابراہیم) (پلایا جائے گا اسے خون اور پیپ کا پانی وہ بمشکل ایک ایک گھونٹ بھرے گا) ۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” اسے اس کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ اسے ناپسند کرے گا پس جب اسے اس کے قریب کیا جائے گا تو یہ اس کے چہرے کو بھون ڈالے گا اور اس کے سر کی کھال بالوں سمیت ادھڑ جائے گی اور جب وہ اسے پیئے گا تو یہ اسکی آنتوں کو کاٹ دے گا یہاں تک کہ اس کی دبر سے نکل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وسقوا مآء جمیعا فقطع امعآءھم۔ (محمد) (اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا اور وہ کاٹ دے گا ان کی آنتوں کو) ۔ مزید فرماتا ہے : وان یستغیثوا۔۔۔۔۔ وسآءت مرتفقا۔ فرمایا : یہ حدیث غریب ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ روایت ان اقوال کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور اس پر کہ یہی مراد ہے۔ واللہ اعلم۔ اسی طرح اہل لغت نے بھی اسے بیان کیا ہے۔ صحاح میں ہے المھل سے مراد پگھلا ہوا تانبہ ہے۔ ابن اعرابی نے کہا ہے : المھل سے مراد پگھلایا ہوا سیسہ ہے۔ اور ابو عمرو نے کہا ہے : المھل سے مراد تیل کی تلچھت ہے۔ اور المھل سے مراد پیپ بھی ہے، اور حضرت ابوبکر کی حدیث میں ہے : تم مجھے میرے انہی دو کپڑوں میں دفن کرنا کیونکہ یہ دونوں مہل اور مٹی کیلئے ہیں۔ اور مرتفقا حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے مجمعا (جمع کیا ہوا) ، گویا آپ مرافقت کے معنی کی طرف گئے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : اس سے مراد منزل (ٹھکانا) ہے۔ حضرت عطا نے کہا ہے : اس کا معنی قرارگاہ ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی مھادا (بچھونا) ہے۔ اور قتبی نے کہا ہے : مراد مجلس (بیٹھنے کی جگہ) ہے۔ اور یہ تمام معنی باہم متقارب ہیں، اور اس کی اصل المتکا (وہ شے جس سے ٹیک لگائی جائے) ہے۔ اسی سے کہا جاتا ہے : إرتفقت یعنی میں نے کہنی پر ٹیک لگائی۔ شاعر نے کہا ہے :
قالت لہ وارتفقت ألافتی یسوق بالقوم غزالات الضحا
اور کہا جاتا ہے : إرتفق الرجل جب آدمی اپنی کہنی پر سوئے اسے نیند نہیں آتی۔ ابوذؤیب ہذلی نے کہا ہے :
نام الخلی وبت اللیل مرتفقا کأن عینی فیھا الصاب مذبوح
اور الصاب سے مراد کڑوے درخت کا نچوڑ اور جوس ہے۔
Ayahs 18:30–31آیت نمبر 30 تا 31
جب اللہ تعالیٰ نے اس ذلت و رسوائی کا ذکر کیا جو اس نے کافروں کے لئے تیارع کر رکھی ہے تو پھر اس اجر وثواب کا بھی ذکر کیا جو اس نے مومنوں کیلئے تیار کیا ہے۔ اور اس کلام میں اضمار ہے ل یعنی لانضیع أجر من أحسن منھم عملا، فأما من أحسن عملا من غیر المؤمنین فعملہ محبط۔ (ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو ان میں سے اچھا کام کرتا ہے اور رہا وہ جو مومنوں کے سوا کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اس کا عمل ضائع اور رائیگاں چلا جاتا ہے) ۔ اور عملا تمییز ہونے کی بنا پر منصوب ہے، اور اگر تو چاہے تو اس پر أحسن کو واقع کرکے اسے نصب دے دے۔ اور کہا گیا ہے کہ انا لا نضیع اجر من احسن عملا کلام معترض ہے، اور خبر قول باری تعالیٰ : اولئک لھم جنت عدن ہے۔ اور جنت عدن جنت کے درمیان میں ہے اور باقی تمام جنات اس کے اردگرد ہیں۔ اور اس کی وسعت کے سبب اسے لفظ جمع کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ اسکا ہر حصہ اور ٹکڑا جنت ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : العدن کا معنی اقامت اختیار کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے : عدن بالمکان جب وہ اس جگہ اقامت اختیار کرلے۔ اور عدنت البلد میں نے شہر کو عطن بنا لیا۔ عدنت الابل بمکان کذا یعنی اونٹ نے اسے لازم پکڑ لیا پس وہ مسلسل وہاں رہا۔ اور اسی سے جنت عدن یعنی جنات اقامۃ ہے۔ اور اسی سے معدن (دال کے کسرہ کے ساتھ) نام رکھا گیا ہے، کیونکہ لوگ اس میں موسم گرما اور موسم سرما میں مقیم ہوتے ہیں۔ اور ہر شے کا مرکز اس کا معدن ہوتا ہے۔ اور العاون وہ اونٹنی ہے جو چراگاہ میں مقیم ہو اور عدن شہر بھی ہے ! یہ جوہری نے کہا ہے۔ تجری من تحتم الانھر کئی مقامات پر اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ یحلون فیھا من اساور من ذھب اس میں اساور سوار کی جمع ہے۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا : ان میں سے ہر ایک تین کنگن پہنے ہوگا : ایک سونے کا ہوگا، ایک چاندی کا ہوگا، اور ایک موتیوں کا ہوگا۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے، یہاں فرمایا : من ذھب سونے کا اور سورة الحج اور فاطر میں فرمایا : من فضۃ (چاندی کا) اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا ہے، میں نے اپنے خلیل حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو (کا پانی) پہنچتا ہے “۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور فراء نے بیان کیا ہے : یحلون یہ یا کے فتحہ، حا کے سکون، اور لام کے فتحہ خفیفہ کے ساتھ ہے۔ کہا جاتا ہے : حلیت المرأۃ تحی فھی حالیۃ جب عورت زیور پہن لے۔ اور حی الشی بعینی یحلی (چیز میری آنکھوں میں بھلی معلوم ہوئی) ؛ اسے نحاس نے ذکر کیا ہے۔ اور السوار سے مراد عورت کے کنگن ہیں۔ اور اس کی جمع أسورۃ اور الجمع أس اور ۃ ہے۔ اور فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھط (الزخرف : 53) بھی پڑھا گیا ہے اور کبھی جمع أساور آتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یحلون فیھا من اساور من ذھب یہ جوہری نے کہا ہے۔ اور عزیز نے کہا ہے : أساور أسورۃ کی جمع ہے، اور أسورۃ سوار اور سوار کی جمع ہے، اور یہ سونے کا وہ زیور ہے جو بازوں میں پہنا جاتا ہے، اور اگر یہ چاندی کا ہو تو پھر یہ قلب کہلاتا ہے اور اس کی جمع قلبۃ ہے، اور اگر یہ سینگ یا ہاتھی دانت وغیرہ کا بنا ہوا ہو تو پھر یہ مسکۃ کہلاتا ہے اور اس کی جمع مسک ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اور قطرب نے الأساور کی واحد میں أسوار ذکر کیا ہے، اور قطرب شذوذ بیان کرنے والے ہیں، یعقوب وغیرہ نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ اور اسے ذکر نہیں کیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : تحقیق صحاح میں ہے اور ابو عمرو بن علاء نے کہا ہے : اس کی واحد اسوار ہے۔ اور مفسرین نے کہا ہے : جب بادشاہ دنیا میں کنگن اور تاج پہنتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اہل جنت کے لئے بنا دیا ہے۔ قولہ تعالیٰ : ویلبسون ثیابا خضرا من سندس واستبرق، السندس سے مراد باریک اور کمزور ریشم ہے۔ اس کا واحد سندسۃ ہے ؛ یہ کسائی نے کہا ہے۔ اور الاستبرق سے مراد موٹا ریشم ہے، یہ عکرمہ سے منقول ہے۔ اور یہ ریشم ہے۔ شاعر نے کہا ہے :
تراھن یلبس المشاعر مرۃ واستبرق الدیباج طورا لباسھا
پس استبرق سے مراد الدیباج (ریشم) ہے۔ ابن بحر نے کہا ہے : وہ جو سونے کی تاروں کے ساتھ بنا گیا ہے۔ اور قتبی نے کہا ہے : یہ لفظ فارسی سے معرب ہے۔ جوہری نے کہا ہے : اس کی تصغیر ابیرق ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ البریق سے باب استفعال ہے۔ اور صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں لغتوں کے ساتھ موافقت رکھتا ہے، کیونکہ قرآن کریم میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو لغت عرب میں نہ ہو۔ جیسا کہ یہ پہلئ گزر چکا ہے۔ واللہ اعلم۔
اور خاص طور پر سبز لباس کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ نگاہوں کے موافق ہوتا ہے، کیونکہ سفید نظر کو بکھیر دیتا ہے، متفرق کردیتا ہے اور درد پہنچاتا ہے۔ اور سیاہ رنگ کی مذمت کی گئی ہے، اور سبز رنگ سفید اور سیاہ کے درمیان درمیان ہوتا ہے، اور یہ شعاعوں کو جذب کرلیتا ہے۔ واللہ اعلم۔ نسائی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا : اس اثنا میں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے جب کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ ہمیں جنت کے کپڑوں کے بارے میں بتائیے، کیا یہ مخلوق ہے جسے پیدا کیا جائے گا یا بنا ہوا ہے جسے بنا جائے گا ؟ تو بعض لوگ ہنس پڑے۔ تو آپ ﷺ نے ان کو فرمایا : ” تم اس جاہل سے کیوں ہنس رہے ہو جو عالم (جاننے والے) سے سوال کر رہا ہے ؟ “ پس آپ تھوڑی دیر بیٹھے رہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جنت کے کپڑوں کے بارے سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ “ تو اس نے عرض کی : یہ ہوں میں یارسول اللہ ! ﷺ تو آپ نے فرمایا : ” نہیں بلکہ ان سے جنت کا پھل کٹ جائے گا “۔ آپ نے یہ تین بار فرمایا۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : مومن کا گھر ایک موتی ہوگا جو درمیان سے خالی ہوگا اس کے درمیان ایک درخت ہے جو حلے اگاتا ہے اور آدمی ایک انگلی کے ساتھ یا فرمایا اپنی دو انگلیوں کے ساتھ ستر حلے پکڑ سکے گا درآنحالیکہ وہ موتیوں اور مرجان کے ساتھ آراستہ ہوں گے، یہ یحییٰ بن سلام نے اپنی تفسیر میں اور ابن مبارک نے اپنی رقائق میں ذکر کیا ہے۔ اور ہم نے اس کی اسناد کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کی ہے۔ اور حدیث میں مذکور ہے کہ ان میں سے ہر پر ایک حلہ ہوگا اس کے دو منہ ہوں گے ہر منہ کا ایک رنگ ہوگا، وہ دونوں آواز کے ساتھ گفتگو کریں گے جسے سننے والا انتہائی مستحسن قرار دیگا، دونوں چہروں میں سے ایک دوسرے کو کہے گا : میں اللہ تعالیٰ کے ولی پر تجھ سے زیادہ مکرم و معزز ہوں، میں اس کے جسم کے ساتھ ملا ہوا ہوں اور تو اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہے۔ اور دوسرا کہتا ہے : میں اللہ تعالیٰ کے ولی پر تجھ سے زیادہ مکرم و معزز ہوں، میں اس کا چہرہ دیکھ رہا ہوں اور تو نہیں دیکھ رہا ہے۔ قولہ تعالیٰ : متکئین فیھا علی الارآئک، الارآئک، أریکۃ کی جمع ہے۔ اور ان سے مراد وہ پلنگ ہیں جو حجلہ عروسی میں ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد وہ قالینین ہیں جو حجلہ عروسی میں بچھی ہوتی ہیں، یہ زجاج نے کہا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : یہ سونے کا پلنگ ہے، اور اسے حجلہ عروسی میں یاقوت اور موتیوں کے ساتھ مرصع اور آراستہ کیا جاتا ہے، الأریکۃ (ایک پلنگ) اتنا ہوگا جتنا صنعاء سے ایلہ تک کا سفر ہے اور جتنی عدن سے لے کر جابیہ تک کی مسافت ہے۔ اور متکئین کی اصل مؤتکئین ہے، اور اسی طرح اتکأ اصل میں اوتکأ ہے، اور التکاۃ کی اصل وکاۃ ہے، اور اسی سے التوکا کسی شے پر سہارا اور ٹیک لگانا، پس واؤ کو تا سے بدلا گیا اور پھر ادغام کردیا گیا۔ اور رجل وکاۃ بہت زیادہ ٹیک لگانے والا آدمی نعم الثواب، وحسنت موتفقا یعنی جنات کتنا اچھا اجر اور کتنی اچھی آرامگاہ ہے، اور یہ وحسنت مرتفقا کا عکس ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
اور اگر یہ نعمرہ ہوتا تو بھی جائز ہوتا کیونکہ یہ جنت کا نام ہے۔ اور اسی بنا پر وحسنت مرتفقا ہے۔ اور حضرت براء بن عازب ؓ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا، اور حضور نبی کریم ﷺ اس وقت میدان عرفات میں اپنی ناقہ عضباء پر کھڑے تھے تو اس نے عرض کی : بلاشبہ میں مسلمان آدمی ہوں سو آپ مجھے اس آیت کے بارے آگاہ فرمائیے ان الذین امنوا وعملوا الصلحت الآیہ (البقرہ : 227) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تو ان سے دور نہیں ہے اور نہ وہ تجھ سے دور ہیں وہ یہ چاروں یعنی حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی ؓ ہیں پس تو اپنی قوم کو یہ بتا کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے “۔ اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے، اور نحاس نے اسے کتاب ” معانی القرآن “ میں مسند بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ہمیں ابو عبد اللہ احمد بن علی بن سہل نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں محمد بن حمید نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں یحییٰ بن ضریس نے زبیر بن معاویہ سے انہوں نے ابو اسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب ؓ سے بیان کیا انہوں نے فرمایا : ایک اعرابی کھڑا ہوا، اور اسے مکمل ذکر کیا۔ اور سہیلی نے اسے ” کتاب الاعلام “ میں مسند بیان کیا ہے۔ اور ہم نے ان تمام کو بالا جازۃ روایت کیا ہے۔ والحمدللہ۔