18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 18:17–18

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے۔ جس کو خدا ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کردے تو تم اسکے لیے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے۔

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ تو سوتے ہیں۔ اور ہم ان کو دائیں بائیں کروٹ بدلاتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آجاتے۔

آیت نمبر 17 تا 18 قولہ تعالیٰ : وتری الشمس اذا طلعت تزورعن کھفھم ذات الیمین یعنی اے مخاطب ! تو سورج کو دیکھے گا کہ وہ اپنے طلوع کے وقت ان کی غار سے جھک کر اور ہٹ کر گزرتا ہے۔ اور اس کا معنی یہ ہے : بلاشبہ اگر تو انہیں دیکھے تو یقیناً تو انہیں اسی طرح دیکھے نہ یہ کہ مخاطب نے انہیں فی الحقیقت دیکھا۔ اور تزور کا معنی دور ہٹ جانا اور مائل ہونا، جھک جانا ہے، یہ الازورار سے ماخوذ ہے۔ اور الزور کا معنی جھکنا ہے۔ اور الأزور فی العین نظر سے ایک طرف ہٹ جانے والا، اور غیر عین میں بھی یہ استعمال ہو سکتا ہے، جیسا کہ ابن ابی ربیعہ نے کہا ہے : عجنبی خیفۃ القوم ازور (میرا پہلو قوم کے خوف سے ایک طرف جھک گیا ہے) ۔ اور عشرۃ کے قول کے لفظ ہیں : فازور من وقع القنا بلبانہ (وہ اپنے سینے کے بل گر پڑے جسے نیزہ لگا) اور غزوہ موتہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ کی چار پائی کو حضرت جعفر اور حضرت زید بن حارثہ ؓ کی چارپائی سے دور ہٹا ہوا (ایک طرف پڑا ہوا) دیکھا۔ ان رسول اللہ ﷺ رأی فی سریر عبد اللہ بن رواحہ ازورارا عن سریر جعفر وزید بن حارثہ۔ اہل حرمین اور ابو عمر نے تز اور تا کو زاء میں ادغام کرکے پڑھا ہے، اور یہ اصل میں تتز اور ہے۔ اور عاصم، حمزہ اور کسائی نے تز اور زا کو مخفف پڑھا ہے۔ اور ابن عامر نے تزوز، تحمر کی مثل پڑھا ہے۔ اور فراء نے تزوار، تحمار کی مثل بیان کیا ہے، تمام ایک ہی معنی میں ہیں۔ واذا غربت تقرضھم جمہور نے اسے تا کے ساتھ تترکھم کے معنی میں پڑھا ہے (اور جب وہ غروب ہوتا ہے تو وہ انہین چھوڑ دیتا ہے) ؛ یہ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : بمعنی تدعھم (وہ انہیں چھوڑ دیتا ہے) نحاس نے کہا ہے : یہی معنی لغت میں معروف ہے، بصریوں نے بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے : قرضہ یقرضہ جب وہ اسے ترک کر دے اور اس کا معنی ہے کہ اس کی عزت و تکریم کے لئے انہیں دھوپ بالکل نہیں پہنچتی، اور یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے، یعنی سورج جب طلوع ہوتا ہے تو ان کی غار سے دائیں جانب ہٹ جاتا ہے، اور جب غروب ہوتا ہے تو غار کے بائیں جانب سے ہو کر ان سے گزر جاتا ہے، پس انہیں دھوپ نہیں لگتی نہ دن کے ابتدائی حصہ میں اور نہ دن کے آخری حصہ میں اور ان کی گار سر زمین روم میں بنات نعش (قطب شمالی کے قریب سات ستارے) کے سامنے تھی۔ پس سورج طلوع و غروب اور چلتے وقت ان سے ہٹ جاتا تھا ان تک نہ پہنچتا تھا کہ انہیں اپنی گرمی اور حرارت سے اذیت پہنچائے، ان کے رنگوں کو متغیر کرے اور ان کے کپڑوں کو بوسیدہ کرے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک ان کی غار کے لئے ایک پردہ جنوب کی جانب سے تھا اور ایک پردہ دبور (پچھوائی ہوا) کی جہت سے تھا اور وہ اس کے کونے میں تھے۔ اور زجاج اس طرف گئے ہیں کہ سورج کا یہ فعل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نشانی ہے، نہ یہ کہ غار کا دروازہ اس جانب تھا جو یہ ثابت کرتی ہے۔ اور ایک گروہ نے ہقرضھم یا کے ساتھ قرأت کی ہے اور یہ القرض سے ماخوذ ہے اور اسکا معنی قطع کرنا، کاٹنا ہے، یعنی غار اپنے سائے کے ساتھ سورج کی روشنی سے انہیں بچاتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : واذا غربت تقرضھم یعنی جب وہ ڈوبتا ہے تو اسکی تھوڑی سی دھوپ انہیں لگتی ہے، یہ قراضۃ الذھب والفضۃ (سونے اور چاندی کے ریزے) سے ماخوذ ہے، یعنی سورج اپنی تھوڑی سی شعائیں انہیں پہنچاتا ہے۔ اور انہوں نے کہا : شام کے وقت دھوپ کے ان کو مس کرنے اور پہنچنے میں ان کے بدنوں کی اصلاح تھی۔ المختصر اس میں آیت اور علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی غار میں پناہ دی جس کی کیفیت اور حالت یہ تھی نہ کہ کسی دوسری غار میں جس میں بڑے دنوں میں سورج کی شعاعیں پڑنے سے وہ اذیت اور تکلیف محسوس کرتے۔ اور اس پر یہ بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ سورج کا ان سے پھرنا، ایک طرف ہٹنا بادلوں کے سایہ کرنے یا کسی دوسرے سبب سے ہو، اور مقصود ان تک کسی بلا اور مصیبت کے راہ پانے، بدنوں اور رنگوں کے متغیر اور تبدیل ہونے، اور گرمی یا سردی کے ساتھ اذیت پہنچنے سے انہیں بچانے اور ان کی حفاظت کرنے کا بیان ہے۔ وھم فی فجوۃ منہ اور وہ غار کی ایک کشادہ جگہ میں سو رہے ہیں۔ اور الفجوۃ کا معنی وسیع اور کھلی جگہ ہے، اور اس کی جمع فجوات اور فجاء ہے، جیسا کہ رکوۃ کی جمع رکاء اور رکوات ہے۔ اور شاعر نے بھی کہا ہے : ونحن ملأنا کل واد و فجوۃ رجالا وخیلا غیر میل ولا عزل یعنی وہ ایسی جگہ تھے جہاں انہیں بادنسیم لگتی تھی۔ ذلک من ایت اللہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کا لفط و کرم ہے، اور یہ معنی زجاج کے قول کو تقویت دیتا ہے۔ اور اہل تفسیر نے کہا ہے کہ ان کی آنکھیں کھلی تھیں حالانکہ وہ سوئے ہوئے تھے، پس اسی طرح انہیں دیکھنے والا بیدار گمان کرسکتا ہے۔ اور کہا گیا ہے : تحسبھم ایقاظا کثرت سے ان کے کروٹ بدلنے کے سبب (تو انہیں بیدار خیال کرے گا) جیسا کہ بیدار آدمی اپنے بستر پر پہلو بدلتا ہے۔ اور ایقاظا، یقظ اور یقظان کے جمع ہے، اور اس سے مراد بیدار ہونے والا ہے وھم رقود (حالانکہ وہ سو رہے ہیں) اور یہ ان کے اس قول کی طرح ہے : وھم رکوع و سجود وقعود (درآنحالیکہ وہ رکوع، سجود اور قعدہ میں تھے) ۔ پس مصدر کے ساتھ جمع کی صفت بیان کی گئی۔ و نقلبھم ذات الیمین وذات الشمال حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : تاکہ زمین ان کے گوشت کو نہ کھائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : ہر سال میں دو بار ان کی کروٹ بدلی جاتی رہی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ ہر سال میں ایک بار۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : ہر سات سال میں ایک بار کروٹ بدلی جاتی تھی۔ اور ایک جماعت نے کہا ہے : بلاشبہ آخری نو سالوں میں اس کی کروٹ بدلی گئی، اور رہے تین سو سال تو ان میں کروٹ نہیں بدلی گئی۔ اور مفسرین کے کلام کا ظاہر یہ ہے کہ کروٹ بدلنا اللہ تعالیٰ کے فعل میں سے ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوئی فرشتہ مقرر ہو، اور اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جا رہی ہو۔ قولہ تعالیٰ : وکلھم باسط ذراعیہ بالوصید اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وکلبھم حضرت عمر وبن دینار نے کہا ہے : بیشک اس میں سے جو بچھو کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ کسی کو ضرر اور نقصان نہ پہنچائے تو (چاہیے کہ) وہ اپنی رات یا دن کے وقت یہ کہے : صلی اللہ علی نوح اور بیشک جو کتے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ کتا اسے نقصان نہ پہنچائے جو اس پر حملہ آور ہو تو (چاہئے کہ) وہ یہ کہے : وکلبھم باسط زراعیہ بالوصید۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ وہ حقیقتاً کتا تھا، اور وہ ان میں سے کسی ایک کے شکار یا کھیتی کی حفاظت یا اس کے ریوڑ کے لئے تھا ؛ جیسا کہ مقاتل نے کہا ہے۔ اور اس کے رنگ میں بہت سا اختلاف کیا گیا ہے، اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے، اس کا ماحصل یہ ہے : جو رنگ بھی تو ذکر کر دے وہی صحیح ہے، یہاں تک کہ کیا گیا ہے : وہ پتھر کے رنگ کا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ آسمان کے رنگ کا تھا۔ اور اس کے نام میں بھی اختلاف کیا گیا ہے، پس حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ اسکا نام ریان تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قطمیر تھا۔ امام اور زاعی (رح) نے کہا : مشیر تھا، حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ نے کہا : بسیط تھا، حضرت کعب (رح) نے کہا : صہیا تھا، حضرت وہب (رح) نے کہا : نقیا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام قطفیر تھا ؛ اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ اور ان کے وقت میں کتا رکھنا جائز تھا، جیسا کہ ہمارے نزدیک آج ہماری شریعت میں جائز ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : وہ رات کے وقت بھاگ کر نکلے اور وہ سات آدمی تھے وہ ایک چروا ہے کے پاس سے گزرے اس کے ساتھ ایک کتا بھی تھا پس اس نے بھی ان کے دین میں ان کی اتباع کی۔ اور حضرت کعب ؓ نے بیان کیا ہے : وہ ایک کتے کے پاس سے گزرے اور وہ انہیں بھونکنے لگا تو انہوں نے اسے بھگایا وہ پھر لوٹ آیا تو انہوں نے اسے بار بار بھگایا، تو کتا اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا اور اس نے اپنے ہاتھ دعا مانگنے والے کی طرح آسمان کی طرف اٹھا دئیے، اور بول پڑا، اس نے کہا : تم مجھ سے نہ ڈرو ! بلاشبہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے والوں سے محبت کرت اہوں پس تم سو جاؤ میں تمہاری حفاظت کروں گا۔ (لا تخافوا منی ! أنا احب احباء اللہ تعالیٰ فنا مواحتی أحرسکم) مسئلہ نمبر 2: صحیح میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جس نے کتا رکھا سوائے شکاری کتے کے یا جانوروں کی حفاظت والے کتے کے تو ہر روز اس کے اجر سے دو قیراط کم ہوجائیں گے “۔ اور صحیح میں ہی حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے کوئی کتا رکھا سوائے جانوروں کی حفاظت یا شکار یا کھیتی کی نگرانی والے کتے کے تو ہر روز اسکے اجر سے ایک قیراط کم کردیا جائے گا “۔ زہری نے کہا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ کے سامنے حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ابوہریرہ پر رحم فرمائے ! وہ کھیت کے مالک تھے، تحقیق شکار، کھیتی، اور جانوروں کی حفاظت کے لئے کتا رکھنے پر سنت ثابتہ دلالت کرتی ہے۔ اور جس نے اس کے سوا کسی منفعت کے لئے کتا رکھا انہوں نے اس کے اجر میں کمی رکھ دی ہے ؛ یہ تو کتے کے مسلمانوں کو ڈرانے اور ان پر بھونکنے کے سبب ان کی پریشانی اور تشویش میں مبتلا کرنے کی وجہ سے ہے یا ملائکہ کو گھر میں داخل ہونے سے روکنے کی وجہ سے یا پھر اسکی نجاست کی وجہ سے، جیسا کہ امام شافعی (رح) کی رائے ہے یا اس نہی کی وجہ سے ہے جو بغیر کسی منفعت کے اسے رکھنے کے بارے ہے۔ واللہ اعلم۔ اور آپ نے دوروایتوں میں سے ایک میں دو قیراط اور دوسری میں ایک قیراط ذکر کیا ہے۔ اور اس میں یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ یہ کتوں کی دو قسموں کے بارے میں ہو ان میں سے ایک دوسری کی نسبت زیادہ اذیت رساں ہو، جیسا کہ وہ سیاہ (کتا) جسے آپ ﷺ نے قتل کردینے کا حکم دیا اور اسے استثنا میں داخل نہیں کیا جس وقت ان کے قتل سے منع فرمایا جیسا کہ حضرت جابر ؓ کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے ؛ اسے صحیح نے نقل کیا ہے اور فرمایا : ” تم پر دو نقطوں والے سخت سیاہ جانور کو (قتل کرنا) لازم ہے کیونکہ وہ شیطان ہے “۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جگہوں کے اختلاف کی وجہ سے ہو، پس جو اسے مدینہ طیبہ یا مکہ مکرمہ میں روکے رکھے گا اس کے دو قیراط کم ہوں گے اور ان کے سوا دوسرے شہروں میں ایک قیراط کم ہوگا۔ اور رہیں وہ صورتیں جن میں اسے رکھنا مباح ہے تو ان میں کچھ کم نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ گھوڑا اور بلی وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 3: اور جانوروں کے لئے کتا رکھنا امام مالک (رح) کے نزدیک مباح ہے وہ وہ ہے جو ان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے، نہ کہ وہ ہے جو گھروں میں چوروں سے ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اور کھیتی کا کتا وہ ہے جو رات یا دن کے وقت وحشی جانوروں سے اس کی حفاظت کرتا ہے نہ کہ چوروں سے۔ اور امام مالک (رح) کے سوا دوسروں نے جانروں اور کھیتی کی چوروں سے حفاظت کے لئے بھی کتا رکھنے کو جائز قرار دیا ہے۔ سورة المائدہ میں کتوں کے احکام پہلے گزر چکے ہیں جو کافی ہیں، والحمہ للہ۔ مسئلہ نمبر 4: ابن عطیہ نے بیان کیا ہے : میرے باپ ؓ نے مجھے بتایا انہوں نے کہا میں نے 1464 ھ میں جامع مصر میں ابو الفضل جوہری کو منبر پر وعظ کرتے ہوئے سنا : بیشک جس نے اہل خیر سے محبت کی اس نے ان کی برکت کو پالیا، ایک کتے نے اہل فضل سے محبت کی اور ان کی سنگت اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی محکم کتاب میں ذکر فرمایا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : جب کتوں میں سے بعض نے صلحاء و اولیاء کے ساتھ ملنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے کے سبب اتنا بلند درجہ پالیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب جل و علا میں اس کی خبر دی ہے تو ان موحد مومنین کے بارے تیرا کیا خیال ہے جو اولیاء اور صالحین سے ملتے اور ان سے محبت کرتے ہیں، بلکہ اس میں درجہ کمال سے قاصر رہنے والے مومنین اور حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کے بہترین آل سے محبت کرنے والوں کے لئے تسلی اور انس (کا پیغام) ہے۔ صحیح نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : اس اثنا میں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ مسجد سے باہر نکلے تو مسجد کے دروازے کے پاس ہمیں ایک آدمی ملا اور اسنے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ قیامت کب آئے گی ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تو نے اس کے لئے کیا تیار کی ہے ؟ “ راوی نے کہا : تو گویا وہ آدمی ساکن سا ہوگیا، پھر عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں نے اس کے لئے کوئی زیادہ نمازیں، روزے اور صدقہ وغیرہ تیار نہیں کیا، لیکن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : فأنت مع من أحببت (پس تو اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ تو محبت کرتا ہے) ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ نے فرمایا : ہم اسلام کے بعد حضور نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد سے زیادہ کبھی کسی سے خوش نہیں ہوئے : فأنت مع من أحببت۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا : پس میں اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول مکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر وعمر ؓ سے محبت کرتا ہوں ت و میں امید رکھتا ہوں کہ میرا انجام ان کے ساتھ ہوگا اگرچہ میں نے ان کے اعمال کی مثل عمل نہیں کیا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اور یہ جو حضرت انس ؓ نے اس سے استدلال کیا ہے یہ مسلمانوں میں سے ہر ذی روح کو شامل ہے، پس اسی لئے ہماری حرص اور طمع اس کے ساتھ متعلق ہے اگرچہ ہم کوتاہی کرنے والے اور کمزور ہیں، اور ہم رحمن کی رحمت کے امیدوار ہیں اگرچہ ہم اس کی اہلیت نہیں رکھتے، ایک کتے نے ایک قوم سے محبت کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر ان کے ساتھ کیا ! تو ہمارے ساتھ اس کا کیسا سلوک ہوگا جبکہ ہمارے پاس ایمان کا معاہدہ اور کلمہ اسلام، اور حضور نبی مکرم ﷺ کی محبت بھی ہے : ولقد کرمنا بنی ادم۔۔۔۔۔۔۔ ممن خلقنا تفصیلا۔ (الاسراء) (اور بیشک ہم نے بڑی عزت بخشی اولاد آدم کو اور ہم نے سوار کیا انہیں (مختلف سواریوں پر) خشی میں اور سمندر میں اور رزق دیا انہیں پاکیزہ چیزوں سے اور ہم نے فضیلت سی انہیں بہت سی چیزوں پر جن کو ہم نے پیدا فرمایا نمایاں فضیلت) ۔ اور ایک گروہ نے کہا ہے : وہ حقیقی کتا نہ تھا، بلکہ وہ ان میں سے ایک تھا (یعنی اصحاب کیف میں سے) وہ ان کی حفاظت کی خاطر غار کے دروازے کے پاس بیٹھ گیا تھا، جیسا کہ جوزاء کے پیچھے آنے والے ستارے کو کلب کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ وہاں انسانوں میں سے کتے کی مثل تھا اور اس کو کہا جاتا ہے : کلب الجبار۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : پس اسے اس حیوان کا نام دے دیا گیا ہے جو اس جگہ کو لازم پکڑنے والا ہے، لیکن اس قول کو بازوؤں کے پھیلا دینے کا ذکر کمزور کرتا ہے کیونکہ عرف میں یہ حقیقی کتے کی صفت میں ہے۔ اور اس سے حضور نبی مکرم ﷺ کا ارشاد بھی ہے : ولا یبسط أحدکم زراعیہ انبساط الکلب (تم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کے پھلانے کی طرح نہ پھیلائے) ۔ ابو عمر مطرز نے کتاب الیواقیت میں بیان کیا ہے کہ اسے اکالبھم باسط زراعیہ بالوصید پڑھا گیا ہے۔ پس اس میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ کالب سے مراد وہ آدمی ہو جیسا کہ روایت کیا گیا ہے، جب اس نے بازو پھیلا دئیے اور زمین کے ساتھ چمٹ گیا اس کے ساتھ ساتھ چہرے کو اٹھائے رکھا اطلاع پانے کے لئے اور یہی حالت اس مشکوک کی ہوتی ہے جو اپنے آپ کو چھپانے والا ہوتا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ کالب سے مراد کلب (کتا) ہو اور جعفر بن محمد صادق ؓ نے وکالبھم پڑھا اور مراد کتے کا مالک لیا۔ قولہ تعالیٰ : باسط ذراعیہ اسم فاعل عمل کر رہا ہے اور یہ ماضی کے معنی میں ہے، کیونکہ یہ حکایت حال ہے۔ کتے کے فعل کے بارے خبر دینا مقصود نہیں ہے۔ اور الذراع سے مراد کہنی کی طرف سے لے کر درمیانی انگلی کے کنارے تک کا حصہ اور مقدار ہے پھر کہا گیا ہے : اس نے طویل مدت کے لئے اپنا بازو پھیلائے رکھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کتا سو گیا، اور وہ بھی علامات میں سے تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ آنکھیں کھول کر سو یا رہا۔ اور الوصید سے مراد فناء (صحن) ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس، حضرت مجاہد اور حضرت ابن جبیر نے کہا ہے۔ مراد غار کا صحن ہے، اور اس کی جمع وصائد اور وصد ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : الوصید سے مراد دروازہ ہے۔ اور یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور شعر بھی ہے : بأرض فضاء لا یسد وصیدھا علی و معروفی بھا غیر منکر اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور حضرت عطا نے کہا ہے : الوصید سے مراد دروازے کی دہلیز ہے، اور الباب الموصد سے مراد بند دروازہ ہے۔ اور أوصدت الباب وآصدتہ کا معنی ہے میں نے دروازہ بند کردیا، اور الوصید سے مراد ایسی بوٹیاں بھی ہیں جن کی جڑیں باہم قریب قریب ہوں، پس یہ لفظ مشترک ہے۔ واللہ اعلم۔ قولہ تعالیٰ : لو اطلعت علیھم جمہور نے واؤ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اعمش اور یحییٰ بن وثاب نے اسے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ لو لیت منھم فرارا یعنی اگر تو ان پر جھانک کر دیکھے تو تو یقیناً ان سے بھاگ آئے۔ ولملئت منھم رعبا یعنی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رعب سے گھیر رکھا ہے اور ہیبت اور خوف سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کی جگہ کی وحشت کی وجہ سے (تو بھاگ آئے) گویا اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی جگہ میں پناہ دی ہے جو بظاہر وحشت ناک ہے تاکہ لوگ وہاں سے دور بھاگیں۔ اور یہ بھی کیا گیا ہے : لوگوں کو ان سے رعب کے ساتھ روک دیا گیا تھا، ان میں سے کوئی بھی ان کے قریب جانے کی جسارت نہ کرتا تھا۔ اور یہ قول بھی ہے کہ ان سے فرار ان کے بالوں اور ان کے ناخنوں کے بڑھنے اور لمبا ہونے کی وجہ سے تھا ؛ اسے مہدوی، نحاس، زجاج اور قشیری نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بعیداز حقیقت ہے، کیونکہ وہ جب بیدار ہوئے تو ان میں سے بعض نے بعض کو کہا : ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے اور یہ اس پر دلیل ہے کہ ان کے بال اور ان کے ناخن اپنی حالت پر تھے، مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے ناخنوں اور اپنے بالوں کی طرف دیکھنے سے پہلے یہ کہا ہو۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : ان کے معاملہ میں صحیح یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کی اسی حالت پر حفاظت فرمائی جس پر وہ سوئے تھے تاکہ وہ ان کے لئے اور ان میں دوسروں کے لئے علامت اور نشانی ہوجائے۔ پس نہ ان کے کپڑے بوسیدہ اور پرانے ہوئے اور نہ ان کی کوئی حالت تبدیل ہوئی، اور شہر کی طرف اٹھ کر جانے والے نے زمین اور عمارتوں کے نشانات کے سوا کسی چیز کا انکار نہیں کیا (اور نہ اس پر تعجب کیا) اور اگر اس کی ذات میں کوئی ایسی حالت ہوتی جس کا وہ انکار کرتا (اور اسے عجیب سمجھتا) تو یقیناً یہ اس پر زیادہ اہم تھا۔ نافع، ابن کثیر، حضرت ابن عباس اور اہل مکہ و مدینہ نے ملئت منھم مبالغہ و مضاعف کی بنا پر لام کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ملئت ثم ملئت (تجھے بھر دیا جائے پھر تجھے بھر دیا جائے) اور باقیوں نے لملئت تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، اور لغت میں تخفیف زیادہ مشہور ہے۔ اور مخبل سعدی کے قول میں بھی تثقیل (تشدید) آئی ہے۔ وإذ فتک النعمان بالناس محرما فملی من کعب بن عوف سلاسلہ اور جمہور نے رعبا عین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ابو جعفر نے اسے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ابو حاتم نے کہا ہے : یہ دونوں نعتیں ہیں۔ اور فرارا حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور رعبا مفعول ثانی یا تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayahs 18:19–20

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تم اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کونسا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔

آیت نمبر 19 تا 20 قولہ تعالیٰ : وکذلک بعثنھم لیتساء لوا بینھم، البعث سے مراد سکون سے حرکت دینا ہے۔ اور اس کا معنی ہے : جیسا کہ ہم نے ان کے کان سننے سے بند کر دئیے، اور ہم نے ان کے لئے نور ہدایت میں اضافہ کیا، اور ہم نے ان کی کروٹیں بدلیں (اسی طرح) ہم نے انہیں ان کی نید سے بیدار بھی کردیا۔ درآنحالیکہ وہ اپنے کپڑوں اور دیگر احوال میں اپنی پہلی حالت پر ہی تھے۔ شاعر نے کہا ہے : وفتیان صدق قد بعثت بسحرۃ فقاموام جمیعا بین عاث ونشوان یعنی میں نے بیدار کردیا۔ اور قول باری تعالیٰ : لیتساء لوا میں لام ضرورت ہے اور یہی لام عاقبت ہے، جیسا کہ اس ارشاد میں لام عاقبۃ ہے : لیکون لھم عدوا وحزنا (القصص :8) (تاکہ (انجام کار) وہ ان کا دشمن اور باعث رنج و الم بنے) ۔ پس اس کا بیدار ہونا باہم ایک دوسرے سے سوال کرنے کیلئے نہ تھا۔ قولہ تعالیٰ : قالوا بعثنا یوما او بعض یوم اور وہ یہ کہ وہ صبح کے وقت اس میں داخل ہویئ اور دن کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے انہیں بیدار کردیا، تو ان کے رئیس تملیخا یا مکسلمینا نے کہا : مدت کے بارے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : فابعثوا احدکم۔۔۔۔ الی المدینۃ اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : ان کا سکہ موسم ربیع میں پیدا ہونے والے اونٹ کے پاؤں کی مثل تھا، اسے نحاس نے ذکر کیا ہے، اور ابن کثیر، نافع، ابن عامر، کسائی اور حفص نے حضرت عاصم (رح) سے بورقکم را کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ابو عمر و حمزہ اور ابوبکر نے عاصم سے بورقکم را کے سکون کے ساتھ قرأت کی ہے، انہوں نے ثقل کی وجہ سے کسرہ کو حذف کردیا ہے، اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ اور زجاج نے بورقکم واؤ کو کسرہ اور را کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور روایت کی جاتی ہے کہ وہ اس حال میں بیدار ہوئے کہ انہیں بھوک لگی ہوئی تھی، اور جسے (شہر کی طرف) بھیجا گیا تھا وہ تملیخا تھا، اور یہی ان میں (عمر کے اعتبار سے) چھوٹا تھا، جیسا کہ غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ اور وہ شہر افسوس تھا۔ اور کہا جاتا ہے : کہ وہ طرسوس تھا، زمانہ جاہلیت میں اس کا نام أفسوس تھا اور جب اسلام آیا تو انہوں نے اس کا نام طرسوس رکھ دیا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : ان کے پاس دراہم تھے ان پر اس بادشاہ کی تصویر تھی جو ان کے زمانے میں تھا۔ مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : فلینظر ایھا ازکی طعاما حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ ذبیحہ کو حلال قرار دے، کیونکہ ان کے شہر والے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور ان میں ایک قوم تھی جو اپنا ایمان چھپا کر رکھتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان میں سے عام مجوسی تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ازکی طعاما یعنی جس میں برکت زیادہ ہو، کہا گیا ہے کہ انہوں نے اسے حکم دیا کہ وہ اتنی مقدار میں خریدے جسے یہ خیال کیا جاسکتا ہو کہ یہ دو یا تین آدمیوں کا کھانا ہے تاکہ وہ ان پر اطلاع نہ کرسکے، پھر جب اسے پکایا جائے تو وہ جماعت کو کافی ہوجائے، اسی لئے کہا گیا ہے کہ وہ کھانا چاول تھے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ کشمش تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ وہ کھجوریں تھیں۔ فاللہ اعلم۔ اور کہا گیا ہے کہ ازکی بمعنی اطیب (زیادہ پاکیزہ) ہے اور یہ قول بھی ہے کہ یہ بمعنی أرخص (سستا) ہے۔ فلیاتکم برزق منہ پس چاہئے کہ وہ تمہارے لئے خوراک لے آئے۔ ولیتلطف اور چاہئے کہ وہ شہر میں داخل ہونے اور کھانا خریدنے میں خوش خلقی سے پیش آئے۔ ولا یشعرن بکم احدا یعنی وہ قطعا تمہارے بارے میں کسی کو خبر نہ ہونے دے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اگر اس پر غلبہ پا لیا جائے (یعنی اگر اسے پکڑ لیا جائے) تو وہ اپنے بھائیوں کو اس آزمائش میں واقع نہ کرے جس میں وہ خود واقع ہوا ہے۔ انھم ان یظھروا علیکم یرجعوکم زجاج نے کہا ہے : اس کا معنی پتھر ہے، اور یہ خبیث ترین اور انتہائی قبیح قتل کی صورت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ تمہیں سب وشتم، گالی گلوچ دیں گے ؛ اور یہ پہلا معنی زیادہ صحیح ہے (یعنی وہ تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے) ، کیونکہ وہ ان کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا جیسا کہ ان کے واقعہ میں گزر چکا ہے۔ اور رجم جیسا کہ گزر چکا ہے یہ ایک سزا ہے جو لوگوں کے دین (اور رائے) کے خلاف تھی۔ جب کہ یہ اس دین کے ماننے والے تمام لوگوں کیلئے مناسب تھی اس حیثیت سے کہ وہ اس میں شریک تھے مسئلہ نمبر 3: سکہ دے کر اسکو بھیجنے میں وکالت اور اس کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔ تحقیق حضرت علی بن طالب ؓ نے اپنے بھائی حضرت عقیل ؓ کو حضرت عثمان ؓ کے پاس وکیل بنا کر بھیجا اور اس میں فی الجملہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور وکالت جاہلیت اور اسلام میں معروف ہے، کہا آپ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کی طرف نہیں دیکھتے کہ انہوں نے امیہ بن خلف کو کیسے مکہ مکرمہ میں اپنے اہل خانہ اور اپنے رشتہ داروں کے لئے وکیل مقرر کیا، یعنی وہ ان کی حفاظت کرے گا۔ اور امیہ مشرک تھا، اور حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے امیہ کیلئے اس کا انتظام کیا جو مدینہ طیبہ میں اس کے رشتہ داروں کی اسی طرح حفاظت کرے گا اور یہ اس کے عمل کی جزا اور بدلہ ہوگا۔ امام بخاری (رح) نے حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں رحمن کو نہیں پہچانتا ! میری طرف اپنا وہ نام لکھو جو جاہلیت میں تھا، چناچہ میں نے عبد عمرو لکھا۔۔ اور آگے حدیث ذکر کی۔ اصمعی نے کہا ہے : صاغیۃ الرجل سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اس کے پاس آتے ہیں اور یہ صغا یصگوا اور یصغی سے ماخوذ ہے۔ جب وہ مائل ہو، اور ہر وہ جو کسی شے کی طرف مائل ہو یا اس کے ساتھ ہو (تو اسی کیلئے کہا جائے گا) صغا الیہ وأصغی، یہ کتاب الافعال سے ہے۔ مسئلہ نمبر 4: وکالت عقد نیابت ہے، اللہ سبحابہ وتعالیٰ نے حاجت اور ضرورت کے تحت اس کی اجازت دی ہے اور اس میں مصلحت رکھ دی ہے، کیونکہ ہر ایک اپنے امور سر انجام دینے پر قادر نہیں ہوتا مگر دوسرے کی معاونت کے ساتھ یا راحت اور سہولت دینے کے ساتھ پس وہ اسے اپنا نائب طبا لیتا ہے جو اسے راحت و سکون پہنچا سکتا ہے۔ تحقیق ہمارے علماء نے اس کے صحیح ہونے پر کتاب اللہ کی کئی آیات سے استدلال کیا ہے، ان میں سے ایک یہ آیت ہے، اور قول باری تعالیٰ والعملین علیھا (التوبہ :60) اور اذھبوا بقمیصی ھذا (یوسف : 93) (لے جاؤ میرا یہ پیراہن) ہیں۔ اور رہی سنے ! تو وہ کثیر احادیث ہیں۔ ان میں سے عروہ البارقی کی حدیث ہے، اور وہ سورة الانعام کے آخر میں گزر چکی ہے۔ اور حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ نے روایت بیان کی ہے کہ میں نے خیبر کی طرف نکلنے کا ارادہ کیا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے عرض کی : میں خیبر کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” جب تو میرے وکیل کے پاس پہنچے تو اس سے پندرہ وسق لے لینا اور اگر وہ تجھ سے کوئی نشانی طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھنا “۔ اسے ابو داؤد نے نقل کیا ہے۔ اور اس معنی میں کثیر احادیث ہیں، اور اس کے جواز کے بارے اجماع امت ہونا ہی کافی ہے۔ مسئلہ نمبر 5: ہر اس حق میں وکالت جائز ہے جس میں نیابت جائز ہوتی ہے، پس اگر غاصب نے کسی کو وکیل بنایا تو یہ جائز نہیں، حالانکہ وہ وکیل ہے، کیونکہ ہر وہ کام جسے کرنا حرام قرار دیا گیا ہے اس میں نیابت جائز نہیں ہوتی۔ مسئلہ نمبر 6: اس آیت میں ایک عمدہ نکتہ ہے کہ وکالت بچاؤ کے ساتھ ساتھ خوف بھی ہے کہ کوئی انہیں اس کے بارے احساس دلاتا ہے جو انہیں اپنی جانوں پر خوف نہیں ہے۔ اور صاحب عذر کیلئے کسی کو وکیل بنانے کا جواز تو متفق علیہ ہے اور رہا وہ جس کو کوئی عذر نہیں تو جنہور اس کے جواز کے قائل ہیں۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور سحنون نے کہا ہے : یہ جائز نہیں ہے۔ ابن عربی نے کہا ہے : گویا سحنون نے اسے اسد بن فرات سے لیا ہے اور اس نے اپنے ایام قضا میں اس کا فیصلہ کیا، اور شاید وہ ظلم و جبر کرنے والوں کے ساتھ ایسا کرتے تھے، ان سے انصاف لینے کیلئے اور ان کو ذلیل و رسوا کرنے کیلئے، اور یہی حق ہے ؛ کیونکہ وکالت تو معاونت اور مدد کرنا ہے اور یہ اہل باطل کیلئے نہیں ہوسکتی۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ اچھا ہے، پس جہاں تک اہل دین اور اہل فضل کا تعلق ہے تو ان کیلئے جائز ہے کہ وہ وکیل بنائیں اگرچہ وہ حاضر اور صحت مند ہوں۔ اور وکالت کے جواز کے صحیح ہونے پر دلیل وہ شاہد صحیح ہے جسے صحیحین وغیرہما نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ ایک آدمی کا حضور نبی مکرم ﷺ کے ذمہ ایک سال کا اونٹ تھا پس وہ آیا اور اس کا تقاضا کرنے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم اسے عطا کرو “۔ پس انہوں نے اس کے لئے ایک سال کا اونٹ تلاش کیا لیکن انہوں نے نہ پایا مگر وہ جس کی عمر اس سے زیادہ تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم اسے دے دو “۔ تو اس نے کہا : آپ نے میرا حق پورا کردیا ہے اللہ تعالیٰ آپ کا حق پورا کر دے۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” بیشک تم میں سے بہتر اور اچھا وہ ہے جو تم میں سے قضا کے اعتبار سے اچھا اور حسین ہو “۔ یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ پس یہ صحیح حدیث صحیح البدن حاضر آدمی کے وکیل بنانے کے جواز پر دلیل ہے کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم ارشاد فرمایا کہ وہ آپ کی طرف سے اس عمر کا اونٹ دے دیں جو آپ پر لازم ہے اور یہ آپ کی طرف سے ان کو اس پر وکیل بنانا ہی ہے، اور حضور نبی مکرم ﷺ مریض تھے نہ مسافر۔ اور یہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور سحنون کے ان دونوں کے بارے میں اس قول کو رد کرتی ہے کہ صحیح البدن حاضر آدمی کے لیے اپنے خصم کی رضا کے بغیر کسی کو وکیل بنانا جائز نہیں ہے اور یہ حدیث ان دونوں کے قول کے خلاف ہے۔ مسئلہ نمبر 7: ابن خویز منداد نے کہا ہے : یہ آیت شرکت کے جواز کو متضمن ہے کیونکہ وہ سکہ ان تمام کا تھا۔ اور وکالت کے جواز کو بھی متضمن ہے کیونکہ انہوں نے اسے بھیجا جسے انہوں نے خریدنے کیلئے وکیل بنایا اور یہ ساتھیوں کے کھانے اور ان کا ایک ساتھ اپنے کھانے کو ملانے اور جمع کرنے کو متضمن ہے، اگرچہ ان میں سے بعض دوسروں سے زیادہ کھانا کھائیں ؛ اور اس کی مثل یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وان تخالطوھم فاخوانکم (البقرہ : 220) (اور اگر (کاروبار میں) تم انہیں ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں) جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اسی لئے ہمارے اصحاب نے مسکین کے بارے میں کہا ہے اس پر صدقہ کیا جاتا ہے پھر وہ اسے غنی کے کھانے کے ساتھ ملا دیتا ہے پھر اسکے ساتھ مل کر کھاتا ہے، بلاشبہ یہ جائز ہے۔ اور انہوں نے مضارب کے بارے میں کہا ہے جو اپنا کھانا دوسرے کے کھانے کے ساتھ ملا دیتا ہے پھر اس کے ساتھ مل کر کھاتا ہے : بیشک یہ جائز ہے۔ تحقیق رسول اللہ ﷺ نے اسے وکیل بنایا جس نے آپ کے لئے قربانی کا جانور خریدا۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : آیت میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ اس میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے وہ انفرادی طور پر دیا ہو تو پھر اس میں اشتراک نہیں ہوگا۔ اور اس مسئلہ میں تعویل نہیں کی جاسکتی مگر دو حدیثوں کی بنا پر : ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ ایک قوم کے پا سے گزرے۔ وہ کھجوریں کھا رہے تھے تو آپ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے اس طرح اقتران اور ملنے سے منع فرمایا ہے مگر یہ آدمی اپنے بھائی سے اجازت طلب کرے اور دوسری یہ ہے ابو عبیدہ کی جیش الخبط کے بارے میں حدیث ہے۔ اور یہ ظہور میں پہلی سی کم ہے، کیونکہ اس میں احتمال ہو سکتا ہے کہ ابو عبیدہ انہیں اس خوراک میں سے حاجت اور ضرورت کے مطابق دیتا ہو اور وہ انہیں اس پر جمع نہ کرتا ہو۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : کتاب اللہ میں سے جو اس کے خلاف پر دلالت کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : وان تخالطوھم فاخوانکم (البقرہ : 220) اور قول باری تعالیٰ ہے : لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا (النور : 61) (نہیں ہے تم پر کوئی حرج اگر تم کھاؤ سب مل کر یا الگ الگ) ۔ جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ بھی شک نہیں۔ اس وقت لوگ انکے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنادو ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے، جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے۔

آیت نمبر 21 قولہ تعالیٰ : وکذلک اعثرنا علیھم یعنی ہم نے ان پر اطلاع کردی اور ہم نے ان پر ظاہر کردیا۔ اور اعثر یہ عثر سے ہمزہ کے ساتھ متعدی بنایا گیا ہے۔ اور عثار کا اصل معنی تو پاؤں کا پھسلنا ہے۔ لیعلموا ان وعد اللہ حق یعنی تاکہ وہ امت مسلمہ جان لے جن کے عہد میں اصحاب کہف کو بیدار کیا گیا۔ اور وہ یہ کہ دقیانوس فوت ہوگیا اور صدیاں گزر گئیں اور اس علاقے کا بادشاہ ایک صالح اور نیک آدمی بنا، اور وہاں کے باسیوں کا حشر اور قبروں سے جسموں کے اٹھائے جانے کے بارے اختلاف ہوگیا، اور بعض لوگ اس میں شک کرنے لگے اور انہوں نے اسے بعید از حقیقت سمجھا اور کہنے لگے : بیشک ارواح کو اٹھایا جائے گا اور جسم کو تو زمین کھا جائے گی۔ اور ان میں سے بعض نے کہا : روح اور جسم دونوں کو اکٹھا اٹھایا جائے گا ؛ پس یہ اس بادشاہ پر گراں گزرا اور وہ حیران رہنے لگا اور وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ان کے لئے اس معاملہ کی وضاحت کیسے کرے، یہاں تک کہ ٹاٹ پہن لیا اور وہ ریت پر بیٹھ گیا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حجت وبیان کیلئے تضرع اور زاری کرنے لگا، تو اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف پر آگاہ کردیا، پس کہا جاتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو سکے دے کر شہر کی طرف بھیجا کہ وہ ان کیلئے وہاں سے کھانا لے آئے تو اس شخص کو اجنبی سمجھا گیا اور بہت طویل زمانہ گزرنے کی وجہ سے اس کے دراہم پر بھی اظہار تعجب کیا گیا، اور اسے بادشاہ کے پاس اٹھا کرلے جایا گیا اور وہ صالح آدمی تھا تحقیق وہ بھی ایمان لے آیا تھا اور جو اس کے ساتھ تھے وہ بھی ایمان لے آئے تھے۔ پس اس نے اس کی طرف دیکھا تو کہا : شاید یہ ان جوانوں میں سے ہے جو بادشاہ دقیانوس کے زمانے میں نکلے تھے، تحقیق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہا ہوں کہ وہ مجھے وہ کھائے۔ پھر اس نے جوان سے پوچھا تو اس نے اسے اس کی خبر دی، پس بادشاہ اس سے بہت خوش ہوا اور اس نے کہا : شاید اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نشانی بھیج دی ہے، پس ہمیں چاہئے کہ ہم اس کے ساتھ غار کی طرف چلیں، چناچہ وہ شہر والوں سمیت ان کی طرف سوار ہو کر گیا، اور جب غار کے قریب پہنچے تو تملیخا نے کہا : میں ان پر داخل ہوتا ہوں تاکہ وہ خوفزدہ نہ ہوجائیں چناچہ وہ اندر ان کے پاس گیا اور صورت حال سے انہیں آگاہ کیا اور یہ کہ یہ امت امت اسلام ہے، پس روایت ہے کہ انہیں اس سے ازحد خوشی ہوئی، اور وہ بادشاہ کی طرف باہر آئے اور انہوں نے اسکی عزت و تکریم کی اور وہ ان کی تعظیم بجالایا پھر وہ اپنے غار کی طرف لوٹ گئے۔ اور اکثر روایات میں یہ ہے کہ جس وقت تملیخا نے انہیں یہ بتایا تو اس وقت وہ حقیقی موت کے ساتھ فوت ہوگئے، جیسا کہ اس کا بیان آرہا ہے۔ اور جنہیں جسموں کے اٹھائے جانے میں شک تھا انہیں اسکا یقین حاصل ہوگیا۔ پس اعثرنا علیھم لیعلموا ان وعد اللہ حق کا یہی معنی ہے یعنی تاکہ بادشاہ اور اس کی رعایا جان لے کہ قیامت حق ہے اور دوبارہ زندہ کیا جانا (یعنی بعث) بھی حق ہے۔ اذ یتنازعون بینھم امرھم بلاشبہ انہوں نے اس ایک سے ان کی خبر پر استدلال کیا اور وہ ان پر داخل ہونے سے ڈرگئے تو بادشاہ نے کہا : تم ان پر (بطور یادگار) ایک عمارت تعمیر کر دو ؛ اور جوان جوانوں کے دین پر تھے انہوں نے کہا : ان پر مسجد بنا دو ۔ اور روایت ہے کہ ایک کافر گروہ نے کہا : ہم ان پر اپنی عبادت گاہ ہیا مہمان خانہ بنا لیتے ہیں، تو مسلمانوں نے انہیں روک دیا اور کہا : ہم ان پر ضرور مسجد بنائیں گے۔ اور روایت ہے کہ بعض لوگ ان پر غار کو بند کرنے کیلئے گئے اور انہوں نے انہیں اس میں اس حال میں چھوڑا کہ وہ غائب کر دئیے گئے ہیں۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت لوگوں پر ان کے اثر اور نشان کو اوجھل کردیا اور انہیں ان سے چھپا دیا، پس اسی لئے بادشاہ نے عمارت بنانے کے لئے کہا تاکہ وہ ان کی نشانی ہوجائے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک بادشاہ نے ارادہ کیا کہ وہ انہیں سونے کے صندوق میں دفن کرے تو حالت خواب میں ان سے کوئی آنے والا اس کے پاس آیا اور کہا : تو نے ہمیں سونے کے صندوق میں دفن کرنے کا ارادہ کیا ہے پس تو اس طرح نہ کر، کیونکہ ہم مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں اور اسی کی طرف ہم لوٹ رہے ہیں پس تو ہمیں چھوڑ دے۔ یہاں کئی ممنوع اور جائز مسائل پیدا ہوتے ہیں، پس قبروں پر مساجد بنانا اور ان میں نماز پڑھنا اور ان پر کوئی عمارت بنانا اور علاوہ ازیں وہ جنہیں سنت کی نہی متضمن ہے وہ ممنوع ہیں اور جائز نہیں ہیں، جیسا کہ ابو داؤد اور ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے قبور کی زیارت کرنے والیوں پر اور ان پر مساجد بنانے والوں پر اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کی ہے۔ ترمذی (رح) نے کہا ہے : اس باب میں حضرت ابوہریرہ ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث مروی ہے اور وہ حدیث حسن ہے۔ اور صحیحین نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک کنیسہ (گرجاگھر) کا ذکر کیا۔ انہوں نے اسے حبشہ میں دیکھا تھا اس میں تصاویر تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک یہ وہ لوگ ہیں جن میں کوئی صالح آدمی ہوتا اور وہ فوت ہوجاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں اس کی تصویریں لگا دیتے تو قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مخلوق میں سے بدترین لوگ ہوں گے “۔ یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : یہ مسلمانوں پر حرام کیا گیا ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) اور علماء کی قبروں کو مساجد (سجدہ گاہ) بنائیں۔ اور ائمہ نے ابو مرثر غنوی سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم قبروں کی طرف (متوجہ ہوکر) نماز نہ پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو “۔ یہ الفاظ مسلم کے ہیں، یعنی تم انہیں قبلہ نہ بناؤ کہ تم ان پر یا ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کیا ہے، کیونکہ یہ قبر والوں کی عبادت تک پہنچا دیتا ہے جیسا کہ بتوں کی پرستش کا سبب یہی بنا۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ نے اس کی مثل سے ڈرایا، اور اس تک پہنچانے والے ذرائع کو بند کردیا۔ اور فرمایا : ” اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا شدید غضب ہوگا جنہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کی قبروں کو مساجد بنایا “۔ اور صحیحین نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ ان دونوں نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ کے پاس وحی آتی تو آپ اپنا جبہ اپنے چہرے پر ڈال لیتے اور جب اس کے سبب گرمی اور حدت محسوس کرنے لگتے تو اسے اپنے چہرے سے اتار دیتے ایسے معاملہ میں اسی طرح ہوتا ہے : ” اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں کو مساجد بنا لیا ہے “۔ تو آپ اس سے ڈرا رہے ہیں جو کچھ انہوں نے کیا۔ اور امام مسلم نے حضرت جابر ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے کہ قبر پر چونا کیا جائے اور اس پر بیٹھا جائے اور اس پر کوئی عمارت بنائی جائے۔ اور اسے ابو داؤد اور ترمذی نے بھی حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو چونا کرنے، ان پر کچھ لکھنے، ان پر عمارت بنانے اور انہیں روندنے سے منع فرمایا ہے۔ ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور صحیح نے ابو الہاج اسدی سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا مجھے حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے کہا : کیا میں تجھے اس پر آگاہ نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے آگاہ کیا : خبردار سنو کوئی بت نہ چھوڑ مگر تو اسے مٹا دے اور کوئی بلند قبر نہ چھوڑ مگر تو اسے ہموار کر دے اور ایک روایت میں ہے اور کوئی تصویر نہ چھوڑ مگر تو اسے مٹا دے۔ اسے ابو داؤد اور ترمذی نے نقل کیا ہے۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : اس کا ظاہر تو اس پر دال ہے کہ آپ نے قبروں کو کوہان کی مثل بنانے اور ان کو بلند کرنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ وہ (زمین کے ساتھ) چپکی ہوئی ہوں۔ اور بعض اہل علم نے یہی کیا ہے۔ اور جمہور نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ بلندی جسے زائل کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ وہ ہے جو کوہان کی مثل سے زیادہ ہو، اور قبر کے لئے اتنی بلندی باقی رہے گی جس سے اسے پہچانا جاسکتا ہو اور اس کا احترام کیا جائے، اور یہی ہمارے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی قبر انور اور آپ کے صاحبین ؓ کی قبروں کی کیفیت اور حالت ہے جیسا کہ امام مالک (رح) نے مؤطا میں اسے ذکر کیا ہے۔ اور اسی طرح ہمارے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی قبر بھی ہے، جیسا کہ اسے دار قطنی نے حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ اور رہی زمانہ جاہلیت کی طرز پر بنائی جانے والی کثیر عمارتوں کی بلندی جو ان کی تفخیم شان اور تعظیم کے لئے ہوتی ہے تو اسے گرا دیا جائے گا اور زائل کردیا جائے گا، کیونکہ اس میں آخرت کی منازل میں سے پہلی منزل میں دنیوی زینت کا استعمال ہے، اور ان کے ساتھ تشبیہ اور موافقت ہے جو قبروں کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں، اور ان معانی کے اعتبار سے اور نہی کے ظاہر کے اعتبار سے یہ کہا جانا چاہئے کہ یہ حرام ہے۔ اور قبر میں کوہان کی شکل میں اس کی بلندی ایک بالشت کی مقدار ہے، یہ سنام البعیر (اونٹ کی کوہان) سے ماخوذ ہے۔ اور اس پر پانی چھڑ کا جائے گا تاکہ ہوا کے ساتھ وہ اڑ نہ جائے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : قبر کو گارے کے ساتھ لیب دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : قبر کو چونا نہیں کیا جائے گا اور نہ اسے گارے کے ساتھ لیپ کیا جائے گا اور نہ اس پر کوئی عمارت بنائی جائے گی کہ وہ گر پڑے۔ اور پتھر رکھنے میں کوئی حرج نہیں تاکہ وہ علامت بن جائیں، کیونکہ اسے ابوبکر الاثرم نے روایت کیا ہے اور کہا ہے : ہمیں مسدد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں نوح بن دراج نے ابان بن تغلب سے اور انہوں نے جعفر بن محمد سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ ہر جمعہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؓ کی قبر کی زیارت کرتی تھیں اور آپ نے اسے پتھر کی نشانی اور علامت لگا رکھی تھی ؛ اسے ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ اور رہے وہ امور جو جائز ہیں۔ پس تابوت میں دفن کرنا جائز ہے بالخصوص جب (قبر) نرم زمین میں ہو اور روایت ہے کہ حضرت دانیال (علیہ السلام) پتھر کے تابوت میں دفن ہوئے، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے وصیت فرمائی کہ ان کے لئے شیشے کا تابوت بنایا جائے اور پھر انہیں کنوئیں میں ڈال دیا جائے اس کوسے کہ کہیں ان کی عبادت (نہ) کی جائے، اور وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے تک اسی طرح باقی رہے، اور پھر ایک بڑھیا نے اس پر آپ کی رہنمائی کی تو انہوں نے آپ کو اٹھایا اور انہیں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے خطیرہ میں دفن کردیا۔ اور صحیح میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے اس مرض میں کہا جس میں ان کا وصال ہوا کہ تم میرے لئے لحد بنانا اور مجھ پر کچی اینٹیں کھڑی کر کے لگانا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے کیا گیا۔ اللحد : یہ ہے کہ زمین میں گڑھا کھودا جاتا ہے پھر اس گڑھے میں قبلہ کا جانب سے دوسری قبر کھودی جاتی ہے اگر زمین سخت ہو تو اس میں میت کو داخل کردیا جاتا ہے اور اسے کچی اینٹوں کے ساتھ بند کردیا جاتا ہے۔ اور یہ ہمارے نزدیک شق سے افضل ہے، کیونکہ یہی وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول معظم ﷺ کے لئے پسند فرمایا۔ اور اسی طرح امام ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے کہ سنت لحدبنانا ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : شق ہے۔ اور لحد میں پکی اینٹیں لگانا مکروہ ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ یہ بھی پتھر کی ایک قسم ہے۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) اور آپ کے اصحاب نے اسے مکروہ قرار دیا ہے، کیونکہ پکی اینٹیں توعمارت کو پختہ کرنے کے لئے ہیں، اور قبر اور جو کچھ اس میں ہے وہ آزمائش کے لئے ہے لہٰذا اس میں پختگی مناسب نہیں ہے اور اسی بنا پر پتھر اور پکی اینٹ کو برابر قراردیا جاتا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پکی اینٹ میں آگ کا اثرہوتا ہے، پس وہ بطورفال مکروہ ہے، اور اسی بناء پر پتھر اور پکی اینٹ کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے : کچی اینٹیں اور کا نے لگانا مستحب ہے جیسا کہ روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کی قبر پر کانوں کا ایک گٹھا لگایا گیا۔ اور شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل حنفی (رح) تعالیٰ سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے ان شہروں میں زمین کے نرم ہونے کی وجہ سے تابوت بنانے کو جائز قرار دیا ہے اور کہا ہے : اگر لوہے کا تابوت بنایا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے، لیکن یہ چاہئے کہ اس میں مٹی بچھائی جائے اور اوپر والا وہ حصہ جو میت کے ساتھ ملتا ہے اسے مٹی کے ساتھ لیپ کردیا جائے۔ اور میت کی دائیں اور بائیں جانب پر ہلکی سے کچی اینٹیں رکھ دی جائیں تاکہ وہ لحد کے قائم مقام ہوجائے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اسی وجہ سے حضور نبی مکرم ﷺ کی قبر مبارک میں چادر رکھی گئی، کیونکہ مدینہ طیبہ کی زمین شوریلی ہے۔ شقران نے کہا ہے : قسم بخدا ! رسول اللہ ﷺ کے نیچے قبر شریف میں چادر رکھی گئی۔ ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا ہے : شقران کی حدیث حسن (صحیح) اور غریب ہے۔
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

(بعض لوگ) لوگ بظاہر کچھ کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتا تھا اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا (اور بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملہ) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو اور نہ ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا۔

آیت نمبر 22 قولہ تعالیٰ : سیقولون ثلثۃ رابعھم کلبھم، سیقولون میں ضمیر سے مراد اہل تورات اور حضور نبی مکرم ﷺ کے ہمعصر ہیں۔ اور انہوں نے اصحاب کہف کی تعداد میں یہ اختلاف کیا جو بیان کیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس سے مراد نصاریٰ ہیں، کیونکہ ان کی ایک جماعت نجران سے حضور نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور آپ نے اصحاب کہف کا ذکر چلا دیا تو یعقوبیہ نے کہا : وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ اور نسطوریہ نے کہا : وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ اور مسلمانوں نے کہا : وہ سات تھے آٹھواں ان کا کتا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان یہودیوں کے بارے خبر دی جا رہی ہے جنہوں نے مشرکین کو حضور نبی کریم ﷺ سے اصحاب کہف کے بارے سوال کرنے کا حکم دیا تھا۔ اور قول باری تعالیٰ وثامنہم کلبھم میں واونحویوں کے طریقہ پر واو عطف ہے جو ان کی تعداد کے بارے اخبار کے آخر میں داخل ہے ؛ تاکہ ان کا معاملہ جدا اور الگ ہوجائے، اور یہ اس پر دلالت کرے کہ یہ اس کی غایت ہے جو اس میں کہا گیا ہے، اور اگر یہ ساقط بھی ہوجائے تو بھی کلام صحیح ہے۔ اور ایک فرقہ نے کہا ہے ان میں سے ابن خالویہ بھی ہیں : یہ واو ثمانیہ ہے۔ ثعلبی نے ابوبکر بن عیاش سے بیان کیا ہے کہ قریش ان کی تعداد بیان کرتے وقت کہتے تھے : ستۃ سبعۃ وثمانیۃ (چھ، سات اور آٹھ) پس وہ آٹھ کے عدد میں داؤ داخل کرتے تھے۔ اور قفال نے بھی اسی طرح کہا ہے، پس انہوں نے کہا ہے : بیشک ایک قوم نے کہا ہے کہ عربوں کے نزدیک عدد کی انتہا سات پر ہوجاتی ہے، اور جب اس سے زیادہ کی ضرورت پیش آئے تو واؤ ذکر کرکے دوسری خبر نئے سرے سے لائی جاتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ التآئبون العبدون (التوبہ : 112) پھر فرمایا والناھون عن المنکر والحفظون (التوبۃ :112) اور اس پر یہ بھی دلالت کرتا ہے کہ جب جہنم کے دروازوں کا ذکر کیا تو بغیر واؤ کے فرمایا : حتی اذا جآء وھا فتحت ابوابھا (الزمر :71) اور جب جنت کا ذکر کیا تو فرمایا : فتحت ابوابھا (الزمر :71) یعنی اسے واؤ کے ساتھ ذکر کیا۔ مزید فرمایا : خیر امنکن مسلمت (التحریم :5) پھر فرمایا : وابکارا پس سات ان کے نزدیک آخری عدد ہے جیسا کہ اب ہمارے نزدیک دس آخری عدد ہے۔ علامہ قشیری ابو نصر نے کہا ہے : اس کلام کی مثل لانا تحکم (یعنی مرضی کا فیصلہ) ہے، ان کے نزدیک سات کہاں آخری عدد ہے۔ پھر یہ (کلیہ) اس قول باری تعالیٰ کے ساتھ ٹوٹ جاتا ہے : ھو اللہ الذی۔۔۔۔۔۔ الجبار المتکبر (الحشر : 23) اور اس میں آٹھواں اسم واؤ کے ساتھ مذکور نہیں۔ اور ان میں سے ایک قوم نے کہا ہے جو اس طرف گئے ہیں کہ ان کی تعداد سات تھی کہ قول باری تعالیٰ : سبعۃ وثامنھم میں واؤ ذکر کی گئی ہے تاکہ وہ اس پر آگاہ کرے کہ یہ عدد ہی حق اور صحیح ہے، اور یہ کہ یہ ان دوسرے اعداد سے جدا اور الگ کرنے والی ہے جو اس کے بارے میں اہل کتاب نے کہے ہیں، اسی لئے پہلے دو جملوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : رجما بالغیب (یہ بن دیکھے تخمینے ہیں) اور تیسرے جملے میں اسے ذکر نہیں کیا اور اس میں کسی شے سے کوئی قدح اور اعتراض نہیں، تو گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو فرمایا : وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ اور الرجم سے مراد قول بالظن (یعنی محض وہم و گمان اور اندازے سے بات کرنا) ہے، ہر وہ شے جس کے لئے اندازہ اور تخمینہ لگایا جاتا ہے اس کیلئے کہا جاتا ہے : رجم فیہ ومرجوم ومرجم۔ جیسا کہ شاعر نے بھی کہا ہے : وما الحرب إلا ما علمتم وذقتم وما ھو عنھا بالحدیث المرجم میں (مفسر) کہتا ہوں : ماوردی اور غزنوی نے ذکر کیا ہے کہ ابن جریج اور محمد بن اسحاق نے کہا ہے : وہ آٹھ تھے، اور ان دونوں نے قول باری تعالیٰ : وثامنھم کلبھم کو صاحب کلبھم قرار دیا ہے (یعنی آٹھواں کتے کا مالک تھا) اور یہ اس میں سے ہے جو واؤ کے بارے میں نحویوں کے طریقہ کو تقویت دیتا ہے، اور یہ اسی طرح ہے جیسے انہوں نے کہا۔ اور قشیری نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے قول : رابعھم اور سادسھم میں واؤ ذکر نہیں کی، اور اگر اس کے برعکس بھی ہو تو یقیناً وہ جائز ہے، پس اس جیسی واؤ میں حکمت اور علت تلاش کرنا ایک ایسا تکلف ہے جو حقیقت سے دور ہے، اور یہ اسی قول کی طرح دوسرے مقام پر ہے : وما اھلکنا۔۔۔۔۔۔ کتاب معلوم۔ (الحجر) اور ایک اور مقام پر ہے : الا لھا منذرون۔ ذکریٰ (الشعراء) (یعنی ایک آیت میں واؤ مذکور ہے اور دوسری میں نہیں ہے) ۔ قولہ تعالیٰ : قل ربی اعلم بعدتھم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو اس آیت میں حکم ارشاد فرمایا کہ وہ ان کی تعداد کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا دیں، بعد ازاں اسکی خبر دی کہ انسانوں میں سے اسے جاننے والے چند لوگ ہیں اور اس سے مراد اہل کتاب کا گروہ ہے ؛ یہ حضرت عطا کے قول میں ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں : ان چند آدمیوں میں سے میں بھی ہوں، وہ سات آدمی تھے اور ان میں آٹھواں ان کا کتا تھا، پھر آپ نے ان سات کے ناموں سمیت ذکر کیا۔ اور رہا کتا تو اس کا نام قطمیر کلف انمر ہے، جو قلطی سے بڑا اور کردی سے چھوٹا تھا۔ اور محمد بن سعید بن مسیب نے کہا ہے : وہ چینی کتا تھا۔ اور صحیح یہ ہے کہ وہ زبیری تھا۔ اور بیان کیا کہ نیشاپور میں کوئی محدث باقی نہیں رہا مگر اس نے یہ حدیث مجھ سے لکھی ہے سوائے اس کے جو اس پر قادر نہ ہوسکا۔ فرمایا : اسے ابو عمر و حیری نے مجھے سے لکھا ہے۔ قولہ تعالیٰ : فلا تمار فیھم الا مرآء ظاھرا یعنی اصحاب کہف کے بارے میں آپ جھگڑا اور بحث نہ کریں مگر اسی کے ساتھ جو ہم نے آپ کی طرف وحی کردی ہے، اور وہ ان کی تعداد کا علم اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : المراء الظاھر کا معنی یہ ہے کہ آپ کہیں : ایسا نہیں ہے جیسے تم کہتے ہو، اور اسی طرح کی گفتگو، اور اس میں مقدر امر پر آپ استدلال نہ کریں۔ اور اس میں اس پر دلیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعداد کسی کیلئے بیان نہیں فرمائی پس اسی لئے فرمایا الا مرآء ظاھرا یعنی اسے جانے دو ۔ جیسا کہ کسی نے کہا : وتلک شکاۃ ظاھر عنک عارھا (وہ عیب ہے اس کی عار تجھ سے ظاہر ہے) اس آیت میں کسی کیلئے مباح نہیں ہے کہ وہ شک کرے، لیکن قول باری تعالیٰ : الامرآء مرآء یہ استعارہ ہے اس حیثیت سے کہ اہل کتاب اس میں شک کرتے ہیں۔ اور آپ کے ان کی طرف رجوع کرنے کو مرآء کا نام دیا گیا ہے پھر اسے ظاہر کے ساتھ مقید کردیا گیا ہے، پس یہ مراد حقیقی سے جو کہ مذموم ہے جدا ہوگیا۔ اور قول باری تعالیٰ فیھم میں ضمیر اصحاب کہف کی طرف لوٹ رہی ہے اور قول باری تعالیٰ : منھم میں ضمیر معارض اہل کتاب کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : فلا تمار فیھم میں مراد فی عدتھم (پس آپ ان کی تعداد میں شک نہ کریں) ؛ اور لفظ عدۃ کو حذف کردیا گیا ہے کیونکہ ظاہر قول اس پر دلالت کرتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : ولا تستفت فیھم منھم احدا روایت ہے کہ آپ ﷺ نے نجران کے عیسائیوں سے ان کے بارے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سوال سے منع کردیا۔ اور اس میں اس پر دلیل ہے کہ مسلمانوں کے لئے کسی چیز کو جاننے کیلئے اہل کتاب کی طرف رجوع کرنا ممنوع ہے۔