18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 18:82

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور وہ جو دیوار تھی دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا، اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپناخزانہ نکالیں یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کیے یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واما الجدار فکان لغلمین۔ (1) یہ لڑکے دونوں چھوٹے تھے کیونکہ یتیم کے ساتھ ان کی صفت بیان کی گئی ہے۔ ان کے نام اصرام اور صریم تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : لا یتم بعد بلوغ “ بلوغت کے بعد یتیمی نہیں ہے۔ “ یہی ظاہر ہے۔ یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ ان پر شفقت کی بناء پر بعد از بلوغ یتیم کا لفظ بوالا گیا ہو اگرچہ وہ یتیم نہ تھے (2) یہ پہلے گزر چکا ہے کہ لوگوں میں یتیم وہ ہوتا ہے جس کا باپ فوت ہوجائے اور حیوانوں میں وہ ہوتا ہے جس کی ماں مر جائے۔ فی المدینۃ میں دلیل ہے کہ دیہات کو بھی مدینہ کہا جاتا ہے، اسی سے حدیث ہے امرت بقریۃ تاکل، القری (3) اور ہجرت کی حدیث میں ہے۔ لمن انت۔ تو اس شخص نے کہا : من اھل المدنیۃ۔ یعنی مکہ سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکان تحتہ کنزلھما، کنز کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، عکرمہ اور قتادہ نے کہا : وہ بہت بڑا مال تھا، یہ کنز کے اسم سے ظاہر ہے کیونکہ لغت میں مال مجموع کو کنزل کہا جاتا ہے، اس کے متعلق کلام گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا یہ علم تھا جو مدفون صحیفوں میں تھا ( 4) حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے فرمایا : وہ سونے کی تختی بھی جس پر یہ لکھا ہوا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم مجھے تعجب ہے اس شخص کے لیے جو تقدیر پر ایمان رکھتا ہے پھر وہ کیسے پریشان ہوتا ہے ؟ مجھے تعجب ہے اس پر جو رزق پر ایمان رکھتا ہے پھر وہ کیسے تھکتا ہے ؟ مجھے تعجب ہے اس پر جو موت پر ایمان رکھتا ہے پھر وہ کیسے خوش ہوتا ہے ؟ مجھے تعجب ہے اس پر جو حساب پر ایمان رکھتا ہے پھر کیسے غافل ہوتا ہے ؟ مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو اس کو جانتا ہے اور اس کے اپنے اہل کے ساتھ تبدیل ہونے کو بھی جانتا ہے پھر اس کے لیے مطمئن ہوتا ہے، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ عکرمہ اور عمر مولی غفرہ سے اسی طرح مروی ہے، حضرت عثمان بن عفان ؓ نے یہ نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکان ابوھما صالحاً سیاق کلام اور لفظ کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا قریبی والد تھا (1) بعض علماء نے فرمایا : وہ ان کا ساتواں دادا تھا ؛ یہ جعفر بن محمد کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : وہ دسواں دادا تھا اس کی وجہ سے ان کی حفاظت کی گئی اگرچہ وہ صلاح کے ساتھ مشہور نہ تھا، اسے کا شخ کہا جاتا تھا ؛ یہ مقاتل کا قول ہے۔ ان کی والدہ کا نام دینا تھا ؛ یہ نقاش نے ذکر کیا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ صالح شخص کی اپنی بھی حفاظت فرماتا ہے اور اس کی اولاد کی بھی حفاظت فرماتا ہے، اگرچہ وہ اس سے بہت دور کا رشتہ رکھتے ہوں، روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ صالح آدمی کی سات پشتوں تک حفاظت کرتا ہے، اس پر دلیل اللہ تعالیٰ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ان ولی اللہ الذی نزل الکتب وھو یتولی الصلحین۔ (الاعراف) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما فعلتہ عن امری۔ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نبی تھے (2) ان کے بارے میں اختلاف گزر چکا ہے۔ ذلک تاویل یعنی تفسیر۔ مالم تسطع علیہ صبرا۔ ایک جماعت نے تستطع پڑھا ہے۔ جمہور علماء نے تسطع پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے کہا : ہم مصحف کے خط میں اسی طرح پڑھتے تھے۔ یہاں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اگر کوئی کہنے والا کہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نوجوان کا ذکر نہ آیت کی ابتداء میں ہوا نہ آخر میں ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں اختلاف ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نوجوان کا ذکر نہیں سنا گیا حالانکہ وہ ان کے ساتھ تھا، تو حضرت اببن عباس ؓ نے فرمایا سے پوچھا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نوجوان کا ذکر نہیں سنا گیا حالانکہ وہ ان کے ساتھ تھا، تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نوجوان نے پانی پیا تھا پس وہ ہمیشہ زندہ رہے گا اسے عالم نے پکڑا اور اس پر کشتی کو چسپاں کردیا پھر اس دریا میں چھوڑ دیا وہ اس کے ساتھ قیامت تک دریا میں گھومتی رہے گی یہ اس لیے ہوا کہ اسے پانی پینا نہیں تھا، لیکن اس نے اس سے پانی پی لیا تھا۔ قشیری نے کہا : اگر یہ ثابت ہو تو پھر نوجوان یوشع بن نون نہ ہو کیونکہ یوشع بن نون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد زندہ رہے تھے اور ان کے خلیفہ تھے۔ اظہر یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نوجوان کو واپس بھیج دیا تھا جب ان کی حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تھی۔ ہمارے شیخ امام ابوالعباس نے کہا : یہ احتمال ہے کہ متبوع کے ذکر کی وجہ سے تابع کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہو۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے ان لڑکوں کے خزانہ کو نکالنے کے واقعہ کو اللہ کی طرف کیسے منسوب کیا جبکہ انہوں نے کشتی کو شگاف لگانے کے بارے میں کہا فاردت ان اعیبھا عیب کی نسببت اپنی طرف کی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ دیوار میں ارادہ کو اللہ کی طرف منسوب کیا کیونکہ ایک لمبے زمانہ میں ایک نیا امر تھا اور غیوب میں سے ایک غیب تھا، پس اس جگہ صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ہی بہتر تھا، اگرچہ حضرت خضر علیہ اللسلام نے وہ ارادہ کیا تھا جو اللہ تعالیٰ نے اسے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : چونکہ یہ کام تمام خیر تھا تو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی۔ اور کشتی کے عیب کو ادبب کی رعایت کرتے ہوئے اپنی طرف منسوب کیا کیونکہ یہ عیب کا لفظ تھا پس انہوں نے ادب کا خیال کرتے ہوئے ارادہ کو اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا بلکہ اپنی طرف منسوب کیا جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) نے ادب کا خیال کرتے ہوئے کہا تھا : واذا مرضت فھو یشقین۔ (اشعرائ) پہلے اور بعد میں فعل کو اللہ کی طرف منسوب کیا اور اپنی طرف مرض کی نسبت کی کیونکہ اس میں نقصک اور مصیبت کا معنی ہے، پس اللہ تعالیٰ کی طرف صرف وہی الفاظ منسوب کیے جاتے ہیں جو مستحسن ہوں۔ یہ ایسے ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیدک الخیر (آل عمران : 26) خیر پر اکتفا فرمایا اور شر کو اپنی طرف منسوب نہیں کیا اگرچہ خیرو شر، نقصان اور نفع اس کے ہاتھ میں ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہی ہر شے سے آگاہ ہے، اس پر اس حدیث سے اعتراق نہیں کیا جاسکتا جس میں ہے کہ ” اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فرمائے گا : اے ابن آدم ! میں مریض تھا تو تو نے میری عیادت نہیں کی، میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا تو تو نے مجھے کھلایا نہیں تھا، میں نے تجھ سے پانی طلب کیا تھا تو تو نے مجھے پانی نہیں پلایا تھا “ (1) یہ خطاب میں تنزل اور عتاب میں تلطف ہے۔ اس کا مقصد ذی الجلال کی فضیلت کی پہچان ہے، اور ان پر اعمال کے ثواب کی مقادیر کی معرفت ہے ؛ یہ معنی پہلے گزر چکا ہے۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کو شایان ہے کہ اپنے لیے جو چاہے بیان کرے اور ہمیں صرف اسی کی اجازت ہے جس میں اوصاف جمیلہ کا ذکر ہو اور افعال شریفہ کا بیان ہو۔ اللہ تعالیٰ نقائص اور آفات سے بلند وبالا ہے۔ لڑکے کے بارے میں فرمایا : فاردنا قتل کی نسبت اپنی طرف کی، افضل کمال خلق اور کمال عقل ہے۔ سورة انعام میں اس کا معنی گزر چکا ہے۔ الحمد للہ۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ہمارے شیخ ابوالعباس نے فرمایا : زنادقہ باطنیہ قوم سلوک طریق کا نظریہ رکھتے ہیں جس سے احکام شرعیہ لازم ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : یہ احکام شرعیہ عامہ جو ہیں ان کے ساتھ حکم اغبیاء اور عوام پر لگایا جاتا ہے۔ رہے اولیاء اور اہل خصوص وہ ان نصوص کے محتاج نہیں ہیں بلکہ ان سے وہی مراد ہوتا ہے جو ان کے دلوں میں واقع ہوتا ہے اور ان پر اس کے ساتھ حکم لگایا جاتا ہے جو ان کے خواطر پر غالب آتا ہے، انہوں نے کہا : یہ اس لیے ہے کہ ان کے دل کدورتوں سے صاف ہوتے ہیں اور ان کے دل اغیار سے خالی ہوتے ہیں، اور ان کے لیے علوم الٰہیہ روشن ہوتے ہیں اور حقائق ربانیہ واضح ہوتے ہیں، وہ اسرار کائنات پر واقف ہوتے ہیں اور جزئیات کے احکام جانتے ہیں اس لیے وہ احکام شرعیہ کلیہ سے مستغنی ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کے لیے اتفاق ہوا وہ علوم جو ان کے لیے روشن تھے ان کی وجہ سے وہ ان علوم سے مستغنی ہوئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس تھے اور یہ لوگ یہ حدیث اپنے اس نظریہ پر نقل کرتے ہیں ” اپنے دل سے فتویٰ پوچھ اگرچہ مفتی تجھے فتویٰ دیں “ ہمارے شیخ نے فرمایا : یہ قول زندقۃ اور کفر ہے، اس کے قائل کو قتل کیا جائے گا اور اس سے توبہ طلب نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ معلوم شرائع کا انکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت جاری فرمائی اور اپنی حکمت نافذ فرمائی ہے کہ اس کے احکام معلوم نہیں ہوتے ہیں مگر ان رسولوں کے واسطہ سے جو اس کے اور مخلوق کے درمیان سفیر ہوتے ہیں وہ اس کے پیغام اس کی طرف پہنچاتے ہیں اور وہ اس کی شریعت اور احکام ببیان کرتے ہیں، اسی وجہ سے اس نے انہیں چنا ہے اور اس کے ساتھ انہیں خاص کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ یصطفی من الملٰئکۃ رسلا ومن الناس ط اللہ سمیع بصیر۔ (الحج) اور فرمایا : اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ (الانعام :124) کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبیین مبشرین ومنذرین (البقرہ :213) اس کے علاوہ بھی آیات ہیں۔ بہرحال علم یقینی اور قطعی یقین اور سلف و خلف کا اس بات پر اجماع حاصل ہے کہ احکام الٰہیہ کی معرفت کا کوئی راستہ نہیں جو اس کے امر اور نہی پر مشتمل ہیں اور ان میں سے کسی حکم کی پہچان نہیں ہو سکتی مگر رسولوں کی جہت سے۔ پس جو کہتا ہے کہ کوئی دوسرا طریقہ ہے جس سے امرونہی کی پہچان بغیر رسولوں کے ہوتی ہے رسولوں کی جس میں ضرورت نہیں تو وہ کافر ہے، اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے توبہ طلب نہیں کی جائئے گی اور نہ اس کے ساتھ سوال و جواب کی ضرورت ہے۔ پھر یہ تو ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد دوسرے انبیاء کا اثبات ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیائء اور خاتم الرسل بنایا ہے۔ حالانکہ اس کے بعد نہ کوئی نبی ہے نہ رسول اس کا بیان یہ ہے کہ جو کہتا ہے کہ وہ اپنے دل سے احکام لیتا ہے جو اس کے دل میں واقع ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا وہ اس کے مقتضا کے مطابق عمل کرے گا وہ اس کیفیت کے ساتھ کتاب و سنت کا محتاج نہیں تو اس نے خاص اپنے لیے نبوت ثابت کی کیونکہ یہ اس طرح ہے جو رسول ﷺ نے فرمایا تھا : کہ ” روح القدس نے میرے دل میں پھونکا “۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ جمہور لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کا وصال ہوگیا ہے۔ اور ایک جماعت نے کہا : وہ زندہ ہیں کیونکہ آپ نے آب حیات کے چشمہ سے پانی پیا تھا۔ وہ زمین میں باقی ہیں اور وہ بیت اللہ کا حج کرتے ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : اس مفہوم میں نقاش نے بڑی لمبی کلام کی ہے، انہوں نے اپنی کتاب میں ببہت سی چیزیں حضرت علی ؓ وغیرہ سے روایت کی ہیں۔ یہ تمام روایات کسی بنیاد پر مبنی نہیں۔ اگر حضرت خضر علیہ اللسلام زندہ ہوتے اور حج کرتے تو ملت اسلامیہ میں ان کا ظہور ہوتا۔ اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کی تفاصیل کو جاننے والا ہے اس کے علاوہ کوئی ربب نہیں۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کے وصال پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے : ارایتم لیلتکم ھذہ فانہ لا یبقی ممن ھوالیوم علی ظھر الارض احد (1) ۔ میں کہتا ہوں : یہ امام بخاری کا مسلک ہے، قاضی اببوبکر نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ صحیح قول دوسرا ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) زندہ ہیں جیسا کہ ہم ذکر کریں گے۔ اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے فرمایا : نبی پاک ﷺ نے اپنی زندگی کے آخر میں ایک رات عشاء کی نماز پڑھائیع جب سلام پھیلرا تو آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” تم اپنی اس رات کے بارے میں بتائو کہ اس سے سو سال کے آغاز پر جو سطح زمین پر ہے ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا “ (2) ۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : نبی کریم ﷺ کی بات پر لوگ غلط تبصرے کرنے لگے، سو سال کے بارے میں مختلف باتیں کرنے لگے جو وہ کرتے تھے۔ نبی اپک ﷺ نے فرمایا : ” جو آج سطح زمین پر ہے اس میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا “ (3) ۔ اس سے مراد یہ تھا کہ یہ قرن ختم ہوجائے گی۔ اس حدیث کو حضرت جابر بن عببدالللہ نے بھی روایت کیا ہے۔ فرمایا : میں نے نبی کریم ﷺ کو وصال سے ایک مہینہ پہلے یہ کہتے ہوئے سنا : ” تم مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہو، اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں ! سطح زمین پر کوئی نفس رہنے والا نہیں ہوگا جس پر سو سال گزرے گا “ دوسری روایت میں ہے سالم نے کہا : ہم نے ذکر کیا ہے کہ جو اس دن پیدا ہوچکا ہے۔ ایک روایت میں ہے آج کوئی نفس ایسا نہیں جس پر سو سال آئے گا، اور وہ اس وقت زندہ ہوگا۔ عبدالرحمن صاحب السقایۃ نے اس کی تفسیر میں فرمایا : عمر کم ہوگی۔ حضرت ابو سعید خدری سے اس حدیث کی طرح مروی ہے۔ ہمارے علماء نے کہا : اس حدیث کے ضمن میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے وصال سے ایک مہینہ پہلے خبر دی تھی کہ بنی آدم میں سے جو بھی موجود ہے اس کی عمر سو سال پر ختم ہوجائے گی کیونکہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ما من نفس منفوسۃ (1) ۔ یہ لفظ ملائکہ اور جن کو شامل نہیں کیونکہ ان سے صحیح نہیں کہ وہ اس طرح ہیں اور نہ حیوان غیر عاقل شامل ہیں کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا : ممکن ھو علی ظھر الارض احد (2) ۔ یہ اصل وضع کے اعتبار سے ذوی الاعقول کے لیے بولا جاتا ہے پس تعین ہوگیا کہ مراد بنی آدم ہیں۔ حضرت ابن عمر نے اس معنی کو بیان کیا ہے فرمایا : اس سے مراد صدی کا ختم ہونا ہے۔ اس شخص کے لیے کوئی حجت نہیں جو اس شخص کے قول کے بطلان پر حجت پکڑتا ہے جو کہتا ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) زندہ ہیں کیونکہ مامن نفس منفوسۃ (3) میں عموم ہے چونکہ عموم اگرچہ استغراق کی تاکید کرتا ہے، لیکن اس میں نص نہیں ہوتا بلکہ وہ تخصیص کے قابل ہوتا ہے۔ پس یہ اس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو شامل نہیں ہے، کیونکہ وہ فوت ہوئے ہیں نہ قتل ہوئے ہیں، نص قرآنی کے ساتھ ان کا زندہ ہونا ثابت ہے، اور یہ عموم دجال کو بھی شامل نہیں حالانکہ وہ بھی زندہ تھا، اس کی دلیل حدیث الجساسہ ہے۔ اسی طرح یہ عموم حضرت خضر (علیہ السلام) کو بھی شامل نہیں۔ وہ لوگوں کو نظر نہیں آتے اور نہ ان کو نظر آتے ہیں جن لوگوں میں وہ جاتے ہیں تاکہ ان کے دل میں ایک دوسرے سے خطاب کے وضت خطرہ پیدا نہ ہو، اس عموم کی مثل ان کو شامل نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اصحاب کہف زندہ ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حج کرتے ہیں جیسا کہ پہلے گذزر چکا ہے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نوجوان جو حضرت اببن عباس ؓ کے قول میں ہے جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا۔ ابو اسحاق ثعلبی نے (العرائس) میں ذکر کیا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نبی ہیں ان کو لمبی عمر دی گئی ہے، آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ محمد بن متوکل نے ضمرہ بن ربیعہ عن ابن شوذب کے سلسلہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : حضرت خضر (علیہ السلام) فارس کی اولاد سے تھے اور حضرت الیاس (علیہ السلام) بنی اسرائیل سے تھے، وہ ہر سال حج کے موقع پر آپس میں ملاقات کرتے ہیں۔ عمرو ببن دینار سے مروی ہے فرمایا : حضرت خضر اور حضرت الیاس (علیہما السلام) زمین پر زندہ رہیں گے جب تک قرآن زمین پر موجود ہے، جب قرآن اٹھا لیا جائے گا وہ بھی فوت ہوجائیں گے۔ ہمارے شیخ امام ابو محمد عبدالمعطی بن محمد بن عببدالمعطی لخمی نے قشیری کے رسالہ کی شرح میں بہت سے نیک مردوں اور عورتوں کی حکایات ذکر کی ہیں کہ انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو دیکھا اور ان سے ملاقات کی جس کے مجموعہ سے ظن غالب یہی ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں نیز نقاش اور ثعلبی وغیرہ نے بھی یہ ذکر کیا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے ” دجال شوریلی زمین پر پہنچے گا جو مدینہ کے قریکب ہوگی اس وقت اس کی طرف ایک شخص نکلے گا جو لوگوں سے بہت ہوگا۔ اس حدیث کے آخر میں ابو اسحاق نے کہا : یعنی ان ھذا الرجل ھو الخضر (1) (وہ شخص حضرت خضر ہوگا) ابن ابی الدنیا نے ” الہواتف “ میں ایک سند کے ساتھ ذکر کیا ہے جس کو انہوں نے حضرت علی ؓ تک پہنچایا ہے کہ وہ حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملے اور انہوں نے آپ کو یہ دعا سکھائی اور اس میں اس شخص کے لیے بہت بڑے ثواب، مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا ہے جو ہر نماز کے بعد اس کو پڑھے گا وہ دعا یہ ہے : یا من لا یشغلہ سمع عن سمع، ویا من لا تغلطہ المسائل، ویامن لا یتبرم من الحاح الملحین، اذقنی بردعوفک، وحلاوۃ مغفرتک (اے وہ ذات جس کو ایک آواز کا سننا دوسری آواز سے سننے سے غافل نہیں کرتا، اے وہ ذات مسائل جس سے غلطی نہیں کراتے، اے وہ ذات جو اصرار سے مانگنے والوں کے اصرار سے اکتاتی نہیں ! تو مجھے اپنے عفو کی ٹھنڈک اور اپنی مغفرت کی حلاوت عطا فرما) انہوں نے حضرت عمر سے بھی بعینہٖ یہی دعا ذکر کی ہے جو انہوں نے حضرت علی ؓ سے ذکر کی جو انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے سنی ہے، اسی طرح انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے سنی ہے، اسی طرح انہوں نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کا نبی کریم ﷺ سے ملاقات ہونا بھی جائز ہے۔ ابن ابی الدنیا نے ذکر کیا ہے کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر (علیہما السلام) ہر سال بیت اللہ کے پاس ملتے ہیں اور جدائی کے وقت کہتے ہیں : ما شاء اللہ ما شاء اللہ، لا یصرف السوالا اللہ، ما شاء اللہ ما شاء اللہ ما یکون من نعمۃ فمن اللہ ما شاء اللہ ماشاء اللہ توکلت علی اللہ حسبنا اللہ ونعم الوکیل (جو اللہ چاہے جو اللہ چاہے برائی اور تکلیف کو اللہ کے سوا کوئی نہیں پھیر سکتا، جو اللہ چاہے جو اللہ چاہے۔ جو اللہ چاہے۔ میں اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہتر کارساز ہے) رہی حضرت الیاس (علیہ السلام) کی خبر تو وہ سورة الصافات میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ ابو عمر بن عبدالبر نے کتاب ” التمہید “ میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا اور کپڑے کے ساتھ آپ کو لپیٹا گیا تھا تو گھر کے ایک کونے سے ہاتف غیبی نے آواز دی لوگ اس کی آواز سنتے تھے اور اس شخصیت کو نہیں دیکھتے تھے : السلالم علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ السلام علیکم اھل البیت۔ کل نفس ذائقۃ الموت۔ ان فی اللہ خلفا من کل ھالک وعوضا من کل تالف، عزاء من کل مصیبۃ، فباللہ فثقوا، وایاہ فارجوا، فان المصابب من حرم الثواب (اے اہل بیت ! تم پر سلام ہو، ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ہر جانے والے کے خلیفہ ہے اور تلف ہونے والے کا عوض ہے، ہر مصیبت سے تسلی ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اور اس سے امید رکھو، مصیبت زدہ وہ ہے جو ثواب سے محروم کیا گیا) صحابہ کرام خیال کرتے تھے کہ یہ حضرت خضر علیہ اللسلام ہیں علی الارض میں الف، لام عہد کے لیے ہے جنس کے لیے نہیں ہے، اس سے مراد عرب کی زمین ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کا اس میں تصرف تھا اور اس کی طرف لوٹنا تھا نہ کہ یاجوج ماجوج کی زمین اور نہ ہندو سندھ کے دوردراسز علاقے جس کا نام بھی نہیں سنا گیا اور نہ اس کا علم ہوا اور دجال کے بارے میں جواب نہیں۔ علامہ سہیلی نے کہا : حضرت خضر علیہ السللام کے نام کے بارے میں بڑا واضح اختلاف ہے۔ ابن منبہ سے مروی ہے انہوں نے کہا : ایلیا بن ملکان ببن فالغ بن شالخ بن ارفحشد بن سام بن نوح۔ بعض علماء نے کہا : وہ ابن عامیل بن سمالجین ابن آریا بن علقما بن اسحاق ہے، ان کا باپ ملیکا تھا اور ماں بنت فارس اس کا نام الھا تھا انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو ایک غار میں جنم دیا تھا وہاں ایک بکری تھی جو انہیں ہر روز دودھ پلاتی تھی وہ اس شہر کے ایک آدمی کی بکریوں میں سے تھی، اس شخص نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو پکڑ لیا اور آپ کی پرورش کی جب جوان ہوگئے تو ملک جو حضرت خضر کا باپ ہے نے ایک کاتب بلایا اور اہل معرفت و نبالت کو جمع کیا تاکہ وہ صحیفے لکھے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت شیث (علیہ السلام) پر نازل ہوئے تھے۔ جو کاتبوں میں اس کے سامنے آیا اس کا بیٹا خضر تھا، وہ اسے نہیں جانتا تھا، جب اس نے بہت اچھا لکھا تو اس نے اس کے بارے میں خوب چھان بین کی کی اسے پتا چلا کہ وہ اس کا بیٹا ہے تو اس نے اس کو اپنی قربت بخشی اور لوگوں کے امور کا والی بنا دیا پھر حضرت خضر (علیہ السلام) بادشاہ سے بھاگ گئے۔ ان اسباب کی وجہ سے جن کا ذکر بہت طویل ہے، حتیٰ کہ وہ آب حیات کے چشمہ پر پہنچے اور اس کا پانی پیا پس وہ دجال کے نکلنے تک زندہ رہیں گے اور وہ شخص جس کو دجال قتل کرے گا اور پھر اسے کاٹ دے گا اور پھر اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا وہ حضرت خضر (علیہ السلام) ہوں گے۔ بعض علمائء نے فرمایا : اس نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ نہیں پایا اور یہ صحیح نہیں ہے۔ امام ببخاری اور اہل حدیث کی ایک جماعت نے کہا جن میں سے ہمارے شیخ ابوبکر عربی رحمۃ اللہ بھی ہیں کہ وہ سو سال ختم ہونے سے پہلے وصال کر گئے، اس کی وجہ یہ حدیث ہے : الی رأس مائۃ عام لا یبقی علی ھذہ الأرض فمن ھو علیھا ائحد سو سال کے آغاز تک جو بھی اس زمین پر ہے ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے، یعنی جو زندہ تھا جب آپ ﷺ نے یہ کللام فرمایا تھا۔ میں کہتا ہوں : ہم نے اس حدیث کا ذکر کیا اور اس پر کلام کی اور ہم نے حضرت خضر علیہ اللسلام کی زندگی اب تک کے لیے بیان کی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت خضر علیہ اللسلام جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جدا ہونے لگے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : مجھے وصیت فرمائیے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا : تو مسکرانے والا ہوجا اور ہنسنے والا نہ ہو، لجاجت چھوڑ دے اور بغیر حاجت کے نہ چل۔ خطاکاروں پر ان کی خطائوں کی وجہ سے عیب نہ لگا اور اے ابن عمران اپنی خطا پر رو۔
Ayah 18:83

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویسئلونک عن ذی القرنین ط قل ساتلوا علیکم منہ ذکرا۔ ابن اسحاق نے کہا : ذی القرنین کی خبر میں سے یہ ہے کہ انہیں وہ عطا کیا گیا جو کسی دوسرے کو عطا نہیں کیا گیا اس کے لیے اسباب اتنے کشادہ ہوئے کہ وہ زمین کے مشارق و مغارب کے شہروں تک پہنچا۔ وہ کسی زمین پر پہنچا تو اس پر غالب آگیا حتیٰ کہ وہ مشرق و مغرب کے اس مقام پر پہنچا کہ جس کے بعد مخلوق نہیں ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : مجھے اس شخص نے بتایا جو عجمیوں سے حکایات روایت کرتا ہے کہ وہ ذی القرنین کے بارے میں متواتر یہ علم رکھتے ہیں کہ وہ اہلل مصر میں سے ایک شخص تھا جس کا نام مر زبان بن مردبۃ یونانی تھا وہ یونان بن یافت بن نوح کی اولاد سے تھا۔ ابن ہشام نے کہا : اس کا نام اسکندر تھا، یہ وہی ہے جس نے اسکندریہ بنایا پس اس کی نسبت اس کی طرف کی گئی۔ ابن اسحاق نے کہا مجھے ثوربن یزید نے خالد بن معدان کلاعی سے روایت کر کے بتایا۔ خالد ایک شخص تھا جس نے لوگوں کو پایا کہ رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے یرمایا : ” وہ بادشاہ تھا جس نے زمین کو نیچے سے چھوا اسباب کے ساتھ “ (1) خالد نے کہا : حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو یا ذوالقرنین کہتے ہوئے سنا تو حضرت عمر نے کہا : اللھم غفراً اما رضیتم ان تسموا باسماء الانبیاء حتی تسمیتم باسماء الملائکۃ (اے اللہ معاف فرما کیا تم خوش نہیں ہو کہ تم انبیاء کے اسماء کے ساتھ نام رکھو حتیٰ کہ تم نے ملائکہ کے اسماء کے ساتھ نام رکھ لیے) ابن اسحاق نے کہا : اللہ بہتر جانتا ہے وہ کون تھا کیا یہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا یا نہیں۔ حق یہ ہے کہ نہیں فرمایا تھا۔ میں کہتا ہوں : حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے حضرت عمر کے قول کی مثل مروی ہے انہوں نے ایک شخص کو سنا جو دوسرے شخص کو آواز دے رہا تھا : اے ذوالقرنین ! حضرت علی نے فرمایا : کیا تمہارے لیے کافی نہ تھا کہ تم نے انبیاء کرام کے نام کے ساتھ نام رکھے حتیٰ کہ تم نے ملائکہ کے نام کے ساتھ نام رکھ لیے ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ صالح بادشاہ بندہ تھا، اللہ تعالیٰ کا مخلص تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید فرمائی۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ نبی تھے جو مبعوث کیے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے اسے زمین کی فتح عطا فرمائی۔ دارقطنی نے کتاب الاخبار میں ذکر کیا ہے کہ ایک فرشتہ ہے جس کو رببا قیل کہا جاتا ہے وہ ذی القرنین پر اترتا تھا یہ وہ فرشتہ ہے جو قیامت کے روز زمین کو لپیٹے گا اور اسے کم کرے گا۔ تمام لوگوں کے اقسام اس زمین پر واقع ہوں گے جیسا کہ بعض اہل علم نے ذکر کیا۔ سہیلی نے کہا : یہ وہ فرشتہ تھا جو ذی القرنین پر مقرر کیا گیا تھا جس نے زمین کے مشارق و مغاربب کو طے کیا تھا جیسا کہ خالد بن سنان کا واقعہ ہے کہ ان کے لیے آگ کو مسخر کیا گیا تھا آگ پر متعین فرشتے کی حالت میں مشاکلت تھی وہ فرشتہ مالک ہے (علیہ السلام) وعلی جمیع الملائکۃ اجمعین۔ ابن ابی خیثمہ نے کتاب البدء میں خالد بن سنان کا ذکر کیا ہے اور اس کی نبوت کا ذکر کیا ہے۔ خازن النار مالک فرشتہ کو اس پر مقرر کیا گیا تھا (یعنی اس کے ذریعے اس کی تائئید کی جاتی تھی) اس کی نبوت کی علامتوں میں سے یہ تھا کہ ایک آگ کو نارالحدثان کہا جاتا تھا وہ لوگوں پر ایک غار سے نکلتی تھی اور لوگوں کو جلا دیتی تھی لوگ اس کو دور نہیں کرسکتے تھے تھے، خالد بن سنان نے اس کو لوٹایا تو وہ پھر کبھی نہ نکلی۔ ذی القرنین کے نام میں اور اس سبب میں بہت زیادہ اختلاف ہے جس کی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا رہا اس کا نام تو بعض نے کہا : وہ اسکندر بادشاہ یونانی مقدونی ہے، کبھی قاف مشدد کہا جاتا ہے، المقدونی کہا جاتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا نام ہر مس ہے۔ بعض نے کہا اس کا نام ہر دیس ہے۔ ابن ہشام نے کہا : وہ صعب بن ذی یزن حمیری ہے جو وائل بن حمیر کی اولاد سے تھا، ابن اسحاق کا قول پہلے گزر چکا ہے۔ وہب بن منبہ نے کہا : وہ رومی ہے۔ طبری نے نبی کریم ﷺ سے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ ذی القرنین روم کا ایک نوجوان تھا (1) ۔ اس حدیث کی سند انتہائی کمزور ہے ؛ یہ ابن عطیہ کا قول ہے۔ سہیلی نے کہا : علم الاخبار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دو شخص تھے ایک حضرت ابراہیم علیہ السللام کے زمانے میں تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ وہ شخص تھا جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں تھا۔ بعض نے فرمایا : وہ افریدون تھا جس نے عہد ابراہیم میں ببیورا سبب بن اروندا سب سرکش بادشاہ کو قتل کیا تھا یا اس سے پہلے کچھ زمانہ تھا۔ رہا اس سبب میں اختلاف جس کی وجہ سے اسے ذوالقرنین کہا جاتا ہے۔ تو بعض نے کہا : اس کے باللوں کی دو مینڈھیاں تھیں ان کی وجہ سے ذوالقرنین کہا جاتا ہے ؛ یہ ثعلبی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ الضفائر، سر کے بالوں کی مینڈھیوں کو کہتے ہیں، شاعر نے کہا : فلثمت فاھا اخذا بقرونھا شرب انزیف ببرد ماء الحشرج بعض علما نے فرمایا : اس نے اپنی بادشاہی کے آغاز میں خواب دیکھا کہ وہ سورج کے دونوں قرن پر قابض ہے (1) اس نے یہ خواب بیان کیا تو اس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ وہ ہر اس جگہ پر غالب آئے گا جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، اسی وجہ سے اسے ذوالقرنین کہا جاتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اسے یہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ مغرب و مشرق تک پہنچا گویا اس نے دنیا کے دونوں کناروں کو جمع کرلیا۔ ایک جماعت نے کہا : جب وہ سورج کے طلوع ہونے کی جگہ پہنچا تو اس کے دیکھنے کے ساتھ سورج کے قرون ظاہر ہوئے اسی وجہ سے اسے ذوالقرنین کہا جاتا ہے۔ سورج کے ساتھ شیطان کے قرن (سینگ) دیکھے۔ وہب بن منبہ نے کہا اس کے عمامہ کے نیچے دو سینگ تھے۔ ابن الکواء نے حضرت علی ؓ سے ذی القرنین کے متعلق پوچھا کہ وہ نبی تھے یا بادشاہ ؟ حضرت علی نے فرمایا : نہ نبی تھا نہ بادشاہ، وہ اللہ کا نیک ببندہ تھا اس نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف بلایا تھا تو انہوں نے اس کا سر زخمی کردیا پھر انہوں نے دعوت دی تو لوگوں نے سر کی دوسری طرف بھی زخمی کردی اسی وجہ سے اسے ذوالقرنین کہا جاتا ہے۔ اس کے زمانہ کے ببارے میں بھی اختلاف ہے، ایک قوم نے کہا : وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تھے ایک قوم نے کہا : وہ حضرت عیسیٰ علیہ اللسلام کے بعد فترت کے زمانہ میں تھے۔ بعض نے کہا : وہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے زمانہ میں تھے اور حضرت خضر (علیہ السلام) ان کا بڑا جھنڈا اٹھانے والے تھے۔ اس نے اس کا ذکر سورة بقرہ میں کیا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اسے اقتدار بخشا اور سلطنت بخشی اور بادشاہوں نے اس کی اطاعت کی، روایت ہے کہ تمام دنیا کے چار بادشاہ تھے (2) ، دو ممن تھے دو کافر تھے، مومن حضرت سلیمان بن دائود (علیہما السلام) اور اسکندر تھے اور کافر نمرود اور بخت نصر تھے اور پانچواں اس امت سے مالک ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیظھرہ علی الدین کلہ (التوبہ :33) اور وہ مہدی (علیہ السلام) ہوں گے۔ بعض علماء نے فرمایا ان کو ذوالقرنین اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ وہ باپ اور ماں دونوں کی طرف سے کریم الطرفین تھا (یعنی اس کے والدین کے خاندان اعلیٰ حسب و نسب والے تھے) بعض علماء نے فرمایا : اس کے وقت میں لوگوں کی دو نسلیں گزریں جبکہ وہ زندہ تھا اس لیے اسے ذوالقرنین کہا جاتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس لیے یہ نام تھا کہ وہ جب لڑتا تھا تو ہاتھوں اور کا بوں دونوں سے لڑتا تھا۔ بعض نے فرمایا : اس لیے کہ اسے علم ظاہر اور علم باطن دیا گیا تھا۔ بعض نے فرمایا : وہ ظلمت و نور میں داخل ہوا تھا۔ بعض نے فرمایا : وہ فارس و روم کا بادشاہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انا مکنا لہ فی الارض حضرت علی ؓ نے فرمایا : اس کے لیے بادل کو مسخر کیا گیا تھا اور اس کے لیے اسباب پھیلائے گئے تھے اور اس کے لیے نور کشادہ کیا گیا تھا اس پر رات اور دن براببر تھا۔ حضرت عقبہ بن عامر کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل کتاب کے کچھ لوگوں کو کہا جنہوں نے آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھا تھا فرمایا : ” ابتدا میں وہ رومیوں میں سے ایک جوان تھا، پھر اسے بادشاہ عی عطا کی گئی وہ چللا حتیٰ کہ وہ مصر کی زمین پر آیا وہاں اس نے ایک شہر بنایا جسے اسکندریہ کہا جاتا ہے۔ جب وہ فارغ ہوا تو اس کے پاس ایک فرشتہ آیا وہ اسے اوپر لے گیا اس نے اسے کہا : اپنے نیچے دیکھ، اس نے کہا : میں صرف اپنا شہر دیکھتا ہوں اس کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتا۔ اس فرشتے نے اسے کہا : یہ ساری زمین ہے اور اس کے اردگرد جو تو سیاہی دیکھ رہا ہے یہ سمندر ہے، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تجھے زمین دکھائے اس نے تیرے لیے اس میں بادشاہی قائم کی ہے پس تو اس میں چل اور جاہل کو تعلیم دے اور عالم کو پختہ کر۔ “ (1)
Ayahs 18:84–85

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

تو اس نے سفر کا ایک سامان کیا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتینہ من کل شیء سببا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہر چیز کا علم عطا فرمایا جس کام کا ارادہ کرتے علم اس کا سبب بنتا۔ حسن نے کہا : جہاں کا ارادہ کرتے وہاں پہنچنا مراد ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہر وہ چیز بخشی جس کے ساتھ مخلوق کو ضرورت ہوتی ہے۔ بعض نھے فرمایا : ہر وہ چیز بخشی جس کے ساتھ بادشاہ مدد حاصل کرتے ہیں، شہروں کی فتح، دشمنوں پر غلبہ وغیرہ۔ السبب کا اصل معنی رسی ہے پھر استعارۃً ہر اس چیز کے لیے استعمال کیا گیا جس کے ذریعے کسی چیز تک پہنچا جاتا ہے۔ فاتبع سببا۔ ابن عامر، عاصم، حمزہ اور کسائی نے فاتبع ہمزہ قطعی کے ساتھ پڑھا ہے۔ اہل مدینہ اور ابو عمرو نے فاتبع سببا ہمز وصلی کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی جو اسبباب اسے دیے گئے تھے اس کو استعمال کیا۔ اخفش نے کہا : تبعتہ واتبعتہ ایک معنی میں ہیں جیسے دفتہ اور اردفتہ ایک معنی میں ہیں، اسی سے یہ ارشاد بھی ہے : الا من خطف الخطفۃ فاتبعہ شھاب ثاقب۔ (الصافات) اسی سے کلام میں الاتباع ہے جیسے حسن بسن اور قبیح شقیح۔ ابو عبیدہ نے اہل کوفہ کی قرأت کو پسند کیا فرمایا : کیونکہ یہ سیر (چلنے) سے ہے۔ ابو عبیدہ اور اصمعی نے حکایت کیا ہے کہ کہا جاتا ہے : تبعہ واتبعہ جب کوئی کسی کے پیچھے چلے اور اس کو پہنچ نہ پائے اور ابو عبیدہ نے کہا : اس کی مثل ہے : فاتبعوھم مشرقین۔ (الشعرائ) نحاس نے کہا : یہ تفریق ہے اگرچہ اس کو اصمعی نے بیان کیا ہے مگر بغیر علت اور دلیل کے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتبعوھم مشرقین۔ (الشعرائ) حدیث میں نہیں ہے کہ وہ ان کو ملے تھے۔ حدیث میں جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی دریا سے نکل گئے اور فرعون اور اس کے ساتھی دریا میں داخل ہوئے تو دریا ان کے اوپر مل گیا۔ اس میں حق یہ ہے کہ تبع، اتبع اور اتبع سب لغات ہم معنی ہیں، یہ السیر کے معنی میں ہیں۔ اس کے ساتھ لاحق ہونا ہے اور لاحق نہ ہونا دونوں جائز ہیں۔ حتیٰ اذا بلغ مغرب الشمس وجدھا تغرب فی عین حمئۃ ابن عاصم، حمزہ اور کسائی نے حامیۃ پڑھا ہے، جس کا معنی ہے سیاہ مٹی۔ تو کہتا ہے : حمات البئرحما (میم کی تسکین کے ساتھ) تو اس کا معنی ہے کنویں کی مٹی زیادہ ہوگئی اور حامیۃ بھی جائز ہے۔ اور یہ الحماۃ سے ہوگا ہمزہ میں تخفیف کی گئی اور یاء سے بدلا گیا ہوگا۔ دونوں قرأتوں کو کبھی جمع کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے : وہ مٹی گرم تھی اور سیاہی والی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا (2): نبی کریم ﷺ نے سورج کی طرف دیکھا جب وہ غروب ہو رہا تھا فرمایا : نار اللہ الحامہ لولا یزعھا من امر اللہ لا حرقت ما علی الارض (اللہ تعالیٰ کی گرم آگ سے، اگر اسے اللہ کا امر نہ روکتا تو یہ جو کچھ زمین پر ہے اسے جلا دیتی) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ابی نے مجھے یہ اسی طرح پڑھایا جس طرح انہیں نبی پاک ﷺ نے پڑھایا تھا۔ فی عین حمئۃ (1) ۔ اور حضرت معاویہ نے کہا : یہ حامیۃ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کہا : میں امیرالمومنین کے ساتھ تھا پس انہوں نے کعب کو اپنا حکم بنایا انہوں نے کہا : اے کعب ! تم یہ تورات میں کیسے پاتے ہو ؟ انہوں نے کہا : میں اسے پاتا ہوں کہ یہ سیاہ چشمے میں غروب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی موافقت کی۔ شاعر نے کہا : وہ تبع الیمانی ہے۔ قد کان ذوالقرنین قبلی مسلما ملکا تدین لہ الملوک وتسجد (2) بلغ المغارب والمشارق یبتغی اسباب امر من حکیم مرشد فریٰ مغیب الشمس عند غروبھا فی عین ذی خلب وثاط حرمد الخلب سے مراد مٹی ہے۔ الثاط سے مراد سیاہ مٹی ہے۔ الحرمد سے مراد بھی سیاہ ہے۔ قفال نے کہا : بعض علماء نے فرمایا اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ سورج کے مغرب و مشرق تک پہنچا حتیٰ کہ اس نے اس کے جرم کو چھوا کیونکہ وہ آسمان کے ساتھ زمین کے اردگرد گھومتا ہے بغیر اس کے کہ وہ زمین سے ملے، یہ اس سے ببہت بڑا ہے کہ وہ زمین کے چشموں میں سے کسی چشمہ میں داخل ہو بلکہ یہ زمین سے کئی گنا بڑا ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ مغرب کی جہت کی آخری آبادی اور مشرق کی جہت کی آخری آبادی۔ پس اسے آنکھ سے ایسے نظر آیا کہ وہ سیاہ چشمہ میں داخل ہو رہا ہے جیسے ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ زمین میں داخل ہو رہا ہے، اسی وجہ سے فرمایا : وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم نجعل لھم من دونھا ستراً ۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ ان پر طلوع ہوتا تھا تو وہ انہیں چھوتا تھا اور ان سے ملا ہوتا تھا بلکہ یہ مراد ہے کہ پہلے ان پر طلوع ہوتا تھا۔ قتبی نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ چشمہ سمندر سے ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ سورج اس کے پیچھے یا اس کے ساتھ یا اس کے پاس غروب ہوتا ہو، پس صفت کے حرف کو موصوف کے قائم مقام رکھا گیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ووجد عندھا قوماً یعنی اس چشمہ کے پاس یا چشمہ کی انتہا کے پاس۔ یہ اہل جابرس تھے انہیں سریانی زبان میں جر جیسا کہا جاتا ہے، اس چشمہ پر قوم ثمود کی نسل سے کچھ لوگ موجود تھے یہ ان کے باقی ماندہ لوگ تھے جو حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے۔ سہیلی نے ذکر کیا ہے : وہب بن منبہ نے کہا ذوالقرنین روم کی بوڑھیوں میں سے ایک بوڑھی کا بیٹا تھا جس کی ذوالقرنین کے علاوہ کوئی اولاد نہ تھی، اس کا نام اسکندر تھا جب وہ بالغ ہوا تو وہ نیک بندہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ذوالقرنین کے علاوہ کوئی اولاد نہ تھی، اس کا نام اسکندر تھا جب وہ بالغ ہوا تو وہ نیک بندہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ذوالقرنین ! میں تجھے زمین کی امتوں کی طرف بھیجنے والا ہوں، ان امتوں کی زبانیں مختلف ہیں وہ ساری زمین کی امتیں ہیں اور وہ کئی اقسام پر ہیں۔ دو امتیں ہیں جس کے درمیان ساری زمین کا طول ہے۔ دو امتیں ایسی ہیں جن کے درمیان ساری زمین کا عرض ہے اور کچھ امتیں زمین کے وسط میں ہیں ان میں سے جن، انس اور یاج و ماجوج ہیں اور وہ دو امتیں جن کے درمیان زمین کا طول ہے ان میں سے ایک امت سورج کے غروب ہونے کی جگہ کے پاس ہے اسے ناسک کہا جاتا ہے اور دوسری امت سورج کے طلوع ہونے کی جگہ کے پاس ہے اسے منسلک کہا جاتا ہے۔ اور وہ دو امتیں جن کے درمیان زمین کا عرض ہے ان میں سے ایک زمین کے دائیں قطر میں ہے اسے باویل کہا جاتا ہے اور دوسری امت زمین کے بائیں قطر میں ہے اسے تاویل کہا جاتا ہے۔ ذوالقرنین نے کہا : اے اللہ ! تو نے مجھے ایک عظیم کام کی طرف بلایا ہے جس پر صرف تو ہی قادر ہے، تو مجھے ان امتوں کے بارے بتا کہ میں کس قوت کے ساتھ ان پر زیادتی کروں اور کس صبر کے ساتھ میں انہیں برداشت کروں اور کس زبان کے ساتھ میں ان سے کلام کروں، میں کیسے ان کی زبان سمجھوں گا جب کہ میرے پاس قوت نہیں ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں تجھ پر بوجھ ڈال رہا ہوں اس کے ساتھ میں تجھے کامیاب کروں گا تیرا سینہ تیرے لیے کھول دوں گا۔ تو ہر چیز کو سنے گا اور تیرے لیے تیرے فہم کو پختہ کروں گا تو ہر چیز کو سمجھ لے گا اور تجھ میں ہیبت دوں گا کوئی چیز تجھے نہیں ڈرائے گی اور میں تیرے لیے نور اور ظلمت مسخر کروں گا، پس وہ تیرے لشکروں میں سے لشکر ہوں گے، نور تیرے آگے سے راہنمائی کرے گا اور پیچھے سے تاریکی تیری حفاظت کرے گی۔ جب اسے یہ کہا گیا تو وہ اپنے متعین کو ساتھ لیکر چلا پس پہلے وہ اس امت کی طرف چلا جو سورج کے غروب ہونے کی جگہ کے پاس تھی کیونکہ وہ قریب ترین امت تھی اور وہ ناسک امتتھی وہ اتنے زیادہ تھے کہ ان کو شمار نہیں کرسکتا تھا مگر اللہ تعالیٰ اور ایسی قوت تھی کہ اس کی طاقت نہیں رکھتا مگر اللہ اور ان کی مختلف زبانیں تھیں اور مختلف خواہشات۔ تو ظلمت کے ساتھ ان پر حملہ کیا ان کے اردگرد تاریکی کے تین لشکر لگائے جنہوں نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا حتیٰ کہ تاریک کی نے انہیں ایک مکان میں جمع کردیا پھر وہ ان پرنور کے ساتھ داخل ہوا پھر انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی طرف بلایا۔ بعض ان میں سے ایمان لے آئے اور بعض نے انکار کیا، پھر منکرین پر ظلمت کو داخل کیا جس نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا حتیٰ کہ وہ ان کے مونہوں، ناکوں، آنکھوں اور گھروں میں داخل ہوگئی اور انہیں ہر طرف سے گھیر لیا پس وہ حیران ہوگئے اور گھومنے لگے اور ہلاکت کا خوف کرنے لگے۔ پس وہ ایک آواز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر ایمان لے آئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے تاریکی ختم کردی اور انہیں سختی سے پکڑ لیا اور وہ دعوت الٰہیہ میں داخل ہوگئے۔ پس انہوں نے اہل مغرب سے ایک لشکر بنایا اور انہیں ایک لشکر بنایا پھر وہ ان کی قیادت کرتا ہوا چلا تاریکی ان کے پیچھے چلتی تھی اور پیچھے سے حفاظت کرتی تھی، نور آگے سے قیادت کرتا تھا اور راہنمائی کرتا تھا پھر وہ چلا زمین کی دائیں جانب کی طرف وہ اس امت کا ارادہ کرتا تھا جو زمین کی دائیں جانب تھی اور وہ امت ہاویل تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ، دل، عقل اور فکر کو مسخر کردیا تھا وہ جب بھی کوئی کام کرتا تھا تو غلطی نہیں کرتا تھا جب وہ کسی حوض یادر یا پر آتے تھے تو چھوٹی چھوٹی تختیوں سے جوتیوں کی مثل کشتیاں بناتا پھر انہیں ایک ساعت میں منظم کردیتا پھر جتنے لوگ ساتھ ہوتے تھے ان میں سوار کردیتا جب وہ دریائوں اور انہار کو طے کرلیتا تو ان کشتیوں کو توڑ دیتا اور ہر شخص کو ایک تختہ دے دیتا پس وہ ان کو اٹھانے پر کوئی بوجھ محسوس نہ کرتا، پس وہ ہاویل تک پہنچا اس نے ان کے ساتھ بھی اسی طرح کیا جس طرح اس نے ناسک قوم کے ساتھ کیا تھا وہ ایمان لے آئے پھر ان سے فارغ ہوا تو لشکرزمین کی دوسری طرف چلا حتیٰ کہ منسک امت تک پہنچا جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ کے پاس تھی پھر اس نے اس میں بھی عملل کیا اور ان سے اسی طرح لشکر تیار کیا جس طرح پہلی امت میں کیا تھا۔ پھر وہ زمین کی بائیں جانب کی طرف پلٹا وہ تاویل قوم کا ارادہ کرتا تھا یہ وہ امت تھی جو ہاویل کے مقابل تھی ان کے درمیان زمین کا عرض تھا۔ اس نے اس میں بھی ایسا ہی جیسے پہلی قوم میں کیا تھا۔ پھر ان امتوں کی طرف پلٹا جو زمین کے وسط میں تھیں یعنی جن، انس اور یاجوج ماجوج جب وہ راستہ میں تھا جو مشرقی جانب ترکوں کے اختتام سے ملی ہوئی جگہ ہے تو اسے انسانوں کے ایک نیک گروہ نے کہا : اے ذوالقرنین ! ان دو پہاڑوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جو بیشمار ہے ان میں انسان سے مشابہت نہیں ہے وہ جانوروں کے مشابہ ہیں، گھاس کھاتے ہیں اور جانوروں اور وحشیوں کو اس طرح چیرتے پھاڑتے ہیں جس طرح درندے چیرتے پھاڑتے ہیں وہ زمین کے حشرات سانپ، بچھو، چھپکلی اور ہری ذی روح کو کھاتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی مخلوق ایسی نہیں جو سال میں اتنی بڑھتی ہو جتنا کہ وہ بڑھتے ہیں۔ اگر وقت زیادہ گزر گیا تو وہ زمین کو بھر دیں گے اور لوگوں کو زمین سے نکال دیں گے کیا ہم آپ کے لیے خراج مقرر کریں، اس بناء پر تو ہمارے اور ان کے درمیان دیوار بنا دے، پھر حدیث مکمل ذکر کی۔ آئندہ یاجوج و ماجوج اور ترک کا ذکر آئے گا کہ وہ ان کی ایک قوم ہے اور وہ بیان کفایت کرے گا۔
Ayahs 18:86–88

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچے تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈدوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی ہم نے کہا ذوالقرنین ! تم کو ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں) کی تم کو قدرت ہے

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

(ذوالقرنین) نے کہا کہ جو (کفر و بدکاری سے) ظلم کرے گا اسے ہم عذاب دیں گے پھر (جب) وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اسے برا عذاب دے گا

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لیے بہت اچھا بدلہ ہے اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قلنا یذا القرنین۔ قشیری ابو نصر نے کہا : اگر وہ نبی تھا تو یہ وحی تھی، اگر وہ نبی نہیں تھا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام تھا۔ اما ان تعذب واما ان تتخذفیہم حسنا۔ ابراہیم بن سری نے کہا : ان دو چیزوں میں اسے اختیار دیا گیا تھا جس طرح حضرت محمد ﷺ کو اختیار دیا گیا تھا، فرمایا : فان جاءوک فاحکم بینہم او اعرض عنہم (المائدہ : 42) ابو اسحاق زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ان دو حکموں میں اختیار دیا ہے۔ نحاس نے کہا : علی بن سلیمان نے اس کا قول رد کیا ہے کیونکہ یہ صحیح نہیں ہے کہ ذوالقرنین نب کی تھا اور اس کے ساتھ اس کو خطاب کیا جاتا تھا۔ وہ اپنے رب کو کیسے کہتا تھا : ثم یرد الی ربہ ؟ اور کیسے کہتا تھا : فسوف نعذبہ ؟ وہ نون یعنی جمع کے صیغہ کے ساتھ کیسے اس سے مخاطب ہوتا تھا ؟ فرمایا : اس کی تقدیر اس طرح ہے کہ قلنا یا محمد قالوا یا ذالقرنین۔ ابو جعفر نے کہا : یہ ابوالحسن نے کہا ہے اور اس سے کوئی چیز لازم نہیں۔ رہا یہ قول : قلنا یذا القرنین یہ بھی جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے نبی کی زبان پر اسے خطاب کیا ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ اسے طرح فرمایا ہو جس طرح ہمارے نبی ﷺ کو فرمایا : فاما منا بعدو اما فداء (محمد :4) رہا یہ اشکال : فسوف نعذبہ ثم یرد الی ربہ تو اس کی تقدیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اسے اما ان تعذب کے قول میں قتل کرنے اور اما ان تتخذفیہم حسنا میں ان کو باقی رکھنے کے درمیان اختیار دیا تو انہوں نے اس قوم سے کہا : اما من ظلم۔ یعنی جو تم میں سے کفر پر قائم رہا فسوف نعذبہ ہم اسے قتل کے ساتھ عذاب دیں گے۔ ثم یرد الی ربہ۔ پھر قیامت کے دن اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا۔ فیعذبہ عذاباً نکرا۔ تو وہ اسے جہنم میں سخت عذاب دے گا۔ فاما من تاب (القصص :67 اور جو کفر سے توبہ کرے گا وعمل صالحاً اور نیک عمل کرے گا۔ احمد بن یحییٰ نے کہا : ” ان “ اما ان تعذب واما ان تتخذفیہم حسنا۔ میں محل نصب میں ہے اگر تو اسے رفع دے تو بھی درست ہے تو بمعنی اما ھو ہوگا جیسا کہ شاعر نے کہا : فسیرا فاما حاجۃ تقضیانھا وام مقیل صالح وصدیق فلہ جزآء الحسنیٰ ۔ اہل مدینہ، ابو عمرو اور عاصم کی قرأت فلہ جزاء الحسنیٰ ۔ مبتداء کی بناء پر رفع کے ساتھ ہے یا استقرار کے ساتھ ہے اور الحسنیٰ اضافت کی وجہ سے محل جر میں ہے اور تنوین اضافت کی وجہ سے حذف کی گئی ہے یعنی اس کے لیے آخر میں اللہ کی ببارگاہ میں جزاء الحسنیٰ ہے اور وہ جنت ہے، جزاء کو جنت کی طرف مضاف کیا۔ جیسے فرمایا : حق الیقین۔ (الواقعہ) اور فرمایا : والدار الاخرۃ (یوسف : 109) اور یہ بھی احتمال ہے کہ الحسنیٰ سے مراد اعمال صالحہ ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جزائ، ذی القرنین کی طرف سے ہو یعنی میں اسے عطا کروں گا اور اس پر مہربانی کروں گا اور یہ بھی جائز ہے کہ التفاء ساکنین کی وجہ سے تنوین حذف کی گئی ہو اور الحسنیٰ بدل کی بناء پر محل رفع میں ہو یہ بصریوں کے نزدیک ہے اور کو فیوں کے نزدیک ترجمہ کی بنا پر ہے۔ ابن ابی اسحاق کی قرأت اس بناء پر ہے۔ فلہ جزاء الحسنیٰ منصوب اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے یعنی فلہ الحسنیٰ جزائ۔ الفراء نے کہا : جزاء تمیز کی بنا پر منصوبب ہے۔ بعض نے فرمایا : مصدر کی بنا پر منصوب ہے۔ الزجاج نے کہا یہ مصدر حال کی جگہ میں ہے یعنی مجزیا بھا جزائ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مسروق نے فلہ جزاء الحسنیٰ رفع میں ایک وجہ کے اعتبار سے۔ نحاس نے کہا : دوسروں کے نزدیک یہ خطا ہے کیونکہ یہ التقاء ساکنین کی وجہ سے تنوین کے حذف کی جگہ نہیں ہے اس کی جگہ نہیں ہے اس کی تقدیر ہوگی : فلہ الثواب جازاء الحسنیٰ ۔
Ayah 18:89

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان سفر کا کیا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم اتبع سببا۔ اس کا معنی گزر چکا ہے کہ اتبع اور اتبع کا معنی ایک ہے یعنی وہ راستے اور منزل کی طرف چلا۔ حتیٰ اذا بلغ مطلع الشمس مجاہد اور ابن محیصن نے میم اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، کہا جاتا ہے : طلعت الشمس والکواکب طلوعا ومطلعاً ، المطلع والمطلع۔ طلوع ہونے کی جگہ ؛ یہ جوہری کا قول ہے اس کا معنی ہے وہ ایسی قوم کی جگہ پہنچا کہ ان کے اور سورج کے طلوع ہونے کے درمیان کوئی شخص نہیں تھا۔ سورج کے پیچھے بہت زیادہ مسافت سے طلوع ہوتا تھا یعنی معنیٰ ہے اس قول کا بھی : وجدھا تطلع علی قوم۔ ان کے بارے میں اختلاف ہے، وہب بن منبہ سے وہی مروی ہے جو پہلے گزر چکا ہے : یہ ایک امت ہے جسے منسلک کہا جاتا ہے یہ ناسک کے مقابل تھی ؛ یہ مقاتل کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کو زنج کہا جاتا ہے (1) ۔ کلبی نے کہا : یہ تارس، ہاویل اور منسلک میں جو ننگے پائوں اور برہنہ جسم رہتے تھے اور حق کا نور دیکھنے سے اندھے تھے۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ اہل جا بلق ہیں یہ قوم عاد کے مومنین کی نسل سے تھے جو حضرت ہود (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے۔ سریانی زبان میں انہیں مرقیسا کہا جاتا ہے۔ اور جو سورج کے غروب ہونے کی جگہ کے پاس تھے وہ اہل جابرس ہیں ان دو شہروں میں سے ہر ایک شہر کے دس ہزار دروازے تھے ہر دو دروازوں کے درمیان ایک فرسخ کا فاصلہ تھا اور جابلق کے پیچھے امتیں ہیں وہ تا فیل اور تارس ہیں، وہ یاجوج و ماجوج کے پڑوس میں ہیں۔ اہل جابرس اور جابلق، نبی کریم ﷺ ؛ پر ایمان لائے تھے۔ شب معراج آپ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی، یہ سہیلی نے ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا : میں نے یہ تمام ایک طویل حدیث سے اختصار کیا ہے جس کو مقاتل بن حبان نے عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ طبری نے مسنداً مقاتل سے روایت کی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 18:90–91

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے جن کے لئے سورج کے اس طرف کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

حقیقت الحال یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو اس کی خبر تھی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لم نجعل لھم من دونھا شترا۔ یعنی ایسا حجاب جس کے ساتھ وہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت چھپتے۔ قتادہ نے کہا : ان کے اور سورج کے درمیان کوئی پردہ نہ تھا وہ ایسی جگہ میں تھے جہاں کوئی عمارت ٹھہرتی نہیں تھی وہ سرنگوں میں رہتے تھے حتیٰ کہ جب سورج ڈھل جاتا تھا تو وہ اپنے مال، مویشی اور کھیتوں کی طرف لوٹتے تھے یعنی وہ سورج سے نہ کسی پہاڑ کی غار میں چھپ سکتے تھے اور نہ کسی گھر میں چھپ سکتے تھے۔ امیہ نے کہا : میں نے کچھ لوگوں کو سمرقند میں پایا ہے جو ان لوگوں کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ بعض نے کہا : میں چین کی طرف چلا تو مجھے کہا گیا تیرے اور ان کے درمیان ایک دن اور ایک رات کی مسافت ہے، میں نے ایک شخص کو اجرت پر لیا تاکہ وہ مجھے وہ قوم دکھائے حتیٰ کہ میں نے صبح ان کے پاس کی، میں نے دیکھا کہ ان کا ایک شخص اپنا ایک کان نیچے بچھاتا تھا اور دوسرا کان اوپر لپیٹ لیتا تھا۔ میرا ساتھی ان سے اچھی طرح کلام کرتا تھا ہم نے ان کے ساتھ رات گزاری، انہوں نے پوچھا : تم کیسے آئے ہو ؟ ہم نے کہا : ہم اس لیے آئے ہیں تاکہ دیکھیں کہ سورج کیسے طلوع ہوتا ہے ؟ ہم اسی اثناء میں تھے کہ ہم نے گھنٹی کی ہیت کی آواز سنی تو میں مدہوش ہوگیا پھر مجھے افاقہ ہوا تو وہ مجھے تیل کی مالش کر رہے تھے۔ جب پانی پر سورج طلوع ہوا تو پانی پر زیتون کے تیل کی ہیت کی طرح تھا، جب آسمان کی طرف پر تھا تو خیمہ کی مانند تھا جب مزید بلند ہوا تو انہوں نے مجھے ایک سرنگ میں داخل کیا، جب سورج بلند ہوا اور ان کے سروں سے ڈھل گیا تو وہ مچھلیوں کے شکار کے لیے نکلے وہ مچھلیوں کو سورج کے سامنے کرتے تھے تو وہ پک جاتی تھیں۔ ابن جریج نے کہا : ایک دفعہ ان کے پاس ایک لشکر آیا تو انہوں نے لشکر والوں کو کہا : سورج کے طلوع ہونے کے وقت تم یہاں نہ ہونا۔ انہوں نے کہا : ہم سورج کے طلوع ہونے تک یہاں ٹھہریں گے۔ انہوں نے کہا : یہ ہڈیاں کیسی ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ ایک لشکر کی ہڈیاں ہیں جن پر سورج طلوع ہوا تھا پس وہ مر گئے تھے۔ فرمایا : وہ زمین میں پیٹھ پھیر کر بھاگ گئئے۔ حسن نے کہا : ان کی زمین ایسی تھی کہ نہ کوئی پہاڑ تھا اور نہ درخت اور ان کی زمین عمارت کو برداشت نہیں کرتی تھی جب ان پر سورج طلوع ہوتا تو وہ پانی میں اتر جاتے تھے جب سورج بلند ہوجاتا تو وہ نکل آتے تھے اور وہ جانوروں کی طرح چرتے تھے (1) میں کہتا ہوں : یہ تمام اقوال اس پر دلالت کرتے ہیں کہ وہاں کوئی شہر نہیں تھا۔ بعض اوقات ان میں سے کوئی نہر میں داخل ہوتا بعض سرنگ میں داخل ہوتے۔ حسن اور قتادہ کے قول میں کوئی تضاد نہیں۔
Ayahs 18:92–93

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیاں پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم اتبع سببا۔ حتیٰ اذا بلغ بین السدین یہ ارمینہ اور آذربائیجان کی طرف سے دو پہاڑ ہیں۔ عطا خراسانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے : بین السدین سے مراد ارمینہ اور اذربیجان کے پہاڑ ہیں (1) ۔ وجد من دونھما۔ یعنی ان پہاڑوں کے پیچھے قوما لا یکادون یفقھون قولا۔ ایسی قوم پائی جو نہیں سمجھ سکتی تھی (ان کی) کوئی بات۔ حمزہ اور کسائی نے یفقہون کو یاء کے ضمہ اور قاف کے کسرہ کے ساتھ افقہ سے مشتق کر کے پڑھا ہے جس کا معنی ہے ظاہر کرنا یعنی وہ دوسروں کو کلام نہیں سمجھا سکتے تھے اور باقی قراء نے یاء اور قاف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ نہیں جانتے تھے۔ دونوں قراتیں صحیح ہیں وہ غیر کی بات سمجھتے تھے اور نہ غیر کو سمجھاتے تھے۔