Ayah 18:77مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتی اذا اتیا اھل قریۃ صحیح مسلم میں حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے ” لئام “ کا لفظ روایت کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) مجالس میں گھومتے تھے اور ان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے میزبانی کرنے سے انکار کیا، پھر ان دونوں نے ایک جھکی ہوئی دیوار دیکھی تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ سے درست کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہم اس قوم کے پاس آئے انہوں نے نہ ہماری میزبانی کی اور نہ کھانا کھلایا، اگر آپ چاہتے تو اس پر محنت ہی طلب کرلیتے، تو حضرت خضر علیہ السللام نے کہا : یہ تمہاری اور میری جدائی کا وقت ہے، میں تجھے ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہوں جن پر تم صبر نہ کرسکے۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السللام پر رحم فرمائے میری خواہش تھی کہ آپ صبر کرتے حتیٰ کہ ہم پر ان کے واقعات و اخبار ذکر کی جاتیں “ (1)
مسئلہ نمبر 2 اس گائوں کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : وابلۃ (ایلہ) تھا : یہ قتادہ کا قول ہے، اسی طرح محمد بن سیرین نے کہا ہے : یہ بخیل ترین لوگوں کا گائوں تھا اور آسمان سے یعنی اس کی رحمت سے بہت دور تھا۔ بعض نے کہا : یہ انطاکیہ کا گائوں تھا۔ بعض نے کہا : اندلس کا جیزرہ تھا ؛ یہ حضرت ابوہریرہ وغیرہ سے مروی ہے۔ یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ سبز جزیرہ تھا۔ ایک جماعت نے کہا : یہ باجروان تھا یہ آذر بائیجان کے قریب ہے۔ سہیلی نے حکایت کیا ہے فرمایا : یہ برقۃ ہے۔ ثعلبی نے کہا : یہ روم کے دیہاتوں میں سے ایک دیہات تھا، اسے ناصرہ کہا جاتا تھا : اس کی طرف نصاریٰ منسوب ہیں۔ یہ سب اس اختلاف کی بنا پر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ کس علاقہ میں ہوا ؟ حقیقت حال اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیوں کی بکریوں کو پانی پلایا تھا تو اس وقت انہیں کھانے کی زیادہ ضرورت تھی بنسبت اس وقت کے جب حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ دیہات میں آئے تھے، اس وقت تو انہوں نے خوراک طلب نھ ہیں کی تھی بلکہ پہلے بکریوں کو پانی پلایا تھا اور یہاں خوراک کا سوال کیا ہے۔ اس مسئلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک یہ ہے کہ مدین کے سفر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اکیلے تھے اور یہاں حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی اتباع میں تھے۔ میں کہتا ہوں : اس معنی کی بنا پر آیت کی ابتدا میں اپنے نوجوان کو بھی کہا تھا : اتنا غدآء نا لقد لقینا من سفر ناھذا نصبا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھوک کا اظہار کیا اپنے ساتھی یوشع کی رعایت کرتے ہوئے۔ واللہ اعلم۔
بعض علماء نے فرمایا : جب یہ سفر تا دیب تھا تو انہیں مشقت میں مبتلا کیا گیا اور وہ سفر، سفر ہجرت تھا تو ان کی خوراک کے ذریعے مدد اور نصرت کے سپرد کیے گئے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اس آیت میں خوراک کے سوال کرنے پر دلیل ہے، اگر کوئی شخص بھوکا ہو تو اسے وہ چیز طلب کرنی چاہیے جو اس کی بھوک کو ختم کر دے، جبکہ جہال صوفیاء اس کے مخالف ہیں۔ الاستطعام کا معنی کھانا طلب کرنا ہے، یہاں مراد ضیافت کا سوال ہے، اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : فابوا ان یضیفوھما۔ اسی وجہ سے اس گائوں والے مذمت کے مستحق ٹھہرے اور کمینگی اور بخل کی طرف منسوب کیے گئے جیسا کہ ہمارے نبی پاک ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا ہے۔ قتادہ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : بدترین وہ گائوں ہے جس میں مہمان کی مہمان نواز نہیں کی جاتی اور مسافر کا حق نہیں پہنچایا جاتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضیافت ان پر واجب تھی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے ان سے اس کا مطالبہ کیا جو ضیافت میں سے واجب تھا۔ انبیاء کی حالت اور فضلا و اولیاء کے منصب کے یہی لائق ہے۔ ضیافت کے بارے میں قول سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ الحمد للہ۔ اللہ تعالیٰ حریری ٭ کو معاف کرے جس نے اس آیت میں مناسب گفتگو نہیں کی، اس سے اس میں لغزش ہوئی ہے، اس نے اس آیت سے اصرار کیا ہے اور ایسا کرنے والے پر یہ عیب نہیں ہے اور اس پر کوئی نقص نہیں ہے، اس نے کہا :
وان رددت فما فی الرد منقصت علیک وزد موسیٰ قبل والخضر
میں کہتا ہوں : یہ دین کے ساتھ مزاح ہے اور انبیاء کرام کے احترام میں کوتاہی ہے، یہ ادبی لغزش ہے اور نا مناسب قول ہے۔ اللہ تعالیٰ سلف صالحین پر رحم فرمائے، انہوں نے ہر ذی عقل کو عصیت کرنے میں مبالغہ کیا ہے، انہوں نے کہا : جب تو کسی چیز سے کھیلنے والا ہو تو دین سے کھیل سے اجتناب کر۔
مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جداراً ۔ الجدار والجدر دونوں کا ایک معنی ہے، حدیث شریف میں ” حتی یبلغ الماء الجدر “ (1) حتیٰ کہ پانی کھیت کی وٹوں تک پہنچ جائے۔ مکان جدیر بنی حوالیہ جدار۔ بہتر مکان وہ ہے جس کے اردگرد دیوار بنائی گئی ہو، اصل معنی اٹھانا ہے۔ اجدرت الشجرۃ، درخت نکل آیا، اسی سے الجدریّ ہے۔
مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یرید ان ینقض گرنے کے قریب تھی، یہ مجاز ہے اس کی تفسیر حدیث میں (مائل) کے قول سے کی گئی ہے، اس میں دلیل ہے کہ قرآن میں مجاز موجود ہے، یہی جمہور کا مذہب ہے، وہ تمام افعال جن کا حق یہ ہے کہ وہ زندہ ناطق کے لیے ہوں جب وہ جمادات اور چوپائوں کی طرف منسوب ہوں تو وہ مجاز ہوگا یعنی اگر ان کی جگہ انسان ہوتا تو وہ اس فعل کے مناسب ہوتا۔ کلام عرب میں مجاز کثیر ہے، اسی سے اعشی کا قول ہے :
اتنتھون ولا ینھی ذوی شطط کالطعن یذھب فیہ الزیت والفتل
اعشی نے نہی کو الطعن کی طرف منسوب کیا ہے۔
اور ایک شاعر نے کہا :
یرید الرمح صدر ابی برائ ویرغب عن دماء بنی عقیل (1)
اس میں فعل یرید کی نسببت الرمح (نیزہ) کی طرف ہے۔
ایک اور شاعر نے کہا :
ان دھرا یلف شملی بجمل لزمان یھم بالاحسان
ایک اور شاعر نے کہا :
فی مھمۃ فلقت بہ ھا ماتھا فلق الفوس اذا اردن نصولا
یہ عربوں کے قول : نصل السیف سے مشتق ہے جب وہ نشانہ پر لگ جائئے تلواروں کے ان کے سروں پر واقع ہونے پر زمین میں ہتھوڑے کے واقع ہونے کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے۔ ہتھوڑا زمین میں واقع ہوتا ہے تو جلدی نکلتا نہیں۔ حضرت حسان بن ثابت نے کہا :
لو ان اللوم ینسب کان عبدا قبیح الوجہ اعور من ثقیف
عشرہ نے کہا :
فازور من وقع القنا بلبانہ وشکا الی بعبرۃ تحمحم
اس معنی کی تفسیر اس قول سے بھی ہوتی ہے :
لو کان یدری ما المحاورۃ اشتکی
اس مفہوم میں بہت سی مثالیں موجود ہیں، اسی سے لوگوں کا قول ہے : إن داری تنظر الی دارفلان۔ دیکھنے کی نسبت دار کی طرف کی گئی ہے۔ حدیث میں ہے۔ اشتکت النار الی ربھا۔ (2) شکایت کی نسبت آگ کی طرف کی گئی ہے، ایک قوم نے قرآن میں مجاز سے منع کیا ہے، ان میں ابو اسحاق اسفرائینی، ابوبکر محمد بن دائود اصبہانی وغیرہ ہما ہیں، کیونکہ اللہ کا کلام اور اس کے نبی پاک ﷺ کے کلام کو حقیقت پر محمول کرنا اولیٰ ہے، کیونکہ وہ حق بیان کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے، نیز ان علمائء نے اس سے بھی حجت پکڑی ہے کہا : اگر اللہ تعالیٰ مجاز سے ہمیں خطاب فرماتا ہے تو اسے متجوز کہنا بھی لازم آئے گا۔ اور حقیقت سے مجاز کی طرف عدول، حقیقت سے عجز کا تقاضا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نسبت کرنا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
یوم تشھد علیہم السنتھم وایدیھم وارجلھم بما کانوا یعملون (النور)
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وتقول ھل من مزید۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
اذا راتھم من مکان بعید سمعوا لھا تغیظا وزفیرا۔ (الفرقان)
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تدعوامن ادبرو تولیٰ ۔ (المعارج)
اور حدیث شریف میں ہے : ” اشتکت النار إلی ربھا “ آگ نے اپنے رب کی بارگاہ میں شکایت کی۔ اور حدیث میں ہے : ” واحتجت النار والجنۃ “ دوزخ اور جنت کا مناظرہ ہوا۔ اور اس کی مثل سب حقیقت ہیں اور ان کا خالق وہ ہے جس نے ہر چیز کو بولنے کی قوت بخشی۔
صحیح مسلم میں ہے (1) حضرت انس نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں : ” انسان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران کو کہا جائے گا تو بول پس اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال کے بارے میں بولیں گی تاکہ اللہ اس کا عذر زائل کر دے یہ وہ منافق ہے اور یہ وہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا۔ ” اور یہ آخرت میں ہوگا، اور رہا دنیا میں تو ترمذی میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے (2) کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، قیامت قائم نہ ہوگی حتیٰ کہ درندے، انسانوں سے کلام کریں گے اور حتیٰ کہ انسان سے اس کے کوڑے کا پھندا اور اس کی جوتی کا تسمہ بات کرے گا اور اس کی ران اسے وہ سب کچھ بتائے گی جو اس کے گھر والوں نے اس کے بعد کیا۔ “ ابو عیسیٰ نے کہا : حضرت ابوہریرہ سے بھی یہ حدیث مروی ہے، یہ حدیث حسن غریب ہے۔
مسئلہ نمبر 7: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاقامہ بعض علماء نے فرمایا : پہلے دیوار کو گرایا پھر اسے بنایا پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے کہا : اگر تو چاہتا تو اس پر اجرت ہی لے لیتا، کیونکہ یہ ایسا فعل تھا جو اجر کا مستحق تھا۔ ابوبکر انباری نے حضرت ابن عباس ؓ سے انہوں نے ابوبکر سے انہوں نے نبی پاک ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے پڑھا : ” فوجدافیھا جداریرید أن ینقض فھدمہ ثم قعد یبینیہ “ ابوبکر نے کہا : اس حدیث کی اگر سند صحیح ہے تو یہ نبی پاک ﷺ کی طرف سے قرآن کی تفسیر کے قائم مقام ہوگی۔ بعض ناقلین نے تفسیر کی جگہ میں قرآن کو داخل کردیا کہ یہ قرآن ہے، مصحف عثمان سے کمی ہوئی ہے، جیسا کہ بعض طعن کرنے والوں نے کہا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : حضرت خضر (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ سے دیوار کو مس کیا اور اسے سیدھا کیا تو وہ سیدھی ہوگئی، یہ قول صحیح ہے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے افعال کی زیادہ مناسب ہے بلکہ اولیاء کی شان کے بھی زیادہ مناسب ہے۔ بعض اخبار میں ہے : اس دیوار کی اونچائی اس صدی کے تیس ذراع کے برابر تھی اور طول پانچ سو ہاتھ کے برابر تھا، تو سیدھی کھڑی ہوگئی ؛ یہ ثعلبی نے کتاب العرائس میں بیان کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس پر اجر ہی لے لیتے، یعنی کھانا لے لیتے جسے ہم کھاتے اس میں اولیاء کی کرامات پر دلیل ہے۔ اسی طرح واقعہ میں حضرت خضر (علیہ السلام) کے احوال میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ سب خارق العادات امور ہیں۔ یہ اس صورت میں ہے جب ہم انہیں ولی تسلیم کریں، نبی تسلیم نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما فعلتہ عن امری یہ ان کی نبوت کی دلیل ہے انہیں تکلیف اور احکام کی وحی کی جاتی تھی جس طرح انبیاء کو وحی کی جاتی ہے مگر وہ رسول نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر 8 ۔ انسان پر واجب ہے کہ جھکی ہوئی دیوار کے نیچے نہ بیٹھے جس کے گرنے کا اندیشہ ہو بلکہ وہاں سے گزرے تو جلدی چلے کیونکہ نبی کریم ﷺ کی حدیث میں ہے : ” جب تم میں سے کوئی بلند جھکی ہوئی دیوار کے پاس سے گزرے تو اسے جلدی چلنا چاہیے “ ٭ ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے کہا : ابو عبیدہ کہتے تھے : الطریال کا لفظ عجمیوں کی بلڈنگ کے مشابہ ہے جیسے گرجا گھر اور بلند عمارت، جریر نے کہا :
الوی بھا شذب العروق مشذب فکانما وکنت علی طربال
کہا جاتا ہے : وکن یکن جب کوئی بیھے۔ صحاح میں ہے : الطربال دیوار کا بلند ٹکڑا، پہاڑ کی جھکی ہوئی بڑی چٹان۔ طرابیل الشام۔ شام کے گرجے۔ کہا جاتا ہے : طربل بولہ جب اوپر کی طرف لمبا کرے۔
مسئلہ نمبر 9 کرامات اولیاء ثابت ہیں جیسا کہ اخبار ثابتہ اور آیات متواترہ دلالت کرتی ہیں۔ اس کا انکار نہیں کرتا مگر بدعتی، ہٹ دھرم یا فاسق منحرف، قرآن کی آیات مریم (علیہا السلام) کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ان کے پاس گرمیوں کے پھل سردیوں میں اور سردیوں کے پھل گرمیوں میں ہوتے تھے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ انہوں نے کھجور کے درخت کو حکم دیا وہ بالکل خشک تھا تو وہ پھلدار ہوگیا۔ حضرت مریم نبیہ نہیں تھیں، اس پر اختلاف ہے۔ اور کرامات پر دلیل حضرت خضر (علیہ السلام) کے ہاتھ پر کشتی کا پھٹنا، غلام کا قتل کرنا اور دیوار کو کھڑا کرنا سب کرامات ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ کہنا جائز نہیں کہ انہیں نبی کہا جائے کیونکہ نبوت کا ثابت کرنا اخبار احاد کے ساتھ جائز نہیں خصوصاً بغیر کسی احتمال کے اجماع امت سے تواتر کے طریق سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد مروی ہے کہ : ” لانبی بعدی “ (1) ۔ میرے ببعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : خاتم النبیین۔ حضرت خضر علیہ اور حضرت الیاس علیہما السلامیب اس کرامت کے ساتھ باقی ہیں، پس ان دونوں کا غیر نبی ہونا واجب ہے، کیونکہ اگر وہ نبی ہوتے تو ہمارے نبی کے بعد نبی کا ہونا واجب ہوتا مگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے بعد تشریف لائیں گے اس پر دلیل قائم ہے۔ میں کہتا ہوں : جمہور کا خیال ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نبی تھے جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے اور ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نہیں یعنی ابتداً آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کوئی نہیں۔
مسئلہ نمبر 10 لوگوں کا اختلاف ہے کہ کیا ولی جانتا ہے کہ وہ ولی ہے یا نہیں جانتا ؟ علماء کے دو قول ہیں : -1 قول یہ ہے کہ ولی کے لیے یہ جاننا جائز نہیں اور جو اس کے ہاتھوں پر ظاہر ہو وہ اسے خفیہ تدبیر کی آنکھ سے ملاحظہ کرے کیونکہ ہو سکتا ہے یہ خفیہ تدبیر اور استدراج ہو۔ سری سے حکایت ہے کہ وہ فرماتے تھے : اگر ایک شخص باغ میں داخل ہو اور اس سے درخت کے اوپر سے ایک پرندہ فصیح زبان میں کلام کرے : اے اللہ کے ولی ! تجھ پر سلام ہو، پھر وہ اس سے یہ خوف نہ کرے کہ یہ خفیہ تدبیر ہوگی تو وہ خفیہ تدبیر میں مبتلا کیا گیا ہے، کیونکہ وہ اگر یہ جان لے گا کہ وہ ولی ہے تو اس سے خوف زائل ہوجائے گا اور اسے امن حاصل ہوگا اور ولی کی شرط میں سے ہے کہ اسے ہمیشہ امید ہو کہ اس پر فرشتے نازل ہوں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تتنزل علیہم المئکۃ الاتخافوا ولا تحزنوا (حم السجدہ : 30) ، ولی وہ ہوتا ہے جس کا خاتمہ سعادت پر ہو اور عواقب پوشیدہ ہوتے ہیں کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کا خاتمہ کیسا ہوگا، اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” انما الاعمال بالخواتیم “ (1) ۔ اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے۔
( 2) دوسرا قول یہ ہے کہ ولی کے لیے یہ جاننا جائز ہے کہ وہ ولی ہے، کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے لیے جاننا جائز ہے کہ وہ ولی ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ کوئی دوسرا جان لے کہ وہ ولی ہے تو اس کے لیے خود جاننا بھی جائز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عشرہ مبشرہ صحابہ کو اہل جنت میں ہونے کی خوشخبری دی پھر بھی ان کا خوف زائل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی زیادہ تعظیم کرنے والے تھے اور انہیں خوف زیادہ تھا، اگر عشرہ مبشرہ صحابہ کے لیے جائز ہے کہ وہ خوف سے نہیں نکلے تو دوسروں کے لیے بھی جائز ہے۔ شبلی کہتے تھے : میں اس جانب سے امان میں ہوں۔ جب شبلی فوت ہوئے اور دفن کردیے گئے تو ویلم ٭ اسی دن دجلہ عبور کر آئے اور بغداد پر غالب آگئے۔ لوگ کہتے تھے : دو مصیبتیں آگئیں : شبلی کی موت اور ویلم کا عبور کرنا۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس میں بھی احتمال ہے کہ یہ بھی استدراج ہو، اگر یہ استدراج ہو جب یہ جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں تو معجزات کا ابطال ہے تو یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اس میں کرامات کا ابطال ہے اور بلعام کے ہاتھوں پر کرامات کا ظہور اور پھر اس کے بعد اس کا دین سے خروج کیونکہ آیت میں ہے : فانسلخ منھا، تو آیت میں یہ نہیں ہے کہ وہ ولی تھا پھر اس سے ولایت چلی گئی نیز کرامات کے طور پر جو ظاہر ہوا ہے وہ اخبار احاد ہیں جن سے علم ثابت نہیں ہوتا، واللہ اعلم۔
معجزہ اور کرامت میں فرق یہ ہے کہ کرامت کی شرط میں سے اس کا چھپانا ہے اور معجزہ کی شرط میں سے اس کا اظہار کرنا ہے۔ بعض نے فرمایا : کرامت وہ ہوتی ہے جو بغیر دعویٰ کے ظاہر ہوتی ہے اور معجزہ انبیاء کے دعویٰ کے وقت ظاہر ہوتا ہے ان سے دلیل کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس کے بعد معجزہ وہ ظاہر کرتا ہے، کتاب کے مقدمہ میں معجزہ کی شرائط گزر چکی ہیں۔ الحمد للہ وحدہ لا شریک لہ۔
ایسی احادیث جو کرامت کے ثبوت پر وارد ہیں ان میں سے ایک وہ بھی ہے جو امام بخاری نے نقل فرمائی ہے (2) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے فرمایا : نبی کریم ﷺ نے ایک دن دس آدمیوں کا ایک گروہ بطور جاسوس بھیجا اور ان کا امیر عاصم بن ثابت انصاری کو بنایا تھا۔ یہ عاصم بن عمر بن خطاب کے دادا تھے٭ پس وہ چلے حتیٰ کہ جب ھدأۃ مقام پر پہنچے جو عسفان اور مکہ کے درمیان ہے تو ان کا ذکر ہذیل کے ایک قبیلہ سے کیا گیا جنہیں بنو لحیان کہا جاتا تھا، انہوں نے اپنے دو سو کے قریب تیر انداز تیار کئے۔ وہ ان قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے چلے حتیٰ کہ انہوں نے ان کے کھانے کی جگہ پر کھجوریں پائیں جو مدینہ طیبہ سے لے آئے تھے، وہ کہنے لگے : یہ تو مدینہ کی کھجوریں ہیں وہ ان کے قدموں کے نشانات پر چلے جب عاصم اور اس کے ساتھیوں نے انہیں دیکھا تو وہ ایک بلند جگہ پر چڑھ گئے اور بنو لحیان نے ان کا احاطہ کرلیا، انہوں نے انہیں کہا : تم اتر آئو اور اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو ہم تمہیں عہد اور وعدہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ عاصم جو اس گروہ کا سردار تھا اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تو آج کافر کے ذمہ میں نہیں اتروں گا اور دعا کی : اے اللہ اپنہ نبی مکرم ﷺ کو ہماری خبر پہنچا دے۔ بنو لحیان نے تیر مارے اور عاصم اور چھ مزید لوگوں کو قتل کردیا۔ تین مسلمان، ان کے عہد و میثاق پر نیچے اتر آئے تھے وہ حبیب انصاری، ابن دثنہ اور ایک شخص تھا جب وہ ان پر غالب آگئے تو انہوں نے اپنی کمانوں کی رسیاں کھولیں اور انہیں ان سے باندھ دیا تیسرے شخص نے کہا : یہ پہلا غدر ہے، اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھ نہیں چلوں گا میرے لیے ان مقتولوں کا اسوہ ہے۔ بنو لحیان نے اسے کھینچا اور اسے ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن اس نے ایسا نہ کیا انہوں نے اسے بھی قتل کردیا وہ حبیب اور ابن دثنہ کو لے کر چلے حتیٰ کہ انہوں نے جنگ بدر کے ببعد مکہ میں انہیں فروخت کردیا۔ بنو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف نے خبیب کو خریدا، خبیب وہ شخص تھا جس نے حارث بن عامر کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا۔ حضرت خبیب ان کے پاس قیدی بن کر رہے۔ عبید اللہ بن عیاض نے بتایا کہ بنت حارث نے انہیں بتایا کہ جب وہ (بنو لحیان) جمع ہوئے تھے تو خبیب نے استرا مانگا جس کے ساتھ وہ اپنے بال صاف کرے تو اس عورت نے اسے استرا دے دیا، پھر وہ کہتی ہے : میں غافل تھی تو میرا بچہ اس کے پاس چلا گیا تو اس نے اسے پکڑ لیا وہ عورت کہتی ہے میں نے خبیب کو دیکھا کہ وہ اس بچے کو اپنی ران پر بٹھائے ہوئے ہے اور استرا اس کے ہاتھوں میں ہے۔ اس عورت نے کہا : میں گھبرا گئی۔ خبیب میری گھبراہٹ میرے چہرے سے پہچان گئئے حضرت خبیب نے کہا کیا : تو خوف کر رہی ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا ؟ میں ایسا نہیں کروں گا، اس عورت نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا اللہ کی قسم ! میں نے ایک دن اسے ہاتھوں میں انگور لے کر کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ وہ لوہے کی زنجیروں کے ساتھ باندھا ہوا تھا اور مکہ میں کوئی پھل نہیں تھا، وہ کہتی تھی : یہ وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے خبیب کو دیا تھا وہ خبیب کو حرم سے باہر لے گئے تاکہ اسے حرم سے نکالیں تو خبیب نے اسے کہا : مجھے چھوڑ دو میں دو رکعتیں ادا کرلوں پھر حضرت خبیب نے دو رکعتیں ادا کیں پھر فرمایا : اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ میں عورت سے ڈر گیا ہوں تو میں رکعتوں کو لمبا کرتا پھر فرمایا : اے اللہ ! ان کو جڑ سے ختم کر دے اور انہیں جدا جدا کر کے قتل کر دے اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ پھر کہا :
ولست ابالی حین اقتل مسلما علی ای شق کان للہ مصرعی
وذلک فی ذات لالہ وان یشا یبارک علی اوصال شلو ممزع
مجھے کوئی پروا نہیں ج میں مسلمان ہو کر قتل کیا جائوں گا جس طرف بھی اللہ کی رضا کے لیے میرا گرنا ہوگا۔ یہ ذات الٰہی کے لیے ہے اگر وہ چاہے گا تو اکھڑے ہوئے اعضاء میں بھی برکت ڈال دے گا۔
بنو حارث نے حضرت خبیب کو قتل کردیا، خبیب وہ شخص تھا جس نے ہر مسلمان کے لیے دو رکعت سنت چھوڑیں جو باندھ کر قتل کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عاصم کی دعا قبول فرمائی تھی جب وہ شہید ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کو ان کی شہادت کی خبر پہنچا دی۔
کفار قریش کو جب خبر پہنچی کہ حضرت عاصم قتل ہوگئے ہیں تو انہوں نے کچھ لوگوں کو بھیجا تاکہ وہ عاصم کے جسم سے کچھ کاٹ کرلے آئیں تاکہ وہ اسے پہچان لیں۔ حضرت عاصم نے بدر کی جنگ میں ان کے ایک سردار کو قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عاصم کی حفاظت کے لیے بھیڑوں کو بھیج دیا جنہوں نے ان کی طرف آنے والے افراد سے حضرت عاصم کی حفاظت کی وہ ان کا گوشت کاٹنے پر قادر نہ ہوئے ( 1) ۔
ابن اسحاق نے اس واقعہ میں ذکر کیا ہے کہ حضرت عاصم بن ثاببت جب شہید ہوگئے تو ہذیل نے ارادہ کیا کہ ان کا سر کاٹ لیں تاکہ اسے سلافۃ بنت سعد کے ہاں فروخت کریں اس نے نذر مانی تھی جب حضرت عاصم نے اس کے بیٹوں کو جنگ احد میں قتل کیا تھا کہ اگر وہ اس کے سر پر قادر ہوئی تو اس کی کھوپڑی میں شراب پیئے گی تو بھیڑوں نے حضرت عاصم کی حفاظت کی، جبب بھیڑیں حائل ہوگئیں تو انہوں نے کہا : اسے چھوڑ دو حتیٰ کہ شام ہوجائے تو شام کے وقت بھیڑیں چلی جائیں گی پھر ہم اس کو کاٹ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے وادی کو حکم دیا تو اس نے حضرت عاصم کو اٹھا لیا اور وہ غائب ہوگئے۔ حضرت عاصم نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ کسی مشرک کو نہ چھوئیں گے اور نہ کوئی مشرک انہیں چھوڑے گا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی وفات کے بعد محفوظ فرمایا اس سے جس سے وہ زندگی میں بچتے رہے۔
عمرو بن امیہ ضمری سے کروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں تنہا بطور جاسوس بھیجا فرمایا میں خبیب کی سولی کے پاس آیا میں اس پر چڑھا میں دیکھنے والوں سے ڈر رہا تھا، میں نے خبیب کو سولی سے کھولا تو وہ زمین پر گرے پھر میں اترا پھر میں تھوڑا سا دور ہوا پھر میں متوجہ ہوا تو زمین نے اسے نگل لیا تھا۔ ایک روایت میں یہ زیادتی ہے کہ آج تک خبیب کی قبر کا ہم سے ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ بیہقی نے ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 11 ۔ یہ کوئی ناپسندیدہ بات نہیں کہ ولی کے لیے مال اور جائیداد ہو جس کے ساتھ وہ اپنی ذات اور عیال کی حفاظت کرے۔ صحابہ کرام کی ذوات میں تیرے لیے اسوہ کافی ہے کہ ان کی ولایت و فضیلت کے باوجود ان کے اموال تھے اور وہ دوسروں پر حجت تھے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں (2) فرمایا : ” ایک شخص صحرا میں تھا اس نے بادل میں ایک آواز سنی فلاں کے باغ کو پانی پلا، وہ بادل چلا اور پتھریلے ٹیلے میں اپنا پانی برسایا وہاں جو پانی کا نالا تھا وہ پانی سے بھر گیا وہ شخص اس پانی کے پیچھے پیچھے چلا تو کیا دیکھا ایک آدمی کسی کے ساتھ پانی کو پھیر رہا ہے پوچھا : اے اللہ کے بندے ! تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : فلاں، وہ نام ذکر کیا جو اس نے بادل کے اندر سے سنا تھا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے بندے ! تو نے میرا نام کیوں پوچھا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے اس بادل میں آواز سنی تھی جس کا یہ پانی ہے۔ وہ کہہ رہا تھا : فلاں کے باغ کو پانی پلا، اس نے تیرا نام لیا تھا، تو اس میں کیا کرتا ہے ؟ اس نے کہا جب تو کہتا ہے (تو سن) میں اس باغ کی کل پیداوار کو دیکھتا ہوں پھر اس سے ایک تہائی صدقہ کرتا ہوں ایک تہائی میں اور میرا عیال کھاتے ہیں اور ایک تہائی اس میں پھر کاشت کرتا ہوں۔ “ ایک روایت میں ہے : ” اس کا ایک تہائی مسکین، سائلین اور مسافروں کے لیے رکھتا ہوں۔ “ (1) ۔
میں کہتا ہوں : یہ حدیث نبی کریم ﷺ کے ارشاد : ” لا تتخذوا الضیعت فترکنوا إلی الدنیا “ (تم جائیداد نہ بنائو ورنہ دنیا کی طرف جھک جائو گے) کے منافی نہیں ہے۔ اس حدیث کو ترمذی نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے (2) ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن ہے۔ یہ حدیث اس پر محمول ہے جو کثرت مال کی خاطر جائیداد بناتا ہے یا جائیداد سے لطف اندوز ہونے کے لیے جائیداد اکٹھی کرتا ہے لیکن وہ شخص جو بطور معیشت جائیداد بناتا ہے تاکہ اس کے ساتھ اپنے دین اور اپنے عیال کی حفاظت کرے تو اس نیت سے جائیداد بنانا افضل عمل ہے اور یہ افضل مال ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ” بہتر مال نیک شخص کے لیے ہے “ (3) کرامات اولیاء بہت سے لوگوں نے کثرت سے ذکر کی ہیں جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس میں کفایت ہے۔
مسئلہ نمبر 12 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لتخذت علیہ اجراً اس میں اجارہ کے جواز کی صحت پر دلیل ہے یہ انبیاء اور اولیاء کی سنت ہے جیسا کہ اس کا بیان سورة القصص میں انشاء اللہ آئے گا۔ جمہور علماء نے لتخذت اور ابو عمرو نے لتخذت پڑھا ہے۔ حضرت ابن مسعود، حسن اور قتادہ کی یہی قرأت ہے یہ دونوں لغتیں ہیں اور دونوں کا معنی ایک ہے۔ ایک الاخذ سے مشتق ہے جیسے تیسرا قول ہے : تبع واتبع تقی واتقی۔ بعض قراء نے ذال کو تاء میں ادغام کیا ہے اور بعض نے مدغم نہیں کیا ہے۔ حضرت ابی ابن کعب کی حدیث میں ہے : لو شئت لا وتیت اجرا (4) ۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ اللسلام سے عرض کی جہت سے سوال صادر ہوا تھا نہ کہ بطور اعتراض تھا۔ اس وقت حضرت خضر (علیہ السلام) نے آپ کو کہا : ھذا فراق بینی وبینک کا تکرار اور بیننا سے عدول تاکید کی خاطر ہے۔ سیبویہ نے کہا، کہا جاتا ہے : اخزی اللہ الکاذب منی ومنک یعنی منا یعنی ہم میں سے جھوٹے کو اللہ رسوا کرے، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول کشتی اور غلام کے بارے میں اللہ کے لیے تھا اور دیوار کے بارے میں قول اپنی ذات کے لیے دنیا کی چیز طلب کرنے کے لیے تھا، پس یہی جدائی کا سبب بنا۔ وہب بن منبہ نے کہا : وہ دیوار سو ہاتھ اونچی تھی۔
Ayah 18:78مسئلہ نمبر 13 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سانبئک بتاویل مالم تستطع علیہ صبراً کسی چیز کی تاویل کا مطلب ہے اس کا انجام یعنی حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ سے کہا : میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جو کچھ میں نے کیا ہے کیوں کیا ہے ؟ ان آیات کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر حجت ہیں نہ کہ ان کے لیے تعجب ہیں، یہ اس طرح ہے کہ جب کشتی کے پھاڑنے پر انکار کیا تو آواز دی گئی : اے موسیٰ ! یہ تیری تدبیر کہاں تھی جب تو تابوت میں تھا اور تجھے دریا میں ڈالا گیا تھا، پھر جب لڑکے کے مسئلہ پر انکار کیا تو ارشاد ہوا : یہ تیرا انکار کہاں تھا تو نے جب قبطی کو مارا تھا اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جب دیوار کے کھڑے کرنے پر انکار کیا تو آواز دی گئی : یہ کہاں تھا جب تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیوں کے لیے کنوئیں کا پتھر بغیر اجرت کے اٹھا رہا تھا۔
Ayah 18:79اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اما السفینۃ فکانت لمسکین یعملون فی البحر جو علماء کہتے ہیں فقیر سے مسکین بہتر حال میں ہوتا ہے انہوں نے اس آیت سے استدلالل کیا ہے، اس کا معنی سورة براءۃ میں تفصیلاً گذر چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ لوا تاجر تھے، لیکن چونکہ وہ مسافر تھے وہ دریا کے اوپر تھے ان کے پاس مال کم تھا اور تکلیف کو دور کرنے کی حالت میں کمزور تھے تو انہیں مساکین کہا گیا کیونکہ وہ ایسی حالت میں تھے کہ اس کے سبب ان پر شفقت کی گئی ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے تو کسی غنی شخص کے بارے میں کہتا ہے جو کسی تکلیف اور مصیبت میں واقع ہوا ہے : مسکین ہے۔ کعب وغیرہ نے کہا : یہ مساکین دس بھائی تھے جن کو کشتی باپ کی طرف سے میراث میں ملی تھی پانچ ان میں سے اپاہج تھے اور پانچ دریا میں ملاحی کا کام کرتے تھے۔ بعض نے فرمایا : وہ سات تھے ان میں سے ہر ایک کو ایسی تکلیف تھی جو دوسرے کو نہیں تھی۔ نقاش نے ان کے سماء ذکر کیے ہیں ان میں سے جو کام کرنے والے تھے ان میں ایک جزام کی مرض میں مبتلا تھا، دوسرا کا نا تھا، تیسرا لنگڑا تھا، چوتھے کو خصیوں کی تکلیف تھی، پانچواں بخار میں ہمیشہ رہتا تھا وہ سبب سے چھوٹا تھا۔ پانچ وہ تھے جو کام بالکل نہیں کرسکتے تھے وہ اندھا، بہرہ، گونگا، اپاہج اور مجنون تھا۔ اور وہ جس دریا میں کام کرتے تھے وہ فارس اور روم کے درمیان تھا، یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ ایک فرقہ نے لمساکین، سین کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : وہ کشتی کے ملاح تھے کیونکہ مساک وہ ہوتا ہے جو کشتی کا نچلا حصہ روکتا ہے اور پوری خدمت اس کے روکنے کی وجہ سے ہوتی ہے اس لیے تمام کو مساکین کہا گیا۔ ایک جماعت نے کہا : المساکین سے مراد کھالوں کا دباغت کرنا ہے اس کا واحد مسک ہے۔ اظہر قرأت مساکین ہے جمع مسکین ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ کشتی ضعیف اور کمزور لوگوں کے لیے تھی ان پر شفقت کرنا مناسب تھا، واللہ اعلم۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاردت ان اعیبھا میں نے اسے عیب دار کرنا چاہا۔ کہا جاتا ہے : عبت الشیء فعاب، میں نے اسے عیب دار کرنا چاہا۔ کہا جاتا ہے : عبت الشیء فعاب، میں نے اسے عیب دار کیا تو وہ عیب دار ہوگئی۔ فھو معیب وعائب، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکان ورآء ھم ملک یاخذ کل سفینۃ غضباً حضرت ابن عباس ؓ اور ابن جبیر نے صحیحۃ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عثمان بن عفان نے صالحۃ پڑھا ہے اور وراء اس کی اصل بمعنی خلف ہے۔ بعض مفسرین نے کہا : وہ پیچھے تھا اور ملاحوں نے اس بادشاہ کی طرف لوٹنا تھا۔ اکثر علماء نے کہا : یہاں وراء کا معنی امام ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ابن جبیر کی قرأت اس کی تائئید کرتی ہے۔ وکان امامھم ملک یاخذ کل سفینۃ صحیحت غضباً ۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ اس طرح ہے کہ ان الفاظ میں زمانہ کی رعایت رکھی جاتی ہے پس جو حادث مقدم موجود ہے وہ پ ہے ہے اور جو اس کے بعد آئے گا وہ وراء (پیچھے) ہے۔ یہ بادی النظر میں جو ظاہر ہوتا ہے اس کے خلاف ہے ان الفاظ میں ان کے مقامات پر غور کر جہاں یہ وارد ہیں تو تو ان کو عام پائے گا۔ اس آیت میں اس کا معنی یہ ہے کہ یہ لوگ اور ان کا عمل اور ان کی کوشش اس کے بعد اس بادشاہ کا غصب ہے اور جنہوں نے أمامھم پڑھا ہے انہوں نے جگہ کے اعتبار سے کہا ہے، یعنی وہ گویا ایک شہر کی طرف جائیں گے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ” الصلاۃ أما مک “ (1) (نماز آگے پڑھیں گے) یہاں بھی مکان کا ارادہ کیا ہے۔ اس وقت میں ان کا ہونا زمانہ کے اعتبار سے نماز سے پہلے تھا۔ اس گفتگو میں غور کر یہ تجھے ان الفاظ کے استعمال کی پریشانی سے راحت دے گی۔ طبری کی کتاب میں قتادہ کا قول : وکان ورآء ھم ملک کے تحت واقع ہوا ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی امامھم ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کیا ممن ورآئھم جہنم۔ یعنی ان کے آگے جہنم ہے۔ یہ قول درست نہیں ہے غیر فصیح قول ہے جس سے حسن بنھ اببی حسن نے اختللاف کیا ہے، یہ زجاج کا قول ہے (2) ۔
میں کہتا ہوں : اس امام نے جو اختیار کیا ہے اس سے پہلے ابن عرفہ نے بھی اختیار کیا ہے۔ ہر وی نے کہا : ابن عرفہ نے کہا کہنے والا کہتا ہے : من وراءہ کیسے کہا ہے ؟ وہ اس کے آگے تھی، ابو عبیدہ اور ابوعلی قطرب نے کہا : یہ لفظ اضداد میں سے ہے ورائ، قدام کے معنی میں ہے یہ غیر محصل ہے کیونکہ امام، وراء کی ضد کی ہے یہ اماکن اور اوقات میں استعمال کی صلاحیت رکھتا ہے جیسے تیرا قولل ہے : اذا وعد وعداً فی رجب لرمضان۔ پھر وہ کہے : ومن وراءک شعبان، تو جائز ہے، اگرچہ وہ اس سے آگے ہے کیونکہ وہ وعدہ کے وقت اس کو پیچھے کرتا ہے۔ قشیری نے بھی اس قول کی طرف اشارہ کیا ہے، فرمایا : یہ اوقات کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ آدمی کو امامک نہیں کہا جاتا کیونکہ وہ تیرے پیچھے ہے۔ فراء نے کہا : دوسرے علماء نے اس کو جائز قرار دیا ہے اس قوم کو بادشاہ کی خبر نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو خبر دی حتیٰ کہ انہوں نے کشتی کو عیب لگا دیا ؛ یہ زجاج نے ذکر کیا ہے۔ ماوردی نے کہا : امام کی جگہ میں وراء کے استعمال میں اہل عربیہ کے تین اقوال ہیں۔ 1۔ اس کا استعمال ہر حال میں جائز ہے اور ہر مکان میں جائز ہے یہ اضداد میں سے ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من ورا آ ئھم جہنم۔ یعنی امامھم جہنم، شاعر نے کہا :
اترجو بنو مروان سمعی وطاعتی وقومی تمیم والفلاۃ ورائیا
یہاں بھی وراء، امام کے معنی میں ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ورائ، امام کی جگہ میں مواقیت اور زمانہ میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ انسان اس سے گزر جاتا ہے اور وہ اس کے پیچھے ہوتا ہے اور اس کے علاوہ جائز نہیں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ کہ یہ ان اجسام میں استعمال ہوتا ہے جیسے دو متقابل پتھر ان میں سے ہر ایک دوسرے کے پیچھے ہے، اور اس کے علاوہ میں جائز نہیں، یہ علی بن عیسیٰ کا قول ہے (1) ۔
اس بادشاہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : ہدد بن بددھا بعض نے کہا : جلندی تھا، یہ سہیلی کا قول ہے۔ امام بخاری نے اس غصب کرنے والے بادشاہ کا ذکر کیا ہے فرمایا : وہ ہددبن بدد تھا اور مقتول لڑکا، اس کا نام جیسور تھا ہم نے ” الجامع “ میں یزید مروزی کی روایت سے اسی طرح مقید کیا ہے اور اس روایت کے علاوہ میں حیسور (حاء کے ساتھ) ہے اور میرے پاس کتاب کے حاشیہ میں تیسری روایت ہے وہ حیسون ہے۔ وہ بادشاہ ہر اچھی کشتی غصب کرلیتا تھا اسی وجہ سے حضرت خضر علیہ اللسلام نے اسے عیب لگا دیا اور اس میں شگاف کردیا، اس سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ مصلحت کے لیے کوئی عمل کرنا جائز ہے جب مصالح ثابت ہوں اور کل مال کی بعض مال کے فساد کے ساتھ اصلاح کرنا جائز ہے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ صحیح مسلم میں کشتی کو شگاف لگانے کی حکمت اس طرح بیان کی گئی ہے : جب وہ آئے گگا جو اس کو قبضہ میں کرنا چاہتا ہو تو وہ اسے پھٹا ہوا پائے گا تو وہ اس سے آگے نکل جائے گا، پھر یہ لکڑی کے ساتھ اس کی اصلاح کرلیں گے (2) ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ تکالیف میں صبر کرنا چاہیے بہت سی ناپسندیدہ چبزوں میں فوائد ہوتے ہیں۔ اس ارشاد : وعسیٰ ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم (بقرہ :216) کا یہی معنی ہے۔
Ayahs 18:80–81اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واما الغلم فکان ابوہ مومنین صحیح حدیث میں ہے : ” اس پر کافر ہونے کی مہر لگائی گئی تھی “ (3) یہ اس کی تائید کرتا ہے کہ وہ بالغ نہیں تھا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اس کے متعلق خبر ہو جبکہ وہ بالغ ہو، یہ مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فخشینا ان یرھقھما بعض علماء نے فرمایا : یہ حضرت خضر (علیہ السلام) کے کلام سے ہے۔ سیاق کلام بھی اسی کی تائید کرتا ہے اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے یعنی ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ انہیں سرکشی اور کفر پر مجبور کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر (علیہ السلام) کے لیے اس جہت پر نفوس کے قتل میں اجتہاد کو مباح کردیا تھا۔ بعض علماء نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت خضر (علیہ السلام) نے بیان کیا۔ طبری نے کہا : اس کا معنی ہے ہم نے جان لیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے ہم نے جان لیا۔ یہ اس طرح ہے جس طرح علم کو خوف سے تعبیر کیا جاتا ہے، ارشاد بباری تعالیٰ ہے : الا ان یخافا الا یقیما حدود الللہ (بقرہ : 229)
حکایت ہے کہ حضرت ابی نے فعلم ربک پڑھا ہے۔ بعض نے فرمایا : خشیت بمعنی کراہت ہے۔ کہا جاتا ہے : فرقت بینھما خشیۃ ان یقتلا۔ یعنی لڑکے کی کراہت کی وجہ سے میں نے ان کے درمیان جدائی کردی۔ ابن عطیہ نے کہا : میرے نزدیک اس تاویل کی توجیہ میں اظہر یہ ہے کہ اگرچہ لفظ اس کی تائید نہیں کرتے کہ یہ استعارہ ہے یعنی مخلوق اور مخاطبین کے گمان پر اگر وہ اس کی حالت کو جان لیں انہیں والدین کو مجبور کرنے کا اندیشہ واقع ہو۔ حضرت ابن مسعود نے فخاف ربک، پڑھا ہے یہ استعارہ میں واضح ہے کہ اس کی نظیر قرآن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعل اور عسیٰ کا ذکر ہے۔ تمام ایسے حروف اور صیغے جن میں ترجی، توقع، خوف اور خشیت ہے وہ تمہارے اعتبار سے ہیں اے مخاطبو ! یرھقھما کا معنی ہے وہ انہیں مجبور کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسکی محبت انہیں اسکی اتباع پر ڈالے گی پس وہ گمراہ ہوجائیں گے۔ فاردنا ان یبدلھما ربھما۔ حضرت ابن عباس ؓ نیحاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، شاعر نے کہا :
وکیف بظلم جاریۃ ومنھا اللین والرحم
باقی قراء نے حاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے ؛ اسی سے روبۃ بن حجاج کا قول ہے :
یا منزل الرحم علی ادریسا ومنزلل اللعن علی ابلیسا (1)
ابو عمرو سے اختلاف مروی ہے۔ رحما، معطوف ہے۔ زکاۃ، پر اس کا معنی رحمۃ ہے کہا جاتا ہے : رحمہ رحمۃ ورحماء اس کا الف تانیث کے لیے ہے اس کا مذکر رحم ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : رحماً بمعنی الرحیم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے واوصل رحما پڑھا ہے یعنی رحما اور حضرت ابن عباس ؓ نے ازکی منہ بھی پڑھا ہے۔ ابن جبیر اور ابن جریج سے مروی ہے کہ ان واللدین کو لڑکی بدلہ میں دی گئی۔ کلبی نے کہا : اس لڑکی س سے ایک نبی نے نکاح کیا تھا پھر اس سے نبی پیدا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے ایک ازممت کو ہدایت دی تھی۔ قتادہ نے کہا : اس نے بارہ انبیاء کو جنم دیا تھا۔ ابن جریج سے مروی ہے کہ اس لڑکے کی ماں 0 اس دن ایک مسلمان بچے کے ساتھ حاملہ تھی، جس دن وہ قتل ہوا تھا اور مقتول لڑکا کافر تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : اس نے بچی جنم دی جس نے پھر نبی کو جنم دیا۔ ایک روایت میں ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کے بدلے میں بچی دی جس نے ستر انبیاء کو جنم دیا اور یہ جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے روایت کر کے کہا ہے : ہمارے علماء نے کہا یہ بعید ہے، انبیاء کی کثرت صرف بنی اسرائیل میں معروف ہے اور یہ عورت بنی اسرائیل میں نہ تھی۔ اس آیت سے مستنبط ہوتا ہے کہ اولاد کے مفقود ہونے کے ساتھ مصائب آسان ہوتے ہیں اگرچہ اولاد جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے اور جو قضا الٰہی کو تسلیم کرتا ہے اس کا انجام یدبیضا سے بھی روشن ہوتا ہے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ بچہ پیدا ہوا تھا تو اس کے والدین خوش ہوئے تھے اور جب وہ قتل ہوا تھا تو پریشان ہوئے تھے۔ اگر وہ لڑکا باقی رہتا تو اس میں ان کی ہلاکت تھی، پس ہر شخص پر اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا مومن کے حق میں کبھی ناپسندیدہ امر کا فیصلہ بہتر ہوتا ہے بنسبت اس کے جو وہ اس کے لیے اس کی پسند کا فیصلہ فرماتا ہے۔